واشنگٹن:(پاکستان واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور امید ہے کہ آئندہ ہفتے تک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ہمیں معاہدہ کرنا ہی ہوگا ورنہ صورتحال بہت تکلیف دہ ہو جائے گی۔اگر ایران نے اس بار بھی انکار کیا تو پھر کہانی مختلف ہوگی اور حالات اس کے لیے مشکل ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو بہت پہلے ہی معاہدہ کر لینا چاہیے تھا۔امریکی صدر نے اعلان کیا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے جہاں ان کی ملاقات چینی صدر ژی جن پنگ سے متوقع ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکا اور چین کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اہم امور پر بات چیت جاری ہے۔دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ آئندہ ہفتے غزہ کے لیے اربوں ڈالر کی فنڈنگ کا اعلان کریں گے۔یہ اعلان 19 فروری کو متوقع غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں کیا جائے گا، جس میں 20 ممالک کے سربراہان اور وفود کی شرکت متوقع ہے۔عہدیدار کے مطابق یہ فنڈنگ غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے مختص کی جائے گی، جس کا مقصد تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی اور انسانی بحران سے نمٹنا ہے۔
Blog
-

پاکستان کے اسپنرز ہماری ٹیم کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں،بھارتی میڈیا
ممبی (پاکستان واچ نیوز)بھارتی میڈیا نے پاکستان کے اسپن اٹیک کو ایک مضبوط ہتھیار قرار دیدیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کے اسپنرز بھارتی ٹیم کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں اسی لیے محتاط رہنا پڑے گا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ابرار احمد، شاداب خان، محمد نواز، صائم ایوب اور عثمان طارق پاکستان کے اسپن اسلحہ خانہ میں موجود ہیں، کولمبو کی کنڈیشنز اجازت دیں تو اس کو مزید مضبوط بھی کیا جا سکتا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نمیبیا کے خلاف میچ میں اسپن کو کھیلنے کے تحفظات بڑھ گئے ہیں کیونکہ 5 کھلاڑی اسپنرز کے خلاف آؤٹ ہوئے، یو ایس اے کے خلاف 3 بھارتی بیٹرز اسپنرز کے خلاف آؤٹ ہو ئے۔انڈیا بلاشبہ فیورٹ ہے لیکن بھارتی ٹیم میں چھوٹی دراڑیں ہیں جنہیں بڑے ٹورنامنٹ میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور پاکستان کے خلاف میچ میں چھوٹے کریکس بڑے ہوسکتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ٹیم کو اسپن کو ڈی کوڈ کرنا ہوگا اس سے پہلے کہ پاکستان بھارتی ٹیم پر غلبہ حاصل کر لے، پاکستان کے اسپنرز مڈل اوورز میں بھارتی بیٹرز کو سلو ڈاؤن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بھارتی بیٹرز کا سلو ڈاؤن ہونا ہی اس میچ میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا۔
-

آسٹریلیا کو زمبابوے کے ہاتھوں شکست،ٹی 20 ورلڈکپ کا بڑا اپ سیٹ
کولمبو (پاکستان واچ نیوز)ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ میچ میں زمبابوے نے بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے سابق ورلڈ چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دیدی۔کولمبو میں کھیلےگئے میچ میں زمبابوے نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 169 رنز اسکور کیے اور آسٹریلیا کو جیت کے لیے 170 رنز کا ہدف دیا۔170 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی ٹیم 20 ویں اوور میں 146 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور اس طرح زمبابوے نے 23 رنز سے کامیابی حاصل کر لی۔
-

بنگلادیش انتخابات: بی این پی نےبھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی
ڈھاکا (پاکستان واچ نیوز)بنگلا دیش میں ہونے والے تاریخی عام انتخابات میں بنگلادیشن نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق بی این پی کی قیادت میں اتحاد نے 300 رکنی پارلیمنٹ میں 209 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی۔یہ انتخابات 2024 میں ہونے والی حکومت مخالف تحریک کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ ملک میں سیاسی استحکام کی بحالی کے لیے اس انتخاب کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا تھا۔بی این پی کے سربراہ اور وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار طارق رحمان نے اپنی نشست سے کامیابی حاصل کی۔ پارٹی نے کامیابی کے بعد کارکنان کو جشن منانے کے بجائے ملک کی بہتری کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے۔بی این پی کے منشور میں غریب خاندانوں کے لیے مالی امداد، وزیر اعظم کے عہدے کی مدت کو 10 سال تک محدود کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانا اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ جماعت کی قیادت میں اتحاد کو 68 نشستیں ملیں۔انہوں نے ووٹ گنتی کے عمل پر غیر اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ، جو اس وقت بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں، انہوں نے انتخابات کو “منصوبہ بند ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے نتائج مسترد کر دیے۔ ان کی جماعت عوامی لیگ کو اس بار انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔الیکشن کمیشن کے غیر سرکاری اندازوں کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہا، جو گزشتہ انتخابات سے زیادہ ہے۔انتخاب کے ساتھ ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جس میں دو مدت کی حد، غیر جانبدار نگران حکومت اور خواتین کی نمائندگی بڑھانے سمیت کئی تجاویز شامل تھیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق اکثریت نے اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
-

دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک رہ گئی،عمران خان کا رپورٹ میں دعوی
اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز) اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کو دستیاب سہولیات کی رپورٹ سامنے آگئی جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا ہےکہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی۔رپورٹ کے مطابق عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹرعاصم یوسف سے معائنہ کرایا جائے، ان کا طبی معائنہ کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے، ان کی قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کتابیں فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔رپورٹ کے مطابق حفاظت اور سکیورٹی سے متعلق درخواست گزارنے بیان کیا کہ اس حوالے سے انہیں کوئی تشویش نہیں ہے، عمران خان نے راقم کوبتایا کہ ان کے زیرِ استعمال کمپاؤنڈ میں نگرانی کے لیے تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، اگرچہ ایک کیمرے کی کوریج غسل خانے کےحصے تک ہےتاہم کمرے/سیل کے اندر کوئی کیمرہ نصب نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق عمران خان تقریباً 9:45 پرناشتہ کرتے ہیں، 11:30 بجے سے لگ بھگ ایک گھنٹے تک قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں، پھروہ اپنے لیے دستیاب محدود آلاتِ ورزش استعمال کرتے ہوئےجسمانی ورزش کرتے ہیں، دوپہر 1:15 پرغسل کےبعد بانی پی ٹی آئی کو محفوظ کمپاؤنڈ کے اندر موجود چہل قدمی کے شیڈ تک رسائی دی جاتی ہے، کمپاؤنڈ کے اندر وہ بیٹھ سکتے ہیں یا چہل قدمی کرسکتے ہیں، ان کا دوپہر کا کھانا تقریباً 3:30 سے 4:00 بجے کے درمیان ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پرعمران خان نے اپنی حفاظت اور سکیورٹی کے بارے میں کوئی خدشہ ظاہر نہیں کیا، درخواست گزار نے بیان کیا کہ ان کا روزمرہ معمول گرمیوں اور سردیوں میں مختلف ہوتا ہے، تقریباً شام 5:30 بجے سے اگلی صبح 10:00 بجے تک بانی پی ٹی آئی اپنے سیل میں مقید رہتے ہیں، ان کا سیل بلاک اڈیالا جیل کے اندر تقریباً 5منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے۔رپورٹ کے مطابق سیل بلاک کے کچن میں برتن، کراکری اور کھانا پکانے کا سامان موجود ہے، زیادہ تر اشیائے خورونوش مرتبانوں اور بند ڈبوں میں محفوظ تھیں، اشیائے خورو نوش میں مصالحہ جات اور خشک میوہ جات شامل تھے،کچن کی صفائی کے حوالے سے کچھ بہتری کی گنجائش محسوس کی گئی۔رپورٹ کے مطابق درخواست گزار نے بتایا کہ وہ صبح ناشتے میں ایک کپ کافی، دلیہ اور چند کھجوریں استعمال کرتے ہیں، دوپہر کا کھانا ان کےمطابق ہفتہ وارمنصوبہ بندی کےتحت منتخب کیاجاتا ہے، دوپہر کے کھانے کے اخراجات عمران خان کا خاندان برداشت کرتا ہے، دو دن مرغی، دو دن گوشت، دو دن دال یا دو دن چاٹ یا اسنیکس شامل ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق عمران خان نے مزید بتایا کہ انہیں بوتل بند پینے کا پانی (نجی کمپنی کا پانی ) دستیاب ہے، وہ مکمل کھانا نہیں لیتے بلکہ پھل، دودھ اور کھجوریں استعمال کرتے ہیں۔رپورٹ میں بتایاگیا کہ عمران خان کے سیل کے اندر 3 ہائی وولٹیج بلب، ایک چھت والا پنکھا اور ایک بلوور ہیٹر موجود ہے، سیل میں 2 میزیں، ایک وال کلاک، ایک چارپائی/بیڈ، ایک کرسی اور ایک چھوٹا ریک موجود تھا جب کہ سیل کے اندر 32 انچ کا ٹی وی دیوار پر نصب تھا تاہم چلانے پر وہ خراب پایا گیا، سیل میں کوئی الماری موجود نہیں، کپڑے پانچ ہینگرز پر لٹکائے گئے تھے، سیل کے اندر فراہم کردہ کرسی غیر آرام دہ پائی گئی، سیل میں ایک سنگل بیڈ میٹریس، 4 تکیے اور 2 کمبل موجود تھے، سیل کے اندر جائے نماز ،تسبیح موجود تھی، 2 تولیے بھی تھے۔رپورٹ کے مطابق تقریباً 100 کتابیں ایک میز پر رکھی تھیں، ساتھ دو سیب،دو ڈمبلز بھی تھے، ٹشو پیپر، ماؤتھ واش، ائیر فریشنر، شیو جیل اور شیو کٹ بھی موجود تھے، سیل کے اندر تقریباً ساڑھے 4 ضرب ساڑھے 4 فٹ کا ٹوائلٹ تھا ، ٹوائلت کو 4 فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا تھا اور اس کی چھت نہیں تھی، ٹوائلٹ کے باہر گرم اور ٹھنڈےپانی کی سہولت، واش بیسن اور آئینہ موجود تھا۔رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ تقریباً 3 سے 4 ماہ قبل، یعنی اکتوبر2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6×6 (بالکل نارمل) تھی، اب ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک ہے جس کا علاج پمز کے ڈاکٹرز نے کیا، اس کے بعد مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت شروع ہوئی، متعدد بار اُس وقت کےسپرنٹنڈنٹ جیل کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظرکے مدھم ہونے کی شکایت سےآگاہ کیا ، جیل حکام کی جانب سے ان شکایات کے ازالے کےلیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا، بعد ازاں اچانک دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہوگئی جس کےبعد پمز اسپتال کے ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنے کے لیے بلایا گیا۔رپورٹ کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا (کلاٹ) بن گیا تھا جس نے شدید نقصان پہنچایا، علاج (بشمول ایک انجیکشن) کےباوجود ان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15فیصد تک محدود رہ گئی۔
-

معروف نعت خواں تابندہ لاری انتقال کر گئیں
کراچی(پاکستان واچ نیوز) معروف نعت خواں تابندہ لاری انتقال کر گئیں۔اسپتال حکام کی جانب سے نعت خواں تابندہ لاری کے انتقال کی تصدیق کی گئی ہے۔اسپتال حکام نے بتایاکہ تابندہ لاری کچھ دنوں سے عارضہ قلب میں مبتلا تھیں اور قومی ادارہ امراض قلب میں زیرعلاج تھیں۔خاندانی ذرائع نے بتایا کہ مرحومہ عارضہ قلب میں مبتلا اور قومی ادارہ امراض قلب میں زیر علاج تھیں، مرحومہ کی نمازجنازہ مسجد فاروق اعظم نارتھ ناظم آباد میں ادا کی گئی.
-

احمد شہزاد پی ایس ایل میں نظر انداز کیے جانے پر اشک بار
لاہور (پاکستان واچ نیوز)سابق پاکستانی اوپننگ بلے باز احمد شہزاد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن کے لیے منتخب نہ ہونے پر لائیو شو میں رو پڑے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان تابش ہاشمی نے احمد شہزاد سے سوال کیا کہ آپ پی ایس ایل کی وننگ ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں لیکن گزشتہ تین سال سے لیگ سے باہر ہیں تو آپ کو کیسا لگتا ہے؟احمد شہزاد نے کہا ’مجھے اپنے لیے بہت دکھ ہوتا ہے، ساتھی کھلاڑیوں کو دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے لیکن اپنے لیے افسردہ ہوجاتا ہوں‘۔احمد شہزاد یہ کہتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے کہ ’سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ میرا بیٹا اب 9 سال کا ہوگیا ہے اور وہ مجھے کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے‘۔میزبان تابش ہاشمی یہ صورتحال دیکھ کر فوری طور پر اپنی سیٹ سے اٹھ کر احمد شہزاد کے پاس پہنچے اور انہیں گلے لگاکر تسلی دی۔آنکھوں سے جاری اشک پوچھتے ہوئے احمد شہزاد نے مزید کہا کہ ’بیٹا میرے ساتھ سوتا ہے، وہ میرا دل رکھنے کے لیے کہتا ہے بابا مجھے یاد ہے آپ کھیلتے تھے لیکن اب میں آپ کو اچھے طریقے سے یاد رکھ پاؤں گا‘۔ان کا کہنا تھا کہ میں ویسے خوش ہوں لیکن یہ چیز ہے جو میرے دل کو لگی اور مجھے شدید دکھ ہوتا ہے‘۔
-

پی ایس ایل نیلامی ، سب سے مہنگے اور سستے کھلاڑی کونسے ہیں؟
لاہور (پاکستان واچ نیوز)پاکستان سپرلیگ کے 11ویں ایڈیشن کے لیئے لاہور ایکسپوسنٹر میں نیلامی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں ہر ٹیم نے اپنا 16 سے 20 رکنی اسکواڈ تشکیل دیا۔
لاہور میں ہونے والی پلیئرز آکشن میں 800 سے زائد ملکی و غیر ملکی کھلاڑی رجسٹرڈ تھے ان میں سے سب سے مہنگے اور سب سے سستے کھلاڑی کون کونسے رہے اور کس ٹیم نے ان کو کتنے میں خریدا، اس کی تفصیلات ذیل میں درج ہیں۔
پلیئر آکشن میں سب سے مہنگے کھلاڑی پاکستان کے نسیم شاہ کو 8 کروڑ 65 لاکھ روپے میں ٹیم راولپنڈی نے خریدا جبکہ پاکستانی آل راؤنڈر فہیم اشرف کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے 8 کروڑ 50 لاکھ روپے میں حاصل کرلیا۔
اسی طرح غیرملکی کھلاڑیوں میں نیوزی لینڈ کے جارح مزاج مڈل آرڈر بلے باز ڈیرل مچل کو 8 کروڑ 5 لاکھ روپے میں ٹیم راولپنڈی نے خریدا لیا۔
سب سے سستے کھلاڑیوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں ٹیم سیالکوٹ اسٹالینز نے محمد اویس ظفر ، لیکلان شا، ڈیلانو پوٹگیئٹر اور جہانزیب سلطان کو 60،60 لاکھ روپے میں خریدا جبکہ پشاور زلمی نے مرزا طاہر بیگ ، محمد ناہید رانا اور خالد عثمان کو 60،60 لاکھ روپے میں حاصل کیا۔
اسی طرح کراچی کنگز نے رضوان اللہ اور عاقب الیاس کو جبکہ لاہور قلندرز نے طیب طاہر، آصف علی ، پرویز حسین ایمان اور محمد فاروق کو 60 لاکھ ، 60 لاکھ روپے میں خرید لیا۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سیمیول ہارپر، ثاقب خان اور بیون جیکبز کو جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے ثمین گل اور دپیندر سنگھ ایری کو 60،60 لاکھ میں خریدا۔
سعد علی ، محمد طیب عارف ، رضوان محمود ، آصف محمود ، حنین شاہ، شرجیل خان ،حماد اعظم کو حیدرآباد کنگزمین نے جبکہ شاہزیب خان ، فواد علی، ڈائن فاریسٹر اور محمد عامر خان کو ٹیم راولپنڈی نے 60،60 لاکھ روپے میں خرید لیا۔
یوں پلیئر آکشن کے دوران 60 لاکھ روپے میں خریدے جانے والے سب سے زیادہ کھلاڑی (7) ٹیم حیدرآباد کنگزمین میں شامل ہیں جبکہ سب سے کم کھلاڑی اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز میں صرف 2، 2 شامل ہیں۔ -

سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم
اسلام آباد:(نما ئندہ خصوصی )سپریم کورٹ نے عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی اور بچوں سے رابطوں کی سہولیات دینے کا حکم جاری کردیا۔عدالت عظمیٰ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور بیرسٹر سلمان صفدر سپریم کورٹ پہنچے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، رپورٹ کا پیراگراف نمبر 21 پڑھیں۔عدالت میں پڑھی گئی رپورٹ کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ دستیاب کھانوں کی سہولیات پر بھی اطمینان ظاہر کیا، تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی کی درخواست کی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں اور بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بالکل بھی نہیں کہیں گے کہ بانی پی ٹی آئی کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نمایاں سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ہم ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکومت اچھے موڈ میں ہے ۔ بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی ملنی چاہیے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کتابیں پڑھنے کے لیے فراہم کرنے کی رائے اس لیے نہیں دے رہے کیونکہ ان کی آنکھوں کا مسئلہ ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے بانی پی ٹی آئی کو ماہرین تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات دی جائیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ دو سے تین دن تک ہو جائے گا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری تک آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات فراہم کر دی جائیں گی، جسے عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا۔دوران سماعت فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک بانی پی ی آئی کو رسائی دی جائے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی کا حکم دے دیا تاہم کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دینے کی استدعا مسترد کر دی۔سلمان صفدر نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مزید کتابیں فراہم کی جائیں جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر ڈاکٹرز اجازت دیں تو کتابیں فراہم کی جائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ اس معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے۔ ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں۔ آج حکومت اچھے موڈ میں ہے۔ معائنہ کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی ۔ اس موقع پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کی بھی ہدایت کردی ۔قبل ازیں جیل میں بانی پی ٹی آئی کو دستیاب سہولیات پر رپورٹ جمع کرائی گئی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے فوری معائنے کا مطالبہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف سے معائنہ کرایا جائے۔ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے کی سفارش کی گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے فرینڈ آف دی کورٹ کو بتایا وہ 2 سال 4 ماہ سے قید ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک انکی نظر 6*6 تھیں، بعد میں انہیں دھندلا نظر آنا شروع ہوا۔ بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ میں نظر دھندلانا شروع ہوگئی بعد میں کم نظر آنا شروع ہوگیا۔
بانی پی ٹی آئی کے مطابق انہیں بلڈ کلاٹ بتایا گیا۔ بانی پی ٹی آئی ایک آنکھ کے کم دکھنے کے مسئلے پر کافی پریشان دکھائی دیے۔ رپورٹ کے مطابق فرینڈ آف دی کورٹ کے ساتھ ملاقات کے دوران بانی پی کی آنکھوں سے مسلسل پانی نکلتا رہا جسے ٹشو پیپر سے صاف کرتے رہے۔ اس عمل سے وہ غیر آرام لگے۔
فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر کی رپورٹ میں مچھر مارنے کے لیے بھی فوری اور موثر اقدامات کرنے کی تجویز شامل تھی، جس میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے سیل میں مچھر اور کیڑے مارنے کے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔ عمران خان کے سیل میں خوراک کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ریفریجریٹر فراہم کیا جائے۔ یہ بنیادی اور ضروری اقدامات ہیں جو انسان کے رہنے کے لیے ضروری ہیں، جن پر لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کتابوں فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
فرینڈ آف دی کورٹ کی تعریف
دوران سماعت سپریم کورٹ نے فرینڈ آف دی کورٹ کی ذمہ داری نبھانے پر بیرسٹر سلمان صفدر کی تعریف کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے بخوبی ذمہ داری نبھائی ہے۔ فرینڈ آف دی کورٹ کے کردار کو سراہتے ہیں۔ حکومت کو بھی بہترین سہولیات فراہمی پر سراہتے ہیں ۔اس موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے 100 سے زائد کالز اور میسجز آئے ، جن میں میری اہلیہ بھی تھی۔ میں نے کہا یہ کورٹ کی امانت ہے میں نہیں بتا سکتا ۔ یہاں تک کہ اپنی اہلیہ کو بھی نہیں بتایا ۔
لطیف کھوسہ کا معاملہ
سماعت کے آغاز پر لطیف کھوسہ روسٹرم پر آگئے تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نہیں سمجھتے توشہ خانہ سے متعلق اپیل غیر موثر ہوچکی ہے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر نارملی دیکھا جائے تو یہ بات درست ہے۔ ایک درخواست میں دفاع کے گواہان کی طلبی جبکہ دوسری درخواست میں کیس ٹرانسفر سے متعلق درخواست تھی۔ مخصوص حالات کے تحت عدالت اس معاملے کو دیکھ سکتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میری ایڈوائز ہوگی کہ متعلقہ فورم ہی ایک کیس کو سنے۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ ہائیکورٹ میں مرکزی اپیلیں زیر التوا ہیں، تمام عبوری حکمنامے یکجا ہوچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اپیل کورٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتے۔لطیف کھوسہ نے عدالت سے کہا کہ آپ عدلیہ کے سربراہ کے طور پر مخصوص حالات کے پیش نظر معاملہ کو دیکھ سکتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں ہائیکورٹس کا مکمل احترام ہے۔ -

داعش (اسلامک اسٹیٹ): آغاز پھیلاؤ پاکستان میں موجودگی اور عالمی سرگرمیاں.تحریر: بےنظیر مہدی رضوی

تحریر: بےنظیر مہدی رضوی
داعش( ISIS) کی بنیاد 1999 میں ابو مصعب الزرقاوی نے جماعت التوحید والجہاد کے نام سے رکھی۔ بعد ازاں اس گروہ نے القاعدہ سے وابستگی اختیار کی اور عراق جنگ کے دوران اپنی سرگرمیاں بڑھائیں۔ 2013 میں اس نے القاعدہ سے علیحدگی اختیار کر کے خود کو اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ الشام (ISIS) قرار دیا اور جون 2014 میں موصل پر قبضے کے بعد ابو بکر البغدادی کی قیادت میں “خلافت” کے قیام کا اعلان کیا۔
شام کی خانہ جنگی (2011) نے تنظیم کو سرحد پار اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کا موقع فراہم کیا۔ 2014 سے 2017 کے درمیان داعش نے عراق اور شام کے بڑے حصوں پر کنٹرول حاصل کیا، تاہم بعد میں عالمی اتحاد اور مقامی افواج کی کارروائیوں کے نتیجے میں اس کی علاقائی عملداری ختم کر دی گئی۔ اس کے باوجود تنظیم مختلف ممالک میں اپنی شاخوں کے ذریعے سرگرم رہی۔
داعش کے پھیلاؤ کے دوران اس کے زیر استعمال اسلحے کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آئیں۔ تحقیقی ادارے Conflict Armament Research (CAR) کے مطابق عراق اور شام میں استعمال ہونے والے اسلحے کا ایک حصہ یورپی یونین میں تیار شدہ تھا۔ اسی طرح متعدد رپورٹس میں بتایا گیا کہ داعش نے عراقی اور شامی فوجی ذخائر سے قبضے میں لیے گئے امریکی ساختہ M-16 رائفلیں، گولہ بارود اور Humvee گاڑیاں استعمال کیں۔ افغانستان میں بھی امریکی انخلاء کے بعد چھوڑے گئے اسلحے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں میں بیرونی عناصر کا کردار ہو سکتا ہے، اگرچہ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان میں داعش کی موجودگی کے ابتدائی آثار 2014 میں سامنے آئے جب بعض شہروں میں تنظیم کے حق میں گرافیٹی اور لٹریچر دکھائی دیا۔ جنوری 2015 میں داعش نے افغانستان اور پاکستان کے لیے اپنی علاقائی شاخ داعش خراسان (ISIS-K) کے قیام کا اعلان کیا، جس کے بعد خطے میں اس سے منسلک عناصر کی سرگرمیاں زیادہ واضح ہوئیں۔
تنظیم نے نظریاتی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے میڈیا اور اشاعتوں کا بھی سہارا لیا۔ اپریل 2021 میں اردو زبان میں “یلغار” نامی میگزین منظر عام پر آیا، جبکہ انگریزی میں “Voice of Khurasan” اور پشتو میں دیگر اشاعتیں بھی جاری کی گئیں۔ ان رسائل میں پاکستان افغانستان اور دیگر علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کا ذکر شامل تھا۔
حالیہ برسوں میں پاکستان میں داعش خراسان سے منسلک بعض اہم رہنماؤں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں جن میں سلطان عزیز اعظم، ابو یاسر الترکی اور محمد شریف اللہ (جعفر) جیسے نام شامل ہیں۔ بعض افراد کو بین الاقوامی سطح پر بھی مطلوب قرار دیا گیا تھا اور بعد ازاں امریکہ کے حوالے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔پاکستان میں نمایاں حملے
پاکستان میں داعش:خراسان نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی یا اس سے منسوب کی گئی۔ ان میں 2016 میں خضدار (شاہ نورانی درگاہ) پر حملہ 16 فروری 2017 کو سیہون شریف میں درگاہ لعل شہباز قلندر پر خودکش دھماکہ جس میں 90 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور 6 فروری 2026 کو اسلام آباد کی امام بارگاہ خدیجہ الکبری میں خودکش حملہ شامل ہیں۔ جس میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
اگرچہ 2019 تک عراق اور شام میں داعش کی علاقائی خلافت ختم کر دی گئی۔ تاہم تنظیم مختلف خطوں میں اپنی شاخوں اور نیٹ ورک کے ذریعے سرگرم رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق شدت پسند نظریات علاقائی عدم استحکام اور طاقت کے خلا ایسے عوامل ہیں جو اس قسم کی تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔
