Blog

  • عمران خان واٹس ایپ لنک پر عدالت میں پیش، وکلا نے پھر بائیکاٹ کردیا

    عمران خان واٹس ایپ لنک پر عدالت میں پیش، وکلا نے پھر بائیکاٹ کردیا

    راولپنڈی:(کنزیومر واچ نیوز) 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان کو واٹس ایپ لنک پر عدالت پیش کردیا گیا۔راولپنڈی کی انسداددہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس سے متعلق عمران خان کی 2 درخواستوں پر سماعت کی جس سلسلے میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک اور سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت وکیل صفائی نے کہا کہ عمران خان نے درخواستیں دائر کی ہیں کہ 19ستمبر کی عدالتی کارروائی اورسی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج فراہم کی جائے، جیل ٹرائل منتقل کرنے سے متعلق ہائیکورٹ آرڈرز تک عدالتی کارروائی روکی جائے۔وکیل فیصل ملک نے کہا کہ عمران خان سے مشاورت تک عدالتی کارورائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے، اس پر عدالت نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر آپ کی بانی پی ٹی آئی سے بات کرائی انہوں نے عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کیا، آپ واٹس ایپ کمیونیکیشن کو ہائیکورٹ میں چیلنج کریں، عدالتی کارروائی نہیں روکی جاسکتی۔
    اس دوران پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ گزشتہ سماعت پر وکلا صفائی نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا، آج کی سماعت میں عدالت وکلا صفائی کے کسی سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں، وکلاصفائی ایک دن عدالت چھوڑ کرجاتے ہیں دوسرے دن کہتے ہیں ہمیں وقت دیا جائے، وکلا صفائی کا کنڈکٹ بتارہا ہے یہ ٹرائل کیلئے سنجیدہ نہیں، یہ صرف اور صرف عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں۔
    سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا کہ عدالت حکومتی ہدایات پر نہیں آئین کے مطابق چلتی ہے، یہ نہیں ہوسکتا کال کوٹھری میں بندشخص کو واٹس ایپ کال پر پیش کریں۔
    اس پر عدالت نے کہا کہ آپ کا پورا حق ہے آپ اس عدالت کے آرڈر کو چیلنج کریں، جب تک ہائیکورٹ کوئی حکم جاری نہیں کرتی عدالتی کارروائی نہیں روکی جاسکتی، پچھلی بار آپ کے وکلا کو بانی سے بات کرائی وہ تقریر کرنا شروع ہوگئے، ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کی ہدایات اور احکامات نظر انداز نہیں کرسکتی۔
    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کی دونوں درخواستیں خارج کردیں۔
    عمران خان کی عدالت میں پیشی
    بعد ازاں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان کو واٹس ایپ لنک پر عدالت پیش کیا گیا جہاں وکلا صفائی نے بانی پی ٹی آئی سے بات کرنے کی اجازت طلب کرلی۔
    عدالت نے وکلا صفائی کی عمران خان سے بات کرائی لیکن آوازمیں خلل اوربانی کی شکل واضح نظرنہ آنےکی شکایت پر وکلا صفائی نےکارروائی کا بائیکاٹ کردیا اور عمران خان کے دونوں وکلا عدالت سے باہر چلے گئے۔
    8 گواہان کے بیانات قلمبند
    دوران سماعت عدالت نے استغاثہ کے 8 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جن میں ایڈیشنل ڈائریکٹر پیمرا نادرخان، ٹیکنیکل اسسٹنٹس ایف آئی اے انیس الرحمان اورمحمد عمران شامل ہیں۔اس کے علاوہ ڈپٹی ڈائریکٹرز پی آئی ڈی محمد طارق، حسنین وزیر، سابق اسسٹنٹ کمشنر محمدعبداللہ اور ارشاد بھٹی اور سیکشن افسر وزارت داخلہ بلال احمد بھی گواہان میں شامل تھے۔کیس میں مجموعی طور پر 41 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے ہیں اور استغاثہ کے گواہان نے اپنی اپنی رپورٹس عدالت میں پیش کردی ہیں جب کہ عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے مزید گواہوں کو طلب کرلیا۔گواہان کے بیانات ریکارڈ کراتے وقت عمران خان واٹس ایپ لنک پر موجود تھے۔

  • کراچی میں 34 ہزار والدین کا بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکار

    کراچی میں 34 ہزار والدین کا بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکار

    کراچی:(کنزیومر واچ نیوز) سندھ میں 35 ہزار والدین نے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکار کردیا۔ ذرائع وزارت صحت نے بتایا کہ صوبے میں جاری حالیہ پولیو مہم کے دوران 35 ہزار والدین نے بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کیا جن میں سے 34 ہزار کا تعلق کراچی سے ہے۔ ذرائع وزارت صحت کے مطابق کراچی کے ضلع شرقی میں 8 ہزار سے زائد والدین نے بچوں کو انسداد پولیو کی ویکسن پلانے سے انکار کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ سندھ کے 25 اضلاع میں حالیہ انسداد پولیو مہم یکم سے 7 ستمبر تک چلائی گئی تھی، اس مہم میں کراچی میں 21 لاکھ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

  • گجرات میں نامعلوم افراد نے بھینس کی 2 ٹانگیں کاٹ دیں

    گجرات میں نامعلوم افراد نے بھینس کی 2 ٹانگیں کاٹ دیں

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)گجرات میں بے زبان جانوروں کے ساتھ تشدد کا ایک اور بہیمانہ واقعہ پیش آیا ہے۔پولیس کے مطابق گجرات کے جلال پور جٹاں میں نامعلوم افراد نے بھینس کی 2 ٹانگیں کاٹ دیں جس کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔بھینس کے مالک کی جانب سےملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بھینس کے مالک کا بتانا ہے کہ بھینس خاندان کی کفالت کا واحد ذریعہ اور کل اثاثہ تھی لہٰذا ملزموں کو پکڑا جائے۔

  • سندھ حکومت رواں ہفتے خواتین کو پنک اسکوٹیز فراہم کرے گی

    سندھ حکومت رواں ہفتے خواتین کو پنک اسکوٹیز فراہم کرے گی

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) حکومت سندھ نے رواں ہفتے میں خواتین کو پنک اسکوٹیز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرٹرانسپورٹ شرجیل میمن کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور ایم ڈی سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔ اس موقع پر شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت رواں ہفتہ خواتین اور طالبات کے لیے مفت الیکٹرک اسکوٹیز فراہم کرنے جارہی ہے، وقت کی بچت، سفری اخراجات میں کمی کے ساتھ خواتین کومحفوظ اور باوقار سفر ملےگا۔سینئر وزیر نے مزید کہا کہ درخواست گزار خواتین اور طالبات کا ریکارڈ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ذریعے مرتب کیا گیا، شفاف میکنزم کے تحت میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر الیکٹرک اسکوٹیز الاٹ کی جائیں رہی ہیں۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے شفاف اور آسان طریقہ تیار کیاہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو فائدہ ہو، طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

  • پنجاب میں ڈرائیونگ ٹیسٹ اب اے آئی گاڑی لے گی

    پنجاب میں ڈرائیونگ ٹیسٹ اب اے آئی گاڑی لے گی

    لاہور (کنزیومر واچ نیوز)پنجاب میں ڈرائیونگ ٹیسٹ لینے کے لیے پہلی بار مصنوعی ذہانت والی گاڑی تیار کرلی گئی۔ آرٹیفیشل انٹیلجنس کے فیچرز والی پہلی گاڑی لاہور میں تیار کی گئی ہے جس سے ڈرائیونگ ٹیسٹ لیا جائے گا۔حکام کا بتانا ہےکہ جلد ہی اے آئی بیسڈ 200 گاڑیاں تیار کرکے تمام ڈرائیونگ ٹیسٹنگ سینٹرز میں پہنچا دی جائیں گی۔ٹیسٹ کے دوران اگر ڈرائیور نے ریورس گیئر ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال کیا تو سافٹ ویئر اسے خود بخود فیل قرار دے کر گاڑی بند کر دے گا جب کہ گاڑی میں کیمرے بھی نصب ہیں۔ ڈی آئی جی ٹریفک پولیس وقار نذیر کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی ڈرائیونگ ٹیسٹ کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنائے گی۔

  • امریکن ایگلز یونیورسٹی کی جانب سے قیصر اقبال وجدی  کوڈاکٹر آف فلاسفی کی اعزازی ڈگری دی گئی

    امریکن ایگلز یونیورسٹی کی جانب سے قیصر اقبال وجدی کوڈاکٹر آف فلاسفی کی اعزازی ڈگری دی گئی

    ٹورنٹو کے مقامی ہال میں شاندار تقریب پذیرائی منعقد ہوئی، ادبی و ثقافتی شخصیات نے بھرپور شرکت کر کے تقریب کو یادگار بنادیا
    .ڈاکٹر بشارت ریحان نے تقریب کے دوران تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور سلام، نمستے، ست سریا کال کہہ کر دل جیت لیے
    قیصر وجدی کو اردو زبان کا بہترین شاعر قرار دیا گیا، ان کی شاعری محبت، انسانیت اور رواداری کے پیغام سے بھرپور ہے
    پنجابی زبان کے ممتاز شاعر اور فوک سنگر حسنین اکبر بابا کو اعزاز دیا گیا، جن کے کلام میں پنجاب کی مٹی کی خوشبو نمایاں طور پر نظر آتی ہے
    دونوں شخصیات کی خدمات تسلیم کرتے ہوئے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کرنے سے اردو اور پنجابی عالمی سطح پر نمایاں ہوئیں،بشارت ریحان

    کینیڈا:نمائندہ خصوصی
    گزشتہ دنوں، ٹورنٹو کے مقامی ہال میں شاندار تقریب پذیرائی کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب ادبی و ثقافتی تنظیموں کے زیر اہتمام برپا کی گئی وشو پنجابی صبا،اور کاروان شعر و سخن کی تقریب پاکستان کی دو ممتاز شخصیات کو امریکن یونیورسٹی ایگلز کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دئیے جانے کے سلسلے میں تھی، تقریب کے روح رواں ممتاز شاعر ڈاکٹر بشارت ریحان تھے جو کہ کینیڈا کی کئی ادبی تنظیموں کے ڈائریکٹر ہیں ان کے ہمراہ عبدالحمید حمیدی بھی تھے تقریب کے آغاز میں اسٹیج پر موجود احباب نے دونوں صاحب اعزاز احباب کو مبارک باد پیش کی اور ان احباب کی خدمات پر تا دیر گفت گو کی، ہال میں سامعین و حاضرین کی تعداد قبل رشک تھی، تقریب پذیرائی میں منتظم تقریب ڈاکٹر بشارت ریحان نے شاندار خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میں تقریب میں شامل تمام احباب کی خدمت میں، سلام،نمستے،ست سریا کال کہنے کی جسارت کرتاہوں،امریکن یونیورسٹی ایگلز کی جانب سے قیصر وجدی اور حسنین اکبر بابا کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں سے نوازے جانے پر،قلب و روح کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں، یہ انتہائی خوشی اور فخر کا لمحہ ہے کہ آپ دونوں بلند پایہ شخصیات کی عظیم علمی، ادبی، ثقافتی،اور سماجی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا،قیصر وجدی کو اردو زبان کا عمدہ اور بہترین شاعر قرار دینا در حقیقت اردو شاعری کے فروغ تر ویج کی جانب ایک عظیم قدم ہے،ان کا کلام نہ صرف زبان و بیان کی خوبصورتی کا مرقع ہے،بلکہ انسانیت، محبت،اور رواداری کا وہ ارفع پیش کرتا ہے جس کی آج کی دنیا میں اشد ضرورت ہے،اسی طرح حسنین اکبر بابا کو پنجابی زبان کا بہترین شاعر اور فوک سنگر قرار دیا جانا، پنجابی ثقافت،اور موسیقی کی عالمی سطح پر پذیرائی کی واضح دلیل ہے،ان کی آواز میں پنجاب کی مٹی کی خوشبو اور کلام میں پنجابی تہذیب و تمدن کی جھلک نمایاں ہے ان کی شاعری محبت اور امن کا پیغام عام کرتی ہے ،امریکن یونیورسٹی ایگلز
    کے اس فیصلے نے نہ صرف آپ دونوں احباب کی عظمت کو تسلیم کیا ہے بلکہ اردو اور پنجابی زبانوں کی ثقافتی اہمیت کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے،یہ اعزاز صرف آپ کے لئے ہی نہیں بلکہ ہماری ثقافت اور ادب کے لئے بھی باعث فخر ہے،میں آپ دونوں شخصیات کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے،امریکن یونیورسٹی ایگلز کی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ادب و ثقافت کی قدر افزائی کا یہ خوبصورت مظاہرہ کیا ہمیں ہیرا فاو¿نڈیشن کی وائس چیئر پرسن ڈاکٹر شاہینہ کشورکا بھی دل کی اٹھا گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی وساطت سے یہ خوبصورت تقریب سر انجام پائی، میں ڈاکٹر دلبیر سنگھ کتھوریا کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں، جنہوں نے بالیقین ایک انتہائی خوبصورت اور اعلی تقریب کا اہتمام یقینی بنایا، ڈاکٹر جاوید ٹونی وائس چانسلر کا بھی شکر گزار ہوں کہ ان کی کاوشات کا ثمر آج ہمارے سامنے ہے، آج ہمارے بہت پیارے دوست قیصر اقبال وجدی،اور حسنین اکبر بابا، ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں،آخر میں، میں آپ دونوں حضرات کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آپ کی صحت و تندرستی کے لئے دعا گو ہوں،اللہ پاک آپ کے چراغ زندگی کو ہمیشہ روشن رکھے،آمین

  • پہاڑ ،بادل اور خانقاہیں  چین کا ایک صوفیانہ منظرنامہ….ارم زہرا

    پہاڑ ،بادل اور خانقاہیں چین کا ایک صوفیانہ منظرنامہ….ارم زہرا

    ‎صبح کا سورج ابھی پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہلکی سی کرن بکھیر رہا تھا ہوامیں
    ‎ٹھنڈک اور کسی انجانی خوشبو کی لپٹیں گھلی ہوئی تھیں۔ میں جب پہاڑ کے دامن سے اوپر کی طرف چڑھنے لگی تو یوں محسوس ہوا جیسے ہر قدم مجھے اپنی ذات کے اندر کہیں اور گہرا کر رہا ہے۔ راستہ پتھریلا ضرور تھا مگر خاموشی ایسی جیسے وقت تھم گیا ہو۔ بس کبھی کبھار کسی پرندے کی صدا یا ہوا کے جھونکے میں درختوں کے پتے سرسرا کر مجھ سے باتیں کرنے لگتے۔
    ‎چین کے پہاڑ اور خانقاہیں دیکھتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ فطرت میں غور و فکر انسان کو اللہ کی قدرت اور اس کی حکمت کا احساس دلاتا ہے۔ قرآن کی وہ آیات یاد آئیں جو ہمیں تدبر کرنے کی دعوت دیتی
    ‎ہیں “أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ…”، یعنی اللہ کی مخلوقات میں غور کرنے سے انسان اپنے رب کی عظمت کو پہچان سکتا ہے۔ ہر چوٹی، ہر وادی، ہر جھونکا جیسے یہ کہہ رہا ہو کہ
    ‎”غور کرو، سکون تلاش کرو، اور اپنی روح کو بلند کرو۔”
    ‎چند ہی لمحوں بعد سامنے ایک قدیم دروازہ ابھرا۔لکڑی کا وہ دروازہ
    ‎صدیوں کی تھکن لیے کھڑا تھا، اور اس پر وقت کے ہاتھوں کے بنے زخم تھے، لیکن اس کی عظمت میں کوئی کمی نہ تھی۔ جیسے کسی صوفی درویش کی آنکھوں میں برسوں کی ریاضت کے باوجود سکون اور انکسار جھلکتا ہے۔ اندر داخل ہوئی تو ہلکی سی خوشبو نے استقبال کیا، لوبان اور جلتے ہوئے عود کی ملی جلی خوشبو جو دل کے اندھیروں کو اجالے میں بدل دیتی ہے۔
    ‎ہال کے وسط میں ایک بلند قامت بودھ مجسمہ خاموشی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ آنکھیں نیم وا، ہونٹوں پر پرسکون تبسم، اور پورا وجود گویا عبادت کی تفسیر۔ میں نے سوچا کہ اگرچہ یہ اسلامی خانقاہ نہیں، مگر یہاں کی خاموشی اور ریاضت کی فضا ہمیں توحید، سکونِ قلب، اور روحانی بلندی کا سبق دیتی ہے۔
    ‎خانقاہ کے ایک گوشے میں نوجوان راہب کتابوں میں ڈوبے بیٹھے تھے۔ ان کی آنکھوں میں دنیاوی خواہشوں کی چمک نہیں، بلکہ نور تھا جو مسلسل عبادت اور مطالعے سے پیدا ہوتا ہے۔ میں نے انہیں دیکھ کر سوچا کہ اسلامی صوفیا جیسے امام غزالی یا بہاءالدین نقشبندی بھی اپنی ریاضت اور ذکر کے ذریعے اسی روشنی کو حاصل کرتے تھے۔
    ‎پہاڑی کے دامن سے اوپر بڑھتے ہوئے ایک چھوٹی سی گھنٹی ہوا کے ساتھ بجتی ہے۔ ہر جھونکے پر وہ نرم سا نغمہ بکھرتا اور میرے دل کی دھڑکن اس کی لے میں شامل ہو جاتی۔ وہاں کھڑے ہو کر مجھے یوں لگا جیسے زمین اور آسمان کے بیچ میرا وجود کہیں تحلیل ہو رہا ہے، اور اللہ کی عظمت کے سامنے میری عاجزی محسوس ہوتی ہے۔
    ‎خانقاہ کے صحن سے نیچے جھانکا تو وادیاں سبز چادر اوڑھے سو رہی تھیں۔ بادل کبھی پہاڑ کی چوٹیوں کو چھوتے، کبھی نیچے اتر کر درختوں سے لپٹ جاتے۔ منظر ایسا تھا جیسے قدرت نے کینوس پر سکون کے رنگ بکھیر دیے ہوں۔ میں نے دعا کی کہ اللہ ہمیں اپنی تخلیق میں غور و فکر اور اس کے نزدیک ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
    ‎اس تجربے نے مجھے سمجھایا کہ چین کے پہاڑ اور خانقاہیں صرف زمین کے حسین مناظر یا تاریخی مقامات نہیں، بلکہ وہ ہمیں روحانی سکون، اخلاقی سبق، اور اللہ کی عظمت کا احساس دینے والی جگہیں ہیں۔ انسانی زندگی میں غور و فکر، عبادت، صبر، اور عاجزی کی اہمیت یہاں سے عیاں ہوتی ہے، اور یہی سفر کو صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی اور معرفتی سفر بھی بناتا ہے۔
    تو چین کا ذکر ہو اور اس کی پہاڑی خانقاہوں کا ذکر نہ آئے، یہ ممکن ہی نہیں۔ اس سرزمین نے صدیوں سے روحانیت اور قدرت کے میل کو یوں جوڑا ہے کہ انسان حیرت کے ساتھ سکون بھی پاتا ہے۔ یہاں کے پہاڑ محض پتھر اور چٹان نہیں، بلکہ صدیوں کے گواہ ہیں ۔ ریاضتوں کے، عبادتوں کے اور خاموش دعاؤں کے۔
    سب سے پہلے مجھے یاد آتا ہے ہوانگ شان (Huangshan) کا پہاڑی سلسلہ۔ یہ پہاڑ اپنی سنہری چوٹیوں اور بادلوں کے سمندر کے لیے مشہور ہیں۔ جب دھند پہاڑوں کے گرد لپٹ جاتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی صوفی اپنی چادر اوڑھ کر ذکر میں محو ہو۔ ہوانگ شان کے مناظر میں ایک عجیب طرح کی شاعری ہے، گویا پہاڑ خود کائنات کے مسودے پر غزل لکھ رہے ہوں۔
    پھر آتا ہے ووتائی شان (Wutai Shan)، جسے بودھ مت کا روحانی دل کہا جاتا ہے۔ پانچ چوٹیوں پر پھیلی یہ سرزمین راہبوں اور خانقاہوں سے لبریز ہے۔ یہاں کی خاموش فضاء میں قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دل کے شور کو کوئی نادیدہ ہاتھ تھام کر روک دے۔ لکڑی کے قدیم مندر، گھومتے ہوئے دعا کے پہیے، اور راہبوں کے نرم لہجے قاری کے دل کو نرمی اور سکون عطا کرتے ہیں۔
    اسی طرح ایمی شان (Emei Shan) کا پہاڑ ہے، جو چین کے چار مقدس بودھ پہاڑوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کی سبزہ زاریاں، جھرنے بھی یوں لگتے ہیں جیسے قدرت خود عبادت میں شریک ہو گئی ہو۔ چوٹی پر پہنچ کر جو منظر نظر آتا ہے، وہ انسان کو اپنے وجود کی حقیقت یاد دلا دیتا ہے ۔ہم سب بادلوں کی طرح لمحاتی ہیں، مگر پہاڑ کی طرح پائدار ہونے کی آرزو رکھتے ہیں۔
    پوتالا پیلس (Potala Palace) بھی یاد آتا ہے، جو تبت کی فضاؤں میں ایستادہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک قلعہ نما خانقاہ ہے مگر حقیقت میں عبادت اور سیاست دونوں کا مرکز رہا۔ اس کے سرخ و سفید دیواریں سورج کی کرنوں میں یوں چمکتی ہیں جیسے کسی عاشق نے اپنی محبت کو سنگ مرمر پر کندہ کر دیا ہو۔
    ان پہاڑوں اور خانقاہوں میں گھومتے ہوئے بار بار مجھے اپنا کراچی یاد آتا ہے۔ سمندر کی لہروں کا شور، مزارِ قائد کی سنگین خاموشی، اور ان راستوں کی گہما گہمی مگر یہاں چین میں پہاڑوں کی تنہائی اور خانقاہوں کی خاموشی میرے اندر کے دوسرے زاویے کو جگاتی ہے۔ یہ زاویہ وہ ہے جو شور سے بھاگ کر سکوت کی پناہ ڈھونڈتا ہے۔
    چین کی سرزمین صرف صنعت و تجارت کی پہچان نہیں، بلکہ یہ روحانیت اور سکون کی بھی گہوارہ ہے۔ یہاں کے پہاڑ اور ان پر بنی خانقاہیں صدیوں سے اہلِ چین کے دلوں کو سہارا دیتی آئی ہیں۔ عام تصور یہ ہے کہ خانقاہیں صرف مذہبی عبادت کے لیے مخصوص ہیں، مگر چین میں ان کی اہمیت کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے۔
    اہمیت کی پہلی صورت روحانی ہے۔ ہمالیہ کی آغوش سے لے کر صوبہ سیچوان اور تبت کی وادیوں تک، ہر جگہ خانقاہیں اس بات کی علامت ہیں کہ انسان صرف جسمانی دنیا کا محتاج نہیں بلکہ روحانی سکون کا بھی متلاشی ہے۔ بودھ راہب ان خانقاہوں میں عبادت اور مراقبہ کرتے ہیں، لیکن وہاں آنے والے عام چینی افراد محض مذہبی رسومات کے لیے نہیں آتے؛ وہ دل کا بوجھ ہلکا کرنے اور زندگی کے شور سے دور ہونے کے لیے بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
    دوسری اہمیت ان خانقاہوں کی ثقافتی ہے۔ ہوانگ شان، ایمی شان اور ووتائی شان جیسے مقامات کو نہ صرف مقدس سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ چین کے فنِ تعمیر، مصوری اور فلسفے کی جیتی جاگتی مثالیں بھی ہیں۔ قدیم لکڑی کے مندر، رنگین چھتوں پر کندہ ڈریگن، اور خانقاہوں کے صحن میں لہراتے دعا کے جھنڈے ۔ یہ سب چین کی تہذیبی تاریخ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقامات یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔
    اہمیت کی تیسری جہت معاشرتی ہے۔ خانقاہیں آج بھی سماجی زندگی کا حصہ ہیں۔ یہاں کے تہوار، دعائیہ اجتماعات اور خیرات کے کام لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جدید چین کے نوجوان بھی، جو ٹیکنالوجی اور تیز رفتار زندگی کے اسیر ہیں، کبھی کبھی خانقاہوں میں آ کر سکون تلاش کرتے ہیں۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ جہاں ایک طرف وہ ورچوئل دنیا میں کھوئے ہوتے ہیں، وہیں دوسری طرف خانقاہ کے خاموش صحن میں بیٹھ کر خود کو پہچاننے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
    رہا سوال تعداد کا تو چین میں ہزاروں خانقاہیں اور مندر موجود ہیں۔ صرف چار بڑے مقدس پہاڑ ووتائی شان، ایمی شان، پوٹو شان (Putuo Shan) اور جُوہوا شان (Jiuhua Shan) ہی ایسے ہیں جہاں سالانہ لاکھوں زائرین آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ زائرین مذہبی عقیدت کے ساتھ آتے ہیں، اور کچھ صرف سیاح کی حیثیت سے۔ لیکن ہر آنے والا، خواہ کسی بھی نیت سے آیا ہو، اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ سکون اور حیرت ضرور لے کر لوٹتا ہے۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ پہاڑی خانقاہیں چینی معاشرت کا آئینہ ہیں۔ یہاں مذہب، ثقافت، تاریخ اور قدرت آپس میں یوں گھل مل گئے ہیں کہ الگ الگ دیکھنا ممکن نہیں رہا۔ اور شاید یہی ان کی اصل اہمیت ہے کہ یہ خانقاہیں انسان کو یہ سبق دیتی ہیں کہ مادّی ترقی کے باوجود روحانی سکون کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔
    چین کی پہاڑی خانقاہیں صدیوں سے سکون اور عبادت کی علامت رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آج کے دور میں، جب چین ایک جدید اور تیز رفتار ملک بن چکا ہے، کیا ان خانقاہوں کی اہمیت اب بھی باقی ہے؟ اس سوال کا جواب ہمیں دو نسلوں کے رویوں سے ملتا ہے ۔نوجوانوں اور بزرگوں سے۔
    بزرگ نسل کے لیے یہ خانقاہیں محض مذہبی یا تاریخی عمارتیں نہیں، بلکہ ان کے دل کی دھڑکن ہیں۔ وہ ان خانقاہوں کو ایک ایسی پناہ گاہ سمجھتے ہیں جہاں انسان اپنی اصل سے جڑ جاتا ہے۔ بزرگ اکثر بتاتے ہیں کہ ان کے والدین یا دادا دادی پہاڑوں پر جا کر خانقاہوں میں دن گزارتے، مراقبہ کرتے اور زندگی کے فیصلوں میں رہنمائی پاتے تھے۔ آج بھی وہ وہاں جا کر شمعیں جلاتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں اور اپنے بچوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ سکون اور دعا کے بغیر زندگی کا سفر ادھورا ہے۔ ان کے نزدیک خانقاہیں تاریخ کا تسلسل اور روحانیت کی بقا ہیں۔
    دوسری طرف نوجوان نسل کا تعلق ان خانقاہوں سے کچھ مختلف ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو اسمارٹ فون، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل دنیا کے شور میں پلی بڑھی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی نوجوانوں میں ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو خانقاہوں کا سفر محض سیاحت کے لیے نہیں بلکہ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کرتی ہے۔ وہ خانقاہوں کے خاموش صحن میں بیٹھ کر خود کو “ڈیجیٹل شور” سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر نوجوان کہتے ہیں کہ خانقاہ کا سکوت انہیں ایسی طاقت دیتا ہے جو کسی بھی اسکرین پر نہیں ملتی۔
    ہاں، یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ نوجوان خانقاہوں کو صرف “قدیم یادگار” سمجھتے ہیں، جنہیں سیاح دیکھنے آتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ عبادت گاہیں نہیں بلکہ فوٹوگرافی کے مقام ہیں۔ لیکن پھر بھی جب وہ ان بلند چوٹیوں اور قدیم دروازوں کے بیچ کھڑے ہوتے ہیں تو دل کی گہرائیوں میں ایک لمحے کو ہی سہی، مگر خاموشی کا اثر ضرور محسوس کرتے ہیں۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ خانقاہوں کی اہمیت کا رنگ دونوں نسلوں میں مختلف ہے۔ بزرگ ان خانقاہوں کو عقیدت اور روایت کے چشمے سے دیکھتے ہیں، جبکہ نوجوان انہیں زیادہ تر “تجربے” اور “احساس” کے طور پر اپناتے ہیں۔ لیکن دونوں کے لیے یہ ماننا لازم ہے کہ خانقاہیں چین کی تہذیبی اور روحانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔
    وقت کے بدلتے تقاضوں کے باوجود ان کی معنویت ختم نہیں ہوئی، بلکہ ایک نئے انداز میں زندہ ہے۔ بزرگ ان میں عقیدت تلاش کرتے ہیں، اور نوجوان سکون۔ شاید یہی ان خانقاہوں کی اصل طاقت ہے کہ ہر نسل اپنے حال اور ضرورت کے مطابق ان سے روشنی حاصل کر لیتی ہے۔
    چین کی پہاڑی خانقاہیں محض مذہبی مقام نہیں رہیں۔ وہ آج کی معاشرت اور معیشت میں بھی اپنی جگہ بنائے ہوئے ہیں۔ یہ وہ عجیب امتزاج ہے جہاں صدیوں پرانی روحانیت اور جدید دنیا کا دھڑکتا ہوا نظام ایک دوسرے سے جُڑتے ہیں۔
    معاشرتی سطح پر یہ خانقاہیں لوگوں کے لیے اجتماع کا ذریعہ ہیں۔ یہاں صرف راہب یا عبادت گزار نہیں آتے بلکہ عام لوگ بھی اپنے خاندان کے ساتھ یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ تہواروں کے دنوں میں یہ خانقاہیں روشنیوں سے جگمگاتی ہیں، دعائیہ اجتماعات میں بزرگ ہاتھ جوڑتے ہیں اور نوجوان موبائل سے لمحے قید کرتے ہیں۔ اس منظر میں ایک خاص ہم آہنگی جھلکتی ہے ۔بزرگوں کی عقیدت اور نوجوانوں کی جستجو ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر معاشرتی وحدت کو ظاہر کرتی ہے۔ یوں خانقاہیں نہ صرف عبادت گاہ بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے پلیٹ فارم بن جاتی ہیں۔
    معاشی سطح پر بھی ان خانقاہوں کی حیثیت اہم ہے۔ چین میں سیاحت ایک بڑی صنعت ہے اور پہاڑی خانقاہیں اس صنعت کا مرکزی حصہ ہیں۔ ایمی شان، ووتائی شان اور پوٹو شان جیسے مقدس مقامات پر ہر سال لاکھوں زائرین اور سیاح آتے ہیں۔ ان کے آنے سے مقامی لوگوں کو روزگار ملتا ہے ۔ ہوٹل، ریسٹورنٹ، ٹرانسپورٹ اور دستکاری سب کا روزگار ان خانقاہوں کے گرد گھومتا ہے۔ ایک چھوٹے گاؤں کے مقامی تاجر کے لیے خانقاہ کے قریب کھڑی ایک چھوٹی سی چائے کی دکان زندگی کا سہارا ہے۔
    خانقاہیں چین کے “کلچرل ڈپلومیسی” کا حصہ بھی ہیں۔ دنیا بھر سے لوگ ان خانقاہوں کو دیکھنے آتے ہیں، ان کے بارے میں پڑھتے ہیں اور یوں چین کی ثقافت دنیا کے سامنے ایک نرمی اور روحانیت کے ساتھ ابھرتی ہے۔ یہ وہ رخ ہے جو تیز رفتار صنعت، بلند و بالا عمارتوں اور شور مچاتے بازاروں میں نظر نہیں آتا۔
    لیکن سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ خانقاہیں اب بھی انسان کی روحانی پیاس بجھانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایک طرف بزرگ عقیدت کے ساتھ ان خانقاہوں میں دعائیں مانگتے ہیں، اور دوسری طرف نوجوان، جو ٹیکنالوجی کے ہجوم میں کھوئے ہوئے ہیں، یہاں سکون ڈھونڈنے آتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان معاشرتی رشتہ بھی مضبوط ہوتا ہے اور مقامی معیشت کو سہارا بھی ملتا ہے۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ خانقاہیں آج کے چین میں نہ تو ماضی کی صرف یادگار ہیں اور نہ ہی محض سیاحتی مقام؛ یہ معاشرت کے دھڑکتے دل اور معیشت کے سانس لیتے رگ و پے ہیں۔ وہ انسان کو یہ سبق دیتی ہیں کہ اگرچہ زمانہ بدل گیا ہے، لیکن سکون، تعلق اور روزگار تینوں کو جوڑنے والا دھاگا اب بھی ان پہاڑی خانقاہوں سے بندھا ہوا ہے۔
    چین کے پہاڑی سلسلے اور ان پر بنی خانقاہیں صرف روحانیت اور تاریخ کی علامت نہیں ہیں، بلکہ قدرت کے حیرت انگیز کینوس بھی ہیں۔ ہوانگ شان، ایمی شان، ووتائی شان یا پوٹو شان ہر پہاڑ، ہر وادی، ہر جھاڑی اور ہر درخت یہاں کے ماحول کا حصہ ہے، جو انسان کے دل کو ایک نرمی اور سکون سے بھر دیتا ہے۔
    جب میں خانقاہوں کے صحن سے باہر نکل کر پہاڑوں کے درمیان چلتی ہوں، تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے ہر منظر کو عبادت کا روپ دے دیا ہے۔ بادلوں کی لپٹیں چوٹیوں سے نیچے اترتی ہیں، پتھریلے راستے سبزہ زاروں سے لپٹ جاتے ہیں اور جھرنے، چھوٹے چھوٹے چشموں کی صورت میں اپنے نغمے گنگناتے ہیں۔ یہ منظر صرف آنکھوں کے لیے نہیں، بلکہ روح کے لیے بھی غذائیت ہے۔
    ماحولیاتی لحاظ سے یہ پہاڑ اور خانقاہیں انتہائی اہم ہیں۔ یہاں کے جنگلات ہوا کو صاف رکھتے ہیں، زمین کو مستحکم کرتے ہیں اور متعدد پرندوں اور جانوروں کی پناہ گاہ بھی ہیں۔ کئی مقامات پر پانڈا کی محفوظ جنگلی زندگی، بندر، اور نایاب پرندے نظر آتے ہیں۔ یہ سب بتاتے ہیں کہ انسان کی عبادت کے ساتھ ساتھ قدرت کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
    خانقاہوں کی تعمیر بھی ماحول دوست اصولوں کے مطابق کی گئی ہے۔ لکڑی کے قدیم ستون، چھتوں کی رنگت اور پتھریلے صحن، سب قدرتی مواد سے بنائے گئے ہیں تاکہ پہاڑ کی زمین اور جنگلات متاثر نہ ہوں۔ یہ انداز ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان اور قدرت کے درمیان توازن ضروری ہے، اور یہ توازن صدیوں سے ان خانقاہوں میں قائم ہے۔
    سیاح اور زائر جب یہاں آتے ہیں، وہ صرف روحانی سکون یا تاریخی معلومات حاصل نہیں کرتے، بلکہ ماحول کی خوبصورتی کو بھی قریب سے محسوس کرتے ہیں۔ ان کے قدم، ہر جھاڑی، ہر پتہ اور ہر بادل کی سرسراہٹ سے جڑ جاتے ہیں۔ نوجوان نسل کے لیے یہ ایک طرح کی ماحولیاتی تربیت بھی ہے، جو انہیں زمین اور فطرت کے احترام کا درس دیتی ہے۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ چین کی پہاڑی خانقاہیں صرف عبادت گاہ نہیں، بلکہ قدرتی خزانے ہیں۔ وہ انسان کو روحانی سکون، تاریخی آگاہی اور ماحولیاتی شعور تینوں ایک ساتھ فراہم کرتی ہیں۔ ان پہاڑوں کی خاموشی میں چھپی قدرت کی خوبصورتی، ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا اصل سکون انسان اور فطرت کے درمیان توازن میں ہے، اور یہی چین کی پہاڑی خانقاہوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

  • والدہ سے بچھڑنے کاصدمہ شدید ہے مگر کراچی والوں کے پیار نے حوصلہ دیا.حمیرا گل تشنہ

    والدہ سے بچھڑنے کاصدمہ شدید ہے مگر کراچی والوں کے پیار نے حوصلہ دیا.حمیرا گل تشنہ

    سچ کہوں تو والدہ “ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ” کے انتقال کے بعد یہ وقت میرے لیے شدید غم اور دکھ کا تھا۔ ایسا لگتا تھا اب پاکستان آنے کی کوئی وجہ نہیں رہی۔ لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو صبر و استقامت کا دامن تھامنے اور دوراندیشی کا ثبوت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ایسی صورت میں جب میں عمرہ کے بعد کراچی پہنچی جس طرح سے گھر والوں نے ساتھ دیا اور اردو ادب کی دنیا کے لوگوں نے جو محبت دی اس نے والدہ کے دکھ کو کم کرنے میں قابل تحسین کردار ادا کیا۔
    ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ صرف میری والدہ نہیں تھیں۔ ایک سہیلی تھیں، استاد تھیں، رہنما تھیں، ایک مرشد تھیں اور ایک سہارا تھیں جس کے چلے جانے کا صدمہ بے حد تھا، ہے اور رہے گا۔ ایسے حالات میں عام طور پر انسان خود کو سماجی تعلقات سے کاٹ کر تنہائی میں گم کر لیتا ہے مگر میں ایسا نہیں کر سکتی تھی۔ بڑی بیٹی ہونے کے ناطے کچھ ذمہ داریاں ایسی ہوتی ہیں جن کو صرف آپ ہی کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسلتے ہوئے رشتوں کو سمیٹنا ہوتا ہے۔
    یہ وقت شکوے اور شکایت کا نہیں بلکہ، صبر کی اور ہمت کی جو تربیت والدہ دے کر گئیں ہیں اب اس کو سب کو پریکٹیکلی اپلائی کرنے کا وقت ہے۔ اور والدہ کی یہ وراثت صرف جذباتی وابستگی تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کی ادبی و ثقافتی خدمات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری بھی اب میرے کندھوں پر آ گئی ہے۔
    کراچی، پاکستان کا ثقافتی و ادبی حب ہونے کے ساتھ ساتھ اردو ادب کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔ اس بار میرا اس شہر کا دورہ محض ایک رسمی Visit نہیں تھا، بلکہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ لگتا ہے۔ اس بار کے visit میں اردو ادب کے نامور ادیبوں، شاعروں اور ثقافتی شخصیات سے ملاقاتیں رہیں ۔ ان ملاقاتوں کا مقصد محض تعارف یا رسمی بات چیت تک محدود نہیں تھا، بلکہ اردو ادب کی ترویج مرکوز تھی ۔
    جہاں ایک طرف اس دوڑتے بھاگتے وقت میں گھر و خاندان کو سمیٹنے کوشش جاری رہی وہیں دوسری طرف کراچی کے ادبی حلقوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ کچھ بہترین لوگوں سے ملاقات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
    ترقی شعراء ویلفیئر آرگنائزیشن نے والدہ کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا۔ گورنر ہاؤس جشن آزادی معرکہ حق مشاعرہ پڑھنے کا موقع ملا ۔ آرٹس کونسل کراچی گل رنگ ہال معرکہ حق مشاعرے میں والدہ کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔ نشید آفاقی کی دعوت پر کنزیومرواچ واچ کے آفس visit کرنے کا موقع ملا جہاں کنزیومرواچ کے چیف ایڈیٹر شیخ راشد عالم سے ملاقات ہوئی۔ روٹری جشن آزادی مشاعرہ میں شرکت رہی ۔ اور اس کے علاوہ بالکل اچانک ہی بزم اعظم گڑھ شارجہ مشاعرے کی دعوت پر شارجہ و دبئی کے مشاعرے میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ احمد شاہ سے ملاقات کا موقع ملا ۔ کراچی پریس کلب میں فاضل جمیلی، خانزادہ، وجیہہ ثانی اور اصغر خان صاحب سے ملاقات و گفتگو رہی۔ ایف پی سی سی آئی کے زیر اہتمام مشاعرہ میں شامل ہوئی۔ ایف ایم 107 پر یحیٰ حسینی کے بہترین گفتگو رہی۔ اور واپس آنے سے قبل ترقی شعراء ویلفیئر آرگنائزیشن کی جانب سے کروز مشاعرہ و محفل غزل نے واپسی کے سفر پہلے کی ساری تھکان اتار دی۔ واپسی کے سفر سے چند گھنٹے قبل نہایت عجلت میں منصور ساحر نے venus tv پر اپنے مورنگ شو کی ریکارڈنگ کی اور اس کا حصہ بنی۔ اتنی ساری محبتیں سمیٹنے کے بعد کراچی کا یہ دورہ مکمل ہوا۔
    زندگی اسی کا نام ہے جہاں لوگ بچھڑتے اور ملتے رہتے ہیں۔ آج کے دور میں جب ادبی دنیا بھی گروہ بندیوں، تنقید کے نام پر تخریب کاری، اور منفی تنقید کا شکار ہو چکی ہے، ایسے صورتحال میں اچھے لوگوں کا آپ سے ملنا اور مثبت تعلقات استوار ہونا آپ کے اندر ایک نیا عزم، ایک نئی امید کی کرن پیدا کرتے ہیں۔
    میرے لیے والدہ کی رحلت کے بعد کراچی کا دورہ بےحد مشکل کام تھا۔ جس کے لیے آتی تھی وہ وجہ ختم ہوگئی تھی لیکن کچھ ضروریات ایسےلی ہوتی ہیں کہ ان سے منہ نہیں پھیرا جا سکتا۔ لیکن میرے گھر والوں کی محبت و ساتھ نے اس مشکل کام کو آسان کرنے میں مدد کی۔ اور اردو ادب کی دنیا کے لوگوں سے ملنے والا پیار اس بات کی علامت ہے کہ ادب محض الفاظ کا ہنر نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے کا وسیلہ بھی ہے۔ اور یہی وہ legacy ہے جو کہ والدہ “ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ” میرے لیے چھوڑ گئی ہیں۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو بےحد تکلیف دیتی ہے کہ وہ “چھوڑ گئی ہیں”۔

  • ستمبر کے آخر میں بھارت اور پاکستان میں غیر معمولی بارش ہوسکتی ہے.اقوام متحدہ

    ستمبر کے آخر میں بھارت اور پاکستان میں غیر معمولی بارش ہوسکتی ہے.اقوام متحدہ

    نیویارک (کنزیومر واچ نیوز)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے ذیلی موسمی ماڈلز کا حوالہ دیتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ ستمبر کے آخر میں بھارت اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ معمول سے زیادہ بارش ہوگی، حالانکہ مون سون واپس جا چکا ہوگا، اور اس کا اعادہ اکتوبر کے آخری ہفتے میں بھی ممکن ہے۔ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 سے مارچ 2026 تک کے عرصے میں صحرائی ٹڈیوں کی گرمی اور سردی کی افزائش کے علاقوں میں موسمی بارش کے بارے میں ایف اے او کی رپورٹ کے مطابق نومبر اور دسمبر میں حالات معمول سے زیادہ خشک رہیں گے جبکہ جنوری میں معمول کی بارش متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کے جنوب مشرقی ساحلی علاقوں اور پاکستان کے جنوب مغربی خطوں میں بہار کے افزائش والے مقامات پر فروری اور مارچ کے دوران معمول سے زیادہ یا کم از کم معمول کی بارشیں متوقع ہیں۔ایف اے او نے نشاندہی کی ہے کہ بھارت اور پاکستان کی سرحد پر اکتوبر میں بہت چھوٹے پیمانے پر گرمیوں کی افزائش جاری رہ سکتی ہے لیکن نومبر میں اس کے ختم ہونے کی توقع ہے، یہ بارشیں شمالی ساحل اور سوڈان میں بھی ستمبر اور اکتوبر کے اوائل تک ٹڈیوں کی افزائش میں مددگار ہوں گی، نومبر میں افزائش کم ہونے کی توقع ہے لیکن دسمبر سے مارچ تک دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔عالمی موسمیاتی سروس کی تازہ ترین موسمی بارشوں کی پیش گوئیاں صحرائی ٹڈیوں کی بہار، گرمی اور سردیوں کی افزائش کے علاقوں کا احاطہ کرتی ہیں۔عالمی موسمیاتی سروس کی تازہ ترین موسمی بارشوں کی پیش گوئیاں بہار، گرمی اور سردیوں میں صحرائی ٹڈیوں کی افزائش کے علاقوں کا احاطہ کرتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ستمبر کے آخر میں شمالی ساحل، جزیرہ نما عرب کے جنوبی حصے اور پاک۔بھارت سرحد پر معمول سے زیادہ بارش متوقع ہے اور یہ سلسلہ مغربی افریقہ اور پاک۔بھارت سرحد پر اکتوبر کے اوائل تک جاری رہ سکتا ہے۔اکتوبر اور نومبر میں زیادہ تر خطوں میں خشک سالی کا رجحان سامنے آنے کی توقع ہے، جس کی وجہ منفی انڈین اوشین ڈائپول بتائی گئی ہے۔

  • بھارت سے شکست ،مریم نفیس کی محسن نقوی سے دلچسپ درخواست

    بھارت سے شکست ،مریم نفیس کی محسن نقوی سے دلچسپ درخواست

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں بھارت کے ہاتھوں ایک اور شکست کے بعد پاکستانی اداکارہ مریم نفیس کا ردعمل سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا۔اداکارہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے ٹیم میں انڈر 19 کھلاڑیوں کو موقع دینے کی اپیل کی۔مریم نفیس نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ہلکے پھلکے انداز میں لکھا ’’محسن برو، انڈر 19 والے پلیئرز کھلوالو، پلیز۔‘‘ان کا یہ پیغام مداحوں میں تیزی سے وائرل ہو گیا اور شائقین کرکٹ نے بھی مختلف ردعمل کا اظہار کیا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز کھیلے گئے سپر فور مرحلے کے دوسرے میچ میں پاکستان نے بھارت کو جیت کے لیے 172 رنز کا ہدف دیا تھا، جسے بھارتی ٹیم نے 19 ویں اوور میں 4 وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کر لیا۔ اس سے قبل گروپ مرحلے میں بھی پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔تازہ ناکامی کے بعد پاکستان کے فائنل تک پہنچنے کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔ گرین شرٹس کو ایونٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے آئندہ دونوں میچز لازمی جیتنے ہوں گے۔ اگر پاکستان کسی ایک مقابلے میں بھی ناکام ہوا تو ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گی۔بھارت کے خلاف لگاتار شکستوں نے جہاں شائقین کو مایوس کیا ہے، وہیں مریم نفیس کی مزاحیہ اپیل نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے اور یہ موضوع مداحوں کی گفتگو کا حصہ بن گیا ہے۔