اسلام آباد (ویب ڈیسک )ملک کے بیشتر علاقوں میں آج بھی موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف علاقے آج بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے جب کہ گزشتہ روز سب سے زیادہ درجہ حرارت سبّی میں 49 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔اسی طرح دادو، جیکب آباد 48، تربت ، موہنجو داڑو 47، سکھر ، نوابشاہ، ڈیرہ غازی خان46، ملتان، بہاولپور 45، لاہور 43، پشاور 42، اسلام آباد، مظفر آباد 40، کراچی اور کوئٹہ37 سمیت گلگت میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق شدید گرمی کی لہر 12 جون تک برقرار رہے گی اور سندھ کے اکثر اضلاع میں 12 جون تک درمیانی سے شدید گرمی پڑنےکا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی کے موسم کے حوالے سے پیشگوئی کی کہ 12 جون تک شہر میں بھی موسم شدید گرم اوردرجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، شہر میں آج درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تکریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے
Blog
-

ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم، سبی میں پارہ 49 ڈگری رہا
-

چین میں ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے روبوٹس اہلکار تعینات
بیجنگ(ویب ڈیسک) چین میں ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے روبوٹس کا استعمال شروع کردیا گیا۔ چینی میڈیا کے مطابق چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ کے شہر ہانگژو (Hangzhou) میں سیاحوں کی مدد اور ٹریفک کنٹرول کے لیے اسمارٹ ٹریفک روبوٹ تعینات کیے گئے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس روبوٹ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یقینی بناتا، گاڑیوں کو ہارن بجانے سے روکتا اور امتحان دینے والے طلبہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کرتا ہے ۔یہ روبوٹ اہلکار ٹریفک کنٹرول کرنے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے مقامی ٹریفک کے نظام کے ساتھ مربوط ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ روبوٹ اہلکار سائیکل سواروں کے اسٹاپ لائن عبور کرنے اورہیلمٹ نہ استعمال کرنے جیسی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

کتاب، کاپی اور قلم بھی مہنگے؟پاکستان واچ رپورٹ
وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات نے ملک کے تعلیمی حلقوں، والدین اور طلبہ میں ایک نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے International Monetary Fund کی منظوری کے بعد حکومت اسٹیشنری پر دی جانے والی سیلز ٹیکس رعایت ختم کرکے اسے 18 فیصد تک بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یکم جولائی 2026 سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل اور دیگر تعلیمی سامان واضح طور پر مہنگا ہو جائے گا۔
یہ تجویز بظاہر ایک تکنیکی مالیاتی فیصلہ معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات صرف اکانٹس یا ریونیو تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ براہِ راست ہر گھر، ہر طالب علم اور ہر تعلیمی ادارے تک پہنچیں گے۔
تعلیم پہلے ہی دبا و میں
پاکستان میں تعلیم پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار ہے۔ اسکولوں کی کم شرح، معیارِ تعلیم کی کمی، بڑھتی ہوئی فیسیں اور گھریلو آمدنی میں جمود نے تعلیمی نظام کو عام شہری کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے میں اگر بنیادی تعلیمی سامان ہی مہنگا ہو جائے تو یہ بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
ایک عام گھرانے کے لیے تعلیم صرف فیس تک محدود نہیں ہوتی۔ کتابیں، کاپیاں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات مل کر ایک بڑا ماہانہ خرچ بناتی ہیں۔ اسٹیشنری کی قیمت میں اضافہ اگرچہ بظاہر معمولی لگے، لیکن جب یہ اضافہ مسلسل اور ہر تعلیمی سیشن میں ہو تو مجموعی بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
متوسط اور غریب طبقے پر اثر
اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑے گا۔ بڑے شہروں میں رہنے والے خاندان ہوں یا دیہی علاقوں کے والدین، دونوں پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایسے میں جب ایک سے زیادہ بچے اسکول میں ہوں تو ہر بچے کی اسٹیشنری ایک لازمی اخراج ہے۔
اگر کاپی، رجسٹر اور دیگر سامان مہنگا ہوتا ہے تو بعض گھرانے ممکن ہے اخراجات کم کرنے کے لیے تعلیمی ضروریات میں کٹوتی کریں۔ اس کا نتیجہ براہِ راست بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور اسکول میں حاضری پر پڑ سکتا ہے۔ یوں ایک مالی فیصلہ تعلیمی ناہمواری کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
تعلیمی پالیسی میں تضاد
یہ ایک اہم سوال ہے کہ ایک طرف حکومت شرحِ خواندگی بڑھانے، بچوں کو اسکولوں میں لانے اور تعلیم کو فروغ دینے کے دعوے کرتی ہے، اور دوسری طرف تعلیمی ضروریات پر ٹیکس بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے۔
یہ ایک واضح پالیسی تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر تعلیم واقعی ترجیح ہے تو پھر اس سے جڑے بنیادی وسائل کو سستا یا کم از کم مستحکم رکھا جانا چاہیے۔ دنیا کے کئی ممالک میں تعلیمی سامان پر ٹیکس کم یا صفر رکھا جاتا ہے تاکہ تعلیم کو عام کیا جا سکے۔
اسکولوں اور اداروں پر اثرات
اسٹیشنری کی قیمتوں میں اضافہ صرف گھروں تک محدود نہیں رہے گا۔ اسکول، کالج، کوچنگ سینٹرز اور حتی کہ دفاتر بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اسکولوں کو امتحانی پرچوں، رجسٹرز اور دیگر انتظامی ضروریات کے لیے زیادہ بجٹ درکار ہوگا، جس کا بوجھ بالآخر فیسوں میں اضافے کی صورت میں والدین پر ہی پڑے گا۔
اسی طرح چھوٹے پرائیویٹ ادارے بھی اپنی لاگت بڑھنے پر مجبور ہوں گے۔ یوں یہ ایک ایسا سلسلہ بنے گا جو تعلیم کے پورے نظام میں مہنگائی کو پھیلا دے گا۔
مہنگائی اور معاشی دباو
پاکستان پہلے ہی مہنگائی کے ایک مسلسل دباو کا شکار ہے۔ اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہری کی قوتِ خرید کو کم کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں تعلیمی اخراجات میں اضافہ ایک اضافی جھٹکا ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بنیادی ضروریات مہنگی ہوتی ہیں تو لوگ سب سے پہلے غیر خوراکی اخراجات میں کمی کرتے ہیں، اور بعض اوقات تعلیم بھی اس فہرست میں آ جاتی ہے۔ یہ صورتحال طویل مدت میں انسانی وسائل کی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔
معاشی پالیسی کا دوسرا پہلو
حکومت کا مقف یہ ہو سکتا ہے کہ ٹیکس استثنا ختم کرکے محصولات بڑھانا ضروری ہے تاکہ مالی خسارے کو کم کیا جا سکے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ کہاں اور کس پر ڈالا جا رہا ہے۔
اگر ٹیکس پالیسی میں توازن نہ ہو تو اس کے سماجی اثرات معیشت کی بہتری سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ بہتر حکمت عملی یہ ہوگی کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، نہ کہ پہلے سے دبا کا شکار طبقات پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔
متبادل راستے
تعلیمی سامان پر ٹیکس بڑھانے کے بجائے حکومت کے پاس کئی متبادل راستے موجود ہیں۔ غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا، بڑے پیمانے پر آمدنی رکھنے والے شعبوں سے بہتر وصولی، اور ٹیکس چوری کے خاتمے جیسے اقدامات زیادہ مثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح تعلیمی شعبے کو سبسڈی دے کر نہ صرف معاشرتی بہتری حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ انسانی سرمائے میں بھی سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے، جو کسی بھی ملک کی طویل المدتی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
سماجی اثرات
تعلیم صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ ایک سماجی سرمایہ کاری ہے۔ اگر اس کی لاگت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ تعلیمی اخراجات میں اضافہ نہ صرف موجودہ طلبہ بلکہ مستقبل کے طلبہ کی تعداد پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
جب والدین مالی دبا کی وجہ سے بچوں کو اسکول سے نکالنے یا تعلیم محدود کرنے پر مجبور ہوں تو اس کے اثرات براہِ راست معاشرے میں خواندگی کی شرح اور انسانی ترقی کے اشاریوں پر پڑتے ہیں۔
اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس میں اضافہ بظاہر ایک مالیاتی اصلاح ہو سکتی ہے، لیکن عملی طور پر یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات وسیع اور دیرپا ہوں گے۔ تعلیم پہلے ہی مہنگی اور مشکل ہوتی جا رہی ہے، اور ایسے اقدامات اس خلا کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
بجٹ سازی کا اصل امتحان یہی ہے کہ ریاست اپنی آمدنی کے اہداف اور عوامی سہولت کے درمیان توازن قائم رکھے۔ اگر یہ توازن بگڑ گیا تو وقتی ریونیو میں اضافہ شاید حاصل ہو جائے، مگر اس کی قیمت معاشرے کو طویل مدت تک چکانی پڑے گی۔ See less -

بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجنے کا خطرہ، نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے لگی،پاکستان واچ رپورٹ
بھارت اس وقت بظاہر دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے اور عالمی طاقت بننے کے دعوے کر رہا ہے، لیکن دوسری جانب ملک کے اندر ایسے سماجی، سیاسی اور معاشی تضادات موجود ہیں جو مستقبل میں سنگین بحرانوں کو جنم دے سکتے ہیں۔ مودی سرکار گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کو ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی کے خواب دکھا رہی ہے، مگر زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی، تعلیمی نظام میں بدانتظامی، اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویے اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی ایسے عوامل ہیں جو بھارتی معاشرے میں بے چینی کو جنم دے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں بھارت کے نوجوانوں کی جانب سے سامنے آنے والی نئی سیاسی اور سماجی تحریکوں نے مودی حکومت کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نوجوانوں کے ایک گروہ نے نئی دہلی میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا بنیادی مقصد بے روزگاری، کرپشن اور نظامی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی تو یہ تحریک وسیع تر عوامی ردعمل کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
بھارت ایک کثیر النسلی، کثیر المذہبی اور کثیر الثقافتی ملک ہے۔ مختلف زبانیں، ثقافتیں، ذات پات کا نظام اور مذہبی تقسیم پہلے ہی بھارتی معاشرے میں موجود ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے ان اختلافات کو کم کرنے کے بجائے بعض مواقع پر انہیں مزید گہرا کیا ہے۔ ہندو قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ملک کے مختلف طبقات میں احساس محرومی کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات نوجوان نسل میں بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
بھارتی نوجوان اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ لاکھوں نوجوان سرکاری ملازمتوں کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، لیکن اکثر امتحانات میں تاخیر، انتظامی بے ضابطگیوں یا پیپر لیک جیسے اسکینڈلز کی وجہ سے ان کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ کئی ریاستوں میں امتحانی نظام پر سوالات اٹھ چکے ہیں اور طلبہ بارہا احتجاج بھی کر چکے ہیں۔
اسی پس منظر میں نوجوانوں کے مختلف گروہ خود کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ سیاسی نظام ان کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو کر متبادل پلیٹ فارمز کی تلاش میں ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی اس عمل کو تیز کیا ہے، جہاں نوجوان اپنے خیالات اور احتجاجی پیغامات تیزی سے پھیلا سکتے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوانوں کی بعض نئی تحریکیں جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں ابھرنے والی جین زی سیاسی سرگرمیوں سے بھی متاثر ہیں۔ نیپال، بنگلادیش اور دیگر ممالک میں نوجوانوں کی جانب سے روایتی سیاست کو چیلنج کرنے کے رجحانات دیکھے گئے ہیں، اور اب اسی نوعیت کی سوچ بھارت میں بھی فروغ پا رہی ہے۔
تحریک کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے نظام میں اصلاحات کے لیے ہے۔ ان کے مطابق روزگار کی فراہمی، شفاف امتحانی نظام، کرپشن کے خاتمے اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ان کے بنیادی مطالبات ہیں۔ تاہم حکومتی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اگر ایسی تحریکیں وسیع پیمانے پر مقبول ہو گئیں تو وہ سیاسی استحکام کے لیے چیلنج بن سکتی ہیں۔
بھارت میں بے روزگاری کا مسئلہ خاص طور پر نوجوان طبقے کو متاثر کر رہا ہے۔ ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جسے اکثر “ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ماہرین اقتصادیات خبردار کرتے ہیں کہ اگر اتنی بڑی نوجوان آبادی کو مناسب تعلیم اور روزگار فراہم نہ کیا گیا تو یہی طاقت ایک سماجی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
کرپشن اور سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ محنت اور قابلیت کے باوجود انہیں وہ مواقع نہیں ملتے جن کے وہ حق دار ہیں۔ اس احساس محرومی نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف تنقیدی رویوں کو تقویت دی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مودی حکومت کے لیے اصل چیلنج اپوزیشن جماعتیں نہیں بلکہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی ہو سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی ملک میں نوجوان طبقہ بڑے پیمانے پر موجودہ نظام سے مایوس ہو جائے تو سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں نوجوانوں کی تحریکوں نے حکومتوں کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔
بھارت میں بھی یہی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیمی مسائل میں کمی نہ آئی تو نوجوانوں کے احتجاج میں شدت آ سکتی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی تحریک کو محدود رکھنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو چکا ہے، کیونکہ معلومات اور پیغامات چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتے ہیں۔
مودی سرکار کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنی توجہ سیاسی نعروں اور انتخابی مہمات پر زیادہ مرکوز رکھی جبکہ نوجوانوں کے بنیادی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ ان کے مطابق ترقی کے دعووں کے باوجود عام نوجوان کی زندگی میں مطلوبہ بہتری نظر نہیں آ رہی۔
دوسری جانب حکومت کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بھارت نے حالیہ برسوں میں انفراسٹرکچر، ڈیجیٹلائزیشن اور معاشی ترقی کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور موجودہ مشکلات وقتی نوعیت کی ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کے مسائل اور ان کی شکایات کو نظر انداز کرنا کسی بھی حکومت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر حکومت نوجوانوں کے خدشات کو سنجیدگی سے لے کر عملی اقدامات کرتی ہے تو حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر بے روزگاری، کرپشن، تعلیمی بحران اور سماجی تقسیم کے مسائل جوں کے توں رہے تو آنے والے برسوں میں عوامی بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔
نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ جب یہی نوجوان خود کو نظام سے کٹا ہوا محسوس کرنے لگیں تو یہ کسی بھی ریاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ بھارت میں ابھرنے والی نئی تحریکیں اسی حقیقت کی یاد دہانی کرا رہی ہیں کہ پائیدار ترقی صرف معاشی اعداد و شمار سے نہیں بلکہ عوام، خصوصاً نوجوانوں کے اعتماد اور اطمینان سے حاصل ہوتی ہے۔
-

پہلی فلم کے بولڈ مناظر نے والدین کو پریشان کردیا تھا،کنگنا رناوت
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کنگنا رناوت نے اپنے فلمی کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی پہلی فلم میں شامل بولڈ مناظر نے ان کے والدین کو خاصی پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔
اداکارہ کے مطابق ان کے قدامت پسند خاندان کے لیے فلمی دنیا کو قبول کرنا آسان نہیں تھا اور ابتدا میں ان کے کام کو شکوک کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں کنگنا رناوت نے اپنی ڈیبیو فلم ’’گینگسٹر‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2006 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں ان کے چند جرات مندانہ مناظر بھی شامل تھے۔ فلم دیکھنے کے بعد ان کے والد کا ردعمل غیر متوقع تھا کیونکہ انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا اور مکمل خاموشی اختیار کرلی۔کنگنا کے مطابق جب انہوں نے اپنی والدہ سے فلم کے بارے میں رائے پوچھی تو والدہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عمر ابھی بہت کم تھی اور فلم میں ان سے ایسے مناظر کروائے گئے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس جواب نے انہیں مایوس کیا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ ان کی والدہ پوری فلم اور ان کی اداکاری کو دیکھیں گی، لیکن ان کی توجہ صرف انہی مناظر پر مرکوز رہی۔
اداکارہ نے کہا کہ اس وقت ان کے والدین کو فلم کی کہانی یا ان کی فنی صلاحیتوں سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ معاشرہ اور برادری کے لوگ اس بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔ ان کے بقول وہ ایک تعلیم یافتہ اور سرکاری افسران کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں فلمی دنیا کو زیادہ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔
کنگنا رناوت نے مزید بتایا کہ ان کے گھر میں فلمی شخصیات سے متعلق خبروں کو بھی پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کبھی رنگین اخبار گھر آتا تو والدین فلمی ستاروں کی تصاویر والے صفحات الگ کر دیتے اور صرف باقی اخبار پڑھتے تھے۔
اداکارہ کے مطابق 1990 اور 2000 کی ابتدائی دہائی میں فلم انڈسٹری کے بارے میں کئی منفی تصورات پائے جاتے تھے۔ اس دور میں انڈر ورلڈ سے مبینہ روابط اور دیگر تنازعات کی خبریں عام تھیں، جس کے باعث ان کے والدین بھی فلمی دنیا کے حوالے سے اچھا تاثر نہیں رکھتے تھے۔
کنگنا نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی۔ ان کے مطابق جب انہیں حکومت کی جانب سے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا تو ان کے والدین کو پہلی بار ان کے انتخاب پر فخر محسوس ہوا۔ بعد ازاں پدما شری جیسے بڑے سول اعزاز کے حصول نے ان کا نظریہ مکمل طور پر بدل
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان اعزازات کے بعد ان کے دیا۔ کو احساس ہوا کہ فلمی دنیا میں رہتے ہوئے بھی عزت، وقار اور ملک کی خدمت کے اعتراف میں بڑے اعزازات حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور یہی وہ مرحلہ تھا جب انہوں نے ان کے کیریئر کو دل سے قبول کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔مادھوری ڈکشٹ نے فلم انڈسٹری میں خوبصورتی کے سخت معیار پر سوال اٹھا دیا
بالی ووڈ اداکارہ مادھوری ڈکشٹ نے فلم انڈسٹری میں خوبصورتی کے سخت معیار پر سوال اٹھا دیا۔
بالی ووڈ اداکارہ مادھوری ڈکشٹ نےایک انٹرویو میں بالی ووڈ فلم انڈسٹری اور معاشرے میں خوبصورتی سے متعلق قائم سخت معیار پر تنقید کرتے ہوئےکہا ہے کہ آج بھی خواتین اداکاراؤں کو عمر اور ظاہری شکل کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔
مادھوری ڈکشٹ کاکہناتھاکہ اداکاراؤں کو زندگی کےہرمرحلےمیں اپنی شکل وصورت کےحوالے سےغیر ضروری تبصروں اورتنقیدکا سامنا کرنا پڑتا ہے،اکثر لوگ برسوں بعد ملاقات ہونے پرکسی کی شخصیت یا کامیابیوں کےبجائے اس کےوزن،عمر یا بالوں میں آنے والی سفیدی پر تبصرہ کرنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں۔
مادھوری ڈکشٹ نےکہا لوگوں کو انکی اصل حالت میں قبول کرنا چاہیے اورکسی کی جسمانی تبدیلی کو تنقید کا موضوع نہیں بنانا چاہیے -

ملک میں گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کی تعداد میں اضافہ…پاکستان واچ رپورٹ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات
پاکستان کے قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں معیشت کے مختلف شعبوں کے ساتھ لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں سے متعلق اہم اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق ملک میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں، گائے، بھینسوں، بکریوں اور دیگر مویشیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف دیہی معیشت کی سرگرمیوں کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ زرعی شعبے کے ساتھ وابستہ لاکھوں افراد کی معیشت اب بھی مویشی پالنے پر انحصار کرتی ہے۔
دستاویز کے مطابق مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی، جو مجموعی زرعی شعبے کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دی جا رہی ہے۔ پاکستان کی دیہی آبادی کا ایک بڑا حصہ دودھ، گوشت، اون، چمڑا اور جانوروں کی خرید و فروخت سے وابستہ ہے، اسی لیے مویشیوں کی تعداد میں اضافہ براہ راست دیہی معیشت میں سرگرمی بڑھنے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رواں مالی سال کے دوران گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ اس میں سالانہ بنیاد پر 1.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان میں گدھوں کو دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں سامان کی ترسیل، اینٹ بھٹوں، چھوٹے کاروباروں اور زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گدھوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ کم لاگت ٹرانسپورٹ کے ذرائع اب بھی ملک کے مختلف علاقوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسی طرح خچروں کی تعداد میں بھی 1.8 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار تک پہنچ گئی۔ خچر خصوصاً پہاڑی علاقوں اور دشوار گزار راستوں میں باربرداری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ شمالی علاقوں، بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں آج بھی خچر سامان کی نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
گھوڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سروے کے مطابق گھوڑوں کی تعداد 0.8 فیصد بڑھ کر 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی۔ پاکستان میں گھوڑوں کا استعمال کھیلوں، پولیس، دیہی علاقوں میں سواری اور ثقافتی تقریبات میں کیا جاتا ہے۔ پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں گھوڑوں کی افزائش کو ایک شوق اور کاروبار دونوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ اس میں سالانہ 3 فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں دودھ کی پیداوار میں بھینسوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ دیہی علاقوں میں بھینس کو کسان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے دودھ، دہی، مکھن اور دیگر اشیائے خور و نوش حاصل کی جاتی ہیں۔
گائے کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 26-2025 کے دوران گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ اس میں 3.8 فیصد اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق جدید فارمنگ، بہتر ویکسینیشن اور مویشی پال حضرات کی دلچسپی میں اضافے کے باعث گائے کی افزائش میں بہتری آئی ہے۔
بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی، جبکہ سالانہ 2.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان میں بکری کو “غریب آدمی کی گائے” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ کم سرمایہ رکھنے والے افراد بکری پال کر اپنی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی بکریوں کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے اس شعبے سے وابستہ افراد کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
بھیڑوں کی تعداد بھی بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جبکہ اس میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بھیڑیں خصوصاً اون اور گوشت کے لیے پالی جاتی ہیں۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کے مختلف علاقوں میں بھیڑ بانی ایک اہم ذریعہ معاش ہے۔
اونٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ سامنے آیا۔ سروے رپورٹ کے مطابق اونٹوں کی تعداد 1.4 فیصد بڑھ کر 11 لاکھ 93 ہزار تک پہنچ گئی۔ صحرائی علاقوں میں اونٹ آج بھی سفر، دودھ اور باربرداری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اونٹنی کے دودھ کی بڑھتی ہوئی مانگ نے بھی اس شعبے کو تقویت دی ہے۔
ماہی گیری کے شعبے نے بھی رواں مالی سال کے دوران 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں خصوصاً کراچی، گوادر اور پسنی میں ہزاروں خاندان ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس شعبے میں جدید سہولیات، کولڈ اسٹوریج، برآمدی نظام اور ماہی گیروں کی فلاح پر توجہ دی جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کے لیے مزید فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق لائیو اسٹاک شعبہ پاکستان کی زرعی معیشت کا سب سے اہم جزو بنتا جا رہا ہے۔ زرعی شعبے میں فصلوں کے مقابلے میں لائیو اسٹاک کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ملک کی مجموعی دیہی آبادی کا بڑا حصہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر مویشی پالنے سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں اس شعبے کی ترقی کے لیے ویکسینیشن پروگرامز، فارمنگ ٹریننگ، جانوروں کی بہتر نسلوں اور برآمدات کے فروغ پر زور دے رہی ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر گدھوں کی تعداد میں اضافے کے اعداد و شمار ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ ماضی کی طرح اس بار بھی مختلف صارفین نے طنز و مزاح کے انداز میں تبصرے کیے، تاہم ماہرین کے مطابق گدھوں کی تعداد میں اضافہ معاشی سرگرمیوں، برآمدی امکانات اور دیہی ٹرانسپورٹ سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔ چین سمیت بعض ممالک میں گدھے کی کھال اور دیگر مصنوعات کی مانگ موجود ہے، جس کے باعث اس شعبے میں تجارتی امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
اقتصادی سروے کے یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان میں زرعی اور دیہی معیشت اب بھی بڑی حد تک مویشیوں پر انحصار کرتی ہے۔ اگر حکومت اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، ویٹرنری سہولیات، برآمدی پالیسی اور کسانوں کی معاونت کو مزید بہتر بنائے تو لائیو اسٹاک ملکی معیشت کے استحکام میں مزید اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کی ضروریات کے پیش نظر لائیو اسٹاک کا شعبہ مستقبل میں بھی پاکستان کی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قومی اقتصادی سروے میں اس شعبے کے اعداد و شمار کو خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف خوراک بلکہ روزگار، برآمدات اور دیہی ترقی سے بھی براہ راست جڑا ہوا شعبہ ہے۔ -

ترقی کے دعوے اور ٹوٹی سڑکیں…نشید آفاقی
ہمارے ہاں ترقی ایک ایسی چیز ہے جو زیادہ تر تقریروں، اشتہارات اور رنگ برنگے بینروں میں پائی جاتی ہے۔ اگر کبھی کسی شہری کو یقین نہ آئے کہ ملک ترقی کر رہا ہے تو اسے کسی سرکاری تقریب میں لے جائیں، جہاں دس فٹ کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر بتایا جاتا ہے کہ قوم نے ترقی کی وہ منزل حاصل کرلی ہے جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔ البتہ اس تقریب تک پہنچنے کے لیے شہری کو جن ٹوٹی سڑکوں، کھلے مین ہولز اور گرد آلود راستوں سے گزرنا پڑتا ہے، وہ الگ داستان سناتے ہیں۔
ہمارے حکمرانوں کا ترقی سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ وہ جب بھی مائیک پکڑتے ہیں، ترقی شروع ہوجاتی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ شہر پیرس بننے والا ہے، کبھی دعویٰ ہوتا ہے کہ اب ہر گلی میں خوشحالی ناچے گی۔ عوام بھی بیچارے ہر بار تالیاں بجاکر یقین کرلیتے ہیں کہ شاید اس بار واقعی کچھ بدل جائے گا۔ لیکن اگلی بارش آتی ہے اور سڑکیں ایسا منظر پیش کرتی ہیں جیسے کسی نے دریاؤں کا نیا نظام متعارف کروادیا ہو۔
ہمارے شہروں کی سڑکیں بھی عجیب قسمت رکھتی ہیں۔ ایک سڑک بنتی ہے، افتتاح ہوتا ہے، تصویریں بنتی ہیں، فیتہ کٹتا ہے، اخبارات میں بیانات چھپتے ہیں کہ “عوام کو عالمی معیار کی سہولت فراہم کردی گئی۔” پھر چند دن بعد وہی سڑک کھودی جاتی ہے کیونکہ کسی محکمے کو یاد آتا ہے کہ پائپ ڈالنا رہ گیا تھا۔ اس کے بعد دوسرا محکمہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ نہیں، یہاں تو کیبل ڈالنی تھی۔ یوں ایک سڑک اپنی مختصر زندگی میں اتنی بار کھودی جاتی ہے کہ آخرکار وہ خود بھی سوچتی ہوگی کہ کاش میں سڑک کے بجائے کھیت ہی رہتی۔
ترقی کے دعوؤں کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ ان کا حقیقت سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر شہر میں دس نئی بسیں آجائیں تو اعلان ہوگا کہ “ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب آگیا۔” اگر دو پارک بن جائیں تو کہا جائے گا کہ “عوام کو عالمی معیار کی تفریح میسر آگئی۔” لیکن انہی پارکوں کے باہر کچرے کے ڈھیر اور ٹوٹی فٹ پاتھ خاموشی سے حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کررہے ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں ہر حکومت پچھلی حکومت کو سڑکوں کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ نئی حکومت آتے ہی پہلا بیان یہی آتا ہے کہ “خزانہ خالی ملا اور سڑکیں تباہ حال تھیں۔” عوام یہ بیان سن کر مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اچھا، قصور پھر پچھلوں کا ہی ہوگا۔ پانچ سال بعد یہی حکومت سابقہ حکومت بن جاتی ہے اور نئی آنے والی جماعت وہی جملہ دہراتی ہے۔ یوں ملک میں صرف حکومتیں بدلتی ہیں، گڑھے نہیں بدلتے۔
سڑکوں کی حالت دیکھ کر بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ شاید شہریوں کی ڈرائیونگ صلاحیت بڑھانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام چل رہا ہے۔ کہیں اچانک گڑھا آجاتا ہے، کہیں پانی کھڑا ہوتا ہے، کہیں آدھی سڑک غائب ہوتی ہے۔ موٹر سائیکل چلانے والا ہر لمحہ اپنی قسمت آزماتا ہے۔ اگر وہ صحیح سلامت منزل تک پہنچ جائے تو اسے خود پر فخر ہونا چاہیے کہ اس نے صرف سفر نہیں کیا بلکہ ایک مہم سر کی ہے۔
ترقی کے منصوبوں میں ایک اور دلچسپ چیز ان کے نام ہوتے ہیں۔ جتنا بڑا نام، اتنا ہی چھوٹا کام۔ “عظیم الشان ترقیاتی پیکیج”، “انقلابی منصوبہ”، “تاریخی منصوبہ” اور “گیم چینجر” جیسے الفاظ سن کر لگتا ہے کہ اب ملک سیدھا یورپ بننے والا ہے۔ لیکن حقیقت میں عوام کو صرف نئی تختیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جن پر حکمرانوں کی تصاویر مسکرا رہی ہوتی ہیں۔ سڑک البتہ پہلے جیسی ہی رہتی ہے، بلکہ بعض اوقات مزید خراب ہوجاتی ہے۔
میڈیا بھی اس معاملے میں اپنا کردار خوب نبھاتا ہے۔ کسی نئی سڑک کا افتتاح ہو تو ڈرون کیمروں سے ایسی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں کہ لگتا ہے دبئی کا کوئی شاہراہی منصوبہ مکمل ہوگیا ہے۔ لیکن وہی میڈیا بارش کے بعد انہی سڑکوں پر تیرتی گاڑیاں کم ہی دکھاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ترقی کی کہانی میں حقیقت کا کردار زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔
عام آدمی کی زندگی مگر تقریروں سے نہیں چلتی۔ اسے روزانہ دفتر جانا ہوتا ہے، بچوں کو اسکول چھوڑنا ہوتا ہے، اسپتال پہنچنا ہوتا ہے۔ جب ایک ٹوٹی سڑک کی وجہ سے ایمبولینس ٹریفک میں پھنسی رہتی ہے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی لگنے لگتے ہیں۔ جب شہری گھنٹوں جام میں پھنس کر تھک جاتا ہے تو اسے عالمی معیار کے خواب نہیں بلکہ ایک سیدھی سادہ قابلِ استعمال سڑک چاہیے ہوتی ہے۔
افسوس یہ بھی ہے کہ ہم نے مسائل کو معمول سمجھ لیا ہے۔ اگر کسی علاقے کی سڑک چند ماہ خراب نہ ہو تو لوگ حیران ہوجاتے ہیں کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ شہریوں نے بھی گڑھوں سے بچتے بچاتے جینا سیکھ لیا ہے۔ بارش ہو تو لوگ پہلے ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کون سی سڑک دریا بنے گی اور کون سا پل تالاب کا منظر پیش کرے گا۔
اصل ترقی شاید وہ ہوتی ہے جسے اشتہارات کی ضرورت نہ پڑے۔ جہاں شہری سکون سے سفر کرسکے، جہاں سڑک بننے کے بعد بار بار نہ کھودی جائے، جہاں منصوبے صرف تصویروں کے لیے نہیں بلکہ عوام کی سہولت کے لیے بنائے جائیں۔ مگر ہمارے ہاں ترقی اکثر کیمروں کے سامنے زیادہ اور زمین پر کم نظر آتی ہے۔
اس ملک کا سب سے مضبوط نظام شاید “اعلان” ہے۔ اعلان ہوجائے تو سمجھا جاتا ہے کہ مسئلہ حل ہوگیا۔ سڑک ٹوٹی ہوئی ہو، اسپتال میں دوا نہ ہو، اسکول میں استاد نہ ہو، لیکن اگر پریس کانفرنس میں بتایا جائے کہ “انقلابی اقدامات” کیے جارہے ہیں تو سب مطمئن ہوجاتے ہیں۔ عوام بھی اب اتنے تجربہ کار ہوچکے ہیں کہ تقریر سنتے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اب کچھ دن سوشل میڈیا پر ترقی کا شور رہے گا، پھر زندگی دوبارہ انہی گڑھوں میں ہچکولے کھاتی نظر آئے گی۔
ترقی کے دعوے اپنی جگہ، مگر قوم آج بھی ایک اچھی سڑک، صاف پانی اور بنیادی سہولتوں کی منتظر ہے۔ شاید جس دن حکمرانوں کی گاڑیاں بھی انہی ٹوٹی سڑکوں سے گزریں گی جن سے عام آدمی روز گزرتا ہے، اس دن ترقی کے دعووں کے ساتھ سڑکیں بھی واقعی ٹھیک ہوجائیں۔ -

کیا کراچی کو غیر مقامی افراد نے تباہ کیا؟ماجد علی سید
کراچی کے مسائل پر بحث شروع ہو تو چند منٹ کے اندر ایک جملہ ضرور سنائی دیتا ہے: “یہ شہر غیر مقامی افراد نے تباہ کر دیا۔” گویا کراچی کسی زمانے میں ایک مثالی، صاف ستھرا اور منظم شہر تھا جسے باہر سے آنے والوں نے برباد کر دیا۔ یہ مؤقف سننے میں جتنا آسان لگتا ہے، حقیقت اتنی ہی پیچیدہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر غیر مقامی افراد ہی کراچی کی تباہی کے ذمہ دار ہیں تو پھر شہر کو چلانے، منصوبہ بندی کرنے، قوانین نافذ کرنے اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنے والے ادارے کس کام کے لیے موجود تھے؟ کیا سڑکیں، سیوریج، پانی کی فراہمی، پبلک ٹرانسپورٹ، کچرا اٹھانے اور شہری منصوبہ بندی کی ذمہ داری بھی ان لوگوں پر تھی جو روزگار کی تلاش میں کراچی آئے؟
کراچی کی تاریخ دراصل ہجرتوں کی تاریخ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد لاکھوں لوگ یہاں آباد ہوئے۔ بعد میں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اندرون سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ اس شہر کا رخ کرتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو آج “غیر مقامی” کہا جاتا ہے، انہی لوگوں نے کراچی کی صنعتوں کو مزدور دیے، فیکٹریوں کو کارکن دیے، بازاروں کو تاجر دیے اور بندرگاہ کو افرادی قوت فراہم کی۔ اگر یہی لوگ نہ آتے تو شاید کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت بھی نہ بن پاتا۔
دنیا کے بڑے شہر نقل مکانی سے تباہ نہیں ہوتے، بلکہ ناقص منصوبہ بندی سے تباہ ہوتے ہیں۔ لندن، نیویارک، ٹورنٹو اور دبئی میں بھی دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں، مگر وہاں حکومتیں یہ اندازہ لگاتی ہیں کہ آنے والے برسوں میں کتنے لوگ آباد ہوں گے، کتنی سڑکیں درکار ہوں گی، کتنے اسکول، کتنے اسپتال اور کتنی پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہوگی۔ کراچی میں بدقسمتی سے یہ روایت کبھی مضبوط نہیں ہو سکی۔
شہر کی آبادی بڑھتی رہی، مگر سڑکیں وہی رہیں۔ گاڑیاں بڑھتی گئیں، مگر ٹرانسپورٹ کا نظام سکڑتا گیا۔ بلند و بالا عمارتیں بنتی گئیں، مگر پانی کی لائنیں اور نکاسی آب کا نظام دہائیوں پرانا ہی رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر بارش کے بعد کراچی کسی جدید شہر کے بجائے ایک آبی تجربہ گاہ کا منظر پیش کرنے لگا۔
یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی موجود ہے۔ جب کراچی قومی معیشت کو اربوں روپے دیتا ہے تو سب اسے پاکستان کا معاشی انجن قرار دیتے ہیں، لیکن جب اس کے مسائل کی بات آتی ہے تو الزام عام شہریوں اور غیر مقامی افراد کے سر ڈال دیا جاتا ہے۔ گویا حکمرانوں، منصوبہ سازوں اور متعلقہ اداروں کا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
سندھ حکومت گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف ادوار میں کراچی کے انتظامی معاملات کی بنیادی ذمہ دار رہی ہے۔ شہری منصوبہ بندی، پانی، نکاسی آب، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر کئی شعبے براہ راست یا بالواسطہ صوبائی اداروں کے زیر اثر رہے ہیں۔ اگر شہر میں پانی چوری ہو رہا ہے، غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں، سیوریج کا نظام ناکام ہے یا کچرے کے ڈھیر لگے ہیں تو یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ متعلقہ ادارے کہاں تھے؟
بلدیاتی اداروں کی حالت اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ اختیارات کبھی دیے جاتے ہیں، کبھی واپس لے لیے جاتے ہیں۔ وسائل کی کمی کا رونا الگ ہے اور سیاسی کشمکش الگ۔ نتیجہ یہ کہ شہری یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ اس کے محلے کی ٹوٹی سڑک کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت، میئر، ضلعی انتظامیہ یا کسی اور ادارے پر؟
کراچی شاید دنیا کا واحد شہر ہے جہاں ایک مسئلے کے کئی مالک اور حل کا کوئی ایک ذمہ دار نہیں ملتا۔
حقیقت یہ ہے کہ آبادی میں اضافہ بذات خود کوئی جرم نہیں۔ دنیا کے ہر ترقی پذیر شہر میں آبادی بڑھتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت نے اس اضافے کے مطابق منصوبہ بندی کی؟ کیا نئے رہائشی علاقوں کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں؟ کیا ماس ٹرانزٹ سسٹم وقت پر بنایا گیا؟ کیا پانی کے نئے ذرائع تلاش کیے گئے؟ کیا تجاوزات کے خلاف مستقل پالیسی اختیار کی گئی؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر تمام تر ذمہ داری غیر مقامی افراد پر ڈال دینا دانش مندی نہیں۔
اس بحث کا ایک سماجی پہلو بھی ہے۔ جب کسی شہر کے مسائل کا ذمہ دار کسی خاص گروہ، زبان یا علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو قرار دیا جاتا ہے تو اس سے مسئلے حل نہیں ہوتے بلکہ نئی تقسیمیں پیدا ہوتی ہیں۔ کراچی پہلے ہی لسانی اور سیاسی کشیدگی کے کئی ادوار دیکھ چکا ہے۔ ایسے میں مسائل کی اصل وجوہات سے توجہ ہٹا کر الزام تراشی کا راستہ اختیار کرنا مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
کراچی کی تباہی کی داستان میں غیر قانونی تعمیرات، کمزور ادارے، ناقص منصوبہ بندی، سیاسی مداخلت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور جواب دہی کے فقدان کا کردار کہیں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جن پر گفتگو نسبتاً کم اور الزام تراشی زیادہ کی جاتی ہے۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم آسان جوابات تلاش کرنے کے بجائے مشکل سوالات پوچھیں۔ کراچی کو کس نے تباہ کیا؟ وہ مزدور جو روزگار کی تلاش میں یہاں آیا؟ وہ رکشہ ڈرائیور جو اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا ہے؟ وہ فیکٹری ورکر جو صنعت کا پہیہ چلا رہا ہے؟ یا پھر وہ نظام جو بڑھتے ہوئے مسائل کو دہائیوں تک نظر انداز کرتا رہا؟
ممکن ہے اس سوال کا جواب ہر شخص کے پاس مختلف ہو، لیکن ایک بات واضح ہے: کراچی کو صرف غیر مقامی افراد کی آمد نے نہیں، بلکہ مقامی سطح پر موجود طویل المدتی غفلت، ناقص حکمرانی اور مسلسل غیر منصوبہ بندی نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ جب تک ان بنیادی وجوہات کا سامنا نہیں کیا جاتا، تب تک شہر کے مسائل کا ملبہ کبھی کسی پر اور کبھی کسی پر ڈالا جاتا رہے گا، مگر کراچی وہیں کھڑا رہے گا جہاں آج کھڑا ہے۔ -

بڑھتی آبادی، محدود وسائل اور ترقی کا سوال ؟ منظر پس منظر۔۔تحریر صبیحہ خان صبیحہ
پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک ایسا مسئلہ ہے جو تقریباً ہر شعبے کو متاثر کر رہا ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کے مقابلے میں وسائل، روزگار کے مواقع، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور بنیادی سہولیات اسی رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ نتیجتاً غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، مگر معیشت اتنی مضبوط نہیں کہ ان کے لیے مناسب ملازمتیں پیدا کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی روزگار کے لیے پریشان نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا رش اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔حکومتیں اکثر ترقی کے نام پر سڑکیں، پل، انڈر پاسز اور بڑے بڑے منصوبے پیش کرتی ہیں۔ بلاشبہ انفراسٹرکچر کسی بھی ملک کی ضرورت ہے، لیکن صرف ہائی ویز اور فلائی اوورز تعمیر کر دینا ترقی کا مکمل معیار نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب عوام کو معیاری تعلیم، بہتر صحت کی سہولیات، صاف پانی، روزگار اور باعزت زندگی میسر ہو۔ اگر شہری بنیادی ضروریات سے محروم ہوں تو بلند و بالا عمارتیں اور شاندار مالز ترقی کی اصل تصویر پیش نہیں کر سکتیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کی معیشت کا بڑا حصہ قرضوں کےسہارے چل رہا ہےایک قرض اتارنے کے لیے دوسرا قرض لیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں ترقی کے دعوے عوام کے لیے زیادہ معنی نہیں رکھتے، کیونکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری محسوس نہیں ہوتی۔ جب تک پیداواری شعبوں،صنعت، زراعت، تعلیم اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی، معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکے گی۔بڑھتی آبادی خود مسئلہ نہیں، اگر اسے تعلیم یافتہ، ہنر مند اور پیداواری قوت میں تبدیل کر دیا جائے۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی بڑی آبادی کو معاشی طاقت بنایا ہے، لیکن اس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی،معیاری تعلیم اور مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آبادی کے مسئلے پر سنجیدگی سے کام کم اور سیاسی نعروں پر زیادہ توجہ دی جاتی رہی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی کی تعریف کو صرف کنکریٹ، سیمنٹ اور نمائشی منصوبوں تک محدود نہ رکھا جائے۔ قوموں کی اصل ترقی انسانوں میں سرمایہ کاری سے ہوتی ہے۔ جب ایک بچہ اچھی تعلیم حاصل کرے، ایک مریض کو علاج میسر ہو، ایک نوجوان کو روزگار ملے اور ایک خاندان غربت سے نکل کر خوشحال زندگی گزار سکے، تب ہی ترقی کے دعوے حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔ورنہ سڑکیں کشادہ ہوتی رہیں گی، پل بنتے رہیں گے، مالز آباد ہوتے رہیں گے، لیکن عوام کے خواب اور مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔قوموں کی ترقی عمارتوں کی اونچائی سے نہیں، انسانوں کے معیارِ زندگی سے ناپی جاتی ہے۔پاکستان کے بعد یا پاکستان کے آس پاس کے دور میں ترقی کی راہ پر گامزن ہونے والے کئی ممالک آج معاشی، تعلیمی اور صنعتی میدان میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔ Malaysia، Bangladesh اور Turkey کی مثالیں اکثر دی جاتی ہیں۔ البتہ Japan پاکستان کے بعد آزاد نہیں ہوا تھا، لیکن دوسری جنگِ عظیم کی تباہی کے بعد اس نے غیر معمولی ترقی ضرور کی۔سوال یہ نہیں کہ ان ممالک کے پاس کون سا جادو تھا، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے کن شعبوں کو ترجیح دی۔ زیادہ تر کامیاب ممالک نے تعلیم، صنعتی ترقی، برآمدات، سائنسی تحقیق، اچھی حکمرانی اور آبادی کی منصوبہ بندی پر مسلسل توجہ دی۔ پالیسیوں کا تسلسل بھی ان کی کامیابی کا ایک اہم سبب رہا۔جہاں تک آبادی کا تعلق ہے، ماہرینِ معیشت عام طور پر آبادی کو بذاتِ خود مسئلہ نہیں سمجھتے۔ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اگر آبادی کی رفتار معیشت، تعلیم، روزگار اور وسائل کی رفتار سے زیادہ ہو جائے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ایک ملک اپنے شہریوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار فراہم کر دے تو یہی آبادی ایک طاقت بن جاتی ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو یہی آبادی ریاست پر بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
ترقی یافتہ قومیں صرف آبادی کو نہیں گنتیں، وہ اپنے ہر شہری کی صلاحیت کو قومی سرمایہ بناتی ہیں۔ جب انسان کو نظرانداز کر دیا جائے تو وسائل بھی کم پڑ جاتے ہیں، اور جب انسان کو سنوار لیا جائے تو محدود وسائل بھی ترقی کی بنیاد بن جاتے ہیں عوام البتہ یہ سوال ضرور اٹھایا جا سکتا ہے کہ سات دہائیوں سے زائد عرصے میں تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کے شعبوں میں وہ نتائج کیوں حاصل نہ ہو سکے جن کی عوام کو توقع تھی۔ جب پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو، ادارے کمزور ہوں، بدعنوانی موجود ہو، اور قومی ترجیحات بار بار تبدیل ہوتی رہیں تو ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔اصل تشویش یہ ہونی چاہیے کہ آج بھی ملک میں لاکھوں بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں، بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، اور بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں۔ اگر کسی قوم کو مضبوط بنانا ہو تو اسے سڑکوں اور عمارتوں سے پہلے تعلیم، شعور، قانون کی بالادستی اور معاشی مواقع دینے پڑتے ہیں پاکستان کو قدرت نے زرخیز زمینیں، دریاؤں کا وسیع نظام، چار موسم اور نوجوان آبادی جیسی بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی صلاحیتوں کے باوجود ملک معاشی طور پر خود کفیل کیوں نہ بن سکا؟اس کی ایک بڑی وجہ یہ رہی کہ طویل المدت معاشی منصوبہ بندی اور پالیسیوں کا تسلسل کمزور رہا۔ ہر نئی حکومت نے اکثر نئی ترجیحات متعارف کرائیں، جبکہ صنعت، زراعت، تعلیم اور برآمدات جیسے شعبے مسلسل توجہ چاہتے ہیں۔ جب پالیسیاں بار بار تبدیل ہوں تو سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور روزگار کے مواقع بھی مطلوبہ رفتار سے پیدا نہیں ہوتے۔زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی پیداوار کے مسائل، پانی کا غیر مؤثر استعمال، جدید ٹیکنالوجی کی کمی، ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولیات اور کسانوں کو مناسب سہارا نہ ملنے کے باعث پاکستان بعض اشیائے خورونوش درآمد کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب صنعتوں کو درپیش توانائی، ٹیکس اور پالیسی کے مسائل نے بھی ملکی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک صرف قرضوں، تعمیراتی منصوبوں یا وقتی معاشی اعداد و شمار سے خوشحال نہیں بنتا۔ پائیدار خوشحالی تب آتی ہے جب نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہو، چھوٹے کاروبار ترقی کریں، صنعتیں چلیں، زراعت منافع بخش ہو اور تعلیم یافتہ افراد کو اپنی صلاحیتیں ملک کے اندر استعمال کرنے کا موقع ملے اکستان کا مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کے مؤثر استعمال کا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے پاس زرخیز زمینیں، نوجوان آبادی اور قدرتی وسائل موجود ہوں، وہ خود کفالت کی منزل حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ قومی ترجیحات سیاسی نعروں کے بجائے تعلیم، روزگار، زراعت اور صنعت پر مرکوز ہوں۔ افسوس کہ عوام کو اکثر خوشحالی کے خواب تو دکھائے گئے، مگر ایسی پالیسیاں کم بن سکیں جو ان خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتیں۔قومیں وعدوں سے نہیں، مواقع سے ترقی کرتی ہیں۔ جب نوجوان کو روزگار، کسان کو سہارا اور صنعت کو استحکام مل جائے تو خوشحالی نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن جاتی ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بحران ہے۔ یہاں نوجوان ڈگری لے کر روزگار ڈھونڈتا ہے، کسان اپنی فصل کی قیمت کے لیے پریشان رہتا ہے، مزدور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے، جبکہ سیاسی بحثیں اکثر ایسے موضوعات کے گرد گھومتی رہتی ہیں جن کا عام آدمی کی زندگی سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔77سال بعد بھی اگر عوام کی بنیادی ضروریات، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف ہی سب سے بڑے مسائل ہوں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ترقی کا معیار کیا ہے؟ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے شہریوں سے بنتی ہیں جو تعلیم یافتہ، بااختیار اور پُرامید ہوں۔ جب تک انسان کو ترقی کا مرکز نہیں بنایا جائے گا، ترقی کے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ برقرار رہے گا۔کیونکہ توجہ مسائل کے ساتھ ساتھ پالیسی اور ترجیحات پر رہتی ہے، نہ کہ صرف شخصیات پر۔خوشحال ملک وہ نہیں جہاں عمارتیں بلند ہوں، خوشحال ملک وہ ہے جہاں انسان کا معیارِ زندگی بلند ہو۔
دوسری جانب صنعتوں کو درپیش توانائی، ٹیکس اور پالیسی کے مسائل نے بھی ملکی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی ملک صرف قرضوں، تعمیراتی منصوبوں یا وقتی معاشی اعداد و شمار سے خوشحال نہیں بنتا۔ پائیدار خوشحالی تب آتی ہے جب نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہو، چھوٹے کاروبار ترقی کریں، صنعتیں چلیں، زراعت منافع بخش ہو اور تعلیم یافتہ افراد کو اپنی صلاحیتیں ملک کے اندر استعمال کرنے کا موقع ملے اکستان کا مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کے مؤثر استعمال کا ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے پاس زرخیز زمینیں، نوجوان آبادی اور قدرتی وسائل موجود ہوں، وہ خود کفالت کی منزل حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ قومی ترجیحات سیاسی نعروں کے بجائے تعلیم، روزگار، زراعت اور صنعت پر مرکوز ہوں۔ افسوس کہ عوام کو اکثر خوشحالی کے خواب تو دکھائے گئے، مگر ایسی پالیسیاں کم بن سکیں جو ان خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتیں۔قومیں وعدوں سے نہیں، مواقع سے ترقی کرتی ہیں۔ جب نوجوان کو روزگار، کسان کو سہارا اور صنعت کو استحکام مل جائے تو خوشحالی نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن جاتی ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا المیہ شاید وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بحران ہے۔ یہاں نوجوان ڈگری لے کر روزگار ڈھونڈتا ہے، کسان اپنی فصل کی قیمت کے لیے پریشان رہتا ہے، مزدور مہنگائی کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے، جبکہ سیاسی بحثیں اکثر ایسے موضوعات کے گرد گھومتی رہتی ہیں جن کا عام آدمی کی زندگی سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا۔77سال بعد بھی اگر عوام کی بنیادی ضروریات، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف ہی سب سے بڑے مسائل ہوں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ترقی کا معیار کیا ہے؟ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے شہریوں سے بنتی ہیں جو تعلیم یافتہ، بااختیار اور پُرامید ہوں۔ جب تک انسان کو ترقی کا مرکز نہیں بنایا جائے گا، ترقی کے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ برقرار رہے گا۔کیونکہ توجہ مسائل کے ساتھ ساتھ پالیسی اور ترجیحات پر رہتی ہے، نہ کہ صرف شخصیات پر۔خوشحال ملک وہ نہیں جہاں عمارتیں بلند ہوں، خوشحال ملک وہ ہے جہاں انسان کا معیارِ زندگی بلند ہو۔ -

بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت: پاکستانی معاشرے میں ایک سماجی رویہ تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ
ہماری بیٹیوں کا ظرف دیکھ لے دنیا
ہم اُن کے سامنے بیٹے دعا میں مانگتے ہیں
احمد سلیمپاکستانی معاشرہ روایات، ثقافت اور خاندانی اقدار کا حامل معاشرہ ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ بہت سی مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، لیکن آج بھی بعض سماجی رویے ایسے ہیں جو خواتین اور مردوں کے درمیان مساوات کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم مسئلہ بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دینا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف خواتین کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہے۔
بیٹوں کو ترجیح دینے کی وجوہات
پاکستانی معاشرے میں بیٹوں کو ترجیح دینے کی کئی وجوہات ہیں۔ بعض لوگ بیٹے کو خاندان کا نام اور نسل آگے بڑھانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں بیٹوں کو معاشی سہارا اور بڑھاپے کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں میں وراثت اور جائیداد کے معاملات بھی اس سوچ کو تقویت دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ صدیوں پرانی روایات اور سماجی دباؤ بھی اس رجحان کے فروغ کا سبب بنتے ہیں۔
بیٹیوں کے ساتھ امتیازی سلوک
بیٹوں کو فوقیت دینے کا اثر اکثر بیٹیوں کی تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی حقوق پر پڑتا ہے۔ اکثر خاندانوں میں اچھا کھانا بیٹوں کے لیے الگ کیا جاتا ہے جبکہ جو بچ جاتا ہے وہ بیٹیوں کا حصہ ہوتا ہے۔ کئی خاندانوں میں بیٹوں کی تعلیم پر زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ان کے لیے زیادہ بہترین اور مہنگے تعلیمی اداروں کا انتخاب کیا جاتا ہے جبکہ بیٹیوں کی تعلیم کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کو بیٹوں کے مقابلے میں کم بہتر اور سستے تعلیمی ادراوں میں پڑھایا جاتا ہے۔
بعض اوقات بیٹیوں کو اپنی پسند کے مطابق تعلیم، ملازمت یا زندگی کے فیصلے کرنے کی آزادی بھی نہیں دی جاتی۔ یہاں تک کہ والدین سے محبت بھی بیشتر بیٹیوں کو یکساں نہیں ملتی۔ بیٹوں کو زیادہ پیار محبت لاڈ ملتا ہے۔
یہ رویے ان کی صلاحیتوں کو محدود کر دیتے ہیں۔
معاشرے پر منفی اثرات
یہ امتیازی سوچ معاشرے میں عدم مساوات کو جنم دیتی ہے۔ جب خواتین کو مساوی مواقع نہیں ملتے تو ملک اپنی آدھی آبادی کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ اس کے نتیجے میں معاشی ترقی، سماجی استحکام اور قومی خوشحالی متاثر ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ بیٹیوں کو کمتر سمجھنے کا رجحان ان کی خود اعتمادی پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو برابر عزت اور احترام دیا ہے۔ قرآن و سنت میں بیٹیوں کی پرورش اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے بیٹیوں کی اچھی تربیت کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت دی۔ لہٰذا بیٹیوں کو کمتر سمجھنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
موجودہ دور میں بیٹیوں کی کامیابیاں
آج پاکستانی خواتین تعلیم، طب، انجینئرنگ، کاروبار، سیاست، صحافت اور کھیلوں سمیت ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر انہیں مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں۔ اس حقیقت نے پرانی سوچ کو چیلنج کیا ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔
حل اور تجاویز
اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ والدین بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان مساوات کا رویہ اپنائیں۔ تعلیم کے ذریعے شعور بیدار کیا جائے اور خواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور مذہبی رہنما بھی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت کو بھی ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو خواتین کو مساوی مواقع فراہم کریں۔
نتیجہ
بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دینا ایک فرسودہ سماجی رویہ ہے جس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔ جب ہر بچے کو بلاامتیاز تعلیم، عزت اور ترقی کے مساوی مواقع ملیں گے تو ایک مضبوط، منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرہ وجود میں آئے گا۔