جنوبی ایشیا کا خطہ ایک طویل عرصے سے جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔ پاکستان کو جہاں مشرقی سرحد پر روایتی خطرات کا سامنا ہے، وہیں غیر روایتی اور ہائبرڈ جنگ کے ذریعے بھی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ ان حالات میں بھارتی پراکسی نیٹ ورکس کا کردار ایک اہم چیلنج کے طور پر سامنے آیا، جن کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید حکمتِ عملی اور جراتمندانہ اقدامات کے ذریعے ان عزائم کو ناکام بنایا۔
پراکسی وار جدید دور کی ایک پیچیدہ حکمتِ عملی ہے جس میں ریاستیں براہِ راست تصادم کے بجائے مقامی یا سرحد پار عناصر کو استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان نے بارہا عالمی سطح پر اس امر کی نشاندہی کی کہ بھارتی خفیہ نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کار ملک میں تخریبی کارروائیوں کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں نے مربوط حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ان نیٹ ورکس کی بیخ کنی کو ترجیح دی۔
انسدادِ دہشت گردی کے بڑے آپریشنز اس جدوجہد کا مرکزی ستون رہے۔ پاک فوج کے آپریشنز نے نہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا بلکہ ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایسے عناصر بے نقاب ہوئے جو بیرونی سرپرستی میں ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان آپریشنز کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی پراکسی ڈھانچے کو برداشت نہیں کریں گی۔
سرحدی نظم و نسق کی بہتری بھی بھارتی پراکسی کے خلاف حکمتِ عملی کا اہم حصہ رہی۔ مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب، جدید نگرانی کے نظام اور چیک پوسٹس کے قیام نے دراندازی کے امکانات کو محدود کیا۔ اسی طرح لائن آف کنٹرول پر مؤثر دفاعی حکمتِ عملی نے دشمن کی درپردہ سرگرمیوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا۔ ان اقدامات کے ذریعے غیر قانونی نقل و حرکت اور اسلحہ کی ترسیل پر سخت کنٹرول ممکن ہوا۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز نے پراکسی نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اینالیسز اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ایسے عناصر کی نشاندہی کی گئی جو بظاہر عام شہری زندگی گزار رہے تھے مگر پس پردہ تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ بروقت کارروائیوں نے ممکنہ حملوں کو ناکام بنایا اور عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کیا۔
بلوچستان اور دیگر حساس علاقوں میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں کا فروغ بھی اس حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ بھارتی پراکسی کا ایک مقصد مقامی آبادی میں بداعتمادی پیدا کرنا تھا، مگر پاک فوج نے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں معاونت فراہم کر کے عوامی حمایت کو مضبوط کیا۔ جب عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں تو پراکسی نیٹ ورکس کی گنجائش خود بخود کم ہو جاتی ہے۔
اطلاعاتی جنگ کے میدان میں بھی مؤثر اقدامات کیے گئے۔ دشمن کی جانب سے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا بروقت جواب دیا گیا۔ شفاف معلومات اور حقائق کی فراہمی نے افواہوں کا توڑ کیا اور قومی بیانیے کو مضبوط بنایا۔ ہائبرڈ وار فیئر کے اس دور میں اطلاعاتی محاذ پر کامیابی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی زمینی محاذ پر۔
سفارتی سطح پر پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے شواہد پیش کیے کہ کس طرح بھارتی پراکسی عناصر خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سفارتی حکمتِ عملی نے عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دی اور دہشت گردی کے خلاف اس کی قربانیوں کا اعتراف بڑھایا۔ بین الاقوامی فورمز پر فعال کردار ادا کرنا بھی قومی سلامتی کی جامع حکمتِ عملی کا حصہ رہا۔
پاک فوج کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید سازوسامان اور جوانوں کی قربانیاں اس جدوجہد کی بنیاد ہیں۔ سیکڑوں افسران اور سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان قربانیوں کی بدولت آج ملک میں امن و استحکام کی فضا بہتر ہوئی ہے اور ترقیاتی سرگرمیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ پراکسی کے خلاف جنگ صرف عسکری نہیں بلکہ قومی سطح کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی اس جنگ کو پائیدار کامیابی تک پہنچانے کے لیے ضروری عناصر ہیں۔ پاک فوج نے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا ہے، اب دیگر اداروں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔
مجموعی طور پر بھارتی پراکسی کے خلاف پاک فوج کے جراتمندانہ اقدامات نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا اور یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ قومی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کی بدولت پاکستان مضبوط اور مستحکم مستقبل کی جانب گامزن ہے۔ یہی اتحاد اور اعتماد ہماری اصل طاقت ہے، اور اسی کے ذریعے ہر سازش کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
Blog
-

بھارتی پراکسی کے خلاف پاک فوج کے جراتمندانہ اقدامات…شیخ راشد عالم
-

بنوں میں تھانے کے باہر بم دھماکا، بچے سمیت 2 افراد جاں بحق، 20 زخمی
ڈی آئی خان:(پاکستان واچ نیوز)بنوں میں تھانہ میریان کے مرکزی گیٹ کے باہر بارود سے بھری گاڑی اور موٹر سائیکل میں نصب آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں بچے سمیت 2 افراد جاں بحق جبکہ کم از کم 20 افراد زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق دہشتگردوں نے بارود سے بھرا زرنج رکشہ تھانے کے مین گیٹ سے ٹکرایا، جبکہ ایک موٹر سائیکل میں بھی آئی ای ڈی نصب کی گئی تھی جو قریبی دکانوں کے سامنے کھڑی تھی۔دھماکے کے وقت تھانے کے باہر دکانیں موجود تھیں جس کے باعث شہری نشانہ بنے۔ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کے مطابق آئی ای ڈی دھماکے میں پولیس اہلکار محفوظ رہے تاہم بچے سمیت دو افراد جان کی بازی ہار گئے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث عناصر کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔دوسری جانب، ایف سی کی منزئی پوسٹ مرتضیٰ میں کواڈ کاپٹر ڈرون حملے میں زخمی ہونے والے جوانوں کو ریکور کرنے کے لیے فرنٹیئر کور کوڑ قلعہ ٹیم پر فائرنگ اور دھماکے میں دو جوان شہید جبکہ پانچ زخمی ہوگئے۔شہید ہونے والوں میں لانس نائیک باسط اور سپاہی عصمت اللہ شامل ہیں۔ زخمیوں میں نائب صوبیدار زاہد، نائیک مدثر، سپاہی اصغر، حوالدار شاہ پور خان اور لانس نائیک جان شامل ہیں۔
-

جیولری شاپ کی دیوارتوڑکر30کروڑ کا سونا چرالیا گیا
کراچی (پاکستان واچ نیوز) شہرقائد کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری کی واردات سامنے آ گئی، جیولری شاپ کی دیوار توڑ کر 30 کروڑ روپے کا سونا لوٹ لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق نامعلوم ملزمان 606 تولے سونا اور 25 لاکھ روپے کے ہیرے لے اڑے، واردات ڈسٹرکٹ ویسٹ کے اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود میں معروف جیولری شاپ پر کی گئی۔متاثرہ تاجر ایوب خان نے واردات کا مقدمہ اقبال مارکیٹ تھانے میں درج کرا دیا، جیولر ایوب خان کے مطابق 12 تاریخ کی شب جیولری شاپ معمول کے مطابق بند تھی۔14 تاریخ کی صبح کاریگروں نے دکان کھولی تو باکس خالی نکلے، دکان کے پیچھے جا کر دیکھا تو دیوار ٹوٹی ہوئی تھی۔متاثرہ تاجر کے مطابق ذاتی سونے سے بنا ہوا 7 ہزار 64 گرام سامان غائب تھا جبکہ کچھ ہیرے اور دیگر سامان بھی غائب تھا جس کی مالیت 25 لاکھ روپے بنتی ہے، پولیس کی جانب سے مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی۔جیولری شاپ میں واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو دیوار توڑ کر جیولری شاپ میں داخل ہوتے اور متعدد کوششوں کے بعد اندر داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پی ویسٹ سے واقعہ کی فوری اور مفصل رپورٹ طلب کرلی۔ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ واردات میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور لوٹے گئے مال کی برآمدگی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز، فرانزک شواہد اور دیگر تکنیکی ذرائع کو بروئے کار لاکر ملزمان تک ہر صورت رسائی حاصل کی جائے۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ شہر میں جیولری مارکیٹس اور حساس تجارتی مراکز کی سیکیورٹی مزید مؤثر اور سخت بنائی جائے، ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
-

حکومت نے رمضان المبارک سے قبل صارفین پر پیٹرول بم گرادیا
اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)حکومت نے رمضان المبارک سے قبل صارفین پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈال دیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے بڑھا دیے ہیں۔پیٹرولیم ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت نے اوگرا کی تجاویز کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کردیا ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اطلاق اگلے 15 روز کے لیے ہوگا۔پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے ہوگئی ہے جبکہ اس سے قبل فی لیٹر قیمت 253 روپے 17 پیسے تھی۔حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا، ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 268 روپے 38 پیسے سے بڑھ کر 275 روپے 70 پیسے ہوگئی ہے۔
-

عارف حبیب گروپ کا پی آئی اے کے باقی 25 فیصد شیئرز بھی خریدنے کا اعلان
کراچی (پاکستان واچ نیوز)عارف حبیب گروپ کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) میں حکومت کے باقی ماندہ 25 فیصد حصص خریدنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد قومی فضائی کمپنی کا مکمل اختیار اس کے پاس آ جائے گا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر شاہد علی حبیب نے بتایا کہ ’کنسورشیم نے اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ اس نے 25 فیصد باقی ماندہ حصص بھی خریدنے ہیں۔ ان کے مطابق اپریل میں یہ فیصلہ لینا ہے اور اس کے بعد بارہ مہینے میں اس کی ادائیگی کرنی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کے سو فیصد حصص کی خریداری کے بعد یہ مکمل طور پر نجی حیثیت میں کام کر سکے گی یعنی ایئر لائن کا مکمل کنٹرول نجی شعبے کے پاس ہو گا اور ائیر لائن سرکاری نامزد ارکان سے آزاد ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کے عوض 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔
حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجی کاری کا مقصد خسارے میں جانے والی فضائی کمپنی کو عملی تنظیمِ نو، طیاروں کے بیڑے میں توسیع اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات میں بہتری کے ذریعے منافع بخش بنانا تھا۔
گذشتہ دسمبر میں 75 فیصد حصص کی نجکاری کے بعد حکومت نے کنسورشیم کو باقی حصص کی خریداری کے لیے 90 روز کی مہلت دی ہے، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بتائی گئی ہے اور آخری تاریخ اپریل کے اختتام پر مقرر ہے۔ جنوری میں طے پانے والے معاہدے کے تحت رقوم کی منتقلی کے لیے 12 ماہ کی مدت رکھی گئی ہے، جس سے اسے قابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔
کامیاب کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر 34.1 فیصد، فوجی فرٹیلائزر کمپنی 33.9 فیصد، لیک سٹی 16 فیصد، اور دی سٹی اسکول کے ساتھ اے کے ڈی گروپ 16 فیصد شامل ہیں۔
شاہد علی نے بتایا پی آئی اے کی بہتری کے منصوبے میں سروسز جن میں سٹاف اور ٹکٹنگ کی بہتری اور سیفٹی اور سکیورٹی کو بہتر بنانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ اچھے روٹس پر فلائٹ کی فریکوئنسی کو بھی بڑھانا پلان کا حصہ ہے۔
دسمبر میں پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی خریداری کے لیے عارف حبیب کنسورشیئم نے اوپن بڈنگ کے دوران 135 ارب روپے کی بولی لگائی تھی جو کہ کامیاب ہوئی تھی۔
پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کے دوران عارف حبیب اور لکی گروپس کے درمیان اوپن بڈنگ کا مرحلہ ہوا جس دوران عارف حبیب گروپ سمیت چار کمپنیوں کے کنسورشیئم کی جانب سے سب سے زیادہ 135 ارب روپے کی بولی لگائی گئی۔
عارف حبیب کنسورشیئم میں عارف حبیب لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکول اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں۔
اس سے قبل تین گروپس نے بولیاں جمع کرائی تھیں۔ براہ راست نشر کی گئی تقریب میں جو پہلی بولی کھولی گئی وہ لکی گروپ کی جانب سے دی گئی تھی۔ اس گروپ نے پی آئی اے خریدنے کے لیے 101.5 ارب روپے کی بولی دی تھی۔
اس کے علاوہ ایئر بلیو نے 26.5 ارب روپے کی بولی جمع کرائی ہے۔ جبکہ تیسری اور آخری بولی عارف حبیب گروپ اور ان کی ساتھی کمپنیوں کی تھی جو سب سے زیادہ 115 ارب روپے کی رہی تھی۔
حکومت پاکستان کی جانب سے پی آئی اے کی فروخت کے لیے کم سے کم قیمت 100 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔
دوسرے مرحلے میں عارف حبیب گروپ اور لکی گروپ کے درمیان اوپن بڈنگ ہوئی۔ اس مرحلے میں بولی کا آغاز 115 ارب روپے سے ہوا اور کم سے کم 25 کروڑ روپے کا اضافہ کیا جا رہا تھا۔ اس دوران بھی سب سے زیادہ بولی عارف حبیب کنسورشئیم نے 135 ارب روپے کی لگائی جو حتمی ثابت ہوئی۔
اس سے قبل مشیر نجکاری محمد علی نے بتایا تھا کہ اوپن بڈنگ کے دوران سب سے زیادہ بولی دینے والا گروپ کامیاب تصور کیا جائے گا۔
نجکاری کمیشن کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا تھا کہ کامیاب گروپ کو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کیے جائیں گے تاہم کامیاب بولی دہندہ کے پاس بقیہ 25 فیصد حاصل کرنے کا بھی موقع ہوگا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی یہ دوسری کوشش تھی۔سنہ 2024 میں اس سلسلے میں پہلی کوشش اس وقت ناکام ہوئی تھی جب قومی ایئرلائن کی خریداری کے لیے صرف ایک کمپنی کی جانب سے صرف دس ارب روپے کی بولی لگائی گئی تھی جبکہ حکومت نے اس کی کم از کم قیمت 85 ارب روپے مقرر کی تھی۔
پی آئی اے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جس کے سرمائے کا تقریباً 96 فیصد حصہ حکومت کے پاس ہے۔ اس کا شمار حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ان اداروں میں ہوتا ہے جو قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔گذشتہ دو دہائیوں میں پی آئی اے کے مالی حالات سے متعلق جب بھی کوئی خبر آئی تو اس میں ہر سال اس کے بڑھتے مالی خسارے کا ذکر ملا تاہم رواں برس اپریل میں حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس ادارے نے 21 سال کے طویل عرصے کے بعد پہلی بار منافع کمایا ہے۔حکومت کی جانب سے پی آئی اے نجکاری کی دوسری کوشش کے سلسلے میں ابتدائی طور پر آٹھ کمپنیوں نے قومی ایئرلائن کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی تھی تاہم نجکاری کمیشن کو ڈیڈ لائن ختم ہونے تک پانچ کمپنیوں کی جانب سے ہی سٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن موصول ہوئی تھیں اور حتمی مرحلے میں چار، چار کمپنیوں پر مشتمل دو کنسورشیمز اور ایک کمپنی اس عمل میں شامل تھیں۔بولی میں ایک کنسورشیم لکی سیمنٹ، حب پاور، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز جیسے اداروں پر مشتمل تھا۔دوسرے کنسورشیم میں عارف حبیب، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکول اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل تھیں۔ان کے علاوہ پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو اور فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بھی باضابطہ طور پر اپنی اپنی اسٹیٹمنٹ آف کوالیفکیشن جمع کروائیں تھیں جن میں سے ایئر بلیو حتمی بولی کا حصہ بنی تھی۔حتمی بولی کے لیے قابل قرار دیے جانے کے باوجود فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ بولی کے عمل میں حصہ نہیں لے گی۔اس بات کا انکشاف وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری نے اُس وقت ایک انٹرویو میں کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کامیاب بولی دہندہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی کو شراکت کی دعوت دیتا ہے تو یہ کمپنی بعد میں اس عمل کا حصہ بن سکتی ہے۔ان کے مطابق نجکاری کے فریم ورک میں یہ گنجائش موجود ہے کہ کامیاب فریق مکمل ادائیگی سے قبل مزید شراکت دار شامل کر سکتا ہے تاہم صرف وہی کمپنیاں اضافی شراکت دار بن سکتی ہیں جو بولی کے عمل میں شامل نہ رہی ہوں۔فوجی فرٹیلائزرز کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری میں عدم دلچسپی کے وجہ کے بارے میں نجکاری کمیشن کے ترجمان نے کہا وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔مشیرِ نجکاری کے مطابق 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا دو تہائی حصہ کامیاب بولی دینے والا کو 90 دن میں دینا ہو گا جبکہ باقی رقم کے لیے ایک سال کا وقت دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم میں سے صرف ساڑھے سات فیصد حکومت کو ملےگی جب کی باقی رقم پی آئی اے میں سرمایہ کاری کی صورت میں لگائی جائے گی جس میں جہازوں کی تعداد بڑھانا اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہےیہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب 2024 میں حکومت مطلوبہ قیمت حاصل نہیں کر پائی تھی تو ایک سال میں پی آئی اے میں ایسا کیا بدلا ہے کہ کوئی اسے خریدنے میں دلچسپی لے۔اس کا جواب ادارے کی مارکیٹ ویلیو میں ہے۔ گذشتہ برس پی آئی اے کی ’ایکویٹی منفی 45 ارب تھی جو اب واجبات کی ادائیگی یا منتقلی کے بعد 30 ارب روپے ہے۔یہی نہیں بلکہ حکومت کامیاب بولی دہندہ کو جہازوں کی لیز پر عائد 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کی چھوٹ دے گی اور پی آئی اے کے ذمے واجب الادا ٹیکسوں کا کچھ حصہ بھی ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیا گیا ہے۔پی آئی اے کی فروخت سے حکومت کا حاصل ہونے کے فائدے کے بارے میں ترجمان نجکاری کا کہنا ہے کہ حکومت 75 فیصد حصص کے لیے دی جانے والی رقم میں سے صرف ساڑھے سات فیصد رقم لے گی جبکہ باقی رقم پی آئی اے میں ہی شامل کر دی جائے گی یعنی کہ کامیاب بولی دہندہ اس رقم کو ادارے کے لیے ہی استعمال کرنے کا پابند ہوگا۔اگرچہ حکومت کو پی آئی اے کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا صرف ساڑھے سات فیصد ہی ملے گا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فروخت سے حکومت کو ہر سال اربوں روپے کے نقصان سے چھٹکارا مل جائے گا۔نجکاری امور کے ماہر شہباز جمیل نے کہا اس نجکاری سے حکومت کو ہر سال اس مالی خسارے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو وہ پی آئی اے کو چلانے کے لیے خزانے سے دینے کی وجہ سے ہوتا تھا۔واضح رہے کہ حکومت نے پی آئی اے کے ذمے واجب الادہ قرضوں میں سے ساڑھے چھ سو ارب روپے سے زائد قرضے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی میں ڈال دیے ہیں۔شہباز جمیل کے مطابق ماضی میں بینکوں کی نجکاری بھی اسی ماڈل پر ہوئی تھی اور اب پی آئی اے کی بھی انھی خطوط پرنجکاری کی جا رہی ہے۔پی آئی اے کی نجکاری کے سلسلے میں ماضی میں جو کوششیں ہوئیں اس میں پی آئی اے کے ملازمین اور اس کے اثاثوں کا معاملہ زیر بحث رہا۔پی آئی اے کے پاس اس وقت 38 جہاز ہیں جن میں سے صرف 18 آپریشنل ہیں جبکہ اس کے پاس دنیا بھر میں 78 مقامات کے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ کے حقوق ہیں۔ان میں لندن اور یورپی ممالک کے شہر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی آئی اے کینیڈا بھی جاتی ہے تاہم امریکہ میں اس پر پابندی تاحال قائم ہے۔مشیر نجکاری کے مطابق چھ سات برس قبل پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد ساڑھے گیارہ ہزار تھی تاہم اس وقت یہ تعداد ساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔پی آئی اے کی نج کاری کے بعد ان ملازمین کی نوکریوں کے بارے میں ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ حاصل ہو گا۔مشیر نجکاری کےمطابق موجودہ ملازمین کو ایک سال تک تنخواہ اور دوسری مراعات حاصل رہیں گی جب کہ ایک سال کے بعد بہت زیادہ ملازمین نکالے جانے کا امکان نہیں تاہم انھیں رضا کارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کا کہا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، ان کے میڈیکل بل اور رعایتی ٹکٹس کی ادائیگی پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کرے گی۔خیال رہے کہ پی آئی اے کے پاس اس کے کور بزنس یعنی آپریشنز سے متعلق پراپرٹیز کے علاوہ نیویارک اور پیرس میں روز ویلٹ اور سکرائب ہوٹل کی قیمتی جائیدادیں موجود ہیں۔مشیر نجکاری کے مطابق یہ دونوں پی آئی اے کی ٹرانزیکشن کا حصہ نہیں ہوں گے اور اس ٹرانزیکشن میں اس کا کارگو، مسافر، کچن اور ٹریننگ سے متعلقہ اثاثے شامل ہوں گے۔سال 2024 کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے نے 9.3 ارب روپے آپریشنل منافع جبکہ 26.2 ارب روپے خالص منافع کمایا۔خیال رہے کہ سنہ 2023 میں پی آئی اے کا خالص خسارہ 75 ارب روپے تھا۔قومی ایئر لائنز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پی آئی اے کا آپریٹنگ مارجن 12 فیصد سے زیادہ رہا جو دنیا کی کسی بھی بہترین ائیرلائنز کی پرفارمنس کے ہم پلہ ہے۔ واضح رہے کہ آپریشنل کاسٹ میں جہاز کا ایندھن، انتظامی اخراجات، تقسیم کاری کے اخراجات وغیرہ شامل ہیں۔پی آئی اے کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی سرپرستی میں اس ادارے میں جامع اصلاحات کی گئیں جن میں افرادی قوت اور اخراجات میں واضح کمی، منافع بخش روٹس میں استحکام، نقصان دہ روٹس کا خاتمہ اور بیلنس شیٹ ری سٹرکچرنگ شامل ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پی آئی اے کے واپس منافع بخش ادارہ بننے سے نا صرف اس کی ساکھ میں اضافہ ہو گا بلکہ یہ ملکی معیشت کے لیے بھی مفید ثابت ہوگا۔اس اعلان کے حوالے سے نشریاتی ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے تحت قومی ایئر لائنز کی فروخت سے قبل اس کا سالانہ منافع ایک بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے تاہم یہ ادارے کے ذمے قرضوں کی بڑی مقدار کو سرکاری کھاتوں میں منتقل کیے جانے کے بعد ہی ممکن ہو سکا۔بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کے مطابق پی آئی اے نے دسمبر 2024 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران فی شیئر 5.01 روپے آمدن حاصل کی۔نومبر 2024 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو سیکرٹری نجکاری عثمان باجوہ نے بتایا تھا کہ پی آئی کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے بولی دہندگان چاہتے تھے کہ حکومت 26 ارب روپے مالیت کے ٹیکس واجبات، سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پی آئی اے کو 10 ارب روپے مالیت کی عبوری مالی معاونت اور نو ارب روپے کے دیگر واجبات کو ختم کر دے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد وفاقی وزیر نجکاری عبد العلیم خان کا کہنا تھا کہ جب تک پی آئی اے کی بیلنس شیٹ مکمل طور پر صاف نہیں کی جاتی، کوئی سنجیدہ سرمایہ کار آگے نہیں آئے گا۔ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے اربوں روپے خالص منافع کمانا اس لیے مشکل نہیں رہا کہ حکومت نے اس کے ذمے کئی سو ارب روپے کے قرضے اپنے ذمے لے لیے۔پی آئی اے نجکاری اور اس کے مالیاتی معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے اربوں روپے خالص منافع کمانا اس لیے مشکل نہیں رہا کہ حکومت نے اس کے ذمے کئی سو ارب روپے کے قرضے اور ان پر سود کی ادائیگی اپنے ذمے لے لی، جس کے بعد اس کی بیلنس شیٹ بالکل کلین ہو گئی کہ جس نے ائیر لائنز کو منافع بخش بنا دیا۔ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت کئی سو ارب روپے قرض اور اس پر سود کی ادائیگی کو اپنے کھاتے میں لے لی گی تو اس کے بعد ائیر لائنز کا منافع بخش ہونا حیران کن نہیں رہ جاتا۔پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پی آئی اے کے ذمے 850 ارب روپے کا قرض ہے جس کا بڑا حصہ حکومت نے اپنے ذمہ لے لیا اور اس کے بعد اس پر سود کی ادائیگی بھی حکومت کے کھاتے میں چلی گئی تو اس کے بعد اس کے آپریشنل منافع بخش بننے میں کوئی مشکل نہیں۔
-

عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، ڈاکٹرز
لاہور(پاکستان واچ نیوز) پمز اور الشفاء انٹرنیشنل کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم نے جیل میں عمران خان کا مکمل اور تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ذرائع نے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطابق عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، طبی ٹیم نے جاری علاج پر بھی مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابق ماہرین امراضِ چشم نے اپوزیشن کے رہنماؤں اور عمران خان کے ذاتی معالجین کو تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تفصیلی بریفنگ بھی دی ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت کے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ کیا، انتظار کے باجود بانی کے اہلخانہ نہ آئے۔ میڈیکل ٹیم کی جانب سے رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جو آج ہی حکومت کے بھجوائے جانے کا امکان ہے۔ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق علاج کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بینائی بہتر ہونے لگی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا معائنہ2ماہر ڈاکٹروں پرمشتمل پینل نے کیا، الشفا ائی ٹرسٹ اسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز کے ڈاکٹر محمدعارف نے آنکھ کا معائنہ کیا۔ ڈاکٹروں کے 2 رکنی پینل نے اتوار کو اڈیالہ میں دوگھنٹے گزارے۔ تفصیلی چیک اپ اورضروری ٹیسٹ کئے۔ذرائع کے مطابق تازہ ترین میڈیکل رپورٹ سے متعلق اپوزیشن قیادت کو آگاہ کردیاگیا، اپوزیشن کے2رہنماوں کوبانی کی آنکھ کےعلاج میں بہتری سے متعلق بتایا گیا،پمز کے ڈاکٹرعارف نے 24اور25جنوری کی رات بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا پروسیجر کیا، انجیکشن کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی انکھ تیزی سے بہتر ہورہی ہے۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو وقت پر دوسرا انجیکشن لگائے جانے کا امکان ہے، میڈیکل رپورٹ میں معائنےکی مکمل تفصیلات شامل کی جائیں گی، ماہرڈاکٹر اسپتال منتقل کرنے یانہ کرنے سے متعلق رائے دیںگے۔
-

عمران خان سے ڈیل، شادی سے پہلے رضا مندی ضروری ہے، حنیف عباسی
راولپنڈی:(پاکستان واچ نیوز)وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا بانی پی ٹی آئی سے ڈیل کی خبروں پر کہنا ہے کہ شادی سے پہلے رضا مندی ضروری ہے، اگر دونوں اطراف سے رضا مندی ہوگئی تو ڈیل ہو جائے گی، ہر قیدی کی طرح بانی پی ٹی آئی کا علاج ہونا ان کا حق ہے۔راولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں وزیر ریلوے حنیف عباسی کا مزید کہنا تھا کہ جب میں جیل میں تھا تو کئی بار ذاتی معالج کے لیے درخواست کی مگر ایک نہ سنی گئی اور نہ ہی علاج سے پہلے بچوں سے ملنے کی اجازت ملی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاست میں حرفِ آخر نہیں ہوتا، آج کے حریف کل کے ساتھی بن سکتے ہیں، جو شخص 74 برس کی عمر میں بھی اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکے، وہ سیاست نہ کرے۔ سیاست میں وقت کے ساتھ مچورٹی آتی ہے، مجھ میں آج 2003 کے مقابلے میں زیادہ پختگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 9مئی کو فتح حاصل کرکے اقتدار ملنے کی خواہش غلط ہے، میں نے ساری زندگی تاجروں کے ساتھ سیاست کی ہے، ضلعی انتظامیہ کو تاجروں کی ہڑتال سے پہلے ان کے مسائل حل کرنے کو کہا ہے اور ان شاءاللہ تاجروں کے مسائل جلد حل ہوں گے۔حنیف عباسی نے کہاکہ ہم نے یورالوجی بنایا، او پی ڈی بلاک بنایا اور ہولی فیملی اسپتال اپ گریڈ ہو رہا ہے، راولپنڈی میں پورا ہیلتھ کا شعبہ رینوویٹ ہو رہا ہے، وزیر اعلی پنجاب کی کاوشیں ہیں تاکہ عام آدمی کو بہترین سہولیات میسر آئیں، یورالوجی میں مارچ کے آخر میں گردہ ٹرانسپلانٹ کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ کارکردگی کی بنیاد پر مقابلہ ہونا چاہیئے، راولپنڈی باقی تمام شہروں اور صوبوں سے بہت بہتر ہے، یونیورسٹی کا کردار خطے میں اہم ہے، 150 وینٹیلیٹرز اور ایم آر آئی مشینیں دستیاب ہیں، مری روڈ پر بھی تین بسیں چلائیں گے جن کیلئے اسٹیشنز بن رہے ہیں۔ -

عمران خان کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی۔
لاہور(پاکستان واچ نیوز)
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز عمران خان کی ان کے بیٹوں سے بات کرائی گئی تھی اور اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
وفاقی وزیر نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمران خان کی بیٹوں سے بات کرادی گئی ہے۔ جیل حکام کی جانب سے بھی بیان جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروائی گئی۔
جیل حکام نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے 30 منٹ سے زائد وقت تک اپنے بچوں سے بات کی۔
خیال رہے کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان لندن میں مقیم ہیں۔ -

عمران خان کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا،محسن نقوی
اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)حکومت نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، محسن نقوی نے کہا ہے کہ عمران خان کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے ہوئی ہے اس لیے انہیں اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا۔اسلام آباد پولیس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی پولیس کے لیے یہ بہت اہم دن یے ہمارے پاس دہشت گردی سے لڑنے والی فورس موجود نہیں تھی، ہم نے تین ماہ پہلے شروع کیا یہ 6 ماہ کا کورس ہے جو دن رات کر کے 3 ماہ میں مکمل کیا، ہمارے ان آفیسرز کو کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے ان کی ٹریننگ کی، اسلام آباد میں ٹریننگ اسکولز کو اپ گریڈ کر رہے ہیں باہر کے لوگ بھی ٹریننگ کرنے یہاں آئیں گے، اس وقت فورس کا ہونا اس لیے بہت اہم تھا مجھے بہت امید یے ان جوانوں سے یہ دل اے لگ کر ان دہشت گردوں کو ختم کریں گے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی جیل مکمل ہوگی تو عمران خان کو وہاں منتقل کیا جائے گا، دو ماہ میں اسلام آباد جیل مکمل ہو جائے گی، جیل کے اندر تمام طبی سہولیات موجود ہیں۔ انہوں ںے مزید کہا کہ عمران خان کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے ہوئی ہے اس لیے انہیں اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا۔
-

پی ٹی آئی احتجاج، اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا
اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کی جانب سے احتجاج کا اعلان کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی گیٹ بند کر دیے گئے ہیں اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اور اندر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے قیدی وین اور بکتر بند گاڑی بھی پہنچا دی گئیں ہیں۔ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل بند کر دیا گیا ہے اور پولیس کی بھارتی نفری ریڈیو پاکستان چوک پر جمع ہو گئی ہے۔ پولیس کسی بھی شہری اور ممبر اسمبلی کو پارلیمنٹ کی طرف جانے نہیں دے رہی۔پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو بھی ریڈیو پاکستان چوک پرروک دیا گیا۔پارلیمنٹ جانے سے روکنے پر پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فتح اللہ خان کی پولیس سے تکرار بھی ہوئی۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فتح اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ پولیس ٹیم نے میرے گارڈ کو تھپڑ مارے۔