Blog

  • منجمد اثاثے، گرم سیاست اور خودمختاری کی قیمت…ماجد علی سید

    منجمد اثاثے، گرم سیاست اور خودمختاری کی قیمت…ماجد علی سید

    دنیا کی سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ، ایک بیان یا ایک ٹویٹ اتنا وزن رکھتا ہے کہ وہ کئی برسوں کی سفارتی کوششوں کو نئی سمت دے دیتا ہے۔ حالیہ دنوں امریکا اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں سے متعلق سامنے آنے والے بیانات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے منجمد اثاثے بحال ہونے کی صورت میں یہ رقم صرف امریکی کسانوں سے گندم، مکئی، سویا بین اور ادویات خریدنے کے لیے استعمال ہوگی، جبکہ دوسری جانب ایران نے نہ صرف اس دعوے کو مسترد کیا بلکہ اسے اپنی قومی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کا ردعمل محض ایک سفارتی جواب نہیں تھا بلکہ اس میں وہ سیاسی پیغام بھی پوشیدہ تھا جو تہران برسوں سے دنیا کو دیتا آیا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکا نے دنیا کو اگر کوئی فصل دی ہے تو وہ “بے اعتمادی” ہے۔ یہ جملہ اگرچہ سیاسی طنز تھا، لیکن اس کے پیچھے نصف صدی پر محیط وہ تاریخ کھڑی ہے جس میں ایران اور امریکا ایک دوسرے پر وعدہ خلافی، دباؤ، پابندیوں اور مداخلت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ ایران امریکی گندم خریدے گا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو اس کی تجارتی پالیسی سے مشروط کیا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر مالیاتی آزادی، قومی خودمختاری اور آزاد تجارت جیسے بین الاقوامی اصول کہاں کھڑے رہ جائیں گے؟

    امریکا کی اپنی داخلی سیاست بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ امریکی کسان ہر انتخاب میں ایک بڑی سیاسی قوت تصور کیے جاتے ہیں۔ گندم، مکئی اور سویا بین پیدا کرنے والی ریاستیں صدارتی انتخابات میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر امریکی صدر زرعی شعبے کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ایران جیسی بڑی منڈی امریکی زرعی مصنوعات خریدتی ہے تو اس کا فائدہ براہِ راست امریکی کسانوں اور بالواسطہ وائٹ ہاؤس کی سیاسی ساکھ کو پہنچ سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایران بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ اسی لیے تہران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اسے اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی ملتی بھی ہے تو وہ فیصلہ خود کرے گا کہ کس ملک سے، کس قیمت پر اور کس معیار کی اشیا خریدنی ہیں۔ یہ مؤقف صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ ایران یہ تاثر ہرگز نہیں دینا چاہتا کہ وہ پابندیوں کے دباؤ کے بعد اپنی معاشی پالیسی بھی واشنگٹن کے اشاروں پر ترتیب دے رہا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں۔ اس میں قطر، خلیجی ممالک، یورپی طاقتیں اور عالمی مالیاتی نظام بھی کسی نہ کسی انداز میں شریک ہیں۔ اگر واقعی کوئی ایسا مالیاتی انتظام تشکیل پاتا ہے جس کے تحت منجمد اثاثے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال ہوں، تو یہ مستقبل میں دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک نظیر بن سکتا ہے۔ پھر سوال یہ اٹھے گا کہ کیا کسی ملک کے اثاثے بحال کرتے وقت اس کے اخراجات کی سمت بھی بیرونی طاقتیں طے کریں گی؟

    بین الاقوامی تعلقات میں طاقت ہمیشہ صرف فوج یا معیشت سے ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات بینک اکاؤنٹس بھی میزائلوں سے زیادہ مؤثر ہتھیار بن جاتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں امریکا نے پابندیوں، مالیاتی نظام اور ڈالر کی عالمی حیثیت کو اپنی خارجہ پالیسی کے اہم ترین اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ایران، روس، وینزویلا اور دیگر کئی ممالک اس پالیسی کا تجربہ کر چکے ہیں۔ لیکن اس حکمت عملی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ جب پابندیاں طویل ہو جائیں تو متاثرہ ممالک متبادل راستے تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ چین، روس اور برکس ممالک کی حالیہ معاشی سرگرمیاں اسی رجحان کی مثال ہیں۔

    ایران کا معاملہ بھی شاید اسی سمت جا رہا ہے۔ تہران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر مذاکرات ہوں گے تو برابری کی بنیاد پر ہوں گے، نہ کہ شرائط کے تحت۔ یہی وجہ ہے کہ باقر قالیباف نے امریکی دعوے کی تردید کرتے ہوئے صرف ایک خبر کی نفی نہیں کی بلکہ ایک سوچ کو مسترد کیا۔ وہ سوچ جس میں معاشی ریلیف کے بدلے سیاسی یا تجارتی شرائط قبول کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی جامع معاہدہ طے پاتا ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی توانائی کی منڈیاں، تیل کی قیمتیں، مشرقِ وسطیٰ کا توازن، خلیجی ریاستوں کی حکمت عملی اور حتیٰ کہ عالمی غذائی تجارت بھی اس سے متاثر ہوگی۔ اس لیے ہر بیان، ہر تردید اور ہر اعلان کو صرف سیاسی بیان بازی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ٹرمپ کا دعویٰ حقیقت کا روپ دھارتا ہے یا ایران اپنے مؤقف پر قائم رہتا ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ موجودہ دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں۔ آج کل بینکوں، پابندیوں، تجارتی معاہدوں اور منجمد اثاثوں کے ذریعے بھی طاقت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ شاید یہی اکیسویں صدی کی نئی سفارت کاری ہے، جہاں بندوق سے زیادہ بینک اکاؤنٹ کی چابی اہم بن چکی ہے، اور جہاں ہر ڈالر اپنے ساتھ ایک سیاسی پیغام بھی لے کر چلتا ہے۔

  • افغان حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی کرکے بھارت  کو خوش کررہی ہے، ترجمان صدر مملکت

    افغان حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی کرکے بھارت کو خوش کررہی ہے، ترجمان صدر مملکت

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ افغان حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی کرکے بھارت اور اسرائیل کو خوش کررہی ہے۔
    سابق نگراں وفاقی وزیر اطلاعات اور صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی دہشت گردی سے متعلق ایکس پوسٹ کو ری شیئر کرتے ہوئے افغان طالبان پر سخت تنقید کی ہے۔
    مرتضیٰ سولنگی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ غیر قانونی افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کو پاکستان کے بے گناہ شہریوں اور بہادر سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرکے پاکستان کے عالمی امن ساز تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ نریندر مودی اور بنیامین نیتن یاہو کو خوش کیا جا سکے۔
    انہوں نے کہا کہ افغان طالبان یا تو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کوئی کارروائی نہیں کرے گا، یا پھر انہیں یقین ہے کہ ان کے سرپرست ان کا تحفظ کریں گے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچائے گا بلکہ ان کے سرپرستوں اور مالی معاونت کرنے والوں کو بھی اسی انجام سے دوچار کرے گا۔
    مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کرے گا اور ساتھ ہی دنیا میں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار بھی جاری رکھے گا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں پاکستان زندہ باد اور #PeaceMakerOfTheWorld کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • پاک بحریہ کے شہید افسر کی باہمت اہلیہ نے پاکستان نیوی میں بطور آفیسر کمیشن حاصل کرلیا

    پاک بحریہ کے شہید افسر کی باہمت اہلیہ نے پاکستان نیوی میں بطور آفیسر کمیشن حاصل کرلیا

    کراچی (ویب ڈیسک )پاک بحریہ کے شہید افسر کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی شہادت کے غم کو عزم و حوصلے میں بدلتے ہوئے پاک بحریہ میں بطور آفیسر کمیشن حاصل کر لیالیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد شہید کی حوصلہ مند اہلیہ الویرا حمزہ نے کمانڈنٹ گول میڈل جیت کر پاک بحریہ کے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو جوائن کیا ہے
    الویرا حمزہ نے کہا کہ میرے شہید شوہر لیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد کی شہادت سے میرے اندر بھی پاک بحریہ میں شمولیت کا جذبہ پیدا ہوا، میں نے جس یونیفارم میں اپنے شوہر کو دیکھا، آج اس جیسا یونیفارم پہن کر اسی مقام پر کھڑی ہونا میرے اور میری بیٹی کے لیے باعثِ فخر ہے۔
    الویرا حمزہ نے کہا کہ ان جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، پاکستان نیول اکیڈمی میں میرا بہت اچھا وقت گزرا، میں پاکستان کی ہر ایک لڑکی کو یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اگر میں ایک بیٹی کے ہوتے ہوئے اتنی ہمت کر سکتی ہوں تو آپ بھی فورسز میں آئیں۔
    لیفٹیننٹ کمانڈر حمزہ عابد شہید کی حوصلہ مند اہلیہ الویرا حمزہ کا پاک بحریہ میں بطور آفیسر شمولیت اختیار کرنا تمام پاکستانی خواتین کے لیے روشن مثال ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملے بند کرنے پر متفق، کل دوحا میں اہم مذاکرات کا امکان

    امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملے بند کرنے پر متفق، کل دوحا میں اہم مذاکرات کا امکان

    واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کے حل کے لیے کل قطر کے دارالحکومت دوحا میں اہم مذاکرات ہونے کا امکان ہے۔امریکی ویب سائٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے فی الحال تمام فوجی حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور تجارتی جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے تکنیکی مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق شقوں کی مختلف تشریحات کے باعث حالیہ دنوں میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوششوں کا یقین دلایا۔
    امریکی حکام کے مطابق دوحا میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی تکنیکی ٹیم کے سربراہ نک اسٹیورٹ بھی شریک ہوں گے جبکہ اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی ہم آہنگی کے لیے براہ راست رابطہ (ہاٹ لائن) قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا تاہم یہ نظام تاحال فعال نہیں ہو سکا۔وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

    کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

    اسلام آباد(ویب ڈیسک) کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے جس کے لیے سی پی پی اے نے نیپرا میں درخواست دائر کر دی ہے۔سی پی پی اے نے بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ اضافے کے لیے درخواست جمع کروائی ہے، مئی کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر نیپرا اتھارٹی کل سماعت کرے گی۔درخواست کی منظوری کی صورت میں صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
    درخواست کے مطابق مئی کے دوران 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی جبکہ مئی میں فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 8 روپے 43 پیسے لگایا گیا تھا۔مئی میں پانی سے 33.27 فیصد، مقامی کوئلے سے 11.66 فیصد، درآمدی کوئلے سے 13.54 فیصد، فرنس آئل سے 0.16 فیصد اور مقامی گیس سے 8.31 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔نیپرا سی پی پی اے کی درخواست کے اعداد و شمار کا جائزہ لے کر فیصلہ جاری کرے گی۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • وینزویلا میں زلزلے کے 4 روز بعد بچوں سمیت 4 افراد ملبے سے زندہ نکال لیے گئے

    وینزویلا میں زلزلے کے 4 روز بعد بچوں سمیت 4 افراد ملبے سے زندہ نکال لیے گئے

    کاراکاس (ویب ڈیسک )وینزویلا میں تباہ کن زلزلے کے چار روز بعد امدادی ٹیموں نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 11 سالہ دو بچوں سمیت مزید چار افراد کو ملبے سے زندہ نکال لیا۔
    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے اور تازہ کامیابی کے بعد ملبے سے زندہ نکالے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد 33 ہو گئی ہے۔ امدادی کارکن انتہائی احتیاط سے ملبہ ہٹا کر لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق ہولناک زلزلے میں اب تک 1,430 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 3,360 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 69 ہزار افراد تاحال لاپتا بتائے جا رہے ہیں، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
    امدادی کارروائیوں میں مقامی فوج، ریسکیو اداروں اور مختلف ممالک سے آنے والے سیکڑوں بین الاقوامی امدادی کارکن حصہ لے رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بھاری مشینری اور خصوصی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی تعینات ہیں۔
    یورپی یونین نے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے 50 لاکھ ڈالر سے زائد کی ہنگامی مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق زلزلے سے متاثرہ تقریباً 18 لاکھ افراد کو فوری انسانی امداد، خوراک، پینے کے صاف پانی، طبی سہولیات اور عارضی رہائش کی ضرورت ہے۔
    دوسری جانب پوپ لیو نے وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی و متاثرین کی جلد بحالی کے لیے دعا کی ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ٹرمپ اور نائب صدر کی پاکستان کے کردار کی ایک بار پھر تعریف

    ٹرمپ اور نائب صدر کی پاکستان کے کردار کی ایک بار پھر تعریف

    واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکا ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی مسلسل قائدانہ صلاحیت، مؤثر سفارت کاری اور دانشمندانہ کردار کو سراہا
    پاکستان امریکا المنائی نیٹ ورک (پی یو اے این) نے ای کامرس اور ڈیجیٹل تجارت اور امریکی آزادی کی 250ویں سالگرہ پر ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کیا تاکہ نوجوانوں اور کاروباری افراد کو نئے مواقع اور جدت کی طرف راغب کیا جا سکے
    فریڈم 250 تقریبات کے تحت فنونِ لطیفہ کے شعبے میں ابھرتے ہوئے کاروباری اور تخلیقی افراد کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔تقریب کے آخر میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے جوش و خروش کا ذکر کیا گیا اور امریکی ٹیم کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا گیا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • 18 سال سے کم عمر شادی کو جرم قرار دینا خلافِ شریعت ہے،  قانون چیلنج کردیا گیا

    18 سال سے کم عمر شادی کو جرم قرار دینا خلافِ شریعت ہے، قانون چیلنج کردیا گیا

    لاہور (ویب ڈیسک )پنجاب میں 18 سال سے کم عمر شادی کو جرم قرار دینے والے قانون کے خلاف فیڈرل شریعت کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔یہ درخواست مفتی محمد اسلم نے اپنے وکیل مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی، جس میں گورنر پنجاب کو بذریعہ سیکریٹری سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 کی شق 2(ڈی)، شق 3 اور دیگر متعلقہ دفعات آئین سے متصادم ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق 18 سال سے کم عمر شادی کو جرم قرار دینا شریعت کے بھی خلاف ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاست کو نظم و ضبط اور انتظامی امور سے متعلق قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، تاہم شریعت سے متعلق معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت سے استدعا ہے کہ 18 سال سے کم عمر نکاح کی خلاف ورزی پر سزا کو جرم قرار دینے کا اقدام غیر قانونی قرار دیا جائے۔درخواست گزار نے فیڈرل شریعت کورٹ سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 کی شق 2(سی)، شق 2(ڈی) سمیت دیگر متعلقہ دفعات کو کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک آرڈیننس پر عمل درآمد بھی معطل کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔

  • لالچی شخص نے آن لائن ویڈیو  دیکھ کر 4 افراد کو قتل کردیا

    لالچی شخص نے آن لائن ویڈیو دیکھ کر 4 افراد کو قتل کردیا

    ممبی (ویب ڈیسک )بھارت میں سفاک اور لالچی شخص نے آن لائن ویڈیو دیکھ کر 4 افراد کو قتل کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے شہری اسلم نے پیسوں کی خاطر اپنے ہی خاندان کے افراد کو قتل کیا۔
    پولیس کے مطابق قتل کی واردات کا علم 22 جون کو اس وقت ہوا جب پڑوسیوں نے ایک گھر سے شدید تعفن اٹھنے کی شکایت کی۔
    پولیس نے بتایا کہ ملزم اسلم کار ڈرائیور ہے جو حیدرآباد میں رہتا ہے، وہ اپنے شاہانہ طرز زندگی اور قرضوں کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کررہا تھا۔
    پولیس کا کہنا ہےکہ اسلم نے ماضی میں اپنی بیوی کی خالہ حسینہ سے ایک لاکھ روپے ادھار لیے تھے، اس نے حال ہی میں حسینہ سے نئی کار خریدنے کے لیے ایک لاکھ روپے کے نئے قرض کے لیے رابطہ کیا جس پر حسینہ نے انکار کرتے ہوئے پچھلا قرض ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
    اسلم کی اہلیہ تبسم اپنی خالہ حسینہ کے خلاف ذاتی رنجش رکھتی تھی تاہم تبسم نے شوہر کو خالہ کے گھر چوری کرنے کا مشورہ دیا، مالی مقاصد اور دشمنی کے باعث اسلم نے آن لائن ویڈیوز دیکھنا شروع کردیں۔
    اپنے منصوبے کے مطابق اسلم مبینہ طور پر 19 جون کی صبح حسینہ کے گھر پہنچا اور اسے چاقو کے وار کرکے قتل کردیا، بعد میں اس نے حسینہ کے شوہر اور ان کے دو بچوں پر بھی حملہ کیا اور پھر گھر سے طلائی زیورات، زمین اور بینک کے کاغذات چوری کرکے فرار ہوگیا۔
    اسلم نے چوری شدہ قیمتی سامان حیدرآباد کے ایک جیولر کے پاس ایک دوست کی مدد سے 5 لاکھ 30 ہزار روپے میں گروی رکھا۔
    پولیس کے مطابق اسلم کے ساتھ اس کی بیوی اور اس کے دوست کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جس نے قیمتی سامان گروی رکھنے میں اس کی مدد کی تھی تاہم کارروائی کرتے ہوئے جوہری کو بھی گرفتار کرلیا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کردیا

    حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کردیا

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کردیا۔ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ڈیزل پر لیوی 6 روپے57 پیسے فی لیٹر بڑھا دی گئی جس کے بعد ڈیزل پر لیوی بڑھ کر 79 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔پیٹرول پر لیوی میں 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس سے پیٹرول پر لیوی بڑھ کر 66 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔اس کے علاوہ مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے36 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہےواضح رہے کہ حکومت نے آئندہ ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھی ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے