Blog

  • مشہور ٹک ٹاکر کروڑوں روپے کے فراڈ کے الزام میں گرفتار

    مشہور ٹک ٹاکر کروڑوں روپے کے فراڈ کے الزام میں گرفتار

    لاہور (کنزیومرواچ نیوز) ایک اور ٹک ٹاکر کو فراڈ کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔لاہور کے ٹک ٹاکر خرم گجر کا اوورسیز پاکستانی کے ساتھ فراڈ سامنے آگیا۔اطلاعات کے مطابق ٹک ٹاکر خرم گجر پر الزام ہے کہ اس نے رانا ارسلان نامی شخص کے ساتھ دو لاکھ یورو کا فراڈ کیا ہے۔ خرم گجر نے رانا ارسلان سے کمرشل پلاٹ کی خریداری کےلیے دو لاکھ یورو لیے تھے لیکن ایک سال بعد بھی اسے دکھایا گیا کمرشل پلاٹ خرید کر نہ دیا۔رانا ارسلان کی جانب سے رقم کی واپسی کے مطالبے پر خرم گجر انکار ہوگیا اور دھمیاں بھی دیں۔رانا ارسلان کی درخواست پر تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے دھمکیوں اور امانت میں خیانت کے الزام پر ٹک ٹاکر خرم گجر کو گرفتار کرلیا ہے۔

  • پنجاب میں سیلاب سے تباہی، کئی بند ٹوٹ گئے، 11 افراد جاں بحق

    پنجاب میں سیلاب سے تباہی، کئی بند ٹوٹ گئے، 11 افراد جاں بحق

    لاہور(کنزیومرواچ نیوز)بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، دریائے راوی میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی رفتار بھی تیز ہوگئی۔دریائے راوی میں بھی سیلابی پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، دریا کنارے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔راوی، چناب اور ستلج میں سیلابی ریلا گزرنے کے باعث اطراف کے دیہات زیر آب آگئے جبکہ کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں، کئی چھوٹے بند بھی ٹوٹ گئے ہیں۔اب تک گھروں کی چھت گرنے اور سیلابی پانی میں ڈوبنے سے 11 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

  • ملکی معیشت کو دھچکا،ہزاروں پاکستانی کمپنیاں  دبئی منتقل

    ملکی معیشت کو دھچکا،ہزاروں پاکستانی کمپنیاں دبئی منتقل

    اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز) ڈان اسلام آباد کے بیورو چیف سینئر اینکر افتخار شیرازی کے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال 8036 کمپنیاں پاکستان چھوڑ کر دوبئی چیمبر آف کامرس میں رجسٹر ہو چکی ہیں۔ اس سال صرف جنوری سے جون کے دوران چھ ماہ میں 3968 پاکستانی کمپنیاں دبئی جاکر رجسٹرڈ ہوئی ہیں.

  • مودی سرکار  کی  ذلت آمیز شکست کے بعد نیا محاذ کھولنے کی تیاری

    مودی سرکار کی ذلت آمیز شکست کے بعد نیا محاذ کھولنے کی تیاری

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)بھارت میں مودی سرکار آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد نیا محاذ کھولنے کی تیاری کررہی ہے۔بی جے پی حکومت کا ڈرون ڈراما شروع ہوگیا۔ بھارتی عوام کو خوفزدہ کر کے پاکستان مخالف جنگی جنون بھڑکانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بھارتی عوام کو پاکستان کے خلاف بھڑکا کر جنگی جنون کو ہوا دینا مودی سرکار کا وتیرہ بن چکا ہے۔بی جے پی اور بھارتی فوج مشترکہ طور پر پروپیگنڈا مہم چلا کر اندرونی ناکامیاں چھپانے میں مصروف ہیں۔ گودی میڈیا ایک مرتبہ پھر جعلی خبریں پھیلا کر فالس فلیگ آپریشن اور پاکستان مخالف محاذ تیار کرنے میں سرگرم ہوگیا ۔بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق پونچھ میں پاکستانی ڈرونز کی موجودگی کے بعد سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق ڈرونز نگرانی کے لیے لانچ ہوئے اور پاکستانی حدود میں 5 منٹ میں واپس چلے گئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان سے آنے والے نصف درجن ڈرونز جموں و کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں سرحدی علاقوں پر منڈلاتے دیکھے گئے۔ ڈرونز کی سرگرمی مینڈھر سیکٹر میں بالاکوٹ، لنگوٹ اور گرسائی نالہ میں اتوار رات 9 بج کر 15 منٹ پر بھی دیکھی گئی۔ ڈرونز کو بہت اونچائی پر پرواز کرتے دیکھا گیا اور وہ فوراً پاکستانی علاقے کی طرف واپس لوٹ گئے۔لائن آف کنٹرول پر ڈرونز کا من گھڑت پروپیگنڈا بی جے پی سیاسی مقاصد کے تحت استعمال کر رہی ہے۔ اندرونی انتشار کی شکار بی جے پی سرکار سیاسی دباؤ سے نکلنے کے لیے جنگی ماحول پیدا کررہی ہے۔ ڈرونز کا پروپیگنڈا بھارت میں پاکستان دشمنی بڑھا کر عوام کو جنگی ایجنڈے پر آمادہ کرنے کی سازش ہے۔ مودی نے خطے کے امن کو اپنی فسطائیت اور جنگی جنون کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔

  • آبی گزر گاہوں پر قبضہ کرنے والوں کو پھانسی دینے کی تجویز

    آبی گزر گاہوں پر قبضہ کرنے والوں کو پھانسی دینے کی تجویز

    اسلام آباد:(کنزیومر واچ نیوز)قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے والوں کو پھانسی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرپرسن منزہ حسن کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی اور تیاریوں پر سخت تنقید کی گئی۔چیئرپرسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت بروقت بریفنگ پیپرز فراہم کرنے میں ناکام رہی اور ریجنل کانفرنس میں شرکت کے لیے انہیں وقت پر بریف نہیں دیا گیا۔ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے بھی اپنی وزارت کی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے کمیٹی سے معذرت کی۔اجلاس کے دوران رکن کمیٹی صاحب زادہ صبغت اللہ نے کہا کہ گلیشیئرز سے متعلق بنائے جانے والے فریم ورک کے بارے میں بھی اراکین کو مناسب معلومات نہیں دی گئیں۔چیئرپرسن کمیٹی نے خبردار کیا کہ آئندہ سال مون سون 22 فیصد زیادہ شدید ہوگا جبکہ این ڈی ایم اے تو فعال کردار ادا کر رہی ہے مگر پی ڈی ایم ایز کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ منزہ حسن نے کہا کہ لوکل حکومت نہ ہونے کے باعث ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی موجود نہیں، جس سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ممبر کمیٹی گستاسب خان نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں صرف چیک تقسیم اور فوٹو سیشن کیے جاتے ہیں، اصل میں انفرا اسٹرکچر پر کوئی کام نہیں ہو رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے آنے والے پانی کے خطرے کے باوجود کوئی تیاری نہیں کی گئی۔ اس پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے وضاحت دی کہ یہ بھارت کے ڈیموں کے بھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والا مسئلہ ہے اور اس پر وزارت آبی ذخائر کو بریفنگ دینی چاہیے۔اجلاس میں رکن اویس جکھڑ نے اپنے ضلع لیہ میں سیلابی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے گھر اجڑ گئے ہیں، مگر این ڈی ایم اے نے لیہ کو متاثرہ اضلاع میں شامل ہی نہیں کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ جنوبی پنجاب کو فنڈز نہیں دیے جاتے، بڑے شہروں میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جب کہ کچے کے علاقے ہر سال ڈوب جاتے ہیں۔ اس پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے ضلع کو متاثرہ علاقوں میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔رکن شائستہ پرویز نے کہا کہ سیلاب سے معیشت تباہ ہو رہی ہے، مگر اصل تباہی ٹمبر مافیا کی وجہ سے ہے جس نے کے پی، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں جنگلات کا صفایا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور مافیا حکومت کی مدد کے بغیر نہیں چل سکتا اور اس پر تحقیقات ہونی چاہییں۔ چیئرپرسن کمیٹی نے بھی اس مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ ہمارے پہاڑ ننگے ہو رہے ہیں جبکہ بھارتی سائیڈ سرسبز ہے۔اجلاس میں سخت تجاویز بھی سامنے آئیں، رکن کمیٹی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے والے اور ایسے این او سی جاری کرنے والوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے۔ رکن کمیٹی شازیہ صوبیہ نے نشاندہی کی کہ آج راوی میں پانی بڑھ رہا ہے مگر کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔شائستہ پرویز نے پارلیمانی کمیٹیوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم صرف کمیٹیاں کھیل رہے ہیں اور میں حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی کمیٹی چھوڑنے کا سوچ رہی ہوں۔ اس پر چیئرپرسن نے کہا کہ کمیٹی تجاویز دے سکتی ہے اور ماضی میں کئی تجاویز پر عمل درآمد ہوا ہے، اب ٹمبر مافیا کے خلاف بھی ہدایات جاری کی جائیں گی۔اجلاس میں اراکین نے اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کے حل کے لیے صوبوں کو بھی شامل کرنا ہوگا اور کلائمٹ چینج اتھارٹی کو طلب کر کے سخت سوالات کیے جائیں گے۔

  • راوی اور چناب میں طغیانی سے اگلے 48گھنٹے انتہائی نازک

    راوی اور چناب میں طغیانی سے اگلے 48گھنٹے انتہائی نازک

    لاہور:(کنزیومر واچ نیوز)پنجاب کے مختلف اضلاع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے۔حکام کے مطابق اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ تقریباً 25 ہزار افراد ریلیف کیمپس میں پناہ لے چکے ہیں۔ڈی جی پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہیڈ مرالہ کا ڈھانچہ محفوظ ہے اور وہاں سے گزرنے والا ریلہ اب خانکی ہیڈ ورکس سے ہوتا ہوا نیچے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق امید ہے کہ یہ ریلہ کسی بڑے نقصان کے بغیر پنجند کے مقام تک پہنچ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ 10 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جو آج رات 9 سے 10 بجے کے درمیان قریبی علاقوں سے گزرے گا۔ لاہور کے قریب شاہدرہ بیراج کی گنجائش ڈھائی لاکھ کیوسک ہے اور وہاں سے اندازاً ایک لاکھ 80 سے 90 ہزار کیوسک پانی گزرنے کی توقع ہے۔عرفان کاٹھیا کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ 45 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا، تاہم آنے والے گھنٹوں میں اس کی سطح نیچے آنا شروع ہو جائے گی۔دریائے چناب میں پانی کی سطح 9 لاکھ 2 ہزار کیوسک تک جا پہنچی ہے جس کے باعث 128 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سات اضلاع میں پاک فوج کو طلب کیا گیا ہے۔ نالہ ڈیک اور نالہ بلستر میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، تاہم حکام کے مطابق پانی کے انخلا کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ سیلابی خطرات کے پیش نظر 900 ملین روپے متاثرہ اضلاع کے لیے جاری کر دیے گئے ہیں اور ریلیف کیمپس میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو بروقت ہائی الرٹ جاری کیا گیا تھا اور اب تک بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔حکام کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹے راوی اور چناب کے لیے نہایت نازک ہیں، تاہم بارشوں کا موجودہ اسپیل ختم ہو رہا ہے اور آئندہ دنوں میں نسبتاً کم بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

  • بھارتی آبی جارحیت، سیلاب کے پیش نظر پنجاب کے مختلف اضلاع میں فوج طلب

    بھارتی آبی جارحیت، سیلاب کے پیش نظر پنجاب کے مختلف اضلاع میں فوج طلب

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔حکومت پنجاب نے انسانی جانوں کے تحفظ اور بروقت امدادی کارروائیوں کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج طلب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔پنجاب کے 6 اضلاع میں ضلعی انتظامیہ نے فوج کی فوری تعیناتی کی درخواست کی تھی.محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس پہلے ہی میدان میں موجود ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔تاہم ممکنہ خطرات کے پیش نظر سول انتظامیہ کی معاونت اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی وزارت داخلہ کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے، جس کے تحت فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد مقرر کی جائے گی، جب کہ ضرورت پڑنے پر آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی متاثرہ علاقوں میں فراہم کیے جائیں گے۔سرکاری ترجمان کے مطابق، حکومت پنجاب اور تمام متعلقہ ادارے سیلابی صورتحال کو چوبیس گھنٹے (24/7) مانیٹر کر رہے ہیں، اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔حکومتی سطح پر جاری اس بروقت اور منظم ردعمل کا مقصد نہ صرف عوام کو بروقت ریلیف فراہم کرنا ہے بلکہ کسی بھی ممکنہ بڑے نقصان سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔

  • راوی اور ستلج میں سیلاب سے متعدد دیہات زیرآب

    راوی اور ستلج میں سیلاب سے متعدد دیہات زیرآب

    لاہور (کنزیومر واچ نیوز)بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کے بعد پنجاب کے دریاؤں ستلج، راوی اور چناب میں سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر گئی جبکہ آبپاشی اسٹرکچر کو بچانے کے لیے چناب میں ہیڈ قادرآباد بند دھماکے سے اڑا دیا گیا۔
    بھارت نے دریاؤں میں مزید سیلاب کی وارننگ بھی جاری کر دی ہے اور اس حوالے سے بھارتی ہائی کمیشن نے آگاہ کیا کہ دریائے ستلج فیروزپور کے مقام سے سیلابی ریلا داخل ہو سکتا ہے اور راوی میں مدھوپور سے سیلابی ریلا آنے کا امکان ہے، چناب میں اکھنور کے مقام سے سیلابی ریلے کے داخل ہونے کی توقع ہے۔
    تینوں دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب آسکتا ہے۔ بھارتی اطلاع پر انڈس واٹر کمیشن نے فلڈ الرٹ جاری کر دیا۔
    ڈی پی ڈی ایم اے پنجاب بریفنگ
    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹے راوی اور چناب کے لیے نہایت نازک ہیں، تاہم بارشوں کا موجودہ اسپیل ختم ہو رہا ہے اور آئندہ دنوں میں نسبتاً کم بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
    ڈی جی پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہیڈ مرالہ کا ڈھانچہ محفوظ ہے اور وہاں سے گزرنے والا ریلہ اب خانکی ہیڈ ورکس سے ہوتا ہوا نیچے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق امید ہے کہ یہ ریلہ کسی بڑے نقصان کے بغیر پنجند کے مقام تک پہنچ جائے گا۔
    انہوں نے کہا کہ دریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ 10 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جو آج رات 9 سے 10 بجے کے درمیان قریبی علاقوں سے گزرے گا۔ لاہور کے قریب شاہدرہ بیراج کی گنجائش اڑھائی لاکھ کیوسک ہے اور وہاں سے اندازاً ایک لاکھ 80 سے 90 ہزار کیوسک پانی گزرنے کی توقع ہے۔
    عرفان کاٹھیا کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ 45 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا، تاہم آنے والے گھنٹوں میں اس کی سطح نیچے آنا شروع ہو جائے گی۔
    دریائے چناب میں پانی کی سطح 9 لاکھ 2 ہزار کیوسک تک جا پہنچی ہے جس کے باعث 128 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سات اضلاع میں پاک فوج کو طلب کیا گیا ہے۔ نالہ ڈیک اور نالہ بلستر میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، تاہم حکام کے مطابق پانی کے انخلا کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ سیلابی خطرات کے پیش نظر 900 ملین روپے متاثرہ اضلاع کے لیے جاری کر دیے گئے ہیں اور ریلیف کیمپس میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو بروقت ہائی الرٹ جاری کیا گیا تھا اور اب تک بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    دریائے چناب اور ملحقہ علاقے
    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق قادر آباد کے رائٹ مارجنل بند میں بریچنگ کر دی گئی ہے، ایمرجنسی صورتحال کے پیش نظر بریچنگ سیکشن کیا گیا ہے۔
    قادر آباد ہیڈ ورکس کی موجودہ صلاحیت 8 لاکھ کیوسک کی ہے اور آبپاشی اسٹرکچر کو بچانے کے لیے بریچ ناگزیر تھی۔
    قادر آباد ہیڈ ورکس میں پانی کا آمد 9 لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے، جس انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
    گجرات میں دریائے چناب کے کری شریف حفاظتی بند کے اوپر سے پانی گزرنا شروع ہو چکا ہے، سیلابی ریلا بند کو توڑتا ہوا سڑکوں پر آگیا، جہاں ٹریفک معطل اور ملحقہ دیہاتوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
    ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ 2014 کے تباہ کن سیلاب کی یاد دلا رہا ہے، جب تقریباً 50 ہزار افراد متاثر ہوئے تھے۔
    منڈی بہاالدین، سیالکوٹ اور حافظ آباد سے ریسکیو ٹیموں کو نارووال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ گجرات شہر میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں تاحال نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہیں کیے جا سکے۔
    دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 10 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ ہیڈ ورکس کی ڈیزائن کردہ گنجائش 8 لاکھ کیوسک ہے۔ شدید سیلابی ریلے کے باعث ہیڈ ورکس کے ہائیڈرولک ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
    بھمبر نالے میں طغیانی سے نواحی دیہات دادو برسالہ، گوجر کوٹلہ اور پلاوڑی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، جہاں پانی کا کٹاؤ جاری ہے اور دیہاتوں کا فاصلہ محض 15 فٹ تک رہ گیا ہے۔
    دریائے راوی اور ملحقہ علاقے
    شکر گڑھ میں سیلاب کے باعث دریائے راوی کا حفاظتی بند بھیکو چک کے مقام پر ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔شکرگڑھ کے گاؤں جرمیاں جھنڈا سے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر عدنان عاطف اور ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔شدید بارش کے باعث ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اب تک 294 افراد کو دریائے راوی سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 2ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے۔
    دریائے ستلج اور ملحقہ علاقے
    دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 45 ہزار 236 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔سلیمانکی کے مقام پر حالیہ بہاؤ 1لاکھ 355 کیوسک سیلابی ریلہ برقرار ہے۔

  • ایف بی آر نے برآمدات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی نئی شرحیں جاری کر دیں

    ایف بی آر نے برآمدات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی نئی شرحیں جاری کر دیں

    اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز) وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سال 2025-26 کے لیے برآمدات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں کا اعلان کر دیا۔ یہ شرحیں فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں کی گئی حالیہ ترامیم کے تحت مقرر کی گئی ہیں۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ودہولڈنگ ٹیکس کارڈ کے مطابق، ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ (ATL) میں شامل ٹیکس دہندگان کے لیے برآمدات پر انکم ٹیکس کی شرح 1 فیصد ہوگی، جبکہ ATL میں شامل نہ ہونے والے افراد و کاروبار پر یہ شرح بڑھا کر 2 فیصد کر دی گئی ہے۔ایف بی آر کے مطابق یہ کٹوتیاں انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 154 کے تحت کی جائیں گی۔ اس قانون کے تحت:مجاز فارن ایکسچینج ڈیلر برآمدی زرمبادلہ کی وصولی پر ٹیکس منہا کرے گا۔بینکنگ کمپنیاں بیک ٹو بیک لیٹر آف کریڈٹ یا دیگر انتظامات کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم پر ٹیکس کاٹیں گی۔ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اتھارٹی (EPZA) بھی برآمدی یونٹس کی مد میں ٹیکس کٹوتی کی ذمہ دار ہوگی۔مزید برآں، ایکسپورٹ ہاؤسز جو ڈیوٹی اینڈ ٹیکس ریمیشن فار ایکسپورٹس رولز 2001 یا ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم 2021 کے تحت رجسٹرڈ ہیں، وہ ان ڈائریکٹ ایکسپورٹرز کو کی جانے والی ادائیگیوں پر ٹیکس منہا کریں گے۔ اسی طرح کسٹمز حکام برآمدی مال کی کلیئرنس کے وقت ٹیکس وصول کریں گے۔ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ سیکشن 154 کے تحت کٹوتی کیا گیا ٹیکس برآمدی آمدن پر کم از کم ٹیکس تصور ہوگا، جسے بعد میں ایڈجسٹ یا ریفنڈ نہیں کرایا جا سکے گا۔

  • ٹیکس دہندگان کے لیے کیو آر کوڈ کے ذریعے آئرس سسٹم میں لاگ اِن کرنے کی شرط معطل

    ٹیکس دہندگان کے لیے کیو آر کوڈ کے ذریعے آئرس سسٹم میں لاگ اِن کرنے کی شرط معطل

    پشاور (کنزیو مر واچ نیوز)ایف بی آر نے وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کے ریجنل سیکریٹریٹ پشاور کو اپنے خلاف دائر شکایت کے ازالے کے لیے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔ٹیکس ماہرین کے مطابق شکایت آئرس سسٹم میں کیو آر کوڈ کے ذریعے لاگ اِن سے متعلق تھی۔ بتایا گیا ہے کہ کیو آر کوڈ کی شرط معطل کردی گئی ہے اور ممکنہ طور پر شکایت بھی حل ہوگئی ہے۔ایف بی آر کے وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) ریجنل سیکریٹریٹ پشاور کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ آئرس سسٹم میں کیو آر کوڈ کے ذریعے لاگ اِن کی شرط اب معطل کر دی گئی ہے۔