Blog

  • 9مئی؛ یاسمین راشد سمیت دیگر کو 10، 10 سال قید کی سزا

    9مئی؛ یاسمین راشد سمیت دیگر کو 10، 10 سال قید کی سزا

    لاہور:(کنزیومرواچ نیوز)انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ نو مئی کلب چوک جی او آر کے گیٹ پر حملہ کے مقدمے میں پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، سرفراز چیمہ اور محمود الرشید کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے 18 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔مقدمہ کے 25 ملزمان کا چالان جمع کروایا گیا تھا اور 4 ملزمان دوران ٹرائل اشتہاری ہوگئے، مقدمے میں مجموعی طور پر 56 گواہان کی شہادت ریکارڈ ہوئی۔تھانہ ریس کورس نے کلب چوک جی او آر گیٹ پر حملے کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے کلب چوک جی او آر گیٹ کے سیکیورٹی کیمرے توڑے، ملزمان نے پولیس کی وائر لیس اور جی او آر گیٹ کے شیشے بھی توڑے۔ ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور پولیس اہکاروں پر حملہ کیا جبکہ پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کی زیر قیادت ہجوم نے حملہ کیا۔کیس کے ملزمان میں ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید شامل ہیں۔پی ٹی آئی رہنماؤں پر کارکنان کو نو مئی بغاوت اور فسادات پر اکسانے کا الزام ہے۔

  • ناکامی  انسان کی سب سے بڑی معلم  ہے۔ سعدیہ راشد

    ناکامی انسان کی سب سے بڑی معلم ہے۔ سعدیہ راشد

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نےکہا کہ ناکامی دراصل انسان کی سب سے بڑی معلم ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم پوری محنت اور اخلاص کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے، جس سے دل بوجھل ہو جاتا ہے، مگر یہی لمحے ہمیں مضبوط بناتے ہیں۔انہوں نے یہ بات 18 دسمبر 2025 کو ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام ہمدرد نونہال اسمبلی کے اجلاس بیت الحکمہ آڈیٹوریم، مدینۃ الحکمہ میں اسمبلی کے موضوع،“ناکامی افتاد نہیں، استاد ہے” پر نونہالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ ناکامی نہ دشمن ہے نہ ٹھوکر بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہماری کمزوریوں اور پوشیدہ صلاحیتوں کو واضح کرتا ہے۔ جو بچے اور نوجوان ناکامی سے سبق سیکھ لیتے ہیں، وہی مستقبل میں کامیابی کے دروازے کھولتے ہیں۔ انہوں نے حکیم محمد سعیدؒ کی زندگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود ان کی مستقل جدوجہد نے ہمدرد فاؤنڈیشن اور ہمدرد یونیورسٹی جیسے عظیم اداروں کو جنم دیا۔ انہوں نے نونہالوں کو نصیحت کی کہ کامیابی اکثر پہلی کوشش میں نہیں ملتی بلکہ بار بار کی گئی کوششیں ہی انسان کو منزل تک پہنچاتی ہیں۔
    اس موقع پر مہمانِ خصوصی ممتاز ماہرِ تعلیم محترمہ فاطمہ عبید نے اپنے خطاب میں والدین اور اساتذہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی بچہ ناکام ہو تو اسے ڈانٹنے کے بجائے حوصلہ دینا، گلے لگانا اور اس کا ساتھ دینا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے ریفلیکٹو پریکٹس (خود احتسابی) کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنی غلطیوں پر سوال اٹھانا، ان کا تجزیہ کرنا اور خود پر تنقیدی نظر ڈالنا ہی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی انسان کامل نہیں، غلطیاں کرنا ناکامی نہیں بلکہ ان سے سیکھنا اصل کامیابی ہے۔
    قبل ازاں قائدِ ایوان عائشہ فواد نےہمدرد نونہال اسمبلی کے موضوع “ناکامی افتاد نہیں، استاد ہے” پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ شاہراہِ حیات کبھی سیدھی اور ہموار نہیں ہوتی۔ زندگی کا سفر نشیب و فراز سے گزرتا ہے، جس میں آسائشوں کی مٹھاس بھی شامل ہے اور مشکلات کی تلخیاں بھی، کامیابیاں بھی آتی ہیں اور ناکامیاں بھی، مگر اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اپنی ناکامیوں سے مایوس ہوئے بغیر آگے بڑھتا رہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انسان ناکامی کو اپنی کامیابی کا پہلا زینہ سمجھ لے تو بالآخر وہ کامیابی کی اعلیٰ منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ انہوں نے شاعرِ مشرق غالبؔ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
    “مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں”
    یہی زندگی کا اصل فلسفہ ہے۔
    انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک بچہ پہلی بار چلنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کئی مرتبہ گرتا ہے، مگر گرتے گرتے آخرکار سنبھلنا اور چلنا سیکھ ہی لیتا ہے۔ اگر وہ گرنے کے خوف سے کوشش ہی ترک کر دے تو کبھی چلنا نہیں سیکھ سکتا۔ یہی اصول زندگی کے ہر شعبے میں لاگو ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی اور ناکامی کا دار و مدار کوشش پر ہے، اگر ناکامی کے بعد ہار نہ مانی جائے تو انجامِ کار ناکامی خود ہار مان لیتی ہے اور انسان کامیاب ہو جاتا ہے۔
    قائد حزبِ اختلاف جائشہ احمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناکامی زندگی کا ایک اہم تجربہ ہے جو ہمیں آئندہ غلطیوں سے بچنے کا سبق دیتا ہے۔ انہوں نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کو ناکامی کی صورت میں مایوس کرنے کے بجائے حوصلہ دیں اور یہ سمجھائیں کہ ناکام ہونا کوئی جرم نہیں بلکہ اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کا اشارہ ہے۔ انہوں نے قرآنِ پاک کی آیت “بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ درس بچوں کو بچپن سے دیا جانا چاہیے۔
    تقریب میں نونہال مقررین مریم فاطمہ، عائشہ فواد اور دیگر طلبہ نے بھی موضوع پر پُراثر تقاریر کیں۔ اجلاس کا آغاز محمد یعقوب ملک کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ بھی پیش کی گئی۔ اختتام پر طلبہ نے ٹیبلوز، خاکے، ملی نغمے پیش کیے اور ہمدرد پبلک اسکول کے طلبہ نے دعائے سعید پیش کی۔تقریب میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور معزز مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

  • لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشان حیدر) کا54واں یوم شہادت،  شاندار خراج عقیدت

    لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشان حیدر) کا54واں یوم شہادت، شاندار خراج عقیدت

    راولپنڈی:(کنزیومرواچ نیوز)آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے نشان حیدر کے حامل لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی 54ویں یومِ شہادت کے موقع پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا کہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید بہادری، قربانی اور مادرِ وطن سے بے لوث عقیدت کی عظیم مثال ہیں۔
    1971 کی جنگ کے دوران واہگہ سیکٹر پر انہوں نے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔
    شدید زخموں اور مسلسل دشمن کی فائرنگ کے باوجود وہ بے خوف ہو کر آگے بڑھے اور جامِ شہادت نوش کیا۔
    بیان میں کہا گیا کہ جنگ میں لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی بہادری پاکستان کی مسلح افواج کی تاریخ کے روشن ترین بابوں میں سے ایک ہے۔
    ان کی اعلیٰ قربانی ناقابلِ تسخیر جذبے، پیشہ ورانہ مہارت اور بے لوثی کی عکاس ہے، جو مسلح افواج اور قوم کے درمیان اس مقدس رشتے کو مزید مضبوط کرتی ہے جس کے دفاع کے لیے سپاہی حلف اٹھاتے ہیں۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق شہید کی برسی پر مسلح افواج نے ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور اس عہد کی تجدید کی کہ قوم کے ہیروز کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔
    بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی وراثت ہمیشہ قوم کی اجتماعی یادداشتوں میں نقش رہے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے حوصلہ، عزم اور قربانی کی روشن مثال بنی رہے گی۔
    خصوصی قرآن خوانی کا اہتمام
    محمد محفوظ شہید کے یومِ شہادت کے موقع پر دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی سے کیا گیا۔ علماء کرام نے شہید کے بلند درجات اور مغفرت کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا۔
    علماء کرام کا کہنا تھا کہ شہداء کی لازوال قربانیوں کی بدولت ہی پاکستان آج قائم و دائم ہے۔ علماء نے وطن پر جان نچھاور کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کو عزت اور تکریم کا حقیقی حقدار قرار دیا۔
    علماء کرام نے کہا کہ شہداء کا مقدس لہو پوری قوم پر قرض ہے۔ زندہ اور باشعور قومیں اپنے محسنوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، علماء کرام۔ علماء کرام نے واضح کیا کہ جو قومیں اپنے شہداء کی تکریم نہیں کرتیں وہ رسوائی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
    علماء نے کہا کہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید دھرتی کے دلیر سپوت تھے جو قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، شہداء کی قربانیاں ملکی استحکام، وقار اور قومی عظمت کی علامت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کا فخر ہیں۔
    وزیر اعظم کا بیان
    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ لانس نائک محمد محفوظ شہید نے 1971 میں واہگہ اٹاری سیکٹر میں دشمن کی پیش قدمی کو تاریخی اور مثالی دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے مادر وطن کے تحفظ کو تاریخ میں امر کر دیا۔
    صدر کا بیان
    صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید بہادری، قربانی اور وطن سے غیر متزلزل وفاداری کی روشن علامت ہیں۔

  • 10 مہینوں میں 8 جنگیں رکوائیں،  امریکی  صدرٹرمپ

    10 مہینوں میں 8 جنگیں رکوائیں، امریکی صدرٹرمپ

    واشنگٹن:(کنزیومرواچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بائیڈن دور کی پالیسیاں دوبارہ نافذ نہیں ہونے دی جائیں گی اور امریکا میں غیر قانونی آمد و رفت کا سلسلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو کسی صورت امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انہیں کرپشن کے خاتمے کے لیے عوامی مینڈیٹ ملا اور ایک سال میں انہوں نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو کوئی اور حاصل نہ کر سکا۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں امریکا بدترین حالات سے نکل کر بہترین مقام پر پہنچا، امریکی شہریوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا جبکہ کھانے پینے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور امریکا کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج موجود ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ کو زمین اور سمندر کے راستوں سے 94 فیصد تک کم کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی بڑے اقدامات ٹیرف پالیسی کی بدولت ممکن ہوئے، جس سے ملکی معیشت کو بہتر بنایا گیا اور امریکا میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن بنائی گئی۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے 10 مہینوں میں 8 جنگیں رکوائیں، ایران کے جوہری خطرے کو تباہ کیا اور غزہ کی جنگ ختم کر کے تین ہزار سال میں پہلی بار امن قائم کیا۔انہوں نے کہا کہ زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنایا گیا اور تمام کو وطن واپس لایا گیا۔خطاب کے اختتام پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کو نئی قانون سازی نہیں بلکہ ایک مضبوط اور فیصلہ کن صدر کی ضرورت تھی، جو انہوں نے ثابت کر کے دکھا دیا ہے۔

  • عمران خان اڈیالہ جیل میں انجوائےکررہےہیں،عابد شیرعلی

    عمران خان اڈیالہ جیل میں انجوائےکررہےہیں،عابد شیرعلی

    لاہور (کنزیومرواچ نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عابد شیر علی نے کہا ہے کہ عمران خان تو اڈیالہ جیل میں انجوائے کر رہے ہیں، انہیں سبی جیل میں پھینکیں، ہتھکڑی لگا کر اٹک قلعے کی چار دیوار میں رکھیں جیسے نواز شریف کو مہینوں رکھا گیا تو پتا چلے کہ جیل کسے کہتے ہیں۔اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت میں خواتین کا نقاب اتارنے کی مذمت کرتے ہیں، بھارت میں درندہ صفت لوگ بیٹیوں بہنوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیئے رات کے اندھیرے میں احتجاج کیا جاتا ہے،مجرموں سے دن میں ملاقات ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر رات کے اندھیرے میں کوئی واقعہ ہوجائے تو حکومت کی ذمہ داری ہے اس کو روکے، دہشتگردی کا واقعہ اگر ہوتو کون ذمہ دار ہوگا؟۔عابد شیر علی نے کہا کہ ہر روز جیل کے قیدی سے ملاقات نہیں ہوسکتی، بانی پی ٹی آئی کو سبی جیل میں پھینکیں یا اٹک قلعے میں رکھیں، جیسے نوازشریف کو رکھا ویسے بانی پی ٹی آئی کو رکھا جائے تو جیل کا معلوم ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ دیگر قیدیوں کو دیسی مرغے کی یخنی ملتی ہے نہ ورزش کی سہولیات، عمران خان کے پاس 5 کمرے ہیں، مشقتی ہے، وہ تو انجوائے کر رہے ہیں، ان کو سبی جیل میں پھینکیں، ہتھکڑی لگا کر اٹک قلعے کی چار دیوار میں رکھیں جیسے نواز شریف کو مہینوں رکھا گیا تو پتا چلے کہ جیل کسے کہتے ہیں۔

  • اے آئی کی وجہ سے روزگار کے مسائل پیدا ہو گئے،عطا تارڑ

    اے آئی کی وجہ سے روزگار کے مسائل پیدا ہو گئے،عطا تارڑ

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)اے آئی کی وجہ سے کئی شعبوں میں روزگار کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں، جس پر وفاقی وزیر نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے اشتہاری شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال سے تخلیقی شعبوں میں روزگار کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانٹینٹ کریئیٹرز، گرافک ڈیزائنر،ایڈیٹرز، کریئیٹو ڈائریکٹرز، اداکار، اداکارائیں،ماڈلز اور ٹیکنیشنز،کیمرا مین سمیت تخلیقی افرادی قوت کو متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اے آئی کے باعث کئی تخلیقی پیشے متروک ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، اس مسئلے کا پالیسی سطح پر حل ضروری ہے۔

  • اقوام متحدہ نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی بے نقاب کر دی

    اقوام متحدہ نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی بے نقاب کر دی

    نیویارک (کنزیومرواچ نیوز)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک تازہ رپورٹ میں طالبان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا گیا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔رپورٹ میں طالبان کے مؤقف کو ’’ناقابلِ اعتبار‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ ہمسایہ ممالک تیزی سے افغانستان کو علاقائی عدم استحکام کا سبب سمجھنے لگے ہیں۔اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 16ویں رپورٹ کے مطابق طالبان مسلسل اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں کہ افغانستان میں کسی دہشت گرد گروہ کی موجودگی ہے یا وہاں سے سرحد پار حملے کیے جا رہے ہیں، تاہم یہ دعویٰ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، ترکستان اسلامک پارٹی اور دیگر شدت پسند گروہ افغانستان میں موجود ہیں اور بعض گروہوں نے افغان سرزمین کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ طالبان کے ساتھ قریبی روابط رکھتی ہے اور کئی افغان صوبوں میں اس کی موجودگی برقرار ہے، جہاں اسے تربیت اور تنظیم نو کے مواقع میسر ہیں۔ دوسری جانب داعش خراسان کو طالبان کا اہم مخالف قرار دیا گیا ہے، جس کے خلاف کارروائیوں کے باوجود گروہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • گورنر ہاؤس لاہور میں   تیسرےشہید حکیم محمد سعید ایوارڈ کی پروقار تقریب

    گورنر ہاؤس لاہور میں تیسرےشہید حکیم محمد سعید ایوارڈ کی پروقار تقریب

    لاہور(کنزیومرواچ نیوز)ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام تیسرا شہید حکیم محمد سعید ایوارڈ گورنر ہاؤس لاہور میں منعقد ہوا، جس میں 800 سے زائد معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس باوقار تقریب کا مقصد اُن ممتاز شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا جو صحت، قومی ترقی اور عوامی خدمت کے شعبوں میں مسلسل نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
    یہ تقریب پہلی بار لاہور میں منعقد کی گئی، جو ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے قومی مثبت اثرات اور مستقبل کے جدید وژن کی عکاس ہے۔ اس سال تقریب کا مرکزی موضوع “صحت و تندرستی کی نئی تعریف” تھا، جس کے ذریعے صحت و تندرستی کے تصور کو ایک نئے اور ہمہ گیر انداز میں پیش کیا گیا۔
    تقریب کے مہمانِ خصوصی معزز گورنر پنجاب جناب سردار سلیم حیدر خان تھے، جن کی شرکت نے اس تقریب کو مزید وقار بخشا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے قیادت، علم اور صحت کے شعبوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
    انہوں نے کہا کہ ہمیں اُن افراد کی حوصلہ افزائی جاری رکھنی چاہیے جو فلاح و بہبود، علم اور خدمت کے جذبے سے دوسروں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا رہے ہیں۔ اسی طرزِ فکر سے ایک صحت مند، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، جہاں بہترین کارکردگی کی پرورش بھی ہو اور اس کی قدر بھی کی جائے۔
    ہمدرد پاکستان گروپ کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ ہمدرد کی بنیاد انسانیت کی خدمت کے اصولوں پر رکھی گئی تھی۔ اس تقریب کا مقصد اُن شخصیات کی خدمات کو سراہنا ہے جو ہمارے معاشرے کو مضبوط اور بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ایوارڈ شہید حکیم محمد سعید کے مشن اور وژن کو آگے بڑھانے کے مترادف ہے۔
    ہمدرد پاکستان کی مینیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او فاطمہ الزہرہ منیر احمد نے کہا کہ ہمدرد جدت، معیار اور وقار کو مزید وسعت دے رہا ہے اور اعلیٰ معیار کی سہولتوں کے ذریعے صحت و تندرستی کے تصور کو نئے سرے سے متعارف کرانے کے عزم پر قائم ہے۔ آج کے معزز ایوارڈ یافتگان اس بات کی بہترین مثال ہیں کہ بامقصد خدمات پاکستان کے لیے کس قدر مثبت اثرات پیدا کر سکتی ہیں۔
    ہمدرد پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر جناب فیصل ندیم نے کہا کہ ہم ان تمام معزز شخصیات کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس باوقار تقریب میں شرکت کی۔ ایوارڈ یافتگان کی خدمات ہمیں ہمدرد کے مشن کو مزید مضبوطی سے جاری رکھتے ہوئے ملک بھر میں فلاح و بہبود کے فروغ کی ترغیب دیتی ہیں۔
    تقریب کے دوران مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ایجوکیشن ایکسیلنس ایوارڈ جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری کو بائیو کیمیکل تحقیق میں انقلابی پیش رفت پر اور جناب ڈاکٹر مریم چغتائی کو جدید تعلیم میں مؤثر اصلاحات کے لیے دیا گیا۔
    اسپورٹس ایکسیلنس ایوارڈ جناب ارسلان ایش کو عالمی ای اسپورٹس کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کرنے پر جبکہ ماہ نور، مہوش اور سحرش علی کو کھیلوں میں اعلیٰ کارکردگی کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے پر پیش کیا گیا۔
    ہیلتھ ایکسیلنس ایوارڈ جناب حکیم عبدالحنان کو طبِ یونانی کے فروغ میں نمایاں خدمات پر اور جناب ڈاکٹر فیصل سلطان کو قومی سطح پر صحتِ عامہ میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر دیا گیا۔
    لیڈرز اینڈ سوشل چینج میکرز ایوارڈ محترمہ روشنائے ظفر کو خواتین کی مالی خودمختاری کے فروغ پر جبکہ مرحوم جناب اسلم خالق کو سماجی اثرات کے لیے کارپوریٹ قیادت پر عطا کیا گیا۔
    صحافت ایکسیلنس ایوارڈ جناب مظہر عباس کو بااعتماد اور اصولی صحافت جبکہ جناب ارشد زبیری کو ذمے دارانہ صحافت اور قومی آگاہی کے فروغ پر دیا گیا۔
    لٹریچر ایوارڈ جناب غازی صلاح الدین کو اثر انگیز ادبی خدمات اور محترمہ زہرہ نگاہ کو اردو ادب میں لازوال خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔
    آرٹس اینڈ کلچر ایکسیلنس ایوارڈ جناب توقیر ناصر کو پرفارمنس آرٹ میں نمایاں مقام حاصل کرنے پر جبکہ محترمہ ثمینہ پیرزادہ کو فن اور باصلاحیت نوجوانوں کی رہنمائی میں نصف صدی پر محیط خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
    بہادری ایوارڈ محمد علی سواتی کو بٹگرام ریسکیو کے دوران لازوال جرات کا مظاہرہ کرنے پر اور سیدہ شہر بانو نقوی کو مثالی بہادری اور فرض شناسی پر دیا گیا۔
    ڈیجیٹل انفلوئنسرز ایوارڈ عرفان جونیجو کو کہانی گوئی کے ذریعے نئے بیانیے تخلیق کرنے پر جبکہ محمد شیراز کو نوجوانوں کی مؤثر آواز بننے پر پیش کیا گیا۔
    لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ محترمہ سیما عزیز کو تعلیم اور سماجی ترقی میں قومی خدمات کے اعتراف میں اور مرحوم جناب طلعت حسین کو پاکستانی ثقافت میں گراں قدر خدمات پر دیا گیا۔
    یہ ایوارڈز شہید حکیم محمد سعید کی یاد میں منعقد کیے جاتے ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی صحت، تعلیم اور سماجی ترقی کے لیے وقف کر دی۔ بطور وقف ادارہ ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان اپنی آمدن مسلسل قومی فلاحی منصوبوں پر صرف کر رہا ہے تاکہ ایک مضبوط اور بااختیار معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔
    تقریب کے اختتام پر عالمی شہرت یافتہ گلوکار شفقت امانت علی نے خصوصی پرفارمنس پیش کی جس سے شرکاء نے بھرپور لطف اٹھایا۔ بعد ازاں مہمانوں کے اعزاز میں رسمی عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا۔
    ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان گزشتہ 75 برسوں سے ہربل میڈیسن پر مبنی صحت کی دیکھ بھال، فلاح و بہبود اور صارفین کی مصنوعات کا ایک سرکردہ ادارہ ہے۔ ہمدرد کی مصنوعات اعتماد، معیار اور جدت کے امتزاج سے تیار کی جاتی ہیں، جبکہ ادارہ اپنی آمدن صحت، تعلیم اور سماجی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں صرف کر کے ایک صحت مند اور بااختیار پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
    ……………………………………………………………..
    تصویر کا کیپشن
    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام گورنر ہاؤس لاہور میں تیسرے شہید حکیم محمد سعید ایوارڈز کی منعقدہ تقریب میں عرفان جونیجو کو کہانی گوئی کے ذریعے نئے بیانیے تخلیق کرنے پر ڈیجیٹل انفلائنسز ایوارڈ دے رہے ہیں۔ اس موقع پر صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان محترمہ سعدیہ راشد، منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او ہمدرد پاکستان فاطمہ منیر احمد اور ہمدرد کے چیف آپریٹنگ آفیسر فیصل ندیم بھی موجود تھے۔

  • پاکستان افریقہ اکنامک کونسل (PAEC)  وفاقی چیپٹر کی تقریب حلف برداری

    پاکستان افریقہ اکنامک کونسل (PAEC) وفاقی چیپٹر کی تقریب حلف برداری

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان افریقہ اکنامک کونسل (PAEC) کے وفاقی چیپٹر کی حلف برداری کی تقریب کامسیٹس (COMSTECH) سیکریٹریٹ میں منعقد ہوئی، جس میں پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور تعلیمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب میں سفارتکاروں، معروف جامعات کے وائس چانسلرز، ممتاز ماہرین اور افریقی خطے سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی، جو پاکستان۔افریقہ تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاس ہے۔وزیراعظم پاکستان کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل خان نے بطور مہمانِ خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حلف برداری کی یہ تقریب دیانت، تعاون اور اقتصادی سفارت کاری کے نئے عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے PAEC کو پاکستان اور افریقی معیشتوں کے درمیان ایک مؤثر پل قرار دیا اور کہا کہ یہ کونسل حکومتِ پاکستان کے برآمدات پر مبنی ترقی، منڈیوں کی تنوع کاری اور جنوبی۔جنوبی تعاون کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ رانا احسان افضل خان نے افریقہ کی مضبوط تجارتی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اس سے قبل تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، بعد ازاں قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ استقبالی کلمات ڈاکٹر عبدالباسط (سینئر نائب صدر، PAEC اسلام آباد ریجن) نے ادا کیے۔ تقریب سے ڈاکٹر شہباز علی ملک (بانی چیئرمین PAEC) اور شیخ راشد عالم (سیکریٹری جنرل PAEC) نے بھی خطاب کیا اور پاکستان۔افریقہ تعلقات کے فروغ کے لیے PAEC کے وژن اور آئندہ لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔تقریب کی نمایاں جھلکیوں میں پاکستان۔افریقہ روابط کو گہرا کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان شامل تھا۔ PAEC قیادت نے افریقی طلبہ کے لیے پاکستان میں 100 اسکالرشپس اور 100 انٹرن شپس فراہم کرنے کا اعلان کیا، تاکہ تعلیم، ہنرمندی اور عوامی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ ویزا سہولت، کاروباری ادائیگیوں میں آسانی، اور تجارت و سرمایہ کاری کے عملی تعاون کے اقدامات بھی متعارف کرائے گئے۔ مزید برآں، افریقی شہریوں کے لیے راول انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز اور اُجالا سینٹر آف ایکسیلنس میں 30 فیصد رعایت کا اعلان کیا گیا۔مہمانِ خصوصی نے نومنتخب وفاقی چیپٹر کے عہدیداران سے حلف لیا، جس کے بعد یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔تقریب کے اختتام پر عبدالواجد (صدر، PAEC وفاقی چیپٹر) نے شکریہ ادا کیا، جبکہ کارروائی محمد مرتضیٰ نور (سیکریٹری جنرل، PAEC اسلام آباد چیپٹر) نے انجام دی اور پاکستان۔افریقہ تعلقات کو مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • برسوں سے ملحد تھا، اب خدا پر یقین آگیا؛ ایلون مسک کابیان

    برسوں سے ملحد تھا، اب خدا پر یقین آگیا؛ ایلون مسک کابیان

    نیو یارک (کنزیومرواچ نیوز)دنیا کے امیر ترین شخصیات میں سے ایک ایلون مسک نے اپنے ایمان اور عقیدے سے متعلق بڑا انکشاف کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایلون مسک نے ان خیالات کا اظہار اپنے ایک پوڈ کاسٹ میں کیا جب میزبان کیٹی ملر نے ان سے خدا کے متعلق سوال کیا۔ٹیسلا اور ایکس جیسی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے کہا کہ نے گزشتہ کئی برسوں تک ملحد رہنے کے بعد اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ خدا کا وجود ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اب میری سمجھ میں آگیا ہے کہ اس کرشماتی دنیا کو پیدا کرنے والی کوئی نہ کوئ ہستی ضرور ہے۔ یہ سب خود بخود نہیں ہوا ہوگا۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس ہی کی بات ہے جب ایلون مسک نے مذہب سے متعلق سوال پر جواب دیا تھا کہ وہ خود کو ایک ’کلچرل کرسچن‘ سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا میں جس علاقے میں پیدا ہوا، جس ثقافت میں پلا بڑھا تھا۔ وہ مسیحی کلچر ہے۔ اس لیے مجھے ثقافتی طور پر عیسائی کہا جاسکتا ہے لیکن بطور مذہب میں خدا پر یقین نہیں رکھتا۔تاہم اپنے اس تازہ انٹرویو میں ایلون مسک نے مزید کہا کہ اب میری سوچ بدل چکی ہے۔ میں ایک ہستی پر یقین رکھتا ہوں جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا۔خیال رہے کہ ایلون مسک کے نظریے اور سوچ کی یہ تبدیلی اُس وقت آئی ہے جب انھوں نے خلائی سفر کی نئی نئ ٹیکنالوجیز متعارف کرائی ہیں۔