15 جولائی 2016 کی رات ترکیہ کی جدید تاریخ کی سب سے فیصلہ کن راتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک فوجی بغاوت کی ناکام کوشش نہیں تھی بلکہ ایک ایسا موڑ تھا جس نے ریاست، سیاست، فوج، عدلیہ، میڈیا اور عوام کے باہمی تعلقات کو نئی شکل دے دی۔ اس واقعے کو آج دس برس گزر چکے ہیں، لیکن اس کے اثرات نہ صرف ترکیہ کی داخلی سیاست بلکہ اس کی خارجہ پالیسی، جمہوری ڈھانچے اور علاقائی کردار پر بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
ترکیہ میں فوج کا سیاست میں مداخلت کا ایک طویل اور پیچیدہ پس منظر موجود رہا ہے۔ گزشتہ صدی میں کئی مرتبہ فوج نے منتخب حکومتوں کو برطرف کیا اور خود کو ریاستی نظریے کا محافظ قرار دیا۔ تاہم 15 جولائی 2016 کی رات پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ عوام نے ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہو کر فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ یہ منظر صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے غیر معمولی تھا۔
صدر رجب طیب اردوان اس وقت چھٹیاں گزار رہے تھے۔ بغاوت شروع ہوتے ہی انہوں نے موبائل فون کے ذریعے ایک نجی ٹی وی چینل پر عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکل کر جمہوریت کا دفاع کریں۔ چند ہی لمحوں میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس اور فوج کے وفادار دستوں نے بھی باغی عناصر کا مقابلہ کیا، اور چند گھنٹوں کے اندر بغاوت دم توڑ گئی۔ اس رات دو سو پچاس سے زائد افراد جان سے گئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے، لیکن ترکیہ کا سیاسی نظام بچ گیا۔
یہ واقعہ صدر اردوان کے لیے ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ثابت ہوا۔ بغاوت ناکام ہونے کے بعد حکومت نے اس کا ذمہ دار فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک کو قرار دیا۔ حکومتی مقف تھا کہ گولن کے حامی برسوں سے فوج، عدلیہ، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں میں خفیہ طور پر اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے رہے تھے۔ اسی بنیاد پر ملک بھر میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع ہوئیں۔
سرکاری ملازمین، فوجی افسران، ججوں، اساتذہ، صحافیوں اور پولیس اہلکاروں سمیت لاکھوں افراد تحقیقات کی زد میں آئے۔ ہزاروں ادارے، تعلیمی مراکز، فلاحی تنظیمیں اور میڈیا ہاسز بند کر دیے گئے۔ حکومت کا مقف تھا کہ یہ اقدامات ریاست کو ایک منظم نیٹ ورک سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے انہیں اختلافِ رائے دبانے اور سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی قرار دیا۔
اسی دوران ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی جو تقریبا دو برس تک برقرار رہی۔ اس عرصے میں ایسے انتظامی اختیارات استعمال کیے گئے جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ یہی وہ دور تھا جس نے بعد میں ترکیہ کے آئینی نظام میں بڑی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی۔
2017 کے آئینی ریفرنڈم کے ذریعے ترکیہ نے پارلیمانی نظام کو خیرباد کہہ کر صدارتی نظام اختیار کر لیا۔ وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور بیشتر انتظامی اختیارات براہِ راست صدر کے پاس منتقل ہو گئے۔ اس تبدیلی نے صدر اردوان کو ملکی تاریخ کے طاقتور ترین رہنماں میں شامل کر دیا۔
اب کابینہ کی تشکیل، اعلی تقرریاں، انتظامی فیصلے اور کئی اہم ریاستی معاملات صدارتی اختیار کے تحت آگئے۔
حامی حلقوں کے نزدیک اس نئے نظام نے فیصلہ سازی کو تیز، ریاست کو مضبوط اور سیاسی عدم استحکام کو کم کیا۔ ان کا استدلال ہے کہ ترکیہ کو دہشت گردی، سرحدی خطرات، شام کی خانہ جنگی، مہاجرین کے بحران اور معاشی دبا جیسے چیلنجز کا سامنا تھا، جن سے نمٹنے کے لیے مضبوط قیادت ناگزیر تھی۔
دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ صدارتی نظام نے اختیارات کا توازن متاثر کیا، پارلیمنٹ اور عدلیہ کا کردار محدود ہوا اور ریاستی اداروں کی خودمختاری کمزور پڑ گئی۔ ان کے مطابق طاقت کا حد سے زیادہ ارتکاز جمہوری نگرانی کے نظام کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اختلافِ رائے کے لیے سیاسی گنجائش سکڑتی جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بغاوت کے بعد جہاں صدر اردوان کی طاقت میں اضافہ ہوا، وہیں اپوزیشن بھی پہلے سے زیادہ منظم ہو کر سامنے آئی۔ مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں نے مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کی، جس کا نتیجہ استنبول اور انقرہ جیسے بڑے شہروں میں بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن کی تاریخی کامیابی کی صورت میں نکلا۔ اکرم امام اوغلو سمیت کئی نئے رہنما قومی سطح پر ابھرے، اگرچہ ان میں سے متعدد اب بھی عدالتی مقدمات اور قانونی تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔
گزشتہ دس برسوں میں ترکیہ کی خارجہ پالیسی میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔ انقرہ نے دفاعی صنعت میں غیر معمولی سرمایہ کاری کی، مقامی ڈرون ٹیکنالوجی کو فروغ دیا اور خود کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش کی۔ شام، لیبیا، آذربائیجان، بحیرہ روم اور افریقہ میں ترکیہ کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ فعال دکھائی دیتا ہے۔ دفاعی خود انحصاری نے بھی اردوان حکومت کی سیاسی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔
اگرچہ ترکیہ نے دفاع، سفارت کاری اور علاقائی اثرورسوخ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، لیکن معاشی میدان میں اسے سخت مشکلات کا سامنا بھی رہا۔ بلند افراطِ زر، ترک لیرا کی قدر میں مسلسل کمی، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوامی زندگی کو متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں حکومت کو معاشی اصلاحات پر زیادہ توجہ دینا پڑ رہی ہے۔
جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی ترکیہ مسلسل عالمی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں اظہارِ رائے، صحافتی آزادی اور عدالتی خودمختاری کے بارے میں تحفظات ظاہر کرتی رہی ہیں، جبکہ ترک حکومت ان تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ قومی سلامتی اور ریاستی استحکام ہر چیز پر مقدم ہیں، اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کسی بھی خودمختار ریاست کا حق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بغاوت کی دسویں برسی پر بھی ترکیہ کے تمام 81 صوبوں میں کارروائیاں کی گئیں اور تقریبا ایک ہزار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اب بھی سمجھتی ہے کہ 2016 کی سازش کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور ریاستی اداروں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
دس برس بعد اگر اس واقعے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ 15 جولائی نے ترکیہ کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔ اس رات نے فوج کے روایتی سیاسی کردار کو تقریبا ختم کر دیا، مگر اس کے ساتھ ہی ریاستی طاقت کے ارتکاز، سیاسی آزادیوں اور جمہوری توازن کے بارے میں نئی بحثوں کو بھی جنم دیا۔
ترکیہ آج ایک مضبوط صدارتی نظام، فعال دفاعی صنعت، مثر خارجہ پالیسی اور طاقتور قیادت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا مضبوط ریاست اور مضبوط جمہوریت ہمیشہ ایک ہی سمت میں سفر کرتی ہیں، یا ان دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا اصل امتحان ہوتا ہے؟
15 جولائی 2016 کی رات تاریخ بن چکی ہے، مگر اس کے اثرات آج بھی ترکیہ کی سیاست، معیشت، ریاستی ڈھانچے اور عوامی سوچ میں پوری شدت سے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دہائی گزرنے کے باوجود یہ باب ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ترکیہ کی آئندہ سیاسی سمت بھی بڑی حد تک اسی سوال کے گرد گھومتی رہے گی کہ سلامتی، استحکام اور جمہوری آزادیوں کے درمیان متوازن راستہ کیسے اختیار کیا جائے۔
Blog
-

ترکیہ میں ناکام بغاوت کے دس سال: طاقت، سیاست اور جمہوریت کا بدلتا منظرنامہ ماجد علی سید
-

مشرقِ وسطی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟صبیحہ خان صبیحہ
مشرقِ وسطی کی موجودہ صورتحال پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خطے میں ایک بڑی جنگ ہوگی یا حالات جلد معمول پر آ جائیں گے، کیونکہ عالمی سیاست میں بیانات، فیصلے اور سفارتی حکمت عملیاں لمحوں میں بدل جاتی ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ پورا خطہ اس وقت بے چینی، غیر یقینی اور اضطراب کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ اس وقت مشرقِ وسطی میں صرف میزائل ہی نہیں چل رہے، بلکہ بے یقینی بھی گردش کر رہی ہے، اور بے یقینی ہمیشہ معیشت کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے ہر نیا بیان، ہر سفارتی ملاقات اور ہر فوجی نقل و حرکت عالمی منڈیوں، سرمایہ کاروں اور عام لوگوں کی دھڑکنیں تیز کر دیتی ہے۔ اسی بے یقینی نے تیل کی قیمتوں، تجارتی سرگرمیوں اور عالمی معیشت پر ایک مستقل سایہ ڈال رکھا ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ترقی پذیر ممالک تک محسوس کیے جا رہے ہیں سوال یہ ہے ؟؟کہ کیا ایران امریکہ کے مذاکرات کامیاب ہونگے امن برقرار رہے گا ؟؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے بھی خطے کی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ سخت مقف اختیار کرتے ہوئے مزید کارروائی کی بات کرتے ہیں، تو دوسری جانب مذاکرات کے دروازے بھی مکمل طور پر بند نہیں کرتے۔ یہی تضاد عالمی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھتا ہے۔ سرمایہ کار، تیل کی منڈیاں اور عام لوگ سب اسی انتظار میں ہیں کہ آنے والا لمحہ امن کا پیغام لائے گا یا ایک نئی کشیدگی کا آغاز کرے گا۔ اگرچہ جنگ کے خطرات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا،امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ کا خاتمہ اور حتمی مذاکرات تاحال غیر یقینی ہیں۔ حال ہی میں طے پانے والا سیز فائر ٹوٹ چکا ہے اور دونوں ممالک آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع کے باعث ایک بار پھر براہ راست حملوں میں الجھے ہوئے ہیں مشرق وسطی ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں تیل کے ذخائر، مذہبی اہمیت، جغرافیائی محلِ وقوع اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ یہاں ہونے والی ہر پیش رفت پوری دنیا پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جنگیں ہوں، جنگ بندی ہو، یا سفارتی مذاکرات، دنیا کی نظریں اسی خطے پر لگی رہتی ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس تمام کشمکش کے بعد مشرق وسطی کا اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھے گا؟ کیا خطے میں پائیدار امن قائم ہوگا، یا یہ تنازعات ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں؟حالیہ برسوں نے ثابت کیا ہے کہ صرف فوجی طاقت مسائل کا مستقل حل نہیں۔ ایک تنازع ختم ہونے سے پہلے دوسرا جنم لے لیتا ہے، اور سب سے زیادہ قیمت عام شہری ادا کرتے ہیں۔ ہزاروں جانیں ضائع ہوتی ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں تیل، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے سے دنیا کے غریب ممالک بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔اس خطے میں ہر ملک اپنی سلامتی، اپنے مفادات اور اپنے اتحادیوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتا ہے، جبکہ عالمی طاقتیں بھی اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے مطابق کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطی کا ہر بحران صرف علاقائی نہیں رہتا بلکہ عالمی مسئلہ بن جاتا ہے۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگیں وقتی برتری تو دلا سکتی ہیں، مگر پائیدار امن صرف مذاکرات، اعتماد سازی، انصاف اور
باہمی احترام سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ نفرت اور انتقام کا سلسلہ جتنا طویل ہوگا، اتنا ہی امن دور ہوتا جائے گا۔آج پوری دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آنے والے دنوں میں سفارت کاری غالب آتی ہے یا طاقت کی زبان۔ اگر عقل، تدبر اور مذاکرات کو ترجیح دی گئی تو مشرق وسطی صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے استحکام کی علامت بن سکتا ہے۔ لیکن اگر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو اس کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن سب متاثر ہوں گے۔شاید اسی لیے آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ مشرق وسطی کا اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس کا جواب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز، سیاسی بصیرت اور امن کو ترجیح دینے والے فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔مشرقِ وسطی میں جب بھی ایک میزائل فضا کو چیرتا ہے تو اس کی گونج صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دنیا بھر کی منڈیوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے اس حساس خطے میں ذرا سی کشیدگی پیدا ہو تو خام تیل کی قیمتیں اچھلنے لگتی ہیں، پٹرول مہنگا ہو جاتا ہے، نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مہنگائی کا ایک نیا طوفان عام آدمی کے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر میزائل کے ساتھ مہنگائی کا خطرے کا سائرن بھی بج اٹھتا ہے، جس کی سب سے زیادہ قیمت وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں رہنے والے عام شہری، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں، ایک نئی آزمائش میں مبتلا ہو جاتے ہیں جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی ہیں، مگر ان کی قیمت دنیا بھر کے عام لوگ اپنی روزی، اپنی روٹی اور اپنے بچوں کے مستقبل سے ادا کرتے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ مشرقِ وسطی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس اونٹ کی ہر کروٹ کا بوجھ آخر کب تک دنیا کا عام انسان اٹھاتا رہے گا؟ جنگ کا فیصلہ چند ایوانوں میں ہوتا ہے، مگر اس کی قیمت کروڑوں لوگ اپنی خالی جیبوں، مہنگی روٹی، بڑھتے ہوئے پٹرول، بے روزگاری اور غیر یقینی مستقبل کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ ایسا ماحول ہے جہاں معیشت مستحکم ہو، بازاروں میں اطمینان ہو، اور عام آدمی کو یہ خوف نہ ہو کہ ہزاروں میل دور چلنے والی جنگ کل اس کے گھر کے بجٹ کو تہس نہس کر دے گی۔ اگر عالمی قیادت نے اپنے اختلافات کو مذاکرات اور تدبر سے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو ہر نیا میزائل صرف ایک شہر کو نہیں، بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں خاندانوں کے معاشی سکون کو بھی نشانہ بنائے گا۔اس لیے دعا بھی یہی ہے اور ضرورت بھی کہ مشرقِ وسطی کا اونٹ ایسی کروٹ بیٹھے جو بارود نہیں، امن کا پیغام لے کر آئے؛ کیونکہ جب امن جیتتا ہے تو صرف ایک ملک نہیں، پوری انسانیت جیتتی ہے -

فیفا ورلڈکپ 2026 کی فاتح ٹیم اسپین پر ڈالروں کی بارش
نیو یارک (ویب ڈیسک )فیفا ورلڈکپ 2026 کے فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو شکست دے کر دوسری بار ورلڈکپ جیتنے والی اسپین کی ٹیم پر ڈالروں کی بارش ہوگئی۔نیویارک میں کھیلے گئے سنسنی خیز فائنل میں اسپین نے ارجنٹینا کو صفر کے مقابلےمیں 1 گول سے ہرا دیا۔کھیل کا ریگولر ٹائم بغیر کسی گول کے ختم ہوا۔ اضافی وقت کے پہلے ہاف میں بھی مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا۔پھر آیا اضافی وقت کا دوسرا اور فیصلہ کن ہاف جس کی ابتدا میں ہی اسپینش کھلاڑی فیرن ٹوریس کو گول کرنے کا موقع مل گیا جو اُنہوں نے ضائع نہیں کیا اور یوں اسپین کی ٹیم 16 برس بعد دوسری مرتبہ چیمپئن بن گئی۔ورلڈکپ جیتنے والی اسپین کی ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملی؟
ورلڈ کپ 2026 کی فاتح ٹیم اسپین کو 5کروڑ ڈالر کی انعامی رقم ملی۔ پچھلے ایڈیشن کی فاتح ٹیم کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم دی گئی تھی۔فیفا ورلڈ کپ رنر اپ ٹیم ارجنٹینا کو 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم ملی۔
اس کے علاوہ تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیم انگلینڈ کو 2 کروڑ 90 لاکھ اور چوتھے نمبر کی ٹیم فرانس کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز ملے۔
اعلامیے کے مطابق 2026 فیفا ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 65 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم تقسیم کی گئی۔
2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 44 کروڑ ڈالرز کی انعامی رقم تقسیم کی گئی تھی۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

دریاؤں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ
اسلام آ باد(ویب ڈیسک ) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 19 سے 23 جولائی کے دوران مشرقی اور مغربی دریاؤں و ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں این ڈی ایم اے نے بتایا کہ شدید مون سون اور مغربی ہوا کا طاقتور سلسلہ 20 سے 23 جولائی تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور بالائی پنجاب میں بعض مقامات پر شدید بارشوں کا باعث بنے گا۔
اتھارٹی کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور شمالی بالائی پنجاب میں فلیش سیلاب اور ہل ٹورنٹس میں طغیانی کا خدشہ ہے جبکہ دریائے چناب (مارالہ) اور دریائے جہلم (منگلا کے بالائی حصے) میں سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

کشمیر کے لوگ کشمیر کو کراچی نہیں لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں: احسن اقبال
ناروال (ویب ڈیسک )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ کشمیر کے لوگ کشمیر کو کراچی نہیں بننے دیں گے، وہ کشمیر کو لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔
نارووال میں کا ورکرز کنونشن سے خطاب میں احسن اقبال نے بلاول بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول صاحب،کشمیری آپ کی اور ہماری جماعت کی کارکردگی جانتے ہیں، لوگ جانتے ہیں کس کے دور حکومت میں کرپشن کے بازار گرم ہوتے ہیں۔
آزادکشمیر الیکشن میں ن لیگ کو ایسی شکست ہوگی کہ تاریخ یاد رکھےگی، بلاول کا مسلم لیگ ن کو چیلنج
احسن اقبال نے کہا کہ 90 فیصد پاکستان لاہور والی ترقی کو ووٹ دے گا، مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی پورے پاکستان میں مقبول ہے، مسلم لیگ (ن) پاکستان کی مضبوطی کی علامت ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےکہا تھا کہ آزادکشمیر کے انتخابات میں ن لیگ کو ایسی شکست ہوگی کہ تاریخ یاد رکھےگی، پیپلز پارٹی ہی حکومت بنائےگی، عوام نے موقع دیا تو ہر فورم پرکشمیر کی آواز بنیں گے۔
کوٹلی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت بنانےکے لیے وہ کوٹلی سے ہر سیٹ پر جیتنا چاہتے ہیں،کشمیر کا مستقبل کسی کی جیب میں نہیں بلکہ کشمیریوں کے ہاتھ میں ہے، فیصلہ کشمیرکے عوام کریں گے۔Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
ریاض (ویب ڈیسک )مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آج عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 2.77 ڈالر یا 3.14 فیصد اضافے کے ساتھ 90.87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو 11 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 15.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جو اپریل کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 2.35 ڈالر یا 2.85 فیصد اضافے کے ساتھ 84.84 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے جو 12 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
گزشتہ ہفتے ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 15.5 فیصد اضافہ ہوا تھا جو مارچ کے اوائل کے بعد سب سے زیادہ ہفتہ وار اضافہ تھا۔
دوسری جانب امریکا میں بھی پیٹرول کی ریٹیل قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد پیٹرول کی فی گیلن قیمت 4 ڈالر سے زائد ہوگئی۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا-ایران جنگ کے بعد سے امریکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے۔خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی میں کمی کا تاحال کوئی امکان نہیں اور امریکا نے گزشتہ شب بھی ایران کے خلاف حملے کیے جبکہ ایران نے خطے میں امریکی اہداف پر جوابی حملے کیے ہیں۔Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

دبئی سے آنے والی ننھی پری سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے جاں بحق
لاہور(ویب ڈیسک )دبئی سے چھٹیاں گزارنے لاہور آنے والی ننھی پری رحمین فاطمہ واٹر پارک انتظامیہ کی غفلت کے باعث سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے جاں بحق ہوگئی۔لاہور کے نجی واٹر پارک کے سوئمنگ پول میں نہانے کے دوران جاں بحق ہونے والی 9 سالہ بچی والدین کی شادی کے 9 سال بعد پیدا ہوئی اور ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔رحمین فاطمہ چھٹیاں گزارنے چند دن پہلے دبئی سے لاہور آئی تھی، کسے معلوم تھا کہ دبئی سے اپنوں کے پاس چھٹیاں گزارنے لاہور آنے والی یہ ننھی پری یوں اچانک سب کو روتا ہوا چھوڑ جائے گی۔رحمین مصری شاہ میں اپنے ننھیال آئی ہوئی تھی، 13 جولائی کو خاندان کے دیگر بچوں کے ساتھ خوشی خوشی جلو موڑ پر واقع ایک نجی سوئمنگ پول نہانے گئی۔رحمین فاطمہ دیگر بچوں کے ساتھ نہاتے نہاتے اچانک لاپتہ ہو گئی، ماموں وغیرہ نے سوئمنگ پول کی انتظامیہ کو آگاہ کیا، کافی تلاش و بسیار کے بعد اس کی لاش پول کی ڈرینیج کے تیسرے مین ہول سے ملی، ماں باپ اور خاندان کے دیگر افراد لاش دیکھ کر سکتے میں آگئے۔پولیس نے اطلاع ملتے ہی پول کے مینجر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا۔بچی کے غمزہ باپ محمد ندیم کا کہنا تھا کہ شادی کے 9 سال بعد منتوں مرادوں سے رحمین فاطمہ پیدا ہوئی اور یہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی، پول کے اسٹاف نے بچوں کے نہانے کے دوران ڈرین کھول دیئے اور وہاں کوئی حفاظتی جنگلہ بھی نہیں تھا، پول میں بچوں کے نہانے کے دوران ڈرینیج ہول کھول دینا غفلت نہیں قتل ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ سہولتکار نیٹ ورک سمیت پکڑا گیا
کراچی(ویب ڈیسک ) 27 جون کو رینجرز کیمپ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ قاری بشیر سمیت پورا سہولت کار نیٹ ورک پکڑا گیا۔
سینٹرل پولیس آفس کراچی میں وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ 27 جون کو گلستان جوہر میں واقع رینجرز کیمپ آفس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے بتایا کہ دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کرنے والے اسمگلرز بھی گرفتار کر لیے گئے ہیں اور حملوں میں شامل افغانستان اور پاکستان میں پورا نیٹ ورک بے نقاب ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خارجی دہشت گرد جانان نے رینجرز کیمپ کے دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑایا، باقی 3 دہشت گرد اندر داخل ہوئے، حملہ کرنے والا ایک دہشت گرد باجوڑ کا رہنے والا اور تین افغان شہری تھے، چاروں دہشت گردوں کو تربیت، اسلحہ اور بارود افغانستان سے فراہم کیا گیا۔
حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو ہینڈلر افغان سرزمین سے ہدایات دے رہے تھے، گرفتار سہولت کاروں کی بھارتی پراکسی جماعت الاحرا کے ٹریننگ کیمپ میں حملے کی تیاری اور بیان ریکارڈ کرانے کی ویڈیو بھی برآمد کی گئی ہیں۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار دہشت گرد عثمان نے دوران تفتیش مختلف تربیتی کیمپس میں تربیت حاصل کرنے کا اعتراف کیا، جبکہ حملے میں ملوث چار دہشت گرد افغانستان سے کراچی پہنچے اور انہیں حب چوکی سے کورنگی منتقل کرکے ایک گھر میں ٹھہرایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ محمد بشیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، بعض سہولت کاروں کے روابط بھارت سے ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کا حملہ، ایک سکیورٹی اہلکار شہید
پشاور (ویب ڈیسک )کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کے راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملے میں ایک رینجرز اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ذرائع کے مطابق آج صبح مسلح جتھوں نے متیال میرہ بس ٹرمینل راولاکوٹ کے قریب شہری آبادی پر فائرنگ کی، پولیس نے امن وامان کی صورتحال کنٹرول کرنےکے لیے پیش قدمی کی توپولیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ پولیس کی مدد کے لیےتعینات رینجرز کی نفری صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے موقع پر پہنچی، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

کراچی میں آج تیز ہوائیں چلنے اور بونداباندی کا امکان
کراچی (ویب ڈیسک )محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں تیز ہوائیں چلنے اور کہیں کہیں بوندا باندی کا امکان ظاہر کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی طور پر ابر آلود اور موسم مرطوب رہنے کا امکان ہے، اس دوران شہر میں تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے اور کہیں کہیں بونداباندی بھی ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہےجبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 28.5 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 78فیصد ہے اور سمندری ہوائیں18کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے