Blog

  • سلمان خان کی نئی فلم ’’سکندر‘‘ کا سکندر ناچے گانا ریلیز ہوتے ہی چھا گیا

    سلمان خان کی نئی فلم ’’سکندر‘‘ کا سکندر ناچے گانا ریلیز ہوتے ہی چھا گیا

    ممبئی (کنزیومرواچ نیوز)بالی ووڈ اداکار سلمان خان کی نئی فلم ’’ سکندر ‘‘ کا نیا سانگ سکندر ناچے ریلیز کردیا گیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کےمطابق بالی ووڈ اداکار سلمان خان کی رواں سال عید کے موقع پر ریلیز ہونے والی نئی فلم سکندر ٹائٹل سانگ بھی ریلیز کردیا گیا ہے،جس نے ریلیز ہوتے ہی تہلکہ مچادیا ہے۔گانے کو صرف 20 منٹس میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھ لیا ہے،گانے کی ویڈیو اداکارسلمان خان نے سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام پر شیئر کی ہے۔اس سے قبل فلم کے گانے زہرہ جبیں ریلیز کیا گیا تھا جس کو مداحوں کی جانب سے کافی پسند کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ سلمان خان کے ساتھ سکندر میں معروف اداکارہ رشمیکا مندانا جلوہ گر ہوں گی جبکہ فلم کو ساجد ناڈیاوالہ نے پروڈیوس کیا ہے اور یہ فلم عید الفطر کے موقع پر ریلیز کی جائے گی۔

  • عالمی ریکارڈ یافتہ طویل القامت نصیر سومرو انتقال کر گئے

    عالمی ریکارڈ یافتہ طویل القامت نصیر سومرو انتقال کر گئے

    شکار پور (کنزیومرواچ نیوز)شکار پور میں پیدا ہونے والے عالمی ریکارڈ یافتہ طویل القامت شخص نصیر سومرو 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ نصیر سومرو طویل عرصے سے سانس کی بیماری میں مبتلا تھے۔ نصیر سومرو عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر رہنے والے طویل القامت شخص تھے۔ مرحوم کا قد 7 فٹ 9 انچ تھا، نصیر سومرو نے وصیت کی تھی کہ ان کی وفات کے بعد ان کی تدفین ان کے آبائی قبرستان میں کی جائے۔ لہذا نبی شاہ محلے میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ مرحوم کے انتقال پر سول سوسائٹی و دیگر لوگوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

  • ڈیجیٹل سندھ ایک خواب جس کی تعبیر نظر آنے لگی

    ڈیجیٹل سندھ ایک خواب جس کی تعبیر نظر آنے لگی

    کراچی : کنزیومر واچ نیوز: سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مارچ 2024 سے مارچ 2025 تک اپنی حکومت کی کارکردگی پر مبنی 171 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ حکومت نے ڈیجیٹل تبدیلی، انفراسٹرکچر کی ترقی اور زرعی پیش رفت کے ذریعے گزشتہ سال کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی اس تقریب میں صحت، تعلیم، آئی ٹی، آبی وسائل کے انتظام، زراعت اور گورننس میں اصلاحات سمیت دیگر اہم شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا، جن میں ای-سسٹمز کے نفاذ جیسے منصوبے شامل ہیں۔پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام کے تحت 13,428 طلباء کو اسکالرشپس دی گئیں، جن میں سے 1,171 نے تعلیم مکمل کر لی اور 2,528 کو روزگار مل گیا۔کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، اور شہید بینظیر آباد میں 3,000 یونیورسٹی طلباء اور 200 اساتذہ کو آئی ٹی ٹریننگ دی گئی۔سندھ آبپاشی محکمہ نے ہائیڈرو انفارمیٹکس سینٹر قائم کیا، جو پانی کے بہتر انتظام کے لیے ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔251 کلومیٹر واٹر کورسز کو لائن کیا گیا تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (SPHF) نے سیلاب متاثرین کے لیے نیا پورٹل متعارف کرایا، جہاں وہ اپنا ہاؤسنگ اسٹیٹس چیک کر سکتے ہیں۔نئی ڈرون میپنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے دیہی علاقوں کا سروے کیا جا رہا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبے بہتر بنائے جا سکیں۔آن لائن وہیکل ٹیکس سسٹم متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے گاڑیوں کے ٹیکس کی ادائیگی، بایومیٹرک تصدیق، اور ڈیجیٹل رجسٹریشن ممکن ہو گئی۔پریمیم نمبر پلیٹ اسکیم کے ذریعے 640 ملین روپے اکٹھے کیے گئے، جس سے 2,100 سیلاب متاثرین کے مکانات تعمیر کیے گئے۔219 ٹیوب ویل اور 434 زرعی آلات کسانوں میں تقسیم کیے گئے۔100 سولر ٹیوب ویل اور ایک سولرائزڈ کولڈ اسٹوریج یونٹ نصب کیا گیا۔900 دیہی خواتین کو کچن گارڈننگ کٹس فراہم کی گئیں تاکہ انہیں خوراک کی خود کفالت حاصل ہو سکے۔سندھ کے صحت کے شعبے میں گزشتہ سال نمایاں پیش رفت اور توسیع دیکھی گئی، جس میں جدید طبی سہولتوں، مریضوں کی بڑھتی ہوئی رسائی، اور ٹیکنالوجی کے فروغ جیسے اقدامات شامل ہیں۔این آئی سی وی ڈی کراچی نے 14 لاکھ مریضوں کا علاج کیا، 5,000 سے زائد کارڈیک مداخلتیں اور سرجریاں کیں، اور ہزاروں تشخیصی اور امیجنگ سروسز فراہم کیں۔سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیوویسکولر ڈیزیز (SICVD) نے بلدیہ ٹاؤن میں کارڈیک ایمرجنسی سینٹر قائم کیا اور سکھر میں اسٹروک پروگرام کا آغاز کیا۔گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے 200 سے زائد جگر اور 100 سے زائد گردے کی پیوند کاری مکمل کی اور روبوٹک کیتھ لیب اور جوائنٹ ریپلیسمنٹ کی سہولیات متعارف کرائیں۔جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) نے دوسرا روبوٹک سرجیکل سسٹم فعال کیا، جبکہ لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (LUMHS) ایک نئے سسٹم کی خریداری کے عمل میں ہے۔سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) نے پاکستان کا پہلا روبوٹک سینٹر اور PET CT یونٹ قائم کیا، جس سے کینسر کی تشخیص اور علاج میں نمایاں بہتری آئی۔شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ آف ٹراما نے 70,000 مریضوں کا علاج کیا اور سینے کی سرجری، انٹروینشنل ریڈیالوجی، اور پلاسٹک سرجری کے نئے یونٹس قائم کیے۔سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 نے ہائی ویز پر سیٹلائٹ اسٹیشنز قائم کیے اور ہنگامی ردعمل کو بہتر بنایا۔چائلڈ لائف فاؤنڈیشن نے 9 بین الاقوامی معیار کے ایمرجنسی مراکز اور 106 ٹیلی میڈیسن سینٹرز قائم کرکے سندھ میں بچوں کی شرح اموات کو 2.9 فیصد تک کم کر دیا، جو کہ قومی سطح پر 5.4 فیصد ہے۔ سندھ پولیس نے S4 اسمارٹ سرویلنس سسٹم متعارف کرایا، جس کے تحت 42 ٹول پلازوں پر چہرے کی شناخت والے کیمرے نصب کیے گئے۔100,000 ڈرائیونگ لائسنس آن لائن جاری کیے گئے۔ای-ٹیگنگ سسٹم کے ذریعے 4,000 مجرموں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔196 نئی سڑکیں تعمیر کی گئیں اور 120 سیلاب زدہ سڑکوں کی مرمت کی گئی، جن کا مجموعی فاصلہ 2,500 کلومیٹر ہے۔53.5 ارب روپے کی لاگت سے مختلف سڑکوں کے منصوبے مکمل کیے گئے۔200,000 سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے گئے اور مزید 300,000 کی منصوبہ بندی جاری ہے۔24 سرکاری عمارتوں کو سولرائز کیا گیا، جن میں ہسپتال، جیلیں، اور تعلیمی ادارے شامل ہیں۔’ہری کارڈ‘ اسکیم کے تحت 168,000 سے زائد کسانوں میں 10.11 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔’کلک کاروبار ایپ‘ کے ذریعے کاروباری لائسنس اور پرمٹ حاصل کرنے کا عمل آسان بنایا گیا۔’شہید محترمہ بینظیر بھٹو اسکالرشپ‘ کے تحت ہر سال 10 طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لیے 100 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔یہ تمام منصوبے سندھ حکومت کے تکنیکی جدت، انفراسٹرکچر کی ترقی، اور معاشی استحکام کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں، جو شہید ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو، اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وڑن کے مطابق ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے ا علان کیا تھا کہ ہم پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام شروع کریں گے،ہم نے اپنے بچوں کو اپنی نیکسٹ جنریشن کو ٹرینڈ کرنا ہے ہم نے انڈر پروپون انیشٹو پیپل انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام شروع کیا تھا اس پروگرام کے تحت اس سال 13428 سٹوڈنٹس کو ہم تین مختلف یونیورسٹیز میں اسکالرشپ دی،ہم 1171 سٹوڈنٹس گریجوئیٹ کرا چکے ہیں ان گریجوئیٹس میں سے 2528 نے جابز حاصل کر لیے ہیں ،آخری بیج جو 3057 کا 2357 یہ مئی 2025 میں گریجوٹ کرے گا ،اس کامیابی کو مدنظر رکھ کر ہمارا ارادہ ہے کہ اگلے سال بھی اس کو ایک اور اسکوپ بڑھائیں،اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے 2024 کے اندر 1500 آئی ٹی گریجوٹس کے لیے ایک بوٹ کیمپ کیا تھااور ان 1500 میں سے 870 گریجوٹ سپلائی نہیں سیلف ایمپلائیڈ ہیں ہم ہر ایک کو مانیٹر بھی کرتے ہیں جو اس کے بعد ان کی جابز لینے میں مدد کی،اس کے ساتھ ساتھ ان کو اگر مزید کسی مدد کی ضرورت ہے تو آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ ان کے ساتھ رابطہ میں رہتا ہے ،ایک اور پروگرام ہے یہ اس سے تین ہزار یونیورسٹی سٹوڈنٹس جو تھرڈ یا فورتھ ایر میں تھے،کراچی حیدرآباد سکھر لاڑکانہ خیرپور شہید بے نظیر اباد ڈسٹرکٹ میں 758 یہ ٹرینیز تھے، ہم تین ہزارا سٹوڈنٹس اور 200 ٹیچرز اور ٹیچنگ اسسٹنس کر چکے ہیں محکمہ آبپاشی نے ہائیڈرو انفارمیٹکس سینٹر ایک بنایا ہے،یہ سینٹر ڈیٹا سارا کلیکٹ کرتا ہے اس سے ڈیٹا اویلیبل بھی ہے جو لوگ ڈیٹا حاصل کرنا چاہیں محکمہ آبپاشی مدد ملتی ہے اور یہ بھی ایک آئی ٹی کے اندر ہماری ایڈوانسمنٹ ہے سندھ پیپلز ہاؤزنگ آف فلڈ افیکٹیز اس کے بارے میں اگے میں آپ کو پھر بتاؤں گاآئی ٹی میں ہم نے تین پورٹلز بنائے ہیں یہ بینیفیشری پورٹل ہے کوئی بھی بینیفیشری اپنا شناختی کارڈ ڈال کے اپنا سٹیٹس چیک کر سکتا ہے ہمارا ایس پی ایچ آف ہیٹ میپ ہے یہ بھی ٹیکنالوجی میں اہم قدم ہے،جو بھی جس کو ایکسس ہے وہ کسی بھی ڈسٹرکٹ کے کسی بھی تعلقے سے ہو وہ گھر کا سٹیٹس دیکھ سکتا ہے یہ پورے ہمارے دو ملین سے اوپر ڈیٹا بیس ہیہم نے ایک پائلٹ پروگرام شروع کیا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میپنگ ہم کرتے ہیں ڈرون کے ساتھ گاؤں کے اوپر جاتے ہیں اس کی ساری ڈیجیٹل میپنگ کر لیتے ہیں اور پھر ہمیں اس میں جو گیپس ہیں پتہ چلتے ہیں یہ ابھی پائلٹ ہے کچھ ولیجز ہم کر چکے ہیں لیکن ارادہ ہے کہ یہ پورے سندھ میں ہم اس کو ایپلیکیٹ کریں گے ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے اٹومیشن کی طرف گئے ہیں ،گزشہ ایک سال میں یہ سارا کچھ مرتب کیا، ہے، وہ پرانی چیزیں نہیں بتا رہا ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے اس سال یہ ڈیجیٹائز کیلئے ایپ بنائیے ہیں،اپ موٹر وہیکل ٹیکس پروفیشنل ٹیکس اپنی ایکسائز لے لی ہے انفراسٹرکچر سائز یہ سارا ان لائن کر سکتے ہیں بائی میٹرک ویریفکیشن اور موٹر وہیکل رجسٹریشن اور ٹرانسفر کر سکتے ہیں پہلا ان لائن اپشن پریمیم نمبر پلیٹ کا ہم نے اس سال کیاہم باقی بھی جو ہماری سکیمز ہیں چاہے وہ میکنائز فارمنگ کے لیے امپلیمنٹس دینا ہو چاہے ا جو ہمارے واٹر کورسز لائن کرنے کا پروگرام ہے جو ہم پاورز کو اسسٹ کرتے ہیں ان سب نے ہم اس ہاری کارڈ کو استعمال کریں گے آن لائن ایپلیکیشن وہ سیکیورٹی فیچر نمبر پلیٹس جو نئے نمبر پلیٹس کے لیے وہ بھی اپ ان لائن ہی سارا کر سکتے ہیں سندھ فوڈ اتھارٹی نے بزنس رجسٹریشن جو ڈفرنٹ فوڈ اؤٹلٹس ہیں ان کے لیے ایک ایپ بنائی ہوئی ہیوہ اپنی بزنس رجسٹریشن اپنی جو لائسنس فیس ہے وہ سب کچھ ان لائن کر سکتے ہیں ہمارے انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک ایپ بنائی ہوئی ہے کاروبار ایپ کے نام سے کہ جس نے بھی کاروبار شروع کرنا ہے وہ اس ایپ کے ذریعے رجسٹر کر سکتا ہے، اپنی پرمٹس لے سکتا ہے آپ کو جو مسئلے ہیں جس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ہیں وہ بتا سکتا ہے، یہ چیزیں انفارچونیٹلی ہم اتنی زیادہ ڈسمنٹ نہیں کر سکے لیکن ابھی ہم شروع کریں گے، تاکہ پتہ اور اس کے اندر ہم جو پورٹل ہے انفارچونیٹلی بہت زیادہ ریگولیٹری اپروولز ہوتی ہیں بزنس کو ہم ایز ڈوئنگ بزنس میں کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ریگولیٹومنٹس ہم انٹروڈیوس کریں گے اگے جاتے ہوئے کہ وہ پرمٹس ان لائن لوگ لے سکیں ای پروفیمنٹ یہ ہم نے اس کو تقریبا اٹھ نو مہینے ہو گئے ہم نے شروع کیا ہے،ہم ہر ڈیپارٹمنٹ کے اینیل پروکیومنٹ پلان سے لے کر اس کی ایوارڈ اف ٹینڈر تک سارا ٓٹومیٹک کریں گے سارا ا فیسلس ہو تاکہ اپ کے کم از کم اس میں کوئی ہیومن انٹروینشن یا کوئی ایسی بات ہو وہ ہمارا ای پیڈز کے نام سے ای پیک ایکویشن ڈسپوزل سسٹم ہم نے اپریل 24 میں اس کو سافٹ سٹارٹ کیا تھا اور اس وقت تک ہم 558 سپلائرز کو رجسٹر کر چکے ہیں 408 ٹینڈرز پبلش میں 308 تک پیمنٹس کمپلیٹ ہوئی ہیں اور 883 پروگریس ہیں ہم نے ماسٹر ٹرینرز آفیسرز اور بڈرز کو ٹرین کرنے کا ایک پروگرام بنا ہوا ہے اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم گریجولی پیپر ٹرانزیکشن سے ختم کر کے یہ سارا کا سارا ایک پورٹل پر لے آئیں گے یہ ایک اور ایشو کافی عرصے سے تھا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے اندر وہ گندم کا جو آپ کو پتہ ہے کہ گندم ناقص ہے چوری ہو گئی مٹی بھری ہوئی ہے .

  • گولڈن ویزا متنازع کیوں ہیں؟

    گولڈن ویزا متنازع کیوں ہیں؟

    واشنگٹن:کنزیومر واچ نیوز
    امریکی صدر ٹرمپ نے ’گولڈ کارڈ‘ نامی امیگریشن اسکیم متعارف کرائی ہے جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس اسکیم کے تحت 5 ملین ڈالر کی خطیر رقم کے عوض دولت مند غیر ملکی افراد امریکی شہریت بھی حاصل کرسکیں گے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اقدام موجودہ ای بی فائیو ویزا پروگرام کو تبدیل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس پر دھوکہ دہی اور غلط استعمال کے الزامات لگتے رہے ہیں۔،اوول آفس میں گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ غیر ملکی شہری یہاں مزید دولت مند اور کامیاب ہوں گے، وہ یہاں بہت سارا پیسہ خرچ کریں گے، ٹیکس بھریں گے اور بہت سارے لوگوں کو ملازمتیں فراہم کریں گے۔ یہ ویزا اسکیم ایک انتہائی کامیاب اقدام ہوگا۔

    گولڈ کارڈ پروگرام کیا ہے؟
    ٹرمپ گولڈ کارڈ ایک مجوزہ امیگریشن اسکیم ہے جو دولت مند غیر ملکی سرمایہ کاروں کو گرین کارڈ کے حقوق دیتی ہے، جس سے انہیں مستقل رہائش اور بعد میں امریکی شہریت حاصل کرنے کا موقع بھی ملے گا۔موجودہ ای بی فائیو ویزا پروگرام کے برعکس جس کے لیے کم از کم ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے جبکہ گولڈ کارڈ کی قیمت 5ملین ڈالر رکھی گئی ہے۔
    ای بی فائیو ویزا پروگرام کو کیوں تبدیل جارہا ہے؟
    ای بی فائیو ویزا پروگرام کو 1990 میں امریکی معیشت کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا تھا تاکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملازمت کے مواقع پیدا کیے جا سکیں تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس پروگرام پر بدعنوانی اور غلط استعمال کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ اس پروگرام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی اصل شکل سے ہٹ چکا ہے۔ٹرمپ کے کامرس سیکرٹری ہاورڈ لٹنک نے اس پروگرام کو “بکواس’’ اور “فراڈ’’ قرار دیا اور کہا کہ گولڈ کارڈ ایک زیادہ شفاف اور مؤثر متبادل فراہم کرے گا، جس سے ای بی فائیو کے مسائل ختم ہو جائیں گے۔
    ان کا کہنا ہے کہ ای بی فائیو پروگرام کے ذریعے کم قیمت پر گرین کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے صدر ٹرمپ نے اس بے مقصد کارڈ کی جگہ ای بی فائیو پروگرام ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    گولڈ کارڈ پروگرام کی اہم خصوصیات پانچ ملین ڈالر سرمایہ کاری کی شرط : ای بی فائیو کے مقابلے میں زیادہ سرمایہ درکار ہوگی، جس کا ہدف انتہائی امیر افراد ہوں گے۔گرین کارڈ کے فوائد : سرمایہ کاروں کو امریکہ میں مستقل رہائش اور کام کرنے کے حقوق حاصل ہوں گے۔شہریت کا حصول : اس اسکیم کے تحت سرمایہ کار اور ان کے اہلِ خانہ امریکی شہریت کے حقدار ہوں گے۔ای بی فائیو کا متبادل : یہ پروگرام مکمل طور پر ای بی فائیو ویزا کو ختم کر دے گا، جس پر بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ’ای بی فائیو‘ پروگرام کے تحت ہر سال 10 ہزار امریکی ویزے جاری کیے جاتے تھے جن میں سے تین ہزار ویزے ایسے افراد کے لیے تھے جو ایسے شعبوں میں کام کر رہے تھے جن میں نوکریاں کم ہیں۔
    نیا گولڈ ویزا کس کو مل سکتا ہے؟
    ٹرمپ کے اعلان کے دوران ایک صحافی نے دریافت کیا کہ کیا روسی اولیگارک (بڑے کاروباری شخصیات) بھی اس اسکیم کے اہل ہوں گے؟ جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ہاں، ممکن ہے۔ میں کچھ روسیوں کو جانتا ہوں جو بہت اچھے لوگ ہیں۔’’ٹرمپ کے مطابق یہ اْن افراد کو مل سکتا ہے جن کے پاس کافی ڈالر ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس کے نتیجے نوکریوں میں اضافہ کرنے کی شرط ہوگی یا نہیں۔
    گولڈ کارڈ کی قیمت اور مراعات کیا ہوں گی؟
    اس ویزا اسکیم کیلیے درخواست جمع کروانے کی فیس50 لاکھ ڈالر رکھی گئی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس بارے میں مزید تفصیلات دو ہفتے بعد شائع کی جائیں گی جب یہ ویزے فروخت ہونا شروع ہوں گے۔گرین کارڈ رکھنے والے بشمول وہ جو ای بی فائیو پروگرام کے تحت یہ مراعات حاصل کر چکے ہیں انہیں امریکہ کے قانونی مستقل شہری کے طور پر پانچ سال تک امریکہ میں زندگی گزارنے کی اجازت ملتی ہے جس کے بعد وہ باقاعدہ شہریت کے لیے اہل ہو جاتے ہیں۔تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا گولڈ کارڈ ویزا حاصل کرنے والوں اس ضمن میں انتظار کرنا پڑے گا یا نہیں۔ٹرمپ کا یہ منصوبہ یقینی طور پر دنیا بھر کے دولت مند سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرے گا، لیکن ساتھ ہی ساتھ ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ یہ امیگریشن کی شفافیت اور قومی سلامتی پر کیا اثرات مرتب کرے گا؟۔یاد رہے کہ سال 1990 میں ’ای بی فائیو‘ ویزا ایسے غیرملکیوں کے لیے شروع کیا گیا تھا جو کسی ایسی کمپنی میں 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں جن میں کم از کم 10 ملازمین کو ملازمت فراہم کی جائے۔ایسے افراد کو اس کے بدلے فوری طور پر گرین کارڈ مل جاتا ہے، عام طور پر گرین کارڈز کے خواہش مند افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے کئی کئی سال کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
    ’ای بی فائیو‘ ویزا پروگرام کیا ہے اور ٹرمپ اسے ختم کیوں کر رہے ہیں؟
    سنہ 1990 میں ’ای بی فائیو‘ ویزا ایسے غیرملکیوں کے لیے شروع کیا گیا تھا جو کسی ایسی کمپنی میں 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کریں جن میں کم از کم 10 ملازمین کو ملازمت فراہم کی جائے۔ ایسے افراد کو اس کے بدلے فوری طور پر گرین کارڈ مل جاتا ہے۔ عام طور پر گرین کارڈز کے خواہش مند افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے کئی کئی سال کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ’ای بی فائیو‘ پروگرام کے تحت ہر سال 10 ہزار امریکی ویزے جاری کیے جاتے تھے جن میں سے تین ہزار ویزے ایسے افراد کے لیے تھے جو ایسے شعبوں میں کام کر رہے تھے جن میں نوکریاں کم ہیں۔امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس کا کہنا ہے کہ ای بی فائیو ویزا کا مقصد ’امریکی معیشت کو نوکریوں میں اضافے اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنا ہے۔‘تاہم ٹرمپ کے کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹنک کا ماننا ہے کہ ’اس پروگرام کا استحصال کیا جا رہا ہے اور یہ مراعات (امریکی شہریت) بہت کم قیمت کے عوض دی جا رہی ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’ای بی فائیو پروگرام بے معنی اور فراڈ ہے اور اس کے ذریعے کم قیمت پر گرین کارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے صدر نے اس بے مقصد کارڈ کی جگہ ای بی فائیو پروگرام ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘سنہ 2021 میں امریکی حکومت کے احتساب کے دفتر کو معلوم ہوا کہ ای بی فائیو ویزا پروگرام میں فراڈ کا خطرہ بہت زیادہ ہے کیونکہ امیدوار کی جانب سے فنڈز کہاں سے بھیجے گئے ہیں یہ جاننا بہت مشکل ہے اور اس پروگرام میں سرمایہ کے باعث طرف داری بھی کی جا سکتی ہے۔
    گرین کارڈ رکھنے والے بشمول وہ جو ای بی فائیو پروگرام کے تحت یہ مراعات حاصل کر چکے ہیں انھیں امریکہ کے قانونی مستقل شہری کے طور پر پانچ سال تک امریکہ میں زندگی گزارنے کی اجازت ملتی ہے جس کے بعد وہ باقاعدہ شہریت کے لیے اہل ہو جاتے ہیں۔
    تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا گولڈ کارڈ ویزا حاصل کرنے والوں اس ضمن میں کم انتظار کرنا پڑے گا یا نہیں۔گولڈن ویزا دنیا بھر میں خاصے عام ہیں۔ برطانیہ، سپین اور یونان جیسے ممالک میں بھی یہ ویزا فروخت کیے جاتے ہیں اور کچھ ممالک جیسے مالٹا، مصر اور اردن میں تو آپ کو اس سرمایہ کاری کے عوض براہِ راست شہریت مل جاتی ہے۔یہ ’گولڈن پاسپورٹ‘ پروگرامز کیریبیئن میں بھی موجود ہیں جہاں ڈومینیکا، گریناڈا، سینٹ کیٹس اور نیوس میں اس ویزا کی فیس دو سے تین لاکھ ڈالر تک رہی ہے۔
    متحدہ عرب امارات میں گولڈن ویزا پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 100 ارب درہم تک کی مالیت کی سرمایہ کاری کرنے والے 6800 سرمایہ کاروں کو ’گولڈن کارڈ‘ جاری کیا گیا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ گولڈن کارڈ کا مقصد متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کرنے والوں، بین الاقوامی اہمیت کی بڑی کمپنیوںکے مالکان، اہم شعبے کے پیشہ وروں، سائنس کے میدان میں کام کرنے والوں محققوں اور باصلاحیت طلبہ کو متحدہ عرب امارات کی ترقی میں شامل اور متوجہ کرنا ہے۔
    ماہرین کے مطابق عام طور پر گولڈن ویزا پروگرام اس لیے متنازع ہوتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جا سکتی ہے یا فراڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کی وجہ سے بڑے شہروں میں گھروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
    ان خدشات کے باعث متعدد یورپی ممالک جن میں برطانیہ، نیدرلینڈز اور یونان شامل ہیں نے گذشتہ چند سالوں کے دوران اپنے گولڈن ویزا پروگرام بند کر دیے تھے۔
    آسٹریلیا کی جانب سے غیر ملکی تاجروں کے لیے گولڈن ویزا پالیسی کا آغاز کیا گیا تھا لیکن چونکہ نتائج اچھے نہیں آئے اس لیے امیگریشن پالیسی میں ترامیم کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا۔پہلے ہی گولڈن ویزا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا استعمال بدعنوان اور سود پر رقم دینے والے لوگ کر رہے ہیں۔
    آسٹریلیا کے گولڈن ویزے کے حصول کے لیے کسی غیر ملکی سرمایہ کار کو کم از کم 3.3 ملین ڈالر جو کہ تقریباً 27 کروڑ 44 لاکھ انڈین اور 50 کروڑ سے زیادہ پاکستانی روپے کے برابر ہے کی سرمایہ کاری درکار تھی۔کئی تحقیقات کے بعد آسٹریلین حکومت نے محسوس کیا کہ یہ پالیسی اپنا مقصد حاصل نہیں کر پا رہی ہے۔

  • مہنگی بجلی نے ملکی صنعتوں کا بھٹہ بٹھا دیا

    مہنگی بجلی نے ملکی صنعتوں کا بھٹہ بٹھا دیا

    اسلام آباد : کنزیومر واچ ڈیسک : پاکستان کا صنعتی شعبہ چین، بھارت اور امریکا کے مقابلے میں بجلی کی قیمتوں سے تقریباً دگنا اور یورپی یونین سے بھی زیادہ قیمت ادا کر رہا ہے، جس سے اس کی برآمدی مسابقت پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیرس میں قائم انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کی تازہ ترین ’الیکٹریسٹی 2025- اینالسز اینڈ فارکاسٹ ٹو 2027‘ رپورٹ کے مطابق امریکا اور بھارت میں 2024 میں بجلی کی اوسط قیمت 6.3 سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ، چین میں 7.7 سینٹ، ناروے میں 4.7 سینٹ اور یورپی یونین میں 11.5 سینٹ تھی۔
    اس کے مقابلے میں پاکستان میں توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے بجلی کی اوسط قیمتیں 2024 میں 13.5 سینٹ فی یونٹ رہیں۔اگرچہ پاکستان میں بجلی کی قیمت کو خاص طور پر رپورٹ نہیں کیا گیا، کیونکہ وہ آئی ای اے کا رکن نہیں ہے، لیکن اس میں یورپی یونین کو درپیش چیلنجز کی تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے، جہاں 2024 میں بجلی کی اوسط قیمت 11.5 سینٹ تھی جو پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد کم تھی۔اس سے جزوی طور پر پاکستانی صنعتوں کو اندرون ملک اور بیرون ملک مصنوعات برآمد کرنے میں درپیش مشکلات کی نشاندہی ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ کو ڈی انڈسٹریلائزیشن کا سامنا ہے، کیونکہ توانائی کی زیادہ لاگت نے صنعتوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے، سستی بجلی اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے. بجلی کی بلند قیمتیں یورپی توانائی سے بھرپور صنعتوں کی مسابقت کو مسلسل کمزور کر رہی ہیں۔
    2023 میں نرمی کے بعد 2024 کے ابتدائی اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ یورپی یونین میں توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے بجلی کی اوسط قیمتوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں صرف 5 فیصد کی کمی ہوئی ہے، تاہم یہ اب بھی 2019 کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ ہے۔2022 میں ریکارڈ بلند ترین سطح سے گرنے اور 2023 کے مقابلے میں قدرے کم ہونے کے باوجود 2024 میں یورپی یونین میں توانائی پر مبنی صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتیں اوسطاً امریکا کے مقابلے میں دوگنا اور چین کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ تھیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی زائد قیمتوں نے یورپی صنعتوں کو زیادہ تر یورپی یونین کے ممالک میں کھپت کی سطح پر غیر مساوی طور پر متاثر کیا ہے، کم سے درمیانی بجلی کی کھپت والے کاروباری اداروں نے 2021 اور 2024 کے درمیان زیادہ مستحکم ٹیرف کا لطف اٹھایا، جس کے نتیجے میں بڑے صارفین کے مقابلے میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ میں کمی ہوئی۔2019 کے مقابلے میں 2022 میں یورپی یونین کی توانائی سے بھرپور صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اوسطاً 160 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ درمیانے صارفین کو 80 فیصد اور کم کھپت والے کاروباری اداروں کے لیے قیمتوں میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی طلب میں زبردست اضافہ ایک نئے ’بجلی کے دور‘ کا آغاز کر رہا ہے، جس کی مانگ 2027 تک بڑھنے والی ہے۔آئی ای اے نے کہا کہ اس رپورٹ کی 2027-2025 کی پیشگوئی کی مدت کے دوران عالمی سطح پر بجلی کی کھپت میں تیز ترین رفتار سے اضافے کی توقع ہے، جس میں بڑھتی ہوئی صنعتی پیداوار ، ایئر کنڈیشننگ کے بڑھتے ہوئے استعمال، بجلی کی رفتار میں تیزی اور دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی توسیع شامل ہے۔2024 میں عالمی سطح پر بجلی کی طلب میں 4.3 فیصد اضافہ ہوا، 2027 میں اس میں 4 فیصد کے قریب اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے، اگلے 3 سال میں، عالمی سطح پر بجلی کی کھپت میں 3500 ٹیرا واٹ گھنٹے (ٹی ڈبلیو ایچ) کا غیر معمولی اضافہ ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔یہ ہر سال دنیا کی بجلی کی کھپت میں جاپان کے مساوی سے زیادہ اضافے سے مطابقت رکھتا ہے، یہ 2023 میں 2.5 فیصد اضافے کے مقابلے میں بھی تیز رفتار تھا، جب چین، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا میں مضبوط ترقی یافتہ معیشتوں میں گراوٹ کی وجہ سے متاثر ہوئی تھی۔2027 تک بجلی کی زیادہ تر اضافی طلب ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرف سے آئے گی، جن کی ترقی کا 85 فیصد حصہ بننے کی توقع ہے۔2024 میں عالمی سطح پر بجلی کی طلب میں نصف سے زیادہ اضافہ چین سے آیا، جہاں گزشتہ سال کی طرح 2024 میں 7 فیصد اضافہ ہوا، چین میں بجلی کی طلب میں 2027 تک اوسطاً 6 فیصد سالانہ اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔بھارت، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بھی معاشی توسیع اور ایئر کنڈیشنر کی بڑھتی ہوئی ملکیت کی وجہ سے طلب میں زبردست اضافہ متوقع ہے، بھارت میں بجلی کی طلب میں اگلے 3 سال میں اوسطاً 6.3 فیصد سالانہ اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو 2024-2015 کی اوسط شرح نمو 5 فیصد سے زیادہ ہے۔اگرچہ بہت سی ابھرتی ہوئی معیشتیں بجلی کی طلب میں زبردست اضافہ دیکھ رہی ہیں لیکن افریقہ پیچھے ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اہم پیشرفت ہوئی لیکن سب صحارا افریقہ میں 60 کروڑ افراد کو اب بھی قابل اعتماد بجلی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔دوسری جانب چین میں بجلی کی فراہمی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جہاں توانائی کی حتمی کھپت میں بجلی کا حصہ (28 فیصد) امریکا (22 فیصد) یا یورپی یونین (21 فیصد) کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔چین کی بجلی کی کھپت 2020 کے بعد سے اس کی معیشت کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے اس رفتار کی نشاندہی ہوتی ہے جس سے تمام شعبوں میں بجلی کی فراہمی زور پکڑ رہی ہے۔2022-2024 کے 3 سال کے عرصے میں صنعتوں نے بجلی کی طلب میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا، جب کہ کمرشل اور رہائشی شعبوں نے مجموعی طور پر 40 فیصد حصہ ڈالا۔چین میں صنعتی شعبہ زیادہ بجلی پر مبنی ہو گیا ہے، طلب میں ایک تہائی اضافہ شمسی پی وی ماڈیولز، بیٹریوں اور برقی گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ سے آتا ہے، 2024 میں ان صنعتی شعبوں نے سالانہ 300 ٹی ڈبلیو ایچ سے زیادہ بجلی استعمال کی، یہ اتنی بجلی ہے جتنی اٹلی ایک سال میں استعمال کرتا ہے۔

  • حکومت نے ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا

    حکومت نے ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا

    کراچی:کنزیومر واچ ڈیسک:حکومت نے ڈیجیٹل پرائز بانڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ڈیجیٹل پرائز بانڈز موبائل ایپ کے ذریعے لین دین کیا جائے گا۔انعامی رقم قابل ٹیکس ہوگی لیکن اس پر زکو ہ لاگو نہیں ہوگی۔ ڈیجیٹل پرائز بانڈز چوری، نقصان یا ضیاع کے خطرات کو کم کرے گا اور یہ اقدام معیشت کو دستاویزی شکل دینے، شفافیت کو بڑھانے اور احتساب کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔آج کے ٹیکنالوجی پر مبنی دور میں ایک نیا سرمایہ کاری کا موقع ہے۔ یہ اقدام خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ کاغذ کے بغیر ہے جس سے پرنٹنگ اور لاجسٹکس کے اخراجات کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، چونکہ یہ خریدار کے نام پر رجسٹرڈ ہوتا ہے، اس لیے چوری، نقصان یا ضیاع کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر 500 روپے، 1000 روپے، 5000 روپے اور 10000 روپے کے ڈیجیٹل پرائز بانڈز اس رقم میں جاری کیے جائیں گے جو وزارت خزانہ وقتاً فوقتاً نوٹیفائی کرے گی۔ڈیجیٹل پرائز بانڈز کا انعام موبائل ایپ کے ذریعے ریڈیم کیا جائے گا اور اس کی رقم خریداری کے وقت استعمال شدہ لنک شدہ بینک اکاونٹ یا سی ڈی این ایس بچت اکاونٹ میں جمع کر دی جائے گی۔ سرکاری دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی سہ ماہی بنیاد پر کی جائے گی یا وزارت خزانہ کی طرف سے نوٹیفائی کی جائے گی۔ قرعہ اندازی کا شیڈول ہر کیلنڈر سال کے آغاز میں سی ڈی این ایس کی طرف سے اعلان کیا جائے گا۔سرمایہ کار کی وفات کی صورت میں، مرحوم کے بانڈ کی اصل رقم اور انعامی رقم ان کے قانونی ورثا کو جانشینی کے سرٹیفکیٹ کے مطابق ادا کی جائے گی اور اگر خالص رقم 500,000 روپے سے زیادہ نہ ہو تو ادائیگی خریداری کے وقت نامزد شخص کو کی جائے گی۔

  • میری ٹائم وزارت میں ایک اور مالیاتی اسکینڈل سامنے آگیا

    میری ٹائم وزارت میں ایک اور مالیاتی اسکینڈل سامنے آگیا

    کراچی ( کنزیومر واچ نیوز)میری ٹائم وزارت میں زمین کے گھپلے کے بعد چلتے جہاز فروخت کرنے کا اسکینڈل سامنے آگیا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کی جانب سے 2 آپریشنل جہاز فروخت کردیے گئے۔ذرائع کے مطابق جہاز ‘لاہور’ کیپ ون کٹیگری کا تھا جو یومیہ 27 ہزار 500 ڈالرز پر عراقی بندرگاہ پر ٹھیکے پر آمدن کما رہا تھا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ جہاز ‘کوئٹہ’ پاکستانی ریفائنریز کے طویل مدتی ٹھیکے پر تقریباً 12 ہزار ڈالر یومیہ کمارہا تھا۔ذرائع کے مطابق پی این ایس سی نے ریفائنریز کے لیے باہر سے چارٹر جہاز ‘سوین لیک’8 لاکھ ڈالر ماہانہ پر لیا جس سے تقریبا 2 لاکھ ڈالر نقصان ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز آپریشنل اور منافع بخش تھے، اسکریپ کے بجائے شپنگ کمپنیز کی جانب سے خریدے گئے، دونوں جہازوں کی موجودہ فریٹ مارکیٹ کم از کم 40 ہزار ڈالرز یومیہ ہے۔ذرائع کے مطابق پی این ایس سی کے لیے 5 جہازوں کی خریداری کا معاملہ پی پی آر اے میں زیر التوا ہے۔ترجمان پی این ایس سی کے مطابق دو جہازوں کی فروخت کا عمل جاری ہے، بورڈ کی منظوری سے فروخت کا فیصلہ ہوا، جہاز فائدہ مند نہیں تھے، اجازت ملتے ہی نئے جہاز خریدیں گے۔

  • اسٹیٹ ایجنٹس کے ذریعے ڈالر منتقلی کا انکشاف

    اسٹیٹ ایجنٹس کے ذریعے ڈالر منتقلی کا انکشاف

    اسلام آباد 🙁 کنزیومر واچ نیوز)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ درجنوں ریئل اسٹیٹ ایجنٹس مبینہ طور پر ہنڈی/حوالہ کے ذریعے دبئی میں ڈالر منتقل کر رہے ہیں تاکہ وہاں کی پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی جا سکے، اس رجحان کے باعث حالیہ دنوں میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر پر دباو پڑا ہے۔اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو پس پردہ گفتگو میں تصدیق کی کہ ایک بڑی رقم کھلی مارکیٹ سے غیر ملکی کرنسی، خاص طور پر امریکی ڈالر، میں تبدیل کر کے دبئی/متحدہ عرب امارات بھیجی گئی ہے تاکہ اسے پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف بی آر نے معاملے کی سنگینی محسوس کرتے ہوئے ایسے ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی فہرست تیار کی ہے جو مبینہ طور پر اس سرگرمی میں ملوث ہیں۔ تاہم، یہ صرف اس بڑے اسکینڈل کی ابتدائی جھلک ہے، اور مزید تحقیقات کے لیے معاملہ ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ حکام کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے۔سرکاری عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایف بی آر اور متعلقہ اداروں نے 70سے زائد ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی فہرست تیار کی ہے جو اپنے کلائنٹس سے کیش وصول کر کے اسے کھلی مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کرتے تھے اور پھر دبئی/متحدہ عرب امارات میں پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے منتقل کرتے تھے۔پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکونز نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر ٹیکس قوانین میں نرمی نہ کی گئی اور “نو سوالات” کی حد 10ملین سے بڑھا کر 25 سے 50 ملین روپے نہ کی گئی تو سرمایہ کاری دبئی/متحدہ عرب امارات منتقل ہو سکتی ہے، یہ تجویز ٹیکس قوانین ترمیمی بل 2024 میں شامل تھی، جو اس وقت قومی اسمبلی کی فنانس اینڈ ریونیو کمیٹی میں زیر غور ہے۔حکومت نے ایف بی آر کو دو ماہ کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ایک ایسی ایپ تیار کرے جو فائل شدہ ٹیکس گوشواروں میں رضاکارانہ ترامیم کی سہولت فراہم کرے، تاکہ لوگ اپنی جائیداد کی مالیت کو ازخود درست کر سکیں۔

  • بینکنگ تفصیلات چرانے کے لیے سائبر حملوں  میں اضافہ

    بینکنگ تفصیلات چرانے کے لیے سائبر حملوں میں اضافہ

    لندن:کنزیومر واچ ڈیسک: ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2023 کے مقابلے 2024 میں اسمارٹ فونز سے صارفین کی بینکنگ تفصیلات چرانے کے لیے سائبر حملوں کی تعداد میں 196 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق روسی سائبر سیکیورٹی اور اینٹی وائرس فرم کیسپرسکی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز پر ٹروجن بینکر حملوں کی تعداد 2023 میں 4 لاکھ 20 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں 12 لاکھ 42 ہزار ہوگئی۔ٹروجن بینکر میل ویئر بدنیتی پر مبنی کمپیوٹر پروگرام ہیں جو کسی شخص کی آن لائن بینکاری، ای ادائیگی یا کریڈٹ کارڈ خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔’2024 میں موبائل میل ویئر خطرے کا منظر نامہ‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’سائبر کرمنلز بینکنگ تفصیلات چوری کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر میل ویئر ڈسٹری بیوشن پر انحصار کرتے ہوئے حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں‘۔گزشتہ ایک سال کے دوران دنیا بھر میں اسمارٹ فون صارفین پر 3 کروڑ 33 لاکھ سے زائد حملے ہوئے جن میں مختلف قسم کے میل ویئر اور ناپسندیدہ سافٹ ویئر شامل تھے۔سائبر کرمنلز ایس ایم ایس یا میسجنگ ایپس، ای میل اٹیچمنٹ یا دیگر میسنجرز کے ذریعے لنکس بھیج کر صارفین کو بدنیتی پر مبنی ویب پیجز کی طرف راغب کرتے ہیں اور ٹروجن بینکرز ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے دھوکا دیتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض معاملات میں سائبر کرمنلز ہیک شدہ اکاؤنٹ سے پیغامات بھیجتے ہیں جس کی وجہ سے فراڈ زیادہ قابل اعتماد دکھائی دیتا ہے، صارفین کو دھوکا دینے کے لیے حملہ آور اکثر ٹرینڈنگ خبروں کا سہارا لیتے ہیں اور فوری ضرورت کا احساس پیدا کرنے اور متاثرین کو غیر محفوظ محسوس کرانے کے لیے موضوعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ ٹروجن بینکرز میل ویئر کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی قسم تھے، لیکن متاثرین کی 6 فیصد تعداد کے لحاظ سے مجموعی طور پر چوتھے نمبر پر ہیں۔ سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے زمرے میں ایڈ ویئر ہے جن سے متاثرہ صارفین کی تعداد 57 فیصد ہے، اس کے بعد جنرل ٹروجن (25 فیصد) اور رسک ٹولز (12 فیصد) ہیں۔ایڈ ویئر ایک قسم کا میل ویئر سافٹ ویئر ہے جو صارفین کو ٹارگٹڈ اشتہارات فراہم کرتا ہے، ٹروجن وائرس صارفین کو اسے انسٹال کرنے کے لیے خود کو قانونی سافٹ ویئر کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔پالیسی ایڈووکیٹ اور آئی ٹی کے ماہر شہزاد شاہد نے کہا کہ موبائل بینکنگ میل ویئر حملوں میں خطرناک حد تک اضافے نے سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو محفوظ ڈیجیٹل طریقوں کے بارے میں تعلیم دی جانی چاہیے جیسے مشکوک لنکس سے بچنا، ملٹی فیکٹر تصدیق کا استعمال کرنا اور باقاعدگی سے سیکیورٹی اپ ڈیٹس انسٹال کرنا۔

  • موبائل فون کا ضرورت سے زیادہ استعمال صحت کیلئے نقصان دہ

    موبائل فون کا ضرورت سے زیادہ استعمال صحت کیلئے نقصان دہ

    کراچی : کنزیومر واچ رپورٹ : پروفیسر ڈاکٹرزیبا احمد نے کہا ہے کہ موبائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال اور بلیوٹوتھ، ایئربڈز اور ہینڈز فری سے نکلنے والی شعاعیں سماعت کو متاثر کرنے کا باعث بن رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ کان ، خاص طور پر کان کااندرونی حصہ موبائل فون کے قریب ہونے کی وجہ سے الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن کابراہ راست سامنا کرتا ہے جس کی وجہ سے کان کا یہ عضو سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، کورٹی میں موجود باریک ہیئر سیلز (عضوِ سماعت کے ریسیپٹر خلیے) دوبارہ پیدا کرنے والی خصوصیات نہیں رکھتے اس لیے یہ نقصان اکثر مستقل ہوتے ہیں اور مرض کے ایڈوانس اسٹیج میں ریکوری کا امکان بہت کم ہوتا ہے، ہیئر سیلز مسلسل شور سے حساس سمجھے جاتے ہی، لہذا، کان موبائل فون کے شور کے ساتھ ساتھ فون سے نکلنے والی الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشن ویوز کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ کارخانوں جیسے کام کی جگہوں پر ٹریفک کا غیر منظم شور بھی آلودگی کی ایک شکل ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے، یہ باتیں انہوں نے سماعت کے عالمی دن کی مناسبت سے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول اسپتال کے اشتراک سے منعقد ہ سیمینارمیں کہیں، جس کا انعقاد سول اسپتال کے ای این ٹی ڈپارٹمنٹ یونٹ –ون میں ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمدکی صدارت میں ہوا،سیمینار میں ڈاکٹر طارق زاہد خان، ڈاکٹر تہمینہ جنید، ڈاکٹر صدف ضیا، ڈاکٹر عظمیٰ سمیت فیکلٹی ، پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز اور طلبا کی بڑی تعداد شریک ہوئی، اس موقع پر سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرخالد بخاری، اور پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج پروفیسر صبا سہیل نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی، ڈاکٹر زیبا احمد نے سیمینار سے خطاب میں کہاکہ سماعت سے محرومی کی روک تھام تمام قبل از پیدائش ، پیدائشی ادوار سے لے کربڑھاپے تک زندگی کے تمام ادوار کے لیے ضروری ہے، ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں سماعت متاثر ہونے کے لگ بھگ 60 فیصد کیسز کو صحت عامہ کے اقدامات کے نفاذ کے ذریعے روکا جا سکتا ہے، ڈاکٹر زیبا نے کہا کہ اسی طرح، بالغ افراد میں سماعت کے نقصان کی عام وجوہات، جیسا کہ اونچی آواز اور اوٹوٹکسک ادویات کا استعمال، ہیں جن پر قابو پاکرروکا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ سماعت کے نقصان کو کم کرنے کے لیے موثر حکمت عملیاں اپنائی جاسکتی ہیں، جن میں امیونائزیشن، زچگی اور بچوں کی دیکھ بھال کے اچھے طریقے، جینیاتی مشاورت، کان کے انفیکشن کی شناخت اور علاج، شور اور کیمیکل ایکسپوڑڑ کے لیے سماعت کے تحفظ کے پروگرام،تفریحی پروگرامز میں تیز آواز میں کمی کے لیے محفوظ حکمت عملی،اوٹوٹوکسک سماعت کے نقصان کو روکنے کے لیے ادویات شامل ہیں ، سیمینار کے دوران ای این ٹی ریذیڈنٹس نے کان کی مختلف بیماریوں ، ان کی تشخیص و علاج پر مبنی موضوعات پر گفتگو کی، سیمینار کے دوران سول اسپتال میں گزشتہ ایک برس کے دوران کان کی سوزش( سی ایس او ایم) کے سرجیکل علاج کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے،سیمینار میں بتایا گیا کہ جنوری 2024 سے یکم مارچ 2025 تک سول اسپتال کراچی میں سی ایس اوایم کے 100 مریضوں کی سرجری کی گئی، جن میں سے 69 فیصد یونٹ –ون اور 31 فیصد یونٹ –ٹومیں کی گئیں،سیمینار میں یہ بھی بتایا گیا کہ کان میں درد یا سوزش کے علاج میں تاخیر کی وجہ سے سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے اورکچھ کیسز میں مریض سماعت سے مکمل طور پر محروم ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اپنی بیماری کے آخری اسٹیج پر ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے جس کے باعث اسے پھرآلہ سماعت کا سہارا لینا پڑتا ہے، سماعت کے عالمی دن کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر زیبا احمد نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے سماعت کا عالمی دن سب سے پہلے 2007 میں منایا گیا تھا، ڈاکٹر زیبا احمد نے کہا کہ یہ دن دنیا بھر میں سماعت کی دیکھ بھال کی سہولیات کی یاد دہانی ہے جو امراض سے بچاؤ، تھراپی کے ساتھ ساتھ سماعت کو محفوظ رکھنے کے لیے ری ہیبی لیٹیشن کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کرتا ہے، یہ سماعت اور ہیئرنگ کیئر کے مقصد کے لیے یہ ایک انتہائی اہم دن ہے، پروفیسر زیبا نے کہا کہ میں اس بات پر زوردیتی ہوں کہ یہ ہیئرنگ کیئر جو ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کی جارہی ہے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بالکل درست ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان احتیاطی تدابیر کاآغازگھر سے ہوتاہے، انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، ڈاکٹر زیبا کا کہنا تھا کہ سماعت متاثر ہونیکی بہت سی وجوہات ہیں جیسا کہ خسرے کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی نقائص ہوجاتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں سانس کی اوپری نالی میں بھی انفیکشن سے سماعت متاثر ہوتی ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ جلد کی دائمی بیماری کی وجہ سے بھی کان کا پردہ متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں کرونک اوٹائٹس میڈیا نامی بیماری پیدا ہوتی ہے، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متاثر ہ فرد پر سماعت متاثر ہونے کا وسیع پیمانے پر اثر پڑتا ہے، بشمول مواصلات، ادراک، سماجی سطح پر تنہا ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم اور ملازمت تک محدود رسائی جیسے سماجی اور معاشی مسائل شامل ہیں، بعدازاں سول اسپتال کے ای این ٹی وارڈ سے لے کر ڈاؤ میڈیکل کالج کے کلاک ٹاور تک آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا،واک کے اختتام پر ڈاکٹر صبا سہیل کی قیادت میں ورلڈ ہیئرنگ ڈے کی تھیم کی مناسبت سے جامنی رنگ کے غبارے فضا میں چھوڑے گئے۔