کراچی:(اسپورٹس ڈیسک)سال 2025 کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے جہاں سہہ فریقی سیریز، ہانگ کانگ سکسز، ایمرجنگ ایشیا کپ اور انڈر 19 ایشیا کپ کے ٹائٹل اپنے نام کیے وہیں متعدد کھلاڑی نے انفرادی طور پر بھی اہم ریکارڈز اپنے کیے۔قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی سال بھر کی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو محمد عباس، محمد ساجد، نعمان علی، محمد نواز، حسن علی، سعدیہ اقبال اور فاطمہ ثناء نے بولنگ کے شعبے میں چار چاند لگائے۔سال کے آغاز میں پاکستان کی اسپن جوڑی ساجد خان اور نعمان علی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اہم ریکارڈز اپنے نام کیے۔ دو میچز کی سیریز ایک ایک سے برابر رہی۔
نعمان علی
بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے نعمان علی کی بات کی جائے تو انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں 16 وکٹیں حاصل کیں جس کی بدولت نعمان علی آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں ٹاپ 5 بولرز میں شامل ہوگئے۔ٹیسٹ سیریز کے دوران نعمان علی کا سب سے بڑا کارنامہ ہیٹ ٹرک کا ہے۔ اسپنر کی حیثیت سے ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے نعمان علی پہلے پاکستانی ہیں تاہم ٹیسٹ کی تاریخ میں پانچویں پاکستانی بولر ہیں۔نعمان علی سے قبل سن 1999 میں وسیم اکرم نے سری لنکا کے خلاف دو مرتبہ ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی۔ عبدالرزاق نے 2000 میں سری لنکا کے خلاف، محمد سمیع نے 2002 میں سری لنکا کے خلاف اور نسیم شاہ نے 2020 میں بنگلا دیش کے خلاف ہیٹ ٹرک کی تھی۔اسی ٹیسٹ سیریز میں نعمان علی نے 5 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ انہیں ٹیسٹ کی تاریخ میں آٹھ مرتبہ 5وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل ہے۔
اس کے علاوہ، نعمان علی نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں دوسری مرتبہ 10 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ نعمان علی اپنی بہترین کارکردگی کی بدولت اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔
ساجد خان
اسپن جوڑی کے دوسرے بولر ساجد خان، جو دائیں بازو سے آف اسپن کرتے ہیں، نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 4 اور دوسری اننگز میں 5 وکٹیں اپنے نام کی، جس نے قومی ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔پہلے ٹیسٹ میں 9 وکٹیں اپنے نام کرنے والے ساجد خان اپنی تیز ترین 50 وکٹیں مکمل کرنے والے پاکستان کے تیسرے بولر بھی بنے۔ انہوں نے یہ کارنامہ محض 11 میچز میں انجام دیا۔ساجد خان سے قبل سابق لیگ اسپنر یاسر شاہ نے تیز ترین 50 وکٹوں کا ریکارڈ محض 9 میچز میں اپنے نام کیا تھا۔
محمد عباس
سال 2024 کے آخر میں پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی جس کا دوسرا ٹیسٹ 2025 کے شروع میں ہوا۔
دو میچز کی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم سیریز میں فاسٹ بولر محمد عباس نے اپنی 100 وکٹیں مکمل کیں۔ انہوں نے یہ کارنامہ 27 میچز میں انجام دیا۔
Blog
-

2025 میں پاکستانی بولرز نے نئی تاریخ رقم کی
-

افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں عالمی سطح پر بھی سنگین چیلنج بن گئیں
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں خطہ سمیت عالمی سطح پر بھی سنگین چیلنج بن گئیں افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی میں افغان دہشت گرددنیا بھر کے امن و امان کیلئے خطرہ بن گئے افغان دہشت گرد بیرون ِ ممالک دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں کیساتھ ساتھ سنگین جرائم میں بھی ملوث ہیں افغان دہشت گرد امریکا،ایران ،روس ،پاکستان سمیت متعدد ممالک میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں افغانستان سے پنپنے والی دہشت گردی کی یہ پریشان کن صورتحال عالمی سطح پر دیگر ممالک کیلئے بھی تشویش کا باعث ہے سنگین انسانی جرائم کی بڑھتی ہوئی لہر کی وجہ سے اکثر ممالک بشمول جرمنی نے بھی افغان شرپسندوں کے ملک بدری کے احکامات جاری کردئیے
جرمنی کی وزارت داخلہ کے مطابق؛
افغان مجرم کو مسلح ڈکیتی سمیت سنگین جرائم میں ملوث ہونے پرملک بدر کیا گیا سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے باعث دیگر افغانیوں کو بھی تیزی سے ملک بدرکیا جارہا ہے اس کے علاوہ افغانستان کے اپنے جریدہ نے بھی انتہا پسند افغانیوں کےجرمنی میں جرائم کی تصدیق کر دی
افغان جریدہ ہشت صبح کے مطابق؛
2018سے اب تک 220 سے زائد جرائم میں ملوث افغان پناہ گزین جرمنی سے بے دخل ہو چکے ہیں
سیکیورٹی خدشات کے باعث امریکا، جرمنی ،پاکستان، ایران سمیت مختلف ممالک سے افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری ہے
بین الاقوامی جریدہ الجزیرہ نے بھی واضح کیا کہ ؛
2024 اور2025 میں جرمنی سے بالترتیب 28 اور81 افغانی مجرمان کو شرپسند کارروائیوں کے باعث ملک بدر کیا جا چکا ہےاقوام متحدہ کی رپورٹ کےمطابق 2025 میں ایران بھی لاکھوں افغان شہریوں کو ملک بدرکرچکا ہےافغان طالبان رجیم کے زیر اقتداءدہشت گرد نیٹ ورکس عالمی امن کیلئے شدید خدشات کا باعث بن چکے ہیں -

2025ء ؛ بھارتی خارجہ پالیسی کی شرمناک ناکامیوں اور بدترین سفارتی ہزیمت کا سال
ممبی(فارن ڈیسک)2025ء کا اختتام بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور ہزیمت کے سال کے طور پر سامنے آیا، جہاں بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت میں بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم نریندر مودی سے وابستہ توقعات حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔ بھارتی اخبار دی ہندو نے 2025ء کو ملکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے توقعات پر پورا نہ اترنے پر ’’وعدوں کے بکھرنے‘‘ کا سال قرار دے دیا۔ اخبار کے مطابق علامتی سفارت کاری، ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی حقیقی معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت کا نعم البدل ثابت نہ ہو سکی۔اخبار دی ہندو کے مطابق بھارت نے نہ صرف خود سے بلکہ اپنے شراکت داروں سے بھی ایسے وعدے کیے جن پر عملدرآمد کے لیے اس کے پاس درکار اثرورسوخ اور قوت موجود نہیں تھی۔ امریکا کے ساتھ تعلقات پر اخبار نے لکھا کہ 2025ء بھارت کے لیے اس صدی کا مشکل ترین سال ثابت ہوا، جہاں 25 فیصد ٹیرف، روسی تیل پر اضافی پابندیاں اور H-1B ویزا پر قدغنوں نے یہ واضح کر دیا کہ واشنگٹن کے ساتھ بھارت کی شراکت مشروط اور مفاداتی نوعیت کی ہے۔دی ہندو کے مطابق 2017ء کے مقابلے میں 2025ء کی امریکی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی میں بھارت کو محدود کردار تک سمیٹ دیا گیا ہے۔اسی طرح چین اور روس کے حوالے سے تمام تر اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے باوجود لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی ٹھوس سیکیورٹی پیش رفت نہ ہو سکی جب کہ سرمایہ کاری کی رکاوٹیں بھی برقرار رہیں اور بھارت محض علامتی موجودگی تک محدود رہا۔توانائی کے شعبے میں دی ہندو نے واضح کیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں بھارت کو روسی تیل کے معاملے پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔اخبار دی ہندو نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو سنگین سیکیورٹی ناکامی قرار دیا اور اعتراف کیا کہ پہلگام حملے کے بعد بھارتی عسکری کارروائیوں کو سفارتی سطح پر عالمی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ بھارتی کارروائی کے بعد طیاروں کے نقصانات پر خاموشی نے بھی بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اسی طرح سعودی پاکستان باہمی دفاعی معاہدے کا اعلان بھارت کے لیے ایک اضافی دھچکا ثابت ہوا۔دی ہندو کے مطابق بھارتی تجزیہ کار اب پاکستان کی قیادت کو ’’سخت گیر اور منظم صلاحیت رکھنے والی‘‘ ماننے لگے ہیں جب کہ اخبار نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات اب تک کی سب سے کشیدہ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔آخر میں اخبار نے خبردار کیا کہ بھارت ’’وشو گرو‘‘ کے بیانیے سے نکل کر ’’وشو وکٹم‘‘ کی جانب بڑھ رہا ہے اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا اصلاح اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق دی ہندو کی رپورٹ نے بھارت کی کمزور سفارت کاری کو عیاں کر دیا ہے۔ بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ صرف دکھاوے پر مبنی سفارت کاری سے عملی نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اخبار کا سفارتی ناکامی کا اعتراف پاکستان کے اس مؤقف کی تصدیق ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی زیادہ تر آپٹکس پر مبنی رہی ہے، عملی نتائج پر نہیں۔ماہرین کے مطابق دی ہندو کا یہ تجزیہ اس حقیقت کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ بھارت اب امریکا کے لیے ناگزیر اسٹریٹجک شراکت دار نہیں رہا، جو پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ بھارت کا ڈیٹرنس بیانیہ عالمی سطح پر قائل کرنے میں ناکام رہا۔ماہرین کے مطابق اخبار کا یہ اعتراف کہ کچھ ممالک نے پاکستان کی عسکری کارروائیوں کی حمایت کی، بھارت کی سفارتی ناکامی کو کھل کر سامنے لاتا ہے جب کہ پاکستانی قیادت کی صلاحیتوں کے اعتراف سے اس بھارتی دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ پاکستان کمزور یا عالمی سطح پر تنہا ہے۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ بنگلا دیش میں اقلیتوں پر مظالم پر تشویش کا اظہار کرنے والے بھارت کو اپنے ملک میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت اور روک تھام بھی کرنا ہوگی۔
-

راحت فتح علی خان کی بیٹی کی مہندی کی تصاویر وائرل
لاہور(انٹرٹینمنٹ ڈیسک)عالمی شہرت یافتہ پاکستانی کلاسیکل اورغزل گائیک راحت فتح علی خان ان دنوں اپنی بیٹی ماہین خان کی وائرل شادی کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔عالمی شہرت یافتہ گلوکار استاد راحت فتح علی خان کی بیٹی ماہین خان کی شادی کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز مایوں کی تقریب سے ہوا جو کل رخصتی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئیں۔چند روز قبل ماہین خان کا نکاح لاہور میں منعقد ہونے والی ایک خوبصورت تقریب میں ہوا، اس اہم خاندانی موقع پر راحت فتح علی خان اور ان کا خاندان بے حد خوش نظر آیا۔لاہور میں منعقد ہونے والی روایتی مایوں کی خوبصورت تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جس پر صارفین کی جانب سے ماہین خان کے کپڑوں کو لے کر شدید تنقید کی گئی تھی۔اب ان کی مہندی کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوگئی ہیں۔گزشتہ روز راحت فتح علی خان کی بیٹی ماہین خان کی مہندی کی تقریب لاہور میں منعقد ہوئی، اس نجی تقریب میں خاندان کے لوگوں کے علاوہ ان کے قریبی دوستوں نے شرکت کی۔دلہن نے گلابی رنگ کا خوبصورت لہنگا اور چولی زیب تن کی ہوئی تھی جس پر مدھم سنہری اور رنگ برنگی کڑھائی کی گئی تھی جب کہ ساتھ میں نیٹ کا دوپٹہ لیا ہوا تھا۔مہندی کی لہنگے میں ماہین خان نہایت نفیس اور دلکش لگ رہی ہیں جب کہ ان کے دولہا نے ہلکی کڑھائی والا پیلے رنگ کا کرتا پاجامہ پہنا ہوا تھا۔راحت فتح علی خان اور ان کے اہلِ خانہ نے مہمانوں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں، معروف گلوکار وارث بیگ بھی اس تقریب میں شریک ہوئے۔
-

سابق وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)سابق وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں۔رپورٹ کے مطابق ان کی نماز جنازہ کل بعد نماز ظہر کراچی میں ادا کی جائے گی۔ڈاکٹر شمشاد اختر نے 2 جنوری 2006ء کو بینک دولت پاکستان کی 14 ویں گورنر کا عہدہ سنبھالا، وہ اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر تھیں۔ انہیں بینکاری کا قومی اور بین الاقوامی وسیع تجربہ حاصل تھا۔گورنر اسٹیٹ بینک تقرر سے قبل وہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے بطور ڈائریکٹر جنرل، شعبہ جنوب مشرقی ایشیا وابستہ تھیں اور اس عہدے پر جنوری 2004ء سے کام کر رہی تھیں۔ قبل ازیں وہ اس شعبے کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل تھیں۔ وہ ایشیائی ترقیاتی بینک میں ڈائریکٹر، نظم و نسق، مالیات اور تجارت ڈویژن برائے مشرقی اور وسط ایشیا کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔شمشاد اختر نے ایشیائی ترقیاتی بینک میں اپنے کیریئر کا آغاز 1990ء میں کیا اور مالی شعبے میں بطور سینئر اور مرکزی اسپیشلسٹ خدمات انجام دینے کے بعد 1998ء میں وہاں منیجر بن گئیں۔وہ 1998ء سے 2001ء تک ایشیائی ترقیاتی بینک کی کوآرڈی نیٹر برائے اپیک وزرائے خزانہ گروپ بھی رہیں۔انہوں نے بینک کی کئی کمیٹیوں میں خدمات انجام دیں جن میں تنظیمِ نو کمیٹی، اپیلز کمیٹی اور نگراں کمیٹی وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف سیکورٹیز کمیشن (آئی او ایس سی او) میں ایشیائی بینک کی طرف سے مکالمہ کیا اور نمائندگی کی۔ڈاکٹر شمشاد نے وسط ایشیائی ریاستوں اور جنوب مشرقی ایشیا بشمول عوامی جمہوریہ چین کے مالی و اقتصادی امور پر وسیع مہارت حاصل کی۔
-

یو اے ای کےصدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا شاندار استقبال، 21 توپوں کی سلامی
اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے، صدر، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کیں جن میں دو طرفہ تجارت اور دیگر شعبہ جات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
ا معزز مہمان کے شاہی طیارے نے نورخان ایئر بیس پر لینڈ کیا تو پاک فضائیہ کے JF 17 تھنڈر طیاروں نے مہمان کو سلامی دی، مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کابینہ کے ہمراہ انہیں خوش آمدید کہا، وزرا میں اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال،عطا تارڑ اور دیگر موجود تھے۔ وزیراعظم نے وزرا کا تعارف بھی کرایا۔ یو اے ای صدر کے ساتھ ان کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی پہنچا۔
یواے ای کے صدر نے وفد کے ہمراہ صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملاقاتیں کیں اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دورے کے دوران شیخ محمد بن زاید النہیان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے مابین تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے جاری تعاون کے شعبہ جات میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔ مختلف شعبوں میں روابط کو مزید گہرا کرنے کے امکانات پر غور کیا۔ دونوں فریقین نے معاشی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی، انفرااسٹرکچر کی ترقی، آئی ٹی، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔
’اہلاً و سہلاً، مرحبا‘، متحدہ عرب امارات کے صدر کے سرکاری دورے پر خصوصی نغمہ جاری
دونوں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے پر اتفاق کیا جس میں دونوں ممالک کے لیے باہمی مفاد کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر قریبی رابطہ و تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کی تجدید کی۔شیخ محمد بن زاید النہیان کا یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین گہرے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی جہت دے گا۔دریں اثنا متحدہ امارات کے صدر اسلام آباد کا دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ہوگئے۔ یہ بطور صدرِ متحدہ عرب امارات ان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ -

2025 پاکستان کے عسکری اعتماد کا سال.امریکی میگزین “دی ڈپلومیٹ” کا اعتراف
اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)امریکی میگزین دی ڈپلومیٹ نے پاکستان کو 2025 میں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سال پاکستان کے لیے اسٹریٹجک واپسی، عسکری اعتماد اور ریاستی رٹ کی بحالی کا سال ثابت ہوا ہے۔میگزین کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے انتہا پسندی کے خلاف واضح، دوٹوک اور ریاستی سطح پر مضبوط پیغام دیا، جس میں یہ مؤقف نمایاں رہا کہ جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔ آرمی چیف کا یہ مؤقف نہ صرف انتہا پسندی کے خلاف ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا بلکہ اس نے ریاستی نظم و ضبط کو بھی مضبوط کیا۔رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والی فوجی جھڑپوں نے عالمی سطح پر بھرپور توجہ حاصل کی۔ محدود وسائل کے باوجود پاکستانی افواج کی مؤثر اور پیشہ ورانہ کارکردگی نے خطے میں عسکری توازن اور پاکستان کی ڈیٹرینس کو واضح کر دیا۔ بھارتی عسکری مہم جوئی کا بھرپور جواب دے کر پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک ساکھ کو مزید مضبوط کیا، جسے عالمی دفاعی ماہرین نے سراہا۔دی ڈپلومیٹ لکھتا ہے کہ ان واقعات کے بعد پاکستان کی فوج ایک بار پھر عالمی عسکری مباحث کا مرکزی موضوع بن گئی، جبکہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ اس کے برعکس، بھارت کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات پر دباؤ بڑھا۔رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں سعودی عرب کے ساتھ بڑا باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا، جس نے پاکستان کے علاقائی اثر و رسوخ کو مزید تقویت دی۔ پاکستانی دفاعی سازوسامان کی عالمی مانگ میں اضافہ ہوا، جبکہ چین نے جنگی حالات میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی عملی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔میگزین کے مطابق سی پیک کے دوسرے مرحلے کے لیے سازگار عالمی ماحول پیدا ہوا، جبکہ غزہ سے متعلق عالمی کوششوں میں پاکستان کو ایک اہم فریق کے طور پر دیکھا گیا۔ افغانستان کے معاملے پر پاکستان نے مدلل اور واضح مؤقف اپنایا، ٹی ٹی پی کے خلاف پالیسی میں فیصلہ کن سختی کی گئی اور قطر، ترکیہ اور سعودی عرب کو ثالثی کردار میں شامل کر کے سرحد پار دہشت گردی کے خطرات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔دہشت گردی کے خلاف اندرونِ ملک نمایاں کامیابیوں کے ساتھ مختلف ممالک کے ساتھ تعاون میں بھی اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق انتہا پسندی کے خلاف اقدامات اب محض بیانات نہیں بلکہ ایک واضح ریاستی پالیسی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔معاشی مشکلات کے باوجود اصلاحاتی عمل میں پیش رفت جاری رہی، جبکہ دو دہائیوں بعد پی آئی اے کی نجکاری کو ایک بڑی پیش رفت اور ممکنہ ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا گیا ہے۔دی ڈپلومیٹ کے مطابق 2025 نے پاکستان کو عالمی فضا سے فائدہ اٹھا کر اصلاحات، اسٹریٹجک استحکام اور بین الاقوامی اعتماد کی بحالی کا ایک نادر موقع فراہم کیا ہے۔
-

خوش قسمت امریکی شہری نے 500 ارب کی تاریخی لاٹری جیت لی
امریکا میں کرسمس کی رات پاوربال لاٹری میں ایک خوش نصیب شخص نے 1.8 ارب ڈالر (500 ارب روپے) کا تاریخی جیک پاٹ جیت لیا۔ یہ خوش قسمت ٹکٹ امریکی ریاست آرکنساس میں فروخت ہوا تھا۔پاوربال حکام کے مطابق جیتنے والے ٹکٹ نے تمام چھ نمبرز درست طور پر ملائے، جن میں 4، 25، 31، 52 اور 59 کے ساتھ ریڈ پاوربال نمبر 19 اور 2x پاور پلے ملٹی پلائر شامل تھا۔ حتمی ٹکٹ فروخت کے بعد جیک پاٹ کی مجموعی مالیت 1.817 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔یہ انعام امریکی تاریخ میں اب تک جیتا جانے والا دوسرا سب سے بڑا لاٹری جیک پاٹ ہے جبکہ رواں سال پاوربال کا سب سے بڑا انعام بھی یہی ہے۔پاوربال انتظامیہ کے مطابق یہ صرف دوسری مرتبہ ہے کہ آرکنساس میں فروخت ہونے والے ٹکٹ نے پاوربال جیک پاٹ جیتا ہو، اس سے قبل یہ کامیابی 2010 میں حاصل ہوئی تھی۔جیتنے والے کو دو آپشنز دیے جائیں گے، جن میں 1.817 ارب ڈالر کی مکمل رقم قسطوں (annuity) میں حاصل کرنا یا ایک ساتھ 834.9 ملین ڈالر کی رقم (ٹیکس سے قبل) وصول کرنا شامل ہے۔ قسطوں کی صورت میں ابتدائی ادائیگی کے بعد 29 سالانہ اقساط دی جائیں گی، جن میں ہر سال 5 فیصد اضافہ ہوگا۔یہ ڈرا اس جیک پاٹ سائیکل کا 47 واں ڈرا تھا، جو پاوربال کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ پاوربال جیک پاٹ جیتنے کے امکانات انتہائی کم ہیں،پاوربال لاٹری امریکا کی 45 ریاستوں، واشنگٹن ڈی سی، پورٹو ریکو اور یو ایس ورجن آئی لینڈز میں کھیلی جاتی ہے، جہاں ٹکٹ کی قیمت 2 ڈالر ہے۔
-

مسجد نبویﷺ کے مؤذن کی بستر مرگ پر دی گئی آخری اذان وائرل
مسجد نبویﷺ میں اللہ کے مہمانوں کو عبادت کے لیے آواز دینے والی رقت آمیز اور پُرسوز آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی، تاہم ان کی بستر مرگ پر دی گئی آخری اذان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔مسجدِ نبوی ﷺ کے مؤذن شیخ فیصل نعمان کو 25 سال قبل 2000 میں باضابطہ مؤذن مقرر کیا گیا تھا جو چند روز قبل مدینہ کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو طویل عرصے سے مسجدِ نبوی ﷺ کی خدمت کرتا آ رہا ہے، 25 سال تک انہوں نے اپنی خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی آواز میں اذان دی، جس نے زائرین اور مقامی لوگوں کے دلوں کو متاثر کیا۔ان کے والد کم عمری میں ہی اس عظیم منصب پر فائز ہوئے اور 90 برس سے زائد عمر تک مسجد نبوی میں اذان دیتے رہے بعد ازاں یہ سعادت شیخ فیصل نعمان کو نصیب ہوئی۔شیخ فیصل نعمان کی نماز جنازہ فجر میں ادا کی گئی اور تدفین مدینہ منورہ کے تاریخی جنت البقیع قبرستان میں کی گئی۔جنت البقیع وہ مقدس مقام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ کے اہل خانہ اور جلیل القدر صحابہ کرام آرام فرما ہیں اور اسی بابرکت سرزمین میں شیخ فیصل نعمان کو بھی سپرد خاک کیا گیا۔حال ہی میں شیخ فیصل نعمان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں وائرل ہو رہی ہے، اس ویڈیو میں شیخ فیصل اپنی زندگی کی آخری اذان پُرسوز آواز میں دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔اس سے قبل، مسجد نبوی کی انتظامیہ نے ایک جذباتی پیغام میں ان کی آخری اذان بھی شیئر کی جو انھوں نے 2 نومبر کو دی تھی اور یہی اذان مسجد نبوی ﷺ ان کی زندگی کی آخری پکار ثابت ہوئی۔
-

پی ٹی آئی احتجاج میں پاکستانی عسکری قیادت کو قتل کی دھمکیاں
برطانیہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک سوشل میڈیا سرگرمیوں پر شدید تشویش سامنے آئی ہے، جہاں ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف پرتشدد دھمکیوں کا اظہار کیا گیا ہے۔ویڈیو کو بین الاقوامی قوانین اور برطانوی انسدادِ دہشت گردی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق 23 دسمبر 2025 کو پی ٹی آئی برطانیہ کے ایک آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں برطانوی سرزمین پر موجود چند مظاہرین کو پاکستان کے فیلڈ مارشل کے خلاف بم دھماکے کے ذریعے قتل کی دھمکی دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک خاتون کی جانب سے انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات کو نہ آزادیٔ اظہار کے دائرے میں رکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی سیاسی اختلاف کہا جا سکتا ہے، بلکہ یہ براہ راست تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ویڈیو کو پی ٹی آئی سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور حامیوں نے مزید پھیلایا، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔ برطانیہ میں اس طرح کی دھمکی آمیز تقاریر کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2006 کے تحت سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔عالمی قوانین کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 تمام ریاستوں کو دہشت گردی، تشدد پر اکسانے اور اس کی معاونت روکنے کی پابند بناتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس واقعے کا تعلق انہی ذمہ داریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے برطانوی حکومت کے سامنے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ویڈیو میں ملوث افراد کی شناخت، تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ذرائع کے مطابق یہ واقعہ برطانیہ کے لیے بھی ایک امتحان قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین، انسداد دہشت گردی ذمہ داریوں اور ذمہ دار ریاستی رویے پر کس حد تک عمل درآمد کرتا ہے۔