Blog

  • میاں بیوی کے درمیان جھگڑےکی ایک غیرمتوقع بڑی وجہ دریافت

    میاں بیوی کے درمیان جھگڑےکی ایک غیرمتوقع بڑی وجہ دریافت

    لندن (کنزیومر واچ نیوز)سائنسدانوں نے میاں بیوی کے درمیان جھگڑوں کی ایک غیرمتوقع بڑی وجہ دریافت کی ہے جو کہ دولت سے متعلق جوڑوں کے خیالات اور رویے ہیں۔جرنل سوشل اینڈ پرسنل ریلیشن شپس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق وہ جوڑے جو دولت کو خوشی کا ذریعہ سمجھتے ہیں ان کے درمیان مالی معاملات پر کم بات چیت ہوتی ہے اور ان کا رشتہ کم اطمینان بخش ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب شادی شدہ جوڑے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دولت خوشی کے لیے اہم ہے تو ان کی ذہنیت مادہ پرست ہو جاتی ہے اور ان کا رویہ تبدیل ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق یہ رویہ ایک دوسرے سے دوری اور تعلقات میں دراڑ کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اگر جوڑوں کے خیالات دولت کے بارے میں ایک جیسے ہوں تو وہ آپس میں زیادہ بات چیت کرتے ہیں اور اپنے تعلق سے زیادہ مطمئن رہتے ہیں۔

  • ملک بھر میں شدید گرمی کی پیشگوئی

    ملک بھر میں شدید گرمی کی پیشگوئی

    اسلام آباد( کنزیومر واچ نیوز)این ڈی ایم اےنےملک بھرمیں آج سے 27 اپریل تک گرمی کی لہر کی پیشگوئی کی ہے۔ایڈوائزری کے مطابق آج خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بارش متوقع ہے۔دوسری جانب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت جیکب آباد میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ایڈوائزری کے مطابق مٹھی، بہاولنگر اور نوابشاہ میں درجہ حرارت 42، کراچی، قصور، لسبیلہ 41 ، لاہور 38، اسلام آباد 36، پشاور 35، مظفر آباد 33، کوئٹہ25، اورگلگت میں 22 ڈگری رہا۔

  • چاقو حملے کے بعد سیف علی خان نے قطر میں عالیشان گھر خرید لیا

    چاقو حملے کے بعد سیف علی خان نے قطر میں عالیشان گھر خرید لیا

    ممبی (کنزیومر واچ نیوز)رواں برس چاقو حملے کے بعد نوابزادہ سیف علی خان نے قطر کے دارالحکومت دوحا میں عالیشان گھر خرید لیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیف علی خان نے قطر کے سینٹ ریگیس مارسا عربیہ نامی جزیرے پر قائم ’ دی پرل ‘ میں ایک عالیشان پراپرٹی میں سرمایہ کاری کی ہے۔سیف علی خان کی جائیدادوں میں شامل آبائی پٹودی محل اور عالیشان باندرہ اپارٹمنٹ کے بعد یہ سرمایہ کاری میں ایک شاندار اضافہ ہے۔واضح رہے کہ سیف علی خان پر رواں برس 16 جنوری کی آدھی رات کو چاقو حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے۔

  • اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے بڑھادئیے،50 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے بڑھادئیے،50 فلسطینی شہید

    غزہ ( کنزیومر واچ نیوز)غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے مزید 50 فلسطینی شہید ہوگئے۔اسرائیلی فوج نے غزہ پر حملے بڑھاتے ہوئے بےگھر فلسطینیوں کے کیمپوں اور خیموں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 24 گھنٹوں میں مزید 50 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔ادھر اردن اور مصر نے اسرائیل اور حماس میں 5 سے 7 سال جنگ بندی کی نئی تجاویز پیش کردیں جب کہ منصوبے میں اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔دوسری جانب اسرائیلی داخلی سلامتی ایجنسی شن بیت کے سربراہ رونن بار نے بیان حلفی میں نیتن یاہو کو اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔اس کے علاوہ یمن میں دارالحکومت صنعا سمیت مختلف مقامات پر امریکی فضائی حملے رپورٹ ہوئے تاہم فوری جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  • فلسطینی بچے کچھوے کا گوشت کھانے پر مجبور

    فلسطینی بچے کچھوے کا گوشت کھانے پر مجبور

    غزہ(کنزیو مر واچ نیوز)61 سالہ فلسطینی خاتون کنان نے غزہ میں خوراک کی قلت کے سبب بچوں کو کچھوے کا گوشت پکا کر کھلانے کا انکشاف کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 61 سالہ کنان اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہونے کے بعد خان یونس کے ایک خیمے میں اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں ۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کے دوران فلسطینی خاتون نے خیمے میں آگ پر پکتے سرخ گوشت کو دیکھتے افسردگی سے بتایا کہ ’بچے کچھوے کھانے سے خوفزدہ تھے لیکن ہم نے انہیں بتایا کہ اس کا ذائقہ مچھلی کی طرح لذیذ ہے، اس کے باوجود کچھ بچوں نے کھانا کھالیا لیکن کچھ نے کچھوے کھانے سے انکار کردیا‘۔ فلسطینی خاتون نے کچھوے پکانے سے متعلق بتایا کہ ’ کھچوے کا خول ہٹا کر اس کا گوشت بنایا جاتا ہے اس کے بعد اس میں پیاز، کالی مرچ، ٹماٹر اور مصالحے ڈال کر اسے پکایا جاتا ہے‘۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں فاقہ کشی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے آئی پی سی آئی پی سی کے مطابق غزہ کی نصف سے زیادہ آبادی فاقہ کشی کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے غزہ میں قحط کے خطرے سے متعلق رپورٹ کو خطرناک فرد جرم قرار دیا ہے۔گزشتہ ماہ آئی پی سی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ کے تمام شہری مئی تک قحط کا شکار ہوجائیں گے۔

  • پاک چین دوستی زمین سے خلا تک….ارم زہرا۔ چین

    پاک چین دوستی زمین سے خلا تک….ارم زہرا۔ چین

    صبح کا سورج بیجنگ کی عمارتوں کے پیچھے سے جھانک رہا تھا، مگر میرے اندر ایک اور ہی روشنی جاگ رہی تھی—جوش کی، بےچینی کی، اور ایک خواب کے حقیقت بننے کی۔ میں نے اپنی زندگی میں کئی بار آسمان کی طرف دیکھا تھا، مگر آج آسمان میرے لیے محض نیلا گنبد نہیں، بلکہ ایک منزل تھا
    ‎ جہاں چاند کی چمک، ستاروں کی ٹمٹماتی روشنی، اور خلا کی بے انتہا وسعت میں ایک عجیب سی کشش نمایاں تھی، جیسے وہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہو۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں زمین سے زیادہ خلا کے قریب ہوں، جیسے اس روشنی میں کوئی راز چھپاہوا ہو، جو صرف ان لوگوں کو دکھائی دیتا ہو جو خلا میں نظر دوڑاتے ہیں۔”
    ‎میں نے زمین پر بےشمار سورج نکلتے اور ڈھلتے دیکھے تھے، مگر آج کا سورج کچھ مختلف تھا۔ آج میں اس جگہ جا رہی تھی جہاں زمین کا دائرہ ختم ہوتا ہے اور بےوزنی کی دنیا شروع ہوتی ہے—تیانگونگ، یعنی “آسمانی محل”۔
    ‎وہی مقام جہاں سے چین نے اپنی خلائی دنیا میں قدم رکھا، جہاں انسان بے وزنی کی کیفیت میں تیرتے ہیں، اور جہاں زمین کو نیلے گلوب کی طرح خلا میں معلق دیکھا جا سکتا ہے۔
    ‎میرے سامنے ایک دروازہ کھلنے والا تھا، ایک ایسا دروازہ جو مجھے ستاروں کے قریب لے جانے کا وعدہ کر رہا تھا۔
    ‎ہماری گاڑی شنگھائی-بیجنگ ہائی اسپیڈ ریل سے ہوتی ہوئی ایک جدید کمپلیکس کے سامنے رکی۔ جیسے ہی میں نے عمارت کی طرف نظر اٹھائی، ایک لمحے کو لگا کہ میں کسی سائنس فکشن فلم کے سیٹ پر آ گئی ہوں۔ اونچی چمچماتی عمارتیں، خودکار دروازے، اور روبوٹ اسسٹنٹس—یہ سب ایک الگ ہی دنیا لگ رہی تھی۔ میں نے گہری سانس لی اور اندر قدم رکھا۔
    ‎ہمارے گائیڈ، لیو ینگ، جو خود بھی ایک خلا باز رہ چکے تھے، انہوں نے مسکراتے ہوئے ہمیں خوش آمدید کہا۔
”آپ پہلی بار تیانگونگ آئی ہیں؟” انہوں نے پوچھا۔
”جی ہاں، اور شاید آخری بار بھی!” میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا، حالانکہ دل چاہ رہا تھا کہ یہ موقع بار بار ملے۔کیونکہ
    ‎یہ ایسی جگہ ہے جہاں تک رسائی صرف منتخب خلا بازوں، سائنسدانوں اور اعلیٰ سطح کے محققین کی ہوتی ہے۔ لیکن میری خوش قسمتی تھی کہ میں یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ وہ رپورٹر جو چین کی خلائی ترقی پر رپورٹنگ کر رہا تھا، اس نے میری دلچسپی اور تحقیق کو دیکھا اور مجھے اس دورے کا حصہ بننے کی اجازت دی ۔
    ‎تیانگونگ کے
    ‎اندر ایک وسیع ہال میں ایک بڑی اسکرین پر چین کے خلائی
    مشنز کی جھلکیاں چل رہی تھیں۔
    چانگ ای 6 کا چاند پر اترنا ، تیان وین 1 کا مریخ کی سرخ سطح پر تحقیق، اور خلائی اسٹیشن پر موجود چینی خلابازوں کی روزمرہ زندگی—یہ سب میرے سامنے کسی جادوئی کہانی کی طرح چل رہا تھا۔
    “آپ کو معلوم ہے؟” لیوینگ مسکراتے ہوئے بولے، “یہی وہ جگہ ہے جہاں چین کے چاند اور مریخ مشنز کی منصوبہ بندی ہوئی، اور جہاں وہ خلاباز تربیت حاصل کرتے ہیں جو کبھی نہ کبھی خلا میں جائیں گے!”
    میں نے حیرت سے اردگرد دیکھا۔ ایک بڑی اسکرین پر *چانگ ای 6* کے مناظر چل رہے تھے، جس نے چاند کے تاریک پہلو سے نمونے اکٹھے کیے تھے۔ ایک طرف * تیان وین 1* کا ماڈل رکھا تھا، وہی مشن جس نے چین کو مریخ پر قدم رکھنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
    ہمارے سامنے ایک دیوار پر چین کے خلائی سفر کی تاریخ درج تھی۔ لیو ینگ نے ہمیں بتایا-
    “چین کا یہ سفر 1970 میں شروع ہوا، جب پہلا مصنوعی سیارہ *Dong Fang Hong 1* خلا میں بھیجا گیا۔ تب کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ ملک ایک دن اپنا خلائی اسٹیشن بھی بنائے گا اور مریخ پر بھی پہنچے گا!”
    میں نے سوچا، کتنا عجیب ہے کہ وہی قوم جو ہزاروں سال پہلے پتنگیں اڑانے میں مشہور تھی، آج راکٹ خلا میں بھیج رہی ہے۔ انسان کی ترقی بھی کیا حیرت انگیز چیز ہے!
    دیوار کے دوسرے حصے میں ایک تصویر تھی۔ ایک شخص خلا میں معلق تھا، اس کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی، جیسے کسی اور ہی دنیا کا راز جان چکا ہو۔
    “یہ ہیں *یانگ لی وی*، جو 2003 میں خلا میں جانے والے پہلے چینی خلا باز بنے!” لیو ینگ نے فخر سے کہا۔
    میں نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں اور تصور کیا کہ وہ لمحہ کیسا ہوگا جب کوئی انسان زمین کی کشش سے آزاد ہو کر ستاروں کے درمیان تیرتا ہوگا
    “یہاں دیکھیں، یہ ہے ہمارا *چانگ ای مشن*!” لیو ینگ نے ایک بڑے ماڈل کی طرف اشارہ کیا۔ “2007 میں چانگ ای 1 نے چاند کے گرد چکر لگایا، اور پھر 2013 میں چانگ ای 3 نے پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھا۔”
    میں نے اس ماڈل کو غور سے دیکھا۔ چاند کی ناہموار سطح، ایک چمکدار روور، اور پس منظر میں نیلا سیارہ زمین—یہ منظر مجھے کسی خواب جیسا لگا۔
    “چانگ ای 4 نے تو تاریخ ہی رقم کر دی!” لیو ینگ پرجوش ہو گئے۔ “یہ دنیا کا پہلا مشن تھا جو چاند کے تاریک حصے پر اترا!”
    میں نے حیرت سے پوچھا، “وہ کون سا حصہ ہے جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتا؟”
    “ہاں! چاند ہمیشہ زمین کے ایک ہی رخ کو دکھاتا ہے، دوسرا حصہ ہم کبھی دیکھ ہی نہیں سکتے۔ اسی لیے چانگ ای 4 کو خاص سگنلز اور سیٹلائٹس کی مدد سے وہاں بھیجا گیا!”
    یہ جان کر مجھے وہ تمام پرانی کہانیاں یاد آئیں جو ہم بچپن میں چاند پر رہنے والی پریوں کے بارے میں سنتے تھے۔ کون جانتا تھا کہ ایک دن ہم واقعی چاند پر جا کر وہاں کی مٹی کے نمونے اٹھا رہے ہوں گے!
    ہال کے دوسرے کونے میں ایک سرخ ہولوگرام نظر آ رہا تھا۔ قریب گئی تو دیکھا کہ یہ مریخ کی سطح کا *3D ماڈل* تھا، بالکل ویسا جیسے میں نے کتابوں میں دیکھا تھا۔
    “یہ ہمارا * تیان وین 1* مشن ہے!” ایک نوجوان سائنسدان جوش سے بولا۔
    “چین کا پہلا مریخ مشن؟” میں نے پوچھا۔
    “جی ہاں! اور یہ نہ صرف مریخ کے مدار میں گیا بلکہ اس نے ایک *روور، ژورونگ* بھی اتارا!”
    میں نے حیرت سے وہ منظر دیکھا۔ زمین سے لاکھوں میل دور، ایک چھوٹا سا روبوٹ مریخ کی سطح پر گھوم رہا تھا، وہاں کی مٹی اور پتھروں کا تجزیہ کر رہا تھا۔ کسے خبر، شاید ایک دن وہاں بھی بستیاں بس جائیں!
    ‎ہمارے گائیڈ، لیو ینگ، نے ہمیں بتایا کہ چین کی خلائی تحقیق میں تیانگونگ ایک سنگ میل ہے، اور یہ چین کی سائنسی ترقی کی کامیابی کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ جب میں نے اس اسٹیشن کے جدید ترین سسٹمز اور چمچماتی مشینوں کو دیکھا، تو مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ انسانی عزم کا مظہر ہے۔ ایک لمحے کے لیے، میں نے خود کو خلا میں اڑتے ہوئے محسوس کیا۔
    ‎جب ہم تیانگونگ کی خلائی اسٹیشن میں داخل ہوئے، تو ایک گہری خاموشی تھی، جیسے خلا میں حقیقت کی گونج ہو۔ میں نے گہری سانس لی، اور وہ عجیب سی فضا محسوس کی جس میں کششِ ثقل کا کوئی اثر نہیں تھا۔ دیواریں چمک رہی تھیں، اور ہر طرف ایک جدیدیت کا اثر تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں خوابوں کو حقیقت کا لباس ملتا تھا، اور میں نے محسوس کیا کہ میں خلا کی لامحدودیت میں ایک لمحے کے لیے غرق ہو چکی ہوں۔
    ‎چین کے خلائی اسٹیشن میں ہمارے ساتھ تجربے کے لیے کچھ خلاباز بھی تھے۔ ان میں سے ایک، لیو ژی، جو پہلے ہی کئی خلائی مشن میں شامل ہو چکے تھے، ہمیں بتا رہے تھے کہ خلا میں جانے کا سب سے حیرت انگیز تجربہ کیا ہوتا ہے۔
”خلاء میں جب آپ وزن کی کمی کا تجربہ کرتے ہیں، تو وہ لمحہ کچھ ایسا ہوتا ہے جیسے آپ پر سے زمین کا ہر بوجھ اُتر جائے۔ نیچے سے آپ جب اپنی انگلیاں اُٹھاتے ہیں، تو وہ فضا میں معلق رہ جاتی ہیں۔ اس لمحے میں آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ زمین کے بوجھ سے آزاد ہو گئے ہیں۔”
لیو ژی کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی، جیسے وہ ان لمحوں کو دوبارہ جیتے ہوں، اور میں نے اس بات کو دل سے محسوس کیا۔
چین کے خلائی اسٹیشن میں کھانا کھانے کا اپنا ایک الگ طریقہ تھا۔ خلا میں رہتے ہوئے، کھانے کا تجربہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ کھانے کی ہر چیز پیکٹ میں بند ہوتی ہے، اور یہ پیکٹ خلا میں کھولے جاتے ہیں، تاکہ کھانا ہوا میں نہ بکھر جائے۔ میں نے کھانے کی میز پر ایک چھوٹا سا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
”اسے آپ ‘خلا کا کھانا’ بھی کہہ سکتے ہیں!” لیو ژی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میں نے پیکٹ کھولا، اور جیسے ہی کھانا باہر نکالا، وہ ہوا میں معلق ہو گیا، جیسے کسی جادوئی حرکت سے۔ وہ منظر میرے ذہن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔
سب سے دلچسپ تجربہ وہ لمحہ تھا جب ہم نے خلا سے زمین کو دیکھنے کا
    ‎موقع پایا۔ تیانگونگ کے خلائی اسٹیشن کی کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں، اور باہر نیلا سیارہ زمین نظر آ رہا تھا۔ نیچے سمندر، سرسبز میدان، اور وہ چھوٹے چھوٹے جزیرے، جنہیں میں نے ہمیشہ زمین سے دیکھا تھا، اب خلا سے ایک چمکتے ہوئے نیلے گلوب کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔
”یہ وہ منظر ہے جو انسان کے خوابوں میں ہوتا ہے، اور اب میں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔” میں نے لیو ژی سے کہا۔
ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، جیسے وہ جانتے ہوں کہ خلا میں رہتے ہوئے ایک لمحہ ایسا ہوتا ہے جو ہمیشہ کے لیے انسان کو بدل دیتا ہے۔
”یہ منظر صرف سائنسی نہیں، بلکہ فلسفے کا حصہ ہے۔ جب آپ خلا سے زمین کو دیکھتے ہیں، تو آپ کو انسانیت کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے—ہم سب ایک ہی سیارے پر ہیں، اور ہمیں اس کی حفاظت کرنا ہے۔”
    چاند کا چمکتا ہوا چہرہ ہمیشہ سے ہی انسانی تجسس کا مرکز رہا ہے، اس کی نرم روشنی میں وہ تمام سوالات چھپے ہوئے ہیں جن کا جواب اب تک ہمیں نہیں مل سکا۔ لیکن چاند کا ایک اور پہلو بھی تھا، وہ جو کبھی زمین سے نظر نہیں آتا تھا، جیسے ایک راز جو صرف آسمان کے اس حصے میں دفن ہو۔ اور پھر ایک دن، چین نے اس راز کو آشکار کرنے کا ارادہ کیا۔
    چاند کے تاریک پہلو کو تسخیر کرنے کے لئے “چانگ ای 6″ کا مشن روانہ ہوا۔ یہ مشن محض ایک خلائی تحقیق نہیں تھی، بلکہ انسانیت کے خوابوں کی پرواز تھی، جس میں ایک نیا قدم تھا۔ جیسے کسی پرانے افسانے کا آغاز ہوتا ہے، ویسا ہی کچھ اس سفر میں تھا، جو نہ صرف چین کی سائنسی ترقی کی علامت بننے والا تھا، بلکہ پوری دنیا کو یہ دکھانے جا رہا تھا کہ انسانوں کا تجسس آسمانوں تک پھیل چکا ہے۔
    وہ لمحہ یادگار تھا جب چانگ ای 6 نے چاند کی سرحدوں کو چھوا۔ چاند کی سطح پر اس کا رشتہ ہر ایک نے محسوس کیا۔ وہاں پر ہلکی سی خاموشی تھی، جیسے چاند خود بھی اپنی حقیقت کی تلاش میں تھا۔ خلا میں جاکر جب اس نے چاند کے تاریک پہلو کو اپنی گرفت میں لیا، تو یہ اس عظیم سفر کا آغاز تھا جس میں صرف سائنسی تحقیقات نہیں، بلکہ انسان کے اندر ایک نئی آگ، ایک نئی امید جاگ رہی تھی۔
    چاند کے تاریک پہلو کی تسخیر کی کہانی ایک ایسی داستان بن چکی تھی، جو آسمانوں کی سرحدوں کو پار کر کے زمین پر گونج رہی تھی۔
    میں نے خلا میں کسی غیر مری نقطے کو کھوجتے ہوئے سوچا ۔
    ‎”یہ ہے چین کا سب سے نیا قمری مشن، چانگ ای 6!” لیو ینگ نے اسکرین پر اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ‎میں چونک کر لیوینگ کی جانب متوجہ ہوئ ۔
میں نے غور سے دیکھا۔ اسکرین پر ایک چاند گاڑی چاند کی ناہموار سطح پر چل رہی تھی، اور پس منظر میں نیلا سیارہ زمین دمک رہا تھا۔
”چانگ ای 6 وہ واحد مشن ہے جو چاند کے تاریک پہلو تک پہنچا اور وہاں سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے واپس لایا۔” لیو ینگ کی آواز میں فخر جھلک رہا تھا۔
    ‎میرے ذہن میں ایک سوال آیا۔ “لیکن چاند کے تاریک پہلو میں کیا خاص بات ہے؟”
انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “وہ حصہ زمین سے ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے۔ یہاں کے نمونے ہمیں چاند کے آغاز اور نظامِ شمسی کی تاریخ کے بارے میں نئی معلومات دے سکتے ہیں۔”
    ‎مجھے وہ لمحہ یاد آیا جب میں نے خبر پڑھی تھی کہ چانگ ای 6 کے ساتھ پاکستان کا پہلا چاندی سیٹلائٹ آئی کیوب قمر بھی بھیجا گیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے دل میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
    ‎”شاید وہ دن اب زیادہ دور نہیں، جب پاکستان بھی اپنا پہلا خلائی مشن چاند کی جانب روانہ کرے گا۔”
    ‎چاند کے تاریک حصے کی طرف سفر ایک جرات مندانہ مشن تھا، اور جب لیو ینگ نے ہمیں بتایا کہ چاند کے اس حصے میں ابھی تک کسی انسان کے قدم نہیں پہنچے، تو مجھے ایک عجیب سی پر اسرار کیفیت محسوس ہوئی۔ اس مشن کی کامیابی نے چین کو خلا کے میدان میں ایک نیا مقام دیا، اور یہ پاکستان کے ساتھ مل کر خلائی تحقیق میں عالمی تعاون کا بھی نشان تھا۔
    ‎”آپ کو معلوم ہے؟” لیو ینگ نے مسکراتے ہوئے کہا، “چاند کی تاریک سطح پر جانے کا مطلب صرف سائنس کا حصول نہیں، بلکہ انسان کے خلا میں قدم جمانے کی جرات کا اظہار بھی ہے۔
    “میں نے لیو ینگ کی بات سنی اور ایک لمحے کے لیے توقف کیا۔ پھر میں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ‘بالکل، یہ صرف سائنسی تحقیق نہیں، بلکہ انسان کے حوصلے اور لگن کا اظہار ہے۔ چاند کی تاریک سطح پر قدم رکھنا، جیسے انسان نے نہ صرف خلا کی وسعتوں کو تسخیر کیا ہو، بلکہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دیا ہو۔’
    مزید آگے بڑھتی ہوں تو ہال کے دوسرے کونے میں ایک سرخ ہولوگرام چمک رہا تھا۔ جیسے وہ مریخ کا سرخ خواب ہو ۔ میں جب اس کے قریب پہنچی، میں نے دیکھا کہ یہ مریخ کی سطح کا تین جہتی ماڈل تھا، بالکل ویسا ہی جیسے میں نے کتابوں اور تصویروں میں دیکھا تھا۔
    ‎یہ چین کا پہلا مریخ مشن، تیان وین 1 ہے! ایک نوجوان سائنسدان نے جوش سے کہا۔
میں نے حیرت سے اس ماڈل کو دیکھا۔ “چین کے لیے یہ مشن کتنا اہم تھا؟” میں نے پوچھا۔
”بہت زیادہ! تیان وین 1 نہ صرف مریخ کے مدار میں پہنچا، بلکہ اس نے کامیابی سے وہاں ایک روور بھی اتارا جو اب بھی مریخ کی سطح کا تجزیہ کر رہا ہے۔”
    ‎میں نے تصور کیا کہ زمین سے لاکھوں میل دور، سرخ مٹی کے درمیان ایک چینی روبوٹ گھوم رہا ہے، نئے راز تلاش کر رہا ہے۔
    ‎یہ مشن چین کے لیے محض ایک سائنسی کامیابی نہیں، بلکہ انسانیت کے لیے نئی راہیں کھولنے کی کوشش بھی تھا۔
    ‎”کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ خلا میں ان خلائی مشنز کے دوران انسانوں کے درمیان کس طرح کے رابطے ہوتے ہوں گے؟” میں نے لیو ینگ سے پوچھا۔
    ‎انہوں نے کہا، “خلا میں انسان اور مشن کے درمیان تعلق ہر لمحے مضبوط ہوتا ہے۔ وہاں کے ماحول میں انسان کی موجودگی محض ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ممکن نہیں ہوتی، بلکہ اس میں انسان کی صبر، لگن اور جرات کا بھی حصہ ہوتا ہے۔”۔
    ‎ہمارے سفر کا سب سے دلچسپ لمحہ وہ تھا جب ہمیں ایک خلاباز سے ملنے کا موقع ملا۔ ژانگ وئی، جو تیانگونگ مشن میں کئی ماہ گزار چکے تھے، ہم سے ملنے آئے۔ وہ ایک عام انسان کی طرح دکھائی دے رہے تھے، مگر ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی—شاید خلا میں جھانکنے کا اثر تھا۔
”خلائی زندگی کیسی ہوتی ہے؟” میں نے بے تابی سے پوچھا۔
وہ مسکرائے، “بالکل مختلف! کوئی کششِ ثقل نہیں، ہر چیز ہوا میں معلق رہتی ہے۔ کھانے کے لیے اسپیشل پیکٹ ہوتے ہیں، پانی کے بلبلے بن جاتے ہیں، اور نیند بھی ہوا میں تیرتے ہوئے آتی ہے!”
    ‎میں نے حیرانی سے سوچا، ہم زمین پر کششِ ثقل کو کتنا عام سمجھتے ہیں، مگر خلا میں تو ہر چیز ایک الگ ہی کھیل لگتی ہے۔
    ژانگ وئی، نے خلائی زندگی کے بارے میں کچھ مزید حیرت انگیز حقائق بتائے۔ ان کے بقول، خلا میں کوئی بھی چیز معمول کے مطابق نہیں ہوتی، ہر لمحہ ایک نیا تجربہ ہوتا ہے۔
    “ہم خلا میں رہتے ہوئے نیند بھی مختلف طریقے سے لیتے ہیں۔ نیند کے دوران، ہم کسی خاص پوزیشن میں نہیں ہوتے، بلکہ خلا میں تیرتے ہوئے نیند کی حالت میں ہوتے ہیں۔”
    ان کی باتوں میں ایک جادو تھا، جیسے وہ خلا کے رازوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہوں۔ اور پھر وہ لمحہ آیا جب میں نے ژانگ وئی سے پوچھا، “خلا میں رہتے ہوئے آپ کا سب سے یادگار لمحہ کیا تھا؟”
    “جب میں نے خلا سے زمین کو دیکھا—نیلا، روشن، اور پوری کائنات میں سب سے خوبصورت—وہ لمحہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔” ژانگ وئی نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
    ‎ژانگ وئی کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو صرف کسی خلا باز کے پاس ہوتی ہے—ایک ایسا شخص جو خلا کے رازوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہو۔ لیکن اس کے باوجود، وہ زمین پر رہنے والے لوگوں کی طرح ہنسی مزاق کرتے نظر آ رہے تھے۔
    ‎ہم سب ایک کمرے میں جمع ہوئے، اور ژانگ وئی نے کہا، “خلا میں زندگی بہت مختلف ہوتی ہے، خاص طور پر کھانا کھانا۔”
”کیسے مختلف؟” میں نے دلچسپی سے پوچھا۔
”آپ سوچ بھی نہیں سکتیں ! خلا میں کھانے کی چیزیں ہوا میں تیرتی رہتی ہیں، اور آپ کو کبھی یقین نہیں آتا کہ آپ نے کتنی دیر تک کھانے کی چیزوں کا پیچھا کیا ہوگا!” وہ ہنستے ہوئے بولے۔
”تو کیا آپ لوگ کھانے کے دوران گرتے نہیں ہو؟” میں نے مذاق کرتے ہوئے سوال کیا۔
”کبھی کبھار، کھانے کا پیکٹ کہیں غائب بھی ہو جاتا ہے!” ژانگ وئی نے شرارت سے کہا۔
    ‎” یعنی خلا میں سب کچھ تیرتا ہے، ہے نا؟” میں نے شوق سے پوچھا
وہ ہنس پڑے، “ہاں! ایک بار میرا کھانے کا چمچ ہوا میں تیرتا رہا، اور میں اسے پکڑ نہ سکا۔ پھر کئی گھنٹے بعد وہ واپس میرے سر پر آن گرا!”
    ‎” ژانگ وئی نے قہقہہ لگایا، اور ہم سب ہنس دیئے۔
    ‎لیکن ژانگ وئی نے مزید بتایا کہ خلا میں زندگی کی مشکلات صرف کھانے تک محدود نہیں ہوتی۔
”ہم خلا میں ہر چیز کو معلق حالت میں پاتے ہیں۔ نیند بھی ایک مسئلہ ہوتی ہے—آپ کا جسم خلا میں معلق ہوتا ہے، اور نیند کی پوزیشن ایسی ہوتی ہے کہ آپ گھومتے گھومتے جاگ جاتے ہیں!”
”تو کیا آپ لوگوں کو خواب آتے ہیں؟” میں نے دلچسپی سے پوچھا۔
”ہاں، اور عجیب و غریب خواب آتے ہیں!
    ‎ایک بار میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خلا میں تیر رہا ہوں، اور میری آنکھوں کے سامنے زمین کی نیلی روشنی دھندلی پڑنے لگی ہے۔ میں نے سوچا، کیا میں کبھی واپس لوٹ پاؤں گا؟” ژانگ وئی نے مسکرا کر کہا، “اوہ ۔۔۔۔ امید ہی روشنی کا نام ہے۔ “ میں نے دل میں سوچا ۔
    ‎لیکن ان سب باتوں کے باوجود، میں نے یہ محسوس کیا کہ خلا میں زندگی گزارنا نہ صرف فزیکل بلکہ ذہنی طور پر بھی انتہائی چیلنجنگ ہے۔ خلا بازوں کو زمین سے دور رہ کر اور بے وزنی کی حالت میں کام کرنا ہوتا ہے، جہاں ایک غلط حرکت بھی بڑے مسئلے کا سبب بن سکتی ہے
    لیکن جو بات میری توجہ کو سب سے زیادہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی، وہ یہ تھی کہ پاکستان اور چین نے خلا کی دنیا میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ یہ نہ صرف سائنسی ترقی تھی بلکہ اس میں دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کا ایک نیا باب بھی تھا۔
    جب میں نے چاند کے مشن “چانگ ای 6” کی جھلکیاں دیکھیں، تو مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ چین کی خلائی ترقی صرف ایک ملک کا خواب نہیں ہے، بلکہ دنیا کے مختلف خطوں کے خوابوں کا حصہ بن چکا ہے۔ چانگ ای 6 نے چاند کے تاریک پہلو سے نمونے جمع کیے، اور پاکستان بھی اس مشن کا حصہ تھا۔ چین نے پاکستان کے خلائی سیٹلائٹ کو چاند کے مدار میں بھیجا، اور یہ ایک سنگ میل تھا۔
    چین کے خلائی مشنوں کی کامیابیاں نہ صرف چین کے لیے فخر کا باعث تھیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک امید کی کرن تھیں۔ جہاں چین اور پاکستان نے مل کر خلا کی سرحدوں کو پار کیا۔ یہ دو ممالک کی دوستی تھی ۔جو خلا میں اپنا رشتہ مزیدمضبوط کر رہے ہیں۔ اور یہ کامیابی ان پاکستانی خواتین کی بھی ہے ، جو خلا کی سرحدوں کو عبور کرنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ اب ان کے خواب بھی آسمانوں تک پھیل چکے ہیں۔
    ‎پاکستان کی تاریخ میں، نمیرہ سلیم وہ شخصیت ہیں جنہوں نے خلا میں جانے والی پہلی پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے 6 اکتوبر 2023 کو ورجن گیلیکٹک کے ذریعے خلا کا سفر کیا اور چاند کے اس پار جا کر ایک نیا باب لکھا۔
    ‎مئی 2024 میں، پاکستان کا پہلا قمری سیٹلائٹ “آئی کیوب-کیو” چینی مشن “چانگ ای-6″ کے ذریعے چاند کے مدار میں پہنچا۔ اس سیٹلائٹ نے چاند اور سورج کی تصاویر بھیجی، جو پاکستان کی خلائی تحقیق میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
    ‎چین کے خلائی مرکز کے دورے کے دوران، ایک ہال میں جب گائیڈ نے خوشخبری سنائی، تو میری آنکھوں میں چمک آ گئی۔
    ‎”پاکستان اور چین کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دو پاکستانی خلاباز جلد ہی چین میں تربیت حاصل کریں گے،” اُس نے بتایا ، جیسے کوئی استاد بچے کو پہلی پوزیشن کی خبر دیتا ہے۔
    ‎میرے دل میں عجیب سا فخر اُبھرا—کیا واقعی؟ خلا میں؟
    ‎”ان میں سے ایک پاکستانی خلاباز چینی خلائی اسٹیشن ‘تیانگونگ’ مشن پر
    ‎جائے گا!” گائیڈ نے مزید بتایا۔
    ‎مجھے لگا جیسے بیجنگ کے اس جدید ہال میں بیٹھے بیٹھے میرا دل لاہور کے فلک بوس مینارِ پاکستان پر اڑ گیا ہو، جہاں سے اُمیدیں خلا کی وسعتوں میں تحلیل ہو رہی تھیں۔
    ‎پھر بات آئی چاند کی۔ جی ہاں، وہی چاند جسے ہم صدیوں سے محبوب کی تمثیل بناتے آئے ہیں۔
    2028
    میں پاکستان کا پہلا قمری روور چین کے مشہور مشن ‘چانگ ای-8’ کے ساتھ چاند کے جنوبی قطب پر تحقیق کرے گا،” گائیڈ نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
    ‎اب دل میں خواہ مخواہ ایک ترنگ سی دوڑنے لگی۔ یہ کوئی افسانہ نہیں، نہ ہی شاعر کی کوئی مبالغہ آرائی—بلکہ حقیقت تھی کہ پاکستان اور چین اب چاند کے سفر میں ساتھی بن چکے تھے۔
    ‎میں نے آسمان کی طرف دیکھا—ایک ایسا آسمان جو اب صرف نیلا نہیں تھا، بلکہ اس میں پاکستان کا سبز ہلال بھی خوابوں کی مانند جھلملا رہا تھا۔
    ‎میں اپنی نشست پر بیٹھی تھی، مگر میرے خیالات خلا میں تیر رہے تھے۔
    ‎”تیانگونگ”، وہ آسمانی محل، جو اب محض ایک خلائی اسٹیشن نہیں رہا، بلکہ ایک امید کی علامت بن چکا ہے۔ چینی خلاباز خلا میں موجود ہیں، اور اگلا مشن… وہ طویل ہو گا، اور کچھ نیا لے کر آئے گا۔
    ‎میرے ساتھ بیٹھی ایک نوجوان چینی طالبہ نے سرگوشی کی:
”اب ہم مریخ کی طرف دیکھ رہے ہیں…”
میں نے مسکرا کر کہا، “اور ہم—پاکستانی—یہ خواب دیکھنے لگے ہیں۔”
    ‎یہ وہ لمحہ تھا جب میری آنکھوں کے سامنے بچپن کے وہ کٹے پھٹے اخبار گھومنے لگے جن پر چاند، سیارے، اور ناسا کی تصویریں چھپی ہوتی تھیں۔ تب صرف پڑھتے تھے، اب سن رہے تھے—کہ ہم بھی جا رہے ہیں۔
    ‎مجھے لگا، خلا اب کسی ایک ملک کی میراث نہیں رہی۔ یہ اب ان خوابوں کی سرزمین بن چکی ہے جن کی سرحدیں نہ چین جانتاہے، نہ پاکستان—بس انسانیت۔
    ‎بیجنگ کے ان برقی ہالز سے نکل کر جب میں باہر آئی، تو آسمان بدستور نیلا تھا۔
مگر مجھے وہ نیلا پن اب خالی نہیں لگتا تھا۔
اس نیلے آسمان میں چین کا ارادہ، پاکستان کا خواب، اور انسان کا حوصلہ جھلملا رہا تھا۔
    اور میں؟ میں بس بیجنگ کی چمکتی سڑکوں پر چلتی جا رہی تھی، مگر دل کہکشاؤں میں تیر رہا تھا۔ اور میرے ذہن میں یہی سوال گھوم رہے تھے –
    ‎کیا واقعی ایک دن ایسا بھی آئے گا جب میرا وطن، میری زمین، میرا آسمان بھی خلا کے ان در وا آسمانوں میں شامل ہو گا؟
کیا کبھی ہم بھی ستاروں کی رہگزر پر اپنے نشان چھوڑ پائیں گے؟
    ‎بیجنگ کی روشنیوں میں کھوئے ہوئے، میں نے آسمان کی طرف دیکھا—
وہی آسمان جو کراچی، لاہور، اسلام آباد، گلگت اور بیجنگ سب پر ایک جیسا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ کسی نے اسے چھونے کی ٹھان لی ہے،
اور اب شاید ہماری باری ہے۔

  • سیاحوں کی جنت: کینیڈا کے 1000 آئس لینڈز …..تحریر: ڈاکٹر بشارت ریحان

    سیاحوں کی جنت: کینیڈا کے 1000 آئس لینڈز …..تحریر: ڈاکٹر بشارت ریحان

    پیش لفظ
    کینیڈا، جسے قدرت نے بے پناہ حسن سے نوازا ہے، دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا قدرتی تنوع، وسیع جنگلات، شفاف جھیلیں اور برفیلے پہاڑ اسے منفرد بناتے ہیں۔ لیکن کینیڈا کی ایک اور دلکش پہچان اس کے ہزاروں آئس لینڈز (برفیلے جزائر) ہیں، جو سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ مضمون کینیڈا کے 1000 آئس لینڈز کی سیر کرواتے ہوئے ان کی جغرافیائی اہمیت، خوبصورتی اور سیاحتی کشش پر روشنی ڈالے گا۔
    کینیڈا کے آئس لینڈز: ایک تعارف
    کینیڈا میں تقریباً 1000 سے زائد آئس لینڈز موجود ہیں، جو ملک کے شمالی اور قطبی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ جزائر نہ صرف برف کی چادروں سے ڈھکے ہوتے ہیں بلکہ ان میں سے کئی پر گلیشیرز، آئس کیپس اور منجمد جھیلیں بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ مشہور آئس لینڈز درج ذیل ہیں:
    1. ایلسمیر آئس لینڈ ( Island Ellesmere )
    2. بیفن آئس لینڈ ( Island Baffin )
    3. ویکٹوریا آئس لینڈ (Victoria Island )
    4. بینکس آئس لینڈ (Banks Island )
    5. ڈیون آئس لینڈ ( Island Devon )
    یہ جزائر نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہیں بلکہ یہاں کی ماحولیاتی نظام (ایکوسیٹم) اور نایاب جنگلی حیات بھی تحقیق کا اہم موضوع ہیں۔
    ایلسمیر آئس لینڈ: دنیا کا دسواں سب سے بڑا جزیرہ
    کینیڈا کا ایلسمیر آئس لینڈ دنیا کا دسواں سب سے بڑا جزیرہ ہے، جو نناوت کے علاقے میں واقع ہے۔ یہاں کا درجہ حرارت سال بھر منفی رہتا ہے، جس کی وجہ سے یہاں وسیع گلیشیرز اور برفیلے میدان موجود ہیں۔
    سیاحتی کشش
    – قومی پارکس: یہاں Quttinirpaaq نیشنل پارک واقع ہے، جو انتہائی سرد موسم کے باوجود سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
    – قطبی ریچھ اور دوسرے جانور: یہاں قطبی ریچھ، آرسی لومڑی اور کیریبو جیسے جانور پائے جاتے ہیں۔
    – سائنسی تحقیق: اس جزیرے پر کئی تحقیقی مراکز قائم ہیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
    بیفن آئس لینڈ: برفیلے پہاڑوں کی سرزمین
    بیفن آئس لینڈ کینیڈا کا سب سے بڑا اور دنیا کا پانچواں سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ یہاں کے بلند و بالا پہاڑ اور گہری وادیاں سیاحوں کو حیران کر دیتی ہیں۔
    اہم مقامات
    – آئوئکٹٹ نیشنل پارک: یہ پارک اونچے چٹانوں اور گلیشیرز کے لیے مشہور ہے۔
    – اینگمائٹ روایتی آبادی: یہاں کے مقامی انوئٹ لوگ اپنی ثقافت اور روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
    – برڈ واچنگ: یہاں پرندوں کی کئی نایاب اقسام دیکھی جا سکتی ہیں۔
    ویکٹوریا آئس لینڈ: برفانی ریگستان
    ویکٹوریا آئس لینڈ دنیا کا آٹھواں سب سے بڑا جزیرہ ہے، جو تقریباً مکمل طور پر برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہاں کی زمین بنجر اور سرد ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ایک دلکش مقام ہے۔
    خصوصیات
    – منجمد جھیلیں: یہاں کئی جھیلیں سال بھر منجمد رہتی ہیں۔
    – معدنی ذخائر: اس جزیرے پر قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔
    – مشاہدہ شفق قطبی ( Borealis Aurora): یہاں رات کے وقت آسمان پر شفق قطبی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔
    بینکس آئس لینڈ: جنگلی حیات کی پناہ گاہ
    بینکس آئس لینڈ اپنی منفرد حیاتیاتی تنوع کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں muskox (ایک قسم کا جنگلی بیل) اور قطبی بھیڑیے پائے جاتے ہیں۔
    سیاحتی تجربات
    – ٹریکنگ اور کیمپنگ: یہاں پر موسم گرما میں ٹریکنگ کی جا سکتی ہے۔
    – فوٹوگرافی: قدرت کے دلکش نظاروں کی فوٹوگرافی کے لیے یہ ایک بہترین جگہ ہے۔
    ڈیون آئس لینڈ: انسانوں کے بغیر ایک جزیرہ
    ڈیون آئس لینڈ کو “زمین کا مریخ” بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں کا ماحول مریخ جیسا خشک اور بنجر ہے۔ ناسا یہاں اپنے خلائی مشنز کی تربیت کرواتا ہے۔
    واضح خصوصیات
    – مارس سمیولیشن پروجیکٹ: سائنس دان یہاں مریخ جیسی زندگی کے تجربات کرتے ہیں۔
    – قدیم آثار: یہاں پر کئی قدیمی فوسلز اور جیولوجیکل نمونے ملے ہیں
    کینیڈا کے آئس لینڈز کی سیاحتی اہمیت
    کینیڈا کے یہ برفیلے جزائر نہ صرف قدرت کے نظارے پیش کرتے ہیں بلکہ یہ سیاحوں کے لیے ایک انوکھا تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ یہاں کے گلیشیرز، قطبی جانور، اور شفق قطبی دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
    سیاحوں کے لیے تجاویز
    1. موسم کی جانچ پڑتال: یہاں کا موسم انتہائی سرد ہوتا ہے، اس لیے گرم کپڑے لازمی ساتھ لے کر جائیں۔
    2. مقامی گائیڈز کی خدمات خطرناک علاقوں میں مقامی گائیڈز کی مدد لیں۔
    3. ماحولیات کا خیال: یہاں کا ماحول نازک ہے، اس لیے کوئی بھی فضلہ یا آلودگی نہ پھیلائیں
    اختتامیہ
    کینیڈا کے 1000 آئس لینڈز قدرت کا ایک انمٹ تحفہ ہیں، جو نہ صرف سائنسی تحقیق کے لیے اہم ہیں بلکہ سیاحوں کے لیے ایک جادوئی دنیا پیش کرتے ہیں۔ اگر آپ کو مہم جوئی اور فطرت سے محبت ہے، تو کینیڈا کے ان برفیلے جزائر کا سفر آپ کے لیے یادگار ثابت ہوگا۔
    سیاحوں کی جنت: کینیڈا کے 1000 آئس لینڈز
    تحریر: ڈاکٹر بشارت ریحان
    پیش لفظ
    کینیڈا، جسے قدرت نے بے پناہ حسن سے نوازا ہے، دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا قدرتی تنوع، وسیع جنگلات، شفاف جھیلیں اور برفیلے پہاڑ اسے منفرد بناتے ہیں۔ لیکن کینیڈا کی ایک اور دلکش پہچان اس کے ہزاروں آئس لینڈز (برفیلے جزائر) ہیں، جو سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ مضمون کینیڈا کے 1000 آئس لینڈز کی سیر کرواتے ہوئے ان کی جغرافیائی اہمیت، خوبصورتی اور سیاحتی کشش پر روشنی ڈالے گا۔
    کینیڈا کے آئس لینڈز: ایک تعارف
    کینیڈا میں تقریباً 1000 سے زائد آئس لینڈز موجود ہیں، جو ملک کے شمالی اور قطبی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ جزائر نہ صرف برف کی چادروں سے ڈھکے ہوتے ہیں بلکہ ان میں سے کئی پر گلیشیرز، آئس کیپس اور منجمد جھیلیں بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ مشہور آئس لینڈز درج ذیل ہیں:
    1. ایلسمیر آئس لینڈ ( Island Ellesmere )
    2. بیفن آئس لینڈ ( Island Baffin )
    3. ویکٹوریا آئس لینڈ (Victoria Island )
    4. بینکس آئس لینڈ (Banks Island )
    5. ڈیون آئس لینڈ ( Island Devon )
    یہ جزائر نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہیں بلکہ یہاں کی ماحولیاتی نظام (ایکوسیٹم) اور نایاب جنگلی حیات بھی تحقیق کا اہم موضوع ہیں۔
    ایلسمیر آئس لینڈ: دنیا کا دسواں سب سے بڑا جزیرہ
    کینیڈا کا ایلسمیر آئس لینڈ دنیا کا دسواں سب سے بڑا جزیرہ ہے، جو نناوت کے علاقے میں واقع ہے۔ یہاں کا درجہ حرارت سال بھر منفی رہتا ہے، جس کی وجہ سے یہاں وسیع گلیشیرز اور برفیلے میدان موجود ہیں۔
    سیاحتی کشش
    – قومی پارکس: یہاں Quttinirpaaq نیشنل پارک واقع ہے، جو انتہائی سرد موسم کے باوجود سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
    – قطبی ریچھ اور دوسرے جانور: یہاں قطبی ریچھ، آرسی لومڑی اور کیریبو جیسے جانور پائے جاتے ہیں۔
    – سائنسی تحقیق: اس جزیرے پر کئی تحقیقی مراکز قائم ہیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
    بیفن آئس لینڈ: برفیلے پہاڑوں کی سرزمین
    بیفن آئس لینڈ کینیڈا کا سب سے بڑا اور دنیا کا پانچواں سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ یہاں کے بلند و بالا پہاڑ اور گہری وادیاں سیاحوں کو حیران کر دیتی ہیں۔
    اہم مقامات
    – آئوئکٹٹ نیشنل پارک: یہ پارک اونچے چٹانوں اور گلیشیرز کے لیے مشہور ہے۔
    – اینگمائٹ روایتی آبادی: یہاں کے مقامی انوئٹ لوگ اپنی ثقافت اور روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
    – برڈ واچنگ: یہاں پرندوں کی کئی نایاب اقسام دیکھی جا سکتی ہیں۔
    ویکٹوریا آئس لینڈ: برفانی ریگستان
    ویکٹوریا آئس لینڈ دنیا کا آٹھواں سب سے بڑا جزیرہ ہے، جو تقریباً مکمل طور پر برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہاں کی زمین بنجر اور سرد ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ایک دلکش مقام ہے۔
    خصوصیات
    – منجمد جھیلیں: یہاں کئی جھیلیں سال بھر منجمد رہتی ہیں۔
    – معدنی ذخائر: اس جزیرے پر قیمتی معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔
    – مشاہدہ شفق قطبی ( Borealis Aurora): یہاں رات کے وقت آسمان پر شفق قطبی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔
    بینکس آئس لینڈ: جنگلی حیات کی پناہ گاہ
    بینکس آئس لینڈ اپنی منفرد حیاتیاتی تنوع کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں muskox (ایک قسم کا جنگلی بیل) اور قطبی بھیڑیے پائے جاتے ہیں۔
    سیاحتی تجربات
    – ٹریکنگ اور کیمپنگ: یہاں پر موسم گرما میں ٹریکنگ کی جا سکتی ہے۔
    – فوٹوگرافی: قدرت کے دلکش نظاروں کی فوٹوگرافی کے لیے یہ ایک بہترین جگہ ہے۔
    ڈیون آئس لینڈ: انسانوں کے بغیر ایک جزیرہ
    ڈیون آئس لینڈ کو “زمین کا مریخ” بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں کا ماحول مریخ جیسا خشک اور بنجر ہے۔ ناسا یہاں اپنے خلائی مشنز کی تربیت کرواتا ہے۔
    واضح خصوصیات
    – مارس سمیولیشن پروجیکٹ: سائنس دان یہاں مریخ جیسی زندگی کے تجربات کرتے ہیں۔
    – قدیم آثار: یہاں پر کئی قدیمی فوسلز اور جیولوجیکل نمونے ملے ہیں
    کینیڈا کے آئس لینڈز کی سیاحتی اہمیت
    کینیڈا کے یہ برفیلے جزائر نہ صرف قدرت کے نظارے پیش کرتے ہیں بلکہ یہ سیاحوں کے لیے ایک انوکھا تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ یہاں کے گلیشیرز، قطبی جانور، اور شفق قطبی دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
    سیاحوں کے لیے تجاویز
    1. موسم کی جانچ پڑتال: یہاں کا موسم انتہائی سرد ہوتا ہے، اس لیے گرم کپڑے لازمی ساتھ لے کر جائیں۔
    2. مقامی گائیڈز کی خدمات خطرناک علاقوں میں مقامی گائیڈز کی مدد لیں۔
    3. ماحولیات کا خیال: یہاں کا ماحول نازک ہے، اس لیے کوئی بھی فضلہ یا آلودگی نہ پھیلائیں
    اختتامیہ
    کینیڈا کے 1000 آئس لینڈز قدرت کا ایک انمٹ تحفہ ہیں، جو نہ صرف سائنسی تحقیق کے لیے اہم ہیں بلکہ سیاحوں کے لیے ایک جادوئی دنیا پیش کرتے ہیں۔ اگر آپ کو مہم جوئی اور فطرت سے محبت ہے، تو کینیڈا کے ان برفیلے جزائر کا سفر آپ کے لیے یادگار ثابت ہوگا۔

  • ڈائر وولف: کیا واقعی دوبارہ زندہ ہو گیا ہے؟….حمیرا گل تشنہ

    ڈائر وولف: کیا واقعی دوبارہ زندہ ہو گیا ہے؟….حمیرا گل تشنہ

    امریکا میں ڈائر وولف (Dire Wolf) پر حالیہ سائنسی تحقیق نے اس معدوم جانور کو دوبارہ زندہ کرنے کے دعووں کو مرکزِ توجہ بنا دیا ہے۔ ڈالاس کی بائیوٹیکنالوجی کمپنی “کولوسل بائیو سائنسز” نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے ڈائر وولف جیسے جانوروں کو دوبارہ تخلیق کر لیا ہے۔
    ڈائیر وولف (Dire Wolf)، جس کا سائنسی نامCanis” dirus” ہے، ایک معدوم قسم کا بھیڑیا تھا جو تقریباً 125,000 سے 9,500 سال قبل شمالی اور جنوبی امریکا میں پایا جاتا تھا۔ یہ جانور اپنے دور کا ایک بہترین طاقتور شکاری تھا اور آج کے بھیڑیوں (Gray Wolf) سے کئی لحاظ سے مختلف تھا۔ ڈائر وولف کو اکثر فلموں، کتابوں اور گیمز میں دکھایا جاتا ہے، جیسے کہ مشہور ٹی وی سیریز Thrones” of “Gameمیں بھی جہاں یہ اسٹارک خاندان کا علامتی جانور ہے۔
    ڈائیر وولف آج کے بھیڑیوں سے بڑا اور زیادہ طاقتور تھا۔ اس کی اہم جسمانی خصوصیات درج ذیل ہیں:
    1) جسمانی ساخت: ڈائیر وولف کا وزن تقریباً “60 سے 80 کلوگرام” تک ہوتا تھا، جبکہ اس کی لمبائی “1.5 میٹر” تک ہو سکتی تھی۔ اس کے مقابلے میں موجودہ بھیڑیا (Gray Wolf) کا وزن عام طور پر “30 سے 50 کلوگرام” ہوتا ہے۔
    2) مضبوط جبڑے: ڈائیر وولف کے جبڑے بہت طاقتور تھے، جو اسے بڑے شکار کو مارنے اور ہڈیاں توڑنے میں مدد دیتے تھے۔
    3) موٹی کھال: کیونکہ یہ برفانی دور (Ice Age) میں رہنے والا جانور تھا۔ اس لیے سخت سرد موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کی کھال بہت موٹی اور بھاری ہوتی تھی۔
    ڈائیر وولف کی باقیات زیادہ تر شمالی امریکا، خاص طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا اور میکسیکو سے ملی ہیں۔ جنوبی امریکا میں بھی اس کے کچھ فوسلز دریافت ہوئے ہیں۔ یہ جانور عام طور پر جنگلات، گھاس کے میدانوں اور برفانی علاقوں میں رہتا تھا۔ مزید یہ کہ، یہ ایک “کارنیور” (گوشت خور) جانور تھا اور یہ بڑے جانوروں کا شکار کرتا تھا۔ اس کے شکار میں شامل تھے:
    – بائسن (Bison)
    – مستھڈن (Mastodon)
    – گریٹر بڑے ہرن
    – اور دیگر چھوٹے جانور
    وہ تنہا نہیں بلکہ اکثر گروہ کی شکل میں شکار کرتے تھے، جس سے انہیں بڑے جانوروں کو گرا نے میں آسانی ہوتی تھی۔
    ڈائیر وولف کم از کم تقریباً “9,500” سال قبل معدوم ہو گیا۔ اس کی معدومیت کی چند ممکنہ وجوہات یہ ہیں:
    1) موسمیاتی تبدیلی: برفانی دور کے ختم ہونے سے ماحول تبدیل ہوا، جس سے ڈائیر وولف کے شکار کم ہو گئے۔
    2) انسانوں کا دباؤ: قدیم انسان ( Indians Paleo ) نے بھی زندگی گزارنے کے لیے ان کے شکار پر انحصار کیا، جس سے دیئر وولف کی خوراک کم سے کم ہو گئی۔
    3) مسابقتی دباؤ: چھوٹے اور زیادہ موافق بھیڑیوں (جیسے Wolf Gray ) نے ڈائیر وولف کے لیے خوراک کے حصول کو مشکل بنا دیا۔ ڈائیر وولف کو جدید ثقافت میں کئی جگہوں پر دکھایا گیا ہے جیسے کہ Thrones” of “Gameکی سیریز میں بھی ڈائیر وولف اسٹارک خاندان کا علامتی نشان ہے۔ کئی فلموں اور کتابوں میں کئی فکشن کہانیوں میںڈائیر وولف کو ایک خطرناک اور پراسرار جانور کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ – آج کے دور میں کھیرے جانے والے کئی گیمز جیسے Evolved” : Survival ARK “میں ڈائیر وولف کو ایک طاقتور جانور کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ حال ہی میں، “ڈی این اے تحقیق” سے پتہ چلا ہے کہ ڈائیر وولف موجودہ بھیڑیوں سے جینیاتی طور پر بہت مختلف تھا اور یہ ایک الگ نسل تھی۔ اس تحقیق نے سائنسدانوں کو قدیم جانوروں کے ارتقاء کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔ ڈائیر وولف ایک دلچسپ اور طاقتور جانور تھا جو اپنے دور کا ایک اہم شکاری تھا۔ اگرچہ یہ معدوم ہو چکا ہے، لیکن اس کی کہانیاں اور فوسلز ہمیں قدیم دنیا کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ جدید ثقافت میں اس کی شبیہہ ایک رومانوی اور پراسرار مخلوق کے طور پر زندہ ہے، جو اسے ہمیشہ یادگار بنا دیتی ہے۔ لیکن ہم کیوں کہ اب جدید سائنسی دور میں جی رہے ہیں۔ سو اب سائنس کی مدد سے انہونی ہونا کوئی انہونی بات نہیں رہی۔ کولوسل بائیو سائنسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے “تین ڈائیر وولف کے بچوں” (Romulus, Remus, اور Khaleesi) کو جنم دیا ہے، جو تقریباً 10,000 سال قبل معدوم ہو گئے تھے۔ یہ بچے گرے وولف ( Wolf Gray) کے جینوم میں 20 جینیاتی تبدیلیاں کر کے تخلیق کیے گئے ہیں، جس سے ان میں ڈائیر وولف جیسی خصوصیات (جیسے سفید بال، مضبوط جبڑے، اور بڑا جسم) پیدا ہوئی ہیں۔اگرچہ کولوسل کے دعووں نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی ہے، لیکن سائنسی برادری میں اس پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ تحقیق جینیاتی انجینئرنگ کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے، لیکن اس کے اخلاقی، ماحولیاتی اور حفاظتی اثرات پر مزید بحث کی اور اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • فواد خان فلموں کیلئے ہی بنے ہیں: بالی وڈ اداکارہ وانی کپور

    فواد خان فلموں کیلئے ہی بنے ہیں: بالی وڈ اداکارہ وانی کپور

    ممبی(کنزیو مر واچ نیوز) بالی وڈ اداکارہ وانی کپور کا کہنا ہے کہ فواد خان بہت چارمنگ ہیں اور بڑی اسکرین کے لیے ہی بنے ہیں۔پاکستانی سپر اسٹار فواد خان اور بالی وڈ اداکارہ وانی کپور کی فلم ‘عبیر گلال’ کا پہلا بڑا پروموشنل ایونٹ گزشتہ روز دبئی کے گلوبل ولیج میں منعقد ہوا، ایونٹ میں فلم کی پوری ٹیم سمیت بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی نے بھی شرکت کی۔ایونٹ سے قبل ہی فلم ‘عبیر گلال’ کا مکمل میوزک البم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ریلیز کیا گیا۔ایونٹ کے دوران گفتگو میں بھارتی اداکارہ وانی کپور نے انہیں اپنا پسندیدہ ساتھی اداکار قرار دیا۔وانی کپور کا کہنا تھا کہ فواد بہت اچھے اخلاق کے مالک اور تعاون کرنے والے ہیں، ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہترین رہا ۔دوسری جانب جب اداکارہ سے ایک لفظ میں فواد کی تعریف کرنے کو کہا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ فواد بہت چارمنگ ہیں اور بڑی اسکرین کے لیے ہی بنے ہیں۔

  • جعل سازوں نے شادی کے نام پر شہری کو چونا لگادیا

    جعل سازوں نے شادی کے نام پر شہری کو چونا لگادیا

    لاہور (کنزیومر واچ نیوز)سرگودھا میں جعل سازوں نے شادی کے نام پر شہری کو چونا لگادیا۔متاثرہ شہری کے مطابق شادی کے لیے دلہن کو ایک لاکھ نقد دیے تھے اورشاپنگ بھی کرائی تھی لیکن جب بارات لے کرگیا تو دلہن کےگھرکو تالا لگا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 16 اپریل کو پیش آیا، شادی کےنام پردھو کےکے الزام میں 3 خواتین سمیت 4 افرادکے خلاف درخواست دائر کردی گئی جس کے بعد تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔