پشاور( کنزیومرواچ نیوز) میراکچھوڑی مہرگل کلے میں پولیس مقابلے کے دوران 4 ڈاکو ہلاک ہو گئے۔پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پہنچی تو ملزمان نے فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ سے گینگ کےچاروں ڈاکو ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا بتانا ہے کہ ہلاک ملزمان 2003 سے پولیس کی وردی میں وارداتیں کرتے تھے، ڈاکوؤں نے ڈاکٹر کےگھر سےکروڑوں روپے اور زیورات بھی لوٹے تھے۔ایس ایس پی آپریشنز پشاور مسعود احمد بنگش نے اس حوالے سے بتایا کہ ہلاک چاروں ڈاکووں کی شناخت ہوگئی ہے، 3 ڈاکوؤں کا تعلق افغانستان سے ہے۔مسعود احمد بنگش کا کہنا ہے کہ ہلاک ڈاکوپشاور، راولپنڈی، نوشہرہ اور دیگراضلاع کی پولیس کو انتہائی مطلوب تھے، ڈاکووں نےحالیہ دنوں میں دو بڑی وارداتیں کی تھیں، ڈاکوؤں سے کلاشنکوف، رائفل ، 2 پستول اور موٹر سائیکلیں برآمد ہوئیں۔
Blog
-

وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں مسلسل تاخیر
مظفر آباد (کنزیومرواچ نیوز) وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسلسل تاخیر کا شکار ہے اور تحریک عدم اعتماد آج بھی پیش نہ ہونے کا امکان ہے۔ذائع کا بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے، فارورڈ بلاک سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے اراکین اسمبلی بھی پریشان ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فارورڈ بلاک کے چند اراکین نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کو جلد بازی کا فیصلہ قرار دیا، پیپلز پارٹی کے اراکین قیادت سے پوچھ رہے ہیں کہ حلقے میں کیسے جائیں۔ذرائع کے مطابق پی پی اراکین اسمبلی اپنی قیادت سے پوچھ رہے ہیں کہ کارکنوں کو کیا جواب دیں، ووٹر سوال کریں گے کیا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے کشمیر ہاؤس میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ہی تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے تاہم آئندہ 3 سے 4 روز تک تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں دے گی، اگر پیپلز پارٹی کے پاس مطلوبہ اراکین کی تعداد پوری ہے تو پیپلز پارٹی کا حق ہے وہ حکومت بنائے، ن لیگ نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسلسل تاخیر کا شکار ہے اور تحریک عدم اعتماد آج بھی پیش نہ ہونے کا امکان ہے۔ذائع کا بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے، فارورڈ بلاک سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے اراکین اسمبلی بھی پریشان ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فارورڈ بلاک کے چند اراکین نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کو جلد بازی کا فیصلہ قرار دیا، پیپلز پارٹی کے اراکین قیادت سے پوچھ رہے ہیں کہ حلقے میں کیسے جائیں۔ذرائع کے مطابق پی پی اراکین اسمبلی اپنی قیادت سے پوچھ رہے ہیں کہ کارکنوں کو کیا جواب دیں، ووٹر سوال کریں گے کیا فیصلہ کیا۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے کشمیر ہاؤس میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ہی تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے تاہم آئندہ 3 سے 4 روز تک تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں دے گی، اگر پیپلز پارٹی کے پاس مطلوبہ اراکین کی تعداد پوری ہے تو پیپلز پارٹی کا حق ہے وہ حکومت بنائے، ن لیگ نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ -

سندھ میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بنوانے کی تاریخ میں مزید 2 ماہ کی توسیع
کراچی (کنزیومرواچ نیوز)سندھ میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی تبدیلی میں مزید 2 ماہ کا اضافہ کر دیا گیا۔محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ نے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی تبدیلی کی تاریخ میں توسیع کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔نئے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی جدید سکیورٹی فیچرڈ نمبر پلیٹس کی آخری تاریخ اب 31 دسمبر 2025 ہے۔واضح رہے کہ سندھ میں اجرک والی نمبر پلیٹس کی ڈیڈ لائن 31 اکتوبر کو ختم ہو چکی ہے۔دوسری جانب محکمہ ایکسائز کا بتانا ہے کہ سندھ بھر میں تقریباً 65 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، صرف کراچی میں یہ تعداد 33 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ بیشتر شہری موٹر سائیکلیں خرید تو لیتے ہیں لیکن انہیں اپنے نام رجسٹرڈ نہیں کرواتے، بلکہ اوپن لیٹر پر ہی استعمال کرتے ہیں جو قانوناً جرم ہے۔
-

اسرائیلی پابندیوں سے فلسطینیوں کو خوراک و پانی کی شدید کمی کا سامنا
غزہ (کنزیومرواچ نیوز)فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے انروا نے کہا ہے کہ اسرائیل کی سخت پابندیوں سے فلسطینیوں کو خوراک و پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ادارے نے صاف پانی تک محفوظ طریقے سے رسائی ہر شہری کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے غزہ میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار بے گھر فلسطینیوں کو پانی فراہم کیا ہے۔ادارے نے بتایا کہ غزہ میں ہزاروں خاندان اب بھی خوراک، پانی اور دیگر بنیادی ضرورتوں کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ اسرائیل نے انسانی امداد کی ترسیل پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوچکا ہے تاہم معاہدے کے باجود اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں جاری ہیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے مختلف علاقوں پر حملے کیے جارہے ہیں، اسی کے ساتھ ساتھ سرحدی گزرگاہوں کو بند کرکے امداد کی رسائی کی اجازت بھی نہیں دی جارہی۔
-

خیبر پختونخوا کی 13 رکنی کابینہ تشکیل، عمران خان کی ہدایات نظر انداز
پشاور:(کنزیومرواچ نیوز) خیبرپختونخوا کی 13 رکنی کابینہ کی تشکیل پر تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق عمران خان نے صوبائی کابینہ کے ارکان کی تعداد 5 سے 8 رکھنے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ کابینہ سنگل ڈیجٹ سے زیادہ نہ ہو، تاہم کابینہ کی تعداد 13 رکھی گئی ہے کابینہ سے جمعہ کو گورنر کے پی نے حلف لیا۔پارٹی کے ایک ذمہ دار رہنما نے بتایا کہ عمران خان نے اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ خان، شہرام ترکئی کے بھائی فیصل ترکئی اور سابق صوبائی وزیر شکیل خان کو کابینہ میں شامل نہ کرنے کی واضح ہدایات جاری کی تھیں لیکن عمران خان کی ہدایات کو نظر انداز کیا گیا۔
خیبر پختونخوا کی نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا
بانی چیئرمین نے پارٹی کے بعض سینئر اراکین کو کابینہ میں شامل کرنے کی ہدایت کی تھی جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا گیا تھا۔صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے کوئی ہدایات جاری نہیں کی تھیں بلکہ انھوں نے پیغام بھجوایا تھا کہ کابینہ مختصر رکھی جائے اور سہیل آفریدی اپنی کابینہ کا خود انتخاب کریں۔انھوں نے کہا کہ کابینہ میں کسی بھی وقت ردوبدل ہو سکتا ہے، عمران خان جس کو چاہیں کابینہ می شامل کر سکتے ہیں اور اگر کسی کو نکالنا چاہیں تو کسی بھی وزیر کو فارغ کرسکتے ہیں۔مینا خان نے کہا کہ کابینہ میں سینئر اور تجربہ کار وزراء بھی شامل ہیں جبکہ نوجوانوں کو بھی موقع دیا گیا ہے۔ -

کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر
ایبٹ آباد (کنزیومرواچ نیوز)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج دفاع وطن کے لیے پرعزم ہے، کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا۔ایبٹ آباد میں مختلف جامعات کے اساتذہ اور طلبا سے نشست کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے خصوصی گفتگو کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ خصوصی نشست میں اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حالیہ پاک افغان کشیدگی، ملکی سیکیورٹی صورتحال اور معرکہ حق سمیت اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور فتنۃ الخوارج کے خلاف موثر اقدامات کیے ہیں۔اساتذہ اور طلبا کی جانب سے شہداء اور غازیان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے کہا کہ وطن سے محبت کا صحیح استعارہ پاک فوج ہے، پاک فوج ہمیشہ محاذِ اول پر ہوتی ہے اور ہم اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔اساتذہ کا کہنا تھا کہ ہمارے بچوں کے ذہنوں کو گمراہ کرنے کے لیے دشمن عناصر کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو درست اور مصدقہ معلومات فراہم کریں۔طلبا کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ملک کے شہری ہیں جہاں افواجِ پاکستان جیسے ادارے نوجوانوں کو حوصلہ اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں، آج ہمیں سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط افواہوں کے بارے میں درست معلومات حاصل ہوئیں۔طلبا نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے جوابات نے ہمارے ذہنوں سے ملکی اور صوبائی حالات سمیت افواج پاکستان کے حوالے سے ابہام دور کیے۔
-

عمران خان کیخلاف 9 مئی کے 11 مقدمات کے ٹرائل کا نیا نوٹیفکیشن جاری
لاہور (کنزیومرواچ نیوز)پنجاب حکومت نے 9 مئی کے 11 مقدمات کے ٹرائل کا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔وزارت داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 9 مئی کے 11 مقدمات کا ٹرائل اب انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوگا اور بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت آئندہ اے ٹی سی عدالت میں ہو گی، ویڈیو لنک اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔یاد رہے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 5 نومبر کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں ہوگی جس میں بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے اڈیالہ جیل سے کمرہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ کریں گے۔
-

اے ٹی ایم فراڈ سے خبردار، سائبر کرمنلز شہریوں کو کیسے پھنساتے ہیں؟
کراچی: بینکوں اور ماہرین نے “اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ” فراڈ سے شہریوں کو خبردار کیا ہے۔اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ کے ذریعے اسکیمرز کیش سلاٹ کو روکتے ہیں،ایسا لگتا ہے کہ مشین نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جعلساز گروہ رقم نکلنے والے حصے کو بلاک کر دیتے ہیں تاکہ شہریوں کی رقم باہر نہ نکل سکے۔اے ٹی ایم استعمال کرنے والے کے پیسے ان کے اندر پھنس کر رہ جاتے ہیں اور اے ٹی ایم استعمال کرنے والے شخص کے چلے جانے کے بعد اسکیمرز پیسے نکال لیتے ہیں۔ اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ ایک طریقہ ہے جسے سائبر کرمنلز اے ٹی ایم پر استعمال کرتے ہیں۔سائبر کرمنلز مخصوص ڈیوائسز کے ذریعے صارفین کی نقد رقم کو پھنساتے اور بعد ازاں اسے ہتھیا لیتے ہیں۔ ملزمان اے ٹی ایم کے اندر ایک ڈیوائس داخل کرتے ہیں جو کیش ڈسپنسر کی طرف سے صارفین کو الاٹ کی گئی نقد رقم کو پھنساتی ہے۔اس طریقہ واردات میں استعمال ہونے والا آلہ عام طور پر “گلو ٹریپ” کہلاتا ہے جو اے ٹی ایم کیش سلاٹ کے اندر یا اس کے سامنے نصب کیا جاتا ہے۔پیسے پھنسانے کے لیے اصلی کیش ڈسپنسر کے سامنے ایک جعلی اے ٹی ایم کیش ڈسپنسر رکھا جاتا ہے۔ اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ میں دو طرح کے کیش ٹریپس استعمال ہوتے ہیں جو ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو کہلاتے ہیں۔ٹائپ ون کیش ٹریپس صارفین کو نظر آتے ہیں لیکن صارفین ٹریپس اور اے ٹی ایم کے اصل ڈسپنسر کے درمیان فرق نہیں کر پاتے جبکہ ٹائپ ٹو چھپی ہوئی ڈیوائسز ہوتی ہیں جو اے ٹی ایم کے اندر چھپاکر رکھی جاتی ہیں اور صارف کو اس کا ادراک بھی نہیں ہوتا۔جرائم پیشہ افراد اکثر جعلی شٹر یا نقلی کیش ڈسپنسر بھی نصب کر دیتے ہیں تاکہ اصلی رقم پھنس جائے اور ملزمان آسانی سے رقم اپنے قبضے میں لے سکیں۔اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری احتیاط تدابیر استعمال کر کے اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ فراڈ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری کارڈ سلاٹ کو چیک کریں ،اگر کچھ غیر معمولی لگے تو استعمال نہ کریں۔ مشکوک چیزیں، جھوٹے یا ڈھیلے شٹر، اضافی حصے یا کوئی تار وغیرہ دیکھنے پر فوراً مشین استعمال نہ کریں۔پن درج کرتے وقت کی پیڈ کو ڈھانپیں اور اسے کبھی شئیر نہ کریں۔ رقم نہ نکلنے کی صورت میں اے ٹی ایم نہ چھوڑیں اور اسی وقت اپنے بینک سے رابطہ کریں اور اگر اے ٹی ایم مشین میں کچھ مشتبہ نظر آئے تو اسے استعمال نہ کریں اور رپورٹ کریں۔اس حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ بینکوں کو اپنی اے ٹی ایم مشینوں پر “اینٹی کیش ٹریپنگ” ڈیوائسز انسٹال کرنی چاہیں اور بینکوں کو مشینوں کو بروقت اپ گریڈ کرنا چاہیے۔حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ملزمان ٹیکنالوجی میں ماہر ہو رہے ہیں ویسے ویسے وارداتوں کے طریقے بھی پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ اس لیے بینکوں کو چاہیے کہ اے ٹی ایم ڈیزائن اور سکیورٹی پروٹوکول میں مسلسل بہتری لائیں اور عوامی آگاہی مہمات تیز کریں تاکہ صارفین خود کو اس طرح کے فراڈ سے محفوظ رکھ سکیں۔
-

پاکستان نے پاسپورٹ سے اسرائیلی شق کے خاتمے کا بھارتی ا پروپیگنڈا مسترد کردیا
اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) پاکستان کی وزارت خارجہ نے پاسپورٹ سے ’اسرائیل کیلئے ناقابل استعمال‘ کی شق کے خاتمے سے متعلق بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کو مسترد کردیا۔بھارتی چینل نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیا کہ پاکستانی پاسپورٹ سے’اسرائیل کے لیے ناقابل استعمال‘ کی شق ختم کردی گئی ہے۔ اس حوالے سے بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور پاسپورٹ میں’اسرائیل کے لیے ناقابل استعمال‘ کی شق بدستور برقرار ہے۔نئے پاسپورٹ میں اب والد کیساتھ والدہ کا نام بھی درج ہوگا، نئی بک لیٹس کی چھپائی شروع،اس حوالے سے ڈی جی پاسپورٹس کا کہنا تھا کہ قومی پاسپورٹ پراب بھی درج ہےکہ یہ ’اسرائیل کےعلاوہ تمام ممالک کے لیے قابل استعمال ہے۔’علاوہ ازیں وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل سے متعلق مؤقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے، پاکستان نےنہ کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا نہ ہی کسی قسم کا فوجی تعاون زیرِ غور ہے۔
-

سرکار کے شدید دبائو پر بھی زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بنا،…..آغا سراج درانی
کراچی (آغاخالد)
آغا سراج درانی بھی داغ مفارقت دے گئے
اناللہ واناالیہ راجعون
وہ سندھ کا ایک بھاری بھرکم نام تھے اور ان کے بڑوں نے قیام پاکستان میں قائد اعظم کی مدد کی تھی، گڑھی یاسین کے شاہی خانوادہ سے تعلق رکھنے والے آغا سراج سندھ کے چند کروڑ پتی خاندانوں میں سے تھے مگر سیاست میں آنے کے بعد مملکت کے طاقت ور اداروں نے ان کے ساتھ بھی ایک سے زائد بار وہی گھناؤنا سلوک کیا جس کا مقصد سیاستدانوں کی کردار کشی اور ان کی رسوائی ہوتا تھا کبھی ان کے گھر یا دفتر سے کروڑوں روپیہ برآمد کروایا جاتا کبھی گڑھی یاسین کے محل کے صحن سے خزانہ برآمد ہوتا مگر ان کے خلاف بنائے گئے بیسیوں مقدمات کے عدالتی چالان میں وہ خزانے کبھی ظاہر نہ کیے جا سکے تبھی کہتے ہیں “جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے”
آغا سراج درانی دوستوں کے دوست مشہور تھے جبکہ ان کی اصل وجہ شہرت صدر مملکت آصف زرداری سے ان کی بچپن کی دوستی تھی وہ ذولفقار مرزا کی طرح میٹرک سے زرداری کے کلاس فیلو بھی رہے اور بہت سے دوستوں کے بقول ان کی موت کی بڑی وجہ زرداری صاحب کا گزشتہ کئی برسوں سے ان کے ساتھ سرد رویہ بھی تھا جس کا انہیں صدمہ تھا اور وہ اپنے قریبی دوستوں سے ہلکے پھلکے انداز میں اس پر شکوہ بھی کرتے تھے کہا جاتا ہے کہ اسی رویہ کے سبب وہ گزشتہ 10 برس سے کابینہ سے باہر رہے جبکہ انہیں یہ بھی شبہ تھا کہ طاقت ور عہدوں سے محروم رکھنے کی خاطر ہی انہی پانچ سال سندھ اسمبلی کا اسپیکر رکھا گیا وہ بلا کے ذہین قابل شریف النفس اور پی پی کے وفادار رہنما تھے ان کے قریبی اعزہ کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے سیاست سے الرجک تھے اعلی تعلیم کے لیے امریکہ گئے تو پھر وہیں کے ہو رہے اور اپنے شوق کی تکمیل میں انہوں نے امریکہ میں ماڈلنگ بھی کی اور کچھ دیگر ڈراموں میں بھی چھوٹے موٹے رول کیے جس پر وہ گوریوں کے پسندیدہ اداکار مشہور ہوے وہ دراز قد کے ساتھ کسرتی جسم، پر کشش نقوش، گھنگریالے بال، بڑی آنکھیں، نکھری رنگت اور نوکیلی رعب دار موچھوں کے ساتھ مردانہ وجاہت کا شاندار شاہکار تھے اس لیے امریکہ کے گوروں میں تیزی سے مقبول ہورہے تھے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو 87/88 میں امریکہ گئیں تو انہوں نے اصرار کرکے انہیں واپس آنے اور سندھ کی سیاست میں کردار ادا کرنے پر آمادہ کرلیا کہا جاتا ہے کہ ایسا بھی محترمہ نے اپنے شوہر آصف زرداری کی سفارش پر کیا تھا وہ اکثر بڑے فخر سے بتاتے تھے کہ جس روز میری فلائٹ کراچی میں اتری اسی روز جنرل ضیا کا جہاز بہاول پور میں حادثہ کا شکار ہوا تھا ان کے والد آغا صدرالدین درانی سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے جبکہ چچا آغا بدرالدین قیام پاکستان کے وقت سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر تھے اور پاکستان سے الحاق کی سائیں جی ایم سید کی قرار داد میں پیش پیش تھے ان کا خاندان 3 صدیاں قبل افغانستان سے برصغیر آیا اور پھر محلہ آوروں کے ساتھ واپس جانے کی بجائے سندھ میں ہی ٹھر گیا اور شکار پور اور جیکب آباد کے درمیان ایک چھوٹے سے مگر ترقی یافتہ قصبے گڑھی یاسین کو اپنا مسکن بنا لیا ایک قلعہ نما چہار دیواری بناکر پورا کنبہ اس میں رہائش پذیر ہوا یہ اصلی پٹھان اور لڑاکا قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے اس مشکل علاقہ میں بھی جلد ہی ان کی دھاک بیٹھ گئی اور وہ علاقہ کے بڑے زمیندار گھرانہ کی حیثیت سے مشہور ہوگئے مشکل علاقہ اس لیے کہاکہ شکار پور سے جیکب آباد تک زیادہ تر جنگجو لڑاکا بلوچ قبائل آباد ہیں 20 ویں صدی تک سرداروں کی سطح پر ان میں رشتہ داریاں بن رہی ہوتی تھیں مگر عین اسی لمحے نچلی سطح پر خونریز جھگڑے چل رہے ہوتے تھے جس میں ہر ایک جھگڑے میں 8/10 بندوں کا مرجانا تو معمولی بات تھی ایسے علاقہ میں دھاک کے ساتھ رہنا بذات خود بڑا کارنامہ تھا پھر درانی قبیلہ جنگجو اور لڑاکا بھی مشہور ہوگئے اور غیر اعلانیہ (معاشی اور ذہنی) سلطنت بھی قائم کرلی ہوا یوں کہ پھر علاقہ کی بڑے زمینداری کے علاوہ ان کی نئی نسل اعلی تعلیم کی طرف راغب ہوگئی جبکہ اس علاقہ کے طاقت ور بلوچ قبائل کے صرف سرداروں کے سکا د حلکا بچے ہی تعلیم حاصل کرتے تھے اور قبیلہ جہالت میں ڈوبا رہتا تھا مگر درانی بحیثیت قبیلہ اعلی تعلیم حاصل کرکے حکومتوں میں اہم مناصب حاصل کرتے رہے جس سے یہ مہذب بھی ہوگئے اور علاقہ میں ان کا اثرو رسوخ بھی بڑھتا گیا اس درانی قبیلہ کی 21 ویں صدی کے فرزند آغا سراج درانی ہونہار ہونے کے ساتھ اثرو رسوخ اور صوبہ سندھ کی سیاست میں منفرد مقام حاصل کرگئے ان کی ملن سار فقیرانہ عادات نے انہیں شکار پور سے نکال کر پورے سندھ کی مقبول شخصیت بنادیا وہ جب بھی سندھ کابینہ میں وزیر بنتے ان کی کھلی کچہریاں عام اور مظلوم لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتیں ان کے دفتر میں کبھی پروٹوکول نہیں دیکھا ہر شخص ہر وقت ان سے مل سکتا تھا پھر وہ غریبوں کے مسائل حل کرنے میں نہ صرف دل چسپی لیتے تھے بلکہ اپنی جیب سے بھی ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے جس سے ان کی شہرت اور عزت میں اضافہ ہوا اور وہ صوبہ کی مقبول ترین شخصیات کی صف اول میں آگئے یہی وجہ تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بننے والی حکومت میں وہ سندھ کی وزارت اعلی کے لیے زرداری صاحب کے پسندیدہ امیدوار بن گئے تھے یہ بھی بڑا دل چسپ قصہ ہے چہ جائیکہ آصف زرداری پارٹی کی بظاہر کمان سنبھال چکے تھے مگر پارٹی کی سینیر قیادت انہیں قبول کرنے کو ذہنی طور پر تیار نہ تھی اور اندرون خانہ سنجیدہ چپقلش موجود تھی پھر بی بی کے سوئم میں دکھائے گئے جانشینی کے خط کی ایک جھلک پر بھی مخدوم امین فہیم اور خورشید شاہ جیسے سینیر رہنما بھی اعتبار کرنے کو تیار نہ تھے انہوں نے سوئم کے جذباتی ماحول میں اعتراض تو نہ کیا مگر ان کے چہرہ کے تاثرات اور بعد کے رویہ نے زرداری صاحب کو پریشان کردیا، جبکہ ان ہی سینیرز کو بی بی کی قربت کی وجہ سے معلوم تھا کہ محترمہ بے نظیر پرویز مشرف کے دور میں ملک بدری کے دوران اور وطن واپسی پر بھی ماضی کے تجربات کے باعث آصف زرداری کی پارٹی یا سیاست میں مداخلت کے خلاف تھیں اور اس مسلہ پر میاں بیوی کے تعلقات میں بی بی کی شہادت تک سرد مہری بھی پائی جاتی رہی جس کی وجہ سے آصف زرداری پارٹی کی کمان سنبھالنے کے باوجود اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کرہے تھے اور بعض سیاسی مبصرین کے بقول یہی وجہ تھی کہ ملکی طاقت ور اسٹبلشمنٹ کی ہمدردیاں سمیٹنے اور طاقت کے ایک بڑے مرکز کو اپنے ساتھ ملانے کو ذہین ترین آصف نے ترپ کا شاندار پتہ کھیلتے ہوے سوئم کے سوگ اور پاکستان مخالف غصہ سے بھرے جذباتی اجتماع میں بھی “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگایا جو بعد میں ان کے بہت کام آیا، سینیر پارٹی قیادت جانتی ہے کہ سوئم کے فورن بعد آصف علی زرداری سکھر پہنچے اور انہوں نے سکھر ہائوس میں اسلام الدین شیخ کے ہاں دو روز قیام کرکے سید خورشید شاہ کو رام کیا اس کارنامے کا زیادہ سہرا اسلام الدین شیخ کو جاتا ہے جس کا ثمر پہلے وہ اور اب ان کے بیٹے سمیٹ رہے ہیں یہ معرکہ سر کرنے کے بعد زرداری صاحب نے مخدوم امین فہیم پر کام شروع کیا مگر وہ زرداری کی کمزوری سے کھیلتے ہوے وزارت عظمی سے کم پر بات کرنے کو تیار نہ تھے اور آصف انہیں نظر انداز یوں نہ کرسکتے تھے کہ ان کے ساتھ سندھ کے ارکان اسمبلی اور پارٹی کی اہم قیادت یک زبان تھی یہی وجہ تھی کہ بقول مخدوم جاوید ہاشمی کے نواز شریف کی قیادت میں محترمہ بے نظیر کی تعزیت کے لیے نوڈیرو لاڑکانہ جانے والے ن لیگ کے تین رکنی وفد سے زرداری صاحب نے درخواست کی کہ وہ مخدوم امین سے ان کی جان چھڑائیں بقول جاوید ہاشمی کے وہاں تعزیت کا سوگوار ماحول تھا ہی نہیں بلکہ اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے توڑ جوڑ زوروں پر تھا، بعد ازاں انتخابات کے بعد ہی زرداری صاحب کی فرمائش پر خواجہ آصف نے اسلام آباد پہنچ کر یہ بیان داغ دیاکہ اگر پی پی نے مخدوم امین فہیم کو وزارت عظمی کے لیے نام زد کیا تو ن لیگ ان کی حمایت نہیں کرے گی یوں زرداری صاحب نے ترپ کا ایک پتہ اور کھیل کر وزارت عظمی کے سب سے مضبوط امیدوار کو متنازعہ کرکے مخدوم امین کو پارٹی میں بے اثر کردیا، ملکی سیاست کا انتہائی نفیس اور شریف النفس سیاستداں سب سے بڑی کرسی کی بازی ہارگیا اور باقی زندگی آصف زرداری کی ناراض گی کا نشانہ بنتے ہوے گزار کر اس دنیا سے کوچ کرگیا (انا للہ وانا الیہ راجعون) اس خطرے سے نپٹ کر زرداری صاحب نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اسلام آباد پہنچے اور انہوں نے پارٹی کی اہم اور طاقت ور مشاورتی کمیٹی (سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی) کا اجلاس بلا لیا اب یہ نہیں معلوم کہ اجلاس کے دوران یا اس سے ہٹ کر انہوں نے آغا سراج درانی جو مشکل کی اس گھڑی میں مسلسل سائے کی طرح ان کے ساتھ تھے کو کہاکہ وہ تیاری کریں اگلے وزیر اعلی سندھ وہ ہوں گے کوئی شب کے 11 یا 12 بجے ہوں گے کہ مجھے آغا جاوید کا فون آیا کہ میں آغا سراج درانی کا پیغام لے کر آرہا ہوں آپ دفتر میں رکیں آغا جاوید (مرحوم) وہ جذباتی جیالا تھا جس نے محترمہ بے نظیر کی شہادت کے بعد ان پر تبرا کرنے والے اس وقت کے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم کو سندھ اسمبلی کی گیلری میں جوتا مارا تھا جس پر وہ جیل بھی گیا اور پولیس تشدد کا نشانہ بھی اور پارٹی میں اسے ہیرو کا درجہ ملا وہ آغا سراج درانی کی برادری سے اور ان کا قابل اعتماد کارکن تھا اس نے آتے ہی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ بتایا کہ زرداری صاحب نے آغا سراج کو سندھ کی وزارت اعلی کے لیے نامزد کردیا ہے اس کی خبر چلانی ہے مینے اس کی مخالفت کرتے ہوے آغا سراج سے جاوید کے نمبر سے ہی بات کی اور انہیں اس کے نقصان دہ مضمرات سے آگاہ کیا اور کہاکہ اس مرحلے پر خبر کی اشاعت نقصان دہ ہوگی سندھ میں طاقت ور سید لابی کے علاوہ سید قائم علی شاہ موجود تھے جو محترمہ بے نظیر کا بھی انتخاب رہے تھے پھر وہ حالیہ الیکشن میں پیر پاگارا کو ہرا کر بھاری اکثریت سے انتخاب جیتے تھے اس کے علاؤہ بھی کچھ دیگر خطرات میں محسوس کررہا تھا مگر آغا سراج خبر شائع کرنے پر بضد تھے وہ بہت پرجوش اور جذباتی ہورہے تھے مینے ان کے اصرار پر خبر شائع کردی جو روزنامہ آج کل میں صفحہ اول پر سنگل چھپی میں ان دنوں اس اخبار کا کراچی میں چیف رپورٹر تھا یہ اخبار نجم سیٹھی اور سلیمان تاثیر نے مل کر نکالا تھا یہ منفرد اسلوب اور خبروں کی ترسیل کے نئے انداز کی وجہ سے روز بروز مقبول ہورہا تھا دوسرے روز یہی خبر کئی چینلز میں نشر اور اخبارات میں چھپی جس پر سیاسی حلقوں میں عموما اور پی پی میں خصوصا ہلچل مچ گئی وزارت اعلی کے تین چار دیگر اُمیدواروں نے توڑ جوڑ شروع کردیا،
(بقیہ: اگلی قسط میں
