Blog

  • دانش تیمور نے بولڈ سین میں سب حدیں پار کردیں، سوشل میڈیا پر تنقید

    دانش تیمور نے بولڈ سین میں سب حدیں پار کردیں، سوشل میڈیا پر تنقید

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)پاکستان شوبز انڈسٹری کے ہر دلعزیز اداکار دانش تیمور ایک بار پھر سوشل میڈیا کی سخت تنقید کی زد میں ہیں۔ اس بار وجہ بنی ہے ان کے ایک پرانے ڈرامے کا بولڈ سین، جس کا کلپ اچانک وائرل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مداحوں اور ناقدین کی زبانوں پر دانش تیمور کا چرچا ہونے لگا۔دانش تیمور گزشتہ کئی برسوں سے ہٹ ڈراموں کا حصہ رہے ہیں اور جارحانہ کرداروں نے انہیں ایک منفرد پہچان دی ہے۔ مداح انہیں عموماً سخت اور غصے والے کرداروں میں دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں، لیکن اب سامنے آنے والے اس پرانے کلپ نے سب کو حیران کر دیا۔ سوشل میڈیا صارفین کہنے لگے کہ ’’یہی وہ دانش تیمور ہیں جنہیں ہم ہیرو کے روپ میں دیکھتے آئے ہیں؟‘‘دلچسپ بات یہ ہے کہ دانش تیمور کو پہلے بھی ڈرامہ سیریل ’من مست ملنگ‘ میں بولڈ سین کرنے پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اس بار معاملہ اور بھی پرانا نکلا۔ وائرل ہونے والے کلپ کے مطابق یہ سین غالباً 2008ء کے ڈرامے کا ہے، جس میں دانش تیمور اور اداکارہ جیا علی کو بولڈ کرداروں میں دکھایا گیا ہے۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقوں ملیر، آئی آئی چندریگر روڈ اور دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلہ پیما مرکز کا بتانا ہے کہ زلزلہ صبح 9 بج کر 34 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا جس کی شدت 3.2 اور گہرائی زیر زمین 10 کلو میٹر تھی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز ملیر سے 7 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔ اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات انجم نذیر نے کہا کہ 3 شدت کے زلزلے اکثر آتے ہیں مگر یہ زیادہ محسوس نہیں ہوتے گر چونکہ یہ شدت 3 سے زیادہ تھی اس لیے شدت محسوس ہوئی۔

  • پیپلز پارٹی کو مریم نواز کی کارکردگی سے خوف آتا ہے: عظمیٰ بخاری

    پیپلز پارٹی کو مریم نواز کی کارکردگی سے خوف آتا ہے: عظمیٰ بخاری

    اسلام آباد: (کنزیومرواچ نیوز)وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی سے خوف آتا ہےنجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر اتحادی ڈھنگ کا مشورہ دیں تو کیوں نہیں لیں گے مگر آپ نے سیاست شروع کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بیرونی امداد نہیں لے رہے تو زبردستی کیوں کررہے ہیں، انتظامی معاملات میں کسی صوبے کا گھسنا یا سیاست کرنا قطعی نامناسب ہے، ضروری نہیں کہ سیلاب کے متاثرین بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ ہوں۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سندھ میں سیلاب آیا تو ہم نے کوئی سیاسی بیان نہیں دیا، پیپلز پارٹی کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی سے خوف آتا ہے، پرفارمنس کا مقابلہ کریں لیکن الزام تراشی نہ کریں۔ صوبائی وزیرا طلاعات نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی سے اتحاد ملک میں استحکام اور آگے بڑھنے میں اچھی کارکردگی دکھارہا ہے۔

  • کوئٹہ: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 10 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 10 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ(کنزیومرواچ نیوز) سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 10 دہشتگرد مارے گئے۔سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے مضافاتی علاقے غزہ بند میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیا جس دوران 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں سے مقابلے میں 2 سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا جس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ ہلاک دہشتگردوں سے بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

  • پاک فوج نے   فتح 4  کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا

    پاک فوج نے فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا

    راولپنڈی (کنزیومرواچ نیوز)پاک فوج نے ملکی ماہرین کے تیار کردہ فتح 4 گراؤنڈ لانچ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل 750 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، فتح-4 کی شمولیت سے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی استعداد کار میں مزید اضافہ ہوگا۔جدید ایویونکس اور نیویگیشنل سسٹمز سے لیس یہ میزائل ٹیرین ہگنگ خصوصیات کے باعث دشمن کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو چکما دینے اور انتہائی درستگی سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان آرمی کے روایتی میزائل سسٹمز کی رینج، مہارت اور بقا کی صلاحیت کو تقویت ملے گی۔کامیاب تجربے کا مشاہدہ چیف آف جنرل اسٹاف، پاک افواج کے سینیئر افسران اور میزائل تیار کرنے والے سائنسدانوں و انجینئرز نے کیا۔صدر مملکت، وزیراعظم پاکستان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تینوں سروسز چیفس نے کامیاب تجربے پر شریک افسران، جوانوں، سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد پیش کی۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فتح 4 کروز میزائل کے کامیاب تجربہ پر پوری قوم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ فتح 4 میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اگر کسی نے ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو بہت جلد وہ اپنے انجام سے واقف ہوگا۔وزیراعلیٰ نے شاندار کامیابی پر پاک فورسز، انجینئرز اور سائنسدانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

  • پاکستان میں اخباری اشاعت کازوال،ذمہ دار کون؟ (آغاخالد)

    پاکستان میں اخباری اشاعت کازوال،ذمہ دار کون؟ (آغاخالد)

    کراچی میں تمام اردو، سندھی اور انگریزی اخبارات کی روزانہ کی اشاعت 80 ہزار تک محدود ہوچکی ہے تاہم یہی اشاعت اتوار کو چھٹی کی وجہ سے ایک لاکھ 7 ہزار تک پہنچ جاتی ہے جبکہ چند برس قبل تک صرف روزنامہ جنگ کی اشاعت ڈیڑھ سے دو لاکھ تھی جبکہ بعض اہم واقعات خصوصا احتجاجی تحریکوں یا جنگوں کے دنوں میں یہی اخبار ساڑھے 3 لاکھ تک چھپتا رہاہے جبکہ کراچی کے اخبار فروشوں کے مطابق شہر کے تمام اخبارات کو ملاکر چند برس قبل تک یہ تعداد 7 لاکھ کے لگ بھگ تھی، حیرت انگیز طور پر انگریزی کے سب سے بڑے اخبار “ڈان” کی اشاعت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی جبکہ یہ اخبار تیسری دنیا کے معاشی بحران میں مبتلا ملک کی اشرافیہ کا پسندیدہ اخبار سمجھا جاتا ہے، تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا کے اثرات نے اس طبقہ کو شاید متاثر نہیں کیاہے اور نہ ہی تیز رفتار برقیاتی ذرائع کو وہ اپنے پسندیدہ اخبار پر ترجیح دینے کو راضی ہیں، تاہم اس سے یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکالا جا سکتا کہ پاکستان یا خصوصا کراچی کی نئی نسل مطالعہ کے شعبہ میں بانجھ ہوچکی ہے کیونکہ یہی اخبارات پرنٹنگ کے شعبہ میں اگر زوال پذیر ہوے ہیں تو نیٹ (ای پیپر) پر غیر مصدقہ ویب پر موجود معلومات کے مطابق ان کی اشاعت کروڑوں میں پہنچ چکی ہے اور دنیا بھر کے اردو/انگریزی کے قارئین نیٹ پر ان کے مطالعہ کو ترجیح دے رہے ہیں جس سے نہ صرف روز بروز نیٹ پر ان کی مانگ میں تیزی آرہی ہے بلکہ اس سے ان کی آمدنی میں بھی معقول اضافہ ہورہا ہے، تازہ اعدادو شمار کے مطابق 3 ماہ میں ڈان کے نیٹ پر قارئین کی تعداد 2 کروڑ 98 لاکھ جبکہ جنگ 85 لاکھ 3 ہزار، ایکسپریس دو ویب ہیں پہلی پر 53 لاکھ جبکہ دوسری پر 16 لاکھ، اسی طرح نوائے وقت کے نیٹ پر قائین ہیں 2 لاکھ 74 ہزار، جنگ گروپ کے سابق گروپ ایڈیٹر محمود شام نے اس نمائندہ کے سوال پر اخبارات کے معیار کو زوال پذیر معاشرہ کا آئینہ قرار دے چکے ہیں اور پاکستان میں اردو صحافت کے امام “جنگ” کی خبروں کی گراوٹ پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے، اور اسے مالکان کے مفادات کی ہوس قرار دیاہے ان کا کہناہے کہ اکثر اخباری مالکان نے ٹی وی چینل نکال لیے جس کے اخراجات کم اور کمائی زیادہ ہے جبکہ اس کی نسبت اخبار کی کمائی کم ہے، جنگ اور ڈان سمیت چند دیگر اخبارات کے اشتہاری شعبے اس قدر فعال ہیں کہ اتوار کو انہیں بڑی تعداد میں عوامی دلچسپی کے حامل اشتہارات ملتے ہیں جس کی وجہ سے اس روز کی اشاعت میں ہزاروں کا اضافہ ہوجاتا ہے، 98 فیصد اخبارات اس شعبہ میں بھی ناکام ہیں واضع رہے کہ ملک بھر میں آج بھی ڈیڑھ لاکھ سے زائد اخبارات و رسائل رجسٹر ہیں اور ان کی ایک خاصی بڑی تعداد وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں سے سرکاری اشتہارات بھی حاصل کرہی ہے صحافتی تنظیموں کے نزدیک زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسے چند اخبارات جو ماضی میں لاکھوں کی اشاعت رکھتے تھے اب چند سو چھپ رہے ہیں سندھ کی وزارت اطلاعات کے ایک ناراض افسر کا کہنا ہے کہ ایسے چند اخبارات جو ماضی میں چاروں صوبوں میں لاکھوں کی تعداد میں چھپ رہے تھے اب صرف سرکاری ریکارڈ کا پیٹ بھرنے کو چند سو چھپ رہے ہیں مگر سرکاری اور نجی اشتہارات کا ماضی کی طرح ہی اپنا کوٹہ پورا حاصل کرہے ہیں جبکہ اس سلسلہ میں دو بڑے صحافی رہنمائوں خورشید عباسی اور امتیاز خان فاران سے کیے گئے الگ الگ رابطوں میں انہوں نے ایسے ہی اداروں کو صحافیوں کے روزگار کا اصل قاتل قرار دیاہے ان کا کہناہے کہ وہ صحافت کے نام پر تمام حکومتی مراعات اور اشتہارات چاہے وہ نجی ہوں یا سرکاری کا بڑا حصہ حاصل کرہے ہیں جس سے ان کے خاندانوں کی عیاشیاں دیکھی جا سکتی ہیں مگر ان اداروں کو پوری جوانیاں دینے والے پیشہ ور صحافیوں کو یک جنبش قلم نکال باہر کیا گیاہے جس سے ملک بھر میں عموما اور کراچی میں خصوصا صحافی برادری میں بے روزگاری کی بدترین لہر آئی ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں ملازمتوں سے محرومی کے سبب بیشتر صحافیوں کی صدمہ سے اموات ہورہی ہیں یا وہ متعدی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں جس کے ذمہ دار یہی ادارے ہیں جن کا بہر حال احتساب ہونا چاہیے اس نمائندہ کی جانب سے فروری سے جولائی 2025 کے درمیان اخبارات کے زوال پر سروے میں کراچی کے اکثر چھوٹے بڑے اخبارات کے ایجنٹوں سے رابطے کرکے ان کی کراچی میں فروخت کے جو اعدادو شمار اکٹھے کیے گئے ہیں اور ان کی تصدیق نیو چالی کے مرکزی ڈپو کے علاوہ علاقائی ڈپوز اور تین بڑی پرنٹنگ پریس سے بھی کی گئی ہے اس کے مطابق روزنامہ جنگ کی اشاعت 14 ہزار 500 کے ساتھ قیمت 30 روپے ہے جبکہ اتوار کی اشاعت 38 ہزار اور قیمت 35 روپے ہے روزنامہ ایکسپریس اتوار کی اشاعت 9 ہزار اور قیمت 40 روپے جبکہ عام ایڈیشن 8000 ہزار کی اشاعت کے ساتھ شائع ہو رہا ہے روزنامہ امت عام دنوں میں 9000 ہزار جبکہ اتوار کو 11 ہزار کی اشاعت کے ساتھ قیمت 30 روپے،مزید برآں ریاست کی قیمت 20 روپے اور اشاعت 6 ہزار 200 ہے۔ قومی اخبار 7 ہزار 100، روزنامہ آغاز 3500 سو، جناح 2 ہزار،
    دنیا 3 ہزار 400 کی اشاعت 30 روپے جسارت 1500 سو جبکہ اتوار کو 1800 سو، نوائے وقت اور خبریں بالترتیب 250 اور اتوار کو 500 سو، اوصاف 1200 سو، روزنامہ امن 500 سو، جرئت 700 سو، علاوہ ازیں دیگر اخبارات میں اسلام، حریت، جہان پاکستان، 200 سے 300 تک، نئی بات 400 سو، سندھی اخبارات میں کاوش 2 ہزار کی اشاعت کے ساتھ 40 روپے میں دستیاب ہے، پھنجی اخبار 450، عوامی آواز 300 سو اسی طرح ہفت روزہ سوبھ 70 کی اشاعت اور 40 روپے قیمت کے ساتھ شائع ہوتا ہے، انگریزی روزنامہ ڈان کی اتوار کی اشاعت حیرت انگیز حدتک 18 ہزار ہے اور قیمت 50 روپے، جبکہ عام دنوں میں 13 ہزار اشاعت اور قیمت 35 روپے، جبکہ اس کے مقابل دی نیشن کی اشاعت 250 اور قیمت 40 روپے، ٹریبیون 1 ہزار 200 اور دی نیوز کی اشاعت 1 ہزار 100 اور قیمت 45 روپے ہے،
    اس سروے کے لیے مارچ 2025 سے جون 2025 تک شہر کے مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا گیا جبکہ نیو چالی کےمرکزی ڈپو سمیت اورنگی ٹائون، کورنگی، لانڈھی، ملیر، قائدآباد، ریگل صدر، ایف بی ایریا، لیاقت آباد، ناظم آباد، نیو کراچی، گڈاپ اور سرجانی ٹائون کے چھوٹے بڑے ڈپوز اور مرکزی اسٹالز سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہوگا کہ اخباری طباعت کے زوال کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہماری نوجواں نسل مطالعہ سے دور ہوگئی ہے یا انہیں ملکی و بین الاقوامی حالات و واقعات سے سروکار نہیں کیونکہ جن اخبارات و رسائل کی طباعت میں اشاعت گری ہے اس سے کئی گنا نیٹ پر ان کی مانگ بڑھ گئی ہے بڑے اخبارات کے ایک اہم ایجنٹ احمد حسین اس کی وجہ مہنگا اخباری کاغذ اور طباعت کے ہوش ربا اخراجات کو قرار دیتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ اشاعت کا زوال مصنوعی ہے کیونکہ مالکان کو بڑھتی اشاعت سے نقصان ہوتاہے اخبار کی قیمت سے اس کے اخراجات پورے کرنا تقریبا ناممکن ہوچکا ہے اور یہی وجہ تیزی سے اخباری اشاعت کا زوال بنی ہے، سی پی این ای کے ایک دھڑے کے سربراہ اور ممتاز صحافی جبار خٹک کہتے ہیں کہ اس موضوع پر کتاب بھی ناکافی ہوگی تاہم بنیادی وجہ انہوں نے چند مخصوص بڑے اخباری گروپوں کا اس شعبہ پر قبضہ قرار دیا جن کا نجی اور سرکاری اشتہارات پر بھی اختیار ہے اور مخصوص مفادات کے تحت وہ اخباری صنعت کو ارادتا زوال کی طرف لے کر جارہے ہیں انہوں نے بھارت اور دیگر پڑوسی ممالک کا حوالہ دیتے ہوے کہاکہ کہیں بھی اخباری صنعت اس قدر تیزی سے زوال پذیر نہیں ہوئی ہماری اسٹبلشمنٹ کو بھی انہوں نے اخباری زوال کی ایک وجہ قرار دیا جو روز بروز خبر کا گلا گھونٹ رہی ہے اور خبر نہ ہونے کی وجہ سے بھی قارئین مایوس ہورہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا اسی وجہ سے طاقت پکڑ رہاہے ایک سوال پر انہوں نے مہنگے کاغذ اور طباعت کے اخراجات کو بھی اس کی ایک بڑی وجہ تسلیم کیا، قومی اخبار گروپ کے چیف ایڈیٹر اسد شاکر کہتے ہیں خبر کی سوشل میڈیا پر منتقلی بڑی وجہ ہے یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر آج پائی گئی خبر اخبار میں دوسرے روز ملنے لگی ہے جس سے قاری کا اعتماد مجروح ہوا اور یوں دیگر مسائل سمیت اشاعت زوال پذیر ہوتی گئی۔

  • برلن میں ہفتہ مسلم تہذیب،،،،، سرور غزالی

    برلن میں ہفتہ مسلم تہذیب،،،،، سرور غزالی

    برلن میں مورخہ 19 ستمبر سے لے کر 5 اکتوبر 2025 ٹک ایک “ہفتہ مسلم تہذیب” منایا جا رہا ہے۔ اس ہفتہ اسلامی تہذیب کو برلن کی مقامی حکومت کے ماتحت محکمے، “محکمہ برائے تہذیب و ثقافت اور باہمی میل جول” کی جانب منعقد کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں 19 ستمبر سے لے کر 5 اکتوبر تک کل 60 پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ پروگرام کو مشتہر کرنے کے لیے اخباری ضمیمہ، پوسٹر، اور انٹرنیٹ اعلانیہ جاری کیا گیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی اس ہفتے اسلامی تہذیب کا افتتاحی پروگرام 19 ستمبر 2025 کو برلن کی فائن ارٹس یونیورسٹی کے ہال جوزف آخم کنسرٹ ہال برلن میں ایک خوبصورت شام کی صورت میں برپا ہوا۔ پروگرام کی ابتدا تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے لیے مسجد کے پیش امام محترم عامر عزیز صاحب کو اسٹیج پر دعوت دی گئی۔ یہ ایک نہایت روح پرور منظر تھا جس میں امام صاحب عامر عزیز نے سورہ الحمد کی قراءت کی۔ جس کے بعد اس پروگرام کے سربراہ نے ابتدائی خطبے کے بعد پروگرام کے شروع کیے جانے کا اعلان کیا اور پھر سٹیج پر برلن کی کلچرل سینٹر سارا ولسن کو خطاب کے لیے بلایا گیا جنہوں نے تہذیب و ثقافت اور مختلف اقوام کے مابین ڈائیلاگ کی اہمیت پر اپنا مقالہ پیش کیا جس کے بعد برلن کی “بسٹ سیلر” مصنفہ کبرا کو اسٹیج پہ بلایا گیا جنہوں نے ایک دقیق مضمون میں مختلف سیاست دانوں سائنس دانوں اور علماء کے فکر انگیز مقالے سے استفادہ کرتے ہوئے امن کی اہمیت اور ڈائیلاگ کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ڈائیلاگ کی بنیادی شرائط کو واضح کیا۔ پروگرام کے اگلے حصے میں اسلامی صوفی موسیقی کا دور چلا جس میں ایران، ازبکستان اور ترکی زبان کے مقامی اور بین الاقوامی فنکاروں نے ایک طائفہ کی صورت میں جس میں 15 مختلف فنکار شامل تھے ایک رنگا رنگ پروگرام پیش کیا۔ فنکاروں میں حاکان ترگل، ہا گر گرگن حلیل بیوچل، قسینہ زد رسکا، طائفون گڈ سٹاٹ، برات زمبک امینہ مثنوی، پر ہم علی زاد، نائلہ گلگن وغیرہ شامل تھے جنہوں نے مختلف سازوں، جن میں پیانو، وائلن، دف، طبلہ، گھنگرو، ایک تارا وغیرہ جیسے قدیم و جدید سازپر مختلف صوفی دھنیں بجا کر اپنی خوبصورت اوازوں کا جادو جگایا اور محفل کو انتہائی باوقار صوفیانہ رنگ میں ڈھال دیا۔ اس پروگرام کی ا سب سے خوبصورت پیش کش استاد نصرت فتح علی خان کے پیش کردہ “دم مست علی” کو ان فنکاروں کا ہال پیش کرنا تھا۔ دما دم مست قلندر کا یہ ورژن ہال میں موجود مختلف ممالک کے شرکاء جن میں بے شمار جرمن نوجوان بھی شامل تھے اس قدر پسند کیا کہ پروگرام کے آخر میں اسے ایک بار پھر پیش کرنے کی فرمائش بھی کی گئی اور فنکاروں نے جب اسے پیش کیا تو اس سٹیج کے سامنے آ کر شائقین نے دھمال پیش کیا اور اس طرح یہ ہال یہ کنسرٹ روح پرور منظر پیش کرتارہا۔ اس پروگرام میں شرکت کے لیے خاکسار کو بھی مدعو کیا گیا تھا اور پروگرام کے دوران وقفہ طعام میں سوال جواب کے دوران لال شہباز قلندر اور ان کے صوفیانہ کلام پر گفتگو میں شرکت کی دعوت دی گئی اور مختلف تصاویر لی گئیں فنکاروں کے ساتھ اور اسٹیج کی تصاویر شامل حال ہیں۔ یہ پروگرام اس ہفتے اسلامی تہذیب کا ابتدائی پروگرام تھا۔ اس دوران پیش کیے جانے والے دیگر پروگراموں کی تفصیل یوں ہے 26 اکتوبر کو برلن کی ایک مسجد میں مسلمان امام، عیسائی پادری اور یہودی رابن یکجا ہو کر ابتدائی عبادت پیش کریں گے اسی دن بچوں کے لیے ایک جاپانی تھیٹر پیش کیا جائے گا “لکیروں کے ذریعے ڈائیلاگ” کے عنوان سے اسی دن ایک نمائش میں حاجی نوردین نامی فنکار کیلی گرافی کی اہمیت اجاگر کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف کتابوں کے اسٹال اور سیمینار، کتابوں کے تعارفی پروگرام پیش کیے جائیں گے۔ان دنوں برلن شہر میں پھیلے ہوئے مختلف مقامات جن میوزیم، یونیورسٹی کے ہال، چرچ اور مساجد شامل ہیں، میں مختلف پروگرام ہوتے رہیں گے جن میں ایک پروگرام بہ عنوان “سدا بہ صحرا” پیش کیا جائے گا جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے ہجرت کر کے آنے والے شعرا اور مصنفین کے کلام پیش کی جائیں گے- ایک پروگرام چین میں بسنے والے مسلمان اوئی گورو پر بھی پیش کیا جائے گا اس کے علاوہ 29 مئی کو بدیع الزماں سید نصری :ما بعد مرگ” کے عنوان سے ایک میوزیم میں تحقیقی مقالہ پیش کریں گے مختلف فنکاروں کے ساتھ مل کر بین المذاہب گفتگو بھی پیش کی جائے گی اسی طرح سے 30 ستمبر کو “قران اور بائبل کے مشترکہ عنوانات” کے نام سے ایک چرچ میں گفتگو کا سلسلہ رکھا گیا ہے “امام اور پادری” کے عنوان سے ایک گفتگو کا پروگرام ہے جمرات 2 اکتوبر کو “صوفیانہ راہ” کے عنوان سے اسلامی صوفی طرز زندگی میں خواتین کے کردار پر ایک مقالہ پیش کیا جائے گا۔ 4 اکتوبر کو بچوں کا ایک تھیٹر بہ عنوان “تتلی کی امیدیں” پیش کیا جائے گا “مذہب کی تلاش میں مشرق وسطی کے گلوکار” کے عنوان سے ایک پروگرام پیش کیا جائے گا مختلف ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے گا اور اس طریقے سے یہ پروگرام اپنے آخری مرحلے میں افتتاحی پروگرام کی طرح ایک رنگارنگ روح پرور صوفیانہ موسیقی کے ساتھ اپنے 5 اکتوبر کو اختتام کو پہنچے گا۔

  • اردو رائٹرز سوسائٹی (شمالی امریکہ) کے زیر اہتمام خواتین کا یادگار مشاعرہ…حمیرا گل تشنہ

    اردو رائٹرز سوسائٹی (شمالی امریکہ) کے زیر اہتمام خواتین کا یادگار مشاعرہ…حمیرا گل تشنہ

    اردو رائٹرز سوسائٹی (شمالی امریکا) نے 20 ستمبر، 2025 کو میریڈین کیوبن سینٹر میں ایک شاندار اور یادگار خواتین مشاعرہ منعقد ہوا، جس نے ادب و فن کی دنیا میں ایک منفرد مقام قائم کیا۔مشاعرہ کی صدارت کینیڈا سے تشریف لاٸی سینئر شاعرہ شاہدہ حسن نے کی۔ جبکہ امریکہ کے شہر نیویارک سے حمیرا رحمان، واشنگٹن ڈی سی سے مونا شہاب، اٹلانٹا سے صدف فاروقی، اور کنیکٹیکٹ سے حمیرا گل تشؔنہ شامل ہوئیں۔ اور کینیڈا سے کشور غنی اور ڈاکٹر حنا امبرین طارق نے شرکت کی۔ اس محفلِ مشاعرہ میں تشریف لانے والی ممتاز اور کہنہ مشق شاعرات نے اپنی دلکش تخلیقات اور منفرد لہجے سے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ سامعین ہر شعر پر داد و تحسین سے محفل کو چار چاند لگا رہے تھے اور یوں یہ شام لفظوں کے جادو اور جذبوں کی سچائی سے مزین ہو کر ایک ادبی تاریخ کا حصہ بن گئی۔تقریب کی اہم بات یہ رہی کہ کیلیفورنیا کے معروف بزنس مین، کارپوریٹ لیڈرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس ادبی اجتماع کو وقار اور اعتبار بخشا۔مشاعرے کے آغاز پر بائیو سیل ٹیکنالوجی کے سی ای او محمد اسحاق اور اردو رائٹرز سوسائٹی کے پریذیڈنٹ عرفان مرتضی نے شاعرات کو یادگاری شیلڈز پیش کیں ۔ یہ منفرد انداز نہ صرف مہمانانِ گرامی کی عزت افزائی کا باعث بنا بلکہ محفل کی خوبصورتی اور ثقافتی وقعت میں بھی بے پناہ اضافہ کیا۔یہ شام جو کہ عرفان مرتضی کی محبت اور محنت کا منہ بولتا ثبوت رہی، محض ایک ادبی تقریب نہ تھی بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ، ثقافتی ہم آہنگی، اور کمیونٹی یکجہتی کا ایک شاندار پیغام بھی اپنے ساتھ لے کر آئی۔ اس شام نے تمام شاعرات کے وقار کو مزید بلند کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اردو رائٹرز سوسائٹی (شمالی امریکا) کی اور خصوصا عرفان مرتضی کی اس کاوش کو ہر سطح پر بھرپور پذیرائی ملی اور اسے اردو ادب کی خدمت میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

  • چین کی لیبارٹریوں کا سفر ….ارم زہرا

    چین کی لیبارٹریوں کا سفر ….ارم زہرا

    دنیا کی کسی اجنبی سرزمین میں قدم رکھنا ہمیشہ ایک عجیب خوشی دیتا ہے، جیسے ہر سانس میں نئی خوشبو، ہر قدم میں ایک چھپی ہوئی کہانی ہو۔ میں ایک قلمکار ہوں، اور لفظوں کی دنیا میں زندگی کے رنگ بکھرتے دیکھتی رہی ہوں، مگر آج میرا سفر ایک نئی راہ کی جانب ہے ۔ ایک ایسی دنیا کی طرف جہاں انسانی جستجو اور سائنس کی تخلیقیت ایک دوسرے سے مل کر حیرت انگیز مناظر بناتے ہیں۔
    ہمیں چین میں ایک خاص چار روزہ پروگرام میں مدعو کیا گیا، جس کا مقصد سائنس کی دنیا میں نئی ایجادات کو قریب سے دیکھنا اور سمجھنا تھا۔ یہ چار دن، جیسے ایک مختصر مگر روشن سفر، ہمیں جدید تحقیق کے مراکز، لیبارٹریوں اور ان کی رونقوں سے متعارف کرانے کے لیے ترتیب دیے گئے تھے۔ ہر دن ایک نیا باب کھولتا، ہر کمرہ ایک نئی دریافت کی جھلک دکھاتا، اور ہر محقق اپنی جستجو کی داستان سناتا۔
    ان ہی دنوں میں ایک ایسا لمحہ آیا جو ہمیشہ کے لیے یادگار بن گیا۔ میں ایک میڈیکل اسپتال کے احاطے سے گزر رہی تھی کہ ایک الگ سی عمارت پر میری نظر پڑی۔ دروازے پر بڑے حروف میں لکھا تھا HPV Vaccine Center۔ لمحہ بھر کو رکی اور حیرت ہوئی کہ آخر ایک ویکسین کے لیے پورا بلاک کیوں مخصوص ہے۔ تجسس نے قدم اندر بڑھا دیے
    اندر داخل ہوتے ہی معلوم ہوا کہ یہ وہی ویکسین ہے جو خواتین کو رحمِ مادر کے کینسر سے بچاتی ہے۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ یہ ویکسین دنیا میں سب سے پہلے 2006 میں سامنے آئی تھی، لیکن چین میں اسے 2016 میں متعارف کرایا گیا۔ تب سے لاکھوں لڑکیوں کو یہ ویکسین دی جا رہی ہے اور ان کی زندگیاں ایک بڑے خطرے سے محفوظ ہو رہی ہیں۔ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ صحت اور تحفظ کے لیے ایک ملک کس قدر منظم اور سنجیدہ ہو سکتا ہے۔
    یہی سوچ پھر پاکستان کے حوالے سے دل میں جاگ اٹھی۔ خوشی کی خبر یہ ہے کہ اب پاکستان نے بھی قدم بڑھایا ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہ ویکسین اسکولوں میں بچیوں کو مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں کئی والدین ابھی تک شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔ شاید وہ نہیں جانتے کہ یہی ویکسین آنے والے برسوں میں ہزاروں خواتین کو کینسر جیسے مہلک مرض سے بچا سکتی ہے۔
    میں چاہتی ہوں کہ ہر لڑکی اور ہر والدین یہ بات سمجھیں: HPV ویکسین کوئی خوف کی چیز نہیں، یہ ایک ڈھال ہے، ایک تحفظ ہے۔ چین کی طرح پاکستان میں بھی اگر ہم اسے اعتماد کے ساتھ اپنائیں تو آنے والی نسلیں زیادہ محفوظ اور صحت مند ہوں گی۔
    یہی احساس میرے دل میں لے کر میں اگلے دن ایک نئے تجربے کی طرف روانہ ہوئی۔ بیجنگ کی وہ خنک صبح آج بھی یاد ہے جب ہم سیمینار ہال کی طرف روانہ ہوئے۔ ہوٹل سے نکلتے ہی سڑکوں پر ایک الگ ہی ترتیب اور سکون محسوس ہوا۔ جدید عمارتیں، تیز رفتار زندگی اور لوگوں کے چہروں پر اعتماد یوں لگتا تھا جیسے یہ شہر صرف رہنے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل تراشنے کے لیے بنا ہو۔ بس میں بیٹھے ہم سب کے دلوں میں تجسس تھا کہ آج ہمیں کس دنیا سے روشناس کرایا جائے گا۔
    اسی کیفیت میں ہم سیمینار ہال پہنچے۔ باہر مختلف ملکوں کے پرچم لہرا رہے تھے اور اندر داخل ہوتے ہی سائنسی پوسٹروں، تصویروں اور ماڈلز نے ہمیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ ماحول ایسا تھا جیسے علم اور تحقیق کا ایک میلہ سجا ہو
    اس سمینار میں دکھایا گیا کہ چین میں سائنس کی دنیا کس تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ٹوٹتی ہڈیوں کے لیے بایوگلُو، دماغی بیماریوں کے علاج کے لیے ڈیجیٹل تھراپی، جین ایڈیٹنگ کی جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کی ویکسینیں، جو آنے والے کچھ سالوں میں عام لوگوں کے لیے دستیاب ہوں گی۔ یہ چار دن مجھے اور ہمارے گروپ کو محض مشاہدہ کرنے کا موقع نہیں دیتے، بلکہ ہمیں اس سفر کے ذریعے یہ سمجھنے کا موقع بھی ملا کہ انسان اپنی محدودیتوں کے باوجود زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے ۔
    گاڑی جب لیبارٹری کے احاطے میں داخل ہوئی، تو سفید دیواریں اور روشن کمروں نے فوراً میری توجہ کھینچ لی۔ ہر کمرے میں مشینیں خاموشی سے حرکت کر رہی تھیں، جیسے کسی معصوم مصور کے برش کی لکیریں۔ سائنسدان، سفید کوٹ میں ملبوس، کام میں اتنے محو تھے کہ وقت کی موجودگی بھی پس منظر بن گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ سفر صرف جگہ بدلنے کا نہیں، بلکہ سوچ اور دریافت کی سرحدوں کو پار کرنے کا ہے۔
    میں نے ہر چھوٹے تجربے، ہر ٹیسٹ اور ہر مشاہدے کو اپنی نگاہ سے دیکھا۔ ٹوٹتی ہڈیوں کو جوڑنے والے ہلکے محلول، خون کی نالیوں کے شفاف نمونے، دماغ کے خلیوں کی روشنی ہر منظر میں انسان کی جدوجہد اور امید کی جھلک تھی۔ میں نے سوچا، یہ سب کچھ دیکھ کر قاری کو کیسے بتاؤں کہ سائنس کی یہ دنیا بھی ایک افسانے کی طرح دل کو چھو سکتی ہے، مگر حقیقت کی بنیاد پر۔
    یہاں ہمیں ایسی ایجادات دکھائی گئیں جو بظاہر مستقبل کی کہانی لگتی ہیں مگر حقیقت میں تحقیق کے مختلف مراحل سے گزر رہی ہیں۔ مثلاً ہڈیوں کو جوڑنے والا بایو گلو، جس کے پری کلینیکل ٹرائلز مکمل ہو چکے ہیں اور اُمید ہے کہ 2028 کے بعد عام میڈیکل پریکٹس کا حصہ بنے گا۔ دماغی بیماریوں کے علاج کے لیے ڈیجیٹل تھراپی بھی متعارف کروائی گئی، جو 2026 سے 2028 کے دوران مریضوں کو سہولت دینے لگے گی۔ جین ایڈیٹنگ کی جدید ٹیکنالوجی پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ یہ وہی ایجاد ہے جس نے 2012 میں دنیا کو حیران کیا اور جس کا پہلا عملی علاج 2023 میں منظور ہوا، جبکہ دیگر بیماریوں کے لیے اس کا وسیع استعمال 2030 کے بعد ممکن ہوگا۔ اسی طرح مستقبل کی ویکسینز پر بھی تحقیق جاری ہے؛ بتایا گیا کہ 2028 سے 2035 کے درمیان کینسر اور نئی وباؤں کے لیے تیار کی جانے والی یہ ویکسینز عام لوگوں کی دسترس میں ہوں گی۔
    اس سب کو دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے سائنس کسی افسانوی دنیا کی نہیں بلکہ ہمارے آنے والے کل کی حقیقت کی تصویر پیش کر رہی ہو۔
    ایک دوسری لیبارٹری میں داخل ہوتے ہی پروفیسر کی نے ہمیں خوش آمدید کہا اور ایک ایسی لیب دکھائی جہاں جین ایڈیٹنگ پر کام جاری تھا۔ ننھے ننھے کیوبز میں DNA کے دھاگوں کو کھولا جا رہا تھا، جیسے کوئی ماہر درزی پرانے کپڑے سے نیا لباس تراش رہا ہو۔ میں نے سوچا، صدیوں پہلے کہانیاں لکھنے والے انسان کو یہ گمان بھی نہ ہوگا کہ ایک دن اس کی اولاد اپنے ہی وجود کے دھاگے کھول کر دوبارہ بُننے لگے گی۔ یہاں سائنسدان CRISPR ٹیکنالوجی استعمال کر کے تھیلیسیمیا اور سِکل سیل جیسی موروثی بیماریوں کو ختم کرنے کی تیاری میں ہیں۔ پروفیسر نے بتایا کہ دنیا میں پہلا CRISPR علاج 2023 میں امریکہ اور برطانیہ میں منظور ہو چکا ہے، اور اُمید ہے کہ 2030 کے بعد یہ ٹیکنالوجی زیادہ وسیع پیمانے پر مریضوں کے لیے دستیاب ہوگی۔
    اسی عمارت کے دوسرے حصے میں ایک اور حیران کن منظر میرا انتظار کر رہا تھا۔ بڑے بڑے ٹینکوں میں پانی کی طرح شفاف محلول کے اندر سٹیم سیلز تیر رہے تھے۔ پروفیسر نے وضاحت کی کہ یہی خلیے مستقبل میں دل کی ناکامی کے علاج میں استعمال ہوں گے، جگر کی بیماریاں ختم کریں گے اور یہاں تک کہ ٹشو ری جنریشن کو بھی ممکن بنائیں گے۔ سٹیم سیل ریسرچ کے کلینیکل ٹرائلز 2015 کے بعد تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور 2028–2035 کے دوران کئی علاج عام مریضوں کے لیے دستیاب ہونے کی توقع ہے۔ میں نے سوچا، یہ خلیے کتنے معصوم ہیں، مگر ان کی معصومیت میں پوری زندگی کی طاقت چھپی ہے۔
    پھر ایک دن میں نے شہر کے دوسرے کونے میں وہ ہال دیکھا جہاں میڈیکل روبوٹکس کے تجربے ہو رہے تھے۔ لمبے بازوؤں والے روبوٹ، ہلکی ہلکی روشنی میں، کسی مصور کی طرح نازک حرکتیں کر رہے تھے۔ ایک روبوٹ مصنوعی دل پر آپریشن کی مشق کر رہا تھا۔ میں نے حیرت سے پوچھا، “کیا یہ انسان کا دل چھو سکتا ہے؟” پروفیسر نے مسکرا کر جواب دیا، “ہاں، اور کبھی کبھی یہ انسان کے ہاتھ سے زیادہ نرمی سے چھوتا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ سرجیکل روبوٹس کی پہلی نسل 2000 کے آس پاس سامنے آئی تھی، لیکن اب نئی جنریشن کے روبوٹس اتنی باریک بینی کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ 2025 سے 2030 کے درمیان یہ دل، دماغ اور کینسر کے پیچیدہ آپریشن عام اسپتالوں میں ممکن بنا دیں گے۔ آج یہ منظر صرف ایک لیب کی مشق لگ رہا تھا، لیکن آنے والے برسوں میں یہی روبوٹک بازو انسانوں کی زندگی بچانے والے معاون بن جائیں گے۔
    یہ سب کچھ مستقبل کی جھلک ہے۔ مگر یہ مستقبل صرف چین یا امریکہ کا نہیں، یہ ہم سب کا ہے۔ جیسے دریا اپنی منزل کے لیے پہاڑوں اور وادیوں سے گزرتا ہے، ایسے ہی یہ ریسرچ ایک دن ہماری زمینوں تک بھی بہہ آئے گی۔
    پچھلے دنوں میں ایک ایسی لیبارٹری پہنچی جہاں انسان کی ہڈیوں پر تحقیق ہو رہی تھی۔ کمرہ کسی ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کی طرح چمک رہا تھا۔ شیشے کے پیالوں میں چمکدار سفید ڈھانچے رکھے گئے تھے، مگر یہ ہڈیاں کسی انسان سے نہیں لی گئیں بلکہ 3D پرنٹنگ سے تراشی گئی تھیں۔ میں نے ان پر ہاتھ رکھا تو یوں لگا جیسے پتھر اور موم کے بیچ کی کوئی شے ہو۔ محقق نے بتایا، “یہ وہ ہڈیاں ہیں جو ایک دن مریض کے جسم میں لگا کر اس کے ٹوٹے وجود کو مکمل کر دیں گی۔” دنیا میں پہلا 3D پرنٹڈ بون امپلانٹ کلینیکل ٹرائل کے طور پر 2018 میں استعمال ہوا، اور اگلے چند سالوں میں اسے عام مریضوں کے لیے دستیاب کرنے کی توقع ہے۔ میں نے سوچا، ہمارے وطن میں کتنے لوگ حادثوں کے بعد عمر بھر پلاسٹر اور بیساکھیوں کے سہارے جی لیتے ہیں، اور اگر یہ ایجاد وہاں پہنچے، تو شاید کوئی بچہ دوبارہ کھیل کے میدان میں بھاگ سکے۔
    کچھ دن بعد مجھے دماغی سائنس کی ایک ورکشاپ میں جانے کا موقع ملا۔ ہال کے بیچوں بیچ ایک مشین رکھی تھی جو انسانی دماغ کے نقشے بنا رہی تھی۔ پروفیسر نے بتایا کہ اب AI کے ذریعے الزائمر اور پارکنسن کی بیماری کو اس کے بڑھنے سے پہلے پہچانا جا سکتا ہے۔ میں نے اس اسکرین پر جھلملاتی لہروں کو دیکھا اور سوچا، یہ لہریں کسی ندی کی طرح ہیں جو ذہن کی وادیوں میں بہتی ہیں۔ اور یہ مشین ان ندیوں کی خاموش زبان کو پڑھنا سیکھ گئی ہے۔
    پھر مجھے ایک مریض کی کہانی سنائی گئی، جس پر Deep Brain Stimulation (DBS) کا تجربہ ہوا تھا۔ دماغ کے اندر باریک تاریں ڈال کر ہلکی برقی رو دی گئی، جس نے اس کی سالہا سال کی ڈپریشن کو کم کر دیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا، “کیا واقعی خوشی کو بجلی کے جھٹکے سے واپس لایا جا سکتا ہے؟” پروفیسر نے مسکرا کر کہا، “یہ جھٹکا نہیں، یہ روشنی ہے۔” دنیا میں DBS کا پہلا کلینیکل ٹرائل 1997 میں ہوا، اور اب یہ علاج 2025 تک کئی نفسیاتی اور موٹر بیماریوں کے مریضوں کے لیے دستیاب ہونے کی توقع ہے۔
    رات کو جب میں اپنے کمرے میں واپس آئی تو کھڑکی سے بیجنگ کی روشنیاں جھلمل کر رہی تھیں۔ میں نے اپنی ڈائری کھولی اور لکھا ہڈیوں کو جوڑنے سے لے کر دماغ کی ندیوں کو سمجھنے تک، یہ سب سفر صرف سائنس کا نہیں، بلکہ انسان کے درد کو بانٹنے کا ہے۔ اور شاید یہی اصل ایجاد ہے—انسانی رشتے کو مزید قریب لانے کی
    اسی طرح ہم نے ایک اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا دورہ کیا جو دل کی بیماریوں پر کام کر رہا تھا۔ وہاں ایک کمرے میں ایک مصنوعی دل شیشے کے خول میں دھڑکتا ہوا رکھا تھا۔ میں نے حیرت سے پوچھا، “یہ دھڑکن کیسی ہے؟” سائنسدان نے مسکرا کر کہا، “یہ انسان کے اندر لگنے کے انتظار میں ہے۔” یہ Artificial Heart Pumps ہیں، جو ان مریضوں کے لیے بنائے گئے ہیں جن کا دل اپنی طاقت کھو بیٹھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا میں پہلا مصنوعی دل 1980 کی دہائی میں استعمال ہوا، لیکن نئی جنریشن کے پمپ 2025–2030 کے دوران زیادہ عام اسپتالوں میں دستیاب ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔ میں نے سوچا، ہمارے ملک میں کتنے لوگ دل کے دورے کے بعد زندگی اور موت کے بیچ معلق رہتے ہیں، اور اگر یہ ٹیکنالوجی وہاں پہنچے تو شاید کئی گھر اجڑنے سے بچ جائیں۔
    اسی ادارے میں مجھے 3D پرنٹڈ خون کی نالیاں بھی دکھائی گئیں، شفاف اور نازک، جیسے کسی شیشے کے کاریگر نے بڑی محبت سے بنائی ہوں۔ سائنسدان نے بتایا کہ یہ نالیاں ایک دن انسانی جسم میں جا کر خون کے بہاؤ کو دوبارہ رواں کر دیں گی۔ میں نے اپنے دل ہی دل میں سوچا، یہ سب کچھ محض سائنس نہیں، یہ تو زندگی کی نئی شاعری ہے۔
    پھر ایک اور سفر نے مجھے متعدی امراض کی ریسرچ تک پہنچا دیا۔ بیجنگ کے ایک بڑے مرکز میں میں نے وہ لیبارٹری دیکھی جہاں دنیا کو ہلا دینے والے وائرسز پر تحقیق ہو رہی تھی۔ سفید کوٹ میں ملبوس محققین، جیسے کسی محاذ پر سپاہی کھڑے ہوں، بتا رہے تھے کہ کوشش ہو رہی ہے کہ ایک Universal Flu Vaccine تیار کی جائے، جو ہر قسم کے فلو وائرس کے خلاف انسان کو ڈھال فراہم کرے۔ میں نے ایک سائنسدان سے پوچھا، “کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کو ہر بار نئی ویکسین نہ لگانی پڑے؟” وہ بولے، “ہم امید کے دھاگے سے یہ کپڑا بُن رہے ہیں۔”
    اسی جگہ مجھے mRNA پر مبنی HIV ویکسین کے ابتدائی نتائج کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ لمحے کے لیے میرے ذہن میں پاکستانی ہسپتالوں کی تصویریں اُبھر آئیں، جہاں HIV کے مریض اکثر خاموشی میں تڑپتے رہتے ہیں۔ اگر یہ ویکسین کامیاب ہو جائے تو کتنی زندگیاں محفوظ ہو جائیں گی۔
    ایک کونے میں نئی اینٹی بایوٹکس پر تجربات ہو رہے تھے، وہ اینٹی بایوٹکس جو ان بیکٹیریا کے خلاف ہوں گی جو عام دواؤں کو شکست دے چکے ہیں۔ میں نے سوچا، یہ لڑائی بھی عجیب ہے۔ انسان اور جراثیم کی صدیوں پرانی جنگ، جو شاید کبھی ختم نہ ہو، مگر انسان کی ہمت ہر بار ایک نئی حکمت تراش لیتی ہے
    چین میں میرا قیام جیسے کسی طویل خواب کی طرح ہے، جو ہر دن ایک نئے منظر کے ساتھ جاگتا ہے۔ کچھ دن پہلے میں ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں گئی، جہاں کینسر پر تحقیق ہو رہی تھی۔ کمرے میں روشنی مدھم تھی، مگر ایک بڑے اسکرین پر انسانی خلیوں کی تصویریں دھڑک رہی تھیں۔ سائنسدان نے اشارہ کیا اور کہا، “یہ خلیے بیمار ہیں، مگر ہم نے ان کے مقابلے کے لیے سپاہی تیار کیے ہیں۔” میں نے حیرت سے پوچھا، “سپاہی؟” وہ مسکرائے، “جی ہاں، یہ ہیں CAR-T سیلز، جو خون کے کینسر کو شکست دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔” دنیا میں CAR-T علاج کا پہلا کلینیکل ٹرائل 2012 میں شروع ہوا، اور 2017 میں امریکہ میں منظوری ملی۔ میں نے ان روشن خلیوں کو دیکھا اور سوچا، یہ منظر تو کسی افسانے سے کم نہیں۔ ہمارے دیس میں کتنے مریض ہیں جو کینسر کی تشخیص کے بعد امید کا دامن چھوڑ دیتے ہیں، اور کاش ایک دن یہ سپاہی ان کے جسم میں جا کر ان کے خوابوں کو واپس لے آئیں۔
    اسی لیب میں مجھے Liquid Biopsy کے بارے میں بتایا گیا۔ صرف چند قطرے خون سے پورے جسم کا احوال معلوم ہو جاتا ہے، اور کینسر کہاں ہے، کس مرحلے میں ہے، یہ فوری پتہ چلتا ہے۔ یہ ٹیسٹ 2010 کے بعد دنیا کے کئی ہسپتالوں میں دستیاب ہوا، اور توقع ہے کہ 2025 تک عام مریضوں کے لیے زیادہ قابل رسائی ہوگا۔
    پھر ایک اور کمرے میں نینو ذرات کی تحقیق جاری تھی، جو دوا کو سیدھا کینسر کے خلیے تک پہنچاتے ہیں۔ دنیا میں پہلے نینو ذرات پر کلینیکل ٹرائلز 2015 میں شروع ہوئے، اور اگلے پانچ سالوں میں کئی نئی دوا سازیاں تیار ہو رہی ہیں۔ میں نے سوچا، یہ علاج بیماری کے ساتھ ساتھ مریض کی اذیت کو بھی کم کر رہا ہے۔
    ڈیجیٹل ہیلتھ کانفرنس میں مجھے بتایا گیا کہ AI دل کی دھڑکن پڑھ کر آنے والے دورے کی پیش گوئی کر لیتا ہے، اور موبائل ایپس مریض کو وقت پر خبردار کر دیتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی 2020 سے محدود استعمال میں آئی ہے، اور 2025–2027 کے درمیان زیادہ وسیع پیمانے پر مریضوں کے لیے دستیاب ہونے کی توقع ہے۔
    اسی کانفرنس میں ڈیجیٹل تھراپی کا تجربہ بھی دکھایا گیا۔ ایک نوجوان نے ورچوئل ریئلٹی کا چشمہ پہنا، اور وہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہوگیا جہاں اس کا ذہن سکون کی سانس لینے لگا۔ دنیا میں VR-based تھراپی کے پہلے کلینیکل ٹرائلز 2018 میں شروع ہوئے، اور 2025 کے بعد یہ ذہنی دباؤ اور بے چینی کے علاج کے لیے عام مریضوں کے لیے دستیاب ہو جائے گی۔
    چین کی گلیاں، اس کی لیبارٹریاں، اور ان میں دن رات کام کرنے
    ‎والے محققین میری آنکھوں میں ایسے محفوظ ہیں جیسے کسی چراغ کی لو میں کہانی محفوظ رہتی ہے۔ میں نے ان دنوں میں دیکھا کہ انسان اپنی کمزوریوں کو شکست دینے کے لیے کیسے خواب بُنتا ہے، اور پھر ان خوابوں کو حقیقت کا لباس پہنا دیتا ہے۔
    ‎یہاں میں نے جین ایڈیٹنگ کے کمالات دیکھے، جہاں سائنسدان زندگی کے ٹوٹے دھاگوں کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش میں تھے۔ میں نے روبوٹک بازوؤں کو دیکھا جو نرمی سے انسان کے دل کو چھو سکتے ہیں۔ میں نے بایو گلُو کو چھوا جو ٹوٹی ہڈی کو کسی ماں کے لمس کی طرح سنبھال لیتا ہے۔ میں نے دماغ کے اندر بجلی کی روشنی دیکھی جو برسوں کی تاریکی کو کافور کر دیتی ہے۔ میں نے مصنوعی دل کی دھڑکن سنی جو زندگی کی نئی امید سناتی ہے۔ میں نے ویکسینز کے سپاہی دیکھے جو جراثیم کے خلاف صف آرا تھے۔ میں نے کینسر کے خلیوں کو شکست دینے والے علاج کو قریب سے محسوس کیا، اور ڈیجیٹل تھراپی کے خوابوں کو حقیقت بنتے دیکھا۔
    ‎سائنس نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ بیماری تقدیر ہو سکتی ہے، مگر شفا انسان کی جستجو ہے۔ اور یہ جستجو کسی ایک ملک یا قوم کی نہیں، یہ پوری انسانیت کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ جیسے دریا اپنی روانی کے لیے کسی ایک وادی پر انحصار نہیں کرتے، بلکہ پہاڑوں سے نکل کر میدانوں تک سب کو سیراب کرتے ہیں، ایسے ہی یہ ایجادات بھی ایک دن سب سرزمینوں تک پہنچیں گی۔

  • کوئٹہ میں خودکش دھماکا،10 افراد شہید اور 32 زخمی،6 دہشت گرد جہنم واصل

    کوئٹہ میں خودکش دھماکا،10 افراد شہید اور 32 زخمی،6 دہشت گرد جہنم واصل

    کوئٹہ (کنزیومرواچ نیوز)کوئٹہ میں حالی روڈ پر ایف سی ہیڈکوارٹرز کے قریب بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں نے حملہ کردیا، خودکش دھماکے میں 10 افراد شہید اور 32 زخمی ہوگئے، واقعے میں خودکش حملہ آور سمیت 6 دہشت گرد جہنم واصل ہوگئے۔ڈان نیوز کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں واقع حالی روڈ پر واقع ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر سفید سوزوکی وین کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا۔خودکش حملہ آور کے ساتھ آنے والے دہشت گردوں نے دھماکے کے بعد ایف سی ہیڈکوارٹرز میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم ایف سی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام 5 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا، حملے میں 2 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 10 افراد شہید اور 32 زخمی ہوئے، جنہیں سول ہسپتال اور ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے، جہاں 5 زخمیوں کی حالت تشویشنا ک ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آور ایف سی کی وردی میں ملبوس تھے، تمام دہشت گرد مارے گئے۔