Blog

  • سہ فریقی سیریز: افغان شائقین کا طوفان بدتمیزی، بغیر ٹکٹ اسٹیڈیم میں داخل

    سہ فریقی سیریز: افغان شائقین کا طوفان بدتمیزی، بغیر ٹکٹ اسٹیڈیم میں داخل

    شارجہ (کنزیومر واچ نیوز)شارجہ میں سہ فریقی سیریز کے افتتاحی میچ میں پاکستان اور افغانستان مدمقابل آئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ماضی کی طرح افغان شائقین پھر طوفان بدتمیزی مچاتے ہوئے نہ صرف بغیر ٹکٹ اسٹیڈیم میں داخل ہوئے بلکہ مرکزی گیٹ کے ساتھ شائقین کیلئے مختص دروازہ بھی توڑ دیا۔شارجہ اسٹیڈیم کی انتظامیہ نے ماضی کے واقعات کو مدںظر رکھتے ہوئے پاک افغان شائقین کے لیے الگ الگ اسٹینڈز، پویلینز اور راستے مختص کیے تھے۔دونوں ممالک کے شائقین کے لیے ٹکٹس کے رنگ بھی مختلف رکھے گئے تھے۔واضح رہے کہ پاکستان نے سیریز کے افتتاحی میچ میں افغانستان کو 39 رنز سے شکست دے کر فاتحانہ آغاز کیا ہے۔قومی ٹیم آج اپنا دوسرا میچ یو اے ای کے خلاف کھیلے گی۔

  • پاک امریکا تعلقات میں مثالی پیش رفت،فیلڈ مارشل کی قیادت عالمی موضوع

    پاک امریکا تعلقات میں مثالی پیش رفت،فیلڈ مارشل کی قیادت عالمی موضوع

    کراچی (کنزیو مرواچ نیوز)پاک امریکا تعلقات میں ڈرامائی اور مثالی پیش رفت ہوئی ہے اور اس سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت عالمی موضوع بن چکا ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی لیڈرشپ صلاحیتوں سے دنیا حیران ہے اور ان کی اس خوبی پر تجزیے و تبصرے لکھے جا رہے ہیں۔ فارن پالیسی ایکسپرٹس اور عالمی جریدے پاک امریکا تعلقات پر مسلسل آرٹیکلز لکھنے لگے۔معروف فارن پالیسی ایکسپرٹ ایلدار میمدوف نے اپنے مضمون میں لکھا کہ پاکستان نے امریکا میں اپنی پوزیشن بہتر بنائی اور صدر ٹرمپ کی قربت حاصل کی۔ ٹرمپ نے کانگریس میں خطاب کے دوران انسداد دہشتگردی پر پاکستان کی تعریف کی جب کہ واشنگٹن میں پاکستان کے نئے حامی بھی سامنے آئے ہیں مضمون کے مطابق بھارت نے مئی میں کشمیر حملے کے بعد پاکستان پر حملہ کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے بھارتی طیارے مار گرائے۔ 4 روزہ جنگ میں ٹرمپ کی مداخلت سے کشیدگی ختم ہوئی۔ اس دوران پاکستان نے جنگ بڑھانے سے گریز کیا۔ پاکستان نے ٹرمپ کی ثالثی کو سراہا اور نوبل انعام کے لیے نامزدگی بھی دی۔عالمی امور کے ماہر ایلدار میمدوف نے کہا کہ بھارت نے ٹرمپ کے کردار کی تردید کی، مگر پاکستان نے سفارتی میدان میں سبقت لے لی۔ مودی کی واشنگٹن آمد تو نہ ہوسکی مگر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مدعو کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مستقل مزاج اور متوازن رویے نے ٹرمپ کو متاثر کیا۔ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تعلقات ’’برو مینس‘‘ کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے پاکستان کے ساتھ بڑے معاشی معاہدے کیے۔ بھارت پر اضافی ٹیرف لگا کر ٹرمپ نے نئی دہلی کو بیجنگ اور ماسکو کی طرف دھکیل دیا۔ مودی 7 سال بعد پہلی بار بیجنگ کے دورے پر جانے پر مجبور ہوئے۔دریں اثنا ’’نیشنل انٹرسٹ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے جھکاؤ کے باوجود سوال باقی ہے کہ کیا واشنگٹن کی پالیسی واقعی بدل گئی یا محض وقتی اشارے ہیں؟ ملٹری ڈپلومیسی کی شاندار مثال کے باعث اقوام عالم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں کی معترف ہو چکی ہیں اور واشنگٹن ٹائمز نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’’مرد آہن‘‘ قرار دیا ہے۔واشنگٹن ٹائمز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر جنوبی ایشیا میں صدر ٹرمپ کے نئے اسٹریٹجک پارٹنر بن سکتے ہیں۔ فیلڈ مارشل کو امریکا میں جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے بااثر ترین شخصیت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر خودنمائی اور سیاست سے دور جب کہ نظم و ضبط کے پابند افسر ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی کے دوران فیلڈ مارشل کی عوامی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خصوصیات انہیں صدر ٹرمپ کا فطری پارٹنر بناتی ہیں۔ بھارت سے بگڑتے تعلقات کے تناظر میں فیلڈ مارشل اور ٹرمپ کی ملاقات زیادہ اہم تھی۔ صدر ٹرمپ نے مداخلت کرکے پاکستان اور بھارت میں جنگ بندی کرائی، جس پر پاکستان نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا جب کہ مودی نے ثالثی کا ہی انکار کردیا۔واشنگٹن ٹائمز کے مطابق فیلڈ مارشل نے افغانستان اور ایران سے لاحق خطرات پر فوجی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کے مطالبہ کرتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاک امریکا تعلقات انسداد دہشتگردی میں تعاون کے حوالے سے مزید مضبوط ہوئے۔ پاکستان نے کابل ایئرپورٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا۔ صدر ٹرمپ نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی۔ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

  • پنجاب میں سیلاب؛ قصور اور ملتان شدید خطرے میں

    پنجاب میں سیلاب؛ قصور اور ملتان شدید خطرے میں

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)پنجاب میں سیلابی صورت حال سنگین ہوتی جا رہی ہے جب کہ ملتان اور قصور میں پانی داخل ہونے کے خطرات کے باعث لاکھوں افراد کی نقل مکانی ہوئی ہے، اُدھر بلوچستان بھی سیلاب کے خطرے کی زد میں آ چکا ہے۔ پنجاب کے بڑے دریاؤں میں غیر معمولی سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کر دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے ستلج اور دریائے راوی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔
    ناب میں بھی تیز بہاؤ کے باعث جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں کمی ضرور آئی ہے تاہم یہ اب بھی 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک سے زائد ہے جس سے قصور اور اس کے نواحی علاقے شدید دباؤ میں ہیں۔
    قصور میں تاریخ کا سب سے بڑا ریلا
    حکام کے مطابق 1955ء کے بعد پہلی مرتبہ قصور کے مقام پر اتنی بڑی مقدار میں پانی داخل ہوا ہے اور شہر کو بچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کا کے مطابق بھارت میں بند ٹوٹنے کے باعث آنے والا ریلا قصور کی طرف بڑھا جس نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔
    انہوں نے کہا کہ لاہور اس وقت محفوظ ہے تاہم دریائے راوی میں طغیانی کے باعث آئندہ 48 گھنٹے ساہیوال، اوکاڑہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت جنوبی اضلاع کے لیے نہایت کٹھن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں اب تک 28 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں لیکن بروقت ریسکیو کارروائیوں نے بڑے سانحے سے بچا لیا۔
    ملتان میں صورتحال سنگین، 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی
    دوسری جانب جنوبی پنجاب بھی پانی کے ریلوں کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ملتان کی حدود میں آج شام تک دریائے چناب کا بڑا ریلا داخل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے پیش نظر 3 لاکھ سے زائد افراد گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔
    انتظامیہ نے شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دباؤ کم کیا جا سکے۔ متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی بروقت منتقلی کے انتظامات نہ ہونے پر شکایات بھی کی ہیں۔ جلالپور پیر والا کے قریب دریائے ستلج میں 50 ہزار کیوسک پانی گزرنے سے تقریباً 140 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔راجن پور اور بہاولپور کے نشیبی علاقے بھی خطرے کی زد میں ہیں اور وہاں کے مکین نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں بھی سیلابی الرٹ جاری کیا گیا ہے جہاں نشیبی دیہات خالی کرائے جا رہے ہیں۔
    پانی کا بڑھتا دباؤ
    پنجاب کے مختلف مقامات پر پانی کی صورتحال ایسی ہے کہ دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ 38 ہزار کیوسک اور ہیڈ اسلام پر خطرناک بہاؤ موجود ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی، قادر آباد اور تریموں کے مقامات پر پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے جہاں ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد کیوسک بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ راوی میں بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح بڑھ کر ایک لاکھ 99 ہزار کیوسک ہو گئی ہے جب کہ جسڑ اور شاہدرہ کے مقامات پر کچھ کمی آئی ہے۔
    اُدھر بلوچستان میں بھی ممکنہ سیلابی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ وزیر آبپاشی صادق عمرانی نے خبردار کیا ہے کہ 2 ستمبر کو دریائے سندھ سے آنے والا ریلا بلوچستان میں داخل ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں جعفرآباد، روجھان، اوستہ محمد اور صحبت پور کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
    اس سلسلے میں نصیرآباد میں کیمپ آفس قائم کر دیا گیا ہے اور صوبائی حکومت سندھ سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ملک بھر میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کار، پاک فوج اور رینجرز کی امدادی کارروائیاں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ہیں ۔
    پنجاب کے دریاؤں کی صورتحال
    ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے ۔ گنڈا سنگھ والا میں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 85 ہزار تک پہنچا۔ دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی طرف بڑھ رہا ہے۔پی ڈی ایم اے (پنجاب) کے اعداد و شمار کے مطابق دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں قادر آباد کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 71 ہزار کیوسک ہے۔اعداد و شمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 46 ہزار کی اسی ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی شادرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے اور بہاؤ میں کمی آ رہی ہے۔ بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کی کیوسک ہے اور اضافہ ہو رہا ہے۔دریائے راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 32 ہزار کیوسک ہے۔نالہ ڈیک کنگرا میں اونچے درجے کا سیلاب ہے ۔نالہ بئیں اور بسنتر میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ نالہ ایک اور بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی شادرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے اور بہاؤ میں کمی آ رہی ہے۔ بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کی کیوسک ہے اور اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 32 ہزار کیوسک ہے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ بھارت سے آئندہ چند روز میں 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ موجود ہے، وفاقی حکومت کی کوشش تھی لیکن بھارت کے ساتھ انفارمیشن شیئر کرنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جی ڈی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا نے کہا کہ اس وقت پورے ریجن میں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، گجرات اور منڈی بہاوالدین میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں زیادہ بارش ہوئی ہے، کل ہمیں ستلج کی جانب زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بھارت میں ایک بند ٹوٹا تھا، گنڈا سنگھ والا پر پانی میں کمی آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کل قصور میں 22 دیہات کو خالی کروایا گیا تھا، اس وقت وہاں 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے، ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈ اسلام پر 64 ہزار کیوسک کا فلو ہے جو وہاڑی کے مقام پر بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ مرالہ پر اس وقت ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے، کل چنیوٹ پر 8 لاکھ سے زائد کا ریلہ گزرا جو آج ساڑھے 6 لاکھ کیوسک تک آ چکا ہے، کل جھنگ شہر کو بچانے کے لئے بند کو توڑا گیا جس سے شہری آبادی کو بڑے نقصان سے بچایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تریموں کے مقام پر 8 لاکھ 30 ہزار کیوسک کا ریلہ پہنچنے کا امکان ہے، راوی میں 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک کا ریلہ گزرا اور اس وقت ایک لاکھ 29 ہزار کیوسک تک گر چکا ہے، راوی میں اس وقت بڑا ریلہ ہیڈ بلوکی پہنچ چکا ہے جس میں ننکانہ صاحب کے نالہ ڈیک کا پانی بھی شامل ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ہیڈ محمد والا پر 7 سے 8 لاکھ کیوسک کا ریلہ ہو گا کیونکہ وہاں راوی اور دوسرے دریا کا پانی اکٹھا ہوگا، وہاں شاید کسی بند کو توڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے انتظامی سطح پر فیصلے لئے جا چکے ہیں، غیرضروری طور پر بند نہیں توڑے جائیں گے بلکہ عوامی مفاد میں فیصلے کئے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 4 ستمبر کو 8 لاکھ 75 ہزار سے 9 لاکھ 25 ہزار کیوسک کا ریلہ پنجند کے مقام پر پہنچنے کا امکان ہے، اس کے بعد یہ ریلہ 6 ستمبر کو گدو کے مقام پر پہنچے گا، اس کے پیش نظر تمام تر انتظامات اور فیصلے کئے جا چکے ہیں، ہماری ہر معاملے پر لمحہ بہ لمحہ نظر ہے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ریسکیو اینڈ ریلیف کی سرگرمیوں کی بات کریں تو یہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن کیا گیا ہے، اس میں 800 بوٹس اور 13 ہزار ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا اور پاک آرمی نے ہماری بھرپور مدد کی، اب ریسکیو میں کسی قسم کی کوئی تاخیر نہیں ہے، تینوں دریاوں میں سے چناب کے 1179 موضعہ جات، 478 گاوں اور ستلج پر 391 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان انتظامیہ کے ساتھ ساتھ نظر آئے، چناب میں 9 لاکھ 66 ہزار، راوی پر 2 لاکھ 32 ہزار اور ستلج پر 3 لاکھ 13 ہزار افراد سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں، مختلف متاثرہ اضلاع میں 300 چانب، 200 راوی اور 150 ستلج پر ریلیف کیمپس لگائے گئے ہیں۔لاہور میں 6 سے 7 ہزار افراد ریلیف کیمپس میں موجود ہیں جنہیں کھانا پینا اور رہائشی ضرویات فراہم کی جا رہی ہیں، اب تک 30 افرادجاں بحق ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر حادثاتی اموات ہوئی ہیں، تمام ادارے ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔بھارت سے آئندہ چند روز میں 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ موجود ہے، وفاقی حکومت کی کوشش تھی لیکن بھارت کے ساتھ انفارمیشن شیئر کرنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے، ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کے بعد لوگوں کی بھرپور مدد کی جائے گی۔

  • چناب سے بڑا سیلابی ریلہ جھنگ میں داخل،  اموات 20 ہوگئیں

    چناب سے بڑا سیلابی ریلہ جھنگ میں داخل، اموات 20 ہوگئیں

    لاہور(کنزیومرواچ نیوز)بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور شدید بارشوں کے باعث دریائے راوی، چناب اور ستلج بپھر گئے جس کے باعث سیلاب نے پنجاب میں تباہی مچا دی، کئی اضلاع زیر آب آگئے اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مال مویشی سیلاب کی نذر ہوگئے، اب تک 20 افراد جاں بحق ہوگئے۔پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق جھنگ شہر کو بچانے کے لیے دریائے چناب میں سیلاب کے پیش نظر رواز پل کے قریب شگاف ڈال دیا گیا۔ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق دریائے چناب کے پاٹ سے شہریوں کے انخلاء کو یقینی بنا لیا گیا ہے۔ فیصل آباد اور جھنگ انتظامیہ الرٹ رہے اور تمام افسران فیلڈ میں موجود رہیں۔دوسری جانب، دریائے راوی کے بھپرنے سے لاہور کے اطراف کئی دیہات زیر آب آگئے جبکہ چند مضافاتی علاقوں میں بھی پانی داخل ہوا۔تھیم پارک، موہلنوال، مرید وال، فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی، نیو میٹر سٹی اور چوہنگ ایریا سے محفوظ انخلا مکمل کر لیا گیا۔ طلعت پارک بابو صابو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیزی سے جاری ہے۔پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے چار بلاکس میں پانی داخل ہوا تاہم رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا۔ لاچیوالی اسکول کے ریلیف کیمپ میں 70 سے زائد افراد مقیم ہیں۔ بیشتر متاثرین چوہنگ اور ٹھوکر ریلیف کیمپ میں مقیم ہیں، قیام و طعام کی بہترین سہولتیں میسر کی گئی ہیں۔

  • طاقتور شخصیات کے ریزورٹس بچانے کیلئے  بستیاں اجاڑ دی گئیں: مصدق ملک

    طاقتور شخصیات کے ریزورٹس بچانے کیلئے بستیاں اجاڑ دی گئیں: مصدق ملک

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک کا کہنا ہے ملک میں ایلیٹ کلچرنگ ہے، دریا کنارے طاقتور شخصیات کے ریزورٹ ہیں جہیں بچانے کے لیے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئیں۔ گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مصدق ملک کا کہنا تھا ڈیمز اور کینالز کے معاملے پر صوبوں کے درمیان شک کی فضا ہے، ہر صوبے کو دوسرے صوبے پر شک ہے کہ وہ میرا پانی روک لے گا، بلوچستان کو شک ہے، سندھ کو پانی ملتا ہے اور سندھ انہیں پانی نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ ڈیمز اور کینالز کے معاملے پر بات کی جائے تو اتفاق رائے نہیں ہوتا، صوبوں کے درمیان شک کی فضا ختم کرنے کا حل ٹیلی میٹری ہے جس پر کام شروع ہو چکا ہے، ایک آدھ سال میں ٹیلی میٹری کا کام مکمل ہونے کی توقع ہے۔لائیو: پنجاب کے 3 بپھرے دریاؤں نے تباہی مچادی، لوگ ڈوبے مکانوں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور، اموات 20 ہوگئیں ایک سوال کے جواب میں سینیٹر مصدق ملک کا کہنا تھا دریا کے اندر لوگوں نے کھیتی باڑی کی ہوئی ہے، ملک میں ایلیٹ کلچرنگ ہے، دریا کے کنارے کسی غریب کا ہوٹل نہیں، ہر طاقتور آدمی کا ریزورٹ ہے، 10 لوگوں کے ریزورٹس کو بچانے کے لیے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئیں۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ سیلاب سے سرگودھا متاثر ہونا شروع ہو گیا ہے، جب پنجند پر تمام دریا جب اکٹھے ہوں گے تو توقع ہے کہ ریلا 10 لاکھ کیوسک تک ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ پیشگی اطلاعات پر لوگوں اور مویشیوں کو نکالا جاتا ہے، ایک گاؤں میں 30 لوگ کہہ رہے تھے کہ ہم نہیں جائیں گے، منت کرکے انہیں نکالا، آج وہاں پانی موجود ہے۔مصدق ملک کا کہنا تھا تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول پر اگر پانی کے ذخائر نہیں ہوں گے تو آپ کیا کریں گے؟ ہمیں ہر جگہ پر پانی کے نیچرل ریزرو بنانا پڑیں گے۔

  • 7 اور8 ستمبر کی درمیانی شب طویل سرخ چاند گرہن، کیا پاکستان میں نظارہ کیا جائیگا؟

    7 اور8 ستمبر کی درمیانی شب طویل سرخ چاند گرہن، کیا پاکستان میں نظارہ کیا جائیگا؟

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)دنیا کے بیشتر ممالک میں اگلے ماہ سرخ چاند (بلڈ مون) کا خوبصورت نظارہ کیا جائے گا۔ستمبر کے اولین عشرے میں دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے لوگ چاند گرہن کا دلفریب نظارہ کریں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نظارہ 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب کیا جائے گا جس دوران چاند کا رنگ سرخ ہوجائے گا اور اسے ‘ بلڈ مون کہا جاتا ہے۔
    چاند کا رنگ سرخ کیوں ہوتا ہے؟
    بلڈ مون یا سرخ چاند دراصل چاند گرہن کی ایک قسم ہے، جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے تو زمین کی گردش میں روشنی کا کچھ حصہ سرخ رنگ میں چاند کی سطح پر پڑتا ہے، جس سے چاند سرخ نظر آتا ہے۔
    تکنیکی تفصیلات میں جایا جائے تو گرہن کے دوران چاند کی رنگت اس وقت سرخ ہوتی ہے جب زمین، سورج اور چاند کے درمیان میں آجاتی ہے اور اس موقع پر چاند زمین کے سائے کے تاریک ترین حصے سے گزر رہا ہوتا ہے جس سے سورج کی روشنی اس تک براہ راست نہیں پہنچتی۔سورج کی روشنی جب زمینی فضا میں سے گزرتی ہے تو نیلی روشنی کی نسبت لال رنگ کی روشنی زیادہ مڑ جاتی ہےاور اس وجہ سے گرہن لگنے پر چاند سرخ رنگ کا نظر آتا ہے اور اسی وجہ سے اکثر اسے بلڈ مون بھی کہا جاتا ہے۔
    بلڈ مون کا نظارہ دنیا کے کون سے ممالک میں کیا جائے گا؟
    میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کی تقریباً 88 فیصد آبادی بلڈ مون کو دیکھے گی۔
    یہ گرہن 7 ستمبر کی شب 8 بج کر 28 منٹ پر شروع ہوگا اور رات ایک بج کر 55 منٹ تک برقرار رہے گا جس دوران 82 منٹ تک مکمل گرہن ہوگا۔پاکستان، آسٹریلیا، بھارت، وسطی ایشیا، روس کے مختلف علاقوں، جاپان اور مشرقی افریقا میں اس چاند کا مکمل نظارہ کیا جاسکے گا۔اس کے علاوہ یورپ، ایشیا، مشرقی آسٹریلیا، افریقا اور نیوزی لینڈ میں بیشتر مکمل چاند گرہن کی بجائے جزوی گرہن کو دیکھیں گے جبکہ امریکا میں رہنے والے لوگ اس چاند کا نظارہ نہیں کرسکے گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ستمبر 2025 کا گرہن اس دہائی کے سب سے زیادہ نظر آنے والے مکمل چاند گرہن میں سے ایک ہوگا جو دیکھنے والوں کیلئے ایک نادر موقع ہوگا۔اس سے قبل 2025 کا پہلا چاند گرہن 14 مارچ کو ہوا تھا۔مگر اس موقع پر پاکستان میں اسے دیکھا نہیں جاسکا تھا کیونکہ گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بجے کے قریب ہوا اور اختتام سہ پہر 3 بجے ہوا۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

    لاہور(کنزیومرواچ نیوز)فیلڈ مارشل اور آرمی چیف عاصم منیر نے کرتار پور سمیت پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور یقین دہائی کروائی کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے تمام مذہبی مقامات کو دوبارہ اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سیالکوٹ سیکٹر، شکر گڑھ، نارووال اور کرتارپور کا بھی دورہ کیا، آرمی چیف کے دورےکامقصدسیلاب کی صورتحال، ریسکیو و ریلیف اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو سیلاب کی موجودہ صورتحال اور بارشوں کے آئندہ سلسلے کے لیے تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔آرمی چیف نے علاقے کی متاثرہ سکھ برداری سے ملاقات کی اور کہا کہ اقلیتوں اور ان کے مذہبی مقامات کا تحفظ ریاست اور اس کے اداروں کی ذمہ داری ہے، پاکستان اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔فیلڈ مارشل کا کہنا تھا سیلاب سے متاثرہ تمام مذہبی مقامات کو اصل حالات میں بحال میں بحال کیا جائے گا، دربار صاحب کرتارپور کو ترجیحی بنیادوں پر اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے بروقت اور فعال اقدامات پر فوجی جوانوں اور سول انتظامیہ کی مربوط اور انتھک کاوشوں کو سراہا۔فیلڈ مارشل نے فوجی جوانوں سے بھی ملاقات کی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے دوران جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ تیاری اور قوم کی خدمت کے عزم کو سراہا۔

  • گوگل میپ پر بھروسہ مہنگا پڑ گیا، خواتین اور بچے سمیت 4 افراد ہلاک

    گوگل میپ پر بھروسہ مہنگا پڑ گیا، خواتین اور بچے سمیت 4 افراد ہلاک

    راجستھان(کنزیومرواچ نیوز) بھارتی ریاست راجستھان میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک فیملی گوگل میپ کے دکھائے گئے راستے پر چلتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگئی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیملی مذہبی سفر سے واپس آ رہی تھی اور وین کا ڈرائیور گوگل میپ کی ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔ دورانِ سفر ایپ نے انہیں سومی اپریڈا پل کی طرف موڑ دیا جو کئی مہینوں سے بند تھا۔پولیس کے مطابق وین پل پر پھنس گئی اور تیز بہاؤ کے باعث دریا میں بہہ گئی۔ حادثے میں 4 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 2 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ وین میں سوار دیگر 5 افراد کو مقامی افراد اور ریسکیو اہلکاروں نے زندہ بچا لیا۔ تاہم ایک لاپتا بچے کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

  • اقوام متحدہ کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے ہنگامی امداد کا اعلان

    اقوام متحدہ کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے ہنگامی امداد کا اعلان

    نیویارک(کنزیومرواچ نیوز)اقوام متحدہ نے پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں متاثرہ افراد کی فوری مدد کے لیے ہنگامی اقدام اٹھاتے ہوئے 6 لاکھ امریکی ڈالر کی امداد جاری کر دی ہے۔یہ اعلان یو این سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ترجمان کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 10 روز کے دوران شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 400 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 190 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 20 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور انہیں پناہ گاہوں، طبی امداد اور نقد معاونت کی ضرورت ہے۔متاثرہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی، حفظانِ صحت کے سامان اور بالخصوص خواتین و بچیوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ 26 جون سے جاری مون سون بارشوں اور سیلاب نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور صورتحال سنگین ہے۔مقامی حکام کے مطابق مجموعی طور پر تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 798 افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرے اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ یو این ایجنسیز، مقامی حکام اور شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • مریم نواز کا کشتی میں سوار ہوکر  سیلابی صورتحال کا جائزہ

    مریم نواز کا کشتی میں سوار ہوکر سیلابی صورتحال کا جائزہ

    لاہور (کنزیومرواچ نیوز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کشتی میں سوار کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، دریائے راوی میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی رفتار بھی تیز ہوگئی۔حکام کے مطابق آج دریائے راوی سے 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔مریم نواز کشتی میں سوار ہو کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے پہنچیں، مریم نواز نے کشتی میں سوار ہو کر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ حکام کی جانب سے انہیں دریائے راوی میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال پر بریف کیا گیا۔