Blog

  • راولپنڈی میں کے ایف سی برانچ پر حملہ،12گرفتار

    راولپنڈی میں کے ایف سی برانچ پر حملہ،12گرفتار

    راولپنڈی (کنزیو مر واچ نیوز )صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے علاقے کینٹ میں گذشتہ شب ’کے ایف سی‘ کی ایک برانچ میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور گالم گلوچ کے الزام میں 10-12 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    راولپنڈی پولیس کے مطابق کینٹ کے علاقہ میں فاسٹ فوڈ چین کی برانچ میں ہنگامہ آرائی اور گالم گلوچ کا مقدمہ فاسٹ فوڈ چین کے برانچ مینیجر کی مدعیت میں تھانہ کینٹ میں درج کیا گیا ہے۔

    کے ایف سی برانچ مینیجر کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ‘وہ اپنے دفتر میں موجود تھے جب شور کی آواز سنائی دی، باہر نکل کر دیکھا تو 10-12 نامعلوم افراد بیس بال ڈنڈے اور کیل لگے ڈنڈے اٹھائے ہال میں موجود تھے۔’

    ایف آئی ار میں کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے ہال میں موجود فیملیز کو گالیاں دیں اور نعرے بازی شروع کر دی۔ روکنے پر انھوں نے ہمیں بھی گالیاں دیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔‘

    پولیس نے بتایا ہے کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے اور جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • پاک چین دوستی زمین سے خلا تک۔۔۔۔ارم زہرا(قسط 1)

    پاک چین دوستی زمین سے خلا تک۔۔۔۔ارم زہرا(قسط 1)

    ‎صبح کا سورج بیجنگ کی عمارتوں کے پیچھے سے جھانک رہا تھا، مگر میرے اندر ایک اور ہی روشنی جاگ رہی تھی—جوش کی، بےچینی کی، اور ایک خواب کے حقیقت بننے کی۔ میں نے اپنی زندگی میں کئی بار آسمان کی طرف دیکھا تھا، مگر آج آسمان میرے لیے محض نیلا گنبد نہیں، بلکہ ایک منزل تھا
    ‎ جہاں چاند کی چمک، ستاروں کی ٹمٹماتی روشنی، اور خلا کی بے انتہا وسعت میں ایک عجیب سی کشش نمایاں تھی، جیسے وہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہو۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں زمین سے زیادہ خلا کے قریب ہوں، جیسے اس روشنی میں کوئی راز چھپاہوا ہو، جو صرف ان لوگوں کو دکھائی دیتا ہو جو خلا میں نظر دوڑاتے ہیں۔”
    ‎میں نے زمین پر بےشمار سورج نکلتے اور ڈھلتے دیکھے تھے، مگر آج کا سورج کچھ مختلف تھا۔ آج میں اس جگہ جا رہی تھی جہاں زمین کا دائرہ ختم ہوتا ہے اور بےوزنی کی دنیا شروع ہوتی ہے—تیانگونگ، یعنی “آسمانی محل”۔
    ‎وہی مقام جہاں سے چین نے اپنی خلائی دنیا میں قدم رکھا، جہاں انسان بے وزنی کی کیفیت میں تیرتے ہیں، اور جہاں زمین کو نیلے گلوب کی طرح خلا میں معلق دیکھا جا سکتا ہے۔
    ‎میرے سامنے ایک دروازہ کھلنے والا تھا، ایک ایسا دروازہ جو مجھے ستاروں کے قریب لے جانے کا وعدہ کر رہا تھا۔
    ‎ہماری گاڑی شنگھائی-بیجنگ ہائی اسپیڈ ریل سے ہوتی ہوئی ایک جدید کمپلیکس کے سامنے رکی۔ جیسے ہی میں نے عمارت کی طرف نظر اٹھائی، ایک لمحے کو لگا کہ میں کسی سائنس فکشن فلم کے سیٹ پر آ گئی ہوں۔ اونچی چمچماتی عمارتیں، خودکار دروازے، اور روبوٹ اسسٹنٹس—یہ سب ایک الگ ہی دنیا لگ رہی تھی۔ میں نے گہری سانس لی اور اندر قدم رکھا۔
    ‎ہمارے گائیڈ، لیو ینگ، جو خود بھی ایک خلا باز رہ چکے تھے، انہوں نے مسکراتے ہوئے ہمیں خوش آمدید کہا۔”آپ پہلی بار تیانگونگ آئی ہیں؟” انہوں نے پوچھا۔”جی ہاں، اور شاید آخری بار بھی!” میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا، حالانکہ دل چاہ رہا تھا کہ یہ موقع بار بار ملے۔کیونکہ
    ‎یہ ایسی جگہ ہے جہاں تک رسائی صرف منتخب خلا بازوں، سائنسدانوں اور اعلیٰ سطح کے محققین کی ہوتی ہے۔ لیکن میری خوش قسمتی تھی کہ میں یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ وہ رپورٹر جو چین کی خلائی ترقی پر رپورٹنگ کر رہا تھا، اس نے میری دلچسپی اور تحقیق کو دیکھا اور مجھے اس دورے کا حصہ بننے کی اجازت دی ۔
    ‎تیانگونگ کے
    ‎اندر ایک وسیع ہال میں ایک بڑی اسکرین پر چین کے خلائی
    مشنز کی جھلکیاں چل رہی تھیں۔
    چانگ ای 6 کا چاند پر اترنا ، تیان وین 1 کا مریخ کی سرخ سطح پر تحقیق، اور خلائی اسٹیشن پر موجود چینی خلابازوں کی روزمرہ زندگی—یہ سب میرے سامنے کسی جادوئی کہانی کی طرح چل رہا تھا۔
    “آپ کو معلوم ہے؟” لیوینگ مسکراتے ہوئے بولے، “یہی وہ جگہ ہے جہاں چین کے چاند اور مریخ مشنز کی منصوبہ بندی ہوئی، اور جہاں وہ خلاباز تربیت حاصل کرتے ہیں جو کبھی نہ کبھی خلا میں جائیں گے!”
    میں نے حیرت سے اردگرد دیکھا۔ ایک بڑی اسکرین پر **چانگ ای 6** کے مناظر چل رہے تھے، جس نے چاند کے تاریک پہلو سے نمونے اکٹھے کیے تھے۔ ایک طرف ** تیان وین 1** کا ماڈل رکھا تھا، وہی مشن جس نے چین کو مریخ پر قدم رکھنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
    ہمارے سامنے ایک دیوار پر چین کے خلائی سفر کی تاریخ درج تھی۔ لیو ینگ نے ہمیں بتایا-
    “چین کا یہ سفر 1970 میں شروع ہوا، جب پہلا مصنوعی سیارہ **Dong Fang Hong 1** خلا میں بھیجا گیا۔ تب کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ ملک ایک دن اپنا خلائی اسٹیشن بھی بنائے گا اور مریخ پر بھی پہنچے گا!”
    میں نے سوچا، کتنا عجیب ہے کہ وہی قوم جو ہزاروں سال پہلے پتنگیں اڑانے میں مشہور تھی، آج راکٹ خلا میں بھیج رہی ہے۔ انسان کی ترقی بھی کیا حیرت انگیز چیز ہے!
    دیوار کے دوسرے حصے میں ایک تصویر تھی۔ ایک شخص خلا میں معلق تھا، اس کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی، جیسے کسی اور ہی دنیا کا راز جان چکا ہو۔
    “یہ ہیں **یانگ لی وی**، جو 2003 میں خلا میں جانے والے پہلے چینی خلا باز بنے!” لیو ینگ نے فخر سے کہا۔
    میں نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں اور تصور کیا کہ وہ لمحہ کیسا ہوگا جب کوئی انسان زمین کی کشش سے آزاد ہو کر ستاروں کے درمیان تیرتا ہوگا
    “یہاں دیکھیں، یہ ہے ہمارا **چانگ ای مشن**!” لیو ینگ نے ایک بڑے ماڈل کی طرف اشارہ کیا۔ “2007 میں چانگ ای 1 نے چاند کے گرد چکر لگایا، اور پھر 2013 میں چانگ ای 3 نے پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھا۔”
    میں نے اس ماڈل کو غور سے دیکھا۔ چاند کی ناہموار سطح، ایک چمکدار روور، اور پس منظر میں نیلا سیارہ زمین—یہ منظر مجھے کسی خواب جیسا لگا۔
    “چانگ ای 4 نے تو تاریخ ہی رقم کر دی!” لیو ینگ پرجوش ہو گئے۔ “یہ دنیا کا پہلا مشن تھا جو چاند کے تاریک حصے پر اترا!”
    میں نے حیرت سے پوچھا، “وہ کون سا حصہ ہے جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتا؟”
    “ہاں! چاند ہمیشہ زمین کے ایک ہی رخ کو دکھاتا ہے، دوسرا حصہ ہم کبھی دیکھ ہی نہیں سکتے۔ اسی لیے چانگ ای 4 کو خاص سگنلز اور سیٹلائٹس کی مدد سے وہاں بھیجا گیا!”
    یہ جان کر مجھے وہ تمام پرانی کہانیاں یاد آئیں جو ہم بچپن میں چاند پر رہنے والی پریوں کے بارے میں سنتے تھے۔ کون جانتا تھا کہ ایک دن ہم واقعی چاند پر جا کر وہاں کی مٹی کے نمونے اٹھا رہے ہوں گے!
    ہال کے دوسرے کونے میں ایک سرخ ہولوگرام نظر آ رہا تھا۔ قریب گئی تو دیکھا کہ یہ مریخ کی سطح کا **3D ماڈل** تھا، بالکل ویسا جیسے میں نے کتابوں میں دیکھا تھا۔
    “یہ ہمارا ** تیان وین 1** مشن ہے!” ایک نوجوان سائنسدان جوش سے بولا۔
    “چین کا پہلا مریخ مشن؟” میں نے پوچھا۔
    “جی ہاں! اور یہ نہ صرف مریخ کے مدار میں گیا بلکہ اس نے ایک **روور، ژورونگ** بھی اتارا!”
    میں نے حیرت سے وہ منظر دیکھا۔ زمین سے لاکھوں میل دور، ایک چھوٹا سا روبوٹ مریخ کی سطح پر گھوم رہا تھا، وہاں کی مٹی اور پتھروں کا تجزیہ کر رہا تھا۔ کسے خبر، شاید ایک دن وہاں بھی بستیاں بس جائیں!
    ‎ہمارے گائیڈ، لیو ینگ، نے ہمیں بتایا کہ چین کی خلائی تحقیق میں تیانگونگ ایک سنگ میل ہے، اور یہ چین کی سائنسی ترقی کی کامیابی کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ جب میں نے اس اسٹیشن کے جدید ترین سسٹمز اور چمچماتی مشینوں کو دیکھا، تو مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ انسانی عزم کا مظہر ہے۔ ایک لمحے کے لیے، میں نے خود کو خلا میں اڑتے ہوئے محسوس کیا۔
    ‎جب ہم تیانگونگ کی خلائی اسٹیشن میں داخل ہوئے، تو ایک گہری خاموشی تھی، جیسے خلا میں حقیقت کی گونج ہو۔ میں نے گہری سانس لی، اور وہ عجیب سی فضا محسوس کی جس میں کششِ ثقل کا کوئی اثر نہیں تھا۔ دیواریں چمک رہی تھیں، اور ہر طرف ایک جدیدیت کا اثر تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں خوابوں کو حقیقت کا لباس ملتا تھا، اور میں نے محسوس کیا کہ میں خلا کی لامحدودیت میں ایک لمحے کے لیے غرق ہو چکی ہوں۔
    ‎چین کے خلائی اسٹیشن میں ہمارے ساتھ تجربے کے لیے کچھ خلاباز بھی تھے۔ ان میں سے ایک، لیو ژی، جو پہلے ہی کئی خلائی مشن میں شامل ہو چکے تھے، ہمیں بتا رہے تھے کہ خلا میں جانے کا سب سے حیرت انگیز تجربہ کیا ہوتا ہے۔”خلاء میں جب آپ وزن کی کمی کا تجربہ کرتے ہیں، تو وہ لمحہ کچھ ایسا ہوتا ہے جیسے آپ پر سے زمین کا ہر بوجھ اُتر جائے۔ نیچے سے آپ جب اپنی انگلیاں اُٹھاتے ہیں، تو وہ فضا میں معلق رہ جاتی ہیں۔ اس لمحے میں آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ زمین کے بوجھ سے آزاد ہو گئے ہیں۔”لیو ژی کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی، جیسے وہ ان لمحوں کو دوبارہ جیتے ہوں، اور میں نے اس بات کو دل سے محسوس کیا۔چین کے خلائی اسٹیشن میں کھانا کھانے کا اپنا ایک الگ طریقہ تھا۔ خلا میں رہتے ہوئے، کھانے کا تجربہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ کھانے کی ہر چیز پیکٹ میں بند ہوتی ہے، اور یہ پیکٹ خلا میں کھولے جاتے ہیں، تاکہ کھانا ہوا میں نہ بکھر جائے۔ میں نے کھانے کی میز پر ایک چھوٹا سا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔”اسے آپ ‘خلا کا کھانا’ بھی کہہ سکتے ہیں!” لیو ژی نے مسکراتے ہوئے کہا۔میں نے پیکٹ کھولا، اور جیسے ہی کھانا باہر نکالا، وہ ہوا میں معلق ہو گیا، جیسے کسی جادوئی حرکت سے۔ وہ منظر میرے ذہن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔سب سے دلچسپ تجربہ وہ لمحہ تھا جب ہم نے خلا سے زمین کو دیکھنے کا
    ‎موقع پایا۔ تیانگونگ کے خلائی اسٹیشن کی کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں، اور باہر نیلا سیارہ زمین نظر آ رہا تھا۔ نیچے سمندر، سرسبز میدان، اور وہ چھوٹے چھوٹے جزیرے، جنہیں میں نے ہمیشہ زمین سے دیکھا تھا، اب خلا سے ایک چمکتے ہوئے نیلے گلوب کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔”یہ وہ منظر ہے جو انسان کے خوابوں میں ہوتا ہے، اور اب میں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔” میں نے لیو ژی سے کہا۔ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، جیسے وہ جانتے ہوں کہ خلا میں رہتے ہوئے ایک لمحہ ایسا ہوتا ہے جو ہمیشہ کے لیے انسان کو بدل دیتا ہے۔”یہ منظر صرف سائنسی نہیں، بلکہ فلسفے کا حصہ ہے۔ جب آپ خلا سے زمین کو دیکھتے ہیں، تو آپ کو انسانیت کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے—ہم سب ایک ہی سیارے پر ہیں، اور ہمیں اس کی حفاظت کرنا ہے۔”
    چاند کا چمکتا ہوا چہرہ ہمیشہ سے ہی انسانی تجسس کا مرکز رہا ہے، اس کی نرم روشنی میں وہ تمام سوالات چھپے ہوئے ہیں جن کا جواب اب تک ہمیں نہیں مل سکا۔ لیکن چاند کا ایک اور پہلو بھی تھا، وہ جو کبھی زمین سے نظر نہیں آتا تھا، جیسے ایک راز جو صرف آسمان کے اس حصے میں دفن ہو۔ اور پھر ایک دن، چین نے اس راز کو آشکار کرنے کا ارادہ کیا۔
    چاند کے تاریک پہلو کو تسخیر کرنے کے لئے “چانگ ای 6″ کا مشن روانہ ہوا۔ یہ مشن محض ایک خلائی تحقیق نہیں تھی، بلکہ انسانیت کے خوابوں کی پرواز تھی، جس میں ایک نیا قدم تھا۔ جیسے کسی پرانے افسانے کا آغاز ہوتا ہے، ویسا ہی کچھ اس سفر میں تھا، جو نہ صرف چین کی سائنسی ترقی کی علامت بننے والا تھا، بلکہ پوری دنیا کو یہ دکھانے جا رہا تھا کہ انسانوں کا تجسس آسمانوں تک پھیل چکا ہے۔
    وہ لمحہ یادگار تھا جب چانگ ای 6 نے چاند کی سرحدوں کو چھوا۔ چاند کی سطح پر اس کا رشتہ ہر ایک نے محسوس کیا۔ وہاں پر ہلکی سی خاموشی تھی، جیسے چاند خود بھی اپنی حقیقت کی تلاش میں تھا۔ خلا میں جاکر جب اس نے چاند کے تاریک پہلو کو اپنی گرفت میں لیا، تو یہ اس عظیم سفر کا آغاز تھا جس میں صرف سائنسی تحقیقات نہیں، بلکہ انسان کے اندر ایک نئی آگ، ایک نئی امید جاگ رہی تھی۔
    چاند کے تاریک پہلو کی تسخیر کی کہانی ایک ایسی داستان بن چکی تھی، جو آسمانوں کی سرحدوں کو پار کر کے زمین پر گونج رہی تھی۔
    میں نے خلا میں کسی غیر مری نقطے کو کھوجتے ہوئے سوچا ۔
    ‎”یہ ہے چین کا سب سے نیا قمری مشن، چانگ ای 6!” لیو ینگ نے اسکرین پر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ‎میں چونک کر لیوینگ کی جانب متوجہ ہوئ ۔میں نے غور سے دیکھا۔ اسکرین پر ایک چاند گاڑی چاند کی ناہموار سطح پر چل رہی تھی، اور پس منظر میں نیلا سیارہ زمین دمک رہا تھا۔”چانگ ای 6 وہ واحد مشن ہے جو چاند کے تاریک پہلو تک پہنچا اور وہاں سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے واپس لایا۔” لیو ینگ کی آواز میں فخر جھلک رہا تھا۔
    ‎میرے ذہن میں ایک سوال آیا۔ “لیکن چاند کے تاریک پہلو میں کیا خاص بات ہے؟”انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “وہ حصہ زمین سے ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے۔ یہاں کے نمونے ہمیں چاند کے آغاز اور نظامِ شمسی کی تاریخ کے بارے میں نئی معلومات دے سکتے ہیں۔”
    ‎مجھے وہ لمحہ یاد آیا جب میں نے خبر پڑھی تھی کہ چانگ ای 6 کے ساتھ پاکستان کا پہلا چاندی سیٹلائٹ آئی کیوب قمر بھی بھیجا گیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے دل میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
    ‎”شاید وہ دن اب زیادہ دور نہیں، جب پاکستان بھی اپنا پہلا خلائی مشن چاند کی جانب روانہ کرے گا۔”
    ‎چاند کے تاریک حصے کی طرف سفر ایک جرات مندانہ مشن تھا، اور جب لیو ینگ نے ہمیں بتایا کہ چاند کے اس حصے میں ابھی تک کسی انسان کے قدم نہیں پہنچے، تو مجھے ایک عجیب سی پر اسرار کیفیت محسوس ہوئی۔ اس مشن کی کامیابی نے چین کو خلا کے میدان میں ایک نیا مقام دیا، اور یہ پاکستان کے ساتھ مل کر خلائی تحقیق میں عالمی تعاون کا بھی نشان تھا۔
    ‎”آپ کو معلوم ہے؟” لیو ینگ نے مسکراتے ہوئے کہا، “چاند کی تاریک سطح پر جانے کا مطلب صرف سائنس کا حصول نہیں، بلکہ انسان کے خلا میں قدم جمانے کی جرات کا اظہار بھی ہے۔
    “میں نے لیو ینگ کی بات سنی اور ایک لمحے کے لیے توقف کیا۔ پھر میں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ‘بالکل، یہ صرف سائنسی تحقیق نہیں، بلکہ انسان کے حوصلے اور لگن کا اظہار ہے۔ چاند کی تاریک سطح پر قدم رکھنا، جیسے انسان نے نہ صرف خلا کی وسعتوں کو تسخیر کیا ہو، بلکہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دیا ہو۔’
    مزید آگے بڑھتی ہوں تو ہال کے دوسرے کونے میں ایک سرخ ہولوگرام چمک رہا تھا۔ جیسے وہ مریخ کا سرخ خواب ہو ۔ میں جب اس کے قریب پہنچی، میں نے دیکھا کہ یہ مریخ کی سطح کا تین جہتی ماڈل تھا، بالکل ویسا ہی جیسے میں نے کتابوں اور تصویروں میں دیکھا تھا۔
    ‎یہ چین کا پہلا مریخ مشن، تیان وین 1 ہے! ایک نوجوان سائنسدان نے جوش سے کہا۔میں نے حیرت سے اس ماڈل کو دیکھا۔ “چین کے لیے یہ مشن کتنا اہم تھا؟” میں نے پوچھا۔”بہت زیادہ! تیان وین 1 نہ صرف مریخ کے مدار میں پہنچا، بلکہ اس نے کامیابی سے وہاں ایک روور بھی اتارا جو اب بھی مریخ کی سطح کا تجزیہ کر رہا ہے۔”
    ‎میں نے تصور کیا کہ زمین سے لاکھوں میل دور، سرخ مٹی کے درمیان ایک چینی روبوٹ گھوم رہا ہے، نئے راز تلاش کر رہا ہے۔
    ‎یہ مشن چین کے لیے محض ایک سائنسی کامیابی نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے نئی راہیں کھولنے کی کوشش بھی تھا۔
    ‎”

  • کینیڈا  امریکا کشیدگی اور پاکستانی مسافروں پر اثرات ۔۔۔ڈاکٹر بشارت ریحان  (کینیڈا )

    کینیڈا امریکا کشیدگی اور پاکستانی مسافروں پر اثرات ۔۔۔ڈاکٹر بشارت ریحان (کینیڈا )

    دنیا بھر میں بین الاقوامی تعلقات کبھی یکساں نہیں رہتے۔ ممالک کے درمیان کشیدگی، تجارتی جنگوں، سفارتی تنازعات یا پالیسیوں کے اختلافات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ حال ہی میں کینیڈا اور امریکا کے درمیان کچھ معاملات پر کشیدگی دیکھی گئی ہے، جس کے اثرات نہ صرف ان دونوں ممالک کے شہریوں پر پڑ رہے ہیں، بلکہ تیسرے ملک سے آنے والے مسافروں، خاص طور پر پاکستانیوں پر بھی اس کے کچھ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم کینیڈا اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی کے پس منظر، اس کے ممکنہ اثرات اور پاکستانی مسافروں کے لیے سفری حکمت عملی پر بات کریں گے۔

    کینیڈاا اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے اسباب
    کینیڈا اور امریکا طویل عرصے سے قریبی اتحادی اور تجارتی شراکت دار رہے ہیں، لیکن کچھ معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کی چند اہم وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:

    1. معاشی و تجارتی تنازعات
    – دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے (جیسے USMCA) کے تحت کچھ مسائل پر اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔
    – کینیڈا کی بعض صنعتوں (جیسے لکڑی، ڈیری مصنوعات) پر امریکی پابندیاں یا ٹیرفز کے خلاف کینیڈا کی طرف سے رد عمل۔

    2. امن و سلامتی کے معاملات
    – امریکا بعض عالمی تنازعات (جیسے مشرق وسطیٰ، یوکرین جنگ) پر کینیڈا سے مختلف موقف اختیار کر سکتا ہے۔
    – دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تحفظ اور امیگریشن پالیسیوں پر بھی اختلافات ہو سکتے ہیں۔

    3. سیاسی و سفارتی مسائل
    – بعض اوقات دونوں ممالک کے رہنماؤں کے بیانات یا پالیسی فیصلوں سے کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔

    کشیدگی کے پاکستانی مسافروں پر ممکنہ اثرات
    اگرچہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی ابھی تک کسی بڑے بحران کی شکل اختیار نہیں کر سکی، لیکن پاکستانی مسافروں کو ان ممکنہ اثرات کا خیال رکھنا چاہیے:

    1. ویزا پالیسیوں میں تبدیلی
    – اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو دونوں ممالک اپنی امیگریشن پالیسیوں کو سخت کر سکتے ہیں۔
    – پاکستانیوں کے لیے ویزا حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر سیکیورٹی چیکس بڑھا دیے جائیں۔

    2. پروازوں اور سفری راستوں پر اثر
    – کینیڈا اور امریکا کے درمیان پروازوں میں کمی یا اضافی چیکنگ کے عمل سے پاکستانی مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    – اگر کوئی پاکستانی مسافر کینیڈا سے امریکا یا اس کے برعکس سفر کرنا چاہتا ہے تو اسے اضافی دستاویزات یا اجازت ناموں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

    3. سیکیورٹی اور امیگریشن چیکنگ میں اضافہ
    – کشیدگی کی صورت میں دونوں ممالک ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی چیکنگ بڑھا سکتے ہیں، جس سے پاکستانی مسافروں کو زیادہ تفتیش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    4. مالی اثرات (زر مبادلہ، ٹکٹ کی قیمتیں)
    – اگر تجارتی تنازعات بڑھیں تو کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے، جس سے پاکستانی مسافروں کے لیے امریکا یا کینیڈا میں رہنے کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
    – ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔


    پاکستانی مسافروں کے لیے سفری حکمت عملی
    ان حالات میں پاکستانی مسافروں کو مندرجہ ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:

    1. سفر سے پہلے مکمل تحقیق کریں
    – امریکا یا کینیڈا جانے سے پہلے دونوں ممالک کی موجودہ سفری پالیسیوں کو چیک کریں۔
    – ویزا کی شرائط میں کوئی تبدیلی تو نہیں ہوئی، اس کا جائزہ لیں۔

    2. تمام ضروری دستاویزات تیار رکھیں
    – پاسپورٹ، ویزا، انشورنس، قونصلگری سے متعلقہ خطوط، اور دیگر ضروری کاغذات کو اپنے ساتھ رکھیں۔
    – اگر آپ کینیڈا سے امریکا یا امریکا سے کینیڈا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان سفری قوانین کو سمجھیں۔

    3. سفر کے دوران صبر و تحمل سے کام لیں
    – ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی چیکنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے، لہٰذا جلدی پہنچیں اور صبر سے کام لیں۔

    4. مالی منصوبہ بندی کریں
    – کرنسی کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اخراجات کا تخمینہ لگائیں۔
    – ہوٹل بک کرتے وقت قابل برداشت قیمتوں کا انتخاب کریں۔

    5. سفارتخانوں سے رابطہ رکھیں
    – اگر کوئی ہنگامی صورتحال پیش آئے تو پاکستانی سفارتخانوں سے فوری رابطہ کریں۔

    نتیجہ
    کینیڈا اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی فی الحال کسی بڑے بحران کی شکل اختیار نہیں کر سکی، لیکن پاکستانی مسافروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ ویزا پالیسیوں، سیکیورٹی چیکنگ اور مالی معاملات میں تبدیلیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو پاکستانی مسافر ان حالات میں بھی محفوظ اور آرام دہ سفر کر سکتے ہیں۔

  • روس سے کشیدگی، جرمن قوم کسی ممکنہ جنگ کے لیے تیار نہیں…..سرور غزالی

    روس سے کشیدگی، جرمن قوم کسی ممکنہ جنگ کے لیے تیار نہیں…..سرور غزالی

    یوکرین اور روس کے مابین جنگ ہنوز جاری ہے۔ اس سلسلے میں روس نے متعدد بار جرمنی کو اس بات پر متنبہ کیا کہ وہ یوکرین کی حمایت میں اتنا آگے نہ بڑھے کہ یہ حمایت خوداس کے لیے خطرہ بن جائے۔ جون 2026 میں بھی کریمل کے چیف والڈی میر پوٹین نے جرمنی کو یہ دھمکی دی تھی کہ جرمنی کا یوکرائن کو اسلحے کی ترسیل کا عمل خود جرمنی کے لیے خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ جب کہ ماضی میں جرمنی ہمیشہ ہی اس بارے میں یہ وضاحت دیتا رہا ہے کہ جرمنی ایسا اسلحہ یوکرین کو نہیں دے رہا جس کی پہنچ روس تک ہو۔
    مگر اب روس نے ایک دفعہ پھر اپنے سرکاری ٹیلی ویژن کے ذریعے نو منتخب چانسلر امیدوار مسٹر میرز کی اپنی تقرری سے قبل اس بات کے اعادہ پر، کہ جرمنی کی نئی حکومت یوکرین کو اسلحے کی ترسیل جاری رکھے گی۔ اور درمیانی فاصلے تک کی مار والے طارس راکٹ یوکرین کو ضرور مہیا کرے گی۔ مسٹر میرز کے بیان کے جواب میں روس نے جوابی کاروائی کی دھمکی دی ۔ روسی ٹی وی کے ایک جرنلسٹ والڈیمیر سلو یو نے روسی سرکاری ٹی وی پر گفتگو کے دوران یہ کہا ہے کہ ہم جرمنی کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے اگر اس نے یوکرین کو مزید اسلحے کی ترسیل جاری رکھی تو۔ روسی ٹی وی کے یہ جرنلسٹ والڈیمر سلو یو، صدر پوٹین کے ایک اہم حمایتی ہیں۔ اور ان کا بیان روس کی برہمی کو واضح کرتا ہے۔
    ممکنہ روسی حملے کے پیش نظر جرمنی اپنے آپ کو نہ صرف اسلحے سے مرسع کررہا ہے بلکہ دیگر فوجی تنصیبات کو ازسر نو محفوظ بھی بنا رہا ہے۔
    جرمنی میں حالیہ قرضے لینے کے قوانین کا بل پاس ہوا ہے۔ اس میں ایک بڑی رقم اسلحے کی تیاری، خریداری اور فوج کو جدید خطوط پر تیار کرنے کے لیے مختص کی گئی ہے۔
    اس سلسلے میں جرمنی میں ریزرو فوجیوں کی ایک بڑی تنظیم کے صدر مسٹر فالرر نے بھی کافی تفصیل سے ایک بیان دیا ہے اور جس میں انہوں نے جرمنی کی فوجی قوت کو بڑھانے کی طرف توجہ دلائی ہے اور لازمی فوجی سروس کو از سر نو لاگو کیے جانے کی بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ جس کے تحت تمام نوجوانوں کو 18 سال کی عمر کے بعد لازمی فوجی تربیت دی جاتی تھی جسے بعد میں ختم کر دیا گیا تھا۔ اس پر ازسر نو غور کیا جا رہا ہے کہ اس لازمی سروس کو پھر سے بحال کیا جائے۔
    جرمنی کے ایک مشہور ٹی وی ٹاکر زونکے نیت سیل نے، کارن میوز کا کے ایک ٹاک شو میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہ کہا ہے امن کا یہ شاید آخری موسم گرما ہو جسے ہم گزار رہے ہیں۔ ان کے کہنے کے مطابق ہم ابھی پرامن طریقے سے اس سال کا موسم گرما منا رہے ہیں لیکن شاید یہ ہمارا آخری پرامن موسم گرما ہو ان کا یہ بیان دراصل جرمنی کے ایک فوجی تاریخ کے ماہر کے بیان کی تصدیق کی صورت میں تھا جس میں انہوں نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روس، بیلاروس کے ساتھ مل کر بالٹک سمندر کی جانب سے موسم خزاں میں جرمنی پہ حملہ کرے گا۔
    اسی ٹاک شو میں ایک اور خاتون زبینے آڈلر نے بات چیت کے دوران کہا کہ یورپین یونین اور ناٹو کو درحقیقت جنگ کے خطرات کا سامنا ہے۔ زبینے آڈلر مشرقی یورپ کے معاملات کی ماہر سمجھی جاتی ہیں۔ جن کے مطابق روس نے حملے کی پوری تیاری کر لی ہے۔

    اسی طریقے سے جرمنی کے ایک اہم ٹیلیویژن، اے آر ڈی پر فوجی تاریخ کے ایک پروفیسر نے یہ بتایا ہے کہ ہم لوگ اصلی جنگی خطرات سے آنکھ بند کیے کب تک بیٹھے رہ سکتے ہیں ان کے بیان کے مطابق جرمنی فوجی تعمیر نو کی طرف سے عرصے سے منہ چراتا رہا ہے لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اس جانب بھرپور طور پر، سنجیدگی سے توجہ دے۔
    اس طرح کے ٹی وی ٹاک اور اخبارات میں ہونے والے بیانات اور مباحث نے عوام کے اندر کافی بے چینی اور مایوسی پھیلا دی ہے۔
    بالٹک سمندر پر ہر سال موسم گرما میں سیاحوں کی بڑی تعداد آتی ہے جو کہ اس علاقے کی آمدنی کا واحد ذریعہ بھی ہے۔ اس طرح کے مایوس کن بیانات اور صورتحال کے پیش نظر جرمنی کی سیاحت کی تنظیم نے اس سال بالٹک سمندر پر آنے والے سیاحوں کی کمی کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
    جنگ عظیم دوم کی شکست کے بعد جرمنی کا ہمیشہ سے یہ رویہ رہا تھا کہ جرمن سرزمین سے پھر کسی جنگ کا آغاز نہ ہو۔ عرصہ دراز تک امریکی، فرانسیسی، برطانوی اور خاص کر روسی تسلط نے جرمنی کے اندر ایک انتہائی
    passive
    جنگ سے دور رہنے کے رویے کو جنم دیا تھا یہی وجہ ہے کہ جرمنی میں فوجی لازمی تربیت کو بھی ختم کر دیا گیا تھا۔ اب روس کے یوکرین پر حملے اور اس پر جرمنی کے رد عمل کے بعد معاشرے میں اس صورتحال کو بدلے جانے کی تمام کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن عوام میں اب بھی جنگ سے دور رہنے کا رویہ اور جنگ کے مضمرات کا خوف موجود ہے۔ جنگ کی مذمت کی وجہ سے عملی طور پر جرمن قوم ابھی کسی جنگ کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔

  • ٹیرف کیا ہے امریکانے یہ اقدام کیوں اٹھایا؟…. حمیرا گل تشنہ

    ٹیرف کیا ہے امریکانے یہ اقدام کیوں اٹھایا؟…. حمیرا گل تشنہ

    ٹیرف کیا ہے؟ ٹیرف درحقیقت ایک قسم کا محصول یا ٹیکس ہے جو کسی ملک کی حکومت بیرون ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر عائد کرتی ہے۔ یہ محصولات درآمد کنندہ کمپنیوں کو ادا کرنا ہوتے ہیں جو پھر عام طور پر صارفین تک منتقل ہو جاتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 اپریل 2025 کو ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے تقریباً 100 ممالک پر نئے ٹیرفز عائد کرنے کا فیصلہ کیا، جسے انہوں نے “یوم آزادی” قرار دیا۔ اس پالیسی کے تحت تمام ممالک پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا جبکہ کچھ ممالک پر یہ شرح بہت زیادہ بھی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی معیشت کی بحالی اور تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے ضروری تھا۔ امریکاکا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیرفز “باہمی” (reciprocal) ہیں۔ یعنی جو شرح دیگر ممالک امریکی مصنوعات پر عائد کرتے ہیں، امریکا بھی تقریباً اسی حساب سے ان ممالک کی مصنوعات پر ٹیرفز لگا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف اس بنیاد پر عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان خود امریکی مصنوعات پر 58 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے۔

    عالمی معیشت پر ٹیرف کے اثرات ایک ایٹم بم کے برابر ہے۔ امریکی ٹیرفز کے اعلان نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ماہر اقتصادیات کین روگوف نے اسے “عالمی تجارتی نظام پر ایٹم بم گرانے جیسا عمل” قرار دیا ہے۔ یہ اقدام درحقیقت 1930 کی دہائی کے بعد سے عالمی تجارت پر عائد ہونے والے سب سے بڑے محصولاتی اقدامات میں سے ایک ہے۔
    ٹیرف کے منفی اثرات:
    1) کساد بازاری کا خدشہ: فچ ریٹنگ ایجنسی میں امریکی اقتصادی تحقیق کے سربراہ اولو سونالو نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے بہت سے ممالک کساد بازاری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    2) مارکیٹس میں مندی: ایشیا کی مختلف مارکیٹس میں اعلان کے فوراً بعد مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

    3) گلوبل جی ڈی پی میں کمی: جے پی مورگن ریسرچ کے مطابق، یہ اقدام امریکی جی ڈی پی میں 0.2 فیصد کی کمی کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ عالمی جی ڈی پی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    4) مہنگائی میں اضافہ: یہ ٹیرفز امریکا میں مہنگائی کو بڑھا سکتے ہیں، جس سے فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود کے فیصلے مشکل ہو جائیں گے۔

    5) تجارتی جنگ کا خطرہ: یورپی یونین کی ایگزیکٹو ہیڈ ارسولا وان ڈیر لیین نے اسے “عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا” قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے تحفظ پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    مثبت پہلو (امریکی نقطہ نظر):

    1) مقامی صنعت کی حمایت: ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام امریکی صنعت کاروں کی مدد کرے گا، خاص طور پر ان کمپنیوں کو جو اپنی مصنوعات امریکامیں ہی تیار کرتی ہیں۔

    2) تجارتی عدم توازن میں کمی: امریکا کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ ٹیرفز طویل مدتی میں تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    پاکستان پر ٹیرف کے اثرات: چیلنجز اور مواقع

    پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن پر امریکہ نے نسبتاً زیادہ ٹیرف (29 فیصد) عائد کیا ہے۔ یہ شرح چین (34 فیصد)، ویت نام (46 فیصد) یا بنگلہ دیش (37 فیصد) سے کم ہے، لیکن بھارت (26 فیصد) سے زیادہ ہے۔

    پاکستان پر فوری ہونے والے منفی اثرات:

    1) برآمدات پر دباؤ: امریکا پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے، جہاں پاکستان سالانہ تقریباً 6 ارب ڈالر مال برآمد کرتا ہے جو ملک کی کل برآمدات کا 18 فیصد ہے۔

    2) ٹیکسٹائل صنعت کو شدید دھچکا: پاکستان کی کل برآمدات کا 75- 80 فیصد ٹیکسٹائل پر مشتمل ہے، اور اس ٹیرف سے یہ شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔

    3) صارفین کو مہنگائی کا سامنا: چونکہ پاکستانی درآمد کنندگان کو ٹیرف ادا کرنا ہو گا، اس لیے ممکن ہے کہ یہ اضافی لاگت صارفین تک منتقل ہو جائے۔

    4) امریکی سرمایہ کاری میں کمی کا خدشہ: یہ اقدام پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کے رجحان پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

    طویل مدتی مواقع:

    1) متبادل مارکیٹس کی تلاش: ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چین، یورپی یونین اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔

    2) مصنوعات میں تنوع: یہ بہترین موقع ہے کہ پاکستان ٹیکسٹائل سے ہٹ کر دیگر شعبوں میں بھی برآمدات بڑھائے۔

    3) مقامی صنعت کی ترقی: زیادہ ٹیرفز کے باعث پاکستانی مصنوعات کو مقامی مارکیٹ میں فائدہ ہو سکتا ہے۔

    4) علاقائی تجارت: پاکستان کے لیے خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کا موقع موجود ہے۔

    پاکستان کے مختلف شعبوں پر اثرات
    ٹیکسٹائل صنعت:
    پاکستانی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے صورتحال کچھ پیچیدہ ہے۔ ایک طرف تو انہیں 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، لیکن دوسری جانب پاکستان کے مقابل ممالک جیسے بنگلہ دیش (37 فیصد) اور ویت نام (46 فیصد) پر اس سے بھی زیادہ ٹیرفز عائد کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ پاکستانی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، لیکن کچھ حریف ممالک کی مصنوعات اور بھی مہنگی ہو جائیں گی۔

    زراعت:
    پاکستان کی زرعی برآمدات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر چاول اور کپاس کی برآمدات پر۔

    جوہری اور دفاعی شعبہ:
    حال ہی میں امریکانے پاکستان کی 19 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک ہونے کے الزام میں ہیں۔ یہ پابندیاں ٹیرفز سے الگ ہیں، لیکن یہ دونوں اقدامات مل کر پاکستان اور امریکاکے درمیان تجارتی تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

    پاکستانی حکومت اور صنعت کا ردعمل:
    پاکستانی حکومت نے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن ماہرین اقتصادیات مختلف ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں:

    1) معاشی ماہر علی حسنین (LUMS) کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے، لیکن امریکا کو برآمدات پاکستان کے جی ڈی پی کا صرف 1.5 فیصد ہیں، اس لیے مجموعی معیشت پر اثر محدود ہو گا۔

    2) ساجد امین (SDPI) کے مطابق فوری اثرات منفی ہوں گے اور پاکستان کو مقامی پیداوار کو سبسڈی دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

    3) عدیل نخودہ (IBA) کا خیال ہے کہ پاکستان کو یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں۔

    مستقبل کے امکانات اور سفارشات
    امریکی ٹیرفز کے طویل مدتی اثرات کا انحصار متعدد عوامل پر ہو گا:

    1) ٹیرفز کی مدت: کیا یہ عارضی ہوں گے یا طویل مدتی پالیسی کا حصہ بن جائیں گے؟

    2) بین الاقوامی ردعمل: دیگر ممالک کیسا ردعمل دیتے ہیں، خاص طور پر یورپی یونین اور چین؟

    3) پاکستانی صنعت کی لچک: پاکستانی برآمد کنندگان کس حد تک اس تبدیلی کے ساتھ ایڈجسٹ کر پاتے ہیں۔

    سفارشات پاکستان کے لیے:

    1) برآمدات میں تنوع: صرف ٹیکسٹائل پر انحصار کم کرتے ہوئے دیگر شعبوں میں برآمدات بڑھائی جائیں۔

    2) مارکیٹس کی متنوع سازی: امریکااور یورپی یونین کے علاوہ دیگر مارکیٹس تلاش کی جائیں۔

    3) مصنوعات کے معیار بہتری: اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کر کے ٹیرف کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    4) دولت مشترکہ مارکیٹس پر توجہ: پاکستان کو دولت مشترکہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں۔

    5) علاقائی تجارتی معاہدے: خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیرفز کا اعلان عالمی تجارتی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ امریکاکا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام اس کی معیشت کو فائدہ پہنچائے گا، لیکن زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے نتیجے میں عالمی تجارت سکڑے گی، مہنگائی بڑھے گی اور معاشی نمو متاثر ہو گی۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک چیلنجنگ صورتحال ہے، لیکن ساتھ ہی یہ موقع بھی ہے کہ وہ اپنی برآمدی پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لے اور معیشت میں تنوع پیدا کرے۔ پاکستان کو اپنی مصنوعات کی قیمت اور معیار دونوں پر کام کرنا ہو گا تاکہ وہ عالمی منڈی میں اپنا مقام برقرار رکھ سکے۔

    حتمی تجزیہ یہ ہے کہ جب تک امریکااور دیگر ممالک کے درمیان تجارتی تناؤ کم نہیں ہوتا، عالمی معیشت غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار رہے گی، اور ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان کو اس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ صنعت کاروں کے ساتھ مل کر جلد ایک جامع حکمت عملی تیار کرے تاکہ اس بحران کو موقع میں بدلا جا سکے۔

  • ویرات کوہلی کی دوران میچ دل کی دھڑکن تیز ،مداحوں میں تشویش

    ویرات کوہلی کی دوران میچ دل کی دھڑکن تیز ،مداحوں میں تشویش

    ممبئی ( کنزیو مر واچ نیوز)بھارت کے مایہ ناز بیٹر اور آئی پی ایل کی ٹیم رائلز چیلنجر بنگلور کے کھلاڑی ویرات کوہلی کی دوران میچ دل کی دھڑکن تیز ہوگئی، جس پر انہوں نے مخالف ٹیم کے وکٹ کیپر کو اپنے دل کی دھڑکن چیک کرنے کا کہا۔بھارت کے اسٹار بیٹر ویرات کوہلی آئی پی ایل میں رائل چیلنجر بنگلور کی نمائندگی کررہے ہیں، راجستھان رائلز کیخلاف بیٹنگ کے دوران رنز مکمل کرنے کے بعد انہوں نے مخالف ٹیم کے وکٹ کیپر سنجو سیمسن سے دل کی دھڑکن چیک کرنے کیلئے کہا۔سنجو سیمسن نے وکٹ کیپنگ گلوز اتار کر کوہلی کے دل کی دھڑکن چیک کی اور ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا کہ سب کچھ نارمل ہےبعد ازاں ویرات کوہلی کو گراؤنڈ میں ٹریٹمنٹ لیتے بھی دیکھا گیا، کوہلی کی جانب سے دل کی دھڑکن چیک کرنے کا کہنے اور گراؤنڈ میں طبی امداد ملنے کے باعث ان کے مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

  • اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، 6 سگے بھائیوں سمیت 37 فلسطینی شہید

    اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، 6 سگے بھائیوں سمیت 37 فلسطینی شہید

    غزہ سٹی(کنزیو مر واچ نیوز) غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ حملوں میں 6 سگے بھائیوں سمیت کم از کم 37 فلسطینی شہید ہو گئے، جبکہ اسپتالوں، بچوں اور امدادی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اتوار کو غزہ کے علاقے دیر البلح میں خوراک تقسیم کرنے والے 6 سگے بھائیوں کو اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ شہداء کی عمریں 10 سے 34 سال کے درمیان تھیں۔شہداء کے والد زکی ابو مہدی نے بتایا کہ ان کے بیٹے جنگ کے آغاز سے ہی غریبوں کی مدد کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بھی تصدیق کی کہ ایک فلسطینی بچہ طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔

  • شہور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ و اغوا  کیس کا فیصلہ آ   گیا

    شہور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ و اغوا کیس کا فیصلہ آ گیا

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)انسداد دہشت گردی عدالت نے مشہور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ و اغوا برائے تاوان کیس کا فیصلہ سنا دیا۔لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ اور اغوا برائے تاوان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان کو سزا جبکہ دیگر کو بری کر دیا۔جج ارشد جاوید نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان آمنہ عروج، ممنون حیدر اور زیشان کو تاوان طلب کرنے کے جرم میں سات، سات سال قید کی سزا سنائی۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اغوا کا الزام ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے اس بنیاد پر سزا نہیں دی گئی۔

  • نجومی نے سلمان خان کو محتاط رہنے کا مشورہ دیدیا

    نجومی نے سلمان خان کو محتاط رہنے کا مشورہ دیدیا

    ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)بھارت کے مشہورنجومی گیتانجلی سکسینا نے بالی وڈ دبنگ اسٹار سلمان خان کے کیرئیر اور سکیورٹی سے متعلق ایک اور بڑی پیشگوئی کردی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گیتانجلی سکسینا نامی نجومی نے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ’پیشہ ورانہ طور پر سلمان خان کا سال 2024 سازگار نہیں رہا اور آئندہ سالوں کیلئے انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی نئی فلم کی ریلیز سے باز رہیں‘ ۔نجومی نے کہا کہ ’سلمان خان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں لیکن اس کے باوجود سلمان کو رواں برس ستمبر اکتوبر کے آس پاس محتاط رہنا پڑے گا‘۔

  • عمران خان کی رہائی کی کوششوں کے حوالے سے اہم انکشافات

    عمران خان کی رہائی کی کوششوں کے حوالے سے اہم انکشافات

    لندن: (کنزیومر واچ نیوز)سابق وزیر اعظم اور جیل میں بند پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے گزشتہ سال نومبر میں ایک ایسے شخص سے طویل بات چیت کی تھی جو اب اعلیٰ حکام کے ساتھ حالیہ اہم بات چیت کا حصہ ہیں۔ انگریزی اخباردی نیوز کے مطابق یہ مذاکرات عمران خان کی رہائی اور پی ٹی آئی اور طاقتور حکام کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ممکنہ طریقے تلاش کرنے کے بارے میں ہیں۔ انتہائی موقر ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ امریکی پاکستانیوں کے ایک گروپ کے گزشتہ ماہ (مارچ) کے تیسرے ہفتے میں عمران خان کے ساتھ مذاکرات سے بہت پہلے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ایک ایسے شخص کے درمیان بات چیت کے کئی سیشنز منعقد ہوئے تھے، یہ شخص اب حالیہ مذاکرات اور بات چیت کا حصہ ہے۔ عمران خان اور طاقتور پاکستانی انتظامیہ کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کیلئے جو کوششیں ہو رہی ہیں اُن میں فوُڈ اور ریئل اسٹیٹ کی امریکی پاکستانی شخصیت تنویر احمد، تحریک انصاف امریکا چیپٹر کے سینئر رہنما عاطف خان، سردار عبدالسمیع، ڈاکٹر عثمان ملک، ڈاکٹر سائرہ بلال اور ڈاکٹر محمد منیر شامل ہیں۔جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے والے امریکی پاکستانی افراد دو دہائیوں سے عمران خان کے ذاتی دوست اور انہیں عطیات دیتے رہے ہیں، جب عمران خان وزیراعظم تھے تب بھی ملاقات کیلئے آتے رہتے تھے اور امریکا سے پاکستان آنے والے وفد کو جوڑنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اِن دو ملاقاتوں کے دوران جو کچھ ہوا؛ ان کے متعلق معتبر ذرائع نے دلچسپ معلومات شیئر کی ہیں۔گزشتہ سال امریکی پاکستانیوں کے ساتھ نومبر میں ہوئی ملاقات کے دوران عمران خان نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی ضرورت کو سمجھا اور معاملات کے حل کیلئے تقریباً حامی ظاہر کی اور پھر انہیں یقین دلایا گیا کہ لاکھوں لوگ اسلام آباد لانگ مارچ میں شامل ہوں گے جس سے اس قدر افراتفری پیدا ہوگی کہ نظام کو فیصلہ کن مذاکرات کی طرف لایا جا سکے گا۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے 3 سینئر رہنماؤں نے عمران خان کو یقین دلایا کہ لاکھوں لوگ اسلام آباد پر دھاوا بول دیں گے اور پی ٹی آئی کی شرائط پر عمران خان کو رہا کرایا جائے گا۔ اُس وقت بشریٰ بی بی اس پورے منظرنامے میں شامل نہیں تھیں اور ان کی شمولیت کے حوالے سے بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ عمران خان اس مارچ کی کامیابی کیلئے اس قدر پرامید تھے کہ انہوں نے امریکی پاکستانیوں کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔