کٹھمنڈو(کنزیومرواچ نیوز) پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگانے والی نیپالی گلوکارہ نیتو پاڈیل دم توڑگئیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گلوکارہ نیتو پاڈیل کا 17 اکتوبر کو اپنے دوست گلوکار بابل گری سے جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد نیتو نے ایک مقامی اسٹوڈیو میں خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگالی تھی۔
اس واقعے میں نیتو پاڈیل کے جسم کا 60 فیصد حصہ جھلس گیا تھا اور انہیں تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
نیتو پاڈیل کی خوفناک موت ، اصل معاملہ کیا ہے؟
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ خود سوزی کی کوشش سے پہلے نیتو نے اپنے فیس بک اسٹیٹس کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ وہ ایک بڑا فیصلہ لے رہی ہیں۔دوسری جانب نیتو کے خاندانی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نیتو اور بابل گزشتہ7 برسوں سے تعلقات میں تھے، نیتو انعم نگر میں بابل گری کے اسٹوڈیو کے قریب ہی ایک ریسٹورینٹ چلارہی تھیں، نیتو نے بابل کے مشکل وقت میں ان کی مدد کرکے انہیں معاشی طور پر مضبوط ہونے میں مدد فراہم کی تھی۔نیتو کے قریبی ذرائع کا کہنا ہےکہ گلوکارہ نیتو ، بابل سے اپنی دیرینہ محبت کو ازدواجی تعلق میں بدلنے کی خواہش مند تھیں لیکن دونوں کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے خراب تھے، بابل نے نیتو کو شادی کے معاملات پر بات کرنے کیلئے اسٹوڈیو بلایا تھا جس کے بعد گلوکارہ نے خود کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگالی۔ پولیس نے گلوکارہ کے اہل خانہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی۔
Blog
-

پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگانے والی نیپالی گلوکارہ دم توڑ گئی
-

مریم نواز کا 65 ہزار مساجد کے آئمہ کرام کیلئے وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ
لاہور (کنزیومرواچ نیوز)صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی طرف سے صوبے کی 65 ہزار مساجد کے آئمہ کرام کیلئے وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں مساجد کے آئمہ کرام کیلئے وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایاگیاکہ مذہبی حلقوں کی جانب سے حکومت کے اقدامات کی تحسین کی گئی ہے جبکہ تمام مساجد میں نماز جمعہ اور دیگر نمازیں باجماعت اداکی جارہی ہیں۔مریم نواز کا کہناتھاکہ امام مسجد معاشرے کا قابل احترام اور صاحب تکریم فرد ہے، محلے میں چندہ اکٹھا کرکے امام مسجد کو ادائیگی غیر مناسب امر ہے لہٰذا حکومت ضروریات کیلئے امام مسجد کی معاشی معاونت کرے گی۔مریم نواز نے مساجد کی تعمیر و مرمت کے پروجیکٹس سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے اور جلد تکمیل کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔تبلیغی اجتماع کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیاکہ اجتماع کیلئے رائے ونڈ کی رابطہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت مکمل کرلی گئی، تبلیغی اجتماع کیلئے خصوصی بسیں بھی چلائی جائیں گی۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر رائے ونڈ اجتماع کیلئے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔اجلاس میں پنجاب میں سائبر کرائم سیل تشکیل دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا اور لاؤڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال پر کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
-

میری قدر جانےکے بعد ہوگی،وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق
مظفرآباد:(کنزیومرواچ نیوز) وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق کا کہنا ہے کہ اگر کسی کی نمبر گیم پوری ہے تو عدم اعتماد کیوں نہیں لاتے؟ جب تک اختیار ہے اپنے فرائض سرانجام دیتا رہوں گا۔صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ جلد پریس کانفرنس کروں گا جس میں تفصیلی بات ہو گی، عدم اعتماد جمہوریت کا حسن ہے، میری قدر جانےکے بعد ہوگی۔چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ جس گھر میں جنم لیا اپنی خاطر اس کو آگ نہیں لگاسکتا، میرے چہرے پرکوئی ندامت دکھائی نہیں دےگی۔چوہدری انوار الحق کا مزیدکہنا تھا کہ میں واحد وزیراعظم ہوں جس نے خزانہ بھرا، خالی نہیں کیا۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہےکہ آزادکشمیر میں وزیراعظم تبدیل کرنے کا آخری دور شروع ہونےکا امکان ہے۔ْذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی اکثریت ہے، چوہدری انوارالحق اپنے ساتھیوں سمیت اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں شامل وزرا نے پیپلزپارٹی کے نئے قائد ایوان کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی موجود ہے۔وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی صورت میں صدر اسمبلی کا اجلاس طلب کریں گے۔ریاستی آئین کے تحت وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی صورت میں 14روز کے اندر نئے قائد ایوان کا انتخاب ضروری ہے۔موجودہ اسمبلی چوتھے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لائے گی۔ وزیراعظم اپنا استعفیٰ صدر آزادکشمیر کو بھجوائیں گے۔اگر اسمبلی ان سیشن ہوتو فوری طور پر نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ اگر اسمبلی ان سیشن نہ ہو تو صدر 14 ایام میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے اجلاس بلانے کا پابند ہے۔
-

غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس میں پاکستان کے فوجی دستے بھی شامل ہونگے،اسرائیلی اخبار
جدہ (کنزیومرواچ نیوز)اسرائیلی اخبار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس میں پاکستان کے فوجی دستے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی دفاعی حکام نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ غزہ میں 2 سالہ جنگ کے بعد استحکام قائم کرنے کے لیے تشکیل دی جانے والی بین الاقوامی فورس میں پاکستان کے فوجی دستے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔اسرائیلی ویب سائٹ ’وائی نیٹ نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے اسرائیلی کینیسٹ کی خارجہ و دفاعی امور کمیٹی کو بند کمرہ اجلاس میں دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس بین الاقوامی فورس میں انڈونیشیا، آذربائیجان اور پاکستان کے فوجی شامل ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا پہلے ہی اس مشن کے لیے اپنی فوج بھیجنے کی پیشکش کر چکا ہے جبکہ اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق آذربائیجان نے بھی اپنے فوجی فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی فوجیوں کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں اب تک باضابطہ طور پر کوئی اعلان یا عوامی سطح پر تذکرہ نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے غزہ میں پاکستانی افواج کی تعیناتی کے حوالے سے کہا تھا کہ اس بارے میں وزارت خارجہ جواب دے گی۔ -

فریاد لے کر پولیس اسٹیشن آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کا انکشاف
میرپور خاص (کنزیومرواچ نیوز)سندھ کے شہر میرپور خاص میں پولیس اسٹیشن میں فریادلے کر آنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔ضلع پولیس کے ترجمان کے مطابق خاتون نے ڈی آئی جی کو درخواست دی تھی جس میں بتایاگیا تھاکہ وہ اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے فریاد لے کر مہران پولیس اسٹیشن گئی تھی جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایاگیا۔پولیس کا بتانا ہے کہ خاتون کی مدعیت میں زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہےبعد ازاں ایس ایس پی ڈاکٹر سمیر نور چنہ نے فوری طور پر ایس ایچ او میرخادم تالپور کو معطل کرتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ پولیس کے مطابق خاتون کی درخواست کے بعد ایس ایچ او اور خاتون کے میڈیکل نمونے ٹیسٹ کے لیے جمع ہوگئے ہیں ، تفصیلی میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
-

خواجہ آصف نے قومی ائیر لائن کے برطانیہ فلائٹ آپریشن کی بحالی کا افتتاح کردیا
اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز) وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی ائیر لائن کے برطانیہ فلائٹ آپریشن بحالی کا افتتاح کردیا۔پی آئی اے کی برطانیہ کے لیے پروازیں آج بحال ہونے جارہی ہیں اور آج 5 سال بعد اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے پہلی پرواز روانہ ہوگی۔وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی ائیر لائن کے برطانیہ فلائٹ آپریشن کی بحالی کے افتتاح کے موقع پر سفارتی عملےکو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ سفارتی عملے کی کوششوں سے پابندی کا خاتمہ ہوا اور برطانوی ہائی کمشنر Jane Marriott کا تعاون اس عمل میں کلیدی رہا۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی آئی اے پر پابندی سے حکومت کو کافی نقصان ہوا، ہم نے قومی ائیر لائن کے معیار کو دوبارہ بحال کیا، جعلی پائلٹ لائسنس اسکینڈل کے باعث قومی ائیرلائن پرپابندی لگی تھی۔دوسری جانب برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر محمد فیصل کا کہنا ہےکہ برطانیہ کے مزید شہروں کے لیے پروازوں کا آغاز بھی متوقع ہے۔
-

بھارت میں آسٹریلین ویمن کرکٹرز کیساتھ موٹر سائیکل سوار کی نازیبا حرکت، ملزم گرفتار
ممبئی (کنزیومرواچ نیوز)بھارت میں آئی سی سی ویمن کرکٹ ورلڈکپ کے لیے موجود آسٹریلین کرکٹرز کے ساتھ موٹر سائیکل سوار کی جانب سے نازیبا حرکت کا انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی شہر اندور میں آسٹریلیا کی دو ویمن کرکٹرز جب ہوٹل سے کیفے ٹیریا کے لکے نکلیں تو موٹر سائیکل پر سوار افراد ایک شخص نے ایک آسٹریلوی کرکٹرز کو انتہائی نازیبا طریقے سے چھوا اور فرار ہو گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلوی کھلاڑیوں نے اس واقعے کی اطلاع فوری طور پر ٹیم سکیورٹی آفیسر کو دی جنہوں نے علاقائی پولیس سے رابطہ کر کے یہ معلومات انہیں فراہم کیں۔بھارت: آسٹریلوی ویمن ٹیم کے کھانے کے دوران کینٹین سے چوہا نکل آیا، کھلاڑیوں کی دوڑیں لگ گئیں پولیس کے مطابق آسٹریلوی سکیورٹی ٹیم کی شکایت پر فوری طور پر علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز نکلوائی گئیں جبکہ جبکہ موقع پر موجود ایک عینی شاہد نے موٹر سائیکل کا نمبر بھی نوٹ کر لیا تھس جس کی مدد سے متعلقہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کا اس سے پہلے بھی کرمنل ریکارڈ موجود ہے، ملزم کو حراست میں لیکر معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ کرکٹ شائقین کے مطابق آئی سی سی کے اتنے بڑے ایونٹ میں شریک ٹیموں کی کھلاڑیوں کے ساتھ اس طرح کا افسوسناک واقعہ پیش آنا بھارتی انتظامات پر سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔
-

عمران خان نے محاذ آرائی ترک نہ کی توجیل میں ہی رہیں گے: ذرائع
اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) اگر کوئی معجزہ نہ ہوا، یا کوئی ڈیل نہ ہوئی، یا عدالتوں سے غیر متوقع ریلیف نہ ملا تو عمران خان کے جلد رہا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، اور وہ 2026 کے دوران بلکہ ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی جیل میں رہ سکتے ہیں۔پی ٹی آئی کے اندر سخت گیر عناصر اب بھی تصادم کی پالیسی پر قائم ہیں لیکن پارٹی کے تحمل مزاج رہنما عمران خان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اُن کی رائے ہے کہ جب تک یہ محاذ آرائی ختم نہیں ہوتی، عمران خان کی رہائی ممکن نہیں۔
پارٹی کے کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی مشکلات جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتیں کیونکہ ان کے اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف زیر سماعت مقدمات اور سزاؤں کی نوعیت پیچیدہ ہے۔عمران خان اور ان کی اہلیہ کی القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں تاحال اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئیں۔ اس سے پہلے ان کی سزا کی معطلی کی درخواست کی سماعت ضروری ہے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ ہائی کورٹ کی جاری کردہ ’’فکسیشن پالیسی‘‘ کے مطابق، اپیلوں کی سماعت کیس دائر ہونے کی ترتیب میں کی جاتی ہے۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) کی ہدایت پر تشکیل دی گئی اس پالیسی میں پرانے اور سنگین مقدمات، خصوصاً سزائے موت اور عمر قید کے کیسز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، اور ان کی اپیل 31 جنوری 2024 کو دائر کی گئی تھی، لیکن تاحال اس پر کوئی سماعت نہیں ہوئی۔ موجودہ عدالتی بیک لاگ اور ترجیحی پالیسی کو دیکھتے ہوئے، ذرائع کے مطابق، اس اپیل پر رواں سال سماعت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ کئی پرانے مقدمات پہلے زیر سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ’’سخت گیر عناصر‘‘ جنہوں نے مذاکرات کی مخالفت کی، انہوں نے عمران خان کیلئے معاملات مزید مشکل بنا دیے ہیں۔ جب تک القادر ٹرسٹ کیس میں سزا برقرار ہے، عمران خان جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔ ان کے قانونی مسائل میں اضافہ کرتے ہوئے، توشہ خانہ دوم کیس اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر اس میں بھی سزا ہو گئی تو اپیلیں سماعت کیلئے مقرر ہونے سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ کو مزید قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، 9 مئی سے متعلق کئی مقدمات تاحال زیر سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی کے ماہرینِ قانون کو علم ہے کہ استغاثہ کے پاس اتنے قانونی حربے موجود ہیں کہ ان کیسوں کو طول دیا جا سکتا ہے، جس سے عمران خان کی رہائی میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے؛ پھر چاہے وہ کچھ کیسز میں ضمانت یا بریت ہی کیوں نہ حاصل کر لیں۔ حتیٰ کہ بہترین صورتحال میں بھی، اگر عمران خان تمام بڑے مقدمات میں ہائی کورٹ سے بری ہوئے بھی تو اس میں طویل عرصہ لگے گا۔ ذرائع کے مطابق، جب تک کوئی غیر معمولی عدالتی یا سیاسی پیش رفت نہیں ہوتی، عدالتی کارروائیوں کے موجودہ وقت کا اندازہ بتاتا ہے کہ عمران خان کی قید 2026ء تک، بلکہ اس سے بھی آگے تک جا سکتی ہے۔ -

نومبر 2024 میں عمران خان کی رہائی کیلئے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے پا گئے تھے: شیر افضل
کراچی (کنزیومرواچ نیوز)رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے درمیان گزشتہ سال 25 نومبر میں معاملات طے پا گئے تھے جس کے تحت عمران خان کو رہا کیا جانا تھا۔ایک نجی ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات 3 نومبر کو شروع ہوئے تھے جس کے لیے چار رکنی کمیٹی بنی تھی جس میں علی امین گنڈاپور، بیرسٹر گوہر، محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ شامل تھے، بعد میں ایک موقع پر میں بھی شامل ہو گیا۔شیرافضل مروت کے مطابق حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان کچھ باتوں پر اتفاق ہو گیا تھا جن میں عمران خان کی رہائی بھی شامل تھی۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف کو اپنا طیارہ دیا تاکہ وہ مزید وضاحت کے لیے ملاقاتیں کر سکیں، اس کے بعد 25 نومبر کی رات بیرسٹر گوہر کو جیل بھیجا گیا جہاں پر عمران خان نے ویڈیو ریکارڈ کرانی تھی، اس معاہدے کے تحت عمران خان کو اگلی صبح رہا کیا جانا تھا۔رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ریاست کے اس وقت تک کوئی عزائم نہیں تھے جب تک رینجرز کا واقعہ نہیں ہوا تھا، ریاست اور حکومت کی بڑی کوشش تھی کہ کوئی تصادم نہ ہو جائے اور اسی وجہ سے وہ ہر قسم کے کمپرومائز پر آئے ہوئے تھے، بیرسٹر گوہر نے عمران خان سے کہا کہ آپ یہ ویڈیو بنا کر دیں تاکہ جو لوگ خیبر پختونخوا سے آ رہے ہیں ہم انہیں یہ ویڈیو سنا دیں اور لوگ سنگجانی سے آگے نہ بڑھیں اور سنگجانی پر اس وقت تک ٹھہرنا ہے جب تک خان صاحب باہر نہ آ جائیں۔شیر افضل مروت کا کہنا تھا عمران خان نے بیرسٹر گوہر سے کہا اپنا موبائل دیدیں لیکن چونکہ جیل والے موبائل لے لیتے ہیں اس لیے انہوں نے کہا میرے پاس تو موبائل نہیں ہے، ساتھ ہی ایک جیل والا آگے بڑھا موبائل دینے کے لیے تو خان صاحب نے کہا نہیں اس پر مجھے شک ہے، یہ لوگ ٹیمپرنگ کر دیں گے۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا اس پر بھی بحث ہوئی کہ ویڈیو سلاخوں کے اس طرف بنا لیں، اس طرف بنا لیں، لیکن پھر یہ طے ہوا کہ بیرسٹر گوہر اگلی صبح آئیں گے اور اپنا موبائل لائیں گے لیکن رات کو ہی رینجرز والا وقوعہ ہو گیا، تو پھر بیرسٹر گوہر نے اگلی صبح جو آنا تھا وہ نہ آسکے، اگر رینجرز اہلکاروں والا وقوعہ نہ ہوتا تو ناصرف خان صاحب باہر ہوتے بلکہ بہت سے معاملات بھی حل ہو جاتے۔
-

خضدار میں مسلح افراد کا تعمیراتی کیمپ پر حملہ، 18 مزدور اغوا، گاڑیاں نذر آتش
کوئٹہ:(کنزیومرواچ نیوز)بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کر کے 18 مزدوروں کو اغوا کر لیا جبکہ متعدد گاڑیوں اور مشینری کو آگ لگا کر تباہ کردیا۔واقعہ صوبے میں ایک ہفتے کے اندر مزدوروں کے اغوا کا دوسرا بڑا سانحہ ہے، جس سے علاقے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جمعرات کی رات خضدار سے تقریباً 80 کلومیٹر دور نال کے علاقے کلیڑی میں پیش آیا۔ درجنوں مسلح افراد نے سب سے پہلے شاہراہ کو بلاک کر کے ٹریفک روک دی اور پھر ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ اور کرش پلانٹ پر دھاوا بول دیا۔ یہ کمپنی خضدار کو ضلع واشک کے علاقے بسیمہ سے جوڑنے والی اہم سڑک کی تعمیر پر کام کر رہی تھی جو صوبے کی ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہے۔علاقے کے لیویز انچارج علی اکبر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے کرش پلانٹ پر حملہ کر کے وہاں موجود گاڑیوں اور مشینری کو آگ لگا دی جس سے کم از کم 8 گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا، جن میں بھاری مشینری اور ٹرانسپورٹ وہیکلز شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مسلح افراد کیمپ میں موجود مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے کر فرار ہو گئے، اغوا ہونے والے زیادہ تر مزدوروں کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے، جو دور دراز علاقوں سے روزگار کی تلاش میں بلوچستان آئے تھے۔تعمیراتی کمپنی ڈی بلوج کے منیجر ذوالفقار احمد نے تصدیق کی کہ ابتدائی طور پر مسلح افراد نے 20 مزدوروں کو اغوا کیا تھا، تاہم بعد میں دو مزدوروں کو چھوڑ دیا گیا۔ باقی 18 مزدور اب بھی لاپتا ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ذوالفقار احمد کا کہنا تھا کہ یہ حملہ کمپنی کے کام کو شدید متاثر کرے گا اور ملازمین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی۔ لیویز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکار موقع پر پہنچے، علاقے کو گھیرے میں لے لیا، اور تحقیقات شروع کر دیں۔حکام نے بتایا کہ اغوا شدہ مزدوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس میں مقامی قبائلی عمائدین کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ تاہم، اب تک مزدوروں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ابھی تک کسی بھی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ، اس علاقے میں بلوچ مسلح گروپ سرگرم ہیں، جو ماضی میں بھی تعمیراتی کمپنیوں، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔یہ گروپ اکثر حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بناتے ہیں، جنہیں وہ بیرونی مداخلت کا حصہ قرار دیتے ہیں۔یہ واقعہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر یہ مزدوروں کے اغوا کا دوسرا سنگین سانحہ ہے۔ چند روز قبل مستونگ کے علاقے دشت میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی کام پر مصروف 9 مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا، جن کا اب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا جس کے بعد چند روز میں اغوا کیے گئے مزدوروں کی تعداد 27 ہوگئی ہے۔ان واقعات سے صوبے میں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں اور کمپنیوں میں تشویش پھیل گئی ہے، اور حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کیا جائے۔حکومت بلوچستان نے ان واقعات کی مذمت کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ مجرموں کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تاہم، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے حملے صوبے کی معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں اور انہیں روکنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔