Blog

  • بھارتی نیوز چینلز ہیک، صدر کی تقریر کے دوران پاکستانی قومی ترانہ نشر

    بھارتی نیوز چینلز ہیک، صدر کی تقریر کے دوران پاکستانی قومی ترانہ نشر

    ممبی (ویب ڈیسک )ہیکرز نے بھارتی نیوز چینلز کو ہیک کرکے صدر کی تقریر کے دوران پاکستانی قومی ترانہ نشر کردیا۔تفصیلات کے مطابق نامعلوم ہیکرز نے بھارتی نیوز چینلز TV9 Telugu اور Freedom TV Kannada کو ہیک کیا اور چینلز کے نشریاتی نظام تک رسائی حاصل کی۔ہیکرز نے بھارتی صدر کی تقریر کے دوران TV9 Telugu پر پاکستانی قومی ترانہ نشر کیا جب کہ اس دوران ایک پیغام بھی چلایا گیا جس میں ہیکرز کی جانب سے تنبیہ کی گئی کہ پاکستان سے چھیڑچھاڑ نہ کی جائے۔رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے بعد دونوں چینلز کی نشریات متاثر ہوئیں، TV9 Telugu کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ جب کہ Freedom TV Kannada کے 10 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔ماہرین کے مطابق مودی سرکار اور گودی میڈیا پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں مصروف رہتا ہے مگر ہیکرز نے اس نظام کی قلعی کھول دی۔چوٹی کے بھارتی نیوزچینل کو ہیک کرکے پاکستانی ترانہ چلائے جانے سے بھارت کی ناقص سائبر سکیورٹی بے نقاب ہوگئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وشوا گرواور شائننگ انڈیا کے دعوے کرنے والا بھارت کا انفارمیشن ٹیکنالوجی نظام مکمل طور پر غیر محفوظ ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ناران: دریا میں ویڈیو بنانے کی کوشش سیاحوں کو مہنگی پڑگئی، گاڑی بہہ گئی

    ناران: دریا میں ویڈیو بنانے کی کوشش سیاحوں کو مہنگی پڑگئی، گاڑی بہہ گئی

    مانسہرہ(ویب ڈیسک ) سیر سپاٹے کے لیے ناران آنے والے دوستوں کو دریائے کنہار ناران میں ویڈیو بنانا مہنگا پڑ گیا۔پولیس کے مطابق ویڈیو بنانے کے لیے دوستوں نے گاڑی دریا سے گزارنے کی کوشش کی، دریا میں پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے گاڑی بہہ گئی۔پولیس کا بتانا ہے کہ ریسکیو ٹیم نے بروقت کارروائی کرکے چاروں دوستوں کو بچالیا۔ڈی ایس پی صداقت خان کا کہنا ہے کہ دریا میں بہنے والی گاڑی کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • آزاد کشمیر:  کالعدم ایکشن کمیٹی کے غیر ملکی روابط کے شواہد مل گئے

    آزاد کشمیر: کالعدم ایکشن کمیٹی کے غیر ملکی روابط کے شواہد مل گئے

    اسلام آباد(ویب ڈیسک ) حکومت کو پیش کی گئی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کے زیادہ نرخوں اور آٹے کی قیمتوں کیخلاف ایک تحریک کے طور پر سامنے آنے والی کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بتدریج ایک ایسی غیر ملکی حمایت یافتہ مہم میں تبدیل ہوگئی جس کا مقصد کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو کمزور کرنا اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا تھا۔
    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایسے ’’قابلِ اعتماد شواہد‘‘ موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت بیرونی عناصر نے بالخصوص برطانیہ اور یورپ میں موجود اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے مالی، تشہیری اور تنظیمی معاونت فراہم کر کے اس تحریک سے فائدہ اٹھایا۔
    رپورٹ کے مطابق کالعدم کمیٹی کی تحریک سماجی و معاشی مطالبات سے آگے بڑھ کر ایک سیاسی مہم میں تبدیل ہوگئی، جس میں آزاد جموں و کشمیر کے آئینی ڈھانچے کو چیلنج کیا گیا۔
    ان مطالبات میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کیلئے مختص 12 نشستوں کے خاتمے اور بعض رہنماؤں کی جانب سے انتخابی نظام سے پاکستان سے الحاق کے حلف کو ختم کرنے کے مطالبات بھی شامل تھے۔
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجر نشستیں مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کی سیاسی نمائندگی برقرار رکھنے کیلئے قائم کی گئی تھیں۔ اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگرچہ آئینی اصلاحات پر سیاسی فورمز میں بحث کی جا سکتی ہے، تاہم انتخابات میں خلل ڈالنے کی دھمکیاں دینا اور آئینی دفعات کو مسترد کرنا سیاسی جبر کے مترادف ہے۔
    رپورٹ میں اس تحریک کے ارتقاء کو دو بڑی احتجاجی مہمات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، مئی 2024 کے لانگ مارچ کے نتیجے میں حکومت نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کا اعلان کیا، تاہم یہ احتجاج تشدد پر ختم ہوا جس میں ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار شہید اور تین شہری جاں بحق ہوئے۔
    بعد ازاں 29 ستمبر سے 4 اکتوبر 2025 تک جاری رہنے والے دوسرے لانگ مارچ میں سات شہری اور تین قانون نافذ کرنے والے اہلکار جان سے گئے، جس کے بعد 4 اکتوبر 2025 کو وفاق کی ثالثی میں ایک معاہدہ طے پایا۔ رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کی بیشتر شقوں پر یا تو عملدرآمد ہو چکا ہے یا عمل جاری ہے۔ تاہم رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے معاہدے پر عمل کے بجائے بعد میں اپنے مطالبات تبدیل کر دیے۔
    رپورٹ میں 9 جون کے احتجاجی اعلان سے قبل پیش آنے والی حالیہ کشیدگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر حکومت نے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ان پرتشدد جھڑپوں کے بعد کیا، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار شہید اور مزید 32 زخمی ہوئے۔
    سکیورٹی اداروں نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین نے لاٹھیوں، پتھروں اور آتشیں اسلحے کا استعمال کیا جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں سے بھی فائدہ اٹھایا گیا۔
    رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ احتجاجی مقامات پر عسکری پس منظر رکھنے والے بعض افراد اور ان کے مسلح ساتھی بھی موجود تھے۔ رپورٹ کا ایک بڑا حصہ اس وسیع بیرونِ ملک مہم پر مشتمل ہے جسے اس میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی حمایت سے منسوب کیا گیا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق، لندن، برطانیہ کے دیگر شہروں، جنیوا اور یورپی پارلیمنٹ کے باہر پاکستانی سفارتی مشنز کے سامنے مظاہرے کیے گئے تاکہ اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کشمیری قوم پرست گروہوں، تحریک انصاف کے حامی کارکنوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور بھارت نواز پلیٹ فارمز نے مربوط آن لائن مہمات کے ذریعے کالعدم ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو فروغ دیا۔
    رپورٹ کے مطابق، واٹس ایپ گروپس کے ذریعے الجزیرہ، اسکائی نیوز، رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، بلوم برگ، فاکس نیوز اور ڈی ڈبلیو نیوز سمیت بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں کی رابطہ معلومات پھیلائی گئیں تاکہ احتجاج کو عالمی میڈیا میں زیادہ سے زیادہ کوریج مل سکے۔ مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ مربوط ہیش ٹیگز اور منظم پیغامات کے ذریعے چلائی گئی سوشل میڈیا مہمات کا مقصد آزاد جموں و کشمیر کو انسانی حقوق کے بحران کے طور پر پیش کرنا تھا، جبکہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مبینہ بھارتی مظالم پر خاموشی اختیار کی گئی۔
    رپورٹ میں یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے اسے ایکشن کمیٹی کے بیرونِ ملک سرگرم ترین حامیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی طویل عرصے سے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں پاکستان کے انتظامی کردار کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مہم چلاتی رہی ہے اور حالیہ احتجاج کو اپنی لابنگ مزید تیز کرنے کیلئے استعمال کیا۔
    رپورٹ میں 29 ستمبر 2025 کو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹیکے زیر اہتمام احتجاج میں ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے ایک رکن کی شرکت کو دونوں تنظیموں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔
    انٹیلی جنس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کو دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے برطانیہ اور یورپ میں موجود ہمدرد عناصر کے ذریعے خاطر خواہ مالی معاونت فراہم کی گئی۔
    رپورٹ کے مطابق، جائیداد، ٹریول اور منی ایکسچینج کے شعبوں سے وابستہ بعض کاروباری شخصیات نے مبینہ طور پر مالی معاونت فراہم کی، جبکہ فنڈز کی ایک بڑی مقدار غیر رسمی ہنڈی اور حوالہ نظام کے ذریعے منتقل کی گئی۔
    اس میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں مقیم ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں کے رشتہ داروں نے آزاد جموں و کشمیر میں سرگرم کارکنوں تک رقوم پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں ان مبینہ بیرونِ ملک نیٹ ورکس کو وسیع تر سکیورٹی خدشات سے جوڑتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں ماضی میں بھی ایسے ہی معاونتی ڈھانچوں کو جاسوسی، نگرانی، اہداف کی نشاندہی، مالی معاونت اور پاکستان کے اندر ٹارگٹ کلنگ کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔
    اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے مقامی نیٹ ورکس، جو سڑکوں پر احتجاج منظم کرنے، معلومات اکٹھی کرنے اور پروپیگنڈا پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دشمنانہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت سے اسلحہ اور خطرناک جرائم پیشہ عناصر نے ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مظاہروں میں دراندازی کی۔
    تاہم اپنی سکیورٹی تشویشات کے باوجود رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ابتدا میں بڑی تعداد میں عام شہری ایکشن کمیٹی میں اس لیے شامل ہوئے تھے کہ وہ حقیقی معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے تھے، نہ کہ اس کے بعد کے سیاسی ایجنڈے کی حمایت کیلئے۔
    رپورٹ کے مطابق، کور کمیٹی کے کئی ارکان نے راولاکوٹ دھرنے کے دوران آئینی ڈھانچے کو چیلنج کرنے اور ریاستی اداروں پر تنقید پر مبنی تقاریر کے بعد تنظیم کی بدلتی سمت سے اختلاف کرتے ہوئے عوامی طور پر خود کو اس سے الگ کر لیا۔
    رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ حکومت کو عوام کے جائز مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رکھنا چاہئے، تاہم تشدد، بیرونی مالی معاونت سے چلائی جانے والی تحریک، ریاست مخالف پروپیگنڈا اور دشمن نیٹ ورکس سے مبینہ تعاون کو جمہوری احتجاج قرار دے کر قبول نہیں کیا جا سکتا۔
    رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایک جانب عوامی فلاح سے متعلق وعدوں پر عملدرآمد جاری رکھا جائے، جبکہ دوسری جانب پرتشدد اور بیرونی پشت پناہی رکھنے والے عناصر کو الگ تھلگ کیا جائے اور آزاد جموں و کشمیر کے داخلی سیاسی مباحث سے فائدہ اٹھا کر کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کو کمزور کرنے کی مبینہ بیرونی کوششوں کو بے نقاب کیا جائے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی لائف لائن ، ہر صورت اپنے حقوق کا دفاع کریں گے: بلاول

    دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی لائف لائن ، ہر صورت اپنے حقوق کا دفاع کریں گے: بلاول

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا، سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، سب نے دیکھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے، دنیا کو احساس ہوچکا ہے کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں ہے، دنیا کو پانی کو ہتھیار بنانے کے خطرے کی سنگینی کو سمجھنا ہوگا، اکیسویں صدی پانی کی بندش،آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے، عالمی برادری کو مشترکہ آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانےکے خلاف نئے بین الاقوامی قوانین وضع کرنا ہوں گے، ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں ہر دریا، آبنائے، نہر اور ہر زیریں بہاؤ والا ملک بالادست ریاستوں کے دباؤ کا شکار بن جائے۔
    ان کا کہنا تھا بھارتی رویہ پوری دنیا کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے، سندھ طاس معاہدہ برقرار رہنا ضروری ہے، پاکستان اپنےآبی حقوق اور دریائے سندھ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، کسی ملک کی پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکنا ایک وجودی حملہ ہے، بھارت کا مقصد پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانا ہے، اگر پاکستان کے پانی کو روکناجنگ کے مترادف ہے تو اس کی طرف بڑھنے والا ہر قدم بھی معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جاسکتا، دریائے سندھ کا بطور ہتھیار استعمال کا جواب سیاسی، سفارتی اور قانونی سمیت ہرفورم پر دیناہوگا۔

  • پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے، ہر صورت سندھ طاس معاہدے کا تحفظ کریں گے: عطا تارڑ

    پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے، ہر صورت سندھ طاس معاہدے کا تحفظ کریں گے: عطا تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے اور پاکستان ہر صورت سندھ طاس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرےگا۔
    سندھ طاس معاہدہ کے بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ہم ایک معاہدے کی نہیں بلکہ 24کروڑ عوام کی زندگی کی شہ رگ پر بات کر رہے ہیں، پاکستان کے لیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے، دریائے سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ دراصل دریائےسندھ کی تاریخ ہے، زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ ہے، چھ دہائیاں قبل دو ممالک نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا، فیصلے کے نتیجے میں سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا، پاکستان نے ہمیشہ پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عمل درآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا، 1960کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

  • بینکس قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے بغیر اکاؤنٹس بلاک نہ کریں: اسٹیٹ بینک

    بینکس قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے بغیر اکاؤنٹس بلاک نہ کریں: اسٹیٹ بینک

    اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو حکم دیا ہے کہ کسی قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے بغیر اکاؤنٹس بلاک نہ کریں۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل درآمد رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے اسٹیٹ بینک کو اندرونی میکانزم طے کرکے ہدایات جاری کرنے کا کہا تھا۔عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک نے غیر ارادی اور احتیاطی پابندیوں سے بھی بینک اکاونٹ ہولڈرز کو نقصان نا پہنچانے کا حکم دیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے عدالتی حکم پر ملک بھر کے بینکوں کو نیا ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ بینک ہدایات پر مکمل عمل درآمد کے لیے مناسب اندرونی میکانزم بھی وضع کرسکتے ہیں۔

  • نئی سرد جنگ دنیا کو کہاں لے جائے گی؟تحریر: شیخ راشد عالم

    نئی سرد جنگ دنیا کو کہاں لے جائے گی؟تحریر: شیخ راشد عالم

    دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی سیاست کا نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اگرچہ سرد جنگ کے خاتمے کو تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا دنیا نئی سرد جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اگر ہاں، تو اس کے اثرات کیا ہوں گے، اور اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار کیا ہونا چاہیے؟
    بیسویں صدی کی سرد جنگ بنیادی طور پر امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان نظریاتی، عسکری اور سیاسی مقابلے کا نام تھی۔ اس جنگ میں براہِ راست ٹکراؤ کم تھا، لیکن دنیا کے مختلف خطے پراکسی جنگوں، اسلحے کی دوڑ اور سفارتی محاذ آرائی کا میدان بنے رہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ امریکہ ایک واحد عالمی طاقت بن کر ابھر آیا ہے، مگر اکیسویں صدی کے آغاز سے چین کی غیر معمولی معاشی ترقی، روس کی نئی سفارتی و عسکری حکمت عملی اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ابھار نے عالمی توازن کو تبدیل کرنا شروع کر دیا۔
    آج کی نئی سرد جنگ ماضی سے مختلف ہے۔ اب مقابلہ صرف فوجی طاقت کا نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، خلائی تحقیق، تجارتی راستوں، توانائی، نایاب معدنیات اور عالمی مالیاتی نظام پر اثرورسوخ کا بھی ہے۔ جو ملک ان شعبوں میں برتری حاصل کرے گا، وہ مستقبل کی عالمی سیاست پر زیادہ اثر انداز ہوگا۔
    امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں حیران کن رفتار سے ترقی کی ہے۔ چین نے صنعتی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، عالمی تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں طاقتوں کے درمیان مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب روس، اگرچہ معاشی اعتبار سے چین اور امریکہ کے برابر نہیں، لیکن دفاعی صلاحیت، توانائی کے ذخائر اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
    یہ نئی سرد جنگ صرف طاقتور ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایسے ممالک کو ایک طرف سرمایہ کاری، تجارت اور ترقی کے نئے مواقع ملیں گے، جبکہ دوسری طرف ان پر مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ صف بندی کرنے کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے ممالک متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے سکیں۔
    عالمی معیشت بھی اس کشمکش سے محفوظ نہیں رہے گی۔ تجارتی پابندیاں، درآمدات و برآمدات پر نئی شرائط، ٹیکنالوجی کی منتقلی پر پابندیاں اور سپلائی چین میں تبدیلیاں عالمی تجارت کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر ترقی پذیر معیشتوں پر پڑ سکتا ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
    مصنوعی ذہانت اس نئی سرد جنگ کا ایک اہم میدان بن چکی ہے۔ جو ملک مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید کمپیوٹنگ میں برتری حاصل کرے گا، وہ مستقبل میں معاشی اور دفاعی لحاظ سے بھی زیادہ مضبوط ہوگا۔ اسی لیے دنیا کی بڑی طاقتیں اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
    سائبر جنگ بھی ایک نیا خطرہ بن چکی ہے۔ مستقبل کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ کمپیوٹر نیٹ ورکس، مالیاتی نظام، بجلی گھروں، مواصلاتی ڈھانچوں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر بھی لڑی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائبر سکیورٹی اب قومی سلامتی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔
    مشرقِ وسطیٰ، ایشیا، افریقہ اور بحرالکاہل کے خطے بھی عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ توانائی کے ذخائر، سمندری راستے، بندرگاہیں اور معدنی وسائل ان علاقوں کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔ اسی لیے مختلف ممالک اپنے سفارتی اور معاشی اثرورسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    پاکستان کے لیے یہ صورتحال چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ پاکستان ایک اہم جغرافیائی محل وقوع رکھتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ عرب کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی تجارت اور علاقائی رابطوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر توجہ دے تو وہ بدلتے عالمی حالات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
    پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متوازن خارجہ پالیسی اپنائے، تمام اہم عالمی طاقتوں کے ساتھ مثبت تعلقات قائم رکھے اور اپنے قومی مفادات کو ہر صورت مقدم رکھے۔ کسی بھی عالمی تنازع میں غیر ضروری فریق بننے کے بجائے معاشی ترقی، علاقائی تعاون اور داخلی استحکام پر توجہ دینا زیادہ دانشمندانہ حکمت عملی ہوگی۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ نئی سرد جنگ صرف حکومتوں کا معاملہ نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات عام شہریوں تک بھی پہنچیں گے۔ مہنگائی، ایندھن کی قیمتیں، خوراک کی فراہمی، روزگار کے مواقع، ٹیکنالوجی تک رسائی اور بین الاقوامی تجارت میں تبدیلیاں ہر ملک کے عوام کی زندگیوں پر اثر ڈالیں گی۔ اس لیے ہر ریاست کو اپنی معیشت کو زیادہ مضبوط اور خود انحصار بنانے کی ضرورت ہوگی۔
    تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عالمی طاقتوں کی رقابتیں کبھی مستقل نہیں ہوتیں، لیکن ان کے اثرات کئی نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ آج دنیا ایک بار پھر ایسے ہی مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں فیصلے صرف طاقت کے بل پر نہیں بلکہ معیشت، علم، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور قومی حکمت عملی کی بنیاد پر ہوں گے۔
    یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نئی سرد جنگ دنیا کو مکمل تقسیم کی طرف لے جائے گی یا ایک زیادہ متوازن عالمی نظام تشکیل دے گی، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آنے والا عشرہ عالمی سیاست کی سمت متعین کرے گا۔ جو ممالک بروقت اپنی ترجیحات درست کریں گے، تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، معیشت اور قومی اتحاد پر سرمایہ کاری کریں گے، وہی اس نئے عالمی نظام میں باوقار مقام حاصل کریں گے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور اس بدلتی ہوئی دنیا میں کامیابی انہی قوموں کا مقدر ہوگی جو حالات کا ادراک کرتے ہوئے دور اندیش فیصلے کریں گی۔

  • مرتضیٰ وہاب کا دفاع  یا اعتراف؟کراچی میں اسٹریٹ  کرائم پر سوالات…نشید آفاقی

    مرتضیٰ وہاب کا دفاع یا اعتراف؟کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر سوالات…نشید آفاقی

    کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر، معاشی مرکز اور کروڑوں لوگوں کا مسکن ہے۔ یہ شہر برسوں سے مختلف مسائل کا شکار رہا ہے جن میں بدامنی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، سیاسی کشیدگی اور اسٹریٹ کرائم سرفہرست ہیں۔ حال ہی میں مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائم ہوتے ہیں اور لندن جیسے ترقی یافتہ شہر میں بھی اسٹریٹ کرائمز کی صورتحال موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے گزشتہ چالیس سال انتہائی مشکل رہے ہیں اور شہر نے ایسے چیلنجز کا سامنا کیا جو شاید کسی اور پاکستانی شہر کے حصے میں نہیں آئے۔
    مئیر کراچی کا یہ بیان ایک اہم بحث کو جنم دیتا ہے۔ کیا کراچی میں اسٹریٹ کرائم کو لندن یا دیگر عالمی شہروں سے جوڑ کر دیکھا جا سکتا ہے؟ کیا یہ موازنہ شہریوں کے خدشات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے یا اصل ضرورت مسئلے کے حل پر توجہ دینے کی ہے؟
    حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی بڑا شہر جرائم سے مکمل طور پر پاک نہیں۔ لندن، نیویارک، پیرس، شکاگو اور دیگر بڑے شہروں میں بھی چوری، ڈکیتی، موبائل اسنیچنگ اور دیگر جرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوتی ہیں۔ آبادی میں اضافہ، معاشی دباؤ، بے روزگاری اور سماجی مسائل اکثر جرائم کی شرح پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے مرتضیٰ وہاب کی بات درست ہے کہ بڑے شہروں میں اسٹریٹ کرائم ایک حقیقت ہے۔
    تاہم کراچی کے شہریوں کا سوال صرف یہ نہیں کہ جرائم کہیں اور بھی ہوتے ہیں۔ ان کا اصل سوال یہ ہے کہ ان کی روزمرہ زندگی کتنی محفوظ ہے۔ ایک شہری جب گھر سے دفتر یا کاروبار کے لیے نکلتا ہے تو اسے اپنے موبائل فون، نقدی، گاڑی اور حتیٰ کہ جان کے تحفظ کی فکر لاحق رہتی ہے۔ اسٹریٹ کرائم کے دوران مزاحمت پر شہریوں کے قتل کے واقعات نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
    کراچی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ شہر واقعی کئی دہائیوں تک بدامنی کی لپیٹ میں رہا۔ ایک وقت تھا جب ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری روزمرہ کی سرخیوں کا حصہ تھے۔ کاروباری طبقہ خوف کا شکار تھا اور شہری شام ڈھلتے ہی گھروں میں محدود ہو جاتے تھے۔ بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور مختلف آپریشنز کے نتیجے میں صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔ شہر میں امن و امان کی فضا بحال ہوئی، کاروباری سرگرمیاں بڑھیں اور سرمایہ کاری کا رجحان بھی بہتر ہوا۔
    لیکن اس کے باوجود اسٹریٹ کرائم ایک ایسا مسئلہ ہے جو مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ موبائل فون چھیننے، موٹر سائیکل چوری ہونے اور راہ چلتے شہریوں سے لوٹ مار کے واقعات اب بھی تشویش کا باعث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عوام اپنے مسائل بیان کرتے ہیں تو وہ موازنوں سے زیادہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔
    مرتضیٰ وہاب نے اپنے خطاب میں سیف سٹی منصوبے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ شہر میں کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ اس منصوبے کو مزید علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔ بلاشبہ جدید نگرانی کا نظام جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں سی سی ٹی وی کیمروں، مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی اور ڈیجیٹل پولیسنگ کے ذریعے جرائم کی نشاندہی اور ملزمان کی گرفتاری کو آسان بنایا گیا ہے۔
    کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی جدید ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر مختلف شاہراہوں، تجارتی مراکز، حساس مقامات اور رہائشی علاقوں میں مؤثر نگرانی کا نظام قائم ہو تو نہ صرف جرائم کی شرح کم ہو سکتی ہے بلکہ جرائم پیشہ عناصر میں خوف بھی پیدا ہوگا۔ تاہم صرف کیمرے نصب کرنا کافی نہیں۔ ان کی مسلسل نگرانی، ڈیٹا کا مؤثر استعمال اور فوری ردعمل کا نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
    جرائم کی ایک بڑی وجہ معاشی مسائل بھی ہوتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم معاشرے میں بے چینی پیدا کرتی ہے۔ اگر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوں تو جرائم کی طرف رجحان بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے صرف پولیسنگ نہیں بلکہ سماجی اور معاشی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔
    کراچی کی ایک اور اہم ضرورت شہری سہولیات کی بہتری ہے۔ بہتر ٹرانسپورٹ، روشن سڑکیں، فعال بلدیاتی نظام اور کمیونٹی کی شمولیت جرائم میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے تجربات بتاتے ہیں کہ جہاں شہری حکومتیں مقامی سطح پر مؤثر کردار ادا کرتی ہیں وہاں جرائم پر قابو پانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ غیر رسمی بستیوں کا پھیلاؤ، انفراسٹرکچر پر دباؤ اور وسائل کی کمی انتظامی چیلنجز میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایسے میں شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
    مرتضیٰ وہاب کا یہ مؤقف کہ کراچی نے گزشتہ چالیس برس میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کیا، تاریخی طور پر درست محسوس ہوتا ہے۔ لیکن آج کا شہری ماضی کے زخموں سے زیادہ اپنے حال اور مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کی گلی، اس کا محلہ اور اس کا سفر کتنا محفوظ ہے۔ اسے یہ اطمینان درکار ہے کہ اگر کوئی جرم ہوتا ہے تو ملزم جلد گرفتار ہوگا اور قانون حرکت میں آئے گا۔
    اسٹریٹ کرائم کے مسئلے پر عوامی اعتماد بحال کرنا سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب شہری محسوس کریں گے کہ ریاست اور مقامی حکومت ان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے تو خوف کی فضا خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ سیف سٹی منصوبہ، پولیس اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر شہری نظم و نسق اس سمت میں اہم اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کراچی کا لندن سے موازنہ اپنی جگہ، مگر ہر شہر کی اپنی زمینی حقیقتیں ہوتی ہیں۔ شہریوں کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان کی زندگی محفوظ ہو، ان کا مال و جان محفوظ ہو اور وہ بلا خوف و خطر اپنے روزمرہ معاملات انجام دے سکیں۔ کراچی پاکستان کی معیشت کا دل ہے اور اس شہر کا محفوظ، روشن اور پُرامن ہونا نہ صرف اس کے باسیوں بلکہ پورے ملک کے مفاد میں ہے۔ اس لیے ضرورت موازنوں سے زیادہ مؤثر حکمت عملی، مستقل مزاجی اور عملی نتائج کی ہے تاکہ کراچی واقعی ایک ایسا شہر بن سکے جس پر اس کے شہری فخر کر سکیں۔

  • منتہا سے کلثوم تک — آخر کب تک؟تحریر:  فرحانہ اشرف فرحانہ

    منتہا سے کلثوم تک — آخر کب تک؟تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

    معصوم بیٹیوں کی چیخیں اور بے حس معاشرہ

    تعویز گلے میں تھا مِرے ردِّ بلا کا
    آدم سے بچاؤ کا نہ تھا وِرد کوئی یاد!
    ناصرہ زبیری

    سرگودھا کی ننھی منتہا ہو یا کراچی کی معصوم کلثوم، نام بدل جاتے ہیں، شہر بدل جاتے ہیں، مگر ظلم کی کہانی وہی رہتی ہے۔ ہر چند روز بعد ایک نئی بیٹی ظلم و درندگی کا شکار بنتی ہے، پورا ملک غم و غصے سے بھر جاتا ہے، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز چلتے ہیں، ٹی وی چینلز پر بحثیں ہوتی ہیں، حکمران سخت بیانات دیتے ہیں، اور پھر چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ صرف ایک چیز نہیں بدلتی: کسی ماں کی گود ہمیشہ کے لیے اجڑ جاتی ہے۔
    حالیہ دنوں میں سرگودھا کی منتہا اور کراچی کی کلثوم کے مبینہ زیادتی کے واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان واقعات پر پولیس نے مقدمات درج کیے اور تحقیقات کا آغاز کیا، تاہم ان کی مکمل عدالتی حقیقت اور تمام ذمہ داران کا تعین ابھی قانونی عمل کے تحت ہونا باقی ہے۔
    یہ صرف دو بچیوں کی داستان نہیں، بلکہ پاکستان کی ہزاروں معصوم بچیوں کی اجتماعی فریاد ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہماری بیٹیاں کب محفوظ ہوں گی؟ کب ایک بچی بلا خوف اپنے گھر سے نکل سکے گی؟ کب والدین اپنے بچوں کو سکون سے کھیلنے بھیج سکیں گے؟
    یہ مسئلہ صرف قانون کا نہیں بلکہ معاشرتی زوال کا بھی ہے۔ جب گھروں میں تربیت کمزور ہو، تعلیمی اداروں میں اخلاقیات نظرانداز ہوں، منشیات اور فحاشی کا پھیلاؤ ہو، اور مجرم کو سزا کے بجائے سفارش یا تاخیر ملے، تو ایسے سانحات جنم لیتے ہیں
    ۔
    حیا صرف عورت کا زیور نہیں ہے
    یہ مردوں کے کردار میں بھی سجائیں
    رخسانہ سحر

    ہمارے عدالتی نظام میں برسوں تک مقدمات چلتے رہتے ہیں۔ متاثرہ خاندان انصاف کے انتظار میں تھک جاتے ہیں جبکہ مجرم اکثر قانونی پیچیدگیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔
    ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ ہے۔ اگر معصوم بچے بھی محفوظ نہ ہوں تو ترقی، معیشت اور سیاست کی تمام بحثیں اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔

    اس کے ساتھ والدین کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہوگی۔ بچوں کو “گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ” کی تعلیم دینا، ان کی بات کو سنجیدگی سے سننا، اور انہیں خوف کے بغیر اپنی بات کہنے کا اعتماد دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    میڈیا کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ متاثرہ بچوں کی شناخت کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے اور ایسے واقعات کو صرف ریٹنگ یا سنسنی خیزی کا ذریعہ نہ بنایا جائے بلکہ عوام میں شعور اجاگر کیا جائے۔
    منتہا اور کلثوم صرف دو نام نہیں، یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں، قانون پر مؤثر عمل درآمد نہ کیا، اور مجرموں کو بروقت و منصفانہ سزا نہ ملی، تو کل کسی اور معصوم کا نام ہماری سرخیوں میں ہوگا۔
    آئیے عہد کریں کہ ہر بچہ، ہر بچی، ہر گھر اور ہر گلی محفوظ ہوگی۔ کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی عمارتیں نہیں بلکہ اس کے بچوں کا تحفظ ہوتا ہے۔
    “منتہا اور کلثوم کے لیے انصاف صرف ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں، بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا امتحان ہے۔”

    ان درندوں سے نجات کیسے ممکن ؟؟؟

    بیٹیوں کی جن سے عصمت ہی نہیں محفوظ ہو
    ایسے نامردوں پہ لعنت ہے ہماری بار بار

    فر حا نہ اشرف فرحانہ

    درندہ صفت مجرموں سے مکمل نجات کسی ایک اقدام سے ممکن نہیں، بلکہ قانون، معاشرت، تعلیم اور ریاستی عمل درآمد کے امتزاج سے ہی ایسے جرائم میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
    جب تک مجرم کو یہ یقین رہے گا کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ سکتا ہے، ایسے جرائم ختم نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:
    بچوں سے زیادتی کے مقدمات کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں۔
    اگر عدالت میں جرم ثابت ہو جائے تو قانون کے مطابق سخت اور بروقت سزا دی جائے، تاکہ دوسروں کے لیے بھی عبرت ہو۔

    عصمتِ زن پہ جو کرے حملہ
    بیچ کی ٹانگ کاٹ دو اس کی

    فرحانہ اشرف فرحانہ

    پولیس، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام کو مؤثر اور تیز رفتار بنایا جائے۔
    والدین بچوں کو ذاتی حفاظت، “گڈ ٹچ” اور “بیڈ ٹچ” کی تعلیم دیں اور ایسا ماحول بنائیں کہ بچے بلا خوف اپنی بات بتا سکیں۔
    اسکولوں میں بچوں کے تحفظ اور اخلاقی تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

    جو بیٹوں کو دیتے ہیں ہر اک رعایت
    ذرا ان کو بھی حد میں رہنا سکھائیں
    رخسانہ سحر

    اس موضوع پر فیصل عشرت کے خیالات آپ کی بصارتوں کی نذر کرتے ہیں

    تحریر: محمد فیصل عشرت
    (ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن سندھ،کراچی)

    پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں (جیسے ساحل) کی سالانہ رپورٹس کے مطابق، ہر روز اوسطاً 8 سے 11 بچوں اور بچیوں کو جنسی زیادتی (ریپ اور بدفعلی) کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے نصف کے قریب متاثرین کم سن لڑکیاں اور نصف لڑکے ہوتے ہیں

    آسمان کے نیچے بستی اس دنیا میں، سب سے زیادہ مقدس اور پاکیزہ چیز کسی بچے کی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ لیکن کیا ہم واقعی ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جہاں یہ مسکراہٹیں اب محفوظ نہیں رہیں؟ پاکستان کی فضاؤں میں آج ایک ایسا سوال گونج رہا ہے جس کا جواب ڈھونڈتے ہوئے ہماری روح کانپ اٹھتی ہے۔ یہ سوال کسی سیاستدان یا کسی پالیسی کا نہیں، بلکہ ان ہزاروں معصوم روحوں کا ہے جو ہماری غفلت، ہماری خاموشی اور ہمارے ٹوٹے ہوئے معاشرتی نظام کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

    منتہا یا کلثوم یا ان جیسے دوسرے معصوم پھول۔۔۔اف۔۔۔۔ ایک ایسے زخم جو کبھی نہیں بھریں گے۔۔
    جب ہم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی بات کرتے ہیں، تو یہ صرف اعداد و شمار کی جنگ نہیں ہوتی۔ یہ درد، یہ چیخیں اور یہ سسکیاں ہوتی ہیں جو ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔ منتہا کا کیس اسی درد کی ایک تازہ اور دل دہلا دینے والی علامت ہے۔ وہ چھوٹی سی بچی، جس کی زندگی کے خواب صرف کھلونوں اور سکول کے بستے تک محدود ہونے چاہیے تھے، ایک ایسی تاریکی میں دھکیل دی گئی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ اگر ہم منتہی کے کیس کی بات کریں تو
    منتہی کا کیس محض ایک جرم نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے ماتھے پر ایک ایسا کلنک کا ٹیکہ ہے جو کبھی نہیں مٹے گا۔ اس کے معصوم چہرے کی تصویر جب بھی سامنے آتی ہے، تو دل سے صرف ایک ہی صدا نکلتی ہے: “ہم اسے بچانے میں ناکام کیوں رہے؟” اس کے والدین کی بے بسی، اس کے گھر کا سناٹا اور اس ننھی روح کی تڑپ ہم سب سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کریں۔

    ہم میں سے اکثر یہ کہتے ہیں کہ “یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے،” یا پھر “بدنامی کے ڈر سے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔” لیکن یہی خاموشی دراصل اس عفریت کو ہوا دیتی ہے۔ جب ہم کسی واقعے پر احتجاج نہیں کرتے، جب ہم مجرم کو سماجی طور پر مسترد نہیں کرتے، تو ہم دراصل اگلا راستہ ہموار کر رہے ہوتے ہیں
    ۔
    یہ اندھیرا کیسے چھٹے گا؟
    یہ مضمون کوئی سرکاری رپورٹ نہیں، بلکہ ایک دل گرفتہ اپیل ہے۔ اس اندھیرے کو ختم کرنے کے لیے ہمیں صرف قوانین کی ضرورت نہیں، ہمیں ایک سماجی انقلاب کی ضرورت ہے:

    ہمیں اپنے بچوں کو “Good Touch” اور “Bad Touch” کا فرق سمجھانے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں ان کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا کہ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات ہمیں بتا سکیں۔

    عوامی شعور بھی اس کا ایک بہترین حل ہے۔ جب تک ہر محلے، ہر گاؤں اور ہر شہر میں لوگ اپنے بچوں کے محافظ نہیں بنیں گے، کوئی بھی قانون تنہا کچھ نہیں کر پائے گا۔ ہمیں ہر اس شخص کو بے نقاب کرنا ہوگا جو بچوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتا ہے۔

    اگر ایسے کیسز میں جب انصاف میں تاخیر ہوتی ہے، تو معاشرے کا قانون پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ:

    Justice delayed is justice denied” “انصاف میں تاخیر، انصاف نہ ملنے کے مترادف ہے” یا “انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی ظلم ہے
    انصاف کا جلد اور سخت ہونا ہی مجرموں کے لیے اصل عبرت ہے۔۔۔

    آخر میں بس یہ ہی کہوں گا ہماری بچے صرف ہمارے لئے بچے ہیں دوسروں کے لئے نہیں۔۔۔ ۔۔
    اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں۔۔ آمین
    _______
    یہ تھے فیصل عشرت اختتام میں بس یہ ہی کہ
    معاشرے میں خاموشی کے بجائے ایسے جرائم کی فوری رپورٹنگ اور متاثرہ خاندان کی مدد کو فروغ دیا جائے۔
    ایسے مجرموں کی ذہنی وجوہات کو سمجھنے، خطرناک افراد کی بروقت نشاندہی اور ضرورت کے مطابق علاج و نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط کیا جائے۔
    ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ شدید غصے میں لوگ ماورائے عدالت یا غیر قانونی سزاؤں کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن پائیدار انصاف صرف قانون کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہے۔ اگر قانون مضبوط، تحقیقات شفاف اور سزا یقینی ہو، تو ایسے جرائم کی روک تھام میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
    “جس معاشرے میں معصوم بچوں کا تحفظ سب سے بڑی ترجیح بن جائے، وہاں درندے نہیں، صرف قانون کی حکمرانی نظر آتی ہے۔

    نہ الزام ہر بار لڑکی پہ رکھیں
    درندوں کے چہروں سے پردے اٹھائیں
    رخسانہ سحر

  • ماسی کلچر: ضرورت سے اسٹیٹس سمبل تک..صبیحہ خان صبیحہ

    ماسی کلچر: ضرورت سے اسٹیٹس سمبل تک..صبیحہ خان صبیحہ

    کینیڈا میں رہتے ہوئے ایک بات بہت جلد سمجھ آجاتی ہے کہ یہاں زندگی کی گاڑی ہر شخص کو اپنے ہاتھوں سے چلانی پڑتی ہے۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہوں، انجینئر، استاد یا کاروباری شخصیت، صبح کا ناشتہ بنانا، بچوں کو تیار کرنا، گھر کی صفائی، کپڑے دھونا، برتن صاف کرنا، خریداری کرنا، لان کی گھاس کاٹنا، برف ہٹانا، سب کچھ اپنی ذمہ داری ہے۔ یہاں گھریلو کام کسی کی سماجی حیثیت کا نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ترقی یافتہ ملک کا وزیر اعظم اپنی فیملی کے ساتھ چھٹی پر جاتے ہیں تو اپنا سامان خود اٹھایا ہوتا ہے کوئی ملازمین کی فوج ان کے ساتھ نہیں ہوتی ،لیکن جب وطن عزیز کا رخ ہوتا ہے تو ایک بالکل مختلف منظر سامنے آتا ہے کسی رشتہ دار کے گھر جائیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک ماسی صرف روٹی پکانے کے لیے، دوسری صفائی کے لیے، تیسری برتنوں کے لیے، چوتھی کپڑے استری کرنے کے لیے، اور اگر گھر بڑا ہو توڈرائیور، مالی اور چوکیدار بھی الگ ۔دوسری طرف بیگم صاحبہ کبھی جم میں مصروف ہیں، کبھی بیوٹی سیلون میں، کبھی شاپنگ اور کبھی سوشل تقریبات میں۔سوال یہ نہیں کہ گھریلو ملازم رکھنا غلط ہے۔ اگر کسی کے پاس وسائل ہیں اور وہ ملازمین کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، مناسب تنخواہ دیتے ہیں اور عزت سے پیش آتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر وہ کام جسے ہم خود بآسانی کر سکتے ہیں، اس کے لیے بھی کسی دوسرے انسان پر انحصار ضروری ہے؟لوگوں کو گھریلو کاموں کے لئے ملازماؤں کی جتنی ضرورت موجودہ دور میں ہے پہلے کبھی نہ تھی ،حالانکہ ماضی کے دور میں تو گھروں میں آج جیسی مسالہ پیسنے ، کپڑے دھونے اور مختلف کام سرانجام دینے والی جدید مشینوں کی سہولت بھی نہیں تھی مگر اب ان تمام آسائشوں کے باوجود ملازمہ کے بغیر خواتین کو اپنی زندگی ادھوری لگتی ہے۔ اکثر گھروں میں ماسیوں کا پورا کنبہ مختلف کاموں پرمامورہوتا ہے اور ہمیں یقین واثق ہے کہ اگر یہ خادمائیں ایک دن ہڑتال کر دیں تو بہت سی خواتین ممکن ہے صدمے اور غم کے باعث کوئی انتہائی اقدام نہ کر بیٹھیں کیونکہ گھریلو کام کاج اکثر خواتین کوکسی عذاب سے کم نہیں لگتا۔ ایک دن کام والی نہیں آتی تو گھر میں گویا طوفان کی سی کیفیت بپا ہوجاتی ہے۔ گھر کا ہر فرد ملازمہ کو کوس رہا ہوتا ہے۔ اگر ملازمہ کی بیماری کی اطلاع موصول ہو جائے تو اسے محض بہانے کا نام دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ابھی پچھلے ہفتہ تو وہ بیمار ہوئی تھی۔ گھر کی مالکن ملازمہ کی بیماری کے خیال سے ہی لرز اٹھتی ہے کہ اب اسے برتن دھونے پڑیں گے، آٹا گوندھنا پڑے گا۔پوش علاقوں میں رہنے والے اکثر ایلیٹ گھرانے صرف نوکروں کے بل پر چلتے ہیں۔ کچن سمیت پورا گھر ہی ملازماﺅں پرچھوڑدیا جاتا ہے۔ گھر کی بیگمات کا زیادہ تروقت شاپنگ، پارٹیز، سالونز اور جم کی نذر ہوجاتا ہے ۔ نہ انہیں گھریلو کاموں سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی اتنی فرصت کہ ان کاموں میں اپنا وقت گنوائیں ۔گھر کے کام کرنا کوئی شرمندگی کی بات نہیں بلکہ ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ کینیڈا میں بچے بھی کم عمری سے اپنا بستر خود ٹھیک کرنا، برتن ڈش واشر میں رکھنا، کپڑے فولڈ کرنا اور کمرہ صاف کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ یہی عادت انہیں خودمختار اور ذمہ دار بناتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض اوقات گھر کے کام کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی خاتون خود باورچی خانے میں کام کرے تو بعض لوگ حیرت سے کہتے ہیں، “اتنے بڑے گھر میں ماسی نہیں؟گویا محنت کرنا عزت کم ہونے کی علامت ہو۔ حالانکہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں خود کام کرنا باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بے شمار خواتین گھریلو ملازمت کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتی ہیں۔ اس لیے یہ پیشہ معاشرے کی معاشی ضرورت بھی ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ انہیں ملازم نہیں بلکہ انسان سمجھا جائے۔ ان کے ساتھ عزت، انصاف، مناسب اجرت اور آرام کا حق بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ہمارے اپنے حقوق ،ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ماسی رکھنا واقعی ضرورت ہے یا صرف ایک سماجی رواج بن چکا ہے؟ اگر ہم اپنے چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے لگیں تو نہ صرف خود انحصاری بڑھے گی بلکہ آنے والی نسلوں میں بھی محنت، سادگی اور ذمہ داری کا شعور پیدا ہوگا۔کیونکہ ہاتھ سے کیا گیا کام کبھی عزت کم نہیں کرتا، بلکہ انسان کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔  کبھی لالی وڈ اور بالی وڈ کی باتیں ہوتی تھیں، اب لگتا ہے ایک نئی انڈسٹری بھی وجود میں آ گئی ہے… ‘ماسی وڈ’! جہاں ہر کام کے لیے الگ کردار، الگ ذمہ داری اور الگ معاوضہ موجود ہے گھریلو ملازماﺅں کی مانگ اتنی ہے کہ ان کی باقاعدہ صنعت یاانڈسٹری”ماسی وڈ“ موجود ہے جہاں ہر عمر کی خادمائیں اور ملازم بکثرت دستیاب ہیں۔ ا آج کل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گھریلو ملازم رکھنا ایک باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صفائی کے لیے الگ ماسی، برتنوں کے لیے الگ، کھانا پکانے کے لیے الگ، کپڑے استری کرنے کے لیے الگ۔ یوں لگتا ہے جیسے بعض گھروں میں انسان کم اور ملازمین زیادہ ہوں۔ “خدا نہ کرے کبھی ‘ماسی وڈ’ میں ہڑتال ہو جائے، ورنہ کچھ گھروں میں چائے کا کپ بھی ایک قومی مسئلہ بن جائے!سب سے افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ کم عمر ملازمین جن کی عمر پڑھنے لکھنے کھیلنے کودنے کی ہے وہ گھروں میں کام کرتے ہیں اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے جن میں کتابیں ہونا چاہیے وہ مالکان کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں ۔تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ ایک طرف مہنگائی کا شور ہے، بجٹ کا رونا ہے، اور دوسری طرف ایسےاخراجات کو بھی ضروری سمجھ لیا گیا ہے جن کے بغیر بھی گزارا ممکن ہے۔ بعض حلقوں میں تو ماسی رکھنا ضرورت سے زیادہ اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔ اگر گھر کی خاتون خود چائے بنا لے یا روٹی پکا لے تو گویا اس کی شان میں کمی آ گئی ہو۔حقیقت یہ ہے کہ گھر کے کام کسی کی عزت کم نہیں کرتے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد بھی اپنے گھروں کی صفائی کرتے، کھانا بناتے اور لان سنوارتے ہیں۔ وہاں محنت کو عزت دی جاتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں بعض اوقات دوسروں سے کام کروانا شان سمجھ لیا جاتا ہے۔البتہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہزاروں خواتین گھریلو ملازمت کے ذریعے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں، اس لیے مسئلہ خود “ماسی” نہیں بلکہ ہمارا رویہ ہے۔ اگر واقعی ضرورت ہو تو گھریلو ملازم رکھنا بالکل درست ہے، لیکن اگر یہ صرف دکھاوے اور سماجی مقابلے کا حصہ بن جائے تو پھر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہم سہولت کے نام پر خود انحصاری تو نہیں کھو رہے ہمارا مقصد ہرگز ان محنت کش خواتین کے خلاف نہیں جو گھروں میں کام کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتی ہیں۔ وہ ہمارے معاشرے کی باعزت مزدور ہیں اور ان کی محنت قابلِ احترام ہے۔ سوال ان سے نہیں، بلکہ ہم سے ہے۔ کیا واقعی ہم اتنے بے بس ہو گئے ہیں کہ اپنا ایک کپ بھی خود نہیں اٹھا سکتے؟ کیا گھر کے معمولی کام کرنا ہماری شان کے خلاف ہے، یا ہم نے اسے محض ایک اسٹیٹس سمبل بنا لیا ہے،گھر کے کام انسان کو چھوٹا نہیں کرتے، بلکہ دوسروں کی محنت کی قدر کرنا سکھاتے ہیں۔ ماسی کا احترام ضرور کیجیے، لیکن اپنے ہاتھوں کو بھی اتنا بےکار نہ بنائیے کہ ایک کپ چائے بنانے کے لیے بھی کسی اور کا انتظار کرنا پڑے۔ “گھر کے کاموں سے الرجی کا ابھی تک کوئی میڈیکل علاج دریافت نہیں ہوا، البتہ روزانہ آدھا گھنٹہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا بہترین دوا ہے علاج ہے خود انحصاری بھی ایک تہذیب ہے، اور محنت بھی ایک وقار ہے ۔