مظفرآباد(ویب ڈیسک )آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے اب تک کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج میں برتری حاصل کرلی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا دوسرا نمبر ہے۔آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے میر پور، کوٹلی اور بھمبر میں قائم 13 حلقوں پر پیر کو ووٹنگ ہوئی، 5 بجے ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹنگ کے لیے ایک گھنٹہ اضافی دیا گیا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہوا۔ میرپورڈویژن کے 13 حلقوں کے مکمل غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج آگئے ہیں جس کے مطابق 9 حلقوں پر مسلم لیگ (ن) اور 4 حلقوں پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی۔غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق حلقہ ایل اے 1 میرپور 1، حلقہ ایل اے 4 میرپور 4، حلقہ ایل اے 5 بھمبر 1، حلقہ ایل اے 6 بھمبر 2، حلقہ ایل اے 7 بھمبر 3، حلقہ ایل اے 9 کوٹلی 2، حلقہ ایل اے 11 کوٹلی 4، ،حلقہ ایل اے 12 کوٹلی 5، حلقہ ایل اے 13 کوٹلی 6 سے ن لیگ کامیاب ہوئی ہے۔حلقہ ایل اے 2 میرپور 2، ایل اے 3 میرپور 3، حلقہ ایل اے 8 کوٹلی 1 اور حلقہ ایل اے 10 کوٹلی 3 سے پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی۔حلقہ ایل اے 1 میرپور 1کے تمام 139 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے اظہر صادق 15427 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ پیپلزپارٹی کے محمد افسر شاہد 9832 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 2 میرپور 2 کے تمام 149 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ آگیا اور یہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے قاسم مجید نے 12904 ووٹ لے کر میدان مارلیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے عظیم بخش چوہدری 8182 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 3 میرپور 3 کے تمام 161 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری یاسر سلطان 11676 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد سعید 9832 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 4 میرپور 4 کے تمام 162 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری رخسار احمد 20172 ووٹ لے کر جیت گئے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری صہیب ارشد 13865 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 5 بھمبر 1 کے تمام 176 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ن لیگ کے وقار احمد نے تقریباً 700 ووٹوں کے فرق سے پیپلزپارٹی کے چوہدری پرویز اشرف کو شکست دی۔ مسلم لیگ ن کے وقار احمد نور 30259 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلزپارٹی کے چوہدری پرویز اشرف 29574 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 6 بھمبر 2 کے تمام 195 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد رزاق 32732 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے علی شان چوہدری 26718 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ ایل اے 7 بھمبر 3 کے تمام 237 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طارق فاروق 35490 ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ آزاد امیدوار چوہدری انوار الحق 25100 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 8 کوٹلی 1کے تمام 155 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے جس کے مطابق پیپلزپارٹی کے ظفر اقبال ملک 19535 ووٹ لےکر کامیاب ہوگئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ملک محمد نواز خان 11966 ووٹ لے کر دوسرے نمبر رہے۔حلقہ ایل اے 9 کوٹلی 2 کے تمام 178 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے اور یہاں سے مسلم لیگ (ن) کے عمیر نعیم ووٹ 31080 لے کر جیت گئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جاوید اقبال بڈھانوی 28509 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 10 کوٹلی 3 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق تمام 169 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد یاسین 12431 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ ن لیگ کے فتح محمود الحسن 9245 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 11 کوٹلی 4 کے تمام 206 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے محمد آصف 26190 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پیپلزپارٹی کے چوہدری محمد اخلاق 21751 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 12 کوٹلی 5 کے تمام 207 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج سامنےآگئے جس کے مطابق ن لیگ کے محمد ریاست خان 35168 ووٹ لےکر کامیاب ہوگئے جبکہ پیپلزپارٹی کے چوہدری محمد یاسین 30320 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 13 کوٹلی 6 کے تمام 193 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے راجہ ایاز احمد خان 21 ہزار 856 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔استحکام پاکستان پارٹی کے نثار انصار ابدالی 15 ہزار 859 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے
Blog
-

آزاد کشمیر انتخابات :ن لیگ 9 نشستوں کیساتھ بازی لے گئی، پیپلزپارٹی کا دوسرا نمبر
-

لیاری میں رینجرز اہلکار کا قاتل پولیس افسر کا بیٹا نکلا، ملزم گرفتار
کراچی (ویب ڈیسک ) رینجرز اہلکار کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری میں رینجرز اہلکار کے قتل میں ملوث ملزم ساحل کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم واقعہ کے بعد بلوچستان فرار ہوگیا تھا۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ ملزم پولیس افسر کا بیٹا ہے اور رینجرز اہلکار کے قتل کی وجہ ذاتی عناد نکلی، ملزم نے پوری منصوبہ بندی اور ریکی کے بعد رینجرز اہلکار کو قتل کیا۔واضح رہے کہ رینجرز اہلکارعبدالقیوم کو 18 جولائی کو لیاری میں فائرنگ کرکے شہید کیا گیا تھا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

کراچی سے دبئی جانے والے مسافروں سے بڑی تعداد میں غیرملکی کرنسی برآمد
کراچی (ویب ڈیسک )کراچی سے دبئی جانے والے مسافروں سے بڑی تعداد میں غیرملکی کرنسی برآمد کر لی گئی۔کسٹمز حکام کے مطابق ایک ہی خاندان کے 6 افراد سے 55 ہزار امریکی ڈالر اور 9 لاکھ 50 ہزار روپے برآمد ہوئے۔کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ کرنسی ڈیکلیئریشن نہ کرنے پر کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت کارروائی کی گئی، ایک ہی خاندان کے 6 افراد سے اسٹیٹ بینک کی مقررہ حد سے زیادہ غیرملکی کرنسی برآمد ہوئی، کرنسی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

پاکستان، سعودی عرب اور بدلتا ہوا مشرقِ وسطی تحریر : شیخ راشدعالم
فیلڈ مارشل، وزیراعظم اور قومی یکجہتی کا سفارتی پیغام
مشرقِ وسطی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ سمندر میں تیل بردار جہازوں پر حملے، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی معیشت پر منڈلاتے خدشات اور طاقتوں کی نئی صف بندیاں صرف عرب ممالک کا مسئلہ نہیں رہیں بلکہ پاکستان جیسے ممالک بھی ان کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے رابطہ اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کا اعلان ایک معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا واضح پیغام ہے۔
وزیراعظم نے گفتگو میں آئل ٹینکرز پر حملوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل کی جانب سے بھی یہی مقف دہرایا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔
یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق صرف دو ریاستوں کا تعلق نہیں بلکہ عقیدے، تاریخ، معیشت، دفاع اور عوامی جذبات کا رشتہ بھی ہے۔
پاکستان کی لاکھوں افرادی قوت سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر پاکستانی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔ مشکل معاشی حالات میں سعودی عرب نے متعدد بار پاکستان کی مالی معاونت کی، تیل کی سہولت فراہم کی اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سعودی عرب کو کسی خطرے کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستان کا ردعمل محض رسمی بیان تک محدود نہیں رہتا۔
آئل ٹینکرز پر حملے دراصل عالمی تجارت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل انہی بحری راستوں سے گزرتا ہے۔ اگر ان راستوں میں بدامنی پیدا ہو تو خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، شپنگ انشورنس مہنگی ہوتی ہے، درآمدی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ عام صارف تک پہنچتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی مہنگائی، توانائی کے بحران اور درآمدی بل کے دبا سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں خلیج میں کسی بھی قسم کی کشیدگی پاکستان کے لیے صرف سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی چیلنج بھی بن جاتی ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم کا سعودی قیادت سے رابطہ ایک بروقت قدم ہے۔ اس سے یہ پیغام گیا کہ پاکستان خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت توازن رہی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں تو دوسری جانب پاکستان ہمیشہ مسلم دنیا کے اتحاد اور علاقائی امن کی بات کرتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی کوشش ہوتی ہے کہ کشیدگی کم ہو اور
تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔
فیلڈ مارشل کی موجودگی اور عسکری قیادت کا واضح مقف اس سفارتی پیغام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ تربیت، انٹیلی جنس تعاون، مشترکہ مشقیں اور سیکیورٹی روابط دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔
تاہم موجودہ حالات یہ بھی تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان صرف دفاعی تعاون تک محدود نہ رہے بلکہ معاشی سفارت کاری کو بھی مزید مضبوط بنائے۔ سعودی سرمایہ کاری، توانائی کے منصوبے، معدنی وسائل، آئی ٹی، زراعت اور انفراسٹرکچر میں تعاون دونوں ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو امتِ مسلمہ کا اتحاد ہے۔ آج مسلم دنیا کئی بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ غزہ کا مسئلہ ہو، شام کی صورتحال ہو، یمن کی جنگ ہو یا خلیج کی کشیدگی، ہر بحران مسلم ممالک کے درمیان بہتر رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان اس حوالے سے ہمیشہ مصالحت اور اتحاد کی آواز بلند کرتا آیا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی طاقتیں مشرقِ وسطی کو صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی اوراسڑیٹجک زاویے سے بھی دیکھتی ہیں۔ توانائی کے ذخائر، عالمی تجارتی راستے اور بحری گزرگاہیں اس خطے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ اسی لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔
پاکستان کو اس نازک صورتحال میں انتہائی محتاط خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ کسی بھی فریق کے ساتھ تعلقات استوار رکھتے ہوئے قومی مفاد، علاقائی امن اور اقتصادی استحکام کو اولین ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطہ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ امن، استحکام اور سفارت کاری کا حامی بھی ہے۔ آئل ٹینکرز پر حملوں کی مذمت بھی اسی اصولی مقف کا حصہ ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو نشانہ بنانا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی امن کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ قومی اتحاد، مضبوط سفارت کاری اور متوازن خارجہ پالیسی ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی حالات میں محفوظ اور مستحکم رکھ سکتا ہے۔
مشرقِ وسطی کے بادل ابھی مکمل طور پر نہیں چھٹے۔ کشیدگی کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا واضح، ذمہ دار اور متوازن مقف نہ صرف اس کی سفارتی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ قومی مفاد، علاقائی استحکام اور دیرینہ دوستوں کے ساتھ وفاداری پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر یہی توازن برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کر سکے گا بلکہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور مثر کردار بھی ادا کرتا رہے گا۔ -

کراچی بمقابلہ لاہور: سیاسی نعرہ یا حکمرانی کی ناکامی؟ تحریر: نشید آفاقی
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں ایک ایسا جملہ کہا جس نے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ کراچی کے شہریوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “کشمیری، کشمیر کو کراچی نہیں بننے دیں گے، وہ کشمیر کو لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔”
یہ محض ایک انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی بیان ہے جو پاکستان کے دو بڑے شہروں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کشمیر لاہور جیسا بنے گا یا کراچی جیسا، اصل سوال یہ ہے کہ کراچی کو اس حال تک آخر کس نے پہنچایا؟ اگر لاہور ترقی کی مثال ہے تو کراچی محرومی کی علامت کیوں بنا؟ کیا یہ عوام کی ناکامی ہے یا دہائیوں پر محیط حکمرانی کی غلط ترجیحات کا نتیجہ؟
کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے۔ ملکی برآمدات، درآمدات، صنعت، بندرگاہیں، بینکاری، اسٹاک مارکیٹ اور قومی ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ اسی شہر سے وابستہ ہے۔ یہی شہر ملک کے ہر کونے سے آنے والوں کو روزگار دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہی شہر آج پانی، سیوریج، ٹریفک، صفائی، ٹوٹی سڑکوں اور بنیادی شہری سہولتوں کے شدید بحران کا شکار ہے۔
اگر آج کوئی سیاست دان کراچی کو ایک منفی مثال کے طور پر پیش کرتا ہے تو اسے پہلے یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس شہر کی یہ حالت پیدا کس نے کی؟ کراچی نے تو ہمیشہ پاکستان کو دیا ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان نے کراچی کو کیا دیا؟
دوسری جانب لاہور یقینا پاکستان کے ترقی یافتہ شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ جدید انفراسٹرکچر، میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، فلائی اوورز، انڈر پاسز، بہتر پارکس اور شہری منصوبہ بندی اس کی شناخت بن چکی ہے۔ یہ ترقی قابلِ تعریف ہے، لیکن ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہی معیار کراچی، کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، ملتان اور دیگر شہروں کو بھی ملا؟ اگر نہیں، تو پھر یہ قومی ترقی نہیں بلکہ وسائل کی غیر مساوی تقسیم کا سوال ہے۔
اصل مسئلہ لاہور کی ترقی نہیں بلکہ کراچی کی مسلسل نظراندازی ہے۔ لاہور کا ترقی کرنا پاکستان کے لیے خوش آئند ہے، مگر کراچی کی بدحالی کو سیاسی طنز کا استعارہ بنا دینا کسی بھی قومی رہنما کے شایانِ شان نہیں۔
احسن اقبال اگر یہ کہتے کہ “ہم کشمیر کو لاہور جیسا ترقی یافتہ اور کراچی کو بھی اسی معیار کا شہر بنائیں گے” تو شاید یہ ایک قومی سوچ کی عکاسی ہوتی۔ مگر جب ایک پاکستانی شہر کو دوسرے کے مقابل ناکامی کی علامت بنا دیا جائے تو اس سے صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہوتی ہے، قومی یکجہتی نہیں۔
کراچی کی موجودہ حالت کسی ایک جماعت یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں۔ یہ کئی دہائیوں کی سیاسی کشمکش، اختیارات کی جنگ، ناقص بلدیاتی نظام، غیر منصوبہ بند شہری توسیع، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مسلسل غفلت کا نتیجہ ہے۔ وفاق، صوبہ اور بلدیاتی ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہے، مگر اس دوران سب سے زیادہ نقصان کراچی کے شہریوں نے اٹھایا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی معیشت کا سہارا دیا۔ دہشت گردی ہو، معاشی بحران ہو یا قدرتی آفات، کراچی نے ہمیشہ قومی معیشت کا پہیہ چلایا۔ مگر بدلے میں اسے اکثر سیاسی بیانات، وعدے اور محرومیاں ہی ملیں۔
آزاد کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ انہیں مکمل حق حاصل ہے کہ وہ جس جماعت کو بہتر سمجھیں، اسے ووٹ دیں۔ لیکن انتخابی جلسوں میں ایسے تقابلی جملے جو ایک پاکستانی شہر کی تضحیک کا تاثر دیں، قومی سیاست کو مزید تقسیم کرتے ہیں۔
کراچی اور لاہور ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ پاکستان کی ترقی کے دو اہم ستون ہیں۔ اگر لاہور مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا، اور اگر کراچی کمزور ہوگا تو اس کا اثر پوری قومی معیشت پر پڑے گا۔ اس لیے ایک شہر کی کامیابی کو دوسرے کی ناکامی سے جوڑنا دانشمندی نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ترقی کا تصور بھی سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ ایک جماعت لاہور کی مثال دیتی ہے، دوسری کسی اور شہر کی۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخر پاکستان کے تمام شہروں کو یکساں ترقی کب ملے گی؟ کیا ترقی صرف ان شہروں کا حق ہے جہاں سیاسی مفاد زیادہ ہو؟
ایک وفاقی وزیر کا منصب پورے پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے، کسی ایک شہر کی نہیں۔ ایسے منصب پر بیٹھے افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی بات کریں، محرومیوں کو بڑھانے کے بجائے انہیں ختم کرنے کی حکمت عملی پیش کریں۔
آج کراچی کو کسی سیاسی استعارے کی نہیں بلکہ ایک جامع قومی منصوبے کی ضرورت ہے۔ ایسا منصوبہ جو اس شہر کو پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی، بلدیاتی نظام، صنعت، رہائش اور شہری سہولتوں کے بحران سے نکال سکے۔ کیونکہ کراچی کی بحالی صرف کراچی کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی بقا کی ضرورت بھی ہے۔
انتخابی نعرے چند دن زندہ رہتے ہیں، مگر شہروں کی تقدیر نسلوں تک اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے سیاست دانوں کو الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے۔ کروڑوں شہریوں کے شہر کو طنز کا نشانہ بنانا آسان ہے، مگر اسے دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اصل قیادت کا امتحان ہے۔
آخر میں سوال پھر وہی ہے جس کا جواب ہر حکومت کو دینا ہوگا۔
لاہور کی ترقی پر پورا پاکستان خوش ہے، مگر کراچی کی بدحالی پر آخر کس کو جواب دینا ہے؟
یہی وہ سوال ہے جو صرف آزاد کشمیر کے ووٹر نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے۔ -

سوشل میڈیا کا مصنوعی سوگ تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ
دنیا سے یااپنے ملک و شہر سے چلے جانے کے بعد انسان معتبر اور اہم ہوجاتا ہے
انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی قدر کرنا جانتا تھا۔ کسی کی خوشی میں شریک ہونا، کسی کے غم میں سہارا بننا، کسی کی کامیابی پر داد دینا اور کسی کی جدوجہد کو سراہنا ہماری سماجی اقدار کا حصہ تھا۔
لیکن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور سوشل میڈیا کے بے تحاشا استعمال نے ان اقدار کی صورت بدل دی ہے۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں جذبات بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، رشتے بھی ورچوئل ہوتے جا رہے ہیں اور دکھ بھی اکثر مصنوعی محسوس ہونے لگے ہیں۔
آج اگر کوئی شخص دنیا سے رخصت ہو جائے، کسی شہر کو چھوڑ دے، کسی ادارے سے الگ ہو جائے یا کسی دوسرے ملک منتقل ہو جائے تو اچانک وہی شخص سب کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ اس کی تصاویر، ویڈیوز، یادیں اور خدمات کا تذکرہ ہر طرف ہونے لگتا ہے۔ سوشل میڈیا پر طویل تعزیتی پیغامات، جذباتی تحریریں اور تعریفوں کے انبار لگ جاتے ہیں۔ لیکن ایک سوال دل میں بار بار جنم لیتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ اس شخص کے جیتے جی نہیں کیا جا سکتا تھا؟
کتنی عجیب بات ہے کہ جس انسان کی پوسٹ پر کبھی ایک حوصلہ افزا جملہ لکھنے کی فرصت نہیں ہوتی، اس کی وفات کے بعد کئی صفحات پر مشتمل تعزیتی نوٹ لکھ دیے جاتے ہیں۔ جس کی کامیابی پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، اس کے جانے کے بعد اسے عظیم، بے مثال اور ناقابلِ فراموش قرار دیا جاتا ہے۔ گویا ہم نے عزت، محبت اور اعتراف کو موت کے بعد تقسیم کرنے کی روایت بنا لی ہے۔
یہ صرف سوشل میڈیا کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ بھی ہے۔ ہم زندہ انسانوں کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اچانک اس کی تمام خوبیاں یاد آ جاتی ہیں۔ اختلافات ختم ہو جاتے ہیں، شکایتیں مٹ جاتی ہیں اور تعریفوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اگر یہی رویہ ہم اس کی زندگی میں اختیار کریں تو شاید کئی دل ٹوٹنے سے بچ جائیں، کئی لوگ مایوسی کا شکار نہ ہوں اور کئی زندگیاں امید سے بھر جائیں۔
آج سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو آسان ضرور بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ دکھاوے کو بھی فروغ دیا ہے۔ بعض لوگ تعزیتی پوسٹ صرف اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ انہیں حساس، مخلص یا باخبر سمجھیں۔ بعض اوقات تو ایسے افراد بھی تعزیت کرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے مرحوم سے برسوں رابطہ تک نہیں رکھا ہوتا۔ چند لمحوں کے لیے پروفائل تصویر سیاہ کر دینا، افسوس کے دو جملے لکھ دینا یا پرانی تصویر شیئر کر دینا آسان ہے، مگر کسی کی زندگی میں اس کے دکھ بانٹنا، اس کی مالی یا اخلاقی مدد کرنا اور اس کا حوصلہ بڑھانا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
بدقسمتی سے یہی رویہ صرف عام لوگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اہلِ علم، صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، اساتذہ، فنکاروں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے۔ جب تک وہ زندہ ہوتے ہیں، ان کی خدمات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
ان کی محنت کو وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، انہیں قومی اثاثہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ سیمینار منعقد ہوتے ہیں، تعزیتی ریفرنس ہوتے ہیں، خصوصی مضامین لکھے جاتے ہیں اور ان کے نام پر ایوارڈز کا اعلان کیا جاتا ہے۔ان کے اعزاز میں شام رکھی جاتی ہے
سوال یہ ہے کہ اگر یہی عزت، یہی اعتراف اور یہی محبت ان کی زندگی میں مل جاتی تو کیا وہ زیادہ خوش، زیادہ مطمئن اور معاشرے کے لیے زیادہ مثر کردار ادا نہ کر سکتے تھے؟
ہمارا دین بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ زندہ انسان کی عزت کرو، اس کی دلجوئی کرو، بیمار کی عیادت کرو، رشتوں کو جوڑو، ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور کسی کے دل کو ٹوٹنے نہ دو۔ اسلام نے زندہ انسان کے حقوق کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے، لیکن ہم نے ان تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر رسمی تعزیت کو اصل ہمدردی سمجھ لیا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ اپنے والدین کو ان کی زندگی میں بتائیں کہ ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ اپنے اساتذہ کا احترام ان کے سامنے کریں۔ اپنے دوستوں کی کامیابی پر دل سے خوش ہوں۔ اپنے ساتھیوں کی محنت کو سراہیں۔ کسی لکھنے والے کو اس کی زندگی میں داد دیں، کسی فنکار کو اس کے جیتے جی عزت دیں اور کسی خدمت گزار انسان کو اس کی موجودگی میں شکریہ کہیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر کل ہم خود اس دنیا سے چلے جائیں تو کیا ہمیں اس بات کی خوشی ہوگی کہ ہماری وفات کے بعد ہزاروں پوسٹیں لکھی جائیں، یا اس بات کی کہ ہماری زندگی میں کسی نے ہمارا ہاتھ تھاما، ہمارا حوصلہ بڑھایا اور ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم اہم ہیں؟
سوشل میڈیا بذاتِ خود برا نہیں، لیکن اس کا استعمال ہمارے رویوں کی عکاسی ضرور کرتا ہے۔ اگر ہم اسے محبت، حوصلہ افزائی، خیرخواہی اور زندہ انسانوں کی قدر کے لیے استعمال کریں تو یہی پلیٹ فارم معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صرف مصنوعی سوگ، نمائشی جذبات اور وقتی ہمدردی کا ذریعہ بن جائے تو پھر ہمیں اپنے ضمیر سے ضرور سوال کرنا چاہیے۔
اس موضوع سے متعلق ہم فیصل عشرت صاحب کے بھی خیالات آپ کی بصارتوں کی نذر کرتے ہیں: فیصل عشرت*
(ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ)
******
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آج کے اس بے حس اور مشینی دور میں ہمارے جذبات بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں؟ جب تک کوئی شخص
ہمارے درمیان سانس لیتا ہے، ہم اس کی ایک آواز سننے، اس کا حال پوچھنے یا اس کے درد کو بانٹنے کے لیے ایک لمحہ نہیں نکالتے۔ لیکن جونہی وہ اس فانی دنیا سے کوچ کرتا ہے، یا بیروں ملک یا کسی شہر چلا جاتا ہے تو ہمارا سوشل میڈیا اکانٹ اچانک مصنوعی محبت اور آنسووں کے سیلاب سے ڈوب جاتا ہے۔ کیا یہ سچا دکھ ہے یا محض ایک نیا “ورچوئل ٹرینڈ” (Virtual Trend)؟
ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں۔ زندگی کی اس اندھی دوڑ میں ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنوں کی سانسیں ٹوٹنے کا انتظار کرتے ہیں۔ جیتے جی کوئی فون کال نہیں، کوئی خیریت کا پیام نہیںبس ایک ہولناک خاموشی اور دوری! لیکن جیسے ہی کسی کی موت کا آخری پیغام فیس بک کی وال یا واٹس ایپ اسٹیٹس کی زینت بنتا ہے، ہمارے اندر کا سویا ہوا ضمیر اچانک جاگ اٹھتا ہے۔ ہم فورا طویل اور دکھ بھری ایموشنل پوسٹس (Emotional Posts) کا انبار لگا دیتے ہیں، پرانی تصاویر ڈھونڈ کر شیئر کرتے ہیں اور “RIP” کے روایتی الفاظ لکھ کر خود کو دنیا کے سامنے سب سے بڑا درد مند ظاہر کرنے کی ناکام اداکاری کرتے ہیں۔
دل چیر دینے والا سوال تو یہ ہے کہ جب وہ انسان تنہائی کے اندھیروں میں گھٹن جھیل رہا تھا، تب آپ کی یہ محبت کہاں تھی؟ کیا اسے آپ کی اس “ڈیجیٹل سمپتی” (Digital Sympathy) اور ان دکھاوے کے لفظوں کی اس وقت ضرورت نہیں تھی جب وہ زندگی کی کشمکش میں اکیلا تھا؟ جب اسے آپ کے دو محبت بھرے بولوں کی یا صرف ایک خلوص بھرے میسج کی پیاس تھی؟
تلخ مگر عیاں حقیقت یہی ہے کہ ہم اس بے حس معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہم جیتے جی لوگوں کی قدر نہیں کرتے، بلکہ ان کی لاش پر بیٹھ کر اپنی خودساختہ “محبت” کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم کسی کی موت کو بھی اپنے “لائکس” (Likes)، “ویوز” (Views) اور “ہمدردی کے سرٹیفکیٹس” سمیٹنے کا گھٹیا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ یہ کیسا ہولناک تضاد ہے کہ ہم زندگی میں اپنوں کو اپنانے سے کتراتے ہیں اور مرنے کے بعد ان کے نام پر “پوسٹ اور ری پوسٹ” کا تماشا لگا دیتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ، خدارا اس کھوکھلے، مصنوعی اور کاغذی سوگ کے اسیر بننے سے باہر نکلیں۔ مرنے کے بعد یا کسی کے بیرون ملک یا شہر جانے کے بعد
دکھاوے کے جملوں اور ڈیجیٹل آنسوں سے کہیں بہتر ہے کہ ہم زندگی ہی میں اپنوں کو وقت دیں، ان کی روح کو سکون بخشیں اور ان کے دکھ سکھ میں سچے دل سے شریک ہوں۔ یاد رکھیے، اس دنیا سے جانے والے کو آپ کے “ڈیجیٹل کمنٹس” یا تعزیت کے طویل پیغامات کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی؛ اسے ضرورت ہوتی ہے تو صرف جیتے جی آپ کے خلوص، آپ کے ساتھ اور آپ کی سچی محبت کی!۔۔۔۔
یہ تھے فیصل عشرت صاحب آخر میں بس اتنا کہ
آئیے عہد کریں کہ ہم لوگوں کی قدر ان کی زندگی میں کریں گے، ان کی موجودگی میں ان کا شکریہ ادا کریں گے، ان کی کامیابی پر انہیں مبارک دیں گے، ان کے دکھ میں ان کا سہارا بنیں گے اور ان کے جانے کے بعد افسوس کرنے کے بجائے ان کے جیتے جی محبت بانٹنے کی روایت کو زندہ کریں گے۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ انسان کو اپنے مرنے کے بعد لکھی جانے والی تحریروں سے زیادہ، اپنی زندگی میں بولے جانے والے دو مخلص الفاظ
کی ضرورت ہوتی ہے۔ -

موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی آگ صبیحہ خان صبیحہ
کینیڈا اور امریکہ کا تعلق ساس بہو والا ہوگیا ہے ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جنگل کی آگ کا ساس بہو سے کیا تعلق؟ مگر عالمی سیاست پر نظر ڈالیں تو کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ بعض ممالک کے تعلقات بھی ہمارے معاشرے کے ساس بہو کے رشتے سے ملتے جلتے ہیں۔ بہو لاکھ احتیاط کرے، ساس کو کوئی نہ کوئی خامی ضرور مل جاتی ہے۔ ادھر جنگل میں آگ لگی، ادھر الزاموں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیاکبھی کبھی امریکہ کا انداز کینیڈا کے لئے ساس جیسا لگتا ہے جو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اپنی بہو میں کیڑے نکالنے میں زرا دیر نہیں کرتی بعض اوقات بین الاقوامی تعلقات بھی ساس بہو کے رشتے کا منظر پیش کرتے ہیں، جہاں بہو جو بھی کرے، ساس کو کوئی نہ کوئی خامی ضرور نظر آ جاتی ہے۔جب گھر میں آگ لگتی ہے تو دھواں سے پڑوسی کا گھر کیسے محفوظ رہ سکتا ہے تو بجائے پڑوسی کی مدد آتی اس کے بجائے الزامات کی بوچھاڑ ہوگئی جیسا کہ حالیہ کینیڈا کے جنگل کی آگ کا زمہ دار کینیڈا حکومت پر ڈال کر ٹیرف بڑھانے کی دھمکی بھی دے ڈالی ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ قدرتی آفات نہ سرحدیں دیکھتی ہیں اور نہ سیاسی بیانات ان سے نمٹنے کے لیے الزام نہیں بلکہ تعاون درکار ہوتا ہے ۔ کینیڈا دنیا کے سب سے زیادہ جنگلات والے ممالک میں شامل ہے۔ یہاں تقریبا 369 ملین ہیکٹر (3.69 ملین مربع کلومیٹر) جنگلات ہیں، جو کینیڈا کی زمینی سطح کا تقریبا 40 فیصد بنتے ہیں۔ یہ دنیا کے کل جنگلات کا لگ بھگ 9 فیصد ہے اگر آپ مشرق سے مغرب تک سفر کریں تو ہزاروں کلومیٹر تک مسلسل جنگلات، جھیلیں اور دریا ملتے ہیں۔اور برف سے ڈھکے پہاڑ میدان اور جھیلیں سمندر ہیں کینیڈا کے بیشتر شمالی علاقے آج بھی تقریبا غیر آباد ہیں، جہاں صرف جنگلات، پہاڑ، جھیلیں اور جنگلی حیات ہے۔یہاں صرف چار ماہ گرم موسم رہتا ہے باقی سرد موسم اور برفباری کا راج ہوتا ہے ۔گرمیوں کا موسم آتے ہی دنیا کے مختلف ممالک میں جنگلات کی آگ کی خبریں عام ہونے لگتی ہیں۔ کہیں ہزاروں ایکڑ جنگل جل جاتے ہیں، کہیں قیمتی جنگلی حیات متاثر ہوتی ہے اور کہیں لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنا پڑتے ہیں۔ ایسے حالات میں اکثر سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہر جنگل کی آگ حکومت کی ناکامی ہوتی ہے یا بعض اوقات یہ واقعی ایک قدرتی آفت ہوتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ قدرتی جنگلات کسی باغ کی طرح نہیں ہوتے جہاں ہر خشک پتہ اور ہر گری ہوئی شاخ روزانہ ہٹا دی جائے۔ کینیڈا کے طویل رقبے پر پھیلے جنگلات یہ جنگل کے قدرتی نظام کا حصہ ہوتے ہیں، جہاں بے شمار پرندے، جانور اور کیڑے مکوڑے انہی درختوں اور جھاڑیوں سے اپنی بقا کا سامان کرتے ہیں۔جب کئی ہفتوں یا مہینوں تک بارش نہ ہو، درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جائے اور تیز ہوائیں چلنے لگیں تو یہی خشک جھاڑیاں آگ کے لیے ایندھن بن جاتی ہیں۔ بعض اوقات بجلی گرنے سے آگ لگ جاتی ہے، اور کبھی انسانی لاپرواہی بھی اس کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے ہر واقعے کو صرف ایک وجہ سے جوڑ دینا حقیقت کا مکمل عکس نہیں۔حالیہ دنوں میں بعض سیاسی بیانات میں جنگلات کی آگ کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دیا گیا۔ لیکن ایسے پیچیدہ مسئلے کو صرف ایک فریق کی گردن میں ڈال دینا انصاف پر مبنی تجزیہ نہیں۔ جنگلات کی آگ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں قدرتی عوامل، موسمی تبدیلیاں، انتظامی تیاری اور انسانی رویے سب اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کینیڈا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں لاکھوں مربع کلومیٹر پر جنگلات پھیلے ہوئے ہیں۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس ملک کا دوسرا نام ہی جنگل ہو، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں انسان نے جنگل کو ختم نہیں کیا بلکہ جنگل کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سیکھ لیا ہے۔ شہروں کو اس انداز سے آباد کیا گیا ہے کہ فطرت بھی محفوظ رہے اور شہری بھی۔اس کے باوجود جب غیر معمولی گرمی، خشک سالی اور تیز ہوائیں مل جائیں تو جنگلات کی آگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی قدرتی آفت کو مکمل طور پر روکنا شاید کسی بھی ملک کے بس کی بات نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے غافل ہے۔ کینیڈا میں جدید وارننگ سسٹم، تربیت یافتہ فائر فائٹرز، فضائی امداد، بروقت انخلا کے انتظامات اور شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی جان کو اولین ترجیح دی جاتی ہے سیاست اپنی جگہ، مگر فطرت کے اپنے قوانین بھی ہوتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ حکومتوں کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ جدید نگرانی کا نظام، بروقت وارننگ، فائر فائٹرز کی مناسب تربیت، آگ بجھانے کے وسائل، اور جہاں ممکن ہو وہاں خشک جھاڑیوں کی صفائی جیسے اقدامات نقصان کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن یہ توقع کرنا کہ لاکھوں ایکڑ پر پھیلے جنگلات کے ہر درخت اور ہر جھاڑی کی مکمل حفاظت کی جا سکتی ہے، حقیقت پسندانہ سوچ نہیں جہاں تک امریکہ کے بیانات کا تعلق ہے، سیاست دان بعض اوقات کسی مسئلے پر مختلف زاویے سے تنقید کرتے ہیں۔ اگر وہ کینیڈا کی حکومت پر جنگلات کے انتظام یا آگ سے نمٹنے کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں بجائے اس کی مدد کرنے کے تو یہ ایک سیاسی مقف ہو سکتا ہے۔ جبکہ امریکہ کی ریاستوں کو بھی قدرتی آفات کا سامنا رات دن کرنا پڑتا ہے اور کینیڈا ہمیشہ اچھے پڑوسی کا رول ادا کرتا ہے ۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ کینیڈا کی کوشش ہے کہ انسانی جانیں محفوظ رہیں کیونکہ جنگلات کی آگ میں قدرتی حالات، موسم، خشک سالی،موسمیاتی عوامل اور انسانی سرگرمیاں سب کردار ادا کر سکتے ہیں ،قدرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بعض آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن بہتر منصوبہ بندی، سائنسی تحقیق، ماحول دوست پالیسیوں اوراجتماعی ذمہ داری سے ان کے نقصانات ضرور کم کیے جا سکتے ہیں۔ الزام تراشی سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کے تحفظ اور ہنگامی تیاری کے لیے مل کر کام کرے۔ کیونکہ آگ یہ نہیں دیکھتی کہ سرحد کہاں ختم ہوتی ہے؛ وہ صرف وہیں پھیلتی ہے جہاں اسے ایندھن اور سازگار حالات مل جائیں جنگلات کی آگ (Wildfires) کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، اور ہر آگ کا سبب ایک جیسا نہیں ہوتا بعض آگیں قدرتی وجوہات سے لگتی ہیں، مثلا بجلی گرنا، شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہوائیں۔جبکہ بہت سی آگ انسانی سرگرمیوں سے بھی لگتی ہیں، جیسے کیمپ فائر کو مکمل طور پر نہ بجھانا،کینیڈا جیسے وسیع ملک میں لاکھوں ایکڑ پر پھیلے جنگلات کی ہر جھاڑی اور ہر درخت کی حفاظت عملی طور پر ممکن نہیں۔ اگر مہینوں تک بارش نہ ہو، درجہ حرارت بہت زیادہ ہو اور ہوائیں تیز ہوں تو ایک چھوٹی سی چنگاری بھی بڑی آگ میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔مگر اس کے باجود کینیڈین حکومت الرٹ رہتی ہے اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت زمہ داری ان کی اولین کوشش ہوتی ہے جس سے وہ غافل نہیں رہتے ۔ See less
-

اختلاف جرم، احتجاج سزا ماجد علی سید
مودی حکومت کی ہٹ دھرمی نے بھارتی جمہوریت کو کہاں لا کھڑا کیا؟
جمہوریت کی خوبصورتی اختلافِ رائے میں ہوتی ہے، لیکن جب اختلاف کو جرم اور احتجاج کو بغاوت سمجھ لیا جائے تو پھر جمہوریت صرف آئین کے صفحات تک محدود رہ جاتی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرنے والے بھارت میں آج یہی سوال شدت سے اٹھ رہا ہے۔ طلبہ اپنے مستقبل کا تحفظ مانگ رہے ہیں، اساتذہ شفاف نظامِ تعلیم کا مطالبہ کر رہے ہیں، اپوزیشن ان کی حمایت میں سڑکوں پر ہے، مگر حکومت کا رویہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مسئلہ حل کرنے سے زیادہ احتجاج ختم کرنا اس کی ترجیح ہو۔
حالیہ دنوں میں مختلف ریاستوں میں امتحانی بے ضابطگیوں، پیپر لیکس اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات نے طلبہ کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔
احتجاج کا دائرہ وسیع ہوا تو اپوزیشن، خصوصا راہول گاندھی، بھی میدان میں آگئے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ نوجوانوں کا مستقبل دا پر لگا ہوا ہے، مگر حکومت جواب دینے کے بجائے سیاسی برتری ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ کئی مقامات پر احتجاج روکنے کے لیے پولیس کی سخت کارروائیوں، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی تصاویر بھی سامنے آئیں، جنہوں نے حکومتی طرزِ عمل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ مودی حکومت پر اختلافی آوازوں کو دبانے کا الزام لگا ہو۔ کسانوں کی طویل تحریک ہو، شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج، منی پور کا بحران یا مختلف جامعات میں طلبہ کی تحریکیں، ہر بڑے تنازع میں حکومت کا پہلا ردعمل مکالمہ نہیں بلکہ انکار، سختی یا تاخیر رہا۔
شاید اسی لیے آج ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا بھارت میں اختلافِ رائے کو سیاسی مخالفت نہیں بلکہ ریاستی چیلنج سمجھا جانے لگا ہے؟
مودی حکومت گزشتہ ایک دہائی سے “نیو انڈیا” اور “وشو گرو” کے خواب کی بات کرتی رہی ہے۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، تیز رفتار معیشت اور عالمی سفارت کاری یقینا اس بیانیے کا حصہ ہیں، مگر کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر وہی نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر محفوظ محسوس کریں، امتحانی نظام پر اعتماد کھو بیٹھیں اور اپنی آواز سنوانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں تو ترقی کے دعووں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
یہ احتجاج صرف ایک امتحان یا ایک پیپر لیک کا معاملہ نہیں، بلکہ اعتماد کے بحران کی علامت ہے۔
لاکھوں نوجوان برسوں محنت کرتے ہیں، اپنے خوابوں کو ایک امتحان سے جوڑتے ہیں، مگر جب امتحانات کی شفافیت ہی مشکوک ہو جائے تو متاثر صرف نتائج نہیں ہوتے بلکہ ریاست پر اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے یہ سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے کہ نوجوان نظام پر یقین کھو دیں۔
راہول گاندھی نے اس احتجاج کو یقینا سیاسی رنگ بھی دیا، اور ایک اپوزیشن رہنما ہونے کے ناطے یہ ان کا سیاسی حق ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ اپوزیشن نے کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ حکومت نے کیا کیا؟ اگر پارلیمنٹ میں کھلی بحث ہوتی، طلبہ کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جاتا اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی تو شاید احتجاج اس حد تک نہ پہنچتا۔ جمہوریت میں اختلاف کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے، طاقت کے مظاہرے سے نہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مضبوط اکثریت بعض اوقات حکومتوں کو یہ احساس دلا دیتی ہے کہ عوامی حمایت مستقل ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ووٹ اور اعتماد دو الگ چیزیں ہیں۔ انتخابات جیتنے سے حکومت بنتی ہے، مگر نوجوانوں کا اعتماد صرف شفافیت، انصاف اور جوابدہی سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر مودی حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
آج بھارت صرف ایک تعلیمی بحران کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ یہ اس کی جمہوری روایت کا بھی امتحان ہے۔
جب طلبہ سوال کریں، اساتذہ اصلاحات مانگیں اور اپوزیشن احتجاج کرے تو حکومت کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک راستہ مکالمے، شفاف تحقیقات اور اصلاحات کا ہوتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ انکار، سختی اور وقت گزاری کا۔ بدقسمتی سے موجودہ منظرنامے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوسرا راستہ زیادہ نمایاں ہے۔
دنیا بھر میں جمہوریتوں کی مضبوطی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ حکومت کتنی طاقتور ہے، بلکہ اس سے کہ وہ تنقید کو کتنے حوصلے سے سنتی ہے۔ جو حکومتیں ہر مخالف آواز کو سازش، ہر احتجاج کو سیاست اور ہر سوال کو دشمنی سمجھنے لگیں، وہاں جمہوریت کا حسن آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگتا ہے۔
بھارت کے لیے یہ لمح فکریہ ہے۔ اگر نوجوانوں کی بے چینی کو محض اپوزیشن کی سیاست قرار دے کر نظر انداز کیا گیا تو مسئلہ وقتی طور پر دب تو سکتا ہے، مگر ختم نہیں ہوگا۔ نوجوانوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی مایوسی کسی بھی ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے، کیونکہ یہی نوجوان مستقبل کی معیشت، سیاست اور سماج کی بنیاد ہوتے ہیں۔
مودی حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ طاقت کے بجائے اعتماد کا راستہ اختیار کرے۔ اختلافی آوازوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے انہیں سنے، احتجاج کو قانون و انتظام کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس کے اسباب دور کرے، اور یہ ثابت کرے کہ بھارت واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، صرف آبادی کے اعتبار سے نہیں بلکہ جمہوری رویوں کے اعتبار سے بھی۔ ورنہ تاریخ شاید یہی لکھے کہ “وشو گرو” بننے کے سفر میں نئی دہلی اپنے ہی نوجوانوں کی آواز سننا بھول گیا تھا، اور جب سوال بلند ہوئے تو جواب دلیل سے نہیں، طاقت سے دینے کی کوشش کی گئی۔ -

ایران امریکا ڈیل کی نئی اُمیدیں، خام تیل کی قیمتوں میں کمی آگئی
لندن (ویب ڈیسک )ایران کے خلاف امریکی حملوں میں وقفے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آگئی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر 2 ہفتوں سے جاری حملوں میں وقفہ دینے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 5.58 ڈالر یا 5.77 فیصد کمی کے بعد 91.20 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔دوسری جانب امریکی خام تیل4.91 ڈالر یا 5.50 فیصد سستا ہو کر 84.40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی امید نے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو کم کیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کا حکم دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق 13 روز سے جاری کارروائی روکنے کا حکم جمعے کو دیا گیا ۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملے ایک روز کے لیے روکے گئے ہیں یا جنگ بندی کردی گئی ہے ۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

پیٹرول لاگت سے 125 روپے 42 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 112 روپے 54 پیسے مہنگا
اسلام آباد(ویب ڈیسک ) ملک میں پیٹرول لاگت سے 125 روپے 42 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 112 روپے 54 پیسے مہنگا ہے۔پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں شامل لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 125 روپے 95 پیسے جبکہ ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 112 روپے 54 پیسے لیوی، ٹیکس اور مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں۔دستاویزات کےمطابق ایک لیٹرپیٹرول کی بنیادی لاگت 209 روپے 76 پیسے بنتی ہے تاہم حکومت نے فی لیٹر قیمت 335 روپے 18 پیسے مقرر کی ہے، پیٹرول پر 80 روپے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 17 روپے 28 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 7 روپے 16 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔ اسی طرح فی لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 270 روپے 92 پیسے ہے جبکہ حکومت نے اس کی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے۔ دستاویز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر مجموعی طور پر 112 روپے 54 پیسے کی لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پیٹرولیم لیوی 70 روپے 82 پیسے اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے کے حساب سے عائد ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر میں 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 53پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے