Blog

  • وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے مستعفی ہونے کیلئے شرط عائد کردی

    وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے مستعفی ہونے کیلئے شرط عائد کردی

    مظفرآباد:(کنزیومرواچ نیوز) وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے مستعفی ہونے کے لیے شرط عائد کردی۔ذرائع کے مطابق چوہدری انوار الحق نے حامی وزراء اور اراکین اسمبلی کے لیے ترقیاتی فنڈز اور جاری منصوبوں کی گارنٹی مانگ لی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری انوار الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ ن لیگ کے وزراء اور ٹکٹ ہولڈرزکوبھی آئندہ الیکشن سے قبل برابری کی بنیاد پرفنڈز دیے جائیں۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اتفاق کر چکی ہیں اور ذرائع کا اس حوالے سے بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی کو تحریک عدم اعتماد کے لیے 36 ارکان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔دوسری جانب چوہدری انوار الحق نے بھی تاحال وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ نہیں دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر نمبرز پورے ہیں تو تحریک عدم اعتماد لے آئیں۔

  • پاکستان کو آزمانا افغان طالبان  کیلئے بہت مہنگا ثابت ہوگا: خواجہ آصف

    پاکستان کو آزمانا افغان طالبان کیلئے بہت مہنگا ثابت ہوگا: خواجہ آصف

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی ناکامی پر ردعمل میں کہا کہ افغان طالبان کی دھوکہ دہی مزید برداشت نہیں کریں گے، اگر وہ لڑنا چاہتے ہیں تو دنیا سب کچھ دیکھے گی، ہم طالبان کو دوبارہ غاروں میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سوشل میڈیا پر جاری تفصیلی بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ برادر ممالک کی درخواست پر پاکستان نے امن کیلئے مذاکرات کا آغاز کیا لیکن افغان حکام کے زہریلے بیانات طالبان کی بدنیت سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا افسوس طالبان حکومت افغانستان کو دوبارہ تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے، ہم طالبان کو دوبارہ غاروں میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاکستان کو اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر چاہیں تو تورا بورا کی شکست کے مناظر دہرائیں گے۔وزیر دفاع نے لکھا کہ افغان طالبان صرف اپنے ناجائز اقتدار کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، افغان طالبان کی جنگی معیشت صرف تباہی اور خونریزی پر قائم ہے، افغان طالبان اپنی کمزوری جانتے ہیں مگر جنگی نعرے لگا رہے ہیں، اگر طالبان حکومت افغانستان کو تباہ کرنا چاہتی ہے تو ہو جانے دیں۔انہوں نے کہا کہ “سلطنتوں کا قبرستان‘‘ صرف افغان عوام کی تباہی کا نشان ہے، افغانستان ہمیشہ سے سلطنتوں کے کھیل کا میدان رہا ہے، افغان طالبان کے جنگ پسند عناصر نے ہماری ہمت کو غلط سمجھا ہے، اگر وہ لڑنا چاہتے ہیں تو دنیا سب کچھ دیکھے گی، اسلام آباد: ان کی دھمکیاں صرف تماشا ہیں، حقیقت نہیں۔خواجہ آصف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ہم نے تمہاری دھوکا دہی بہت عرصہ برداشت کی ہے، اب مزید برداشت نہیں کریں گے، وقت بدل چکا ہے، پاکستان کسی بھی دہشت گردانہ یا خودکش حملے کو برداشت نہیں کرے گا، کسی بھی مہم جوئی کا جواب سخت اور کڑوا ہو گا، طالبان رجیم کو چاہیے کہ اپنے انجام کا حساب ضرور رکھیں کیونکہ پاکستان کے عزم اور صلاحیتوں کو آزمانا ان کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوگا۔

  • پاکستان افریقہ معاشی تعلقات نئی بلندیوں کو چھو سکتے  ہیں….. شیخ راشد عالم

    پاکستان افریقہ معاشی تعلقات نئی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں….. شیخ راشد عالم

    براعظم افریقہ جو کبھی بھوک، افلاس اور غربت کی جیتی جاگتی تصویر سمجھا جاتا تھا، آج تیز رفتار ترقی اور مسلسل معاشی تبدیلیوں کے باعث دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ براعظم 54 ممالک، ایک ارب چالیس کروڑ آبادی، اور تقریباً تین کھرب ڈالر کے جی ڈی پی کے ساتھ عالمی معیشت کا ایک اہم کرداربن چکا ہے۔
    بڑھتی ہوئی آبادی، زرخیز زمین، کان کنی، توانائی کے وسائل اور تیزی سے ترقی کرتی معیشت نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو اس براعظم کی طرف متوجہ کر لیا ہے۔
    براعظم افریقہ کی اہمیت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں منعقدہ ترک افریقہ بزنس فورم میں بتایا کہ افریقہ کے ساتھ ترکی کی تجارت کا حجم 2003 میں 5.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 40 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ترک تعمیراتی کمپنیوں نے افریقہ میں دو ہزار سے زیادہ منصوبے مکمل کیے ہیں جن کی مجموعی مالیت 97 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
    چین نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت افریقہ میں بندرگاہوں، ریلوے لائنوں، شاہراہوں، توانائی کے منصوبوں اور صنعتی زونز میں 300 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ہے۔ ایتھوپیا، کینیا، نائیجیریا اور مصر جیسے ممالک میں چینی انجینئرز سینکڑوں منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔ بیجنگ نے افریقہ کو قرضوں، تکنیکی معاونت اور انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعے اپنی مضبوط شراکت داری کا مرکز بنایا ہے۔
    بھارت نے افریقہ کے ساتھ تاریخی تعلقات کو جدید انداز میں استوار کیا ہے۔ نئی دہلی نے تعلیم، آئی ٹی، صحت، فارماسیوٹیکل اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ بھارتی کمپنیاں کینیا، جنوبی افریقہ اور نائیجیریا میں موبائل بینکنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دواؤں کی صنعت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
    یورپی یونین افریقہ کو اپنی قریب ترین ابھرتی ہوئی مارکیٹ قرار دیتی ہے۔ یورپ نے توانائی، زراعت، گرین انرجی اور صنعتی زونز کے قیام میں بڑے پیمانے پر شراکت داری کی ہے۔ یورپی سرمایہ کار افریقہ میں روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کر رہے ہیں، جس سے مقامی
    معیشتوں کو استحکام حاصل ہو رہا ہے۔
    ایسے عالمی ماحول میں پاکستان نے بھی افریقہ کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ کی جانب توجہ مبذول کی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے چند سال قبل Policy Africa Look کا آغاز کیا جس کا مقصد براعظم افریقہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے راستے کھولنا ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل تشکیل دی جا رہی ہے جو پاکستان اور افریقہ کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرے گی۔ یہ کونسل ٹیکنالوجی، تعلیم و تربیت، صنعت، روزگار اور تجارت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہوگی۔ منصوبے کے تحت پچاس ہزار افراد کی تربیت، ایک لاکھ ملازمتوں کے مواقع، اور دو ارب ڈالر کی پاکستانی سرمایہ کاری کو عملی شکل دی جائے گی۔
    پاکستانی برآمدات اب جنوبی افریقہ، کینیا، نائیجیریا، مصر اور تنزانیہ جیسے ممالک تک پھیل چکی ہیں۔ ان میں چاول، ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات اور ادویات نمایاں ہیں۔ پاکستانی کمپنیاں زراعت، فوڈ پراسیسنگ، تعمیرات، توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں شمولیت کی تیاری کر رہی ہیں۔
    افریقہ اس وقت انفراسٹرکچر اور توانائی کے کئی عظیم منصوبوں کا مرکز ہے، جن میں مشرقی افریقہ ریلوے نیٹ ورک، مغربی افریقہ پاور گرڈ، اور شمالی افریقہ کے شمسی توانائی کے میگا پراجیکٹس شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں پاکستانی انجینئرنگ، کنسٹرکشن اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے شمولیت کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
    افریقہ تیزی سے عالمی سرمایہ کاری، تجارت اور ترقی کا نیا محور بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی افرادی قوت، صنعتی مہارت اور کاروباری تجربے کے ذریعے اس ابھرتے ہوئے براعظم میں فعال کردار ادا کرے۔ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل، نجی شعبے کی شمولیت، اور ‘‘ Policy Africa Look ’’ کے عملی اقدامات سے آنے والے برسوں میں پاکستان اور افریقہ کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔

  • چین کا خاموش دماغ ۔ کوانٹم کمپیوٹنگ …ارم زہرا ۔ چین

    چین کا خاموش دماغ ۔ کوانٹم کمپیوٹنگ …ارم زہرا ۔ چین

    میں شنگھائی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ہال میں کھڑی تھی، کھڑکی کے اُس پار جگمگاتی روشنیوں کا سمندر پھیلا ہوا تھا۔ اکتوبر کی ٹھنڈی ہوا جیسے میرے حواس کو ہلکے ہلکے تھپکیاں دے رہی تھی۔ دل میں ایک عجب سی گدگدی تھی ۔جیسے میں کسی نئے جہاں میں قدم رکھنے والی ہوں۔ میں، ٹیکنالوجی کے اس دیو ہیکل شہر میں یہ دیکھ رہی تھی کہ آخر چین نے اپنی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کو کس طرح دنیا کے سینے پر نقش کیا ہے۔
    ٹیکسی نے جب شنگھائی کے جدید ہائی وے پر رفتار پکڑی، تو دونوں اطراف بلند و بالا عمارتیں ایسے اٹھتی چلی گئیں جیسے لوہے کے درخت آسمان کو چھونے نکلے ہوں۔ میں نے سوچا، یہی وہ سرزمین ہے جہاں “China Silicon 2030” کے خواب حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔
    یہ کوئی عام منصوبہ نہیں، بلکہ ایک ایسا قومی عزم ہے جس نے پورے ملک کو ایک سمت میں کھڑا کر دیا ہے۔ “چائنا سلیکون 2030” دراصل اس خواب کا نام ہے جس کے تحت چین نے فیصلہ کیا کہ اب وہ سیمی کنڈکٹرز کے لیے کسی پر انحصار نہیں کرے گا، بلکہ اپنی چپ اپنی سرزمین پر بنائے گا ۔ تیزی سے، بہتر انداز میں، اور دنیا کو پیچھے چھوڑ کر۔ یہ منصوبہ اُس وقت جنم لینے لگا جب عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی رسہ کشی تیز ہوئی، اور غیر ملکی پابندیوں نے چین کو یاد دلایا کہ ٹیکنالوجی میں خودمختاری ہی اصل طاقت ہے۔ اسی ضرورت نے اسے ایک بڑے وژن میں ڈھالا ۔ ایسا وژن جو فیکٹریوں سے آگے، قوم کے مزاج میں سرایت کر گیا۔
    اس کے مقاصد واضح ہیں ۔ جو خود کفالت، عالمی قیادت، اور ایک ایسا صنعتی ڈھانچہ جو آنے والے برسوں میں نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے ٹیکنالوجی نقشے کو بدل دے۔ یہ صرف چپس بنانے کا منصوبہ نہیں ، یہ ایک سوچ کی آزادی کا اعلان ہے
    اگلی صبح میں شنگھائی انوویشن زون پہنچی۔ اندر داخل ہوتے ہی محسوس ہوا جیسے میں کسی مستقبل کے شہر میں آ گئی ہوں۔ ہوا میں ہلکی سی دھند تھی، مگر عمارتوں کے شیشوں سے جھلکتی نیلی روشنی سب کچھ شفاف بنا رہی تھی۔ یہاں سیمی کنڈکٹر فاؤنڈریز کے اندر جانے کے لیے مجھے خاص لباس پہننا پڑا سفید اوور آل، دستانے اور ماسک۔ اندر کا منظر نقرئ روشنیوں سے منور تھا اور ایسی صفائی جو روح تک سرایت کر جائے۔
    میرے ساتھ ایک چینی انجینئر تھی، مس لِی۔ وہ آہستہ آہستہ بولتی تھی، جیسے کسی مقدس علم کے اسرار کھول رہی ہو۔ اُس نے بتایا کہ چین نے “China Silicon 2030” پروگرام کے تحت 3 نینو میٹر (3nm) ٹیکنالوجی پر مبنی چپس کی مقامی تیاری شروع کر دی ہے۔ شنگھائی اور شینزن میں فیکٹریاں دن رات جاگتی ہیں ۔ایک مشین بند ہو تو دوسری سانس لیتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ “ہم وقت سے دوڑ لگانے نکلے ہیں، کیونکہ ٹیکنالوجی میں جو پیچھے رہ گیا، وہ ماضی بن جاتا ہے۔”
    میں نے دیکھا ۔ روبوٹ بازو دھیرے دھیرے حرکت کر رہے تھے، جیسے کسی کلاسیکل رقص کی مشق ہو رہی ہو۔ روشنیوں کی جھلملاہٹ میں سرور کا سا عالم تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ ٹیکنالوجی صرف تاروں اور مشینوں کا کھیل نہیں، بلکہ ایک خواب ہے ۔محنت، نظم و ضبط اور عزم کا خواب۔
    یہاں ایک کونے میں ایک بورڈ لگا تھا
    ‏“2025: Self-reliance — 2030: Leadership”
    یہ صرف نعرہ نہیں تھا، ایک قوم کا منشور تھا۔ امریکا کی پابندیوں نے جس ٹیکنالوجی کی رسائی محدود کی، چین نے اسی کو اپنی سب سے بڑی تحریک بنا لیا۔ یہاں 200 ارب یوآن کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ یہ صرف ایک صنعتی منصوبہ نہیں بلکہ قومی وقار کا استعارہ بن چکا ہے۔
    میں نے کراچی کے اپنے گلی کوچوں کو یاد کیا ۔ وہی دھندلی شامیں، وہی بے ترتیب شور اور سوچا، کاش ہمارے ہاں بھی ایسا کوئی خواب اجتماعی جذبے میں ڈھل پاتا۔ میرے سامنے چین تھا۔ایک ایسی قوم جس نے خواب دیکھا، اور پھر اُسے بُن کر دھرتی پر اتار دیا۔
    واپسی پر گاڑی جب شہر کی سڑکوں پر واپس اتر رہی تھی، تو شنگھائی کی روشنیاں میرے ذہن میں نقش ہو چکی تھیں۔ مجھے لگا جیسے یہ سفر صرف ایک ملک کا نہیں، ایک مستقبل کا سفر تھا۔
    اگلی صبح ابھی مکمل بیدار نہیں ہوئی تھی۔ شنگھائی کے آسمان پر ہلکی ہلکی دھند تیر رہی تھی جیسے کسی مصور نے نیلے کینوس پر دودھیا رنگ ہلکے ہاتھ سے پھیر دیا ہو۔ میں ہوٹل کی بالکونی میں کھڑی چائے کی چسکیاں لے رہی تھی اور ذہن میں پچھلے روز کا منظر گھوم رہا تھا ۔وہ سیمی کنڈکٹر فاؤنڈری کی جگمگاتی دنیا، وہ مشینوں کا رقص، وہ خوابوں کی مشقت کا شور۔ لیکن آج میرا سفر کسی اور سمت تھا، اور یہ سمت ٹیکنالوجی کی شاید سب سے گہری اور پراسرار وادی کوانٹم کمپیوٹنگ کی طرف جا رہی تھی۔
    گاڑی جب ہِفے (Hefei) کی طرف رواں ہوئی تو راستے میں خنکی تھوڑی تیز ہو گئی۔ درختوں کے پتوں پر اوس کے قطرے چمک رہے تھے۔ مجھے لگا جیسے کوئی صبح خود سونے کے زیورات پہن کر میرے استقبال کو نکلی ہو۔ یہ وہی شہر ہے جہاں “Jiuzhang 4” نامی کوانٹم پروسیسر کی لیب واقع ہے ۔ ایک ایسا مقام جسے کئی لوگ “چین کا خاموش دماغ” کہتے ہیں۔
    لیب کے باہر سکیورٹی نہایت سخت تھی۔ جب میں اندر داخل ہوئی تو ہوا میں ٹھنڈک کے ساتھ ایک سنجیدگی بسی ہوئی تھی۔ سفید لبادوں میں ملبوس سائنسدان، کمپیوٹر اسکرینوں پر جھکے ایسے تھے جیسے کسی مقدس کتاب کا مطالعہ کر رہے ہوں۔ میرے ساتھ ایک نوجوان محقق تھی، ژاؤ مین۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی ۔جیسے کوئی اپنی کامیابی کو لفظوں میں نہیں، نگاہوں میں سمیٹے ہوئے ہو۔
    ژاؤ نے دھیرے سے کہا، “Jiuzhang 4… ہماری چوتھی نسل کا کوانٹم پروسیسر ہے۔ یہ کلاسیکل سپر کمپیوٹر سے کئی گنا تیز حساب کر سکتا ہے۔” اُس کی آواز میں غرور نہیں، بلکہ یقین بولتا تھا۔ میں نے شیشے کی دیوار کے پار دیکھا ۔ ایک بڑی سی شفاف چیمبر میں چمکتی ہوئی سنہری مشین جیسے کسی مستقبل کے زمانے سے لا کر رکھی گئی ہو۔
    یہ پروسیسر کوانٹم لائٹ فوٹونز کے اصولوں پر کام کرتا ہے، اور پیچیدہ ریاضیاتی حسابات کو لمحوں میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ژاؤ بتا رہی تھی کہ اسے کرپٹوگرافی، مصنوعی ذہانت اور مالیاتی ماڈلز میں انقلاب لانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ امریکا اور یورپ کے بعد چین نے اب اس میدان میں عالمی قیادت کا دعویٰ کر دیا ہے۔
    لیب کے اندر ایک کمرے کی دیوار پر ایک قول آویزاں تھا
    ‏“Speed is power, and knowledge is sovereignty.”
    (رفتار طاقت ہے، اور علم خودمختاری۔)
    میں نے سوچا یہی فلسفہ ہے جو اس قوم کے ہر خواب میں دھڑکتا ہے۔ جہاں ہمارا خطہ ابھی انٹرنیٹ کی رفتار پر الجھا ہے، یہاں مستقبل کے کمپیوٹرز پر بحث ہو رہی ہے۔
    میں نے ژاؤ سے پوچھا، “یہ سب کچھ کتنی دیر میں ممکن ہوا؟”
    اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “صرف پندرہ سال… مگر اصل چیز وقت نہیں، ارادہ ہوتا ہے۔”
    واپسی پر میں نے گاڑی کی کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ہِفے کے پرسکون درختوں کے بیچ ہلکی دھند میں یہ شہر کسی علمی داستان کا حصہ لگ رہا تھا۔
    شنگھائی لوٹتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ میرا یہ سفر صرف ایک سیاح کا نہیں رہا۔ میں ایک ایسی دنیا کی شاہد بن رہی تھی جہاں علم، محنت اور خواب مل کر مستقبل تراشتے ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا، یہ تو ابھی آغاز ہے۔
    شنگھائی واپس آئے ابھی ایک دن بھی نہیں گزرا تھا کہ دل میں ایک نئی بےچینی سر اٹھانے لگی ۔جیسے کوئی نیا منظر میری آنکھوں کے سامنے خود کو ظاہر کرنے کو بے تاب ہو۔ ٹیکنالوجی کا یہ ملک مجھے روز ایک نئی پرت دکھا رہا تھا، ایک نئی کہانی سنا رہا تھا۔ آج میرا پڑاؤ تھا ہانگژو (Hangzhou) وہ شہر جسے اکثر لوگ “ڈیجیٹل چین کا دل” کہتے ہیں۔
    صبح سویرے ٹرین اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے ہی ٹھنڈی ہوا نے گالوں کو چھو کر جیسے خوش آمدید کہا۔ تیز رفتار بلٹ ٹرین نے شنگھائی سے ہانگژو تک کا سفر یوں کاٹ لیا جیسے کوئی خیال دماغ میں سے گزر جائے۔ کھڑکی کے پار دھند میں لپٹے پہاڑ اور جدید عمارتیں ایک ساتھ دکھائی دے رہے تھے — جیسے ماضی اور مستقبل ایک ہی تصویر میں آ گئے ہوں۔
    ہانگژو پہنچ کر میرا پہلا اسٹاپ تھا “نیشنل AI سپر کمپیوٹنگ سینٹر”۔ یہ عمارت کسی عام ٹیکنالوجی لیب جیسی نہیں تھی ۔یہ کسی مستقبل کے شہر کی یاد دلاتی تھی۔ اونچی چمکتی دیواریں، خودکار دروازے، اور ہر طرف نیلی روشنیوں کا ہلکا سا ساگر۔ اندر داخل ہوتے ہی ایسا لگا جیسے وقت کی رفتار کچھ اور ہی ہو گئی ہو ۔تیز، شفاف اور بے آواز۔
    مجھے ایک راہداری سے گزارا گیا جہاں شیشے کے پار لمبی لمبی قطاروں میں سپر کمپیوٹرز کے ریکس چمک رہے تھے۔ یہ وہی سینٹر ہے جہاں چین نے جنریٹو AI، انڈسٹریل آٹومیشن اور ڈیفنس ٹیکنالوجی کے لیے ڈیٹا پروسیسنگ کا عالمی معیار قائم کیا ہے۔ یہاں کے کمپیوٹرز سیکنڈوں میں وہ کام کرتے ہیں جسے عام کمپیوٹر دنوں میں انجام دیتے۔
    میری رہنمائی ایک نوجوان چینی خاتون کر رہی تھی، جس کا نام “می لینگ” تھا۔ وہ پُر اعتماد لہجے میں بولی، “یہ جگہ ہمارا دماغ ہے۔ یہاں ہم مصنوعی ذہانت کو صرف سکھاتے نہیں، اُسے سوچنا بھی سکھاتے ہیں۔” اس کی آواز میں وہی اعتماد تھا جو میں نے ژاؤ کی آنکھوں میں کوانٹم لیب میں دیکھا تھا۔
    می لینگ مجھے ایک بڑی سکرین کے سامنے لے گئی ۔جہاں چین کے مختلف شہروں کے سپر کمپیوٹنگ سینٹرز ایک نیٹ ورک کے ذریعے جڑے ہوئے تھے۔ میں نے حیرت سے دیکھا کہ بیجنگ، ہانگژو اور شینزن کے ڈیٹا سینٹرز ایک مربوط نظام کی طرح ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کر رہے تھے۔ یہ صرف کمپیوٹنگ نہیں تھی ۔ یہ قومی ذہانت کا جال تھا۔
    اس نے بتایا کہ ان سینٹرز کا استعمال محض سائنسی تحقیق تک محدود نہیں، بلکہ توانائی، زراعت، ٹرانسپورٹ، میڈیکل، اور دفاعی منصوبوں میں بھی کیا جاتا ہے۔ حکومت نے 10 ایسے سینٹرز کا نیٹ ورک قائم کیا ہے جو دنیا کے کسی بھی AI انفراسٹرکچر کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ان میں سے کئی دنیا کے ٹاپ 10 سپر کمپیوٹرز میں شامل ہو چکے ہیں۔
    میں نے سوچا میرے کراچی میں بجلی کا ایک جھٹکا کسی اسپتال کا وینٹی لیٹر بند کر دیتا ہے، اور یہاں بجلی اور ڈیٹا کا ایسا جال بچھایا گیا ہے جو قوم کا مستقبل سنوار رہا ہے۔ یہ فرق صرف وسائل کا نہیں، ترجیحات کا بھی ہے۔
    باہر نکلی تو ہانگژو کی فضا میں ہلکی ہلکی نمی اور چمکدار دھوپ کا ملاپ تھا۔ درختوں کے پتوں پر سورج کی کرنیں پڑتی تھیں تو وہ روشنی بکھیر دیتے جیسے سینٹر کی اندرونی توانائی باہر بھی چھلک پڑی ہو۔ میرے ذہن میں اب تین تصویریں تھیں شنگھائی کی سیمی کنڈکٹر فیکٹری، ہِفے کی کوانٹم لیب، اور ہانگژو کا یہ AI سینٹر تینوں ایک ہی خواب کی مختلف شکلیں۔
    اور میں نے سوچا… میرا یہ سفر کسی محض سیر و تفریح کا سفر نہیں، یہ سبق کا سفر ہے۔ وہ سبق جو ایک دن میرے شہر، میرے ملک کے نصیب بدل سکتا ہے — اگر ہم خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت بنانے کا حوصلہ پیدا کریں۔
    ہانگژو کے AI سپر کمپیوٹنگ سینٹر سے نکلنے کے بعد میرے دل میں ایک نئی آگ سی دہکنے لگی تھی ۔ وہی آگ جو کسی خواب کو دیکھنے کے بعد اس کے تعاقب میں نکلنے والے کو بے چین کر دیتی ہے۔ اگلا پڑاؤ تھا بیجنگ ۔ وہ شہر جو طاقت، علم اور مستقبل کا سنگم ہے۔ یہاں میرا سفر کسی عام تجربے کا نہیں تھا؛ میں جا رہی تھی وہاں، جہاں چین آنے والے زمانے کی سانسیں بُن رہا ہے ۔ 6G ریسرچ سنٹر۔
    صبح کی پہلی روشنی جب بیجنگ کی سڑکوں پر گری تو شہر کسی خوبصورت ناول کے صفحے کی طرح کھل اٹھا۔ چوڑی شاہراہوں کے کنارے قطار در قطار درختوں پر خزاں کی ہلکی رنگت جھلک رہی تھی۔ ہوا میں وہی خنکی تھی جو کسی بڑے انکشاف سے پہلے محسوس ہوتی ہے۔ گاڑی جب Huawei کے ریسرچ کیمپس کے قریب پہنچی تو دور سے ہی بلند اینٹینا ٹاورز اور چمکتی ہوئی عمارتوں نے میرا استقبال کیا۔
    یہ جگہ دیکھ کر ایک لمحے کو لگا جیسے میں کسی سائنس فکشن فلم کے سیٹ پر آ گئی ہوں۔ دروازے پر لگے خودکار اسکینرز نے میرے قدموں کو تھام کر ایک ترتیب میں ڈال دیا۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک روشن راہداری میں چلتے چلتے میرا سامنا ایک وسیع ہال سے ہوا ۔جہاں دنیا کا مستقبل تشکیل پا رہا تھا۔
    یہاں 6G پر تحقیق 2019 سے جاری ہے۔ آج، 2025 میں، چین دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ 2028 تک دنیا میں 6G کو کمرشلائز کرنے والا پہلا ملک ہوگا۔ ایک سائنسدان مسٹر آن نے میرا خیرمقدم کیا۔ وہ چھوٹے قد کے مگر بجلی سی تیزی رکھنے والے انسان لگے۔ انہوں نے ایک بڑے ڈسپلے پر 6G نیٹ ورک کی رفتار کا ڈیٹا دکھایا ۔ 1 Tbps۔ میں نے ہلکا سا سانس اندر کھینچا۔ یہ رفتار میرے ملک کے کئی خوابوں سے بھی تیز تھی۔ مسٹر آن نے کہا ، “5G نے دنیا کو جوڑ دیا، مگر 6G دنیا کو بدل دے گا۔”
    ان کی آنکھوں میں وہی روشنی تھی جو میں نے ہانگژو کی انجینئر می لینگ کی آنکھوں میں دیکھی تھی ۔یقین کی روشنی۔
    انہوں نے مجھے ایک ٹیسٹنگ ایریا میں لے جا کر دکھایا کہ کیسے 6G نیٹ ورک میں رئیل ٹائم ہولوگرافک کالز ممکن ہیں۔ ایک چینی طالب علم دوسرے کمرے میں بیٹھا تھا، اور میں یہاں۔ جیسے ہی اس نے بات کی، اس کی شبیہ میرے سامنے تھری ڈی میں ابھری جیتی جاگتی، سانس لیتی۔ میں حیرت سے مسکرائی۔ مجھے لگا جیسے پردہ وقت ہٹ گیا ہو اور ہم مستقبل میں آ نکلے ہوں۔
    یہ ٹیکنالوجی محض رفتار کی کہانی نہیں یہ کنیکٹیویٹی کا نیا باب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 6G کا استعمال سرجری، خودکار گاڑیوں، ایجوکیشن، دفاع اور خلائی تحقیق میں ہوگا۔ چین اس وقت ZTE اور Huawei کے ذریعے ملک بھر میں فیلڈ ٹرائلز کر رہا ہے، اور بیجنگ سمیت 5 بڑے شہروں میں پائلٹ نیٹ ورکس فعال ہو چکے ہیں۔
    میں نے سوچا میرے کراچی میں لوگ اب بھی سگنل ڈراپ ہونے پر ہنستے ہیں، اور یہاں سگنل مستقبل کے دروازے کھول رہے ہیں۔ فرق صرف رفتار کا نہیں، نظریے کا ہے۔
    عمارت سے باہر نکلی تو سورج اپنی پوری چمک کے ساتھ بیجنگ کے آسمان پر مسکرا رہا تھا۔ دور کوئی درختوں میں سے ہوا گزرتی تھی اور ہلکی ہلکی سیٹی بجاتی تھی۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا یہی آسمان کبھی ہمارے سر پر بھی ہے۔ لیکن کچھ قومیں اس آسمان کو دیکھ کر ستاروں کے خواب بنتی ہیں، اور کچھ بس سایہ تلاش کرتی ہیں۔
    یہ میرا چوتھا پڑاؤ تھا، اور ہر قدم کے ساتھ میرا دل یہ کہتا جا رہا تھا کہ یہ سفر مجھے بدل رہا ہے۔ میں اب صرف ایک مسافر نہیں رہی میں مشاہدے کی امانت دار بن چکی تھی۔
    بیجنگ کے اس دھوپ بھرے دن کے بعد میرا سفر ایک اور سمت مڑ گیا۔ اس بار منزل کسی اینٹینا یا سرور روم کی نہیں، بلکہ انسان کے اندر چھپی دنیا کی تھی۔ اگلا پڑاؤ تھا شینزن (Shenzhen) وہ شہر جو چین کا جدید ترین چہرہ کہلاتا ہے۔ یہاں صرف عمارتیں بلند نہیں ہوتیں، یہاں خواب بھی آسمان سے اونچے بنتے ہیں۔
    جب طیارہ شینزن کے ہوائی اڈے پر اترا تو ہوا میں ہلکی سی سمندری نمی گھلی ہوئی تھی۔ شہر کا منظر کچھ ایسا تھا جیسے نیلا آسمان اور شیشے کی عمارتیں ایک دوسرے میں گھل مل کر روشنی کا کوئی نیا رنگ ایجاد کر رہی ہوں۔ میں نے اپنے بیگ کی زِپ بند کی اور اس سوچ کے ساتھ لیب کی سمت روانہ ہوئی کہ آج کا دن مختلف ہونے والا ہے کیونکہ آج میں دیکھوں گی کہ AI کس طرح بایوٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر زندگی کو نئے معنی دے رہی ہے۔
    جیسے ہی بایوٹیک پارک کے دروازے پر پہنچی، سفید رنگ کا وہ شفاف سا ماحول میرا منتظر تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی ماحول کسی اسپتال جیسا پرسکون اور لیبارٹری جیسا منظم محسوس ہوا۔ دور تک قطار میں لگی مشینیں جیسے خاموشی سے کسی بڑے معجزے کی تیاری میں مصروف ہوں۔
    یہاں میری ملاقات ڈاکٹر ژاؤ لین سے ہوئی ایک درمیانی عمر کی خاتون سائنسدان جن کی مسکراہٹ میں نرمی تھی مگر نظریں غیر معمولی استقامت رکھتی تھیں۔ انہوں نے بڑے سادہ لہجے میں کہا “یہاں ہم بیماریوں سے لڑنے کے لیے محض دوائیں نہیں بناتے… ہم ڈی این اے کے الفاظ پڑھتے اور ان میں ترمیم کرتے ہیں۔ اور یہ سب مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکن ہو رہا ہے۔”
    میں ان کے ساتھ ایک ہال میں داخل ہوئی جہاں اسکرینوں پر جینیاتی نقشے رنگوں میں جھلملاتے دکھائی دے رہے تھے۔ ڈاکٹر ژاؤ نے بتایا کہ AI اب روایتی سائنسدانوں سے کہیں زیادہ تیزی سے ڈیٹا پڑھ سکتا ہے، غلطیاں پکڑ سکتا ہے اور نئی دوائیں تجویز کر سکتا ہے۔ ایک طرف روبوٹک بازو خون کے نمونے اسکین کر رہے تھے اور دوسری جانب الگورتھم ان ڈیٹا پوائنٹس کو کسی کہانی کی طرح جوڑ رہے تھے۔
    ڈاکٹر ژاؤ نے مجھے ایک کیس دکھایا۔ کینسر سیلز کی ابتدائی شناخت جو عام طریقے سے مہینوں میں ممکن ہوتی ہے ۔ یہاں چند گھنٹوں میں ہو رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا، “یہ AI ہماری آنکھیں تیز کر رہا ہے… اور امید کو لمبا۔”
    میں نے سوچا، یہی وہ علم ہے جو کسی زندگی کو آخری سانس سے واپس کھینچ سکتا ہے۔ اور یہی وہ ٹیکنالوجی ہے جس کا اثر ہسپتالوں سے لے کر انسان کے وجود تک پھیلے گا۔
    لیب کے ایک گوشے میں ایک بورڈ پر لکھا تھا
    ‏“Technology is not against nature — it is nature understood deeply.”
    (ٹیکنالوجی فطرت کے خلاف نہیں — یہ فطرت کو گہرائی سے سمجھنے کا نام ہے۔)
    یہ جملہ میرے دل میں اتر گیا۔ جب میں لیب سے باہر نکلی تو شینزن کی ہوا میں سمندر کا نمکین سا ذائقہ گھلا تھا۔ شام ڈھل رہی تھی، اور شہر کی روشنیوں میں وہی جگمگاہٹ تھی جو مستقبل کے شہروں میں دیکھی جاتی ہے۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور محسوس کیا کہ میرا یہ سفر اب جسمانی سرحدوں سے آگے نکل کر ذہن کے افق پر جا پہنچا ہے۔
    شینزن کی سمندری ہوا میں ایک خاص تازگی تھی۔ پچھلے دنوں کے سفر نے میرے دل و دماغ پر جو نقش چھوڑے تھے، وہ ابھی تک ہلکے ہلکے دہک رہے تھے۔ مگر آج کی صبح کچھ اور ہی تھی جیسے ہوا خود فضا میں کوئی نیا پیغام لیے پھر رہی ہو۔ میرا آخری پڑاؤ تھا خودکار گاڑیوں کا مرکز۔ وہ جگہ جہاں مستقبل سڑکوں پر دوڑتا ہے اور ڈرائیور کا تصور ماضی بنتا جا رہا ہے۔
    میں Baidu کے آٹو ڈرائیونگ کیمپس پہنچی تو سامنے شیشے کی عمارتوں اور جدید اسٹیشنوں کا ایک پورا منظر پھیلا ہوا تھا۔ دور سے ہی سڑکوں پر ہموار انداز میں چلتی ڈرائیور لیس گاڑیاں دکھائی دے رہی تھیں ۔جیسے وہ اپنے بل پر سانس لیتی ہوں۔ کوئی ہارن، کوئی شور نہیں۔ سب کچھ پرسکون اور ترتیب کا آئینہ تھا۔
    میرے ساتھ ایک نوجوان انجینئر تھی یانگ می۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹیبلٹ تھا جس پر گاڑیوں کا نیٹ ورک دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا، “یہ وہ شہر ہے جہاں گاڑیاں انسانوں سے زیادہ بہتر ڈرائیو کرتی ہیں۔” اس کے لہجے میں فخر تھا، لیکن وہ فخر خاموش سا، مضبوط سا تھا۔
    ہم ایک لیول 4 آٹونومس گاڑی میں بیٹھے۔ اندر کا ماحول کسی جدید کیفے جتنا پرسکون تھا۔ ڈیش بورڈ پر کوئی اسٹیئرنگ وہیل نہیں، نہ ہی کوئی گیئر۔ گاڑی نے خود بخود رفتار پکڑی اور شینزن کی کشادہ سڑکوں پر روانہ ہو گئی۔ میں نے کھڑکی کے پار دیکھا ۔روشنیوں میں نہائے درخت اور بلند عمارتیں گاڑی کے شیشوں میں عکس بن کر رقص کر رہی تھیں۔ یانگ می نے بتایا کہ یہ پورا نظام 6G نیٹ ورک، AI اور سینسرز کے امتزاج پر چلتا ہے۔ ہر گاڑی ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہتی ہے، ہر موڑ کا حساب خود کرتی ہے۔
    راستے میں ایک چوک پر ہماری گاڑی نے آہستہ ہو کر ایک بزرگ راہگیر کو راستہ دیا۔ کوئی جھٹکا نہیں، کوئی بے ترتیبی نہیں۔ میں نے سوچا اگر میرے کراچی میں ایسی کوئی گاڑی چلتی، تو شاید سڑکوں کا شور آدھا رہ جاتا۔ وقت کی چال تیز ہو جاتی اور تھکن آدھی۔
    یانگ می نے فخر سے بتایا کہ شینزن، بیجنگ اور شنگھائی میں اس وقت ہزاروں خودکار گاڑیاں عوامی ٹرانسپورٹ کے طور پر چل رہی ہیں۔ Baidu اور Xpeng جیسے ادارے یہ خواب حقیقت میں بدل چکے ہیں۔ یہ صرف ٹرانسپورٹ کا انقلاب نہیں زندگی کے انداز کا انقلاب ہے۔
    جب گاڑی ایک بلند پل پر سے گزری تو نیچے پورا شینزن جگمگا رہا تھا۔ سمندر کے کنارے لائٹس کا ہالہ ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین نے ستارے چرا کر اپنے دامن میں چھپا لیے ہوں۔ اور اسی لمحے مجھے احساس ہوا — یہ میرا آخری پڑاؤ ہے۔ سیمی کنڈکٹر فیکٹریوں سے شروع ہونے والا یہ سفر، کوانٹم کمپیوٹنگ، AI، 6G، بایوٹیکنالوجی اور اب خودکار گاڑیوں تک — مجھے صرف ایک ملک نہیں، ایک سوچ کا منظرنامہ دکھا گیا ہے۔
    میں نے دل میں کراچی کو یاد کیا وہی شہر جہاں میرا بچپن گزرا، وہی خواب جو پہلی بار میرے اندر جاگے۔ لیکن اب میں صرف خواب دیکھنے والی نہیں، چین میں رہنے والی ایک گواہ ہوں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب علم، نظم اور خواب ایک صف میں کھڑے ہو جائیں تو شہر بدل جاتے ہیں، زندگیاں نئے راستے اختیار کر لیتی ہیں۔
    گاڑی نے اسٹیشن پر آہستگی سے رُک کر مجھے الوداع کہا۔ جیسے کوئی میزبان خاموشی سے رخصت دے۔ میں باہر نکلی، آسمان کی طرف دیکھا۔ شام دھیرے دھیرے ڈھل رہی تھی۔ ہوا میں سمندر کی مہک اور امید کا رنگ گھلا ہوا تھا۔ میرے ہاتھ میں میرے لکھے نوٹس یا ڈائری نہیں ، بلکہ تجربے کا خزانہ تھا ۔ ایک ایسا خزانہ جو میں یہیں چین میں سنبھالے ہوئے ہوں، اور جو میرے ماضی کے شہر اور موجودہ دیس کے درمیان ایک پُل بن چکا ہے۔
    میرا دل جانتا ہے… کہ میں اب دو شہروں، دو دنیاؤں، اور دو خوابوں کی نمائندہ ہوں ۔کراچی کی جڑوں اور چین کے اُبھرتے مستقبل کے سنگم پر کھڑی۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں کہانیاں ختم نہیں ہوتیں ۔یہیں سے نئی شروعات جنم لیتی ہیں۔

  • سونا  11 روز میں  40 ہزار  500 روپے کم ہوگیا،آج بھی بڑی کمی

    سونا 11 روز میں 40 ہزار 500 روپے کم ہوگیا،آج بھی بڑی کمی

    کراچی:(کنزیومرواچ نیوز) سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی 14 ہزار روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج سونے کی فی تولہ قیمت 14 ہزار روپے کم ہو کر 4 لاکھ16 ہزار 362 روپے ہوگئی ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کا بھاؤ 12ہزار 3 روپے کم ہوکر 3لاکھ 56 ہزار963 روپے ہوگیا ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کا بتانا ہےکہ عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 140ڈالر کم ہوکر 3940 ڈالر فی اونس ہے۔17 اکتوبر 2025 کو فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 56 ہزار 900 روپے تھی جو تاریخ کی بلند ترین سطح تھی تاہم گزشتہ 11 روز کے دوران سونا اپنی بلند ترین سطح سے 40 ہزار 500 روپے سستا ہوا ہے۔

  • عدالت نے 5 مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری روک دی

    عدالت نے 5 مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری روک دی

    اسلام آباد (کنزیو مرواچ نیوز)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پولیس کو 9 مئی سمیت 5 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا۔بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل، جعلی رسیدوں سمیت دیگر مقدمات درج ہیں جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف مبینہ جعلی رسیدیں جمع کروانے پر مقدمہ درج ہے۔بانی پی ٹی آئی اور دیگر کے خلاف 9 مئی سمیت 5 کیسز کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج افضل مجوکہ نے کی۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کرتے ہوئے 25 نومبر تک متعلقہ مقدمات میں دونوں کی گرفتاری روک دی۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے اگلی سماعت میں عمران خان کو عدالت میں یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کردی۔

  • کراچی ، صرف 6 گھنٹوں میں سوا کروڑ روپے سے زائد کے  ای چالان

    کراچی ، صرف 6 گھنٹوں میں سوا کروڑ روپے سے زائد کے ای چالان

    کراچی (کنزیو مرواچ نیوز)ٹریفک پولیس نے گزشتہ روز سے نافذ ہونے والے ای چالان سسٹم کے اعدادو شمار جاری کردیے۔ٹریفک پولیس کے مطابق ای چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد صرف 6 گھنٹوں میں شہریوں کے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے سے زائد کے چالان عائد کیے گئے۔کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہےکہ 6 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 2 ہزار 662 چالان کیے گئے جن میں اوور اسپیڈنگ پر 419 اور لین لائن پر گاڑی نہ چلانے پر 3 چالان ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسٹاپ لائن خلاف ورزی پر4، سیٹ بیلٹ خلاف ورزی پر 1535، ریڈ لائٹ کراس کرنے پر 166 اور ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے پر 507 چالان کیے گئے۔ٹریفک پولیس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ون وے اسٹریٹ پر رانگ وے ڈرائیونگ پر 4، کالے شیشوں پر 7، غلط پارکنگ پر 5، موبائل فون کے استعمال پر 32 ، غلط سمت پر3، غیر قانونی پارکنگ پر 5، نوپارکنگ پر 5 اور رانگ وے ڈرائیونگ کرنے پر 3 چالان ہوئے۔ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم مؤثر نگرانی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ نظام شہریوں میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائےگا۔ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں، عوامی تعاون سے یہ نظام مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

  • کراچی میں کیمیکل ملے دودھ کی فروخت کا انکشاف، درجنوں دکانیں سیل

    کراچی میں کیمیکل ملے دودھ کی فروخت کا انکشاف، درجنوں دکانیں سیل

    کراچی(کنزیومرواچ نیوز) کراچی میں کیمیکل ملے دودھ کی فروخت پر مزید 7 دکانیں سیل کر دی گئیں جس کے بعد سیل کی گئی دکانوں کی تعداد 27 ہو گئی۔کمشنر کراچی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ملاوٹ شدہ دودھ کے خلاف مہم جاری ہے، مضر صحت دودھ کی فروخت پر منگل کو مزید 7 دودھ کی دکانیں سیل کی گئیں، 3 دکانیں ضلع جنوبی، 3 شرقی اور ایک ملیر میں سیل کی گئی۔ترجمان کمشنر کراچی نے بتایا کہ دو دن میں مجموعی طور پر دودھ کی 27 دکانیں سیل کی گئیں،کمشنر کراچی حسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں ڈی جی فوڈ اتھارٹی اور دیگرحکام شریک ہوئے، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دودھ کے معیار کی چیکنگ اور ملاوٹ کے خلاف مہم جاری رہے گی۔کمشنر کراچی کا کہنا تھا دودھ کی سربمہر دکانوں کو بھاری جرمانے کے بغیر ڈی سیل نہیں کیا جائے گا، دکانوں کو ملاوٹ سے پاک دودھ فروخت کرنے کی تحریری یقین دہانی بھی دینا ہو گی۔

  • پیپلز پارٹی کی وزیراعظم آزاد کشمیر کو استعفے کیلئے مہلت

    پیپلز پارٹی کی وزیراعظم آزاد کشمیر کو استعفے کیلئے مہلت

    مظفرآباد(کنزیومرواچ نیوز) پیپلز پارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کو عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے دوپہر 2 بجے تک کی مہلت دیدی۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو پیغام بھجوایا ہے کہ وہ دن دو بجے تک استعفی دے دیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی کو 36 ممبران کی حمایت حاصل ہے، دوپہر 2 بجے کے بعد تحریک عدم اعتماد فائل کی جائے گی۔دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے بھی تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ روز بھی وزیراعظم آزاد کشمیر نے ایک بیان میں کہا تھا اگر کسی کے پاس نمبرز پورے ہیں تو تحریک عدم اعتماد لے آئے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر اتفاق کیا تھا۔دوسری جانب مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی اور وفاقی پارٹی کا اجلاس بھی آج ہوگا جس میں وفاقی کمیٹی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لے گی۔

  • فیلڈ مارشل سید عا صم منیر کی اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عا صم منیر کی اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات

    عمان(کنزیومرواچ نیوز)اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے پاکستان سے دو طرفہ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عا صم منیر اردن کا سرکاری دورہ کیا۔
    آئی ایس پی آر نے بتایاکہ آرمی چیف نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی جس میں ولی عہد شہزادہ حسین بن عبداللہ بھی موجود تھے، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ اور علاقائی امور پر گفتگو کی گئی۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے پاکستانی عوام، حکومت اور مسلح افواج کی جانب سے شاہ عبداللہ کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اردن کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق شاہ عبداللہ نے پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے کردار کو سراہا اور دو طرفہ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل نے اردنی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف سے بھی ملاقات کی جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جنرل ہیڈکوارٹرز عمان آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔فریقین نے پاکستان اور اردن کی مسلح افواج کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو سراہا۔میجر جنرل یوسف احمد الحنیتی نےعلاقائی امن و سلامتی کےلیے پاکستان کی مسلح افواج کےکردار پر خراجِ تحسین پیش کیا۔