Blog

  • پاکستان کی دفاعی صنعت نے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوالیا….شیخ راشد عالم

    پاکستان کی دفاعی صنعت نے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوالیا….شیخ راشد عالم

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی عالمی دفاعی نمائش 2026 میں پاکستان کی دفاعی صنعت نے بھرپور شرکت کے ذریعے عالمی برادری میں اپنی صلاحیتوں، خود کفالت اور جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور اظہار کیا۔ اس ایونٹ میں 80 سے زائد ممالک نے شرکت کی عالمی ایونٹ میں پاکستان کے جدید دفاعی سازوسامان، بالخصوص فتح 2 میزائل، لڑاکا طیاروں اور دیگر دفاعی نظاموں نے بین الاقوامی ماہرین، دفاعی تجزیہ کاروں اور غیر ملکی وفود کی غیر معمولی توجہ حاصل کی۔
    نمائش کے دوران پاکستان کی شرکت کو نہ صرف ایک دفاعی نمائش بلکہ قومی وقار، تکنیکی خود اعتمادی اور عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی دفاعی قوت کے طور پر دیکھا گیا۔ عالمی دفاعی نمائش میں یہ بات واضح ہو گئی کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اب محض ملکی ضروریات تک محدود نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی دفاعی منڈی میں ایک مضبوط، قابلِ اعتماد اور مؤثر شراکت دار کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکی ہے۔
    نمائش میں شرکت کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے مختلف بین الاقوامی فورمز اور دفاعی سیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں دفاعی میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور آج دنیا کے کئی ممالک پاکستان کے لڑاکا طیاروں، میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی سازوسامان کے حصول میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت کا دائرہ کار مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے، جو نہ صرف ملکی سلامتی کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
    نمائش کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کی سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات بھی ہوئی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خواجہ آصف نے عالمی دفاعی نمائش کے شاندار انعقاد پر سعودی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے عالمی ایونٹس خطے میں دفاعی تعاون، استحکام اور اعتماد سازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    عالمی دفاعی نمائش میں پاکستان کی جانب سے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا، پاکستان آرڈیننس فیکٹری اور دیگر دفاعی اداروں نے شرکت کی۔ ان اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے جدید دفاعی نظام، ہتھیار، ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی کے منصوبوں نے پاکستان کی دفاعی خود کفالت کی عملی تصویر پیش کی۔
    نمائش کے دوران پاکستان کے فتح 2 میزائل کو خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی، جسے پاکستان کی دفاعی لائن کو مضبوط بنانے والی ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ عالمی دفاعی ماہرین نے اس میزائل کی تکنیکی صلاحیتوں، درستگی اور جدید فیچرز کو سراہا۔ فتح 2 میزائل سمیت دیگر دفاعی سازوسامان نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان دفاعی میدان میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور مستقبل کی جنگی ضروریات کے لیے تیار ہے۔
    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی نمائش کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی معاہدوں اور مشترکہ اقدامات نے خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا ہے، جو مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔
    نمائش میںدفاعی ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اب جدید ٹیکنالوجی، مقامی پیداوار اور برآمدی صلاحیت کے امتزاج کے ساتھ ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے دفاعی نظام اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک نے محدود وسائل کے باوجود تحقیق، جدت اور قومی عزم کے ذریعے دفاعی میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی دفاعی نمائش 2026 میں پاکستان کی مؤثر موجودگی نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا بلکہ دفاعی برآمدات کے نئے امکانات بھی پیدا کیے ہیں۔ کئی ممالک کی جانب سے پاکستانی دفاعی مصنوعات میں دلچسپی مستقبل میں دفاعی تعاون، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
    نمائش میں یہ بات بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی کہ پاکستان کی دفاعی صنعت ملکی سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دفاعی برآمدات میں اضافہ، عالمی مارکیٹ تک رسائی اور بین الاقوامی شراکت داری پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا بن سکتی ہے۔
    عالمی دفاعی نمائش 2026 کے کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دفاعی میدان میں ایک ذمہ دار، پْرامن مگر مضبوط ملک کے طور پر عالمی برادری میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت کی ترقی نہ صرف قومی سلامتی کی ضامن ہے بلکہ یہ مستقبل میں خطے اور دنیا میں پاکستان کے مؤثر کردار کی بنیاد بھی بن رہی ہے۔

  • پاکستان میں سونے کے  ذخائر میں اضافہ،اسٹیٹ  بینک کے اعداد وشمار جاری

    پاکستان میں سونے کے ذخائر میں اضافہ،اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار جاری

    خصوصی رپورٹ
    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سونے کے ذخائر کی مجموعی مالیت بڑھ کر 10.374 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر، عالمی منڈی میں قیمتوں کے رجحانات اور ملکی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بھی ایک جامع تجزیے کی متقاضی ہے۔
    اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت 64.76 ٹن سونا موجود ہے، جو وزن کے اعتبار سے تقریباً 20 لاکھ 82 ہزار اونس اور 55 لاکھ 52 ہزار تولے بنتا ہے۔ صرف جنوری 2026 کے دوران ان ذخائر کی مالیت میں 1.279 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں مجموعی اضافہ 3.5 ارب ڈالر رہا۔ جون 2025 میں یہی مالیت 6.84 ارب ڈالر تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ چند ماہ کے اندر اندر عالمی قیمتوں میں اضافے نے ان ذخائر کی قدر میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔
    عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کا کردار
    سونے کے ذخائر کی مالیت میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کا بڑھنا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی، جغرافیائی کشیدگی، مہنگائی کے دباؤ اور بڑی معیشتوں کی مالیاتی پالیسیوں نے سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثوں کی جانب مائل کیا۔ سونا تاریخی طور پر ایک “محفوظ پناہ گاہ” (Safe Haven Asset) سمجھا جاتا ہے۔ جب عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار ڈالر، بانڈز یا اسٹاک مارکیٹ کے بجائے سونے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
    پاکستان چونکہ اپنے سونے کے ذخائر کو عالمی قیمتوں کے مطابق مارکیٹ ویلیو پر ظاہر کرتا ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر مجموعی مالیت پر پڑتا ہے، چاہے ذخائر کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہ بھی ہو۔
    زرمبادلہ کے ذخائر پر اثرات
    اگرچہ سونا براہ راست نقد زرمبادلہ نہیں ہوتا، لیکن اسے مجموعی بین الاقوامی ذخائر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے اس کے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر مالیاتی استحکام کا بنیادی اشاریہ ہوتے ہیں۔ سونے کے ذخائر کی مالیت میں اضافہ ملک کے مجموعی ریزروز کی پوزیشن کو مضبوط ظاہر کرتا ہے، جس سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔
    یہ بات اہم ہے کہ سونا فوری ادائیگیوں کے لیے نقدی کا متبادل نہیں ہوتا، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے عالمی منڈی میں فروخت یا بطور ضمانت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے سونے کے ذخائر میں اضافہ ایک حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کرتا ہے۔

    مالی سال کے ابتدائی سات ماہ کا رجحان
    رواں مالی سال کے ابتدائی سات مہینوں میں 3.5 ارب ڈالر کا اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان مسلسل رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو سال کے اختتام تک سونے کے ذخائر کی مالیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
    تاہم اس میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اضافہ بنیادی طور پر قیمتوں کے باعث ہے، نہ کہ مقدار میں اضافے کے سبب۔ اگر ملک نے سونے کی خریداری میں اضافہ کیا ہوتا تو اس کا مطلب فعال ذخیرہ جاتی حکمت عملی ہوتی، لیکن موجودہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزن تقریباً مستحکم ہے۔
    معاشی استحکام اور کرنسی پر اثرات
    سونے کے ذخائر میں مالیت کے اضافے کو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کرنسی پر دباؤ ہو یا بیرونی ادائیگیوں کا بوجھ زیادہ ہو۔ مضبوط ذخائر مقامی کرنسی کے استحکام میں بالواسطہ کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ مارکیٹ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ملک کے پاس بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کی گنجائش موجود ہے۔
    مزید برآں، عالمی ریٹنگ ایجنسیاں اور مالیاتی ادارے کسی بھی ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کا جائزہ لیتے وقت اس کے مجموعی ذخائر کو مدنظر رکھتے ہیں۔ سونے کے ذخائر کی قدر میں اضافہ مالیاتی اشاریوں کو بہتر بنا سکتا ہے، جو قرضوں کی لاگت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
    خطرات اور چیلنجز
    اگرچہ موجودہ صورتحال مثبت دکھائی دیتی ہے، لیکن اس میں کچھ خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔ سونے کی قیمتیں عالمی حالات کے تابع ہوتی ہیں اور ان میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے۔ اگر عالمی معیشت مستحکم ہو جائے، شرح سود میں کمی آئے یا سرمایہ کار دیگر منافع بخش اثاثوں کی جانب منتقل ہوں تو سونے کی قیمتوں میں کمی بھی آ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں موجودہ مالیت کم ہو سکتی ہے۔
    اس لیے صرف قیمتوں کے اضافے پر انحصار کو پائیدار معاشی بہتری نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل استحکام تب حاصل ہوتا ہے جب برآمدات، بیرونی سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو۔
    سونے کی ذخیرہ جاتی حکمت عملی
    عالمی سطح پر مرکزی بینک اپنے ذخائر میں تنوع (Diversification) کی حکمت عملی اپناتے ہیں۔ ڈالر، یورو، بانڈز اور سونے کا متوازن امتزاج مالیاتی خطرات کو کم کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی ذخیرہ جاتی پالیسی کو عالمی رجحانات کے مطابق ترتیب دے۔
    گزشتہ چند برسوں میں کئی ممالک، خصوصاً ابھرتی ہوئی معیشتوں نے اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا ہے تاکہ وہ ڈالر پر انحصار کم کر سکیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے موجودہ ذخائر کا حجم معتدل ہے، تاہم مستقبل میں قیمتوں اور معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے مزید حکمت عملی وضع کی جا سکتی ہے۔
    تاریخی تناظر
    جون 2025 میں ذخائر کی مالیت 6.84 ارب ڈالر تھی، جبکہ اب یہ 10.374 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس نمایاں اضافے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافہ غیر معمولی رہا ہے۔ اگر اسی مدت میں عالمی قیمتوں کا گراف دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سونا کئی تاریخی سطحوں کو عبور کر چکا ہے۔
    یہ اضافہ محض عددی بہتری نہیں بلکہ مالیاتی بیانیے میں بھی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محفوظ اثاثوں کی طلب میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے، جس کا فائدہ پاکستان جیسے ممالک کو بھی ہوا ہے۔
    مستقبل کا لائحہ عمل
    آنے والے مہینوں میں عالمی معاشی حالات، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود کی پالیسی، جغرافیائی کشیدگی اور عالمی افراط زر سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوں گے۔ اگر قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو پاکستان کے ذخائر کی مالیت میں بھی اضافہ ہوگا، لیکن اگر کمی آتی ہے تو موجودہ مالیت میں کمی ممکن ہے۔
    لہٰذا پالیسی سازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس اضافے کو عارضی فائدہ سمجھتے ہوئے طویل المدتی معاشی اصلاحات پر توجہ دیں۔ برآمدات میں اضافہ، صنعتی پیداوار کی بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط ہی وہ عوامل ہیں جو حقیقی اور پائیدار استحکام فراہم کر سکتے ہیں۔
    سونے کے ذخائر کی مالیت کا 10.374 ارب ڈالر تک پہنچ جانا ایک مثبت معاشی پیش رفت ہے۔ یہ اضافہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے رجحان کا نتیجہ ہے اور اس نے ملک کے مجموعی بین الاقوامی ذخائر کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ اضافہ بنیادی طور پر قیمتوں کی وجہ سے ہے، نہ کہ مقدار میں اضافے کے باعث۔
    مستقبل میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ذخائر کے اس استحکام کو ایک حفاظتی سہارا سمجھا جائے اور ساتھ ہی برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کو فروغ دیا جائے۔ اسی متوازن حکمت عملی کے ذریعے ملکی معیشت کو طویل المدتی استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

  • پشین میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشتگرد ہلاک

    پشین میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ (پاکستان واچ نیوز)بلوچستان کے ضلع پشین میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک خودکش بمبار خوارجی نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی، فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جہاں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔آپریشن کے دوران خوارج کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ ہلاک خوارج علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلئیرنس آپریشن جاری ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وژن ’’عزم استحکام‘‘ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع پشین میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کی عکاسی ہے۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی پشین میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے 5 دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ قوم کو سیکیورٹی فورسز کی جرات اور پیشہ وارانہ مہارت پر فخر ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بہادر سپوتوں نے بروقت کارروائی کرکے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ بلوچستان میں قیام امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں لائق تحسین ہیں۔

  • تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے،صدر زرداری

    تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے،صدر زرداری

    اسلام آ باد(پاکستان واچ نیوز)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کیلئے برداشت اپنی حد کو پہنچ چکی، تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔اپنے بیان میں صدر مملکت کا کہنا تھاکہ سرحد پار دہشت گردی کیلئے برداشت اپنی حد کو پہنچ چکی ہے، پاکستان دفاع کے فطری حق کے تحت اقدامات کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انتباہات کے باوجود دہشت گرد گروہوں کو مسلسل جگہ ملتی رہی، افغانستان میں حالات پچھلے دور سے بھی زیادہ تشویشناک اورغیریقینی ہوچکے ہیں اور دوحہ معاہدے کے وعدوں کے برعکس دہشت گرد عناصر کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ نے متعدد گروہوں کی افغانستان میں سرگرم موجودگی کی تصدیق کی، رپورٹ کے مطابق داعش خراسان اور کالعدم ٹی ٹی پی سمیت کئی تنظیمیں افغان سرزمین استعمال کررہی ہیں۔صدرمملکت کا کہنا تھاکہ افسوس کہ افغان حکام نے انتباہات کے باوجود کوئی قابلِ اعتبار اقدام نہیں کیا، پاکستان نے طویل عرصہ تحمل دکھایا اور کارروائیاں محدود علاقوں تک رکھیں، تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن،استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، امن صرف تب ممکن ہے جب دہشت گردی کےخلاف عملی اورسنجیدہ اقدامات ہوں، پاکستانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، آصف زرداری کا کہنا تھاکہ افغانستان میں طالبان رجیم نے نائن الیون سے پہلے جیسی یا اس سے بھی بدترصورتحال پیدا کردی ہے، داعش خراسان، ٹی ٹی پی،القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ افغانستان سے آپریٹ کررہی ہیں، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ شب پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر جوابی کارروائی کی اور تین صوبوں ننگرہار، پکتیکا اورخوست میں فتنہ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو نشانہ بنایا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہاکہ اطلاعات کے مطابق 70 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، زیادہ تر ہلاک دہشت گرد پاکستانی تھے۔

  • سانحہ گل پلازہ، دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھےکہ آ گ بھڑک اٹھی ،ایس ایس پی ٹریفک

    سانحہ گل پلازہ، دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھےکہ آ گ بھڑک اٹھی ،ایس ایس پی ٹریفک

    کراچی (پاکستان واچ نیوز)ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے بنے کمیشن کو بیان میں بتایا کہ ہم نے بچوں کو بلایا اور بیانات لیے، انہوں نے بتایا وہ ماچس سے کھیل رہے تھے کہ اسی دوران آگ بھڑک اٹھی۔ایس ایس پی سٹی ٹریفک اعجاز شیخ سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ گل پلازہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ جب وہاں پہنچا تو دیکھامین روڈ والی سائیڈ پر آگ بڑی شدت سے لگی ہوئی تھی، آگ کے بارے میں بتایا گیا کہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، ڈی سی آفس والی سائیڈ سے آگ زیادہ نہیں تھی لوگ وہاں سے سامان نکال رہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ تین سائیڈ سے پولیس کی نفری لگا کر لوگوں کو روکا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے تینوں سائیڈز کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اعجاز شیخ کا کہنا تھا بتایا گیا کہ دو بچے ماچس سے کھیل رہے تھے، ہم نے بچوں کو بلایا اور ان کے بیانات لیے، انہوں نے بتایا کہ وہ کھیل رہے تھے، یہ چیزین انکوائری کا حصہ ہیں۔ایس ایس پی سٹی نے کمیشن کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ بچوں کا ماچس سے کھیلنا اور آگ پکڑنے والی اشیا ہیں، وہاں بلینکٹ، کپڑے، پھول تھے جو ٹشو سے بنتے ہیں، اسپرے وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔کمیشن نے کہا بیسمنٹ کی سی سی ٹی وی ہم سے شئیر کریں، ہمیں بتایا گیا آگ سے پہلے دھواں پھیلا اور پھر آگ؟ جس پر اعجاز شیخ کا کہنا تھا پلازہ کے 17 دروازوں میں سے 4 کھلے ہوئے تھے، دروازے کھولنا ایسوسی ایشن کا کام تھا وہ دکانوں سے پیسے لیتے ہیں، چوکیدار رکھے ہوئے ہیں، ایسوسی ایشن والے سب سے پہلے چوکیداروں کو کہتے کہ دروازے کھولیں۔ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا تھا میرا کام لوگوں کو ریسکیو کام کے راستے سے دور رکھنا تھا، اندر کتنے لوگ ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں تھا، دروازے کھولنے کا کسی نے نہیں کہا، یہ ایسوسی ایشن کی ذمے داری تھی، عام دنوں میں 10 بجے گل پلازہ کے دروازے بند کر دیتے ہیں، رمضان یا عید کی وجہ سے ٹائم بڑھایا ہوا تھا، ایسوسی ایشن کو انتظامات کرنے چاہیے تھے۔ان کا کہنا تھا ریسکیو میں کوئی مسائل نہیں ہوئے، ریسکیو کے کام میں لوگوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ایک ماہ پہلے گرین لائن کا کام شروع ہوا، گل پلازہ کی ایک طرف روڈ 12 فٹ اور دوسری طرف 15 فٹ ہے، ہمارے پاس شہر بھر میں 5200 کی نفری ہے، جب واقعہ پیش آیا تو مختلف جگہوں پر ہماری نفری موجود تھی۔

  • پنجاب میں مفت میت منتقلی سروس کے آغاز کا فیصلہ

    پنجاب میں مفت میت منتقلی سروس کے آغاز کا فیصلہ

    لاہور :(پاکستان واچ نیوز) پنجاب میں پہلی مرتبہ مفت میت منتقلی سروس کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں میت کو اسپتال سے گھر پہنچانے کیلئے مفت ایمبولینس سروس فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کے بڑے سرکاری اسپتالوں اور ہر تحصیل میں سرکاری وہیکل سروس شروع کرنے کے لیے پلان طلب کر لیا اور کہا کہ پنجاب کی ہر تحصیل میں اسپتال سے گھر میت لے جانے کیلئے کم از کم ایک وین میسر ہوگی۔مرحوم کے اہل خانہ 1122پر کال کر کے یا اسپتال کاؤنٹر سے مفت وین سروس لے سکیں گے، میت منتقلی سروس کی اسمارٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ میت کو اسپتال سے دوسرے شہر لے جانے کی سہولت بھی مفت دی جائے گی۔مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں پرائیویٹ ایمبولینس سروس کو بھی ریگولائزکرنے پر اتفاق کیا گیا اور پرائیویٹ ایمبولینس سروسز کے ریٹ بھی مقرر کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔

  • پاکستانی اسپنر عثمان طارق نے اپنے منفرد ایکشن کی اہم وجہ بتا دی

    پاکستانی اسپنر عثمان طارق نے اپنے منفرد ایکشن کی اہم وجہ بتا دی

    کراچی (پاکستان واچ نیوز)پاکستانی اسپنر عثمان طارق نے ٹینس بال کرکٹ کو اپنے منفرد ایکشن کی وجہ قرار دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں عثمان طارق اپنی منفرد بولنگ ایکشن کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، پاکستانی اسپنر کے غیر روایتی انداز نے نہ صرف شائقین بلکہ کرکٹ کے ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔عالمی کپ کے ابتدائی میچز میں 8 وکٹیں حاصل کرکے انھوں نے ثابت کیا کہ ان کی انوکھی تکنیک محض دکھاوا نہیں بلکہ مؤثر ہتھیار بھی ہے۔منفرد اسٹائل میں بولنگ کے حوالے سے عثمان طارق کا کہنا تھا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بولنگ ایکشن کو اس قدر توجہ ملے گی۔میڈیا سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ میں ہر لمحے سے لطف اندوز ہو رہا اور ٹیم کی کامیابی میں کردار ادا کرنے پر خوش ہوں۔
    عثمان طارق نے کہا کہ کمنٹیٹرز اور سابق کرکٹرز کی جانب سے ملنے والی تعریف ان کے لیے اعزاز اور وہ مزید بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔منفرد ایکشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹینس بال کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کے دوران یہ انداز اپنایا، بولنگ کو سلو موشن میں دیکھا جائے تو ٹائمنگ مکمل طور پر درست نظر آتی ہے، بس رفتار میں معمولی فرق ہوتا ہے۔سپر ایٹ مرحلے کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے عثمان طارق نے کہا کہ پاکستانی اسپنرز نے واضح حکمت عملی تیار کر رکھی ہے، اگر وکٹ سے اسپنرز کو مدد ملی تو اپنی منصوبہ بندی پر بہتر انداز میں عمل درآمد کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہر میچ ایک نیا امتحان ہوتا اور ٹیم کی پوری توجہ اگلے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔عثمان طارق نے اپنے مخصوص ہیڈ بینڈ کے بارے میں بھی بتایا کہ بولنگ کے دوران بال اکثر آنکھوں کے سامنے آجاتی تھی جس سے توجہ متاثر ہوتی تھی، اس لیے انہوں نے ہیڈ بینڈ پہننا شروع کیا، شائقین کی جانب سے اس انداز کو سراہا جا رہا ہے تو وہ اسے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  • امریکا میں ممکنہ بدترین طوفان، دو کروڑ سے زائد لوگوں کے متاثرہونے کا خدشہ

    امریکا میں ممکنہ بدترین طوفان، دو کروڑ سے زائد لوگوں کے متاثرہونے کا خدشہ

    واشنگٹن:(پاکستان واچ نیوز)شمال مشرقی امریکہ کے لاکھوں شہری شدید الرٹ کے تحت ہیں کیونکہ ایک طاقتور بم سائیکلون پورے I-95 کوریڈور میں 18 سے 24 انچ تک برف باری کرنے کے لیے تیار ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق اس برفیلے ہواؤں کی رفتار 70 میل فی گھنٹہ تک پہنچنے کا خدشہ ہے اور طوفان کی شدت کی وجہ سے دو کروڑ سے زائد انسانی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہے۔اس طوفان نے پہلے ہی فضائی ٹریفک کو تہس نہس کر دیا ہے، 6 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو گئیں ہیں جبکہ سیکڑوں پروزایں تاخیر کا شکار ہیں، مجموعی طور پر اب تک 7 ہزار پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں نیویارک، بوسٹن، نیو جرسی، فلاڈیلفیا، بالٹی مور اور واشنگٹن ڈی سی کے ایئرپورٹس شامل ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق 6 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔نیو یارک، بوسٹن اور فلاڈیلفیا میں برفباری 18 تا 24 انچ تک متوقع ہے، جبکہ واشنگٹن ڈی سی اور بالٹیمور میں 5 تا 8 انچ کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ جرسے شور میں 2 فٹ سے زائد برف باری کی توقع ہے۔طوفان سے متاثرہ ساحلی علاقے 600 میل سے زیادہ پھیلے ہیں اور 29 ملین سے زائد امریکی شدید وارننگ کے تحت ہیں۔ ہزاروں پروازیں منسوخ اور زمینی و فضائی سفر بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے۔یہ تاریخی طوفان شمال مشرقی ساحل پر زندگی کو تقریباً مفلوج کرنے والا ہے، اور شہریوں کو سخت احتیاط کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ طوفان ناقابل فراموش ہو سکتا ہے، اور پوری دنیا کی نظریں اس کی تازہ ترین صورتحال پر مرکوز ہیں۔

  • زمین خدا نے  دی ہے، پورے خطے پر قبضہ اسرائیل کا حق ہے، امریکی سفیر

    زمین خدا نے دی ہے، پورے خطے پر قبضہ اسرائیل کا حق ہے، امریکی سفیر

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل مشرق وسطیٰ کے وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ بات انہوں نے امریکی تجزیہ کار ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک پروگرام میں کہی، جہاں کارلسن نے انہیں اسرائیل کے ممکنہ جغرافیائی حدود کے بارے میں سوالات کے لیے دباؤ ڈالا تو انہوں نے بائبل کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے اور پورے خطے پر قبضہ کرنا اسرائیل کا حق ہے، اسرائیل کا دریائے نیل سے نہر فرات تک کے علاقوں پر قبضہ کرنا ٹھیک ہوگا۔ماہرین کے مطابق دریائے نیل سے دریائے فرات تک کا تصور بنیادی طور پر گریٹر اسرائیل کے شدت پسند نظریے سے جڑا ہوا ہےجو لبنان سے لے کر سعودی عرب کے صحراؤں اور بحیرہ روم سے عراق کے نہر فرات تک کے خطے پر مشتمل ہے۔یاد رہے کہ مائیک ہکابی کو گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل میں امریکا کا سفیر مقرر کیا تھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمین کو نام نہاد ’ریاستی اراضی‘ قرار دینے کے اسرائیلی اقدام پر دنیا بھر کے تقریباً 100 ممالک اور تین بڑے عالمی و علاقائی بلاکس نے سخت ردعمل دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمین کو ریاستی ملکیت قرار دینے سے متعلق اپنا نیا اقدام واپس لے، جسے انہوں نے “غیر قانونی” اور خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث قرار دیا ہے۔

  • سالانہ 60 ارب کی گیس چوری ہوتی ہے ، سوئی گیس حکام کا اعتراف

    سالانہ 60 ارب کی گیس چوری ہوتی ہے ، سوئی گیس حکام کا اعتراف

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)سوئی گیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں سالانہ 60 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے جس میں 30 ارب سوئی ناردرن اور 30 ارب سوئی سدرن سے چوری ہوتی ہے اوگرا کی حد تک نقصانات کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جاتا ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس معنقد ہوا۔ اجلاس میں گیس کے معاملات پر بات ہوئی۔سوئی گیس حکام نے انکشاف کیا کہ سوئی ناردرن کا گیس چوری اور نقصانات سے 30 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ایم این اے گل اصغر خان نے کہا کہ گیس کی چوری کے نقصان کے 30 ارب روپے صارفین پر ڈالے جاتے ہیں، صنعتی صارفین گیس چوری کرتے ہیں اور اسے گھریلو صارفین سے وصول کیا جاتا ہے۔ سوئی گیس حکام نے کہا کہ اوگرا کی مقررہ حد تک نقصانات صرف صارفین پر ڈالتے ہیں، ترقیاتی یافتہ ممالک میں بھی گیس سیکٹر میں یو ایف جی 6 فیصد تک ہوتی ہے جب کہ سوئی سدرن کا گیس چوری کا معاملہ 10 فیصد سے زائد ہے، سوئی سدرن سے 30 بی سی ایف گیس چوری ہورہی ہے، سوئی سدرن سے بھی سالانہ 30 ارب روپے کی گیس چوری اور نقصانات ہورہے ہیں۔اجلاس میں قائمہ کمیٹی میں پٹرولیم کمپنیوں کے انرجی ٹریننگ فنڈز کا معاملہ زیر بحث آیا۔سید نوید قمر نے کہا کہ جس مقصد کے لیے رقم جمع ہوئی اس کے لیے استعمال نہیں ہوئی، پالیسی سازی نہ ہونے سے وجہ سے یہ نااہلی سامنے آ رہی ہے، ٹریننگ فنڈ پر صوبوں کو بھی کمیٹی میں بلا کر پوچھنا چاہئیے۔پیٹرولیم حکام نے کہا کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں تاکہ رقم کے استعمال کا کوئی پلان بنا سکیں۔ اس پر نوید قمر نے کہا کہ آخر کب تک پلان بنائیں گے؟ ہم اپنا صبر کھو رہے ہیں۔