Blog

  • ایران اور امریکا کے درمیان مذکرات میں شرکت کیلئے پاکستان کو بھی دعوت

    ایران اور امریکا کے درمیان مذکرات میں شرکت کیلئے پاکستان کو بھی دعوت

    اسلام آباد:ایران اور امریکا کے درمیان ترکیے میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے۔
    دفترخارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ترکیے میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دعوت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ‘ہاں پاکستان کو مذاکرات کے لیے دعوت دی گئی ہے’۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی اور امریکی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جمعے کو ترکیے میں شروع ہو رہے ہیں۔امریکا کے نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق جاری تنازع سفارت کاری کے ذریعے ختم کرنے کی کوششیں کریں گے تاکہ خطہ نئی جنگ سے بچ جائے۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں ترجیح کسی تنازع سے بچنا اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعات میں کمی لانا ہے اور مذاکرات میں خطے کی طاقتوں کے ایک گروپ کو بھی دعوت دی گئی ہے۔شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پرعہدیدارنے بتایا کہ استنبول میں مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو دعوت دی گئی ہے۔
    ذرائع نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاکستان کی نمائندگی کرسکتے ہیں اور پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور تمام معاملات مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے طے کیے جانے چاہئیں۔
    مزید بتایا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح قرار دیتا ہے اور اسی تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان استنبول مذاکرات میں ایک ذمہ دار اور تعمیری شراکت دار کے طور پر شرکت کرے گا اور فریقین کو کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی کے اقدامات اپنانے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ ایران۔امریکا کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے خطے کے امن، عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایران۔امریکا تنازع میں پاکستان ماضی میں بھی اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہا ہے، پاکستان نے مختلف ادوار میں دونوں ممالک کے ساتھ قریبی سفارتی روابط کے ذریعے غلط فہمیوں کے ازالے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پس پردہ اور اعلانیہ کوششیں کیں، جنہیں عالمی سطح پر سراہا بھی گیا۔مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں جبکہ امریکا کے ساتھ بھی طویل المدتی اور کثیرالجہتی روابط موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان دونوں فریقین کے لیے قابل قبول اور قابل اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے، اسی سفارتی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان استنبول مذاکرات میں تعمیری تجاویز پیش کرے گا۔سفارتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں اس حوالے سے دیگر علاقائی اور عالمی شراکت داروں سے بھی مشاورت جاری رکھے گا تاکہ استنبول مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ امریکی جنگی جہاز ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اگر معاہدہ نہیں ہوسکا تو برا ہوسکتا ہے۔امریکا کا بحری جہاز گزشتہ ماہ ایران میں حکومت مخالف پرتشدد احتجاج کے دوران ایران کے قریب تعینات کردیے گئے تھے۔

  • ایف پی سی سی آئی نےایپسوس کے اشتراک سے پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا پہلا مقامی سروے آئی ٹی اے پی لانچ کردیا

    ایف پی سی سی آئی نےایپسوس کے اشتراک سے پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا پہلا مقامی سروے آئی ٹی اے پی لانچ کردیا

    اسلام آباد (کامرس ڈیسک): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے ایپسوس کے اشتراک سے پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا پہلا مقامی سروےانڈیکس آف ٹرانسپیرنسی اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی اِن پاکستان (آئی ٹی اے پی)باضابطہ طور پر لانچ کر دیا۔ اس حوالے سے تقریب ایف پی سی سی آئی کیپیٹل ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جو صبح 11 بجے شروع ہوئی۔تقریب کے چیف گیسٹ وفاقی وزیر برائے پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشی ایٹوز احسن اقبال تھے۔ تقریب سے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ اور چیئرمین پالیسی ایڈوائزری بورڈ میاں زاہد حسین نے بھی خطاب کیا، جبکہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر، سول سوسائٹی، اکیڈیمیا اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔آئی ٹی اے پی اقدام کا آغاز مئی 2025 میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان میں ٹرانسپیرنسی اور اکاؤنٹیبلیٹی کی پیمائش کے لیے ایک مقامی اور باقاعدہ بینچ مارک تیار کرنا ہے۔ اس سروے کے ذریعے گورنمنٹ اور دیگر اداروں پر عوامی اعتماد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا گیا۔ فیلڈ سروے دسمبر اور جنوری میں مکمل کیا گیا۔سروے نتائج کے مطابق منفی تاثرات کے باوجود شہریوں کی اکثریت نے سرکاری اداروں کے ساتھ اپنے براہِ راست معاملات کو کرپشن فری قرار دیا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹرانسپیرنسی کو مضبوط بنانا، آگاہی کے خلا کو پُر کرنا اور ادارہ جاتی بہتری کو مؤثر انداز میں کمیونیکیٹ کرنا آئندہ گورننس، پبلک ٹرسٹ اور پاکستان کے انویسٹمنٹ آؤٹ لک کے لیے نہایت اہم ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ایف پی سی سی آئی کو ٹرانسپیرنسی اور اکاؤنٹیبلیٹی جیسے اہم موضوع کو قومی ڈسکورس کا حصہ بنانے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی پرسیپشن اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق اگر برقرار رہے تو یہ قومی ترقی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی ٹی اے پی کو مستقل بنیادوں پر ٹریک کیا جائے تو یہ ریفارمز اور مانیٹرنگ کے لیے ایک مؤثر ٹول ثابت ہو سکتا ہے۔

  • افغانستان کے ایجنٹ دہشتگردوں کو بلوچ عوام کے ساتھ  مل کر شکست دیں گے، وزیر دفاع

    افغانستان کے ایجنٹ دہشتگردوں کو بلوچ عوام کے ساتھ مل کر شکست دیں گے، وزیر دفاع

    اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے دہشت گرد افغانستان کے ایجنٹ ہیں، ہم انہیں بلوچ عوام کے ساتھ مل کر شکست دیں گے۔وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد افغانستان کے ایجنٹ ہیں۔ یہ لوگ ریاست کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر ہمارے دشمن ہیں، یہ انہی کے ایجنٹ ہیں ۔ دشمنوں کی پشت پناہی سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ پچھلی دہائیوں کے دوران بلوچستان میں ترقی ہوئی، سڑکیں اور تعلیمی ادارے تعمیر کیے گئے ہیں۔ جمہوری کلچر بلوچ قوم کا حق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپنے وسائل پر مکمل طور پر بلوچوں کا حق ہے ۔ اگر بلوچستان میں صرف چند لوگ وسائل سے مستفید ہو رہے ہیں تو وفاقی حکومت عام لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کا بھرپور جواب دیا جائے گا ۔ بلوچ قوم کی مدد سے بھارت اور افغانستان کو شکست دی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پاکستان کی کسٹڈی میں ہے۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ جنگ میں شکست کے بعد بھارت پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے خلاف جارحیت کر رہا ہے، تاہم بلوچ عوام کی مدد سے اس پراکسی جارحیت میں افغانستان اور بھارت کو شکست دی جائے گی۔

  • شب برات آج مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے

    شب برات آج مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے

    اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )امت مسلمہ آج شب برات مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے، اس سلسلے میں ملک بھر کی مساجد میں خصوصی شب بیداری کا اہتمام کیا گیا ۔مساجد میں نوافل ادا کیے جارہے ہیں، شہری نوافل کے ساتھ خدائے بزرگ و برترکی بارگاہ میں اپنی، فیملیز اور احباب کی سلامتی، ملکی ترقی اور خوشحالی کی خصوصی دعائیں مانگ رہے ہیں۔اس کے علاوہ ذکر الٰہی کی خصوصی محافل، حسن قرات، حمد و نعت اور درود و سلام کی روح پرور محافل کا اہتمام بھی کیا گیا۔ ،شب برأت میں شب کا مطلب رات ہے اور برأت کا مطلب رہائی یا آزادی ، شب برات جہنم کی آگ سے چھٹکارے ،گناہ بخشوانے کی رات ہے ، مسلمان اللہ تعالی کے حضورسجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں، ملک بھر میں مساجد کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا ہے، مسجد داتا دربار، بادشاہی مسجد اور دیگر مساجد کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا ہے اور عبادت کیلیے خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔نفلی عبادات کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر حاضری اور ان کے ایصال ثواب کیلیے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کا اہتمام کی جبکہ آج شب برات کے احترام میں روزہ بھی رکھا جائے گا۔

  • کنگ سلمان گیٹ، پاکستانی عازمین کے لیے ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز

    کنگ سلمان گیٹ، پاکستانی عازمین کے لیے ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز

    مکہ مکرمہ:(فارن ڈیسک )مکہ، سعودی عرب؛ لاکھوں پاکستانی مسلمانوں کے لیے خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا ہونے کا خواب عقیدت، جذبات اور زندگی بھر کی آرزو سے بھرپور ہوتا ہے، اب یہ مقدس سفر کنگ سلمان گیٹ کے ذریعے مزید آسان ہونے جا رہا ہے، جو ایک نمایاں ترقیاتی منصوبہ ہے اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین خصوصاً پاکستان سے عازمین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
    سال 2024ء میں 160,000 سے زائد پاکستانیوں نے حج ادا کیا جو کہ گزشتہ کئی برس کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ اسی طرح محرم 1444 ہجری کے عمرہ سیزن (30 جولائی 2022ء) کے دوران صرف اسی مدت میں پاکستان عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر رہا، جس میں 195,224 پاکستانی عمرہ زائرین شامل تھے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی معیار کے ایسے انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے جو بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ کی روحانی اور ثقافتی تقدس کو بھی برقرار رکھ سکے۔
    مکہ میں ایک نیا باب
    مسجد الحرام کے نزدیک واقع کنگ سلمان گیٹ ترقی کے ایک نئے دور کی عکاسی کرتا ہے جو جدید ڈیزائن، سہولت رسائی اور مہمان نوازی کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کے ورثے کا تقدس برقرار رکھتا ہے۔ یہ مقام ان خاندانوں، بزرگوں، نوجوانوں کے گروپس اور انفرادی مسافروں کا استقبال کرے گا جو ذہنی آرام، وقار اور سکون پر مبنی بہتر تجربے کے خواہاں ہیں۔
    کنگ سلمان گیٹ: تمام سیزنز کی منزل
    اکتوبر 2025 میں اعلان کیا گیا کہ کنگ سلمان گیٹ ہر سال مکہ مکرمہ آنے والے تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار پاکستانی عازمین کی آمد اور قیام کے تجربے کو بہتر بنائے گا۔ تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ مربع میٹر پر محیط تعمیر شدہ رقبے کے ساتھ، یہ منصوبہ عبادت، نقل و حرکت، مہمان نوازی اور روزمرہ سہولیات کو ایک منظم ماحول میں یکجا کرتا ہے۔
    یہ ترقیاتی منصوبہ مسجد الحرام کے براہ راست نظارے فراہم کرتا ہے اور نماز کے لیے تیار کی گئی وسیع جگہ پر مشتمل ہے، جہاں 9 لاکھ سے زائد عازمین کی گنجائش ہے، یہاں زائرین کو سکون، روحانی وابستگی اور سکون کے ماحول میں بیٹھنے، عبادت کرنے کے لیے جگہ میسر ہوگی۔
    پورے مقام میں نقل و حرکت کو آرام دہ اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے، مرکزی شاہراہوں تک رسائی، عوامی ٹرانسپورٹ اور سایہ دار پیدل راستوں سے جڑی ہوئی مربوط سفری سہولیات مسجد الحرام تک سہل اور آسان رسائی یقینی بناتی ہیں، یہ سہولیات دنیا بھر سے آنے والے خاندانوں، بزرگ عازمین اور بڑے گروپس کا احاطہ کرتی ہیں۔
    زائرین کو اعلیٰ اور پرتعیش رہائشی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی، جن کے ساتھ فور اور فائیو اسٹار ہوٹل بھی دستیاب ہوں گے جو خاندانی سفر، گروپ ٹورز اور طویل قیام کی ضروریات کو پورا کریں گے۔ ریٹیل اور کھانے پینے کی سہولت تقریباً دو لاکھ مربع میٹر پر محیط ہے، جہاں ضروری خدمات، فوڈ اینڈ بیوریج اور خریداری کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے۔
    یہ تمام سہولیات متحرک عوامی مقامات اور ثقافتی علاقوں سے مزین ہیں، جو سال بھر مختلف تقریبات کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور عازمین کے سفر کے دوران آرام کرنے، اجتماع اور عبادات کے لیے موزوں جگہیں موجود ہیں۔
    دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تعمیر
    کنگ سلمان گیٹ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انفرا اسٹرکچر سے کہیں زیادہ حیثیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ گنجائش میں اضافہ، رسائی میں بہتری اور ثقافتی تجربے کو یادگار بناتے ہوئے یقینی بناتا ہے تاکہ ہر عازم احترام، آرام اور ذہنی سکون کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض ادا کر سکے۔
    یہ اتحاد اور ترقی کی علامت ہے، جو مسلم دنیا کے دل کے طور پر مکہ مکرمہ کے کردار کی عکاسی کرتا ہے اور سعودی عرب کی ہر اس شخص کی خدمت کے عزم کی تصدیق کرتا ہے جو عقیدت کے ساتھ یہاں آتا ہے۔
    عازمین کے لیے ایک نئی پیش کش
    جیسے ہی کنگ سلمان گیٹ تیار ہوتا ہے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو مکہ مکرمہ کو ایک ایسی شکل میں دیکھنے کے لیے خوش آمدید کہا جائے گا جو پہلے سے کہیں زیادہ سہل اور قابل رسائی ہوگا۔
    آپ اپنا پہلا حج یا عمرہ کرنے جا رہے ہوں یا روحانی طور پر دوبارہ جڑنے کے لیے جا رہے ہوں، کنگ سلمان گیٹ آپ کو اس گرم جوشی، توجہ اور شان دار خدمات کے ساتھ خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے جس کے عازمین حق دار ہیں۔

  • یوٹیوبر رجب بٹ اور ندیم نانی والا نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

    یوٹیوبر رجب بٹ اور ندیم نانی والا نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

    اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)پاکستان کے معروف اور متنازع یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاکر ندیم نانی والا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔رجب بٹ اور ندیم نانی والا سائبر کرائم سمیت مختلف مقدمات میں نامزد ہیں اور ان پر بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔ دونوں سوشل میڈیا شخصیات نے عدالت میں الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں جن میں بیرونِ ملک سفر پر عائد رکاوٹ ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ درخواستیں بیرسٹر راجہ قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے توسط سے جمع کرائی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ انہیں بلا جواز سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا، جس کے باعث ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔درخواستوں میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، سیکریٹری داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے، جبکہ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فوری طور پر ان کے نام سفری پابندی کی فہرست سے خارج کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان درخواستوں پر سماعت متوقع ہے، جس کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ عدالت اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتی ہے اور آیا دونوں سوشل میڈیا اسٹارز کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت مل پائے گی یا نہیں۔

  • ایران  کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو بہت بُرا ہو گا، ٹرمپ

    ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو بہت بُرا ہو گا، ٹرمپ

    واشنگٹن:(فارن ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے اور اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو صورتحال انتہائی خراب ہو سکتی ہے۔صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنا ضروری ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام رہی تو بری چیزیں ہو سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسٹیو وٹکوف جمعہ کے روز ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے، جو مذاکرات میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ نے اپنی صنعتوں کے لیے اہم معدنیات کا اسٹریٹجک ذخیرہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ امریکی بینک 12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی سرحدوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے اور اب کوئی غیر قانونی طور پر ملک میں داخل نہیں ہو رہا۔عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے سرگرم ہے اور وہ اس حوالے سے اچھی خبروں کے لیے پُرامید ہیں۔

  • دہشت گردوں کا اصل ہتھیار!!

    دہشت گردوں کا اصل ہتھیار!!


    تحریر: بےنظیر مہدی رضوی
    بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ سرگرمیاں ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ جدید دور کی دہشت گردی صرف بندوق اور بارود تک محدود نہیں رہی۔ یہ ایک ایسی ہمہ جہت جنگ بن چکی ہے جس کا ہدف نہ صرف ریاستی ادارے اور امنِ عامہ ہیں بلکہ وہ معصوم ذہن بھی ہیں جو خوف، مایوسی اور گمراہ کن بیانیوں کے ذریعے آہستہ آہستہ یرغمال بنا لیے جاتے ہیں۔
    حالیہ دنوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں—جن میں کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی شامل ہیں—میں ہونے والی مربوط دہشت گردانہ کارروائیوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ حملے محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت کیے گئے۔ ان کا مقصد مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا، ترقیاتی عمل کو نقصان پہنچانا اور ریاستی رِٹ کو کمزور ظاہر کرنا تھا۔ گوادر اور خاران میں معصوم شہریوں کی شہادت اس تلخ حقیقت کی علامت ہے کہ دہشت گردی میں شہری و عسکری کی تمیز مٹ چکی ہے۔
    ان حالات میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فوری اور مؤثر ردعمل قابلِ ذکر رہا۔ طویل اور شدید کلیئرنس آپریشنز کے دوران درجنوں دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا، تاہم اس جدوجہد میں وطن کے پندرہ بہادر سپوت شہید ہوئے۔ یہ قربانیاں اس امر کی یاد دہانی ہیں کہ امن کی قیمت صرف بیانات سے نہیں بلکہ جانوں کے نذرانوں سے ادا کی جاتی ہے۔
    گزشتہ سال مارچ میں پیش آنے والا جعفر ایکسپریس کا واقعہ اس بدلتی ہوئی دہشت گردی کی نوعیت کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک عوامی ٹرین کو نشانہ بنانا اور مسافروں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا دراصل ایک نفسیاتی حملہ تھا، جس کا مقصد ریاست کی صلاحیت اور عوام کے اعتماد کو مجروح کرنا تھا۔ اگرچہ اس بحران پر قابو پا لیا گیا، مگر اس نے واضح کر دیا کہ دہشت گرد اب علامتی اور نفسیاتی اہداف کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔
    بلوچستان میں جاری تشدد کو صرف داخلی مسئلہ قرار دینا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ خطے میں جاری پراکسی وار، جس میں بیرونی عناصر بالواسطہ طور پر عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں، ایک تسلیم شدہ حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ یہ جنگ صرف مسلح گروہوں کے ذریعے نہیں لڑی جا رہی بلکہ اطلاعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور منفی بیانیوں کے ذریعے بھی آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
    دہشت گردی کا سب سے خطرناک پہلو یہی ہے کہ یہ نوجوانوں اور معصوم ذہنوں کو نشانہ بناتی ہے۔ محرومی، ناانصافی اور احساسِ بیگانگی کے بیانیے کو استعمال کر کے نوجوانوں کو یا تو براہِ راست تشدد کا حصہ بنایا جاتا ہے یا سہولت کاری، معلوماتی مدد اور خاموش حمایت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ جب ذہن مسخ ہو جائے تو ہتھیار اٹھانا محض اگلا قدم رہ جاتا ہے۔
    یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی کا ناسور مکمل طور پر ختم نہیں ہو پا رہا۔ عسکری کامیابیاں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر جب تک فکری، تعلیمی اور معلوماتی محاذ پر اس کا مؤثر توڑ نہیں کیا جاتا، پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ دراصل ذہنوں کی جنگ ہے، جہاں سچ، شعور اور قومی ہم آہنگی ہی اصل ہتھیار ہیں۔
    آج کی دنیا میں کسی بھی ریاست کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کو درست معلومات، اعتماد اور امید فراہم کرے۔ ذمہ دار میڈیا، مضبوط قومی بیانیہ اور نوجوانوں کی مثبت سمت میں رہنمائی ہی وہ عوامل ہیں جو اس جنگ کا فیصلہ کن رخ متعین کر سکتے ہیں۔ جب معصوم ذہن محفوظ ہوں گے، تب ہی بندوقیں خاموش ہوں گی، اور بلوچستان سمیت پورا خطہ حقیقی امن اور استحکام کی جانب بڑھ سکے گا۔

  • سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا انتیسواں کانووکیشن

    سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا انتیسواں کانووکیشن

    تعلیم کا مقصد کرپٹ نظام کا حصہ بننا نہیں بلکہ سچ کا ساتھ دینا ہے، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری
    طلبا چیلنجوں اور مواقع سے بھرے ایک نئے سفر کا آغاز کررہے ہیں،چانسلراکبر علی خان کا طلباء سے خطاب
    رواںسال مستحق طلباء کو 5 کروڑ روپے سے زیادہ کے وظائف دئیے گئے،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افضل حق
    پاکستان واچ نیوز
    سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا انتیسواں کانووکیشن روایتی جوش و جذبے سے منایا گیا جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی اعلیٰ علمی شخصیات کے علاوہ معززین، فیکلٹی و طلباء کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری تھے۔اس موقع پر 1095سے زائدطلباء و طالبات کو ڈگریاں تفویض کی گئیں اور امتیازی نمبروں سے اول، دوئم اور سوئم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبائ و طالبات میں بالترتیب طلائی، چاندی اور کانسی کے تمغے تقسیم کئے گئے۔ذاکر علی خان فاؤنڈیشن کی طرف سے فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبائ و طالبات کو یا تو لیپ ٹاپ یا پچاس ہزار کیشن پرائز دیا گیا۔
    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو حق اور سچ کے راستے پر چلانا ہے، نہ کہ کرپٹ نظام کا حصہ بننا۔ آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا دور ہے اور پاکستان کو ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورے ملک کو 65 فیصد ریونیو فراہم کرتا ہے، اس کے باوجود شہر بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ سر سید احمد خان ایک عظیم دانشور تھے جنہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ تعلیم اور ہنر کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ تحریکِ پاکستان میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ کا کردار قابلِ فخر رہا ہے۔
    گورنرکامران ٹیسوری نے بتایا کہ گورنر انیشی ایٹو کے تحت 50 ہزار بچے مفت آئی ٹی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جس پر فی طالب علم 9 لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے۔اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ سر سید یونیورسٹی کے طلبہ کو بھی مفت آئی ٹی کورسز میں شامل کیا جائے گا۔
    سرسید یونیورسٹی کے چانسلر، محمد اکبر علی خان، نے گریجویٹس کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیلنجوں اور مواقع سے بھرے ایک نئے سفر کا آغاز کررہے ہیں۔ انہوں نے ابھرتی ہوئی عالمی معیشت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علم نے اب انسانی سرمائے کو دولت کا بنیادی ذریعہ بنا دیا ہے اور قومی مسابقت اور سماجی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کو پہلے سے بڑھا دیا ہے۔
    چانسلر اکبر علی خان نے معیاری تعلیم کے لیے یونیورسٹی کے عزم اور طلبہ کے تجربات کو بڑھانے کے لیے ایک مضبوط کوالٹی اشورینس سسٹم کی اہمیت اجاگر کیا۔ انہوں نے ادارے کو درپیش مالی اور تعلیمی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے، خاص طور پر حکومتی فنڈنگ کی عدم موجودگی میں، سرسید یونیورسٹی کی ترقی اور اس کے بانیوں کی بصیرت انگیز قیادت پر فخر کا اظہار کیا۔ چانسلر اکبر علی خان نے بتایا کہ طلبائ کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے اعلیٰ تعلیم کا یہ ادارہ اس پختہ عزم کے ساتھ قائم کیا گیا ہے کہ سرسید یونیورسٹی کا کوئی بھی طالب علم مالی بحران یا فیسوں کی عدم ادائیگی کے باعث تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔

    وزیر برائے بورڈز و جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ سرسید یونیورسٹی نوجوانوں کا تعلیم سے آراستہ کرنے کا فرض بخوبی نبھا رہی ہے۔۔ اعلی تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں کی وجہ سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہوگا۔اس موقع پر انہوں نے اسکالر شپ میں اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
    وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر افضل حق نے سرسید یونیورسٹی کی ترقیاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی طرف سے اس سال پاس آؤٹ طلباء کو 1032 بیچلرز اور 63 ماسٹرز ڈگریاں دی جارہی ہیں جن میں 6 پی ایچ ڈی بھی شامل ہیں۔34 تعلیمی پروگراموں میں تقریباََ 8,000سے زائد طلبائ زیر تعلیم ہیں جو سرسید یونیورسٹی کی ترقی و کامیابی کی عکاسی ہے۔رواں سال سات نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی گئیں۔سرسید یونیورسٹی میں تحقیق کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے اوریہاں کا ماحول ریسرچ فرینڈلی ہے۔اس سال 1500 مستحق طلبائ کومالی معاونت کے ضمن میں 5 /کروڑ روپے سے زیادہ کے وظائف دئے گئے۔
    انہوں نے بتایا کہ موجودہ داخلہ سیزن میں تقریباً 2500 طلباء کو داخلہ دیاگیا جو سرسیدیونیورسٹی کے اعلیٰ معیار تعلیم کی دلیل اوروقار کی علامت ہے۔۔ ہم اپنی پوسٹ گریجویٹ پیشکشوں اور ملازمت پر مبنی کورسز کو بڑھانا جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے ہمارے مسلسل تعلیمی پروگرام کے ذریعے ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔اپنے آپ کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہم غیر ملکی یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور ان کے طرز تعلیم اور نصاب کا جائزہ لے رہے ہیں۔
    وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر افضل حق نے اس بات پر زور دیا کہ آئی ٹی اور انفراسٹرکچر میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، جس میں ایک نئی ویب سائٹ کی تشکیل اورایک بہتر انٹرنیٹ بینڈوتھ کی تنصیب شامل ہیں۔مستقبل کا ادراک کرتے ہوئے ایجوکیشن سٹی میں سرسید یونیورسٹی کی 200 ایکڑ اراضی میں ٹیکنالوجی پارک اور ایک نئے رہائشی کیمپس کی تعمیر کے لیے تیزی سے کام کیا جارہا ہے۔۔
    قبل ازیں اپنے خطبہ استقبالیہ میں رجسٹرار سید سرفراز علی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم اب معاشی ترقی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ آج کے معاشرے کو تعلیم کے علاوہ تکنیکی مہارتوں کی بھی ضرورت ہے جو تکنیکی طور پر آگے بڑھنے والی دنیا میں موثر کردار ادا کرے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں پیشرفت سے نمٹنے کے لیے آپ کو مستقل اپ ڈیٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
    اختتامِ تقریب پر سرسیدیونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے ترانہ علیگڑھ پیش کیا۔

    باکس1
    طلائی تمغہ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات
    FALL پروگرام میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر طلائی تمغہ حاصل کرنے والوں میں نرمین پرویز (بایومیڈیکل انجینئرنگ)، فاطمہ راشد (بایومیڈیکل سائنس)، صارم مشہود (کمپیوٹر انجینئرنگ)، عماد الدین علی خان (الیکٹریکل انجینئرنگ)، مبشر شیخ (الیکٹرانک انجینئرنگ)، مروہ مسرور (بائیوٹیکنالوجی)، مہوش خان (کمپیوٹر سائنس)،شیزا انور شیخ (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، اْزبہ نسیم (سافٹ ویئر انجینئرنگ)، حسن عبداللہ (سول انجینئرنگ)، ماہر (سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، حسین ایزی (آرکیٹیکچر)، آمنہ جمال (بی بی اے)، محمد عدیل خان (الیکٹرانک انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد ایان ندیم (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، سید اذہان رضا (ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ)، ربیعہ سلمان (موبائل کمیونیکیشن اینڈ سیکوریٹی)، جواد احمد (ریاضی) اور اسپرنگ پروگرام کی ثانیہ توقیر (بایومیڈیکل سائنس)، کنزہ حسین (بی بی اے)، زبیر خان (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی) شامل ہیں۔
    باکس2
    چاندی کاتمغہ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات
    FALL پروگرام میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے پر چاندی کا تمغہ حاصل کرنے والوں میں ماہ نور (بائیومیڈیکل انجینئرنگ)، عائشہ (بائیومیڈیکل سائنس)، مرزا محمد عمار (کمپیوٹر انجینئرنگ)، محمد عباد (الیکٹریکل انجینئرنگ)، محمد عبید الرحمان (الیکٹرانک انجینئرنگ)، عائشہ فیصل (بائیو ٹیکنالوجی)، سیدہ آمنہ رضوی (کمپیوٹر سائنس)، محمد موحد (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، آصف حسین (سافٹ ویئر انجینئرنگ)، فیضان خان (سول انجینئرنگ)، سید محمد رمیز (سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد فرحان (آرکیٹیکچر)، یشرا خان (بی بی اے)، سید حمزہ بن عابد (الیکٹرانک انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد عباد بصیر (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، ایمن (ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ)، نادرہ (موبائل کمیونیکیشن ایند سیکوریٹی) اور اسپرنگ پروگرام کے حفصہ عبداللہ (بائیومیڈیکل سائنس)، لائبہ حسن (بی بی اے)، محمد اویس نادر (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی) شامل ہیں۔
    باکس 3
    کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والے طلبا و طالبات
    FALL پروگرام میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والوں میں محمدرافع (بائیو میڈیکل انجینئرنگ)، محمد طحہٰ (کمپیوٹر انجینئرنگ)، اریب (الیکٹریکل انجینئرنگ)، عواب نعیم (الیکٹرانک انجینئرنگ)، سیدہ زینب راشد (بائیو ٹیکنالوجی)، سمیت سلیم (کمپیوٹر سائنس)، عرشیہ احمد (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، سمیر احمد (سافٹ ویئر انجینئرنگ)، ازکا عاصم (سول انجینئرنگ)، شیخ حسن احمد (سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، محمد یعقوب (آرکیٹیکچر)، صبا ناگری (بی بی اے)، امیر حنظلہ (الیکٹرانک انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، حافظ فدا الشراف شامی (الیکٹریکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی)، سید محمد جواد حیدر (موبائل کمیونیکیشن اینڈ سیکیورٹی) اور اسپرنگ پروگرام کے سیدہ وجیہہ کاظمی
    (بایومیڈیکل سائنس)، سید حسن علی (بی بی اے)، محمد اسامہ (الیکٹرکل انجینئرنگ ٹیکنالوجی) شامل ہیں۔

  • عمان کے سالانہ  فیسٹیول مسقط نائٹس  میں  “محفل قوالی ” کا انعقاد

    عمان کے سالانہ فیسٹیول مسقط نائٹس میں “محفل قوالی ” کا انعقاد

    پاکستان سوشل کلب عمان اور سفارت خانہ پاکستان کے باہمی اشتراک سے شاندار تقریب، عوام کی زبردست پذیرائی
    خصوصی رپورٹ
    پاکستان سوشل کلب عمان نے سفارت خانہ پاکستان کے باہمی اشتراک سے مسقط نائٹس فیسٹیول کے اوپن تھیٹر میں ایک روح پرور قوالی نائٹ کا کامیابی سے انعقاد کیا، جو مسقط نائٹس کے سرکاری ثقافتی پروگراموں کا حصہ تھا۔اس شاندار تقریب کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اور 4,000 سے زائد افراد نے شرکت کی، جس کے باعث یہ پروگرام مسقط نائٹس کی تاریخ کے یادگار اور سب سے زیادہ شرکت والے ثقافتی پروگراموں میں شمار کیا گیا۔ یہ شام روحانی اور ثقافتی اعتبار سے نہایت مسحور کن رہی، جس میں ممتاز قوال استاد فرید ایازاور ابو محمد نے اپنے بھائیوں کے ہمراہ کلاسیکی قوالی کی دل موہ لینے والی روح پرور محفل سجائی اور حاضرین کو مسحور کر دیا۔
    قوالی صدیوں سے ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ رہی ہے اور اس محفل نے عقیدت، ہم آہنگی اور ثقافتی فخر سے ایک بھرپور فضا قائم کی۔ پروگرام کا آغازرات آٹھ بجے ہوا اور رات ساڑھے دس بجے اختتام ہوااس دوران سامعین کی جانب سے مسلسل داد و تحسین اس تقریب کی بھرپور کامیابی کا واضح ثبوت تھی۔
    پاکستان سوشل کلب عمان، مسقط نائٹس کی انتظامیہ بالخصوص ڈاکٹر انجینئر ناصر سالم السعدی اور ان کی معزز ٹیم کا دلی شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے عمان کے سب سے بڑے ثقافتی میلے میں پاکستان کی روحانی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے یہ موقع فراہم کیا۔ ان کا تعاون، پیشہ ورانہ انداز اور بھرپور معاونت اس تقریب کی کامیابی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
    اس عظیم الشان تقریب کی کامیابی پاکستان سوشل کلب عمان کی قیادت اور ٹیم کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے، جن میں محمد ندیم عظیمی – چیئرمین، زاہد شکور – وائس چیئرمین، عمران طور – فنانس ڈائریکٹر، کاشف احمد زعیم – جنرل سیکریٹری، محمد کلیم اختر – جوائنٹ سیکریٹری،
    محترمہ عذرا علیم – میڈیا ڈائریکٹر
    اور سید شاندار علی شاہ بخاری – ڈائریکٹر فلاح و بہبود شامل ہیں، جبکہ دیگر رضاکاروں نے بھی بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا۔ سفارت خانہ? پاکستان کی موجودگی اور معاونت نے اس پروگرام کے وقار میں اضافہ کیا۔
    خصوصی طوپر پر سید فیاض علی شاہ اس پروگرام کے انعقاد اور انتظامات کے لیے غیر معمولی کوششیں اور مسقط نائٹس کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ تقریب میں شرکت نے پروگرام کی کامیابی کو چار چاند لگا دیے۔
    پاکستان سوشل کلب عمان اپنے تمام معزز کرم فرماؤں کے مالی و اخلاقی تعاون کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے، اس تاریخ ساز تقریب میں ان کی شمولیت سلطنتِ عمان میں علمی،ادبی ثقافتی سرگرمیوں کی کامیابی کا مظہر ہے۔
    حسینہ جیولرز (میگا اسپانسر)، فرینڈی موبائل پے ایپ (برانز اسپانسر)، روی ریسٹورنٹ، پیزا موڈو، رائل تکہ، اور میاں ریاض اینڈ پارٹنر۔ کا محفل قوالی کی یہ عظیم الشان تقریب شام مسقط نائٹس کی تاریخ میں ایک تاریخی اور یادگار ثقافتی تقریب کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، جس نے روحانیت، کے ساتھ ساتھ باہمی اتحاد اور پاکستان کی تہذیبی و ثقافتی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عمان میں مختلف کمیونٹیز کے درمیان ثقافتی روابط کو مزید مضبوط کیا۔