Blog

  • میانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز ،38 پاکستانی بازیاب

    میانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز ،38 پاکستانی بازیاب

    ینگون (کنزیو مرواچ نیوز)میانمار میں آن لائن فراڈ سینٹرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے دوران مقامی فوج نے 38 پاکستانیوں سمیت سیکڑوں غیر ملکی شہریوں کو بازیاب کرالیا ہے۔حکام کے مطابق یہ افراد مختلف آن لائن فراڈ نیٹ ورکس میں زبردستی کام پر مجبور کیے جارہے تھے۔تھائی آرمی نے میانمار سرحد عبور کرکے 38 پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کیا اور انہیں بنکاک امیگریشن سینٹر منتقل کردیا، جہاں سے انہیں مرحلہ وار پاکستان ڈی پورٹ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تھائی حکام نے پاکستانی حکومت کو باضابطہ خط بھی ارسال کیا ہے۔تھائی حکومت کا کہنا ہے کہ میانمار میں مزید 60 پاکستانی ایک شیلٹر ہاؤس میں موجود ہیں، جو مختلف فراڈ سینٹرز سے فرار ہوکر وہاں پہنچے تھے۔حکام نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پورٹ ہونے والے افراد سے تفصیلی تفتیش کی جائے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس کے علاوہ تھائی حکومت نے واپس آنے والے پاکستانیوں کے نام پانچ سال کے لیے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں ڈالنے کی سفارش بھی کی ہے۔ایف آئی اے کے مطابق تھائی لینڈ، میانمار اور کمبوڈیا آن لائن فراڈ کے بڑے مراکز بن چکے ہیں، جہاں فراڈ سینٹرز چلانے والے گروہ آن لائن نوکریوں اور ورک ویزوں کا لالچ دے کر نوجوانوں کو بیرون ممالک بلاتے ہیں۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں جانے والے پاکستانی نوجوانوں کو قید کرکے غیر قانونی کام کرایا جاتا ہے، لہٰذا عوام ایسے دھوکے باز اشتہارات اور جعلی ویزوں کے جال میں نہ پھنسیں۔

  • پاک فضائیہ نے  رافیل طیاروں کو صفر کردیا،ایئر چیف

    پاک فضائیہ نے رافیل طیاروں کو صفر کردیا،ایئر چیف

    رسالپور(کنزیورواچ نیوز)ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ ہر دور میں مضبوط دفاعی لائن ثابت ہوئی، رافیل طیاروں کی صلاجیت پاک فضائیہ کےسامنے صفر ثابت ہوئی، مئی میں ہونے والے معرکہ حق کے دوران آپریشن بنیان مرصوص میں دشمن کو شکست دی۔رسالپور میں پی اے ایف کی اصغر خان اکیڈمی میں گریجویشن پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ایئرفورس نے سائبر وار فیئر میں برتری ثابت کی، ہمارے ایکشن اور آپریشن لمحوں میں کارگر ثابت ہوئے، پاک فضائیہ نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وطن عزیز کی سلامتی پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے، ہم نے روایتی دشمن کے ریڈار سسٹم کو کامیابی سے نشانہ بناکر برتری حاصل کی، دشمن کی ہر حرکت کو لمحوں میں مانیٹر کیا اور فوری ردعمل دیا۔قبل ازیں رسالپور میں پاک فضائیہ کی اصغر خان اکیڈمی میں پروقار گریجویشن پریڈ منعقد ہوئی، جس میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو مہمان خصوصی تھے۔پریڈ میں 151جی ڈی پی، 97 انجینئرنگ اور 108 ویں ایئر ڈیفنس کورس کے کیڈٹس شامل تھے، نیویگیشن الفا،ایڈمن اینڈ اسپیشل ڈیوٹیز اور 11 لاجسٹکس کورس کے کیڈٹس بھی شامل ہیں۔اس پروقار تقریب میں کومبیٹ سپورٹ اور 98 ای سی رائل سعودی ایئر فورس کے کیڈٹس نے بھی پاس آؤٹ کیا۔اس موقع پر پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے اور شیر دل ایروبیٹکس ٹیم نے فلائی پاسٹ کا مظاہرہ بھی کیا۔یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے قریب وادی پہلگام میں دہشتگردی کے واقعے کے بعد 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب بھارت نے پاکستان میں دراندازی کرتے ہوئے آزاد کشمیر، پنجاب میں 3 مقامات پر بمباری کی تھی، تاہم پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن ملک میں گھس کر ان کے 5 جنگی طیارے تباہ کر دیے تھے، جن میں 3 فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے۔مختلف عالمی میڈیا کو بھارت کے سیکیورٹی ذرائع طیارے تباہ ہونے کی تصدیق کرچکے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ جب فرانس کی فوج کے ترجمان نے رافیل طیاروں کی تباہی کے حوالے سے کسی فورم پر بات کی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاک بھارت جنگ میں کئی بار 7 خوبصورت طیارے اور ایک بار 8 طیارے تباہ ہونے کی بات بھی کرچکے ہیں۔

  • بنوں فائرنگ : اسسٹنٹ کمشنر   اور پولیس اہلکاروں  سمیت 4 افراد شہید

    بنوں فائرنگ : اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید

    پشاور (کنزیومرواچ نیوز)بنوں میں گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید ہو گئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں میران شاہ روڈ پر اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی، جس میں اسسٹنٹ کمشنر اور 2 پولیس اہل کار شہید ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں ایک اور شخص بھی جاں بحق ہوا ہے جب کہ حملہ آور زخمی اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین کر لے گئے۔حملہ آوروں نے بعد ازاں گاڑی کو بھی نذر آتش کردیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری جائے وقوع پر پہنچی اور شواہد جمع کرکے لاشوں و زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔فائرنگ کا واقعہ بنوں میں میرانشاہ روڈ پر فلور ملز کے قریب پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان کی گاڑی پر اچانک فائرنگ کردی۔

  • سری لنکا : سیلاب میں پھنسے خاندان کو پاک بحریہ نے ریسکیو کرلیا

    سری لنکا : سیلاب میں پھنسے خاندان کو پاک بحریہ نے ریسکیو کرلیا

    کو لمبو(کنزیومرواچ نیوز)سری لنکا میں آنے والے طوفان کے بعد پاک بحریہ کی امدادی سرگرمیاں تیسرے روز بھی جاری رہیں، جس کے دوران پھنسے ہوئے خاندانوں کو کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک بحریہ کے سیلاب متاثرہ سری لنکا میں امدادی آپریشن تیسرے روز بھی مسلسل جاری رہے، پاک بحریہ کے جہاز سیف پر موجود ہیلی کاپٹر نے پانچ دن سے پھنسے ایک خاندان کو ریسکیو کر لیا۔ریسکیو کیے گئے خاندان میں سات ماہ کا بچہ بھی شامل تھا ترجمان پاک بحریہ کے مطابق مقامی انتظامیہ کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے دوران عملے نے اونچے سیلابی پانی میں گھرے متاثرین کو گھروں کی چھتوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

  • نامور آسٹریلوی کھلاڑی نے بھی آئی پی ایل سے منہ موڑ لیا

    نامور آسٹریلوی کھلاڑی نے بھی آئی پی ایل سے منہ موڑ لیا

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)سابق جنوبی افریقی کپتان فاف ڈوپلیسی اور انگلش آل راؤنڈر معین علی کے بعد نامور آسٹریلوی کھلاڑی نے آئی پی ایل سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے جارح مزاج بیٹنگ آل راؤنڈر گلین میکسویل نے آئی پی ایل کے آئندہ ایڈیشن کے لیے خود کو رجسٹرڈ نہیں کروایا۔بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی پی ایل کی منی آکشن کے لیے 1355 کھلاڑیوں نے خود کو رجسٹرڈ کروایا ہے تاہم ان میں گلین میکسویل شامل نہیں ہیں۔گلین میکسویل نے رائل چیلنجرز بنگلورو کے لیے مختصر عرصے میں اہم کردار ادا کیا، مگر ایک خراب سیزن کے باعث ٹیم نے انہیں ریلیز کردیا تھا۔2025 کے میگا آکشن میں پنجاب کنگز نے انہیں خریدا تھا لیکن وہاں بھی مایوس کن کارکردگی کے باعث فائنلسٹ ٹیم نے انہیں برقرار نہیں رکھا۔رپورٹ کے مطابق پنجاب کنگز سے ریلیز ہونے کے بعد گلین میکسویل نے آئی پی ایل منی آکشن میں رجسٹریشن نہیں کرائی، اسی لیے ممکن ہے کہ وہ 2026 کا ایڈیشن نہ کھیلیں۔واضح رہے کہ فاف ڈوپلیسی اور معین علی نے حال ہی میں آئی پی ایل چھوڑ کر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا حصہ بننے کا اعلان کیا ہے۔

  • پہلی بار بھنگ چکھنے کے بعد 8 گھنٹے تک ہنستا رہا، انوپم کھیر

    پہلی بار بھنگ چکھنے کے بعد 8 گھنٹے تک ہنستا رہا، انوپم کھیر

    ممبئی (کنزیومرواچ نیوز)بالی ووڈ کے سینئر اداکار انوپم کھیر نے اپنے نوجوانی کے دور میں بھنگ اور چرس کے استعمال کا تجربہ شیئر کردیا۔یوٹیوب چینل ’’ان فلٹرڈ‘‘ پر گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ پہلی بار چرس پینے کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے آسمان، سڑک اور گاڑی سب حرکت کر رہے ہوں۔انوپم کھیر نے کہا کہ ایک بار وہ آسمان میں اُڑتے جہاز کو دیکھ کر سمجھ بیٹھے کہ وہ کہیں اور جا پہنچا ہے۔ انہوں نے اپنے NSD (نیشنل اسکول آف ڈرامہ) کے دن بھی یاد کیے جب پہلی بار بھنگ چکھنے کے بعد وہ آٹھ گھنٹے تک ہنستے ہی رہے جبکہ دوست جو خود بھی نشے میں تھے چھت پر کھڑے ہوکر وارڈن کو چیخ رہے تھے کہ ’فوج آ رہی ہے‘۔انہوں نے کہا کہ اس کیفیت میں انہیں لگ رہا تھا جیسے وہ فلم دی ماسک کا کردار ہوں۔ انوپم کھیر کا کہنا تھا کہ ان تجربات نے انہیں سمجھا دیا کہ ایسی چیزیں وقتی خوشی دیتی ہیں مگر انسان کی حالت پر کنٹرول ختم کر دیتی ہیں، اسی لیے انہوں نے عہد کیا کہ وہ کبھی دوبارہ بھنگ یا چرس کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔

  • سعودی عرب کا  اعلان: فلسطین کے لیے 90 ملین ڈالر کی نئی گرانٹ

    سعودی عرب کا اعلان: فلسطین کے لیے 90 ملین ڈالر کی نئی گرانٹ

    ریاض(کنزیومرواچ نیوز) سعودی عرب نے فلسطینی خزانے کی مالی مدد کے لیے 90 ملین ڈالر کی نئی گرانٹ فراہم کر دی ہے۔یہ رقم عمان میں سعودی سفارت خانے میں وزیر منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون اسطفان سلامہ نے سعودی سفیر برائے اردن و ریاستِ فلسطین کے غیر مقیم کمشنر شہزادہ منصور بن خالد بن فرحان آل سعود سے ملاقات کے دوران وصول کی۔سعودی عرب کی یہ مالی امداد 2025 میں فلسطینی اتھارٹی کی مسلسل حمایت کا حصہ ہے۔فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی گرانٹ مشکل معاشی حالات میں فلسطینی مالی استحکام کو مضبوط کرے گی۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے سعودی عرب کے مستقل اور مضبوط مؤقف کو بھی سراہا۔اردن میں سعودی سفیر شہزادہ منصور بن خالد نے کہا کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کے اپنے تاریخی مؤقف پر قائم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مالی معاونت فلسطینی حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مدد دے گی اور صحت و تعلیم سمیت اہم شعبوں میں عوام کے مسائل کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • سونے کی درآمد و برآمد پر پابندی کا خاتمہ….شیخ راشد عالم

    سونے کی درآمد و برآمد پر پابندی کا خاتمہ….شیخ راشد عالم

    پاکستان نے معاشی مشکلات، زرِ مبادلہ کے دباؤ اور غیر قانونی تجارت کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان بالآخر وہ فیصلہ کر لیا ہے جس کا انتظار کئی ماہ سے صنعت اور مارکیٹ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کر رہے تھے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت تجارت نے سونے کی درآمد اور برآمد پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے وہ ایس آر او بھی بحال کر دیا ہے جو سونے کی عالمی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا مگر مئی 2025 میں 60 دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ جہاں ایک طرف جیولری ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے، وہیں پاکستان کے تجارتی توازن، ریگولیٹری نظام اور مالیاتی نظم و ضبط کے لیے بھی اہم نتائج رکھتا ہے۔
    پس منظر ، پابندی کیوں لگائی گئی؟
    سونے کی تجارت پاکستان میں ہمیشہ سے حساس تصور کی جاتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف قیمتی دھات ہے بلکہ غیر قانونی تجارت اور پیسہ باہر منتقل کرنے کا ایک محفوظ ذریعہ بھی سمجھی جاتی رہی ہے۔ وزارتِ تجارت کے مطابق مئی 2025 میں سونے کی اسمگلنگ کے شبہات اور نظام میں بے ضابطگیوں کے باعث اس کی درآمد اور برآمد کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔
    ذرائع کا کہنا تھا کہ کچھ مخصوص عناصر سونے کے درآمدی نظام کو غلط استعمال کرکے منظم اسمگلنگ میں ملوث تھے، جس سے نہ صرف ملکی خزانے کو نقصان پہنچ رہا تھا بلکہ قانونی درآمدکنندگان کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی تھی۔
    گزشتہ چند مہینوں میں، متعلقہ اداروں کی جانب سے نگرانی سخت ہونے کے باعث سونے کی اسمگلنگ سے متعلق کوئی بڑی شکایت سامنے نہیں آئی۔ اس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ پابندی کا مقصد پورا ہو چکا ہے، اس لیے تجارت کو دوبارہ کھول دینا چاہیے۔
    اعداد و شمار کی روشنی میں صورتحال
    سونے کی تجارت پر پابندی کا اثر براہِ راست ملک کی درآمدات پر ظاہر ہوا۔
    پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق:
    جون اور جولائی میں بالکل بھی سونا درآمد نہیں ہوا۔
    مئی 2025 میں صرف 9 کلوگرام سونا درآمد ہوا جس کی مالیت تقریباً 9.27 لاکھ ڈالر تھی۔
    اس کے برعکس جولائی 2024 میں 22 لاکھ ڈالر مالیت کا سونا درآمد ہوا تھا۔
    یہ واضح فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ پابندی نے درآمدی سرگرمی کو تقریباً منجمد کر دیا تھا۔ ایسے حالات میں جیولری انڈسٹری، خاص طور پر ایکسپورٹ انڈسٹری، شدید دباؤ کا شکار رہی۔

    جیولری ایکسپورٹ سیکٹر کی مشکلات
    ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط میں لکھا تھا کہ ایس آر او 760 کی معطلی نے برآمدی صنعت کو براہِ راست نقصان پہنچایا ہے۔
    ان کے مطابق کئی برآمدکنندگان نے اپنے بیرونی خریداروں کے ساتھ قانونی معاہدوں کے تحت خام سونا وصول کر کے جیولری تیار کر لی تھی، مگر اچانک پابندی لگنے سے نہ صرف سپلائی چین ٹوٹ گئی بلکہ عالمی خریداروں کا اعتماد بھی شدید متاثر ہوا۔
    یہ صورتحال پاکستان کے لیے انتہائی تشویش ناک تھی کیونکہ جیولری کی برآمدات نہ صرف زرِ مبادلہ کا ذریعہ ہیں بلکہ ہزاروں کاریگروں اور چھوٹے صنعت کاروں کا روزگار بھی اس شعبے سے وابستہ ہے۔
    حکومتی فریم ورک ، شفافیت کی طرف قدم
    حکومت نے پابندی ختم کرنے کے ساتھ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ قیمتی دھاتوں اور زیورات کی درآمد و برآمد کا موجودہ فریم ورک برقرار رہے گا، البتہ اس میں مزید شفافیت اور خودکار نظام شامل کیے جائیں گے۔
    اس کا مقصد:
    امپورٹ و ایکسپورٹ کے نظام میں انسانی مداخلت کم کرنا
    دستاویزات کو ڈیجیٹل کرنا
    اسمگلنگ کے راستوں کی نشاندہی
    بینکنگ اور کلیئرنس سسٹم کو مضبوط بنانا
    پاکستان میں روایتی طور پر سونے کی تجارت کاغذی کارروائیوں پر منحصر رہی ہے، جس میں بے ضابطگیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ فریم ورک کی بہتری سے قانونی تجارت کو تحفظ ملے گا اور غیر قانونی سرگرمیوں کا راستہ تنگ ہو گا۔
    اقتصادی تجزیہ ، پابندی ختم کرنے کے فوائد اور خدشات
    فوائد:
    برآمدات میں اضافہ:
    جیولری ایکسپورٹ انڈسٹری دوبارہ فعال ہو جائے گی، جو پاکستان کے زرِ مبادلہ ذخائر میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔
    بازار میں اعتماد کی بحالی:
    کاروباری ماحول میں استحکام اور پالیسیوں کی تسلسل سے بین الاقوامی خریداروں کا بھروسہ بڑھتا ہے۔
    روزگار کے مواقع:
    پابندی سے متاثر ہونے والے ہزاروں کاریگر دوبارہ کام میں مشغول ہو سکیں گے۔
    قانونی تجارت کا فروغ:
    اگر شفافیت بڑھائی گئی تو عوامی اور سرکاری سطح پر اعتماد بڑھے گا۔
    خدشات:
    اسمگلنگ کے خطرات:
    اگر مؤثر نگرانی نہ رہی تو دوبارہ غیر قانونی تجارت کے راستے کھل سکتے ہیں۔
    کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ:
    سونا ایک مہنگی امپورٹ ہے، اگر درآمد زیادہ ہوئی تو زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
    قیمتوں میں اتار چڑھاؤ:
    مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں پہلے ہی عالمی مارکیٹ کے اثرات سے جڑی ہوتی ہیں۔ درآمد کھلنے سے قیمتیں مزید غیر مستحکم ہو سکتی ہیں۔
    آگے کا راستہ ، کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
    حکومت کا پابندی اٹھانا ایک درست قدم ہے، مگر اس کے ساتھ چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں:
    ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم:
    ہر درآمدی شپمنٹ کا ریکارڈ بلاک چین یا مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے تاکہ کسی بھی مرحلے پر ڈیٹا میں چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔
    بین الاقوامی معیار کے مطابق ریگولیشن:
    دبئی، ترکی اور ملائیشیا جیسے ممالک کی طرح سونے کی تجارت کو جدید قوانین کے ذریعے ریگولیٹ کیا جائے۔
    اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں:
    سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی اور کسٹمز کے درمیان مربوط رابطہ ناگزیر ہے۔
    صنعتی مشاورت:
    ہر پالیسی سے قبل جیولری ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کا مکمل مشورہ شامل ہو تاکہ پالیسیوں کے منفی اثرات نہ ہوں۔
    سونے کی درآمد اور برآمد پر پابندی ختم ہونا پاکستان کی اقتصادی سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ فیصلہ وقتی طور پر معیشت کو ریلیف دے گا، برآمدی شعبے کو سہارا دے گا اور صنعتی سرگرمیاں بحال کرے گا۔ تاہم اصل چیلنج شفافیت، نگرانی اور عملی نفاذ کا ہے۔ اگر حکومت اپنے اعلان کردہ فریم ورک میں حقیقی بہتری لا سکی تو یہ فیصلہ نہ صرف سونے کی تجارت کے لیے بلکہ پاکستان کی مجموعی معاشی ساکھ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو گا۔

  • سخنور شکاگو کا عالمی گولڈن جوبلی مشاعرہ….حمیرا گل تشنہ

    سخنور شکاگو کا عالمی گولڈن جوبلی مشاعرہ….حمیرا گل تشنہ

    عابد رشید نے شکاگو میں عالمی مشاعرہ کی بنیاد رکھ دی
    گزشتہ دنوں امریکا کے شہر شکاگو میں اردو کی ادبی تنظیم ” سخنور شکاگو” کے زیر اہتمام “بیادِ فیض احمد فیض” گولڈن جوبلی عالمی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔مشاعرے کی صدارت شکاگو کے سینیئر و ممتاز شاعر ڈاکٹر توفیق انصاری احمد نے فرمائی۔ شکاگو میں پاکستان کے نئے قونصل جنرل زمان مہدی اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ پاکستان سے دور حاضر کے ممتاز شاعر عباس تابش اور ہیوسٹن سے معروف شاعر غضنفر ہاشمی نے خصوصی شرکت فرمائی۔اس مشاعرے میں ناہید ورک کے شعری مجموعہ “کوئی نہیں دوست” اور طاہرہ ردا کے شعری مجموعہ “تیرے نام کے سارے شعر” کی تقریبِ پزیرائی کا اہتمام بھی کیا گیا۔ جہاں عباس تابش اور غضنفر ہاشمی نے کتابوں پر اپنی قیمتی گفتگو بھی کی۔شکاگو، امریکہ میں سخنور شکاگو اور عابد رشید کی اردو ادب کے فروغ کے لئے کی جانے والی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال سخنور شکاگو کے پچاسویں عالمی مشاعرہ کا بروز ہفتہ، 22 نومبر کو شام 6 بجے ، فاؤنٹین ویو ریکری ایشن سنٹر، کیرل سٹریم میں انعقاد کیا گیا۔جس میں پاکستان کے ممتاز شاعر عباس تابش اور ہیوسٹن سے ممتاز ادیب اور شاعر غضنفر ہاشمی نے اس مشاعرے میں خصوصی شرکت فرمائی۔ پاکستان سے راشد حسین خان، انڈیا سے خواجہ فریدالدین صادق اور امریکہ کی مختلف ریاستؤں سے نامور شعرائے کرام نے اس مشاعرے میں شرکت کی۔ مشاعرے میں کلام پیش کرنے والے شعرا میں شامل
    راشد حسین خان (پاکستان)، ڈاکٹر خواجہ فریدالدین صادق (انڈیا) ناہید ورک (مشی گن) ڈاکٹر فرحت شیریں(سینٹ لوئیس)، شمسہ نجم (کیلیفورنیا)، ڈاکٹر پاشا سعید، اشرف خان، عتیق حیدر، (اوہائیو)، ڈاکٹر سلیم تورانیہ (وسکونسن)، اور راکند کور (انڈیانا)۔
    پروگرام کا آغاز ڈاکٹر افضال الرحمٰن کی تلاوت کلامِ پاک سے ہوا۔
    شکاگو سے جن ممتاز شعرائے کرام نے اس مشاعرے میں شرکت فرمائی اْن کے نام درجِ ذیل ہیں
    مشاعرے میں کلام پیش کرنے والے شکاگو کے مقامی شعرا میں ڈاکٹر منیرالزماں منیر، غلام مصطفٰے انجم، نذر نقوی، طاہرہ ردا، کشش ہوشیار پوری، ساجد چودھری، محبوب علی خان ، ڈاکٹر افضال الرحمٰن افسر، راشد رحیمی، راز رنگونی اور بدر اسلام۔ شامل تھے۔
    ناہید ورک کے شعری مجموعہ “کوئی نہیں دوست” کی تقریبِ پزیراء کے موقع پر عباس تابش اور غلام مصطفٰے انجم نے تبصرہ کیا۔ اس کے علاوہ، طاہرہ ردا کے شعری مجموعہ “تیرے نام کے سارے شعر” کی تقریبِ پزیرائی کے موقع پر غضنفر ہاشمی اور ڈاکٹر توفیق انصاری احمد نے طاہرہ ردا کی شاعری پر اظہارِ خیال کیا۔ اس مشاعرے کی نظامت کنیکٹیکٹ سے شامل ہونے والی ممتاز نوجوان شاعرہ حمیرا گْل تشتنہ نے کی۔ اس مشاعریکے ناظمِ اعلٰی سخنور شکاگو اور حریمِ نعت کے روحِ رواں اور شکاگو کی ممتاز ادبی شخصیت عابد رشید (جو کسی تعارف کے محتاج نہیں) تھے۔ شکاگو میں پاکستان کے نئے قونصل جنرل زمان مہدی اس تقریب میزن بطورِ مہمانِ خصوصی شامل رہے۔ اور آخر میں تقریب سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شکاگو کی ادبی تنظیموں کی انتھک کاوشوں کو سراہا۔ سخنور شکاگو کا گولڈن جوبلی مشاعرہ ایک بے حد کامیاب مشاعرہ رہا۔ اس مشاعرے میں گولڈن جوبلی کی تقریب کے حوالے سے کیک بھی کاٹا گیا۔ شکاگو اور اس کے مضافات سے ادب کے شائقین کی ایک بڑی تعداد میں مشاعرے میں موجود تھی۔ سخنور شکاگو کا مشاعرہ اپنی نوعیت اور روایات کے مطابق ایک انتہائی کامیاب مشاعرہ رہا۔ سخنور شکاگو اپنے خوبصورت، منظم اور باقاعدگی سے مشاعرے منعقد کرنے کی وجہ سے ادبی دنیا میں ایک بلند معیار کی علامت مانا جاتا ہے۔ بائیس نومبر 2025 کو ہونے والا مشاعرہ بھی یقیناً ایک باوقار، معیاری اور کامیاب تقریب تھی۔ پروگرام کے دوران مہمانوں کے لیے ریفریشمنٹ کا اور لذیذ طعام کا اہتمام کیا گیا۔ مشاعرے میں شامل سامعین اس کامیاب مشاعرے سے بہت سی خوشگوار یادیں لے کر رخصت ہوئے۔ (نوٹ) اس مشاعرہ کی رکارڈنگ فیس بْک اور یوٹیوب پر دیکھی جاسکتی ہے۔ سوشل میڈیا پہ سخنور شکاگو کے پیج اور چینل پر پروگرام کی ریکارڈنگ دیکھی جا سکتی ہے۔

  • مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش  مل گئی

    مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش مل گئی

    کراچی:(کنزیو مر واچ نیوز)نیپا چورنگی پر مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش تلاش کرلی گئی ہے۔
    ریسکیو حکام کے مطابق بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد نالے سے ملی ہے جسے جائے وقوعہ سے ایک کلو میٹر دور نالے سے تلاش کیا گیا ہے۔
    واقعہ کب پیش آیا؟
    گزشتہ روز گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا تھا۔واقعہ اتوار کی رات 11 بجے کے قریب پیش آیا تھا جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی تلاش شروع کی تاہم وہ ناکام رہے ۔
    بعد ازاں ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیاگیا، ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کےتحت ہیوی مشینری منگوائی اور جائے وقوعہ پر کھدائی کی گئی۔
    کھلے مین ہول میں گرنے والے بچےکی شناخت 3 سال کے ابراہیم ولد نبیل کےنام سے ہوئی، ابراہیم فیملی کے ہمراہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کرنے آیا تھا۔
    مشتعل افراد کا احتجاج
    اس سے قبل گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کے بعد مشتعل افراد نے احتجاج کیا اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کردی ۔
    علاقہ مکینوں کے احتجاج کے باعث اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جب کہ یونیورسٹی روڈ نیپا سے حسن اسکوائر آنے اور جانے والا ٹریک ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا تھا جسے اب کھول دیا گیا ہے۔مین ہول میں بچہ گرنے کا واقعہ، فاروق ستارکے پہنچنے پر شہری مشتعل، گاڑی سے اترنے نہ دیادوسر ی جانب مشتعل افراد نے میڈیا پر بھی حملہ کیا اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے جب کہ دفاتر جانے والے شہریوں کو زبردستی روکنے کی کوششیں کی، مشتعل ہجوم کے احتجاج کے باعث ریسکیو ٹیموں نے امدادی کام روک دیا گیا تھا۔
    بچے کے دادا کی گفتگو
    بچے کے دادا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرا بیٹا اور بہو رات ساڑھے 10 بجے کے قریب شاپنگ کیلئے آئے تھے، بیٹا پارکنگ ایریا میں بائیک کھڑی کرنے گیا تھا، بچہ والدہ کے ساتھ تھا والد کے پیچھے بھاگا، اسی دوران گٹر کا ڈھکن کھلاتھا بچہ اس گٹر میں گرگیا۔انہوں نے کہا کہ بچہ میرے بیٹے کی اکلوتی اولاد ہے، بیٹا پرائیوٹ ملازم ہے، اتنی تکلیف میں ہوں کہ منہ سے الفاظ ادا نہیں ہورہے، متعلقہ اداروں کی جانب سے 3 ساڑھے 3 گھنٹے گزرجانے کے باوجود کسی کو مدد کیلئے نہیں بھیجا گیا لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مدد کی، ریسکیو کے کاموں سے مطمئن نہیں ہے،، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ اور میئر کراچی سے درخواست ہے، اپنا بچہ سمجھتے ہوئے ہمارے بچے کی برآمدگی میں ہماری مدد کریں۔