Blog

  • زیرتعمیر سڑکیں ای چالان سسٹم میں شامل نہیں ہیں، ڈی آئی جی ٹریفک

    زیرتعمیر سڑکیں ای چالان سسٹم میں شامل نہیں ہیں، ڈی آئی جی ٹریفک

    کراچی(پاکستان واچ نیوز) ڈی آئی جی ٹریفک نے شہر میں ای چالان سے متعلق جواب سندھ ہائیکورٹ میں جمع کروا دیا جس میں انہوں نے بتایا کہ شہر میں ای چالان کا نظام تمام فریقین کی مشاورت سے نافذ کیا گیا۔ای چالان کے خلاف درخواستوں پر سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی جس دوران ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے عدالت میں تحریری جواب جمع کرایا گیا۔ڈی آئی جی ٹریفک نے عدالت کو بتایا کہ ای چالان نظام تمام فریقین سے مشاورت کے بعد نافذ کیا گیا، فیز ون صرف مکمل انفرا اسٹرکچر والی سڑکوں پر نافذ ہے، زیرتعمیر سڑکیں ای چالان سسٹم میں شامل نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 14 روز میں چالان ادا کرنے پر 50 فیصد رعایت دی جا رہی ہے، جرمانوں میں ترمیم سندھ حکومت نے کی، ٹریفک پولیس کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ ای چالان نظام شفاف اور قانونی دائرے میں ہے، ای چالان سے متعلق تنازع پر ٹریفک کورٹس سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے ای چالان کے خلاف درخواستوں پر سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی۔

  • کوئٹہ اور بارکھان میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں ، 14 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ اور بارکھان میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں ، 14 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ(پاکستان واچ نیوز) کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کوئٹہ اور بارکھان میں کارروائیوں کے دوران 14 دہشتگرد ہلاک کردیے۔ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کوئٹہ کے علاقے درخشاں میں کارروائی کی گئی جس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔سی ٹی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 3 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشتگردوں سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا، دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جارہا ہے تاہم اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب سی ٹی ڈی نے بارکھان میں انیٹلی جنس بیسڈکارروائی کی جس دوران فائرنگ کےتبادلے میں 6 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔سی ٹی ڈی ترجمان نے بتایا کہ ہلاک دہشتگرد تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور بارودی مواد برآمد ہوا ہے۔

  • سحرو افطار  کے دوران  بجلی   گیس کی بلاتعطل فراہمی   یقینی بنائی جائیگی، وفاقی وزیر

    سحرو افطار کے دوران بجلی گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائیگی، وفاقی وزیر

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز) وفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری نے رمضان المبارک میں سحرو افطار کے دوران بجلی کی بلاتعطل فراہمی کا حکم دیا ہے۔اویس لغاری نے پاور ڈویژن کے زیادہ نقصانات والے علاقوں میں بھی سحروافطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔وفاقی وزیرپاورکاکہنا تھا کہ لوڈمینجمنٹ سحر و افطار کے علاوہ اوقات میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔دوسری جانب سوئی سدرن اور سوئی نادرن کا رمضان میں صبح 3 بجے سے رات 10:30بجے تک گیس فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

  • علیمہ خان ہمیشہ عمران خان کے علاج کے لیے منع کردیتی تھیں، محسن نقوی

    علیمہ خان ہمیشہ عمران خان کے علاج کے لیے منع کردیتی تھیں، محسن نقوی

    لاہور:(پاکستان واچ نیوز)وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ علیمہ خان عمران خان کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی تھیں، علیمہ خان ہمیشہ عمران خان کے علاج کے لیے منع کردیتی تھیں، انہوں نے اپنی پارٹی کے لوگوں سے کہا کہ اگر ہم مان گئے تو معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی کے معاملے پر پروپیگنڈا کیا گیا، ہم عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاست زدہ نہیں کرنا چاہتے، ہم اپوزیشن سے رابطے میں تھے، ہم نے انہیں یقین دلایا کہ عمران خان کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے، ہم نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے آئی اسپیشلسٹ کا نام تجویز کرنے کا بھی کہا، ہمیں کہا گیا عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معائنے کے لیے بہترین ڈاکٹرز کا انتخاب کیا، ان ڈاکٹروں نے پی ٹی آئی قیادت کو بریفنگ دی کہ عمران خان کا بہترین علاج کیا جارہا ہے، محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی ہم اپوزیشن سے رابطے میں تھے، ہم چاہتے تھے پی ٹی آئی قیادت کی موجودگی میں معائنہ ہو، بہترین سرکاری اور پرائیویٹ ڈاکٹرز نے عمران خان کا معائنہ کیا مگر سڑکوں کی بندش کرکے عوام کو تکلیف پہنچائی گئی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے عمران خان کے علاج سے متعلق بیرسٹر گوہر کو بھی آگاہ کیا، انہیں کہا کہ اڈیالہ جیل پہنچ جائیں مگر وہ نہیں آئے، ہم نے اپوزیشن کو کہا کہ آپ آجائیں اور اپنے ڈاکٹرز کو ساتھ لے آئیں۔محسن نقوی نے کہا کہ کچھ لوگ عمران خان کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے بارے میں فکر مند ہیں، اس حوالے سے انتشار پھیلانے کی بھی کوشش کی گئی حالاں کہ میڈیکل رپورٹس بالکل درست ہے اور ڈاکٹروں نے بھی اطمینان کا اظہار کیا، علیمہ خان عمران خان کی بیماری کو کیش کرانا چاہتی تھیں، علیمہ خان ہمیشہ عمران خان کے علاج کے لیے منع کردیتی تھیں، انہوں نے اپنی پارٹی کے لوگوں سے کہا کہ اگر ہم مان گئے تو معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے مزید کہا کہ عمران خان کے علاج کے معاملے پر بھونڈی سیاست کی جارہی ہے، میڈیکل رپورٹ سب کے سامنے ہے، پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے، ہم اب بھی کہہ رہے ہیں اگر کوئی ٹیسٹ رہ گیا ہے تو بتائیں۔

  • سیاستدان کو مشکلات برداشت کرنا پڑتی  ہیں یہی اس کا امتحان ہے،صدر زرداری

    سیاستدان کو مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں یہی اس کا امتحان ہے،صدر زرداری

    وہاڑی:(پاکستان واچ نیوز)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، جو نہیں کر سکتا کوئی اور شعبہ اختیار کرلے۔عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہو چکے ہیں، تاہم مکمل بہتری میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی ایک مسلسل عمل ہے اس میں مشکلات کے باوجود ریاستی ادارے اور عوام مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔آصف زرداری نے اپنے خطاب میں سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کو روزانہ بھاشن دینے کی عادت تھی لیکن عملی میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا ہر سیاستدان کا امتحان ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی قید کے دنوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 14 سال جیل میں گزارے اور جب اپنے بچوں سے ملے تو وہ قد میں ان سے بڑے ہو چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ جب اس شخص کی ہر ٹی وی پر تقریر آتی تھی تو باقی تقریریں بند ہو جاتی تھیں۔ ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ وہاں سے آواز آ رہی ہے، بیٹا کہہ رہا ہے کہ اسے ملنے نہیں دیا جا رہا۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں اور اگر کوئی یہ برداشت نہیں کر سکتا تو اسے کوئی اور شعبہ اختیار کرنا چاہیے۔ سیاست ایک ہمہ جہت ذمہ داری ہے جس میں ہر شعبہ شامل ہوتا ہے۔ قیادت کے لیے برداشت، لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ حکمرانی میں سنجیدگی اور دور اندیشی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔انہوں نے قومی ترقی کو زرعی شعبے کی مضبوطی سے مشروط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ۔ ملک کی پائیدار ترقی کا انحصار جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور کسانوں کو سہولتوں کی فراہمی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی چیلنجز کا مستقل حل زراعت میں پوشیدہ ہے ۔ کسانوں کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔صدر مملکت پانی کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبی وسائل کا بہتر انتظام ناگزیر ہے۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں بلکہ تسلسل اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔صدر زرداری نے مختلف صوبوں کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر صوبے کے حالات مختلف ہیں۔ ملک کی ترقی کے لیے تمام صوبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ اگر ترقی کا عمل رک جائے تو اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس ہوتے ہیں۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ انہوں نے ججز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا تاکہ عدالتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواہش ہے کہ آنے والی نسلیں موجودہ قیادت کو مثبت انداز میں یاد کریں۔صدر مملکت نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علاقائی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ سیاسی تعاون انتہا پسندانہ رجحانات کو روکنے میں مدد دیتا ہے ، لہٰذا قومی مفاد میں تمام قوتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

  • پاکستانیوں کو ویزہ فری انٹری دینے والے 32 ممالک کون سے ہیں؟

    پاکستانیوں کو ویزہ فری انٹری دینے والے 32 ممالک کون سے ہیں؟

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری کے بعد 32 ممالک کا ویزا فری سفر ممکن ہوگیا۔فروری 2026 کے تازہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی بہتر ہو کر 97 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے جو جنوری میں 98 اور گزشتہ سال 103 ویں نمبر پر تھی۔
    گلف نیوز کے مطابق اس بہتری کے ساتھ پاکستانی شہری اب 32 ممالک میں بغیر ویزا، ویزا آن آرائیول یا ای-ٹی اے (eTA) کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔
    یہ ممالک کیریبیئن جزائر، افریقی سفاری، جنوبی ایشیائی ثقافتی مراکز اور بحرالکاہل کے جزائر پر محیط ہیں جو سیاحت، کاروبار اور مختصر مدت کے سفر کے لیے سہولت فراہم کرتے ہیں۔
    پاکستانی پاسپورٹ کی یہ ترقی سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی معاہدوں کا نتیجہ ہے جس سے پاکستانی شہریوں کو بین الاقوامی سفر میں آسانی حاصل ہوگی اور سیاحت، کاروبار اور خطے کے ممالک سے تعلقات میں اضافہ ممکن ہوگا۔
    پاکستانی شہری اب درج ذیل ممالک کا سفر آسانی سے کر سکتے ہیں:
    بغیر ویزا (Visa-free) 11 ممالک:
    بارباڈوس، کوک آئلینڈز، ڈومینیکا، ہیٹی، مائکرونیشیا، مونٹسیراٹ، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اینڈ گرینیڈائنز، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، وانواتو، دی گیمبیا
    ویزہ آن آرائیول (VOA) 18 ممالک:
    برونڈی، کمبوڈیا، کیپ ورد آئیلینڈز، کومورو آئلینڈز، جیبوتی، گنی بساؤ، مڈگاسکر، مالدیپ، موزمبیق، نیپال، نیوے، پالاؤ آئیلینڈز، قطر، ساموا، سینیگال، سیرالیون، تیمور-لیسٹے، ٹوالو
    ای-ٹی اے (eTA) 3 ممالک:
    کینیا، سیشلز، سری لنکا
    واضح رہے کہ عالمی سطح پر سنگاپور کا پاسپورٹ سب سے مضبوط ہے جو 192 ممالک تک ویزا فری رسائی فراہم کرتا ہے،
    جاپان اور جنوبی کوریا کے پاسپورٹ پر 187 ممالک میں ویزا فری انٹری ممکن ہے، سویڈن اور یو اے ای کے شہری 186 ممالک میں ویزا لیے بغیر جاسکتے ہیں۔
    یورپی ممالک فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین اور سوئٹزرلینڈ کے پاسپورٹس پر 185 ممالک ویزہ فری انٹری دیتے ہیں۔

  • پانچ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیاگیا

    پانچ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیاگیا

    اسلام آ باد (پاکستان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف سابق وزیر محسن شاہنواز رانجھا کو قتل کی کوشش سمیت دیگر 5 کیسز کی سماعت کی۔عدالت نے قتل کی کوشش سمیت دیگر پانچ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیا، عدالت نے 18 فروری تک متعلقہ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی گرفتاری سے روک دیا۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کردی، بانی پی ٹی آئی کو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش نہ کیا جاسکا۔عدالت نے اگلی سماعت میں بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت کردی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی۔بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اور بانی پی ٹی آئی کی عدم دستیابی کے باعث دلائل نہ ہوسکے، عدالت نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 18 فروری تک ملتوی کردی۔بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے معاون وکلاء خالد یوسف چوہدری اور شمسہ کیانی ایڈووکیٹ پیش ہوئیں۔بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل اور جعلی رسیدوں سمیت دیگر مقدمات درج ہیں جبکہ بشری بی بی کے خلاف مبینہ جعلی رسیدیں جمع کروانے پر مقدمہ درج ہے۔

  • عمران خان کو  بہتر  طبی سہولتیں فراہم کی جائیں،سابق غیر ملکی کرکٹ کپتانوں کا مطالبہ

    عمران خان کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جائیں،سابق غیر ملکی کرکٹ کپتانوں کا مطالبہ

    کراچی (پاکستان واچ نیوز)چودہ سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق پاکستانی کپتان عمران خان کو جیل میں بہتر سہولیات اور مناسب طبی امداد فراہم کی جائے۔آسٹریلوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 73 سالہ عمران خان کی صحت سے متعلق حالیہ رپورٹس پر سابق کھلاڑیوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔سابق کھلاڑیوں نے خصوصاً عمران خان کی بینائی کی خرابی اور طویل قید کے دوران حالات پر سوالات اٹھائے ہیں۔یہ درخواست سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل نے تیار کی جس پر بھارت کے سنیل گواسکر اور کپل دیو سمیت آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے کئی سابق کپتانوں نے دستخط کیے۔یہ خط وزیر اعظم شہباز شریف کو ارسال کیا گیا ہے۔سابق کپتانوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کرکٹ ہمیں انصاف، احترام اور وقار کا درس دیتی ہے، اس لیے عمران خان جیسی عالمی شہرت یافتہ شخصیت کو بنیادی انسانی حقوق اور باعزت سلوک ملنا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اپنی پسند کے ماہر ڈاکٹروں سے فوری اور مسلسل طبی معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے، اہلخانہ سے ملاقات کی سہولت دی جائے اور قانونی کارروائی شفاف انداز میں مکمل کی جائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کرکٹ ہمیشہ قوموں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی آئی ہے اور میدان کی رقابت ختم ہونے کے بعد احترام باقی رہتا ہے۔

  • باجوڑ:  چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 12 خوارج ہلاک، دھماکے سے 11 اہلکار شہید

    باجوڑ: چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 12 خوارج ہلاک، دھماکے سے 11 اہلکار شہید

    باجوڑ (پاکستان واچ نیوز)باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 12 خوارج کو ہلاک کردیا جب کہ حملے کے دوران 11 اہلکار شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 16 فروری 2026 کو باجوڑ ضلع میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج، جن کا تعلق “فتنہ الخوارج” سے تھا، نے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی کوشش کی۔بیان کے مطابق حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کی سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے مستعد اور بروقت ردِعمل نے دشمن کے ناپاک عزائم کو فوری اور فیصلہ کن انداز میں ناکام بنا دیا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے خوارج کو نشانہ بنایا اور 12 خوارج کو ہلاک کر دیا، حملہ آوروں نے اپنی ناکامی پر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ شدید دھماکے کے باعث چیک پوسٹ کا انفراسٹرکچر منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں وطن کے 11 بہادر سپوت شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دھماکے سے قریبی رہائشی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں ایک کمسن بچی شہید جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 7 شہری زخمی ہوئے۔بیان کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی میں سرگرم خارجی دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس/سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان کے تحت وژن “عزمِ استحکام” کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رکھیں گے۔بہادر جوانوں اور معصوم شہریوں کی قربانیاں دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے اور وطن کے دفاع کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے حملہ ناکام بنانے پر بہادر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور جام شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے 11 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ بہادر سپوتوں نے جان دے کر 12 دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا، فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے والے جوانوں کی جرات کو سلام، شہداء کی عظیم قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں جوانوں کی سخت ٹریننگ….رپورٹ: بینظیر مہدی

    سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں جوانوں کی سخت ٹریننگ….رپورٹ: بینظیر مہدی

    جب ریاست، فورس اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوں تو اندھیرا خود بخودچھٹ جاتا ہے

    میجر علی رضا نے پْرخلوص انداز میں استقبال کیا، برگیڈیئر ناظم سی او نے فرنٹیئر کور کے انسدادِ دہشت گردی میں کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
    ضلع خیبر کے علاقے شاکس میں واقع ایف سی انسدادِ دہشت گردی ٹریننگ سینٹرکا آنکھوں دیکھا احوال پاکستان واچ کی اینکر پرسن کے قلم سے
    چھ بجے کی سخت سردی میں جب اسلام آباد کی سڑکیں پیچھے رہنے لگیں تو احساس ہوا کہ یہ سفر محض میلوں کا نہیں، کہانیوں اور قربانیوں کا بھی ہے۔ یہ وہ صبح تھی جس میں گاڑی کا رخ اسلام آباد سے پشاور کی جانب تھا۔ ڈھائی گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم پشاور سے چند میل آگے، ضلع خیبر کے علاقے شاکس میں واقع ایف سی انسدادِ دہشت گردی ٹریننگ سینٹر پہنچ چکے تھے—ایک ایسی جگہ جہاں خاموشی میں عزم بولتا ہے اور نظم میں طاقت پنہاں ہوتی ہے۔
    دروازے پر میجر علی رضا کی پْرخلوص مسکراہٹ نے خوش آمدید کہا۔ ہم بریفنگ روم کی طرف بڑھے، جہاں برگیڈیئر ناظم سی او نے فرنٹیئر کور کے انسدادِ دہشت گردی میں کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کے الفاظ میں ٹھہراؤ تھا اور تجربے کی گونج۔
    ‘‘غیر روایتی جنگ’’.یہ اصطلاح سنتے ہی میں نے سوال کیا۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر خطے کی زبان، روایات اور ثقافت جدا ہوتی ہے؛ ان نزاکتوں کو وہی بہتر سمجھ سکتا ہے جو اسی مٹی میں پلا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا جیسے خطے میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی ترجیح بنتی ہے.تاکہ دہشت گردوں کی ہر حرکت پر مقامی سطح پر نظر رکھی جا سکے۔
    انہوں نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی مثالیں دیں، اور جرگہ سسٹم کا ذکر کیا جہاں ایف سی اہلکار عوام کے ساتھ بیٹھ کر انہیں یہ باور کراتے ہیں کہ امن کی جنگ صرف بندوق سے نہیں، تعاون سے جیتی جاتی ہے۔ ‘‘سیکیورٹی فورسز کے بعد سب سے اہم کردار آپ لوگوں کا ہے۔ سہولت کاری رک جائے تو مستقبل محفوظ ہو جائے’’—یہ جملہ کمرے میں دیر تک گونجتا رہا۔
    اس کے بعد ہم اسپیسیفک زون تربیتی مرکز کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں نوجوان جدید تقاضوں کے مطابق تربیت پا رہے تھے—وہ تربیت جو بدلتے ہوئے خطرات کا جواب ہے۔ بتایا گیا کہ افغانستان سے دراندازی اور خطے میں عدم استحکام کے تناظر میں، خاص طور پر طالبان کے ہاتھوں جدید اسلحے کے استعمال نے چیلنجز بڑھائے ہیں، جو ریاستہائے متحدہ کے انخلا کے بعد خطے میں پھیلا۔ اسی لیے تربیت میں عملی حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی اور مقامی حساسیت—تینوں کو یکجا رکھا جاتا ہے۔
    یہاں روزانہ کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی بنیاد رکھی جاتی ہے، مگر اس عزم کے ساتھ کہ مقامی آبادی ہر صورت محفوظ رہے۔ میدان میں دوڑتے، پسینہ بہاتے نوجوانوں کو دیکھ کر دل خودبخود گواہی دیتا ہے کہ امن کوئی سستا تحفہ نہیں؛ یہ مسلسل محنت، ضبط اور قربانی کا حاصل ہے۔
    واپسی پر سورج ڈھل رہا تھا، مگر ذہن میں ایک روشن سچ ابھر چکا تھا: امن کے چراغ وردی کی جیب میں نہیں، عوام کے دل میں جلتے ہیں۔
    ص جب ریاست، فورس اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوں تو اندھیرا خود بخودچھٹ جاتا ہے۔