اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)پی ٹی آئی اور جمعیت علما اسلام کے قائدین کے درمیان مذاکرات کے لیے ہونے والی ملاقات میں رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق جے یو ائی کا وفد مولانا عبدالغفور حیدری کی سربراہی میں پی ٹی آئی قیادت سے مذاکرات کیلیے پارلیمنٹ لاجز پہنچا۔ جے یو آئی کے وفد میں سینیٹر کامران مرتضی بھی شامل تھے۔ مذاکرات کی بیٹھک میں پی ٹی ائی کی جانب سے اسد قیصر بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ شریک ہوئے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی معاملات پر ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بامقصد مذاکرات کیے گئے جس میں مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق بھی بات چیت کی گئی
Blog
-

کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان سمیت عالمی امن کیلئے خطرہ ہے، منیر اکرم
نیویارک(کنزیومر واچ نیوز)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی پاکستان سمیت عالمی امن کیلئے خطرہ ہے۔ ٹی ٹی پی دہشتگرد تنظیموں کیلئے چھتری ہے۔ سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم نے یواین سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں دہشت گردی کا تذکرہ نہ ہونے پرشدید حیرت اورمایوسی کا اظہار کیا۔ کہا کالعدم ٹی ٹی پی دہشتگرد تنظیموں کیلئے چھتری ہے۔منیراکرم کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ٹی ٹی پی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہے، پاکستان اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے عالمی قوانین اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہرممکن اقدامات اُٹھائے گا۔
-

5 سے 7 ادارے بیچ دینگے، پاکستان کی قرض حصول کیلیے آئی ایم ایف کو یقین دہانی
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو پی آئی اے سمیت 5 سے 7 سرکاری ادارے بیچنے کی یقین دہانی کرا دی ہے ۔ذرائع کے مطابق حکومت نے پی آئی اے جولائی تک بیچنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن روزویلٹ ہوٹل نیویارک کا مستقبل ابھی تک غیر طے شدہ ہے جبکہ نیویارک سٹی گورنمنٹ نے ہوٹل کی لیز کا 228 ملین ڈالرکا معاہدہ قبل از وقت ختم کرنے کا نوٹس بھی دے رکھا ہے۔حکام نے آئی ایم ایف کو عملی طور پر تعطل کا شکارنجکاری پروگرام کے متعلق بتایا کہ 5 سے 7 ادارے جلد بیچنے کی کوشش کریں گے جس میں پی آئی اے، 3 مالیاتی ادارے اور3 پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں شامل ہیں، حکومت نومبر تک زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ کو بیچنے کیلیے پرامید ہے۔عالمی قرض دہندہ کو بتایا گیا کابینہ کمیٹی برائے نجکاری فیصلہ کرے گی آیا سب سے مہنگے روزویلٹ ہوٹل کو بیچنا ہے یا مشترکہ لیز معاہدے کے تحت دینا ہے۔پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جسے دنیا کی مہنگی ترین جائیدادوں میں شمار کیا جاتا ہے
-

اکشے کمار نے اپنا اپارٹمنٹ کروڑوں میں فروخت کردیا، کتنا منافع ملا؟
ممبئی(کنزیومر واچ نیوز)بالی ووڈ کے امیر ترین اداکاروں میں سے ایک اکشے کمار نے اپنا ممبئی کا اپارٹمنٹ مہنگے داموں میں فروخت کردیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلم انڈسٹری میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے مشہور اداکار اکشے کمار نے ممبئی کے علاقے بوری ولی میں موجود اپنا ایک لگژری اپارٹمنٹ فروخت کردیا ہے۔ اکشے کمار نے یہ لگژری اپارٹمنٹ 4 کروڑ 35 لاکھ بھارتی روپے میں فروخت کیا ہے اور اس میں انہیں منافع بھی ملا ہے کیونکہ جس وقت یہ اپارٹمنٹ خریدا گیا اس وقت اس کی قیمت قدرے کم تھی۔ایک ہزار مربع فٹ سے زائد جگہ پر محیط اس اپارٹمنٹ کے لیے دو کار پارکنگ بھی موجود ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اداکار نے اسے 2.15 کروڑ بھارتی روپے میں سن 2017 میں خریدا تھا تاہم اب نامعلوم وجوہات پر اسے فروخت کردیا ہے۔
-

جانوروں کی زبان سمجھنے پر ایک کروڑ ڈالرانعام کا اعلان
لندن(کنزیومر واچ نیوز)انسان پالتو جانوروں کی ’’بدن بولی‘‘ تو پھر سمجھ جاتا مگر ان کی آوازوں کے معنی کبھی نہیں جان پایا کیونکہ وہ حیوانی بولیوں کے حروف تہجی سے ناواقف ہے۔مثلاً جان نہیں پاتا، ایک کتے کی بھونک دوسرے کی بھونک سے کیونکر مختلف ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے، اب مصنوعی ذہانت کا جمع کردہ بھاری بھرکم ڈیٹا جانوروں کی زبان سمجھنے میں مدد دے گا۔ادھربرطانوی تنظیم ، جرمی کولر فائونڈیشن نے اس سائنسی ٹیم کو 1 کروڑ ڈالر (291 کروڑ روپے) بطور انعام دینے کا اعلان کیا ہے جو کسی بھی جانور کی زبان کو سمجھ لے
-

پاکستان کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز، کیوی ٹیم میں اہم تبدیلیاں
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے خلاف 16 مارچ سے شروع ہونے والی پانچ میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے اپنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے، جس میں مائیکل بریسویل کو کپتان مقرر کیا گیا ہے۔اس سیریز کے لیے چیمپئنز ٹرافی اسکواڈ کے سات کھلاڑیوں کو نیوزی لینڈ کی ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔تاہم نیوزی لینڈ کے کچھ اہم کھلاڑی اس سیریز میں حصہ نہیں لے سکیں گے، جن میں لوکی فرگوسن، ڈیون کونوے، گلین فلپس، رچن روندرا اور مچل سینٹنر شامل ہیں، جو آئی پی ایل میں مصروفیت کی وجہ سے ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ٹیم میں ایش سودھی اور بین سیئرز کی واپسی ہوئی ہے، جبکہ کائل جیمیسن اور ول او رورکی ابتدائی تین میچز میں شرکت کریں گے جبکہ میٹ ہینری آخری دو میچز کے لیے دستیاب ہوں گے۔
-

روح افزاء کا پاکستانی صارفین سے دوہرا معیار

کنزیومر واچ رپورٹ
ہمدرد بلاشبہ ایک معیاری ادارہ ہے حکیم محمد سعیدشہید جیسی باوقار شخصیت کی سربراہی میں چلنے والے ادارے نے بہت نام پیدا کیا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس ادارے نے بھی صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی صارفین جب پاکستان اور یو اے ای میں فروخت ہونے والے روح افزاء کا موازنہ کرتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں،پاکستان میں فراہم کی جانے والی روح افزاء کی بوتل پر پھلوں کی تصویر والا لیبل ہوتا ہے اور دبئی میں فروخت ہونے والے روح افزا ء کے لیبل پر پھلوں کی تصویر نہیں ہوتی اس سے صارفین کے ذھن میں یہ بات آرہی ہے کہ ہمدرد ہم سے ناانصافی کر رہا ہے ادارے کی جانب سے اس اہم ترین مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس سے صارفین میں شکوک وشبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ دبئی میںقوانین سخت ہیںاور پاکستان میں قانون کا احترام نہیں اس لئے ہمدرد نے دوھرا معیار اپنایا ہے،حقیقت یہ ہے کہ روح افزاء ایک معیاری شربت ہے اوربہت بڑی تعداد میں فروخت ہوتا ہے مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ روح افزاء میں پھلوں کا رس شامل نہیں ہوتا بلکہ دیگر مفید اور صحت بخش اجزا سے اس کو ایک منفرد شربت بنایا گیا ہے مگر اس کی آڑ میں پھلوں کی تصویر والا لیبل لگا دینا اخلاقی اور قانونی اعتبار سے درست نہیں ہے، درج ذیل میں صارفین کے تا ثرات پیش کئے جا رہے ہیں۔
روح افزاء ایک طویل عرصے سے ہمارے خاندان میں پورے اعتمادکے ساتھ استعمال ہورہا ہے مگر اس اعتماد کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب میں ملازمت کے سلسلے میںدبئی گیااور وہاں روح افزاء خریدنے کا اتفاق ہوا میں حیران رہ گیا کہ وہاں فروخت ہونے والی روح افزاء کی بوتل کے لیبل سے پھلوں کی تصویر غائب کردی گئی جبکہ پاکستان میں فروخت ہونے والی روح افزاء کی بوتل کے لیبل پر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ پھلوں کی تصویرپرنٹ کی جاتی ہے ہمدرد کے اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل پر مجھے بہت افسوس ہوااس اقدام کو صاف طور پر صارفین کے ساتھ ناانصافی قرار دیا جائے گا ان خیالات کا اظہاردبئی میں مقیم کراچی کے ایک رہائشی سلمان احمد نے کیا ،انھوں نے مطالبہ کیا کہ ہمدرد کے ذ مہ دار فی الفورپاکستان میں فروخت ہونے والی روح افزاء کی بوتل کے لیبل سے پھلوں کی تصویر ہٹائیں۔دبئی میں مقیم کراچی کی ماریہ نے کہا کہ یو اے ای میں قوانین بہت سخت ہیں اور یہاں صارفین کے ساتھ فراڈ کرنے والی کمپنی پر پابندی لگا دی جاتی ہے شاید اسی لئے دبئی میں فروخت ہونے والی روح افزاء کی بوتل کے لیبل سے پھلوں کی تصویر غائب ہے کیونکہ روح افزاء میں پھلوں کا رس شامل نہیں ہوتاجبکہ پاکستان میں بے فکری کے ساتھ پھلوں والا لیبل لگا کر روح افزا ء فروخت کیا جارہا ہے اور یہ ناانصافی ہم بچپن سے دیکھ رہے ہیں،محمدفیاض کہتے ہیں کہ پاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک ہوتا تو روح افزا ء کے اس طرز عمل پر کارروائی کی جاتی مگر ہم عرصہ دراز سے دیکھ رہے ہیں کہ معاملہ اسی طرح چل رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ،ہمارے صارفین کو بھی اپنے حقوق اور قوانین کا ادراک نہیں اس لئے کاروباری ادارے بے فکری سے کنزیومر کرائم کرتے ہیں اور کوئی ایکشن نہیں ہوتا ایک خاتون صارف عالیہ کہتی ہیں کہ ہمدرد ایک ایسا ادارہ تھا جس پر سب پاکستا نیوں کو فخر تھا مگر جب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ہمدرد اس طرح سے صارفین کو بے وقوف بنا رہا ہے تو بہت افسوس ہوا۔عبدالحمید کہتے ہیں کہ جس ادارے کے سربراہ حکیم سعید جیسی بے داغ شخصیت رہی ہو اس ادارے سے ایسی توقع نہیں تھی ہمدرد کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں بھی لیبل سے پھلوں کو ہٹا دیں تاکہ ان پر لگنے والا داغ دھل سکے،ایک اورخاتون صارف ارم نے کہا کہ ہم سب بچپن سے روح افزاء استعمال کر رہے ہیں ہم سمجھتے ہیں روح افزاء کا نعم البدل کوئی نہیں پھر جب روح افزاء پر صارف کو اعتماد ہے تو روح افزاء کیوں صارفین کے اعتماد سے کھیل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمدرد کا مؤقف نا مل سکا
نمائندہ کنزیومر واچ نے مذکورہ رپورٹ کے حوالے سے روح افزاء تیار کرنے والے ادارے ہمدرد سے موقف حاصل کرنے کی کوشش کی مگر تادم تحریر کامیابی نا مل سکی،اگر ادارہ ہمدرد اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد بھی اپنا موقف دینا چاہے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے اور اس کی اشاعت کو ممکن بنائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روح افزاء کی تاریخ
روح افزا کے اولین نسخہ ساز حکیم استاد حسن خان تھے جنھوں نے اسے سنہ 1907ء میں تیار کیااور اس میں حکیم محمد سعید کے والد حکیم عبد المجید کا بھی حصہ تھا۔مشروب مشرق روح افزا کی ایجاد دہلی میں ہوئی۔حکیم عبد الحمید دہلوی کہتے ہیں: ’’سنہ 1945ء میں روح افزا کی پہلی فیکٹری دریا گنج میں قائم ہوئی‘‘۔پاکستان میں یہ شربت ہمدرد لیبارٹریز (وقف) پاکستان میں تیار ہوتا ہے، جبکہ بھارت میں اس مشروب کو ہمدرد (وقف) لیبارٹریز میں تیار کیا جاتا ہے۔ کمپنی پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش میں روح افزا تیار کر رہی ہے۔مشروبِ مشرق روح افزا گذشتہ کئی دہائیوں سے بہت سے لوگوں کا پسندیدہ مشروب رہا ہے، بالخصوص رمضان کے مہینے میں افطار کے موقع پر من پسند مشروب تصور کیا جاتا ہے۔ روح افزا کے مخصوص یونانی نسخہ میں کئی اجزا کو ملایا گیا ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ٹھنڈک پہنچاتے ہیں، جیسا کہ گلاب جو لْو کے علاج کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ روح افزا گولا گنڈا، آئس کریم اور فالودہ وغیرہ کے ساتھ استعمال کے لیے بھی مشہور ہے۔روح افزا کا نام پنڈت دیا شنکر نسیم کی نظم “مثنوی گلزارِ نسیم” کے ایک کردار پر رکھا گیا تھا۔ روح افزا اپنی ٹھنڈی اور تر و تازہ تاثیر کے لیے مشہورہے۔ روح ا فزا کا بنیادی مقصد لوگوں کو گرمی کی شدت سے نجات دلانا اور انہیں توانائی فراہم کرنا ہے روح افزا کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ درپیش ہے جو صارفین کی اعتماد کو متاثر کررہا ہے۔ روح افزا نے متحدہ عرب امارات میں بوتل سے پھلوں کی تصویر ہٹا دی ہے، لیکن پاکستان میں یہ تصویر موجود ہے، تو بلاشبہ یہ کنزیومر کرائم یا صارفین کو گمراہ کرنے کی ایک شکل ہے۔ صارفین کو اس بات کا حق ہے کہ وہ اس بارے میں صحیح معلومات حاصل کریں کمپنی جو کچھ کر رہی ہے وہ قانونی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔ ایسا کرنے سے نا صرف کمپنی کی شہرت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قانون کے تحت بھی اس پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ کمپنی کو واضح اور صحیح معلومات فراہم کرنا ہوگی تاکہ صارفین کو یہ پتہ چل سکے کہ مصنوعات میں دراصل کیا چیزیں شامل ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ صارفین کو اپنے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے اور کمپنیوں کے اس طرح کے رویوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ -

جرمنی میں رمضان المبارک …سرور غزالی
ابھی چند سال پہلے کا ذکر ہے کہ جرمنی میں ترک مسلمانوں کی کافی بڑی تعداد میں موجود ہونے کے باوجود اسلامی تہوار کا سرکاری سطح پر کوئی چرچا نہیں ہوا کرتا تھا لیکن پچھلے چند سالوں سے یہ صورتحال یکثر بدل گئی ہے۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ رمضان کے شروع ہونے پر جرمنی کے ایک بڑے ریڈیو ڈی ایل ایف نے بڑے اہتمام سے اپنی صبح کی نشریات میں یہ خبر لگائی کہ آج رمضان المبارک کا پہلا دن ہے اور آج کے دن سے لے کر آئندہ 30 دنوں تک ساری دنیا کے مسلمان سورج کے طلوع ہونے سے لے کر غروب ہونے تک روزے رکھتے ہیں۔ اس سے قبل پچھلے سال جرمنی کی وزیر خارجہ بیر باک نے یہ نئی روایت ڈالی کہ انہوں نے اغاز رمضان پر تمام مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی۔
جرمنی میں جہاں ترکی عربی ایرانی، انڈونیشیائی ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی مسلمان کافی تعداد میں مقیم ہیں اور اس کے علاوہ افریقی ممالک سے بھی یہاں کافی غیر ملکی مسلمان آکر بس چکے ہیں تو ایسے میں رمضان کی گہما گہمی یہاں بھی محسوس کی جا سکتی ہے
برلن شہر کے مخصوص علاقوں یعنی کراس برگ، ویڈنگ اور ن کرائٹس نیوکو لون میں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے وہاں کہ بازاروں میں رمضان المبارک کی گہما گہمی خاص طور پر نظر آتی ہے جہاں ترکی بازاروں دکانوں اور پاکستانی ہندوستانی گروسری سٹورز پر رمضان کی آمد پر چہل پہل اور خریداری بڑھ جاتی ہے وہیں ہندوستانی پاکستانی ترکی اور ایرانی ریستورانوں پر افطار کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور افطار کے وقت مخصوص نشستیں رکھی جاتی ہیں جن پر روزے داروں کو بطور خاص جگہ دی جاتی ہے۔
یہ تمام ریسٹورنٹ رمضان کے لیے خصوصی اور رعایتی افطار اور رات کے کھانے کا پیکج پیش کرتے ہیں۔
برلن شہر میں کئی ایک بڑی جامع مسجدیں ہیں جو ترک عرب اور پاکستانی مسلمان بھائیوں کے لیے رمضان المبارک کے موقع پر خصوصی خشوع و خضوع اور اہتمام سے افطار اور تراویح کے اجتماعات پیش کرتے ہیں۔ رمضان المبارک کے موقع پر ہونے والے تمام جمعہ کو خصوصی اجتماعات ہوتے ہیں اور ایک روح پرور منظر سامنے آتا ہے۔ برلن کے علاوہ جرمنی کے دیگر بڑے شہروں ہمبرگ فرینکفرٹ میونخ وغیرہ میں بھی ایسے ہی اجتماعات اور روح پرور مناظر افطار وہ تراویح کے وقت منعقد ہوتے ہیں ان اجتماعات میں ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان بالخصوص جوق در جوق شرکت کرتے ہیں اور رمضان المبارک کی عبادات میں شریک ہوتے ہیں۔
اور اب تو جرمن بڑے سٹورز میں بھی رمضان المبارک کی مناسبت سے پھل فروٹ جن میں خاص طور پر کھجوریں شامل ہوتی ہیں فروخت کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔
اس گہما گہمی میں بچے اور خواتین برابر شامل ہوا کرتی ہیں اور سب لوگ جب مسجد میں جمع ہوتے ہیں تو خواتین کے لیے علیحدہ انتظامات کیے جاتے ہیں۔
رمضان المبارک کی امد کے ساتھ ہی خواتین بچے اور بڑے عید کی خریداری میں بھی مصروف ہو جاتے ہیں۔
گھروں میں سحر کے اہتمام سے رونق بڑھ جاتی ہے اور دوست احباب ایک دوسرے کو افطار کی دعوت دیتے ہیں اور پورے اہتمام کے ساتھ مل جل کر افطار نماز مغرب اور تراویح کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس طرح سے یہاں پر موجود پاکستان اور دیگر ممالک سے ائے ہوئے مسلمان اپس میں محبت کا اظہار کرتے ہیں اور اس شعائر اسلامی کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ رمضان مبارک کے یہ اہتمام اور روح پرور منظر کراچی اور پاکستان میں ہونے والے اہتمام سے کچھ ہی کم ہوتے ہیں۔
برلن میں اور جرمنی کے علاوہ دیگر یورپی ممالک میں اس وقت موسم سرما کا اختتام اور بہار کا اغاز ہے ان دنوں یہاں دن اور رات کی طوالت تقریبا برابر ہوتی ہے اور اس وجہ سے روزے کے اوقات تقریبا 13 گھنٹے کے ہیں۔ موسم سرد ہونے کی وجہ سے روزے کا احساس بالکل نہیں ہوتا۔ جب کہ موسم گرما میں طویل دورانیہ کے روز ہوتے ہیں چونکہ دن بہت لمبا اور ہاتھ بہت مختصر ہوتی ہے۔ -

یہ ہے شنگھائی،ہر دن ایک نئی جستجو،ایک نئی ا یجاد’…ارم زہرا
سفر ہمیشہ اپنے اندر کوئی نہ کوئی راز رکھتا ہے۔ کبھی یہ ہمیں ماضی کی طرف لے جاتا ہے، کبھی مستقبل کی جھلک دکھاتا ہے، اور کبھی حال کو نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ فروری کی ایک یخ بستہ صبح تھی، جب میں وینزو ساوتھ ریلوے اسٹیشن پر کھڑی تھی، اور میری نظریں پلیٹ فارم پر دوڑتی ہوئی ان تیز رفتار ٹرینوں کو دیکھ رہی تھیں، جو لمحوں میں سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر لیتی ہیں۔ میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑی کافی کا گھونٹ لیا اور سوچا، کیا ترقی صرف عمارتوں اور فیکٹریوں سے ہوتی ہے، یا اس کا تعلق وقت کو مات دینے سے بھی ہے؟ چین نے شاید وقت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا
میری ٹرین آ چکی تھی—شنگھائی جانے والی *Gaotie*، جسے دنیا بلٹ ٹرین کہتی ہے۔ میں اپنی سیٹ پر بیٹھی تو سامنے اسکرین پر رفتار کا میٹر چلنے لگا—240 کلومیٹر فی گھنٹہ، 260، اور پھر 300! کھڑکی سے باہر کے مناظر دھندلے ہونے لگے، جیسے میں وقت کے دھارے میں بہتی جا رہی ہوں۔
میرے برابر ایک چینی لڑکی بیٹھی تھی، جو اپنے فون پر QR کوڈ اسکین کر کے کھانے کا آرڈر دے رہی تھی۔ چند لمحوں بعد ایک روبوٹک سرور آیا اور اس نے نہایت خاموشی سے اس کے سامنے کھانے کا ڈبہ رکھ دیا۔ میں نے مسکرا کر لڑکی کی طرف دیکھا، اور وہ بھی ہنس دی , یہاں سب کچھ بہت تیز ہے، شاید زندگی بھی!”میں نے دل میں سوچا
دو گھنٹے بعد جب میں شنگھائی کے ہونگ چیاؤ اسٹیشن پر اتری، تو سب سے پہلی چیز جو میں نے محسوس کی، وہ تھی سیکیورٹی۔ پورا شہر ایک غیر مرئی جال میں لپٹا ہوا تھا—CCTV کیمرے، چہرہ شناخت کرنے والے سینسرز، اور ہر جگہ موجود پولیس اہلکار
یہاں ہر شخص کا ڈیٹا محفوظ تھا، ہر گاڑی کا نمبر خودکار سسٹم سے جڑا ہوا تھا، اور اگر کسی نے ٹریفک قوانین توڑے، تو اگلے لمحے اس کا چالان اس کے فون پر آ جاتا تھا۔ یہ میں نے بارہا مختلف سڑکوں پر دیکھا کہ ایک بڑی اسکرین پر کچھ لوگوں کی تصویریں آ رہی ہوتیں ، اور نیچے ان کے جرمانے لکھے ہوتے —یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بغیر اجازت سڑک عبور کی تھی!
میں نے میٹرو پکڑی اور شنگھائی کی لوجیازوئی کی طرف روانہ ہو گئی۔ چین کا میٹرو سسٹم شاید دنیا کا سب سے جدید نظام ہے۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی، چہرہ شناخت کرنے والا سسٹم ایک سیکنڈ میں مجھے اسکین کر چکا تھا اور دروازے میرے لیے کھل گئے۔
میٹرو کا فرش اتنا صاف تھا کہ اس پر عکس نظر آتا تھا۔ دیواروں پر ” ہولوگرام اشتہارات ” چل رہے تھے، اور میرے برابر بیٹھے لوگ اپنے فون سے آرٹیکل نہیں، بلکہ ورچوئل رئیلٹی میں خبریں دیکھ رہے تھے۔ یہ سب کسی فلم کا منظر لگتا تھا، مگر یہ حقیقت تھی۔
میں نے یہاں ہوٹل میں قیام کیا سفر طویل تھا اور پہنچتے پہنچتے رات ہوگئ تھی
یہ رات بھی باقی راتوں کی طرح تھی، مگر اس میں کچھ خاص تھا۔ شاید چاند کی چمک زیادہ تھی، یا شاید میرے دل میں کوئی ایسی روشنی جاگ اٹھی تھی جس نے مجھے بے چین کر رکھا تھا۔ میں نے بیسویں منزل کی کھڑکی سے باہر جھانکا، نیچے شہر روشنیوں میں نہایا ہوا تھا—سڑکوں پر چلتی کاروں کے ہیڈلائٹس کسی خواب کی کرنیں لگ رہی تھیں، اور دریائے ہوانگپو کے کنارے کھڑی عمارتیں رات کے اندھیرے میں بھی جگمگا رہی تھیں۔
یہ شنگھائی تھا۔ خوابوں کا شہر، روشنیوں کا جادوگر، اور جدیدیت کا ایسا نمونہ جو ہر دیکھنے والے کو حیران کر دیتا ہے۔ میں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ شہر بھی انسانوں کی طرح ہوتے ہیں—کچھ ماضی میں کھوئے رہتے ہیں، کچھ حال میں جیتے ہیں، اور کچھ مستقبل کی روشنی میں نہائے ہوتے ہیں۔ شنگھائی یقیناً ان شہروں میں سے تھا جو ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ساتھ تھامے کھڑا تھا۔
میں نے جیکٹ پہنی اور نانجنگ روڈ کی جانب نکل پڑی۔ یہ سڑک شنگھائی کا دل تھی، جہاں ہر لمحہ ہزاروں لوگ چلتے پھرتے نظر آتے۔ بڑے بڑے شاپنگ مالز کی کھڑکیوں میں سجے برانڈز کی چمک، فٹ پاتھ پر کھڑے آرٹسٹ جو اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے، اور ہر چہرے پر ایک انوکھی چمک، جیسے سب نے اپنی زندگی میں کچھ بڑا حاصل کر لیا ہو۔
ایک طرف ایک بوڑھا موسیقار گٹار بجا رہا تھا، اور اس کے سامنے ایک چھوٹا سا باکس رکھا تھا جس پر QR کوڈ چسپاں تھا۔ میں ہنسی، کہ یہاں تو بھکاری بھی ڈیجیٹل ہو گئے ہیں! چین کی یہی تو خاص بات تھی—یہاں سب کچھ بدل چکا تھا، سب کچھ آگے بڑھ چکا تھا۔
نانجنگ روڈ سے چلتے چلتے میں دی بُنڈ پہنچ گئی، جہاں ہوانگپو دریا خاموشی سے اپنی روانی میں مگن تھا۔ دریا کے پار، وہی عمارتیں جنہیں میں ہمیشہ تصویروں میں دیکھا کرتی تھی—شنگھائی ٹاور، جین ماؤ ٹاور، اور اورینٹل پرل ٹاور، جو بادلوں سے باتیں کر رہے تھے۔ ایک لمحے کو لگا کہ میں کسی سائنس فکشن فلم کے منظر میں ہوں، جہاں زمین پر موجود سب کچھ مستقبل کے سانچے میں ڈھل چکا ہے۔
دی بُنڈ پر چہل قدمی کے بعد بھوک نے شدت اختیار کر لی، تو میں نے ایک حلال ریستوران کا رخ کیا، جس کی کھڑکیوں سے پورے شہر کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی گرم، خوشبو دار کھانوں کی لپٹ نے میرا استقبال کیا۔ میز پر بیٹھتے ہی سامنے پُودونگ (Pudong) کے چمکتے ٹاورز نظر آ رہے تھے، جیسے وہ بھی یہاں کھانے میں شریک ہوں۔
“یہاں کی اسپیشل ڈِش کیا ہے؟” میں نے ویٹر سے پوچھا، جو نہایت مؤدب انداز میں مسکرا رہا تھا۔
“شنگھائی ڈَمپلنگ اور پیپریکا فش بہت مشہور ہیں،” اس نے جواب دیا۔
میں نے آرڈر دے دیا اور کھڑکی سے باہر روشنیوں کا نظارہ کرنے لگی۔ دریا کے کنارے چلتی کشتیاں، روشنیوں میں جگمگاتے پل، اور نیون سائنز سے سجے ٹاورز—یہ شہر رات میں جیسے ایک الگ روپ دھار لیتا تھا۔
کھانے کی مہک نے خیالات کا تسلسل توڑا۔ سامنے شنگھائی کے مشہور شیاو لونگ باؤ (Xiaolongbao) ڈمپلنگ رکھے تھے—یہ پتلی سی تہہ میں لپٹی ہوئی بھرپور ڈِش چینی کھانوں کا ایک شاہکار تھی۔ میں نے پہلی ڈمپلنگ چمچ پر رکھی، ہلکے سے کانٹے سے اسے چھیدا ، اور اندر سے نکلتی گرم یخنی نے جیسے میری سرد شام کو اور بھی خوشگوار بنا دیا۔
اس کے بعد پیپریکا فش آئی، جو سرخ مرچوں اور مصالحوں میں ڈوبی ہوئ تھی—ذائقہ تیز، مگر اتنا مزے دار کہ ہر نوالہ زبان پر ایک نیا تاثر چھوڑ رہا تھا۔ ساتھ میں چاول اور سبزیوں کی ہلکی تلی ہوئی ڈش، اور گرین ٹی کا ایک کپ… میں نے سوچا، “یہ صرف کھانے کا تجربہ نہیں، یہ شنگھائی کے رنگوں اور ذائقوں میں ڈوبنے کا ایک موقع ہے۔”
ریستوران میں چینی، یورپی، اور مشرق وسطیٰ کے لوگ سبھی اپنی اپنی زبان میں گفتگو کر رہے تھے، مگر ایک چیز سب میں مشترک تھی—کھانے کا لطف اور دی بُنڈ کے نظارے کی مسحور کن کشش۔
بلا آخر، میں نے چائے کی آخری چسکی لی، اور کھڑکی سے باہر دیکھا—شنگھائی کے اس دلکش منظر کو جیسے آنکھوں میں قید کر لینا چاہتی تھی۔ یہ شہر صرف ترقی اور تجارت کا نہیں، بلکہ ذائقوں، روایات اور زندگی کے حسین لمحات کو سمیٹنے کی جگہ بھی ہے۔
یہ ڈھلتی شام کا وقت تھا میں دی بُنڈ کے کنارے جا کھڑی ہوئی، جہاں دریا کے دوسری طرف روشنیوں کا میلہ لگا تھا۔ چمکتی ہوئی اسکائی لائن، اور ان عمارتوں کا عکس جو پانی میں لرزتے ہوئے خوابوں کی مانند لگ رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ یہ وہی شہر ہے جو کبھی ماہی گیروں کی بستی تھا، جو کبھی نوآبادیاتی طاقتوں کے زیرِ سایہ رہا، اور آج؟ آج دنیا کا معاشی حب ہے، جہاں اسٹاک مارکیٹ کی دھڑکنیں پوری دنیا کے کاروباری مراکز پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
یہاں کھڑے ہو کر ایک لمحے کو لگا جیسے میں وقت کے دھارے میں بہہ رہی ہوں—ایک طرف تاریخ کے قدیم گودام اور یورپی طرز کے بینک، اور دوسری طرف شنگھائی ٹاور، جو بادلوں سے باتیں کر رہا تھا۔ یہ ماضی اور مستقبل کا وہ سنگم تھا، جہاں وقت رُک کر خود اپنی تفسیر کو دیکھتا ہوگا.
یہ شہر محض روشنیوں کا کھیل نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا مرکز تھا جہاں دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں اپنے فیصلے کر رہی تھیں۔ یہاں کی اسٹاک مارکیٹ کا ایک اتار چڑھاؤ دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے رجحانات بدل سکتا تھا، یہاں کی فری ٹریڈ زون پالیسی نے دنیا کے بڑے تاجروں کو اپنی طرف کھینچ رکھا تھا۔
یہاں میرے قیام کا تیسرا دن تھا . جب میں نے لوجیازوئی کے مالیاتی مرکز کا رخ کیا، جہاں فلک بوس عمارتوں کے درمیان سجیلی گاڑیاں چل رہی تھیں اور ہر طرف کاروباری افراد تیزی سے آ جا رہے تھے۔ یہاں ہر کوئی وقت سے ایک قدم آگے چلنے کی کوشش میں تھا، کیونکہ اگر آپ ایک لمحے کے لیے بھی رکے، تو دنیا آپ کو پیچھے چھوڑ دے گی
جدیدیت کی اس چکاچوند کے بعد میں نے رخ کیا یو یوان گارڈن کا، جو شنگھائی کے دل میں صدیوں پرانی چین کی ثقافت اور خوبصورتی کا امین ہے۔ جیسے ہی میں باغ کے اندر داخل ہوئی، دنیا ایک دم سست روی میں آ گئی۔ پرانے طرز کے محرابی دروازے، ننھے تالابوں میں تیرتی سنہری مچھلیاں، پیچیدہ انداز میں تراشے گئے درخت اور پتھریلی روشیں—سب کچھ جیسے وقت کی قید سے آزاد تھا۔ میں نے وہاں کھڑے ہو کر آنکھیں بند کیں تو دور کہیں سے گزرے وقت کی سرگوشیاں سنائی دیں۔ شاید یہی وہ سکون ہے جو ترقی یافتہ دنیا کی تیز رفتاری میں کہیں کھو جاتا ہے۔
چین، جو آج دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے، اس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ اور اگر کوئی اس تاریخ کو قریب سے دیکھنا چاہے، تو شنگھائی میوزیم سے بہتر جگہ کوئی نہیں۔ یہاں چینی خطاطی، قدیم سکے، روایتی لباس، اور شاہی عہد کے نوادرات ہر دور کی کہانی سنا رہے تھے۔ ایک لمحے کو میں بھول گئی کہ میں ایک جدید ترین شہر میں کھڑی ہوں، کیونکہ یہ جگہ مجھے کسی قدیم چینی سلطنت میں لے جا چکی تھی، جہاں بادشاہی تخت، قدیم ہتھیار، اور خوبصورت مٹی کے برتن ایک شاندار تہذیب کی یاد دلاتے ہیں
شنگھائی کی گلیوں میں گھومتے ہوئے، اچانک میں ایک ایسی جگہ آ گئی جو یکدم یورپ کی کسی بستی جیسی لگی—فرانسیسی کنسیشن۔ درختوں سے ڈھکی پرسکون گلیاں، پتھریلی سڑکیں، اور پرانی یورپی طرز کی عمارتیں… سب کچھ مجھے چین سے کہیں دور کسی اور زمانے میں لے جا رہا تھا۔ یہ وہی علاقہ تھا جہاں کبھی فرانسیسی تاجروں اور باشندوں نے اپنی دنیا بسائی تھی، اور آج بھی اس کا اثر یہاں کی عمارتوں، کیفے اور گلیوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے
۔شنگھائی کی گلیوں میں قدم رکھتے ہی احساس ہوتا ہے کہ آپ تنہا نہیں ہیں۔ آپ کے ارد گرد بسنے والے لاکھوں لوگ ہی نہیں، بلکہ بے شمار کیمرے بھی ہر لمحہ آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ چوراہوں، میٹرو اسٹیشنز، بازاروں اور پارکوں میں نصب یہ سمارٹ کیمرے چہروں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور صرف چند سیکنڈ میں کسی بھی شخص کی شناخت ممکن بنا دیتے ہیں۔
شنگھائی، جو کاروبار اور ٹیکنالوجی کا مرکز ہے، وہیں تعلیم اور تحقیق میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ فُدان یونیورسٹی (Fudan University)، شنگھائی جیاوٹونگ یونیورسٹی (Shanghai Jiao Tong University)، اور ٹونگجی یونیورسٹی (Tongji University) جیسے عالمی معیار کے تعلیمی ادارے یہاں موجود ہیں، جہاں نہ صرف چین بلکہ دنیا بھر کے طلبہ جدید تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
میں نے فُدان یونیورسٹی کے وسیع و عریض کیمپس میں قدم رکھا، تو لگا جیسے میں ایک الگ ہی دنیا میں آ گئ ہوں. وسیع و عریض کیمپس، بلند و بالا جدید عمارتیں، سبزہ زاروں میں کھلے جامنی پھول، اور راستوں پر چلتے، گفتگو کرتے، کتابیں ہاتھ میں لیے نوجوان… یہ کسی عام تعلیمی ادارے کا منظر نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا مرکز تھا جہاں مستقبل کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں۔
یہ دورہ میرے لیے خاص تھا، کیونکہ میرے شوہر نے ہی اس وزٹ کا اہتمام کیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ میں ہمیشہ سے چین کی تعلیمی ترقی کو قریب سے دیکھنا چاہتی تھی، اور آج جب میں یہاں تھی، تو دل خوشی اور شکر گزاری کے جذبات سے بھرا ہوا تھا۔
میں نے آہستہ آہستہ قدم اندر رکھے تو ایک عجیب سی سنجیدگی اور جستجو کا ماحول محسوس ہوا۔ ہر طرف طلبہ مختلف گروپوں میں بیٹھے کسی نہ کسی تحقیقی موضوع پر گفتگو میں مصروف تھے۔ کچھ لیبارٹریوں کے اندر کمپیوٹر اسکرینوں پر نظریں جمائے ہوئے تھے، تو کچھ سفید کوٹ پہنے، تجربات کی دنیا میں کھوئے ہوئے تھے۔ شنگھائی جیاوٹونگ یونیورسٹی اور ٹونگجی یونیورسٹی بھی ایسے ہی علمی مراکز ہیں، جہاں تحقیق محض کتابوں میں دفن نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔
میں ایک کیفے کے باہر لکڑی کی بینچ پر بیٹھ گئی اور کیمپس میں چلتے پھرتے چہروں کو دیکھنے لگی۔ ایک لڑکی جلدی میں اپنی کتابیں سمیٹ کر بھاگ رہی تھی، شاید اگلی کلاس کے لیے دیر ہو رہی تھی۔ ایک طرف دو نوجوان بحث کر رہے تھے، ان کے ہاتھوں میں روبوٹکس کے پرزے تھے، اور ان کے چہروں پر وہی شدت تھی جو کسی نئی ایجاد کے دہانے پر کھڑے لوگوں میں ہوتی ہے۔
میں نے یونیورسٹی کے ایک پروفیسر سے بات کی، جو مصنوعی ذہانت پر تحقیق کر رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں چمک تھی جب وہ بتا رہے تھے کہ “یہاں علم کو صرف الفاظ میں نہیں، عملی شکل میں ڈھالا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جو کچھ یہاں سیکھایا جائے، وہ دنیا کے لیے فائدہ مند ہو۔”
میرے قریب بیٹھے کچھ غیر ملکی طلبہ بھی اپنی کتابوں میں مگن تھے۔ میں نے ان میں سے ایک پاکستانی طالب علم سے پوچھا، “آپ یہاں کی تعلیم کو کیسا محسوس کرتے ہیں؟”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا،
“یہاں ہر روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے، اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کا تعلیمی ماحول تخلیقی ہے، جتنا آپ تحقیق میں آگے جائیں گے، اتنے ہی دروازے کھلتے جائیں گے۔
شنگھائی کی یہ شام دھیرے دھیرے رات میں ڈھل رہی تھی، اور یونیورسٹی کے کلاس رومز کی کھڑکیوں سے آتی روشنی مجھے کہہ رہی تھی کہ یہ شہر، یہ درسگاہیں، یہ نوجوان—سب ایک ایسے کل کی تعمیر میں مصروف ہیں جو ماضی کے خوابوں سے کہیں آگے ہوگا۔ میں نے آخری نظر کیمپس پر ڈالی، ایک گہری سانس لی۔ چین نے سائنسی ترقی کو اپنی معیشت کے ساتھ جوڑ دیا ہے، اور یہی اس کی کامیابی کا راز ہے۔
چین میں ہزاروں پاکستانی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور شنگھائی ان کے لیے ایک بڑا تعلیمی مرکز بن چکا ہے۔ میں نے کچھ پاکستانی طلبہ سے ملاقات کی، جو یہاں انجینئرنگ، میڈیکل، اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ پاکستانی طلبہ یہاں صرف سیکھنے نہیں آئے، بلکہ وہ نئی چیزیں تخلیق کر رہے ہیں، جو ایک دن ہمارے ملک کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔
چین، خاص طور پر شنگھائی، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ یہاں ایسی فیکٹریاں موجود ہیں جہاں زیادہ تر کام انسانوں کے بجائے روبوٹس کرتے ہیں۔ اسپتالوں میں ایسے روبوٹ موجود ہیں جو مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اور ریستوران میں ایسے خودکار ویٹر ہیں جو کھانا سرو کرتے ہیں۔
میں نے ایک روبوٹکس لیب کا دورہ کیا، جہاں طالب علم ایسے روبوٹس پر تحقیق کر رہے تھے جو نہ صرف صنعتی کاموں میں مدد دے سکیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کر سکیں۔ مجھے یاد آیا، جب میں نے ایک کیفے میں اپنا آرڈر دیا تھا، تو میرا کافی کا کپ ایک روبوٹ نے لا کر دیا تھا—یہ سب ایک خواب لگتا تھا، مگر شنگھائی میں یہ حقیقت تھی!
میں نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں بلند و بالا عمارتیں کھڑی تھیں، مگر ان عمارتوں سے بھی اونچے خواب ان تعلیمی اداروں میں پل رہے تھے۔ شنگھائی میں علم اور ترقی کا یہ سفر ختم نہیں ہوتا، بلکہ ہر دن ایک نئی جستجو، ایک نئی ایجاد، اور ایک نئے خواب کی طرف لے جاتا ہے۔
ارم زہرا چین -

آئی ایم ایف سے پالیسی سطح کے مذاکرات آج شروع ہوں گے
اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز)سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کے لیت پاکستان اور آئی ایم ایف کےدرمیان پالیسی سطح کےمذاکرات آج شروع ہوں گے اور چودہ مارچ تک جاری رہیں گے ۔وزارت خزانہ حکام کےمطابق مذاکرات میں قرض پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا،آئی ایم ایف وفد سے نئے مالی سال کی بجٹ تجاویز پر بھی مشاورت ہو گی،ٹیکس اور توانائی کےشعبوں میں اصلاحات کا جائزہ لیا جائےگا،ذرائع کےمطابق آئی ایم ایف نے بجلی بلوں پر دو روپے اسی پیسے فی یونٹ سرچارج، پیٹرول اور ڈیزل پرکاربن ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے،پیٹرولیم لیوی ساٹھ روپے سے بڑھا کر ستر روپے لیٹر کرنے کا متبادل آپشن بھی موجود ہے۔کوئلےسےچلنے والے بجلی گھروں اور بوائلرز پرکاربن لیوی عائد کی جا سکتی ہے۔
