Blog

  • نقاب چھیننے کی ویڈیو پر تبصرہ،  وزیر ے نازیبا الفاظ پر ہنگامہ

    نقاب چھیننے کی ویڈیو پر تبصرہ، وزیر ے نازیبا الفاظ پر ہنگامہ

    ممبی (کنزیومرواچ نیوز)اتر پردیش کے کابینہ وزیر سنجے نشاد کے ایک متنازع بیان نے بھارت میں سیاسی اور سماجی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دے دیا ہے۔یہ بیان بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ایک وائرل ویڈیو کے تناظر میں سامنے آیا، جس میں وہ ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب ہٹاتے دکھائی دیتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سنجے نشاد نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر صرف حجاب ہٹانے پر اتنا شور مچ گیا ہے تو اگر کہیں اور ہاتھ لگ جاتا تو کیا ہوتا۔ ان کے اس بیان کو خواتین کی تضحیک، غیر اخلاقی سوچ اور ایک مخصوص برادری کے خلاف نفرت انگیز رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔کانگریس رہنما سپریا شریناتے نے سنجے نشاد کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک وزیر کی جانب سے اس طرح کے الفاظ ان کی گھٹیا اور عورت دشمن ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان نہ صرف شرمناک ہے بلکہ قابلِ مذمت بھی ہے۔یہ واقعہ بہار میں ایک سرکاری تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں ایک مسلم خاتون ڈاکٹر تقرری کا لیٹر لینے اسٹیج پر آئیں۔ لیٹر دینے کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ان کا حجاب ہٹانے کی کوشش کی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔اس معاملے کے بعد سماج وادی پارٹی کی رہنما اور ترجمان سومیا رانا نے لکھنؤ کے قیصرگنج تھانے میں نتیش کمار اور سنجے نشاد کے خلاف شکایت درج کرا دی ہے۔ سومیا رانا کا کہنا تھا کہ ویڈیو دیکھ کر انہیں شدید ذہنی صدمہ پہنچا اور یہ عمل ایک پوری برادری کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں خواتین کو عزت دی جاتی ہے، لیکن اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز افراد کی جانب سے اس طرح کا رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ سومیا رانا نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں سخت قانونی کارروائی کی جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

  • خیبر پختونخوا اسمبلی کے 92  اراکین وفاقی پولیس کو مطلوب

    خیبر پختونخوا اسمبلی کے 92 اراکین وفاقی پولیس کو مطلوب

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)خیبر پختونخوا اسمبلی کے 92 میں سے 70 اراکین وفاقی پولیس کو مطلوب ہیں، پی ٹی آئی کے 70 ایم پی ایز کے خلاف اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔سب سے زیادہ مقدمات سابق وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کے خلاف ہیں۔اسلام آباد پولیس نے ماضی میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع کرلیں جس میں دہشت گردی، پولیس و رینجرز اہلکاروں کے قتل جیسی سنگین دفعات شامل ہیں۔پی ٹی آئی کے اکثر ایم پی ایز نے ابھی تک کسی عدالت سے ضمانت بھی نہیں لی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اسلام آباد پولیس کو 11 مقدمات میں مطلوب ہیں۔ سہیل آفریدی پر 7 اے ٹی اے اور پولیس اہلکاروں پر حملے کے مقدمات درج کیے گئے۔سب سے زیادہ 52 ایف آئی آرز سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر درج ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق مقدمات 18 مختلف تھانوں میں 2022 سے نومبر 2024 تک درج کیے گئے۔ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی پر نومبر 2024 میں پرتشدد مظاہرے کی قیادت کا مقدمہ درج ہے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق وزیر بلدیات اور وزیر ہائر ایجوکیشن خیبر پختونخوا مینا آفریدی پر 4 مقدمات درج کیے گئے۔ مینا آفریدی پر گولڑہ، آبپارہ، نون اور سیکریٹریٹ تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سواتی کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج ہے جبکہ صوابی کی مشہور شخصیت فیصل ترکئی 7 اے ٹی اے کے تحت مقدمے میں نامزد ہیں پولیس ریکارڈ کے مطابق اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ پر تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج ہے۔

  • کشمیر بھارت کا نہیں، دہشت گردی بند کرو، پاکستان

    کشمیر بھارت کا نہیں، دہشت گردی بند کرو، پاکستان

    نیویارک:(کنزیومرواچ نیوز)اقوام متحدہ میں پاکستان نے بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی قونصلر گل قیصر سروانی نے بھارتی نمائندے کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہی۔پاکستانی قونصلر نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے اور اس کی حیثیت کو یکطرفہ بیانات سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت خود دہشت گردی کی کھلی سرپرستی کر رہا ہے اور بارہا پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کر چکا ہے، جو ایک روگ اسٹیٹ کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔گل قیصر سروانی نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ ایسے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) شامل ہیں، جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف مسلسل جارحیت بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے جسے عالمی برادری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔پاکستانی قونصلر نے ایک بار پھر زور دیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو فوری طور پر بند کرے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے گل قیصر سروانی نے کہا کہ بھارت جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کر رہا ہے اور ایک بین الاقوامی معاہدے کی غلط تشریح پیش کی جا رہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی شق میں یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔پاکستانی نمائندے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا نوٹس لے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

  • عمران خان کے بیٹوں کا والد سے ملاقات کے لیے پاکستان آنے کا اعلان

    عمران خان کے بیٹوں کا والد سے ملاقات کے لیے پاکستان آنے کا اعلان

    لندن (کنزیو مرواچ نیوز)پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے کہا ہے کہ انہوں نے اور ان کے بھائی سلیمان نے اپنے ویزے کے لیے درخواست دی ہے اور وہ دونوں جنوری میں پاکستان کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بات برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔قاسم اور سلیمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ عمران خان کی بہنوں کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرانے سے ایک بار پھر انکار کردیا گیا، پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ حکام نے واٹر کینن سے کیمیکل ملا پانی پھینکا۔عمران خان کے اہل خانہ اور پارٹی نے ان حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں سابق وزیر اعظم کو جیل کے اندر رکھا جا رہا ہے۔اسکائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو کے دوران لندن میں رہنے والے قاسم اور سلیمان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے عمران خان سے ملنے کی اجازت لینے کے لیے پاکستانی حکومت سے بات کرنے کی کوشش کی جب کہ چند ماہ قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ وہ ’آ سکتے ہیں‘، عمران خان سے مل سکتے ہیں۔اس سوال پر قاسم نے جواب دیا ’اب ہم منصوبہ بنا رہے ہیں کیونکہ انہوں نے کھل کر کہا ہے، لہٰذا جب تک وہ اپنی بات پر قائم ہیں تو ہمیں امید ہے کہ جنوری میں جانا چاہیے، ہم نے اپنے ویزوں کے لیے درخواست دے دی ہے، ویزے ابھی تک نہیں آئے، ہم توقع کر رہے ہیں کہ یہ پروسس مکمل ہو جائے گا، اس لیے ہم جنوری میں جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں‘۔اینکر نے پھر ان سے پوچھا کہ وہ عمران خان کو دیکھ کر ان سے کیا بات کریں گے اور کیا وہ ان سے “کسی ڈیل ” پر غور کرنے کا کہیں گے؟۔اس سوال میں بظاہر سابق وزیراعظم کی جیل سے رہائی کے لیے عمران خان اور پاکستانی حکمرانوں کے درمیان کسی ڈیل کے امکان کی طرف اشارہ تھا۔اس پر قاسم نے کہا کی کہ ’جو بات آپ کو سمجھنی چاہیے وہ ان کی زندگی ہے، یہ واقعی میں ان کا جذبہ اور ان کا مقصد ہے، عمران خان اسے اپنی زندگی کا مقصد کہتے ہیں کہ پاکستان کو بدعنوانی سے نجات دلائیں‘۔قاسم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ’اور اس لیے اگر وہ ابھی ڈیل کر کے ہمارے پاس آئے اور انگلینڈ میں رہیں تو میں جانتا ہوں کہ ان کو یہ تکلیف ہوگی کہ انہوں نے اپنا ملک برباد ہونے کے لیے چھوڑ دیا ہے، میں جانتا ہوں کہ وہ ڈپریشن میں چلے جائیں گے‘۔قاسم کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ان کا مقصد ہے، ہم تو چاہیں گے کہ ہمارے والد ہمارے تمام کرکٹ اور فٹ بال میچ یہاں دیکھیں، ان کا ایک مقصد ہے جو ان چیزوں سے کہیں بڑا ہے، لہذا، آپ صرف اس کا احترام کر سکتے ہیں‘۔اس سوال پر کہ وہ عمران خان کو مزید کیا کہنا چاہیں گے یا انہیں کیا پیغام دیں گے، قاسم نے کہا، ’میں جاننا چاہتا ہوں کہ ہم انہیں کیسے باہر نکال سکتے ہیں، ہم کس طرح مدد کر سکتے ہیں کیونکہ اہم بات یہ ہے کہ ہم اس وقت بہت بے بس محسوس کر رہے ہیں، میرا مطلب ہے، بات چیت کے لیے بہت کچھ ہے‘۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی بات چیت کے دوران عمران خان ہمیشہ اپنی کنڈیشنز کے بارے میں بات کرنے سے انکار کرتے تھے، ’وہ اسی طرح ہیں، قاسم نے کہا کہ وہ کہتے ہیں’ میرے بارے میں فکر نہ کرو، بتاؤ سب کچھ کیسا ہے؟ وہ ہماری نانی کی خیریت کے بارے میں ضرور پوچھتے تھے‘۔قاسم نے کہا کہ ’ہم نے ان سے اس وقت سے بات نہیں کی جب کہ 2 ماہ قبل نانی کی موت ہوئی ہے اور میں ان سے اس کے بارے میں بات کرنا چاہوں گا، عمران خان اپنی والدہ کے انتقال کے بعد انہیں اپنی ماں کہتے تھے اور ان کا رشتہ بہت قریبی تھا۔ اس لیے میں ان سے اس کے بارے میں بات کرنا چاہوں گا‘۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں لگتا ہے کہ عمران خان کبھی باہر آئیں گے تو اس سوال پر ان کا جواب زیادہ امید افزا نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، اقتدار میں موجود لوگ مزید مضبوط ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے، حل دیکھنا بہت مشکل ہے اور بہت سے لوگ جن سے ہم بات کرتے ہیں ہر بار جب ہم ان سے بات کرتے ہیں تو ان کا اعتماد کم ہوتا نظر آتا ہے‘۔قاسم نے کہا ’لہذا، اب ہم پریشان ہیں کہ شاید ہم انہیں دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں‘۔ سلیمان نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عمران خان ’اس قسم کے شخص نہیں جو کوئی سمجھوتہ کرنے یا کوئی ڈیل کرنے جا رہا ہے، ہاں، اس وقت، یہ ہی واحد آسان راستہ لگتا ہے لیکن میرے خیال میں بین الاقوامی دباؤ ہمیشہ ان حالات میں تبدیلی پر مجبور کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے‘۔

  • ڈیجیٹل دھوکادہی کے بڑھتے واقعات،  نئی ایڈوائزری جاری

    ڈیجیٹل دھوکادہی کے بڑھتے واقعات، نئی ایڈوائزری جاری

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)عوام سے ڈیجیٹل دھوکادہی کے بڑھتے ہوئے واقعات پہر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے نئی ایڈوائزری جاری کردی۔واضح کیا گیا ہے کہ بینک، نادرا یا ایف آئی اے کبھی بھی واٹس ایپ پرکال نہیں کرتے اگرکوئی آپ سے او ٹی پی مانگے تو سمجھ جائیں یہ 100 فیصدفراڈ ہے۔این سی سی آئی اے کی جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے “بینک مینیجر”یا”سرکاری افسر”کی کال آنے پرگھبرائیں نہیں، پہلے تسلی کریں۔ واٹس ایپ پر کسی سرکاری لوگو والی کال آئے تو اسے فوراًبلاک کر دیں۔ اوٹی پی کا مطالبہ اکاؤنٹ کھولنے یا شناختی کارڈ کی تصدیق کیلئے درکا نہیں ہوتا۔نوسربازصارفین کو ڈراتےہیں کہ ابھی یہ کریں ورنہ آپ کا اکاؤنٹ بند ہوجائےگا۔ ایڈوائزی میں کہا گیا ہے اصلی بینک والے پروفیشنل ہوتے ہیں، وہ کبھی دھمکیاں نہیں دیتے، ایسے ڈرانے اور دھمکانے والوں سے ہرگزبات نہ کی جائے ۔ فراڈ نمبرکو نائن ٹرپل زیرو پر میسج کریں یا ون سیون نائن نائن پرکال کرکے اطلاع دی جائے۔

  • بلاول بھٹو کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر مقدمہ درج

    بلاول بھٹو کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر مقدمہ درج

    حیدرآباد( کنزیومرواچ نیوز)حیدرآباد پولیس نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ قومی شاہراہ سے ملحقہ تھانہ ہٹڑی میں درج کیا گیا۔مقدمہ پیپلز اسٹوڈنٹ فیڈریشن کےمقامی رہنماکی مُدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ہالاناکہ روڈ پرپیپلزپارٹی طلبہ وِنگ کی جانب سے استقبالیہ کیمپ لگایا گیا۔ گاڑی میں سوار نامعلوم شخص مسلح گارڈز کے ہمراہ آیا اور پارٹی بینرز اور جھنڈے چھین لیے۔مقدمے کے مطابق نامعلوم شخص چیئرمین پیپلزپارٹی کے خلاف نازیبا الفاظ کہتے ہوئے فرار ہوگیا، پولیس نازیبہ الفاظ استعمال کرنے والے شخص کے خلاف قانونی کارروائی کرکے انصاف دلوائے۔

  • سوشل میڈیا پر ’تھینک یو جناح‘ کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

    سوشل میڈیا پر ’تھینک یو جناح‘ کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر ’تھینک یو جناح‘کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں صارفین قائد اعظم محمد علی جناح کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔مختلف پلیٹ فارمز پر لوگ پاکستان کے قیام، آزادی کی قدر اور ایک خودمختار ریاست کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔کئی صارفین کا کہنا ہے کہ آج کے حالات میں آزادی کی نعمت کی اصل قدر کا احساس ہو رہا ہے، جس پر وہ قائداعظم کی جدوجہد کو یاد کر رہے ہیں۔اس ہیش ٹیگ کے ٹرینڈ کرنے کی اصل وجہ گزشتہ روز بھارت میں پیش آنے والا ایک سنگین واقعہ ہے جس میں بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلم ڈاکٹر کا نقاب کھینچا گیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اپوائنمنٹ لیٹر دیے جانے کی تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کو لیٹر دینے کے بعد ان کا نقاب کھینچ لیتے ہیں۔نتیش کمار کے اس عمل پر نہ صرف مسلم کمیونٹی بلکہ بھارت سمیت دنیا بھر سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

  • رابی پیرزادہ نکاح کے بندھن میں بندھ گئیں، خوبصورت تصاویر وائرل

    رابی پیرزادہ نکاح کے بندھن میں بندھ گئیں، خوبصورت تصاویر وائرل

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)ماضی میں اداکاری اور گلوکاری سے وابستہ رہنے والی رابی پیرزادہ اب ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر، مصورہ اور خطاط کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ایک بڑے تنازع کے بعد ان کی زندگی میں آنے والی روحانی تبدیلی نے انہیں ایک نیا راستہ دکھایا اور انہوں نے اسلامی طرزِ زندگی کو اپنایا۔اس تبدیلی کے بعد رابی نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اپنی زندگی کے ہر نئے مرحلے کو عوام کے ساتھ شیئر کرتی رہی ہیں۔اب رابی پیرزادہ اپنی زندگی کے ایک اور خوبصورت باب میں داخل ہو چکی ہیں۔ حال ہی میں وہ نکاح کے بندھن میں بندھ گئیں۔ان کی نکاح کی تقریب نہایت سادگی اور رازداری کے ساتھ منعقد کی گئی، جس کی جھلکیاں انہوں نے خود اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیں۔اگرچہ ان کے شریکِ حیات نے کوئی تصویر شیئر نہیں کی تاہم رابی نے اپنے والدین، بھائی اور ماموں کے ساتھ چند یادگار لمحات مداحوں کے ساتھ بانٹے۔تقریب کے دوران رابی پیرزادہ نے کریم اور سرخ رنگ کے خوبصورت ملبوسات زیب تن کیے، جن میں وہ نہایت پُرسکون اور باوقار نظر آئیں۔ان تصاویر میں سادگی، خاندانی محبت اور روحانی سکون نمایاں تھا۔مداحوں کی جانب سے انہیں نئی زندگی کے آغاز پر خوب دعائیں اور نیک تمنائیں دی جا رہی ہیں۔بلاشبہ یہ رابی پیرزادہ کی زندگی کا ایک نیا اور مثبت مرحلہ ہے۔

  • سڈنی حملہ آور ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن میں ’ملٹری ٹریننگ‘ لی

    سڈنی حملہ آور ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن میں ’ملٹری ٹریننگ‘ لی

    سڈنی (کنزیومرواچ نیوز)آسٹریلیا کے مشہور ساحلی علاقے بونڈی بیچ پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث ملزمان کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔فلپائن کے امیگریشن حکام کے مطابق مبینہ حملہ آور ساجد اکرم اور اس کا بیٹا نوید اکرم نومبر کے مہینے میں تقریباً پورا وقت فلپائن میں مقیم رہے تھے جبکہ بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آوروں نے وہاں ’ملٹری ٹریننگ‘ حاصل کی۔فلپائن امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ساجد اکرم فلپائن میں ایک بھارتی شہری کے طور پر داخل ہوا جب کہ اس کا بیٹا نوید اکرم آسٹریلوی شہری ہے۔دونوں یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے اور 28 نومبر کو واپس روانہ ہوئے۔ ان کے سفر کا مقصد تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہے۔آسٹریلوی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت دہشت گردی سے جڑی ہو سکتی ہے اور ابتدائی شواہد کے مطابق حملہ انتہا پسند نظریات سے متاثر ہو کر کیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزمان نے بونڈی بیچ پر مذہبی تقریب کے دوران فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔حکام کے مطابق حملہ آوروں کی گاڑی سے دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور شدت پسند تنظیم سے منسوب جھنڈے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ واقعے کے بعد کئی زخمیوں کو سڈنی کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ واقعہ انتہا پسند سوچ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے اور اس حوالے سے سیکیورٹی ادارے مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔ واقعے کے بعد آسٹریلیا میں اسلحہ قوانین پر نظرثانی اور سیکیورٹی مزید سخت کرنے پر بھی غور شروع کر دیا گیا ہے۔

  • اشرف شاد کی کتاب ‘‘اللہ میاں کے گھر’’ کی پروقار تقریبِ رونمائی …..رپورٹ: تہمینہ راوء  آسڑیلیا

    اشرف شاد کی کتاب ‘‘اللہ میاں کے گھر’’ کی پروقار تقریبِ رونمائی …..رپورٹ: تہمینہ راوء آسڑیلیا

    ویسٹ ورڈ ، پیرا میٹا میں گزشتہ دنوں ادبی ذوق رکھنے والے قارئین، مصنفین، اساتذہ اور ادب دوست خواتین و حضرات کا ایک خوبصورت اجتماع منعقد ہوا، جس میں اشرف شاد کی نئی افسانوی تصنیف ‘‘اللہ میاں کے گھر’’ کی تقریبِ رونمائی بڑے وقار اور شان سے منعقد کی گئی۔ اس یادگار تقریب کا اہتمام اردو انٹر نیشنل آسٹریلیا نے کیا۔
    تقریب کی صدارت ممتاز ادیب خوشبیر سنگھ شاد نے کی جبکہ بطور مہمانِ خصوصی معروف علمی و سماجی شخصیت پروفیسر راحت منیر شریک ہوئے۔ دونوں معززین نے کتاب اور اس کے تخلیقی پس منظر پر بھرپور اور پْرمغز اظہارِ خیال کیا۔
    سڈنی کی نمایاں ادبی و علمی شخصیات نے کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے اسے اردو افسانے کی روایت میں ایک خوبصورت اضافہ قرار دیا۔ خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر شبیر حیدر، ڈاکٹر عباس زیدی، ڈاکٹر باقر رضا، نوید علی خان، تہمینہ راؤ ،محمد علی بخاری، کمود میرانی ، ڈاکٹر یاسمین شاد، ہما مرزا (جنہوں نے نظامت کے فرائض بھی نہایت خوبصورتی سے انجام دیے)، ڈاکٹر عائشہ سعید، فرحت اقبال، ، نائلہ ہما اور مصنف کی صاحبزادی ثمن شاد، (جو خود بھی انگریزی ادب کی معروف اور مقبول ادیبہ ہیں) شامل تھے
    کئی مقررین نے کتاب کے منتخب اقتباسات بھی سنائے، جس سے محفل کا رنگ مزید نکھر گیا۔
    تقریب کا ایک نہایت دلنشیں پہلو وہ تھا جب معروف ادیبہ ثمن نے اسٹیج پر آ کر اپنے والد کے فن، شخصیت اور محبت بھری تربیت کا ذکر کیا۔
    انہوں نے کہا،میرے والد نے ہمیں کتابوں سے محبت کرنا سکھایا ان کی زندگی میں اصول، دیانت اور محبت ایک ساتھ چلتے ہیں۔میری اپنی ادبی شناخت کی بنیاد بھی انہی کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کا نتیجہ ہے۔
    ان کے یہ جملے سامعین کے دلوں کو چھو گئے اور محفل پر ایک جذباتی کیفیت چھا گئی۔
    تقریب کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن رکھا گیا جس میں حاضرین نے کتاب، اسلوب اور موضوعات سے متعلق دلچسپ سوالات کیے جن کے جواب مصنف نے نہایت شائستگی اور تفصیل سے دیے۔
    اس کے بعد مہمانانِ گرامی کی خدمت میں ریفریشمنٹ پیش کی گئی اور غیر رسمی مکالموں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔