Blog

  • تنخواہ سمیت ہرچیز پر ٹیکس؛ کیا عام شہری پر مزید بوجھ  ڈالا جا رہا ہے؟

    تنخواہ سمیت ہرچیز پر ٹیکس؛ کیا عام شہری پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے؟

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )نئے وفاقی بجٹ سے قبل ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس آخر کون دیتا ہے اور ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے والے طاقتور طبقات پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا۔ملک بھر میں لاکھوں تنخواہ دار ملازمین اپنی ماہانہ آمدن سے براہِ راست انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں روزمرہ زندگی میں بھی مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پیٹرول خریدنے سے لے کر موبائل فون استعمال کرنے اور اشیائے خورونوش کی خریداری تک، تقریباً ہر مرحلے پر عوام سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔اسلام آباد کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں تدریس سے وابستہ خاتون کا کہنا ہے کہ ماہانہ تنخواہ سے ٹیکس کٹنے کے بعد بھی وہ پیٹرول، موبائل اور دیگر ضروری اشیا پر الگ سے ٹیکس ادا کرتی ہیں، جس سے محدود آمدن مزید سکڑ جاتی ہے۔اسی طرح آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد بھی پیٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات کو اپنی مالی مشکلات میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہیں۔حکومت یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کا بجٹ تیار کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام اور مالی خسارے میں کمی کے اہداف کے باعث عوام میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ اضافی محصولات کا بوجھ ایک بار پھر انہی طبقات پر نہ ڈال دیا جائے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم آمدن اور زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کئی معاملات میں یکساں شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری اور کم آمدن والے طبقے کو پہنچتا ہے۔مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1200 ارب روپے سے زائد رقم حاصل کی۔ چند برس قبل یہ آمدن اس کے مقابلے میں بہت کم تھی، تاہم لیوی کی شرح میں مسلسل اضافے کے باعث وصولیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ناقدین کے مطابق اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور مجموعی مہنگائی پر پڑتا ہے۔معاشی ماہرین کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا تقریباً ہر شہری کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس ادا کر رہا ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ مساوی طور پر تقسیم نہیں۔ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ دستاویزی ہونے کی وجہ سے آسان ہدف بن جاتا ہے جبکہ بااثر اور بڑے آمدنی والے بعض شعبے اب بھی مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہو سکے۔ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے 605 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ادا کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال بھی اس شعبے کی جانب سے دیے گئے ٹیکس کی مقدار کئی بڑے کاروباری شعبوں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے زیادہ رہی ہے۔دوسری جانب پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والا زرعی شعبہ طویل عرصے سے بحث کا موضوع ہے۔اگرچہ ملک کی بڑی آبادی اور معیشت کا قابلِ ذکر حصہ زراعت سے وابستہ ہے، تاہم اس شعبے سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن انتہائی محدود بتائی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق بڑے زمینداروں اور بعض دیگر بااثر طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر محصولات کے نظام میں توازن پیدا کرنا مشکل ہوگا۔اسی طرح ہول سیل اور ریٹیل کاروبار کے بڑے حصے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مکمل طور پر دستاویزی نظام میں شامل نہیں۔ حکومت متعدد بار تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کر چکی ہے، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ماہرین کے مطابق ملک میں ہزاروں ایسے افراد بھی موجود ہیں جن کے بینک اکاؤنٹس میں بڑی رقوم موجود ہیں لیکن ان کی آمدن ٹیکس ریکارڈ میں ظاہر نہیں ہوتی۔ اگر جدید ڈیجیٹل نظام، مؤثر نگرانی اور آسان ٹیکس پالیسی اختیار کی جائے تو حکومت نئے ٹیکس لگائے بغیر بھی محصولات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔دریں اثنا کاروباری اور صنعتی حلقے بھی موجودہ ٹیکس ڈھانچے پر تحفظات رکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بلند ٹیکس شرح، توانائی کی بڑھتی لاگت اور دیگر مالی بوجھ کے باعث سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ معیشت کو وسعت دینے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس کا دائرہ وسیع کیا جائے، نہ کہ بار بار انہی لوگوں پر بوجھ بڑھایا جائے جو پہلے سے نظام میں موجود ہیں۔بجٹ سے قبل عام شہریوں، تنخواہ دار ملازمین اور کاروباری حلقوں کی ایک ہی بڑی توقع ہے کہ حکومت محصولات بڑھانے کے لیے نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسعت دے اور ایسے شعبوں کو بھی دائرۂ کار میں لائے جو برسوں سے مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کراچی میں موسم شدید گرم اور مرطوب، درجہ حرارت 40 ڈگری  چھونے کا امکان

    کراچی میں موسم شدید گرم اور مرطوب، درجہ حرارت 40 ڈگری چھونے کا امکان

    کراچی:(ویب ڈیسک )شہر قائد میں آج بھی موسم شدید گرم اور مرطوب ہے جبکہ درجہ حرارت بھی 40 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی میں آج موسم شدید گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ مطلع جزوی ابر آلود رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ شہر میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے۔اعداد و شمار کے مطابق آج صبح کم سے کم درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ روز شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں مختلف سمتوں سے 20 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ آج صبح ہوا میں نمی کا تناسب 79 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہوا میں نمی کا تناسب 55 سے 85 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نمی کا تناسب زیادہ ہونے کے باعث درجہ حرارت معمول سے 7 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ محسوس ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • پاکستان کی افغانستان میں زبردست کارروائی،4 اہم اہداف  تباہ، بھارتی سرپرستی میں سرگرم26خوارج ہلاک

    پاکستان کی افغانستان میں زبردست کارروائی،4 اہم اہداف تباہ، بھارتی سرپرستی میں سرگرم26خوارج ہلاک

    پشاور(ویب ڈیسک ) پاکستان نے پاک افغان سرحدی علاقوں میں خوارج کے ٹھکانوں پر مؤثر کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں 26 بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج ہلاک ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں، جن میں 9 جون کو موسیٰ درہ میں وفاقی کانسٹیبلری کی چوکی پر حملہ کیا گیا، 2 جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب بارودی مواد کے ذریعے خودکش حملہ اور 9 مئی کو بنوں پولیس اسٹیشن پر حملہ شامل ہیں۔پاک افغان سرحدی علاقوں میں فتنہ الخوارج کے سرغناؤں اور منصوبہ سازوں کے ٹھکانوں کے خلاف انتہائی مؤثر اور ہدفی کارروائیاں کی گئیں، مستند انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر فتنہ الخوارج کے خفیہ ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 26 بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج ہلاک ہوگئے۔کارروائیوں کے دوران چار اہم اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جن میں ایک تربیتی مرکز، ایک خفیہ پناہ گاہ، اسلحہ و گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ اور فتنہ الخوارج کے کمانڈروں علیم خان خوشالی اور اختر محمد جانی خیل کے مراکز شامل تھے۔کارروائی انتہائی درستگی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دی گئی، صرف دہشت گرد عناصر اور ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا ہے، تاہم اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ’’عزمِ استحکام‘‘ وژن کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی کی مہم بلا تعطل جاری رکھی جائے گی۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • انمول پنکی کے خواتین سمیت 7 قریبی ساتھی کون ہیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی

    انمول پنکی کے خواتین سمیت 7 قریبی ساتھی کون ہیں؟ رپورٹ سامنے آ گئی

    کراچی(ویب ڈیسک )منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خواتین سمیت مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے۔سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کے مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے نئی رپورٹ جمع کرا دی، جس میں ملزمہ کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔پولیس رپورٹ کے مطابق انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد اس کے 3 سہولت کاروں کو بھی حراست میں لیا گیا، جن میں ذیشان، سہیل اور سمیر شامل ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انمول عرف پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھی تاحال مفرور ہیں اور پولیس نے انہیں سہولت کار قرار دیتے ہوئے مفروروں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔پولیس کے مطابق مفرور ملزمان میں فیاض، عاقب، حمزہ، اعزاز، زید اور 2 خواتین صابرہ اور اینا شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • مریم نواز کا خواتین کیلیے روزگار کا بڑا منصوبہ؛ وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی شامل

    مریم نواز کا خواتین کیلیے روزگار کا بڑا منصوبہ؛ وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی شامل

    لاہور:(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے انیشی ایٹو ’شی تھریڈز‘کے لیے 310 ملین روپے کا بجٹ مختص کر دیا گیا ہے۔یہ منصوبہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں دیہی خواتین کی معاشی خودمختاری اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے شروع کیا گیا ایک منفرد پروگرام ہے۔شی تھریڈز پروگرام کے تحت صوبہ بھر کے دیہات سے تعلق رکھنے والی 18 سے 45 سال عمر کی مڈل پاس خواتین حصہ لے سکتی ہیں۔ پروگرام میں شامل خواتین کو تربیت کے دوران ماہانہ 15 ہزار روپے وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی فراہم کیا جائے گا۔
    اس منصوبے کے تحت دیہی خواتین کے لیے ٹیکسٹائل سیکٹر کے 10 مختلف تربیتی کورسز متعارف کرائے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں یہ ٹیکسٹائل ٹریننگ کورسز کامیابی سے جاری ہیں۔گزشتہ 2 برسوں کے دوران ڈھائی ہزار خواتین ان تربیتی کورسز کو مکمل کر چکی ہیں، جن میں سے 773 خواتین کو تربیت مکمل کرتے ہی ملازمت بھی مل گئی۔حکام کے مطابق اس وقت شی تھریڈز پروگرام کے تحت 1150 خواتین کی ٹیکسٹائل ٹریننگ جاری ہے جبکہ آئندہ سال مزید 1350 خواتین کو تربیت فراہم کی جائے گی۔پروگرام میں انڈسٹریل اسٹیچنگ مشین آپریٹر، فیبرک کوالٹی انسپکٹر اور فیبرک کٹنگ ایکسپرٹ کے کورسز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اپیریل پلاننگ اینڈ مرچنڈائزنگ، اپیریل سپروائزر، پیٹرن میکنگ اینڈ کٹنگ، پیٹرن ڈرافٹنگ اینڈ گریڈنگ، کوالٹی کنٹرول، گارمنٹ فنشنگ، پیکر اور گارمنٹ ویکسنگ کے تربیتی کورسز بھی خواتین کے لیے دستیاب ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہر خاتون کو مالی طور پر خودمختار اور بااختیار بنانا حکومت کا عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنرمند عورت ایک قابل قدر قومی اثاثہ ثابت ہوگی ۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہنرمند خواتین کے لیے روزگار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • شہریوں کے لیے خوش خبری؛ حکومت کا بڑی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ

    شہریوں کے لیے خوش خبری؛ حکومت کا بڑی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک )پاکستانی شہریوں کے لیے خوشی کی خبر ہے کہ حکومت نے ایک بڑی سہولت گھر کی دہلیز پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتِ پاکستان نے عوام کی سہولت اور دیرینہ مطالبے پر پاسپورٹ کو ان کی دہلیز پر پہنچانے کی نئی ڈیجیٹل سروس شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس اقدام کا مقصد شہریوں کو طویل قطاروں اور دفاتر کے چکروں سے نجات دلانا ہے تاکہ پاسپورٹ کا حصول آسان ہو سکے۔اجلاس کے دوران ڈور اسٹیپ پاسپورٹ ڈیلیوری سروس کے قیام کے لیے تمام تر ضروری ضابطہ کار اور نئی ایس او پیز (SOPs) کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام کے مکمل نفاذ کے بعد پاسپورٹ بنوانے کا عمل نہ صرف تیز ہوگا بلکہ شفافیت بھی یقینی بنے گی۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانیکا امکان

    قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانیکا امکان

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا جبکہ سالانہ بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔صدر پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 5 بجے طلب کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ کا اجلاس کل سہ پہر 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بجٹ جمعہ12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں مالی سال 2026.27 کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنانی کمانڈر ان چیف کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنانی کمانڈر ان چیف کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    راولپنڈی:(ویب ڈیسک ) فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لبنان کی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف جنرل روڈولف ہائیکل نے ملاقات کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جی ایچ کیو آمد پر لبنانی کمانڈر اِن چیف کو پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جس کے بعد جنرل روڈولف ہائیکل نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی صورتحال اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں شخصیات کی ملاقات میں پاکستان اور لبنان کی مسلح افواج کے درمیان پیشہ ورانہ روابط اور تربیتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے لبنان کے ساتھ دیرینہ اور خوشگوار تعلقات کی اہمیت پر زور دیا، پاکستان نے لبنانی مسلح افواج کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جنرل روڈولف ہائیکل نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور آپریشنل مہارت کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق بین الاقوامی امن مشنز میں پاکستان کی خدمات کو لبنان نے قابلِ قدر قرار دیا، پاکستان اور لبنان کی افواج نے فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا جب کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی سستی کردی گئی

    ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی سستی کردی گئی

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )ملک بھر کے صارفین کیلئے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی کردی گئی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ملک بھر کیلئے جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکڑک صارفین پر بھی ہوگا جب کہ اس فیصلے سے بجلی صارفین کو67 ارب17 کروڑ 30لاکھ روپےکاریلیف ملے گا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • سائیکو کہنے پر اداکارہ میرا برہم، فنکاروں کو عزت دینے کا مطالبہ

    سائیکو کہنے پر اداکارہ میرا برہم، فنکاروں کو عزت دینے کا مطالبہ

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ میرا نے سائیکو کہنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک شخص کی جانب سے اداکارہ میرا کا ان کی فلم ‘سائیکو’ سے متعلق انٹرویو کیا گیا۔انٹرویو لینے والے شخص نے کہا کہ آپ پہلے بھی سائیکو تھیں اور آپ نے فلم میں بھی سائیکو کا کردار ادا کیا اور اب تک سائیکو کے کردار سے باہر نہیں آ سکی ہیں، جس کے جواب میں اداکارہ نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ہمیں عزت نہیں دیں گے تو ہمیں ویسے بھی انڈیا میں بہت عزت ملتی ہے۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ نے مجھے سائیکو کہا اور یہ بھی کہا کہ میں اس سے پہلے بھی سائیکو تھی، ہمیں عزت نہیں ملی، میں اس کردار کا حصہ ہوں اور میرے لیے یہ مشکل ترین کردار تھا۔
    ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی تھی کہ اس کردار کے بعد مجھے اور ہدایتکار شان شاہد کو لوگ خراج تحسین پیش کریں گے، ہماری حوصلہ افزائی کریں گے، کیونکہ ہم نے پاکستان میں رہ کر سائیکو جیسی مشکل فلم بنائی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ڈپریشن والی فلم ہے، اس میں ہم نے آپ کو کچھ سکھانے کی کوشش کی ہے، میرے فلم کے کردار سے کچھ سیکھ سکتے ہیں تو سیکھ لیں۔ واضح رہے کہ جیو فلمز کے بینر تلے بننے والی فلم ‘سائیکو’ کو عیدالضحیٰ پر ریلیز کردیا گیا تھا، فلم کی کاسٹ میں سپراسٹار شان شاہد، سونیا حسین ، میرا، شبیر جان اور دیگر شامل ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے