Blog

  • برطانیہ نے پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کر دیا

    برطانیہ نے پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کر دیا

    لندن(کنزیومر واچ نیوز) برطانیہ نے پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کر دیا۔پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے اور وہ آج صبح کی پرواز سے پاکستان روانہ ہو گئے۔رجب بٹ کی ملک بدری کی وجہ ان کا برطانوی ویزے کی منسوخی بنا۔رپورٹ کے مطابق رجب بٹ کے خلاف حالیہ قانونی مقدمات کو ویزا اپلیکیشن میں ظاہر نہ کرنے پر ان کا ویزا منسوخ کیا گیا۔

  • پاکستان : گوگل سرچ میں کرکٹ بدستور سرفہرست

    پاکستان : گوگل سرچ میں کرکٹ بدستور سرفہرست

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)صارفین کی کرکٹ ٹورنامنٹس سے متعلق دلچسپی نمایاں، 2025 میں بھی پاکستانی کرکٹرز عوام کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔تفصیلات کے مطابق گوگل نے 2025 کے دوران پاکستان میں گوگل سرچ کے رجحانات کی تفصیل جاری کردی ہے۔گوگل کی ایئر ان سرچ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گوگل سرچ میں کرکٹ بدستور سرفہرست ہے۔پاکستانی شائقین نے گوگل پر زیادہ تر ابھرتے ہوئے کھلاڑی ابھیشیک شرما، حسن نواز، عرفان خان نیازی کو تلاش اور فالو کیا۔صاحبزادہ فرحان، محمد عباس، صائم ایوب سمیت دیگر کھلاڑیوں کو بھی تلاش کیا گیا۔اے آئی ٹولزکی تلاش نے پاکستانی عوام کی مصنوعی ذہانت میں بڑھتی دلچسپی کو نمایاں کیا۔

  • اڈیالہ کا قیدی الطاف حسین پارٹ 2 بن چکا ہے، عظمی بخاری

    اڈیالہ کا قیدی الطاف حسین پارٹ 2 بن چکا ہے، عظمی بخاری

    لاہور (کنزیو مرواچ نیوز)وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ اڈیالہ کا قیدی بانی ایم کیو ایم الطاف حسین پارٹ 2 بن چکا ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی جماعت پر پابندی اور گورنر راج کے حق میں نہیں ہوں اگر یہ باز نہ آئے تو پھر یہ آپشن ہو سکتے ہیں، سی سی ڈی پولیس کو دہشت گردی سے نمٹنے کےلیے جدید آلات دئیے، ملکی دشمنی کو تلخی کا نام دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کے ادارے کے سربراہ کو ٹارگٹ کریں شہدا کے خلاف گندی مہم کریں تو یہ تلخی نہیں بلکہ ملک دشمنی ہے، اگر بانی پی ٹی آئی کو اب سیاسی لوگوں سے بات نہیں کرنی تو اب ہم نے بھی آپ سے بات نہیں کرنی، ایک ملک دشمنی برداشت دوسری ملک برداشت برداشت اب یہ ملک کے لئے خطرہ اور الطاف حسین پارٹ ٹو بن گیا ہے۔عظمی بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ تنگ ہیں کہتے ان کی پالیسیوں سے متفق نہیں، پارلیمنٹرین خود کہتے ہیں ان کا مقابلہ سوشل میڈیا سے ہے وہ تو پارٹی کو ختم کروانے کے در پر ہیں، ایک یوٹیومر کہتا ہے بڑی خبر آنے والی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لاعلاج دماغی و جسمانی ہمیں علاج کرنا آتا ہے۔

  • بانی پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور

    بانی پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور

    لاہور:(کنزیومر واچ نیوز)بانی پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور کر لی گئی۔قرارداد مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی طاہر پرویز نے ایوان میں پیش کی، پاکستان کی سالمیت استحکام کے خلاف پاکستان کا ہر محاذ پر حفاظت کرنے والے اداروں جنہوں نے بھارت جیسے پانچ گنا بڑے دشمن ملک کو پچھاڑ کررکھ دیا، متن ملک کے خلاف بیان بازی کرنے انتشار پھیلانے اور پاکستان کے مخالف دشمن ملک کی آلہ کار پارٹی اور اس کے بانی و لیڈر پر پابندی لگائی جائے، متن جو لیڈران خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی پارٹی سے ہو ان کے خلاف ملکی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے، متن پاکستان کے استحکام حفاظت کےلیے کام کرنے والے اداروں کے نوجوانوں اور ان کے سربراہان کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، متن

  • این سی سی آئی اے میرے موبائل، کریڈٹ کارڈز، رقم واپس دے، ڈکی بھائی

    این سی سی آئی اے میرے موبائل، کریڈٹ کارڈز، رقم واپس دے، ڈکی بھائی

    لاہور(کنزیومرواچ نیوز)ضلع کچہری لاہور میں ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، الیکٹرانک ڈیوائسز اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری کے کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر این سی سی آئی اے کو مزید 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے ڈکی بھائی کی سپرداری کی درخواست پر سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی۔پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ اس کیس کا پہلا تفتیشی افسر جیل میں بند ہے، اس تفتیشی افسر سے تمام معلومات لینی ہے۔وکیل ڈکی بھائی نے کہا کہ یہ سپرداری کی درخواست ہے جو الیکٹرانک ڈیوائسز اور موبائل این سی سی آئی اے کے پاس ہیں، میرے 4 کریڈٹ کارڈ اور رقم ہمیں حوالے کی جائے۔جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کیس پر سماعت کی، ملزمان کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کررکھا ہے۔

  • ہنگور کے عملے نے جانبازی کی درخشندہ تاریخ رقم کی، فیلڈ مارشل

    ہنگور کے عملے نے جانبازی کی درخشندہ تاریخ رقم کی، فیلڈ مارشل

    راولپنڈی (کنزیومرواچ نیوز)ہنگور ڈے “آبدوز ہنگور” کی لازوال بہادری اور پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی روشن علامت ہے۔تفصیلات کے مطابق 9 دسمبر 1971 کو ہنگور نے دشمن کے بحری جہاز ککری کو غرق اور کرپان کو شدید نقصان پہنچا کر بھارتی بحری غرور کو خاک میں ملایا۔ آج کے دن کے حوالہ سے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ 9 دسمبر 1971 کو ہنگور کے عملے نے جانبازی اور دلیری کی ایک درخشندہ تاریخ رقم کی جو کہ آج تک دشمن کے ذہن پر نقش ہے۔انہوں نے کہا کہ 1971 میں بھی پاک بحریہ دشمن کے لیے سمندر میں سیسہ پلائی دیوار تھی اور آج بھی یہ ملک کی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے۔ یہ دن باور کرواتا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری اور دفاعِ وطن کے لیے عزمِ محکم رکھتا ہے۔
    اس موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ ہنگور کی درخشاں روایت برقرار رکھتے ہوئے 8 جدید ہنگور کلاس آبدوزیں عنقریب پاک بحریہ میں شامل ہو رہی ہیں۔ پاک بحریہ اپنے شاندار ماضی کی طرح آج بھی ہر محاذ پر دشمن کے دانت کھٹے کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔پاک بحریہ نے ہنگور ڈے پر خصوصی دستاویزی فلم “ہدف” جاری کر دی ہے۔ فلم، آبدوز ہنگور کے کمانڈنگ آفیسر وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) احمد تسنیم کی وار ڈائری پر مبنی ہے۔

  • بھارت کسی خود فریبی کا شکار نہ رہے، اگلی بار جواب شدید ہوگا، فیلڈ مارشل

    بھارت کسی خود فریبی کا شکار نہ رہے، اگلی بار جواب شدید ہوگا، فیلڈ مارشل

    راولپنڈی (کنزیومرواچ نیوز)چیف آف دی آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا کہ بھارت کسی خود فریبی یا گمان کا شکار نہ رہے، اگلی بار پاکستان کا جواب اس سے بھی برق رفتار اور شدید ہوگا۔
    مسلح افواج کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ نئے قائم ہونے والے ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز میں بنیادی تبدیلی تاریخی ہے، بڑھتے اور بدلتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ ہم ملٹی ڈومین آپریشنز کو تینوں افواج کے متحد نظام کے تحت مزید بہتر کریں۔
    فیلڈ مارشل نے کہا کہ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام اس تبدیلی کی جانب ایک ضروری قدم ہے، ہر سروس اپنی آپریشنل تیاریوں کے لیے اپنی انفرادیت برقرار رکھے گی، ڈیفنس فورسز کا ہیڈکوارٹر سروسز کے آپریشن کو مربوط اور ہم آہنگ کرے گا۔
    آرمی چیف نے کہا کہ بالا کمانڈ کی یکجہتی کے ساتھ ساتھ تینوں افواج اپنی اندرونی خود مختاری اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھیں گی۔
    چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا طالبان رجیم کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ان کے پاس فتنۃ الخوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔
    فیلڈ مارشل نے کہا میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تاہم کسی کو بھی پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت پر آنچ اور ہمارے عزم کو آزمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
    چیف آف ڈیفنس فورسز کا کہنا تھا کہ تمام یہ جان لیں کہ پاکستان کا تصور ناقابل تسخیر ہے اور اس کی حفاظت ایمان سے سرشار جانبازوں اور متحد قوم کے پختہ عزم نے کر رکھی ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد!

  • کراچی لاوارث   سانحہ نیپا : ذمہ دارکون؟

    کراچی لاوارث سانحہ نیپا : ذمہ دارکون؟

    کیا مئیر کراچی مرتضی وہاب کو گٹر کے ڈھکن لگوانے کے لئے بھی اختیارات کی ضرورت ہے؟
    مجرموں کو کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں،شہریوں کا مطالبہ
    کنزیومرواچ رپورٹ
    کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نیپا فلائی اوور کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر کم عمر بچے کاجاں بحق ہونا ایک ایسا درد ناک واقعہ ہے جسںنے شہریوں کو ایک بار پھر سوالات اٹھانے پر مجبور کردیا ۔ جاں بحق ہونے والے بچے کی لاش کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد لنک نالے سے ملی یہ واقعہ شہری منصوبہ بندی، نگرانی اور بین الادارہ جاتی رابطے کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔شہریوں کا غم وغصہ اس وقت عروج پر ہے وہ اس سانحہ کا ذمہ دار مئیر کراچی مرتضی وہاب اور خاص طور پر پیپلزپارٹی کو سمجھتے ہیں عوام کا ماننا ہے کہ کراچی کو لاوارث کردیا گیا ہے کوئی بھی شہر کی اونر شپ لینے کے لئے تیار نہیں ہے عوام کا مرتضی وہاب سے سوال ہے کہ کیا مئیر کراچی کو گٹر کے ڈھکن لگوانے کے لئے بھی اختیارات کی ضرورت ہے؟
    کے ایم سی کی تحقیقاتی رپورٹ، ذمہ داری کس پر؟
    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) نے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ محکمہ بلدیات کو ارسال کردی ہے، جس میں واضح طور پر **BRT ریڈ لائن منصوبے کی تعمیرات کو حادثے کا بنیادی سبب قرار دیا گیا ہے۔
    سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز عمران راجپوت کے مطابق:
    بی آر ٹی کے کھدائی کام نے پورے نالے کے نکاسی نظام کو نقصان پہنچایا۔
    گٹروں کو بند کرنے کے لیے صرف دو فٹ کے غیر معیاری کورز استعمال کیے گئے۔
    ایک مین ہول تعمیراتی عمل کے دوران کھلا چھوڑ دیا گیا، جو حادثے کا براہِ راست سبب بنا۔
    بی آر ٹی انتظامیہ نے کام شروع کرنے سے پہلے کے ایم سی کو باقاعدہ اطلاع نہیں دی۔
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کور اور طریقہ کار کے ایم سی کے منظور شدہ معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔
    نجی اسٹور پر بھی الزام
    کے ایم سی رپورٹ میں نجی اسٹور کی انتظامیہ پر بھی غفلت کا الزام عائد کیا گیا ہے، کیونکہ کھلا مین ہول ان کے بالکل سامنے موجود تھا لیکن اسٹور نے بھی حفاظتی اقدام کے طور پر:
    مین ہول کے گرد رکاوٹیں نہ لگائیں
    نہ ہی متعلقہ حکام کو بروقت اطلاع دی
    میئر کراچی کیا کہتے ہیں؟
    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا:
    اگر میں ذمہ دار جماعت اسلامی کو کہوں تو لوگ ناراض ہوں گے، مگر ذمہ داری جہاں ہے وہاں رکھنی چاہیے۔
    میئر کا اشارہ ریڈ لائن منصوبے کی نگرانی اور انتظامی ذمہ داریوں کی طرف تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ:
    شہر میں مختلف اداروں کے الگ الگ دائرہ اختیار عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث ہیں۔
    بی آر ٹی کی کھدائی اور اس کے بعد صفائی کا نظام بہتر طریقے سے منظم نہیں کیا گیا۔
    عوام کیا کہہ رہے ہیں؟
    سوشل میڈیا اور مقامی رہائشیوں کا ردعمل شدید تھا:
    کچھ لوگ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کو براہِ راست قصوروار ٹھہرا رہے ہیں۔
    کچھ شہری کے ایم سی کی نگرانی کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔
    بہت سے لوگوں نے شہر میں کھلے مین ہولز کے مستقل مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔
    کچھ لوگ مئیر اور پیپلزبارٹی کی ھکومت کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں
    عام شہریوں کے مطابق:
    کراچی میں کھلے مین ہول کوئی نئی بات نہیں، مگر آج ایک گھر اْجڑ گیا… اگر وقت پر ڈھکن لگ جاتا تو بچہ بچ جاتا۔’’
    بین الادارہ جاتی بدانتظامی ، مسئلے کی جڑ؟
    تجزیہ کے مطابق اس واقعے کے پیچھے تین بنیادی عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں:
    1. اداروں کے درمیان رابطے کی کمی
    ایک ہی سڑک پر کے ایم سی، سندھ گورنمنٹ، بی آر ٹی اتھارٹی، کنٹریکٹرز اور ٹاؤن انتظامیہ،سب کا الگ کنٹرول ہے مگر ہم آہنگی صفر
    2. غیر معیاری تعمیراتی طریقہ کار
    بڑے شہروں میں مین ہول کو عارضی طور پر کھلا چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہاں معمول بنا ہوا ہے۔
    3. نالوں اور نکاسی کا کمزور نظام
    شہر بھر میں نالوں کی مرمت اور صفائی جزوقتی کام کے طور پر کی جاتی ہے، جس سے ایسی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔
    ماہرین شہری منصوبہ بندی کا موقف
    شہر کے شہری انجینئرز کے مطابق:

    ترقیاتی منصوبے شروع کرنے سے پہلے پورا GIS نقشہ کے ایم سی، واٹر بورڈ، ٹریفک پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوتا ہے۔
    مین ہولز کو کھلا چھوڑنا عالمی حفاظتی اصولوں کے خلاف ہے۔
    ایسے پروجیکٹس میں ہائی رسک ایریاز کی نشاندہی اور 24 گھنٹے کی نگرانی لازمی ہے۔
    آئندہ ایسے حادثات روکنے کیلئے کیا کیا جائے؟
    1مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم
    شہر میں جاری تمام کھدائی، تعمیرات اور رکاوٹوں کی ریئل ٹائم نگرانی ایک ہی پلیٹ فارم سے ہو۔ دبئی، سنگاپور اور لندن میں یہی نظام استعمال ہوتا ہے۔
    2سخت حفاظتی پروٹوکول
    کھلے مین ہول کے گرد کم از کم 4 فٹ اونچی بیریئر
    رات کے وقت روشن لائنز
    پیلا یا سرخ حفاظتی ٹیپ
    CCTV نگرانی

    3.تمام اداروں کے درمیان قانونی معاہدہ

    ہر ترقیاتی منصوبے سے پہلے ایک MoU بنایا جائے جس میں یہ طے ہو:

    * کس نے کون سی جگہ کھودی؟
    * کب تک کھلی رہے گی؟
    * کس ادارے کو اطلاع دینا لازمی ہے؟
    * ذمہ داری کس کی ہوگی؟

    4. غیر معیاری کورز کے استعمال پر پابندی

    صرف انجینئرنگ سرٹیفائیڈ ڈھکن استعمال ہوں۔ زیادہ ٹریفک والے علاقوں میں *کاسٹ آئرن ڈھکن* لازمی ہوں۔

    5. عوامی آگاہی مہم

    اگر کسی علاقے میں مین ہول کھولا جا رہا ہو تو:

    * علاقے کے واٹس ایپ گروپس
    * مقامی یونین کونسل
    * ٹیلی فون ایلرٹ سسٹم

    کے ذریعے اطلاع دی جائے۔
    نیپا فلائی اوور کا سانحہ ایک بار پھر کراچی کے شہری انتظام میں موجود دائمی خامیوں کو سامنے لاتا ہے۔ ایک بے گناہ بچے کی جان چلی گئی، مگر ذمہ داری کا تعین اور اصلاحی اقدامات وقت کی سب سے اہم ضرورت ہیں۔ جب تک شہر میں اداروں کے درمیان واضح رابطہ، سخت حفاظتی طریقہ کار اور معیار پر مبنی تعمیرات نہیں ہوں گی۔ایسے حادثات دوبارہ ہوتے رہیں گے۔

  • ٹیکس نظام، معاشی اصلاحات اور ریاست کی سمت،،،،،،شیخ راشد عالم

    ٹیکس نظام، معاشی اصلاحات اور ریاست کی سمت،،،،،،شیخ راشد عالم

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی حالیہ پریس کانفرنس نے ایک بار پھر قومی معیشت کی بنیادی خرابیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ 9 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا، دراصل برسوں سے جاری مالیاتی تضادات کا نچوڑ ہے۔ ریاست کی مالی سکت کا اندازہ قومی آمدن سے لگایا جاتا ہے اور جب ایک 25 کروڑ آبادی کا ملک محض 9 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی پر گزارہ کر رہا ہو تو اس کا نتیجہ بجٹ خسارے، مہنگائی، قرضوں اور کمزور معاشی ڈھانچے کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔
    ٹیکس کا بحران،مسئلہ کہاں ہے؟
    پاکستان کی ٹیکس پالیسیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ٹیکسوں کی شرح کم ہے بلکہ اصل خرابی ٹیکس نیٹ کے انتہائی تنگ ہونے میں ہے۔ ہمارے ملک میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد آج بھی قابلِ رحم ہے۔ آمدن کا بڑا حصہ چند مخصوص سیکٹرز سے لیا جاتا ہے جبکہ بڑی تعداد یا تو ٹیکس ہی نہیں دیتی یا اپنی اصل آمدن چھپا لیتی ہے۔ وزیر خزانہ نے درست کہا کہ اگر ریاست نے پائیدار ترقی کرنی ہے تو اسے ٹیکس بنیاد کو بڑھانا ہی پڑے گا، خواہ اس کے لیے کتنی ہی مخالفت کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔
    سبسڈی میں کرپشن؛اصل نقب یہاں لگتی ہے
    وزیر خزانہ نے ایک دلچسپ اور اہم جملہ کہا کہ مسئلہ ملازمین کا نہیں بلکہ سبسڈی میں ہونے والی کرپشن کا ہے۔ پاکستان کی بہت سی معاشی بیماریوں کی جڑ یہی ہے۔ ہر سال کھربوں روپے کی سبسڈیز منظور کی جاتی ہیں، مگر ان کا بڑا حصہ ہدف تک پہنچنے کے بجائے مخصوص گروہوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ توانائی، گندم، چینی، کھاد اور پیٹرولیم سبسڈی میں جو بے ضابطگیاں ہوتی رہی ہیں، وہ نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ مسابقتی معیشت کی بنیاد بھی کمزور کرتی ہیں۔
    اصلاحات کی بات تو ہر حکومت کرتی ہے مگر یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سبسڈی کے نام پر ایک طاقتور لابی دہائیوں سے نظام کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ اس ڈھانچے کو بدلنا آسان نہیں، مگر اگر حکومت واقعی بدعنوانی کے ان مراکز کو نشانہ بنانے میں سنجیدہ ہے تو یہ اقدام معیشت کے لیے بڑی خبر ہوگی۔
    آئی ایم ایف معاہدہ،ضرورت یا مجبوری؟
    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کا اعلان یقیناً سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ تاہم یہ بات بھی حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے ساتھ سخت شرائط لازمی آتی ہیں۔ ٹیکس بڑھانے، سبسڈی کم کرنے اور بجلی و گیس کی قیمتیں ایڈجسٹ کرنے جیسے اقدامات عام شہری کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔

    یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ موجودہ معاشی حالات میں آئی ایم ایف کی مدد ناگزیر تھی۔ زرمبادلہ کے ذخائر کم، درآمدی بل بلند اور قرض ادائیگیوں کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔ ایسے ماحول میں بیرونی فنانسنگ کے بغیر معاشی پہیہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا تھا۔ لیکن آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد سیاسی طور پر ایک مشکل مرحلہ ہوگا جس کا سب سے بڑا امتحان عام شہری کی برداشت ہے۔
    ریکوڈک،امید کا نیا باب؟
    پریس کانفرنس کا سب سے حوصلہ افزا حصہ ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے دیا گیا بیان تھا۔ یہ منصوبہ اپنی نوعیت میں بے حد اہم ہے کیونکہ اس میں تانبے اور سونے کے عالمی معیار کے ذخائر موجود ہیں۔ یو ایس ایگزم بینک کا دوبارہ فنانسنگ میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے ایک بار پھر پاکستان کے بڑے منصوبوں پر اعتماد ظاہر کر رہے ہیں۔
    ریکوڈک ایک طویل المدت منصوبہ ہے، اس کے ثمرات فوری نہیں مل سکیں گے۔ مگر اگر اسے شفافیت اور عالمی معیار کے مطابق مکمل کیا گیا تو یہ واقعی پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے اور مستقبل میں برآمدات کے نئے راستے کھول سکتا ہے۔
    بیرونی کھاتوں کا توازن،معیشت کی ریڑھ کی ہڈی
    محمد اورنگزیب نے درست نشاندہی کی کہ ادائیگیوں کا توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ کسی بھی معیشت کی پائیداری میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان مسلسل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا شکار رہا ہے، جس کی بڑی وجہ درآمدات کا دباؤ اور برآمدات کی محدود ساخت ہے۔ جب تک برآمدی صنعتوں کو سہولتیں نہیں ملیں گی اور روایتی مصنوعات سے ہٹ کر نئی منڈیاں اور نئے شعبے نہیں بنائے جائیں گے، اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔
    ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج کا خاتمہ دراصل اسی سمت میں ایک قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر برآمد کنندگان کو مسابقت کے مواقع ملتے ہیں تو اس کے نتیجے میں نہ صرف زرمبادلہ بڑھے گا بلکہ روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔
    NFC کا آئندہ اجلاس،ایک پیچیدہ مرحلہ
    وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ ہفتے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کا اجلاس ہوگا۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وفاق پہلے ہی مالیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ موجودہ NFC ایوارڈ کے تحت قومی وسائل کا بڑا حصہ صوبوں کو جاتا ہے جبکہ دفاع، قرض ادائیگی اور انتظامی اخراجات وفاق کے ذمے رہ جاتے ہیں۔
    یہ ایک حساس بحث ہے کہ آیا موجودہ فارمولا بدلنا چاہیے یا نہیں، مگر یہ حقیقت واضح ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی ہم آہنگی کے بغیر کوئی بھی اصلاحاتی ایجنڈا کامیاب نہیں ہوسکتا۔
    سمت درست، سفر کٹھن
    وزیر خزانہ کی گفتگو میں دو چیزیں نمایاں تھیں—ایک حقیقت پسندی اور دوسرا اصلاحات کا عزم۔ پاکستان کی معیشت کو آج ایسے ہی رویے کی ضرورت ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی قیادت اس مشکل مگر لازمی راستے پر حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی؟
    اقتصادی استحکام صرف بیانات سے نہیں آتا۔ اس کے لیے عملی اقدامات، شفافیت، سخت فیصلے اور سب سے اہم پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کی معاشی کہانی ایک ایسے چکر میں پھنسی ہوئی ہے جس میں ہر چند سال بعد بحران پھر سر اٹھا لیتا ہے۔ اس چکر کو توڑنے کے لیے ٹیکس نیٹ میں اضافہ، سبسڈی کے غلط استعمال کا خاتمہ، برآمدات کا فروغ اور بجلی کے شعبے کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
    اگر حکومت اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈے پر بلا خوف اور بلا تعطل آگے بڑھتی ہے تو آنے والے برسوں میں پاکستان ایک زیادہ مضبوط، زیادہ خودمختار اور زیادہ متوازن معیشت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اصلاحات سیاسی نعرے بن کر رہ گئیں تو پھر ایک اور بحران ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہوگا۔

  • تھینکس گیونگ کیا ہے؟ ثقافت، تہذیب یا کاروبار؟….حمیرا گل تشنہ

    تھینکس گیونگ کیا ہے؟ ثقافت، تہذیب یا کاروبار؟….حمیرا گل تشنہ

    امریکہ میں تھینکس گیونگ نہ صرف ایک قومی تعطیل ہے بلکہ اس ملک کی ثقافتی اور تہذیبی شناخت کا ایک اہم جزو بھی ہے۔ یہ تہوار نعمتوں کے شکرانے، خاندانی بندھن اور تاریخی ورثے پر غور کرنے کا دن ہے۔ تھینکس گیونگ کی تاریخ کا آغاز سترہویں صدی کے اوائل میں شمالی امریکہ میں پہلے یورپی آباد کاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ سن 1620ء میں مے فلاور نامی جہاز پر سوار 102 انگریز آباد کار (جنہیں پیوریٹن یا زائرین بھی کہا جاتا ہے) مذہبی آزادی کی تلاش میں یورپ سے نکل کر موجودہ میساچوسٹس کے ساحل پر اترے . یہ لوگ نئے خطے کے سخت موسم سرما کے لیے تیار نہیں تھے، جس کے نتیجے میں پہلے ہی سال میں ان کی نصف سے زیادہ تعداد بھوک اور بیماری سے ہلاک ہو گئی۔ ان مشکل حالات میں، مقامی وامپانواگ (Wampanoag) قبیلے نے ان آباد کاروں کی مدد کی اور انہیں خوراک فراہم کی، نیز مقامی حالات کے مطابق فصلیں اگانے اور زندہ رہنے کے طریقے سکھائے۔ سن 1621ء میں پہلی کامیاب فصل کٹائی کے بعد، آباد کاروں نے اپنے بقا کے شکرانے کے طور پر ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں 53 آباد کاروں نے 90 مقامی امریکیوں کے ساتھ مل کر شرکت کی۔ اس پہلے تہوار میں ہرن کا گوشت، بطخ اور دیگر پرندے، مچھلی، نیز خشک مکئی اور سبزیاں شامل تھیں۔ اگرچہ اس وقت اس تقریب کا نام “تھینکس گیونگ” نہیں تھا، لیکن یہی واقعہ اس قومی تہوار کی بنیاد بنا۔ابتدائی دور میں مختلف امریکی ریاستیں مختلف دنوں میں یہ تہوار مناتی تھیں۔ صدر ابراہم لنکن نے 1863ء میں نومبر کی آخری جمعرات کو تھینکس گیونگ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ بالآخر 1941ء میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کے دور میں کانگریس نے ایک قانون پاس کیا، جس کے تحت ہر سال نومبر کی چوتھی جمعرات کو تھینکس گیونگ کے طور پر مقرر کیا گیا۔صدیوں سے چلتی ہوئی اس روایت “تھینکس گیونگ” کی اصل شکل میں اب بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ لیکن آج بھی اس کی بنیادی روح یعنی شکرگزاری، اجتماع اور فیضان کا جشن برقرار ہے۔تھینکس گیونگ کی سب سے اہم روایت خاندان اور دوستوں کے ساتھ جمع ہونا ہے۔ اس موقع پر بھنی ہوئی ٹرکی دسترخوان کی خاص ڈش ہے، جس کے ساتھ عام طور پر سٹفنگ، کرین بیری ساس، میشڈ آلو، گریی، اور کدو کی پائی پیش کی جاتی ہے۔ ٹرکی کو اس تہوار کی علامت بنانے کا سہرا مصنفہ سارا جوزفہ ہیل کے ناول “نارتھ ووڈ” (1827ء ) کو جاتا ہے، جس میں اس ڈش کی تفصیلی منظر کشی کی گئی تھی۔تھینکس گیونگ، امریکہ میں سفر کا سب سے مصروف ترین دن ہے۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (AAA) کے اندازوں کے مطابق، اس موقع پر آٹھ کروڑ سے زائد افراد کم از کم 80 کلومیٹر یا اس سے زیادہ کا سفر کر کے اپنے پیاروں سے ملنے جاتے ہیں۔ یہ سفر ہوائی جہاز، ریل یا سڑک کے ذریعے ہوتا ہے۔
    اس دن نیویارک میں ایک بڑی پریڈ کا انعقاد ہوتا ہے، جبکہ ٹیلی ویژن پر امریکی فٹ بال کے کھیل دکھائے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس دن کو غریب اور ضرورت مند افراد میں کھانا یا تحائف تقسیم کرنے اور رضاکارانہ خدمات انجام دینے کے لیے وقف کرتے ہیں۔تھینکس گیونگ نہ صرف ایک ثقافتی تہوار ہے بلکہ یہ کاروبار اور معیشت کے لیے بھی ایک اہم موسم ہے، جو متعدد شعبوں میں بے پناہ مواقع پیدا کرتا ہے۔چونکہ اس موقع پر گھروں میں بڑی دعوتیں ہوتی ہیں، اس لیے گروسری اسٹورز، ریستورانوں اور کیٹرنگ سروسز کے کاروبار میں
    زبردوں اضافہ ہوتا ہے . لوگ تھینکس گیونگ سے متعلقہ اجناس اور تیار کھانے کی اشیاء کی خریداری کے لیے بڑی تعداد میں بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔تھینکس گیونگ کے اگلے دن “بلیک فرائیڈے” منایا جاتا ہے، جو خریداری کا سب سے بڑا دن سمجھا جاتا ہے۔ خوردہ فروش اس موقع پر خصوصی پروموشنز اور ڈسکاؤنٹس کا اعلان کرتے ہیں، جس سے ان کی فروخت میں زبردوں اضافہ ہوتا ہے . اس کے بعد آنے والے “سائبر منڈے” پر آن لائن خریداری کو فروغ دیا جاتا ہے۔
    چھٹی کے موقع پر ملک بھر میں ہونے والے وسیع پیمانے پر سفر کی وجہ سے ایئر لائنز، ہوٹلوں اور کرایہ کی گاڑیوں کی کمپنیوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ یہ موسم ان شعبوں کے لیے آمدنی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
    تھینکس گیونگ کا جذبہ دوسروں کی مدد کرنے اور صدقہ خیرات دینے پر زور دیتا ہے۔ اس موقع پر خیراتی تنظیمیں عطیات حاصل کرنے اور ضرورت مندوں تک مدد پہنچانے کے لیے مہمات چلاتی ہیں۔ بہت سے کاروباری ادارے بھی اپنی برانڈ کی شہرت بہتر بنانے کے لیے اس موسم میں سماجی خدمات کے پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں۔
    تھینکس گیونگ امریکی معاشرے کا ایک ایسا جزو ہے جو اپنے دامن میں گہری تاریخی اہمیت، مضبوط ثقافتی روایات اور وسیع کاروباری مواقع سموئے ہوئے ہے۔ یہ تہوار نہ صرف ماضی کے اس تاریخی واقعے کی یاد دلاتا ہے جب مقامی امریکیوں نے آباد کاروں کی مدد کی تھی، بلکہ یہ آج کے دور میں خاندانوں کے اجتماع، نعمتوں کے شکرانے اور انسانی ہمدردی کا استعارہ بھی بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ تہوار کاروباری شعبے کے لیے ترقی اور منافع کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ یہی کثیر الجہتی پہلو تھینکس گیونگ کو امریکی ثقافت میں ایک منفرد اور اہم مقام عطا کرتا ہے۔