Blog

  • کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر  ہوتی جا رہی ہے؟

    کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے؟

    برلن(ویب ڈیسک ) مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی معروف امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے دو جدید ترین اے آئی ماڈلز نے ایک داخلی سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران غیر معمولی خودمختاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل کر ایک دوسری اے آئی کمپنی ہگنگ فیس کے سرورز تک رسائی حاصل کر لی۔ GeographicReference
    اوپن اے آئی کے مطابق یہ واقعہ ایک داخلی سائبر سیکیورٹی مشق کے دوران پیش آیا، جس کا مقصد جدید اے آئی ماڈلز کی سائبر صلاحیتوں کا جائزہ لینا تھا۔ تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دوران ایک خودکار اے آئی ایجنٹ نے توقع سے زیادہ پیچیدہ اقدامات کیے۔
    کمپنی کے مطابق یہ خودکار ایجنٹ، جو نئے متعارف کرائے گئے GPT-5.6 Sol اور ایک مزید جدید لیکن تاحال غیر اعلانیہ ماڈل پر مبنی تھا، ٹیسٹ ماحول سے نکل کر کھلے انٹرنیٹ تک پہنچ گیا۔
    اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اے آئی ایجنٹ نے مبینہ طور پر حاصل کیے گئے لاگ اِن معلومات اور ایک نامعلوم سیکیورٹی خامی کا استعمال کرتے ہوئے ہگنگ فیس کے سرورز تک رسائی حاصل کی۔
    کمپنی نے اس واقعے کو ایک غیر معمولی سائبر واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی ایجنٹ نے ٹیسٹ کے مقاصد پورے کرنے کے لیے انتہائی پیچیدہ اور غیر متوقع طریقہ اختیار کیا۔
    ہگنگ فیس کے شریک بانی کلیمنٹ ڈیلانگ نے کہا کہ انہیں پہلے ہی شبہ تھا کہ اس کارروائی کے پیچھے کسی جدید اے آئی لیب کا ماڈل ہو سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق انہیں یقین ہے کہ اوپن اے آئی کی جانب سے کوئی بدنیتی نہیں تھی۔
    انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ حیران کن ہے کیونکہ تمام کارروائی خودکار انداز میں انجام دی گئی اور ممکن ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا واقعہ ہو۔
    امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ رکن گریگ کاسر نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت انتہائی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جبکہ اس کے لیے مؤثر قوانین اور حفاظتی ضوابط ابھی تک موجود نہیں۔ GeographicReference
    انہوں نے مطالبہ کیا کہ جدید اے آئی سسٹمز کی لازمی آزادانہ سیکیورٹی جانچ، سیکیورٹی واقعات کی لازمی رپورٹنگ اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ ضابطہ سازی کی ضرورت ہے۔
    یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے قومی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا۔
    دوسری جانب سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے ماہرین کافی عرصے سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ مستقبل میں اے آئی پر مبنی سائبر حملوں اور انسانی نگرانی سے باہر جانے والے خودکار نظام عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • فلسطینی بچوں میں چکن پاکس کے کیسز میں مسلسل اضافہ

    فلسطینی بچوں میں چکن پاکس کے کیسز میں مسلسل اضافہ

    نیویارک (ویب ڈیسک )اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں بے گھر فلسطینی بچوں میں چکن پاکس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً 9300 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں سے نصف سے زائد خان یونس میں سامنے آئے۔
    اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق بے گھر افراد کے کیمپوں میں گنجان آبادی، کچرے کے ڈھیر، صاف پانی کی محدود دستیابی اور سیوریج کے نظام کی تباہی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں، جس کے باعث چکن پاکس اب ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
    رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں سانس اور جلد کی بیماریاں اب بھی سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے طبی مسائل ہیں جبکہ آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر خان یونس کے علاقے میں۔ Wildlife
    اقوامِ متحدہ کے مطابق گزشتہ ہفتے چکن پاکس، بیرونی جلدی طفیلی انفیکشن اور امپیٹیگو سمیت مختلف جلدی بیماریوں کے 18 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ غزہ کا صحت کا نظام جنگ کے باعث شدید متاثر ہوا ہے، جہاں اسپتالوں اور طبی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت بھی برقرار ہے۔
    فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 73 ہزار 250 فلسطینی جاں بحق اور 1 لاکھ 73 ہزار 751 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ علاقے کے تقریباً 90 فی صد شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • فائنل کے بعد ہنگامہ آرائی، ارجنٹینا کیخلاف تحقیقات شروع

    فائنل کے بعد ہنگامہ آرائی، ارجنٹینا کیخلاف تحقیقات شروع

    نیویارک(ویب ڈیسک ) فیفا نے اسپین کے خلاف ورلڈ کپ فائنل میں شکست کے بعد ہنگامہ خیز واقعات پر ارجنٹینا کے خلاف باضابطہ انضباطی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔عالمی فٹبال تنظیم (فیفا) نے ایک ڈسپلنری اور اخلاقیاتی پراسیکیوٹر مقرر کیا ہے جو فائنل کی سیٹی بجنے کے بعد پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لے گا۔تحقیقات کے نتیجے میں ملوث کھلاڑیوں یا کوچنگ اسٹاف پر پابندی جبکہ ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
    ورلڈ کپ فائنل میں اسپین نے ارجنٹینا کو 0-1 سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا جس کے بعد دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد دھکم پیل دیکھنے میں آئی۔رپورٹس کے مطابق نہوئل مولینا، لیاندرو پاریدیس، تھیاغو المادا اور معاون کوچ روبرٹو ایالا اس تنازع کا حصہ تھے۔فیفا نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ ابتدائی طور پر پاریدیس کے ریڈ کارڈ کی اطلاع دی گئی تھی تاہم بعد میں اسے ریکارڈ سے ہٹا دیا گیا اور اس وقت ان کے خلاف کوئی فوری تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔اس سے قبل ارجنٹینا کے اینزو فرنانڈیز کو دو پیلے کارڈز کے باعث میدان سے باہر بھیجا گیا تھا۔فیفا پہلے ہی ارجنٹینا کے خلاف ایک اور معاملے کی بھی جانچ کر رہا ہے جس میں سیمی فائنل میں انگلینڈ کو شکست دینے کے بعد کھلاڑیوں نے فاک لینڈ جزائر سے متعلق سیاسی بینر اٹھایا تھا۔ماضی میں بھی ارجنٹینا کی ٹیم کو نامناسب رویے اور متنازع جشن منانے پر جرمانوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔ فیفا کے قوانین کے تحت اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کھلاڑیوں یا آفیشلز نے کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا یا شائستگی کے اصولوں کی خلاف ورزی کی تو ان پر عالمی سطح پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • گزشتہ 2 ہفتوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے، پینٹاگون

    گزشتہ 2 ہفتوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے، پینٹاگون

    واشنگٹن(ویب ڈیسک ) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ 2 ہفتوں سے جاری ایران جنگ میں تقریباً 100 فوجی زخمی ہوئے۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا ہے کہ 7 جولائی سے اب تک تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف نوعیت کے زخم آئے ۔انہوں نے ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ ان میں سے 96 فیصد زخمی فوجی ڈیوٹی پر واپس آچکے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکا نے جمعہ کو ایرانی حملے سے ہلاک 2 فوجیوں کی شناخت ظاہر کی ہے۔اس سے پہلے پینٹاگون نے صرف اتنا بتایا تھا کہ 28 فروری سے اب تک 14 فوجی ہلاک اور 427 زخمی ہوئے ہیں۔
    واضح رہے کہ شمالی عراق اور اردن میں امریکی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں میں ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج اردن میں ایرانی حملے کے مقام سے ملنے والے کچھ ناقابل شناخت جسمانی اعضا کا جائزہ لے رہی ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔امریکا ایرانی حملوں میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف پہلے ہی کرچکا، ایک امریکی فوجی لاپتہ ہے۔گزشتہ روز امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی اہلکار 18 جولائی کو کارروائی کے دوران ہلاک ہواس سے پہلے ہفتے کو اردن پر ایران کے میزائل حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتا ہو گیا تھا جب کہ چار امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • جماعت اسلامی کا مہنگائی کیخلاف ملک بھر کی شاہراہیں بند کرنے کا اعلان

    جماعت اسلامی کا مہنگائی کیخلاف ملک بھر کی شاہراہیں بند کرنے کا اعلان

    لاہور (ویب ڈیسک )جماعت اسلامی نے مہنگائی کے خلاف تحریک چلانے اور 7 اگست کو ملک بھر کی شاہراہیں بند کرنے کا اعلان کردیا۔
    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کا اوگرا سے کیا تعلق ہے؟ طالب علم کی آمدنی پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، اس سےبھی پٹرولیم لیوی لی جارہی ہے۔
    حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت بھتا لیوی لگا رہی ہے، یہ جگا ٹیکس ہے، اسےکسی صورت قبول نہیں کیاجاسکتا، سب کو بتائیں گے کہ حکمران طبقہ کیسے عوام کے پیسوں پر ڈاکا ڈال رہاہے، ہم سب سے رابطہ کریں گے اور سب کو ایک پیج پر لائیں گے۔
    انہوں نے کہا کہ جھوٹ بول کر عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے، لیوی سے اٹھارہ سو ارب روپے جمع کیے جا رہے ہیں، پیٹرول لیوی اور ناجائز ٹیکسز ختم کر دیے جائیں تو پیٹرول کی قیمت 200 روپے کم ہو جائے گی۔حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ 7 اگست کو پورے پاکستان کی شاہراہوں کو بند کریں گے، صرف ایمبولنس کو راستہ دیں گے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • 10 ویں جماعت کے طالب علم کا ٹیچر پر اسکرو ڈرائیور سے حملہ، ٹیچر شدید زخمی

    10 ویں جماعت کے طالب علم کا ٹیچر پر اسکرو ڈرائیور سے حملہ، ٹیچر شدید زخمی

    ممبی (ویب ڈیسک )بھارت میں 10ویں جماعت کے طالب علم نے استاد پر اسکرو ڈائیور سے حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست ہریانہ کے گاؤں میں واقع سرکاری اسکول میں پیش آیا۔اسکول کے پرنسپل پرتاپ چکرورتی نے بتایا کہ ٹیچر سنیل بیرت 10 ویں جماعت میں اپنی کلاس لے رہے تھے، سنیل طلبہ کا ہوم ورک چیک کر رہے تھے کہ ایک طالب علم پیچھے سے آیا اور اسکرو ڈرائیور سے حملہ آور ہوگیا۔پرنسپل کے مطابق طالب علم نے سنیل کی گردن پر کئی وار کیے جس سے وہ بری طرح زخمی ہوگئے اور پھر انہیں فوری اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ طالب علم موقع سے فرار ہوگیا۔پولیس کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے جانچ کی جارہی ہے اور کلاس روم سے شواہد بھی اکٹھے کیے جارہے ہیں تاہم ابتدائی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ طالب علم اسکول کی جانب سے کیمپس میں موبائل فون لانے پر عائد پابندی کی وجہ سے نا خوش تھا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کوئٹہ کے نجی اسپتال میں خاتون کے ہاں پانچ بچوں کی ولادت

    کوئٹہ کے نجی اسپتال میں خاتون کے ہاں پانچ بچوں کی ولادت

    کوئٹہ (ویب ڈیسک )کوئٹہ کے نجی اسپتال میں خاتون نے بیک وقت پانچ بچوں کو جنم دیا ہےاسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خاتون کے ہاں بیک وقت 5 بچوں کی ولادت ہوئی، نوزائیدگان میں 3 بچیاں اور 2 بچے شامل ہیں، والدہ اور بچے صحتمند ہیں۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق والدہ اور بچوں کو خصوصی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔کوئٹہ کے رہائشی جوڑے کے پہلے سے تین بچے تھے، اب 5 بچوں کی ولادت کے بعد ان کے بچوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے؟شیخ راشد عالم

    طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے؟شیخ راشد عالم

    کیا اکیسویں صدی “ایشیائی صدی” ثابت ہوگی یا دنیا ایک نئے عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟
    ایک وقت تھا جب دنیا کا نقشہ لندن، پیرس اور واشنگٹن کی میزوں پر بنتا تھا۔ عالمی معیشت، سیاست، جنگ، امن، تجارت اور ٹیکنالوجی کے فیصلے مغربی طاقتیں کرتی تھیں اور باقی دنیا ان فیصلوں کے اثرات قبول کرنے پر مجبور ہوتی تھی۔ لیکن اب منظر بدل رہا ہے۔ خاموشی سے، مگر انتہائی تیزی کے ساتھ۔
    آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقت کا مرکز آہستہ آہستہ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آ رہی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس تبدیلی کی رفتار کیا ہوگی اور اس کے اثرات دنیا پر کتنے گہرے ہوں گے۔
    یہ تبدیلی اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی معاشی منصوبہ بندی، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور عالمی تجارت کے نئے راستے ہیں۔
    دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرا۔ یورپ نے بھی اپنی تباہ حال معیشت کو دوبارہ کھڑا کیا۔ عالمی مالیاتی ادارے، اقوام متحدہ، عالمی بینک، آئی ایم ایف اور عالمی تجارتی نظام سب بڑی حد تک مغربی قیادت کے زیر اثر رہے۔ دنیا کا ڈالر پر انحصار بڑھتا گیا اور امریکہ عالمی معیشت کا محور بن گیا۔
    لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔
    چین نے خاموشی سے وہ کام کیا جسے دنیا نے ابتدا میں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایک زرعی معیشت سے دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت بننے تک کا سفر صرف چند دہائیوں میں طے کیا گیا۔ آج دنیا کی بے شمار مصنوعات “میڈ اِن چائنا” ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، چین اب صرف فیکٹری نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں، خلائی تحقیق، سیمی کنڈکٹرز، فِن ٹیک اور جدید انفراسٹرکچر میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔
    اسی دوران بھارت بھی خاموشی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ آئی ٹی، فارماسیوٹیکل، خلائی پروگرام، اسٹارٹ اپ کلچر اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت نے اسے عالمی طاقتوں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ کئی عالمی کمپنیاں اپنی سپلائی چین کا رخ چین کے ساتھ ساتھ بھارت، ویتنام اور دیگر ایشیائی ممالک کی طرف بھی موڑ رہی ہیں۔
    جاپان اور جنوبی کوریا پہلے ہی ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام ہیں۔ سنگاپور، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویتنام بھی عالمی سرمایہ کاری کے اہم مراکز بنتے جا رہے ہیں۔
    گویا ایشیا اب صرف آبادی کا نہیں بلکہ سرمایہ، صنعت، ٹیکنالوجی اور تجارت کا بھی مرکز بنتا جا رہا ہے۔
    دوسری طرف مغرب کو ایسے چیلنجز درپیش ہیں جو پہلے کبھی اس شدت سے سامنے نہیں آئے تھے۔
    امریکہ کو بڑھتے ہوئے قومی قرضے، سیاسی تقسیم، صنعتی نقل مکانی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا ہے۔ یورپ کو توانائی کے بحران، مہنگائی، عمر رسیدہ آبادی، ہجرت اور روس۔یوکرین جنگ کے بعد نئے معاشی دباو کا سامنا کرنا پڑا۔
    اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مغرب ختم ہو رہا ہے۔ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت، سب سے بڑی اختراعی معیشت اور عالمی مالیاتی نظام کا اہم ستون ہے۔ یورپی یونین بھی ٹیکنالوجی، تعلیم اور تحقیق میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
    اصل تبدیلی طاقت کے خاتمے کی نہیں بلکہ طاقت کی تقسیم کی ہے۔
    اب دنیا یک قطبی نہیں رہی۔ نہ ہی مکمل طور پر دو قطبی ہے۔ بلکہ ایک ایسی کثیر قطبی دنیا تشکیل پا رہی ہے جہاں کئی طاقتیں مختلف شعبوں میں اثر انداز ہوں گی۔
    اسی لیے چین کا “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” صرف سڑکوں اور بندرگاہوں کا منصوبہ نہیں بلکہ عالمی اثرورسوخ کی نئی حکمت عملی بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درجنوں ممالک کو تجارتی راہداریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
    دوسری جانب امریکہ بھی خاموش تماشائی نہیں۔ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئی معاشی اور دفاعی شراکت داریاں قائم کر رہا ہے تاکہ بحرالکاہل اور ایشیا میں اپنا اثر برقرار رکھ سکے۔
    روس بھی اس نئی عالمی صف بندی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ اسے مغربی پابندیوں کا سامنا ہے، لیکن اس نے توانائی، دفاع اور سفارتی تعلقات کے ذریعے ایشیا، مشرق وسطی اور افریقہ میں اپنے روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔
    اسی دوران برکس (BRICS) جیسے اتحاد بھی عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ کئی ترقی پذیر ممالک اس پلیٹ فارم کو مغربی مالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مقامی کرنسیوں میں تجارت، نئے ترقیاتی بینک اور معاشی تعاون جیسے اقدامات عالمی نظام میں نئی بحث چھیڑ رہے ہیں۔
    ٹیکنالوجی بھی اس عالمی تبدیلی کا اہم میدان بن چکی ہے۔
    اب جنگیں صرف بارود سے نہیں بلکہ چِپس، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، ڈیٹا، سیٹلائٹس اور سائبر صلاحیتوں سے بھی لڑی جا رہی ہیں۔ جو ملک ٹیکنالوجی پر برتری حاصل کرے گا، مستقبل کی عالمی سیاست میں بھی اسی کا وزن زیادہ ہوگا۔
    یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر مقابلہ روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے۔
    اس سارے منظرنامے میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
    یہ وہ سوال ہے جس کا جواب صرف سفارت کاری میں نہیں بلکہ قومی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔
    پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں چین، بھارت، روس، وسطی ایشیا، خلیجی ممالک اور مشرق وسطی ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ جغرافیہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے معاشی طاقت میں تبدیل کیا جائے۔

    اگر پاکستان سیاسی استحکام، معاشی اصلاحات، معیاری تعلیم، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دے تو وہ اس بدلتی عالمی معیشت کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر داخلی سیاسی کشمکش، غیر یقینی پالیسیوں اور کمزور معاشی فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ تاریخی موقع ہاتھ سے نکل بھی سکتا ہے۔
    دنیا کی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ عالمی طاقت صرف فوج سے نہیں بنتی۔ معیشت، علم، تحقیق، صنعت، اختراع، مضبوط ادارے اور سیاسی استحکام ہی کسی قوم کو دیرپا عالمی مقام دلاتے ہیں۔
    آج ایشیا کی کئی معیشتیں اسی اصول پر آگے بڑھ رہی ہیں۔
    شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا اب “ایشین سنچری” یعنی ایشیائی صدی کی بات کر رہی ہے۔
    تاہم ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طاقت کی منتقلی کبھی آسان نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ایک بڑی طاقت کی جگہ دوسری طاقت ابھرتی ہے تو عالمی کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ تجارتی جنگیں، سفارتی محاذ آرائیاں، دفاعی اتحاد اور پراکسی تنازعات اسی عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔
    اس لیے آنے والے برسوں میں دنیا کو مقابلے اور تعاون، دونوں کا امتزاج دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کہیں اقتصادی شراکت داری ہوگی تو کہیں ٹیکنالوجی پر پابندیاں۔ کہیں مشترکہ منصوبے ہوں گے تو کہیں جغرافیائی سیاست نئی صف بندیاں پیدا کرے گی۔
    طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونے کا عمل محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عالمی معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری میں نظر آنے والی ایک حقیقت ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغرب کا دور ختم ہو گیا ہے، بلکہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت پہلے کی نسبت زیادہ تقسیم شدہ ہوگی۔
    پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ تبدیلی ایک آزمائش بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی۔ اگر ہم درست سمت کا انتخاب کریں، داخلی استحکام پیدا کریں اور علم، معیشت اور ٹیکنالوجی کو اپنی قومی ترجیح بنائیں تو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں ایک باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ ورنہ تاریخ ایک بار پھر ہمارے سامنے سے گزر جائے گی، اور ہم صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔

  • فارم ہاوسز شہریوں کے لیے تفریح نہیں، قبرستان بنتے جا رہے ہیں..نشید آفاقی

    فارم ہاوسز شہریوں کے لیے تفریح نہیں، قبرستان بنتے جا رہے ہیں..نشید آفاقی

    گندے سوئمنگ پول، نگلیریا کا خوف، ایس او پیز صرف کاغذوں تک محدود… آخر معصوم جانوں کا حساب کون دے گا؟
    گرمی کی شدت بڑھتے ہی ہزاروں خاندان سکون اور تفریح کی تلاش میں فارم ہاوسز کا رخ کرتے ہیں۔ والدین بچوں کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں۔ نوجوان دوستوں کے ساتھ تفریح کے لئے نکلتے ہیں۔ کوئی سالگرہ مناتا ہے، کوئی فیملی گیٹ ٹوگیدر کرتا ہے، کوئی ویک اینڈ انجوائے کرنے جاتا ہے۔ مگر افسوس بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ جن سوئمنگ پولز میں وہ خوشیاں تلاش کر رہے ہیں، وہی پول بعض اوقات موت بھی بن سکتے ہیں۔
    یہ صرف پانی نہیں، یہ ایک ایسا خطرہ بھی ہو سکتا ہے جو آنکھ سے نظر نہیں آتا، مگر چند دنوں میں ایک ہنستا بستا گھر اجاڑ دیتا ہے۔
    ہر سال نگلیریا جیسے مہلک جرثومے کا نام خبروں کی زینت بنتا ہے۔ کسی نوجوان کی موت، کسی بچے کی زندگی ختم، کسی خاندان کا چراغ گل۔ چند دن شور مچتا ہے، بیانات آتے ہیں، احتیاطی ہدایات جاری ہوتی ہیں، اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ اگلے موسم گرما میں وہی کہانی نئے کرداروں کے ساتھ دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
    سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟
    کیا انسانی جان کی قیمت صرف ایک پریس ریلیز رہ گئی ہے؟
    کیا حکومت کا کام صرف عوام کو مشورے دینا ہے یا ان کی جان و مال کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داری ہے؟
    بدقسمتی سے ہمارے ہاں فارم ہاوس کلچر تیزی سے پھیل رہا ہے، مگر اس کے ساتھ حفاظتی نظام اسی رفتار سے نہیں بڑھا۔ سینکڑوں فارم ہاوسز اور نجی سوئمنگ پولز کام کر رہے ہیں، لیکن کتنے ایسے ہیں جہاں پانی کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ ہوتی ہے؟ کتنی جگہوں پر کلورین کی مقدار روزانہ چیک کی جاتی ہے؟ کتنے پولز کا ریکارڈ موجود ہے؟ کتنے فارم ہاوسز کا باقاعدہ سرکاری معائنہ کیا جاتا ہے؟
    یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ڈھونڈنے والا شاید ہی کوئی ہو۔
    کاغذوں میں یقینا ایس او پیز موجود ہوں گے۔ قوانین بھی ہوں گے۔ ہدایات بھی جاری ہوتی ہوں گی۔ مگر اگر ان پر عمل درآمد نہ ہو تو قانون صرف ایک فائل بن کر رہ جاتا ہے۔
    اصل المیہ یہی ہے۔
    اگر کسی ریسٹورنٹ میں صفائی نہ ہو تو کارروائی ہو جاتی ہے۔ اگر کسی دکان میں غیر معیاری اشیا فروخت ہوں تو جرمانہ لگ جاتا ہے۔ مگر جہاں سینکڑوں لوگ ایک ہی پانی میں نہاتے ہیں، وہاں نگرانی کا نظام اتنا کمزور کیوں ہے؟
    کیا کسی سرکاری ادارے نے یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ موسم گرما شروع ہونے سے پہلے تمام سوئمنگ پولز کا معائنہ کرے؟
    کیا کسی نے یہ دیکھا کہ پانی تبدیل کب ہوا؟
    کیا فلٹریشن سسٹم چل بھی رہا ہے یا صرف دکھاوے کے لیے لگا ہوا ہے؟
    کیا جراثیم کش ادویات مقررہ مقدار میں استعمال ہو رہی ہیں؟
    اگر ان سوالوں کا جواب “نہیں” ہے تو پھر خطرہ صرف نگلیریا تک محدود نہیں رہتا۔ جلدی بیماریاں، آنکھوں کے انفیکشن، کان کی بیماریاں، معدے اور آنتوں کے انفیکشن سمیت متعدد مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
    اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سب قابلِ روک تھام ہے۔
    یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔
    یہ کوئی ناقابلِ علاج بیماری نہیں۔
    یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے بروقت نگرانی، باقاعدہ صفائی، پانی کے معیار کی جانچ اور سخت قانونی عمل درآمد سے بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
    لیکن شاید انسانی جان کی اہمیت ہمارے نظام میں آخری درجے پر آ چکی ہے۔
    ہر حادثے کے بعد ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے: “تحقیقات کی جائیں گی۔”
    یہ تحقیقات آخر کہاں جاتی ہیں؟
    کبھی کسی فارم ہاوس کا لائسنس مستقل منسوخ ہوا؟
    کبھی کسی غفلت کے ذمہ دار کو مثال بنایا گیا؟
    کبھی عوام کو بتایا گیا کہ کون سے فارم ہاوسز حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتے؟
    خاموشی… صرف خاموشی۔
    یہ خاموشی ہی اصل المیہ ہے۔
    ایک ماں اپنے بچے کو خوشی دینے کے لیے فارم ہاوس لے جاتی ہے۔ اسے کیا معلوم کہ جس پانی میں اس کا بچہ کھیل رہا ہے، وہ پانی صاف بھی ہے یا نہیں۔ ایک باپ اپنے خاندان کے ساتھ چند خوشگوار لمحے گزارنے جاتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ اس جگہ کی آخری بار صفائی کب ہوئی تھی۔
    عام شہری کے پاس نہ لیبارٹری ہے، نہ ٹیسٹنگ کٹ، نہ تکنیکی علم۔
    اسے تو صرف یہ یقین ہوتا ہے کہ جس جگہ عوام سے پیسے لیے جا رہے ہیں، وہاں بنیادی حفاظتی انتظامات ضرور ہوں گے۔
    اگر یہ یقین بھی ٹوٹ جائے تو پھر عوام کس پر اعتماد کریں؟
    یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ فارم ہاوس مالکان کی بھی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ منافع کمانے سے پہلے انسانی جان کی حفاظت کو مقدم رکھیں۔
    جو شخص ٹکٹ فروخت کر کے لوگوں کو سوئمنگ پول میں اتارتا ہے، اس پر لازم ہے کہ پانی محفوظ ہو۔

    صفائی صرف دیواروں اور لان کی نہیں، پانی کی بھی ہونی چاہیے۔
    بدقسمتی سے بعض مقامات پر خوبصورت سجاوٹ، رنگ برنگی لائٹس اور مہنگا فرنیچر تو نظر آتا ہے، مگر پانی کی صفائی پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جس کی ضرورت ہے۔
    یہ کاروبار نہیں، امانت ہے۔
    اور انسانی جان سے بڑی کوئی امانت نہیں۔
    اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت صرف ہدایات جاری کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ ایک موثر نظام قائم کرے۔
    ہر فارم ہاوس اور ہر تجارتی سوئمنگ پول کی لازمی رجسٹریشن ہو۔
    باقاعدہ انسپکشن کا شیڈول ہو۔
    پانی کے معیار کی باقاعدہ لیبارٹری جانچ لازم قرار دی جائے۔
    ہر پول کے باہر آخری معائنے اور پانی کی جانچ کی تاریخ واضح طور پر آویزاں کی جائے۔
    جو ادارہ قواعد پر عمل نہ کرے، اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے۔
    صرف جرمانے کافی نہیں، کیونکہ جرمانہ ادا کر کے کاروبار دوبارہ شروع ہو جاتا ہے، مگر اگر ایک جان چلی جائے تو وہ کبھی واپس نہیں آتی۔
    ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ احتیاط صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، عوام کی بھی ہے۔
    اگر پانی گدلا نظر آئے، اگر صفائی مشکوک ہو، اگر کلورین کی شدید یا بالکل نہ ہونے والی بو محسوس ہو، اگر انتظامیہ سوالوں کا جواب نہ دے، تو ایسے پول میں داخل ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
    چند گھنٹوں کی تفریح پوری زندگی کے غم میں تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔
    آخر میں ایک سوال ہر ذمہ دار ادارے، ہر فارم ہاوس مالک اور ہر متعلقہ افسر کے لیے چھوڑنا چاہتا ہوں۔
    جب ایک معصوم بچہ، ایک نوجوان یا ایک شہری مشتبہ آلودہ پانی میں نہانے کے بعد جان کی بازی ہار دیتا ہے، تو اس کے والدین کے آنسووں کا حساب کون دے گا؟
    کیا صرف تعزیتی بیان کافی ہے؟
    کیا ایک اور انکوائری کافی ہے؟
    کیا ایک اور موسم گرما اسی طرح گزر جائے گا؟
    یا پھر اس بار واقعی کوئی ایسا نظام بنایا جائے گا جو انسانی جان کو کاروباری مفاد سے زیادہ اہمیت دے؟
    کیونکہ یاد رکھیے…
    صاف پانی صرف سہولت نہیں، زندگی ہے۔
    اور جب صفائی کا نظام مر جائے تو پھر پانی نہیں، موت تیرتی ہے۔

  • سفر عزم کی روداد…تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

    سفر عزم کی روداد…تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

    نیشنل میڈیافاونڈیشن کے وفد کا سندھ اور پنجاب کا دورہ
    دورانِ سفر انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ سفر انسان کا بہترین استاد ہے۔ یہ نہ صرف نئی جگہوں، ثقافتوں اور لوگوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ انسان کی سوچ، برداشت اور تجربات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ہر سفر زندگی کا ایک نیا سبق دے کر انسان کو زیادہ باشعور، خوداعتماد اور وسیع النظر بنا دیتا ہے۔ بعض سفر صرف تفریح کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ سفر خدمت، مقصد اور عزم کی تکمیل کے لیے کیے جاتے ہیں۔ نیشنل میڈیا فاونڈیشن کا حالیہ دورہ بھی اسی نوعیت کا ایک بامقصد سفر تھا۔7 جولائی کو چیئرمین محمد علی کی قیادت میں نیشنل میڈیا فاونڈیشن کا چار رکنی وفد پنجاب کے دورے پر روانہ ہوا۔ پہلا پڑا سکھر تھا، جو دریائے سندھ کے کنارے آباد سندھ کا ایک تاریخی اور تجارتی شہر ہے اور اپنی مشہور لینس ڈان برج اور سکھر بیراج کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہاں ڈپٹی کمشنر سے ٹریننگ سینٹر کے لیے پلاٹ اور تنظیمی دفتر کے قیام پر مثبت گفتگو ہوئی، جبکہ سکھر چیمبر آف کامرس میں نعمان آرائیں نے پرتپاک استقبال کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
    اس کے بعد وفد ملتان پہنچا، جسے اولیائے کرام کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر اپنی صوفیانہ روایات، مزارات، دستکاری اور قدیم تہذیب کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں معروف شاعرہ، نعت خواں اور سماجی کارکن تانیہ عابدی نے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا اور ملتان میں ادبی سرگرمیوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ملتان سے وفد لاہور پہنچا، جو پاکستان کا ثقافتی اور تاریخی دل سمجھا جاتا ہے۔ لاہور اپنی علمی، ادبی اور سیاسی اہمیت کے ساتھ ساتھ بادشاہی مسجد، لاہور قلعہ، مینارِ پاکستان اور شالیمار باغ جیسے تاریخی مقامات کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں معروف ہے۔ یہاں اسپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات میں نیشنل میڈیا فاونڈیشن کی خدمات کو سراہا گیا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اسی طرح لاہور چیمبر آف کامرس کے میڈیا ایڈوائزر تیمور صاحب نے بھی تنظیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مستقبل میں مکمل تعاون کا وعدہ کیا۔
    واپسی پر وفد نے صادق آباد میں قیام کیا، جو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کا ایک اہم زرعی اور تجارتی شہر ہے اور جنوبی پنجاب کا اہم داخلی راستہ بھی شمار ہوتا ہے۔ یہاں پریس کلب میں چیئرمین محمد فرحان اقبال اور مقامی صحافیوں نے وفد کا شاندار استقبال کیا۔ صحافیوں کے مسائل، تنظیمی امور اور مستقبل کے لائح عمل پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ نیشنل میڈیا فاونڈیشن نے صحافی برادری کے حقوق کے لیے اپنی بھرپور جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔صادق آباد میں صبح معروف ایڈوکیٹ زاہد سعید نے شاندار ناشتہ کرایا اور اسکے بعد ہم پنجاب سے روانہ ہوئے۔اس وفد میں چیئرمین محمد علی، سینئر وائس چیئرمین احمد دراز خان، وائس چیئرپرسن عظمی کمال اور پی آر او فرحانہ اشرف شامل تھیں۔دورے کے اختتام پر نیشنل میڈیا فاونڈیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ کے لائح عمل کا جائزہ لیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ اگست میں تنظیم کا وفد ملک بھر کا دورہ کرے گا تاکہ صحافیوں کو درپیش مسائل، بے روزگاری، بچوں کی تعلیم و تربیت اور طبی سہولیات کے حوالے سے
    عملی اقدامات کو مزید مثر بنایا جا سکے۔
    اس پورے سفر کے دوران میرا ذاتی مشاہدہ یہ رہا کہ کراچی کے مقابلے میں دیگر شہروں کے لوگ زیادہ مہمان نواز، خلوص رکھنے والے اور محبت سے پیش آنے والے محسوس ہوئے۔ ان کی عزت افزائی، اپنائیت اور تعاون نے اس سفر کو نہ صرف کامیاب بلکہ ناقابلِ فراموش بنا دیا۔ یہی جذب محبت اور باہمی احترام پاکستان کی اصل خوبصورتی ہے۔