واشنگٹن(کنزیومر واچ نیوز)امریکی صدر نے دونوں فریقین سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ بندی کا آغاز ہوگیا ہے، برائے مہربانی جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کریں۔ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کرنے کی اپیل کردیواضح رہے کہ اب سے چند گھنٹوں قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔پاکستان وقت کے مطابق ایران نے صبح 9 بجے سے جنگ بندی پر عملدرآمد شروع کردیا ہے اور اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود کھول دی ہے۔
Blog
-

ایران اوراسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا،ٹرمپ
واشنگٹن(کنزیومر واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران جنگ بندی پر متفق ہوگئے اور اگلے 6 گھنٹوں میں حملے بند کردیے جائیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر یہ اعلان کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ سب کو مبارک ہو، اسرائیل اور ایران کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان اگلے 6 گھنٹوں بعد حملے بند کردیے جائیں گے جب دونوں ممالک اپنے جاری آخری مشن مکمل کرلیں گے۔مزید کہا کہ باضابطہ طور پر جنگ بندی کا آغاز پہلے ایران کرے گا اور 12ویں گھنٹے پر اسرائیل بھی جنگ بندی شروع کردے گا جب کہ 24ویں گھنٹے پر ’12 روزہ جنگ‘ کے خاتمے کو دنیا بھر میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
اپنی پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے دوران دونوں فریقین پرامن اور باعزت رویہ اختیار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق چلا اور بالکل چلے گا، تو میں اسرائیل اور ایران دونوں کو ان کی ہمت، استقامت، اور دانشمندی پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ایسی جنگ کو ختم کیا، جسے برسوں جاری رکھا جا سکتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’12 روزہ جنگ‘ برسوں جاری رہ سکتی تھی جو پورے مشرق وسطیٰ کو تباہ کر سکتی تھی، مگر ایسا نہ ہوا، اور نہ ہی ہو گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خدا اسرائیل اور ایران پر رحم کرے، خدا مشرقِ وسطیٰ ، امریکا اور خدا پوری دنیا پر رحم کرے۔
دنیا کو مبارکباد، امن کا وقت آگیا
اس سے قبل، امریکی صدر نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران نے اپنے جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کا بہت کمزور جواب دیا ہے جس کا دفاع موثر انداز میں کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران نے کل 14 میزائل داغے، جن میں سے 13 کو مار گرایا گیا، اور ایک کو چھوڑ دیا گیا کیوں کہ وہ کسی خطرناک سمت میں نہیں جا رہا تھا۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ کوئی بھی امریکی زخمی نہیں ہوا، اور بمشکل ہی کوئی نقصان ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران نے اپنا غصہ نکال لیا ہے، اور امید ہے کہ اب مزید نفرت نہیں ہوگی۔ایک اور پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا ’میں ایران کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں حملے سے پہلے پیشگی اطلاع دی، جس کی وجہ سے کسی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘۔ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تہران ’خطے میں امن و ہم آہنگی کی طرف بڑھے، اور میں پُرجوشی سے اسرائیل کو بھی یہی کرنے کی ترغیب دوں گا۔ٹروتھ سوشل پر دوسری پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امیرِ قطر کا ’خطے میں امن کے لیے کی گئی تمام کوششوں‘ پر شکریہ ادا کیا۔ایک اور پوسٹ میں صدر نے لکھا ’دنیا کو مبارک ہو، اب وقت ہے امن کا‘۔
l -

چین : ماضی کی جھلک اورمستقبل کی چمک ….ارم زہراء چین
میں نے بیجنگ کے تیز رفتار سب وے سے قدم باہر رکھا تو یوں لگا جیسے تاریخ اورمستقبل نے یک جان ہو کر میری انگلی پکڑ لی ہو۔ صبح کی کرنوں میں ممنوعہ شہر کی سرخ دیواریں انگڑائیاں لے رہی تھیں اور انہی دیواروں کے سائے میں لگے خودکار اسکینرز میرے چہرے کے زاویے نوچ نوچ کر اپنی یادداشت میں محفوظ کر رہے تھے۔ میں نے ہر سو اٹھتی ہوئی اس آہٹ کو سنا صدیوں پرانی اینٹوں کی خاموش سرگوشی اور مصنوعی ذہانت کے برقی زمزمے کی ملی جلی آواز ، یہی تو بیجنگ ہے ‘‘ایک فقیر کے ہاتھ میں ٹین کا کٹورا اور برابر میں کسی انجینئر کی ہتھیلی پر چمکتا ہوا کیو آر کوڈ۔
مجھے یاد ہے بچپن میں جب میں سفرنامے پڑھتی تھی ، تب سوچتی تھی، کیا واقعی راستے ہم سے مکالمہ کرتے ہیں؟ آج، میں انہی سطروں کے سنگ کسی بے نام کبوتر کی طرح قدیم سنگِ مرمر پر پھسلتی جا رہی تھی۔ محلِ معبودات کے بلند دروازے کے سامنے ٹھہر کر میں نے دْور سے آتی اْس دوپہر کو دیکھا جو صدیوں پہلے کسی شہنشاہ کے تاج میں مقید تھی۔ ہوا میں لوبان کی مدھم خوشبو تھی، مگر اْسی لمحے میری جیب میں رکھا موبائل تڑپ اٹھا Alipay کی ایک نئی ٹون نے اعلان کیا کہ میری بس کا بل خود بخود ادا ہو چکا تھا۔
یہ تضادات شاید بیجنگ کی سب سے بڑی تہذیبی معرکہ آرائی ہیں۔ لکڑی کے جھروکوں سے جھانکتا کونفوشس اور بغل میں سلور ڈرون، جو سیلفی اسٹک کی جگہ لینے کو مچل رہا ہے۔ ایک جھٹکے میں خیال آیا کہ میں یہاں تماشائی نہیں، خود داستان کی راوی ہوں۔‘‘محل کی سلوں پر وقت چٹان کی طرح جما ہوا ہے، مگر میری انگلی کی پور میں بہتا ڈیجیٹل نبض کا قاصد مجھے بتاتا ہے کہ اب لمحہ صدیاں بن کر گردش نہیں کرتا، بلکہ کلاؤڈ سرور پر اَپ لوڈ ہو جاتا ہے۔’’
دوپہر ڈھل رہی تھی۔ میں ہْوٹونگ کی تنگ گلیوں میں سے گزری۔ چھوٹی سی چائے کی دکان کے باہر بیٹھے نانا جیسی داڑھی والے بزرگ مجھے دیکھ کر مسکرائے۔ اْن کی میز پر پرانی چائے دانی کے ساتھ ایک چھوٹا سا روبوٹ رکابیوں کا حساب لگا رہا تھا۔ بزرگ نے میری حیرت بھانپ لی، کہنے لگے ‘‘ہماری ثقافت کو کوئی بدل نہیں سکتا، بیٹی۔ صرف اس کے ملبوس بدل جاتے ہیں۔’’ میں نے یہ سنا تو مجھے اپنے اندر ٹھنڈک اتری ہوئی محسوس ہوئی، جیسے کسی روحانی فقیر نے شہرِ شور میں امید کا دیپ جلا دیا ہو۔
شام کے نیلے سائے دھند کی چادر کی طرح پھیلنے لگے۔ ممنوعہ شہر کی دیواریں نِت نئے رنگ اوڑھ کر ایک خوابیدہ دیو کا رْوپ دھار رہی تھیں۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا اوپر ہولوگرام لائٹس نے آسمان پر سرخ ڈریگن بْنا تھا نیچے سنگِ سجدہ پر تاریخ اب بھی اپنی لمبی قمیص سنبھالے ہوئے تھی۔
‘‘بیجنگ وہ آئینہ ہے جس میں ماضی اور مستقبل ساتھ جھانکتے ہیں۔اگر تم دل کی آنکھ سے دیکھو تو اْن دونوں کی تصویر تمہارے اندر کی دیوار پر نقش ہو جاتی ہے۔’’
میں نے ڈائری بند کی۔ یہ تو ابھی شروعات ہے آگے نجانے کتنے در کھلنے والے ہیں۔ میں ایک خواب میں داخل ہو چکی ہوں، مگر جاگنے کی کوئی جلدی نہیں…’’
اگلی صبح سورج چائے کی پیالی جیسا سنہرا تھا، جس میں آسمان کی نیلاہٹ گھلی ہوئی تھی۔ میں ‘‘تین آنکھوں والے’’ اسمارٹ ہوٹل کے کمرے سے نیچے اتری، جہاں نہ دربان تھا، نہ استقبالیہ۔ ایک چھوٹا سا روبوٹ میرے استقبال کو بڑھا، اور اْس نے مسکرا کر کہا
‘‘صبح بخیر، محترمہ لی! آپ کی کافی تیار ہے۔’’
میں چونکی۔ ‘‘لی؟’’
پھر یاد آیا، یہاں غیر ملکیوں کے نام بھی مشینیں آسانی سے بدل دیتی ہیں۔ میرا نام، میری شناخت… سب ڈیجیٹل ترجمے میں تحلیل ہو چکے تھے۔
ہوٹل کے باہر بیجنگ کی سڑکیں ایک نظم کی مانند کھنک رہی تھیں۔ سست رفتاری سے چلنے والی سائیکلوں کی جگہ اب بجلی سے دوڑتے ہوئے اسمارٹ بائیکس نے لے لی تھی۔ لیکن ان میں سے کچھ کے پیچھے اب بھی سرخ کپڑے میں لپٹی ٹفن کی چھوٹی سی گٹھریاں لٹکی ہوئی تھیں وہی ماں کے ہاتھ کی روٹی، بس اب ہوم ڈیلیوری سروس کی ‘ایپ’ میں چھپی ہوئی۔
میرا رخ ‘‘798 آرٹ زون’’ کی جانب تھا۔ یہ پرانی فیکٹریوں کی بستی ہے، جہاں لوہے کی بھٹیوں میں اب خواب تپائے جاتے ہیں۔ دیواروں پر لگے گرافٹی کسی صوفی کا کلام لگتے تھے ‘‘مشینوں میں سانسیں ڈالنا، یہی نئی شاعری ہے۔’’
ایک نوجوان چینی مصور سے ملاقات ہوئی، جس کے برش نے کسی زمانے کے سرخ انقلاب کو نیون روشنیوں میں لپیٹ کر دوبارہ جنم دیا تھا۔اس نے کہا ‘‘ہمیں ماضی سے محبت ہے، مگر ہم اْسے جیب میں رکھ کر چلتے ہیں، بوجھ بنا کر نہیں۔’’
شام کی طرف پلٹتے ہوئے میں ‘‘تھیان آن مِن اسکوائر’’ کے قریب رک گئی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں تاریخ کے پاؤں میں زنجیر بھی پڑی، اور پر بھی لگے۔
میرے آس پاس ہر شخص مصروف تھا۔موبائل پر وی چیٹ، چہرے پر سکون، اور قدموں میں رفتار۔ میں نے محسوس کیا، یہاں کے لوگوں کو اپنے ماضی پر فخر ہے، مگر وہ اْسے کسی عجائب گھر کی طرح نہیں رکھتے، بلکہ روز جیتے ہیں، روز برتتے ہیں۔
تبھی ایک بچی دوڑتی ہوئی میرے قریب آئی۔ اْس کے ہاتھ میں ہولوگرام پتنگ تھی، جو ہوا میں چمکتے ستارے بکھیر رہی تھی۔ اْس نے مجھ سے کہا، ‘‘یہ پتنگ بھی اب نیٹ سے کنٹرول ہوتی ہے!’’
میں مسکرا دی۔ ‘‘اور تم؟ تمہیں کون کنٹرول کرتا ہے؟’’
وہ ہنسی، اور بھاگ گئی۔
شاید یہی بیجنگ کا حسن ہے یہ سوالوں کا شہر ہے، جوابوں کا نہیں۔
رات کو واپس ہوٹل آ کر میں نے دوبارہ اپنی ڈائری کھولی اور لکھا
‘‘بیجنگ وہ خواب ہے، جو مصنوعی ذہانت سے بْنا گیا ہو، اور دادی اماں کی گود میں جا کر تعبیر پاتا ہو۔ یہاں دیواریں سنتی ہیں، مشینیں بولتی ہیں، اور انسان…؟ وہ اب بھی صرف محسوس کرتا ہے۔’’
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر کے آسمان پر نیون روشنیوں نے پھر سے ایک اڑدہے کی صورت اختیار کر لی تھی۔ شاید تہذیب کی نئی صورت… شاید بیجنگ کا اصل چہرہ۔ اور میں؟
میں تو ابھی آئینے میں جھانک رہی تھی۔ یہاں رہتے ہوئے ایک بات جو ہمیشہ دل کو چھو جاتی ہے کہ ‘‘یہاں ترقی نے فطرت کا دامن نہیں چھوڑا بلکہ اسے ساتھ لے کر چلی ہے…
دن چڑھتے ہی میں نے محسوس کیا کہ بیجنگ اب صرف تاریخ یا ٹیکنالوجی کا شہر نہیں رہا۔ یہ فطرت کا ہمراز بھی ہے۔ کھڑکی سے جھانکا تو سورج کی کرنیں کسی خاموش عبادت کی طرح سولر پینلز پر اتر رہی تھیں۔ ہوٹل کی چھت پر لگے سیاہ چمکتے پینل گویا آسمان سے دعا وصول کر رہے تھے، اور زمین کی گود میں روشنی کا صدقہ اتار رہے تھے۔
میری اگلی منزل ‘‘یانگ زہو سولر سٹی’’ کے ایک ماڈل ٹاؤن کی سیر تھی، جو بیجنگ سے باہر چند گھنٹوں کی مسافت پر تھا۔ ایک خودکار الیکٹرک بس نے مجھے اپنی آغوش میں لیا۔ کوئی شور نہیں، کوئی دھواں نہیں۔ جیسے ہوا کے بازو پر سفر ہو رہا ہو۔ راستے میں سبز پہاڑ، بامبو کے جھنڈ، اور ان کے بیچ چھپی ہوئی سولر پلیٹس، جن کی سطح پر سورج خود کو تکتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔
میں نے نوٹ کیا کہ سڑک کنارے لگے درختوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے روبوٹ صفائی کرتے پھرتے تھے۔ ایک راہگیر نے مجھے بتایا
‘‘یہ صرف صفائی نہیں کرتے، ان میں فضائی آلودگی کو جذب کرنے والے مائیکرو فلٹر بھی لگے ہیں۔’’ میں حیرت سے سن رہی تھی، جیسے کوئی قدرت اور ٹیکنالوجی کی محبت کی کہانی سنا رہا ہو۔
سولر سٹی میں پہنچ کر مجھے لگا جیسے کسی سائنسی خواب کا منظر ہوں۔ ہر گھر کی چھت پر سورج کی گود سے آئی روشنی کے خزانے سجے تھے۔ بچوں کا اسکول بھی ایک سبز عمارت تھی، جو دن کی روشنی سے اپنی بجلی خود پیدا کرتا، اور بارش کے پانی کو جمع کرکے پودوں کو سیراب کرتا تھا۔
ایک بزرگ خاتون سے ملاقات ہوئی۔ چہرے پر جھریاں اور ہونٹوں پر تبسم۔ وہ ایک چھوٹے باغ میں کام کر رہی تھیں، جہاں روبوٹک آبیاری نظام لگا تھا۔ میں نے پوچھا،
‘‘آپ جیسے سادہ سے دیہی لوگ اس سب میں گھبرا تو نہیں جاتے؟’’
وہ بولیں،
‘‘ہم نے تو صدیوں تک آسمان دیکھا ہے بیٹی، اب اگر آسمان ہم پر مہربان ہو گیا ہے، تو اس سے ڈرنے کا کیا فائدہ؟’’
میں نے سوچا ‘‘یہاں سورج صرف روشنی نہیں دیتا، یہ شناخت بن چکا ہے۔ ہر چھت پر اس کا ایک عکس، ہر دیوار پر اس کا نشان… گویا سورج نے شہر کے باسیوں سے وعدہ کیا ہو کہ میں تمہیں جلاتا نہیں، سنوارتا ہوں۔’’
واپسی پر بس میں بیٹھے بیٹھے میں نے ایک چھوٹے بچے کو دیکھا اس کے اسکول بیگ پر لکھا تھا:
?‘‘Green is not a colour, it’s our future.’’میں مسکرا دی۔ بیجنگ اب صرف ماضی کا فخر یا مستقبل کی دوڑ نہیں، بلکہ حال میں سانس لیتا ہوا ایک شعور ہے ایسا شعور جو یہ جان چکا ہے کہ اگر ترقی کرنی ہے، تو درختوں کا ہاتھ تھام کر، اور ہوا سے دوستی کر کے۔ یہ خیال ابھی دل کی زمین پر شبنمی حروف کی طرح چمک ہی رہا تھا کہ اسٹیشن کے لاو?ڈ اسپیکر نے آگے بڑھنے کا اشارہ دے دیا۔ میں نے ڈائری بند کی، سانس میں درختوں کی مہک سمیٹی، اور مستقبل کی پٹری پر قدم رکھا وہاں جہاں ہوا اور الگورتھم بغل گیر ہوتے ہیں۔
میری اگلی منزل ہانگڑو تھی۔ بلٹ ٹرین کے شیشوں سے باہر دوڑتے مناظر یوں بدلتے رہے جیسے کسی جادوئی ورق گر کتاب کے صفحے پلٹ رہے ہوں۔ چند ہی گھنٹوں میں میں نے خود کو ہانگڑو کے جدید اسٹیشن پر پایا، جہاں پلیٹ فارم پر اترتے ہی ایک نامعلوم سی روشنی نے میرا استقبال کیا۔ کوئی سویچ تلاشنے کی ضرورت نہ پڑی۔ سینسر نے میری آہٹ محسوس کی اور دھیمی نارنجی لائٹ نے میرے تھکے قدموں کو آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا۔ یہ شہر تھا مگر خواب کی سطح پر تیرتا ہوا۔ ایسا خواب جس میں جاگنے کا اختیار بھی کسی خفیہ الگورتھم کے پاس تھا۔
ہانگڑو کے ‘‘سٹی برین’’ کنٹرول روم تک پہنچنے کے لیے میں نے محض ایک کیو آر کوڈ اسکین کیا۔ بس کے دروازے نے پاس آ کر خود کو میرے قد کی مناسبت سے جھکا لیا، جیسے کوئی پرانا نوکر شرفاء کی تعظیم میں سر جھکاتا ہے۔ کھڑکی سے باہر دیکھتی تو محسوس ہوتا تھا کہ سڑکیں سانس لیتی ہیں۔ ٹریفک لائٹس اپنے رنگ مسافروں کے ہجوم اور رفتار کو پڑھ کر بدلتی تھیں۔ ایک لمحے کو میری نظر سامنے اشارے پر رکی سرخ سے ہرا ہونے میں صرف اتنا وقفہ لگا جتنا میں نے اپنی پلک جھپکی۔ میں نے دل ہی دل میں کہا ‘‘یہاں وقت بھی شاید کسی سرور پر اَپ لوڈ ہے، جہاں لیٹ ہونے کا کوئی بہانہ باقی نہیں رہتا۔’’
سٹی برین کے وسیع ہال میں داخل ہوتے ہی دیوار پر لگی دیوہیکل اسکرین گویا شہر کی دھڑکن کا گراف بن گئی۔ کہیں ٹریفک کے بہاؤ کے نیلے دھبّے، کہیں شہری حدِ رفتار کے سرخ نقطے، کہیں بارش کی آمد کے سنہری پھوار کی پیش گوئیاں۔ ایک انجینئر نے مسکرا کر بتایا ‘‘ہم نے شہر کو پڑھنا سیکھ لیا ہے اب یہ خود ہمیں پڑھاتا ہے۔’’ یہْ سْن کر میں نے سوچا، شاید یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی عقل اور شہر کی عقل ایک دوسرے کو آئینہ دکھاتی ہیں۔
شام ڈھلے میں ‘‘قِیان جیان نیو ٹاؤن’’ کی جانب نکل پڑی۔ یہاں ہر سڑک کے کنارے ننھے روبوٹ کوڑے دان سے کچرا چن رہے تھے۔ کوئی چیخا نہیں، کوئی ٹرک کا شور نہیں۔ بس پہیوں کے نرم سرسرانے کی آواز، اور کبھی کبھار کسی روبوٹ کی خفیف سی ونڈ چلڈ نوٹفکیشن۔ ایک بوڑھی خاتون راستہ پار کرتی دکھائی دیں۔ اسمارٹ زیبرا کراسنگ نے اْن کے چلنے کی رفتار کو پہچانا اور پورا ٹریفک روکے رکھا، یہاں تک کہ وہ مسکراتی ہوئی دوسری طرف پہنچ گئیں۔ میرے لیے یہ منظر اور بوڑھی خاتون کا احترام محبت اور اپنائیت کا خوبصورت لمحہ تھا شاید یہاں رْک جانا بھی رفتار کا حصہ ہے اور مہلت بھی ٹیکنالوجی کی مہربانی ہے۔
رات کو ویسٹ لیک کے کنارے کھڑی ہوئی تو پانی پر چاند کی پرچھائیں کے ساتھ رنگ بدلتی ایل ای ڈی فوارے جھلملا رہے تھے مگر فطرت خفا نہ تھی۔ ہر رنگ وسطِ جھیل میں عین اتنا چمکتا جتنا اردگرد بانس کے جھنڈ برداشت کر سکتے تھے۔ میں نے ہوا میں نمی اور الگورتھم کی ملی جلی
خوشبو محسوس کی جیسے چائے کی پیالی میں کسی نے ڈیٹا کی چٹکی شامل کر دی ہو۔
واپسی کے وقت موبائل ایپ نے میری رائیڈ خود منتخب کی اور بل کی ادائیگی بھی۔ میں نے غیر ارادی طور پر پرس کھولنا چاہا ، پھر ہنس دی یہ عمل اب کتابوں میں رہ گیا تھا۔ ہوٹل کی لابی میں داخل ہوئی تو بتیاں یکایک روشن ہو گئیں۔ لگتا تھا روشنی نے میرے اندر کے اندھیرے کو بھی پڑھ لیا ہو۔ ‘‘ ہانگڑو عالمِ خواب کی وہ گلی ہے، جہاں بٹن نہیں دبائے جاتے، ارادے پڑھ لیے جاتے ہیں اور شہر، جسے کبھی چین کے باسیوں نے بسایا تھا، اب خود بستیاں بساتا پھرتا ہے۔’’
ہانگڑو سے بیجنگ کی جانب سفر کرتے ہوئے میں نے اپنے سفریہ لمحوں کے ورق تہہ کرتے ہوئے محسوس کیا کہ ہر شہر نے میرے ہاتھ پر الگ الگ خطوط کھینچے، مگر جب انہیں جوڑا تو ایک ہی نقشہ بنا۔ وہ نقشہ جس میں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے کے بازو تھامے کسی طویل قوس کی صورت کفِ دست پر جھولتے ہیں۔ ممنوعہ شہر کے سرخ دروازوں سے لے کر ہانگڑو کے شفاف سینسر تک، میں نے دیکھا کہ تاریخ کبھی مرس نہیں ہوتی؛ وہ بس اپنا لبادہ بدلتی ہے اور اگلے پڑاؤ کے راستے پر کھڑی ہو کر ہمیں پکارتی رہتی ہے۔
بیجنگ نے مجھے سکھایا کہ اینٹ اور الگورتھم میں دشمنی نہیں؛ وہاں شہنشاہ کے خاموش ستونوں کے نیچے چہرہ شناس مشینیں دھڑکتے دل کی رفتار سے مسافروں کو سلام کرتی ہیں۔ پھر سولر سٹی کے سنہری پینل آئے، جہاں سورج نے ثابت کیا کہ وہ محض جلانے والا ستارہ نہیں، بلکہ زمین کے زخموں پر پھایا بھی رکھ سکتا ہے۔ اور آخر میں ہانگڑو وہ خوابوں کا سمارٹ شہر جہاں لائٹس خود بیدار ہوتی ہیں، کچرا خود غائب ہو جاتا ہے، اور سڑکیں سانس لیتی ہیں؛ وہاں انسان کے ہاتھ میں صرف ایک ایپ رہ جاتی ہے، مگر دل کی جیب میں پورا جہاں۔
ان سب مناظر کے بیچ میں نے محبت کو دیکھا وہ محبت جو دیوارِ چین کی صدیوں پرانی اینٹوں میں بھی چھپی تھی، اور سٹی برین کے شیشے جیسے نیورونز میں بھی۔ ایک بوڑھی دیہاتی عورت کے ہاتھوں میں بیجوں کی تھیلی اور سٹی برین کے انجینئر کے ہاتھوں میں ڈیٹا کی پوٹلی دونوں ایک ہی دعا مانگتے تھے: ‘‘زمین بے خوف سانس لے، اور انسان بے وجہ بھاگے نہیں۔’’
یقینا اگر ٹیکنالوجی کو فطرت کا دل مل جائے اور فطرت کو ٹیکنالوجی کی عقل، تو شہر صرف شہر نہیں رہتے وہ آغوش بن جاتے ہیں۔’’
مجھے لگتا ہے بیجنگ، ہانگڑو، شینڑین یہ سب آغوشیں ہیں، جہاں بچے روبوٹ کے ساتھ کھیلتے ہیں اور درخت الگورتھم کی لوری پر جھومتے ہیں۔ یہاں ترقی نے کبھی فطرت کا دامن نہیں چھوڑا، بلکہ اس کے بدن پر سبز دوپٹا ڈال کر ساتھ چل پڑی ہے۔ میں نے وہ دوپٹا ہوا میں لہراتے دیکھا اور جان لیا کہ شاید یہی نئے زمانے کا جمال ہے جہاں سکرین کی نیلی روشنی اور پتے کی سبز نمی ایک دوسرے کو بوسہ دے سکتی ہے۔
اب میں رختِ سفر لپیٹتی ہوں۔ بلٹ ٹرین کی روانگی کا اعلان ہوا چاہتا ہے، مگر دل کے پلیٹ فارم پر کوئی جلدی نہیں۔ میں جانتی ہوں آنے والے دنوں میں جب کبھی میری آنکھیں دھندلا جائیں گی، تو یہ شہر اپنے سولر چراغ جلا کر میرے اندر کا اندھیرا دور کر دیں گے۔ اور تب میں ہنس کر کہوں گی ‘‘میں نے دیواروں کو بولتے، سڑکوں کو چلتے اور سورج کو محبت کرتے دیکھا ہے اب مجھے تنہا ہونے کا خوف نہیں۔
یہ سفر ختم ہوا، پر کہانی باقی ہے۔ جو بھی مسافر دل میں سوال لے کر بیجنگ کے آئینے میں جھانک کر دیکھے: وہاں اسے اپنا چہرہ نہیں، انسانیت کا مشترکہ پرتو ملے گا ایک ایسا پرتو جو کہتا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کے ہاتھ کی لکیر میں لکھے ہوئے شہر ہیں اگر ہاتھ تھام لیں تو راستے خود
روشن ہو جاتے ہیں۔ -

عبدالحئی بشارت کے شعری مجموعہ کی تقریب رونمائی اور مشاعرہ
میٹرو ا ادبی فورم ( کینیڈا) کے زیر اہتمام تقریب پذیرائی و مشاعرہ شعری مجموعہ (چلتے رہنا) شاعر عبدلحئی بشارت ، تقریب کا انعقاد ٹورنٹو کے مقامی ریسٹورنٹ کے پارٹی ہال میں کیا گیاتقریب کی مسند صدارت پر امریکا سے تشریف لائے نظم کے ممتاز شاعر اور امریکا میں ادب و زبان کے فروغ کے تعلق سے جانی پہچانی شخصیت جناب باسط جلیلی جلواہ افروز رہے،جبکہ مہمانان خصوصی میں نوجوان نسل کی نمایندہ شاعرہ جنہیں خصوصی طور پر امریکا سے مدعو کیا گیا یاد رہے کہ حمیرا گل تشنہ کینڈا کے ادبی حلقوں میں اپنی شاندار شاعری کے سبب بیحد پسند کی جاتی ہیں ، اسی طرح مہمانان خصوصی میں کینڈا سے اردو اخبار پاکستان ٹائم کے چیف، محمد ندیم شامل تقریب رہے محمد ندیم نہ صرف کینڈا سے اردو اخبار شائع کرتے ہیں بلکہ زبان و ادب کی خدمات کے تعلق سے ان کی کاوشات اہل کینڈا پر عیاں ہیں ،صدر تقریب اور مہمانان خصوی کے علاوہ
جن احباب کو مسند پر مدعو کیا گیا ان میں ممتاز شاعرہ اسما ناز وارثی اور آصف جاوید شامل رہے اسماناز وارثی نے صاحب اعزاز اور صاحب کتاب (چلتے رہنا) پر تادیر گفت گو فرمائی ان کے اظہار خیال کو خوب پسند کیا گیا اور سامعین نے خوب داد سے نوازہ
آصف جاوید جن کا کینیڈا میں قیام کم و بیش ۳۵ برس سے ہے، آصف جاوید نہ صرف صحافی ہیں بلکہ ٹی وی چینل پر میزبانی کے فرائض بھی ادا کرتے ہیں، اور دنیا بھر میں رہنے والے احباب انہیں ان کی سالانہ دعوت حلیم کے تعلق سے بھی جانتے ہیں آصف جاوید کینڈا میں سالانہ سب سے بڑی دعوت حلیم کا اہتمام کرتے ہیں ان کی دعوت حلیم میں تمام مکاتب فکر سے وابسطہ احباب ہزاروں کی تعداد میں اپنی شرکت یقین بناتے ہیں اور کینڈا میں مقیم احباب ان کی سالانہ دعوت حلیم کے منتظر رہتے ہیں۔ آصف جاوید نے صاحب کتاب اور کتاب پر شاندار گفت گو فرمائی اور صاحب کتاب کو مبارک باد پیش کی، تقریب کے دوسرے حصے میں مشاعرے کا اہتمام کیا گیا مشاعرے میں امریکا اور ٹورنٹو سے اہم شعرا کو مدعو کیا گیا مشاعرے میں شریک شعرا کرام کے اسم گرامی: صدر مشاعرہ باسط جلیلی مہمانان خصوصی حمیرا گل تشنہ، محمد ندیم، مہمانان اعزاز میں جمیل قمر، اسماناز وارثی ، قیصر وجدی رفیع رضا، ندیم رشید، منیف اشہر، بشارت ریحان،سلمان اطہر، ڈاکٹر صغیر، ڈاکٹر عظمی محمود، فیصل عظیم، توقیر اے خان، بابر عطا، سلیم افتخار بیگ ، صبیحہ خان صبیحہ ، انصر قریشی ،بشری سعید، خالد و بیگم خالد و دیگر نے کلام پیش کیااختام مشاعرہ باسط جلیلی نے صاحب کتاب بشارت عبدحئ کو اشاعت مجموعہ پر مبارک باد پیش کی اور اپنا شاندار کلام پیش کیا، کینینڈا کی ہر دل عزیز شخصیت اور کئی ادبی تنظیموں کے ڈائریکٹر باکمال شاعر بشارت ریحان ، نے صاحب کتاب کو مبارک باد پیش کی اور میٹرو ۱ ادبی فورم کے کارکن قیصر وجدی کو شاندار تقریب کے انعقاد پر خوب سراہا، اختام تقریب میٹرو ۱ ادبی فورم کی جانب سے مہمانان کی خدمت میں شاندار پرتکلف و پر ذائقہ عشائیہ پیش کیا گیا، میٹرو ۱ ادبی فورم سے وابسطہ قیصر وجدی، نے میٹرو ۱ نیوز کے ڈائرکٹر امیر علی چانڈیو، اور سی ای او عامر مسعود شیخ کے تعاون کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ میٹرو ۱ ادبی فورم آئندہ بھی ادبی تقریبات کا انعقاد یونہی جاری رکھے گا اور کہا کہ ادبی تقریبات کا انعقاد ہمارا کاروبار نہیں عبادت ہے، اس خوبصورت اظہار خیال کے بعد تقریب پذیرائی و مشاعرہ اپنی شاندار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا -

ٹورنٹو میں ریحان بشارت کی ًمحفل……حمیرا گل تشنہ
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے منعقد ہونے والی تقریبات ہمیشہ سے ہی اپنی رونق، ثقافتی رنگا رنگی اور باہمی محبت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ایسی ہی ایک شاندار اور یادگار دعوت کا اہتمام معروف شاعر و سماجی شخصیت “بشارت ریحان” نے کیا، جس میں پاکستان اور امریکہ سے خصوصی طور پر تشریف لائے ہوئے خصوصی مہمانان گرامی، اور مقامی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ یہ محفل نہ صرف دوستی اور بھائی چارے کا مظہر تھی، بلکہ اس میں پاکستانی ثقافت، روایات اور مشترکہ اقدار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ بشارت ریحان نے اپنی دعوت میں پاکستانی اور کینیڈین ثقافت کے امتزاج کو پیش نظر رکھا۔ تقریب کا مقصد نہ صرف مہمانوں کے ساتھ خوشگوار لمحات گزارنا تھا، بلکہ اس کے ذریعے پاکستانی کمیونٹی کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانا بھی تھا۔ اس موقع پر خصوصی طور پر پاکستان سے تشریف لائے ہوئے ساکنان شہر قائد کے منتظم اعلی محمود احمد خان نے شرکت کی، جنہوں نے تقریب کو اپنی موجودگی سے مزید معنویت بخشی۔ اور امریکہ سے یہ خاکسار بھی اس کینیڈا میں موجود تھی تو ہمیں بھی دعوت دی گئی۔دعوت میں دیگر معزز شخصیات میں روشن خیال، سردار خان، طارق راز، قیصر وجدی، سلمان اطہر، بشری سعید ، عبدالحئی اور ناظم الدین مقبول جیسے نام شامل تھے، جنہوں نے محفل کو اپنی شرکت سے نوازا۔ یہ تمام افراد اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور پاکستانی کمیونٹی کی ترقی اور بہبود کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ محمود احمد خان نے کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستانی نسل ہمیشہ سے ہی محنت اور لگن کی پہچان رہی ہے۔ انہوں نے بشارت ریحان کے اس خوبصورت اہتمام پر انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ “ایسی تقریبات نہ صرف تعلقات کو مضبوط بناتی ہیں، بلکہ یہ پاکستانی ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کا بھی ایک ذریعہ ہیں۔” تدعوت کا اہتمام مقامی ہوٹل میں کیا گیا جہاں پاکستانی کھانوں کا ایک وسیع انتخاب پیش کیا گیا، جس میں بریانی، پائے، نہاری، حلیم، کباب، کڑھی، چھولے، اور مختلف قسم کے میٹھے شامل تھے۔ مہمانوں نے کھانوں کی تعریف کی اور اسے پاکستانی ذائقے کا بہترین عکس قرار دیا۔ دعوت کے اختتام پر بشارت ریحان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی موجودگی نے اس دعوت کو یادگار بنا دیا۔ آخر میں سب کی تصاویر لے کر اس خوبصورت شام کی یاد کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا گیا۔بشارت ریحان کی جانب سے ٹورنٹو میں منعقد کی گئی یہ دعوت نہ صرف پاکستانی ثقافت اور روایات کی عکاس تھی، بلکہ اس نے پاکستانی کمیونٹی کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کو بھی فروغ دیا۔ اس تقریب نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، وہ اپنی روایات اور تہذیب سے جڑے رہنے والے بے حد مہمان نواز لوگ ہوتے ہیں۔ یہ محفل ایک بار پھر اس بات کی گواہ بنی کہ پاکستانی قوم محبت، یکجہتی اور خوش اسلوبی کی پیکر ہے۔ بشارت ریحان کا یہ اقدام قابل تعریف ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی تقریبات منعقد ہوتی رہیں گی، جو نہ صرف پاکستانیوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنائیں گی، بلکہ کینیڈا جیسے ملک میں پاکستانی ثقافت کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
-

مغربی ممالک کی شہ پر اسرائیلی جارحیت اور ایران۔۔۔۔۔۔تحریر سرور غزالی
اس وقت دنیا میں مختلف مقامات پر جنگیں جاری ہیں اور یہ جنگیں کسی وقت بھی کسی جوہری جنگ میں تبدیل ہونے کے بہت قریب ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ایٹمی حادثے، ایٹمی ریکٹر کی تباہی کے نتیجے میں شعاؤں کے اخراج یا اور دوسری طرح کی تباہی اور بربادی کے خدشات بھی دنیا کے 99 فیصد امن پسند شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں لیکن اس تشویش اور پریشانی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے دنیا کے چند سو ہا ہزار افراد جو دنیا پر حکومت کر رہے ہیں، دنیا کی مختلف حکومتوں کے سربراہ ہیں، ایٹمی توانائی اور دیگر فوجی تنصیبات کے ذمہ دار ہیں، فوجی ساز و سامان کی تیاری کے کمپنی کے مالکان ہیں، دنیا کے 99 فیصد افراد کے خدشات کو یکثر نظر انداز کر کے دنیا کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں دنیا کے ایک دم سے بھک سے اڑ جانے کا کوئی خوف نہیں جبکہ ایسا نہیں کہ انہیں ایسے کسی حادثے کا ادراک نہ ہو۔
یوکرین کی جنگ میں پہلے یورپ میں ایک بارود سے بھری فضا تیار کی گئی اور پرانے حواری ایک دوسرے کے سامنے میدان جنگ میں مد مقابل کھڑے ہو گئے اس کا فائدہ صرف اور صرف اسلحے کی تیاری کی کمپنیوں کو ہو رہا ہے دیگر ترقیاتی مد کو کم کر کے فوجی ساز و سامان کی مد میں رقم مختص کرنے کی ایک دوڑ یورپ میں شروع ہو چکی ہے۔ لیکن یورپ اور روس کی یہ جنگ ایک ہم پلہ جنگ ہے۔ چونکہ اس میں ایک طرف روس اور اس کے حواری اور دوسری طرف یورپ اور امریکہ کے زیر اثر تمام ممالک شامل ہیں۔ جب کہ ایران تن تنہا ہے اور اسرائیل کے ساتھ پوری مغربی طاقت مل کر اس جنگ کو یک طرفہ جاریت میں بدل دے رہی ہیں۔
امریکہ یورپ اور اسرائیل نے مل جل کر پہلے ہی مشق وسطی سے عراق شام اور لیبیا جیسے ممالک کو زیر کر لیا ہے یہ وہ ممالک تھے جو کبھی مغربی طاغوتی قوت کے خلاف سینہ سپر تھے مگر اج ان ممالک میں جس طرح کی انار کی اور جنگی صورتحال موجود ہے وہ کسی بھی طرح کی کوئی مغربی جارہیت کے خلاف آواز اٹھانے سے معذور ہیں۔ یہ ساری جنگیں اور ان ممالک کو بے بس کرنے کے پیچھے صرف اور صرف ایک ہی پالیسی کام کرتی رہی ہے کہ ان ممالک کے تیل اور معدنیات پر مغرب کا قبضہ ہو سکے گو کہ ان جنگوں کے نتیجے میں افغانستان میں ہونے والی جنگ پس پشت چلی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے اس پیش قدمی کا آغاز ہوا تھا۔ شام میں روس کی شکست کے بعد مغربی طاقتوں کے لیے تمام راہیں کھل گئی تھیں اور اسرائیل نے غزا میں فلسطینیوں سے عملا” ان کا ملک چھین کر فلسطینی قوم کو تباہ و براد کر دیا، لبنان سے حماس نے جب فلسطین کی مدد کرنے کی کوشش کی تو شدید بمباری کے بعد حماس کو بھی خاموش کرا دیا۔ اسرائیل کے اغوا شدگان افراد کی بازیابی کی اڑ میں اسرائیل نے نہ صرف غزا میں کشت و خون کا بازار گرم کیا بلکہ لبنان کے بیروت تک کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا اور یمنی حوتی مسلح افواج کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا اس سلسلے کی اگلی کڑی اسرائیل کے ازلی دشمن ایران کو سزا دینے کے لیے ٹھیک اسی طرح جس طرح عراق پر جھوٹا الزام لگایا گیا تھا کہ اس کے پاس زہریلی کیمیائی ہتھیار ہیں، ایران پر یہ جھوٹا الزام لگا کر کہ ایران ایٹمی بم بنانے کے بالکل قریب ہے۔ اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے اس کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ اور اس کے سرکردہ فوجی افسران کو قتل کر دیا ہے۔ گو کے فی الوقت ایران کی جوابی کاروائی جاری ہے اور ایران اسرائیلی جارہیت کا شکار ہے مگر ساری دنیا سے مغربی طاقتیں اسے ایران کی ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کا جھوٹا فسانہ بنا کر ایران کو سزا دینے کے در پے ہیں۔ اور امریکہ بھی اس جنگ میں کودنے کی تیاری کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے پہلی بھی نام نہاد جوہری طاقت کے پھیلاؤ کو روکنے کے ادارہ کے ساتھ تعاون کیا اور اس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اپنے ملک میں یورینیم کی افزائش کی پابندی کو تسلیم کرنے کے باوجود دیگر پابندیوں اور مشکلات سے نبرد آزما رہا۔ اور اسرائیلی حملے کے وقت بھی عمان میں مذاکرات چل رہے تھے۔
لیکن غزا میں اسرائیلی جاریت اور کشت و خون کا بازار گرم کرنے اور فلسطینیوں پر خوراک کی پابندی لگا کر نہتے عوام کی قتل و غارت گری سے نیتنیاہو کا جو امیج تیزی سے خراب ہو رہا تھا۔ حتی کہ تمام مغربی سربراہان نیتن یاہو کے خلاف اپنا بیان داغ رہے تھے اور ایسے میں اسرائیل نے ایران پر ایک جھوٹا الزام لگا کر اور حملہ کر کے ان تمام مغربی سربراہان کو اپنی طرف کر لیا ہے اور نتنیاہو ایک بار پھر ان سب کا ہیرو بن چکا ہے۔
ایسی سفاکانہ اور تشدد پسند جنگی صورتحال میں ہندوستان چین اور روس بھی کوئی عملی قدم اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں بلکہ ہندوستان پر تو یہ الزام عائد ہو رہا ہے کہ وہ درپردہ اسرائیلی جارہیت کی حمایت کر رہا ہے اور را کے ایجنٹ اسرائیلی ایجنٹ کے ساتھ مل کر ایران کو اندرونی طور سے غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ روس کو بھی اس جنگ کا کسی نہ کسی طریقے سے فائدہ حاصل ہو رہا ہے کہ مغربی ممالک کی تمام تر توجہ اس وقت مشرق وسطی پر لگی ہے اور ایسے میں یہ روس کے لیے سنہرا موقع ہے کہ وہ یوکرین میں اپنے جنگی اہداف کو مکمل کر سکے۔
اس مغربی جنگی جنون کا حل کچھ بھی نکلے ہار ایران کی ہو یا اسرائیل کی شکست اس کا فائدہ صرف اور صرف جنگی فوجی سامان تیار کرنے والی کمپنیوں کو ہوگا اور اس جنگی ساز و سامان کی ترسیل سے ہونے والی آمدنی کی رقم سے تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کی تعمیر نو میں خرچ کرنے کا ڈھونگ رچایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی بلو ہیلمٹ والی فوج کی تعیناتی کا بوجھ کمزور ملک پر ڈال دیا جائے گا۔ اب تک یہی تماشہ ہوتا آیا ہے۔ مگر دنیا کے حالات بھی تیزی سے بدل رہے ہیں اور یہ جنگ امریکی ڈالر کی بقا کی آخری جنگ ہوگی جس کے بعد شاید مغربی معیشت اپنی تباہی کے دہانے پر کھڑی ہو گی۔ -

مودی راج، 11سالہ دور جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر قائم
نئی دہلی (کنزیومر واچ نیوز)نااہل مودی حکومت جھوٹ پر مبنی بیانیے، حقائق چھپانے اور میڈیا کے ذریعے سچ کو دفنانے میں مہارت رکھتی ہے۔مودی کی قیادت میں سچ، احتساب اور شفافیت غائب ہوگئی جبکہ صرف فوٹو شوٹس اور جھوٹے اشتہارات باقی ہیں۔ احمدآباد طیارہ حادثہ میں 270 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، مگر مودی سرکار کی جانب سے صرف خاموشی اور بے حسی دکھائی دی۔مودی راج میں نئے ایئرپورٹس کے افتتاحی فیتے تو کاٹے جا رہے ہیں، مگر DGCA میں 48 فیصد اور ایوی ایشن اداروں میں 37فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ بھارتی سول ایوی ایشن کا نظام شدید عملے کی کمی کا شکار ہے۔سال 2017 سے 2022 کے درمیان 244 ریلوے بڑے حادثات ہوئے لیکن مودی کی توجہ صرف بھارت کی نئے ٹرینوں کی افتتاحی تقریبات پر رہی۔اشتہاروں میں ’’شائننگ انڈیا‘‘ لیکن حقیقی بھارت بھوک، غربت اور افلاس کا شکار ہے۔ بھارت ہنگر انڈکس میں 127 میں سے 105 پر آچکا ہے۔ مودی نے 2016 میں نوٹ بندی کو ’’ماسٹر اسٹروک‘‘ فیصلہ کہا لیکن آج بھی آڈٹ کا کہیں ذکر تک نہیں۔مودی راج میں سوال پوچھنے والا ’’غدار‘‘، بھارت صحافتی آزادی میں 151 ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ مودی کا ’’گودی میڈیا‘‘ صرف جھوٹ دکھانے میں مصروف ہے۔کورونا میں صرف انسان نہیں مرے، سچ بھی دفن ہوا، مودی کے اپنے گجرات میں اموات 33 گنا زیادہ رہی جبکہ سرکاری گنتی فراڈ نکلی۔ مودی سرکار نے پارلیمنٹ کو آج تک نہیں بتایا کہ لاک ڈاؤن میں کتنی چھوٹی صنعتیں بند ہوئیں، کتنے مزدور بے روزگار ہوئے، سچ آج بھی دفن ہے۔پلوامہ حملے میں 40 بھارتی جوان ہلاک ہوئے مگر 6 سال بعد بھی نہ انصاف ملا، نہ سچ سامنے آیا۔ پلوامہ اور پہلگام حملوں پر صرف مودی نے اپنی سیاست چمکائی۔کمبھ میلہ بھگدڑ کی اموات پر بھی مودی نے عوام کو گمراہ کیا۔ بھارتی حکومت نے 37 اموات بتائیں لیکن بی بی سی رپورٹ کے مطابق 82 افراد جان سے گئے۔پہلگام حملے پر بھی مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے عوام کو گمراہ کیا، سیاحوں کی سیکیورٹی مکمل طور پر ناکام رہی۔مودی سرکار کی سفارتی ناکامی واضح ہے، کینیڈا سے تعلقات کشیدہ ہیں کیونکہ نجر قتل پر خاموشی ہے۔ مودی کا دور بھارت کی ناکامی کا دور ثابت ہو رہا ہے۔
-

ایران نیوکلیئر سائٹس پر حملوں کی سخت مذمت، اسرائیل رجیم کو روکنا ہوگا،بلاول بھٹو
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں اظہار خیال کررہے ہیں۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران کی نیوکلیئر سائٹس پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں، اسرائیل نے جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی، ایران کی ملٹری قیادت کو جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ ان کے گھر میں ٹارگٹ کیا گیا ، ایرانی سائنسدانوں کو ٹارگٹ کیا، سب سے بڑی خلاف ورزی ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل امریکا نے ایران کی ایٹمی سائٹ پر حملہ کیا، ایران میں ایٹمی تنصیبات پر حملے میں اگراخراج ہوتا تو سارے خطےخصوصاًپاکستان پر اثرات ہوتے، امریکا کے لوگ اس جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ پہلے یہی عراق کے بارے کہا گیا اور اب ایران کے بارے میں کہا کہ ان کے پاس ویپن آف ماس ڈسٹرکشن ہیں، پہلے وہ لبنان آئے، یمن آئے اور اب ایران آگئے، اگر ہم اب نہ بولے تو جب وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں ہوگا، اسرائیل کی رجیم کو روکنا ہوگا۔ -

ایران کا اسرائیلی پاور پلانٹ پر میزائل حملہ
تہران (کنزیومر واچ نیوز)ایران نے صہیونی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر کئی میزائل داغے ہیں جس کے بعد جنوبی اسرائیل میں ایک میزائل نے پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، کئی اسرائیلی شہروں میں دھماکے سنے گئے ہیں۔الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل الیکٹرک کارپوریشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک اسٹریٹجک انفرااسٹرکچر کے قریب میزائل گرا ہے، جس کے نتیجے میں کئی قصبات میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔حملے کے دوران تقریباً 35 منٹ تک سائرن بجتے رہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی عوام نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد آج سب سے طویل وقت پناہ گاہوں میں گزارا ہے۔اسرائیلی فوج ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں، اسرائیلی میڈیا کے مطابق نہاریا، گشر حزیو، حیلا، میعونا اور میعیلیا سمیت کئی شہروں میں سائرن بجنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے اوپر ایک میزائل کو بلند فضا میں اڑتے دیکھا گیا، جس کے بعد فاصلے پر متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم 4 مقامات پر میزائل گرنے کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں ایک اشدود اور ایک مغربی مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں واقع ہے۔تاہم ان مقامات کی نوعیت یا وہاں کیا نشانہ بنایا گیا، اس بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ اسرائیل میں فوجی سنسر شپ کے تحت ویڈیوز یا معلومات شیئر کرنے پر سخت پابندیاں عائد ہیں اور خلاف ورزی پر قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔اس وجہ سے اس بات کی تصدیق کرنا مشکل ہے کہ کون سی تنصیبات یا علاقے متاثر ہوئے ہیں اور نقصان کی نوعیت کیا ہے۔13 جون کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے، اطلاعات کے مطابق ایران نے اب تک تقریباً 450 بیلسٹک میزائل اسرائیل پر داغے ہیں۔
10 روز سے جاری ایرانی میزائل حملوں سے اسرائیل میں شدید نقصانات
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق گزشتہ 10 دنوں کے دوران ایران کے تابڑ توڑ میزائل حملوں سے اسرائیل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔زیادہ تر نقصان مرکزی اسرائیل میں ہوا ہے، لیکن حیفا جیسا اہم اسٹریٹجک شہر بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہا ہے۔ ایک واقعے میں ایک میزائل اپنے ہدف سے ٹکرایا لیکن سائرن نہیں بجے، اسرائیلی فوج نے تحقیقات کے بعد تصدیق کی کہ یہ میزائل ایرانی تھا، اور کوئی دفاعی میزائل غلطی سے فائر نہیں ہوا تھا۔اس مسلسل اور شدید صورتحال کے باعث 30 ہزار سے زائد اسرائیلی شہریوں نے معاوضے کے لیے درخواستیں دی ہیں، جب کہ کئی سو افراد کو متبادل رہائش اختیار کرنا پڑی ہے۔مقامی حکام ان فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روزانہ 40 لاکھ ڈالر سے زائد رقم خرچ کر رہے ہیں۔ -

اسرائیل کا 6 ایرانی ہوائی اڈوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ
تل ابیب (کنزیومر واچ نیوز)اسرائیلی فوج نے ایران کے مغربی، مشرقی اور وسطی علاقوں میں واقع کم از کم 6 ہوائی اڈوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی فوج نے صوبہ لورستان میں جدید اسرائیلی ڈرون مار گرایا، صوبہ یزد میں اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے 10 ارکان شہید ہوگئے۔الجزیرہ کے مطابق ’ایکس‘ پر جاری کردہ بیان میں اسرائیل نے کہا کہ ان حملوں میں ریموٹ کنٹرول طیاروں کے ذریعے ایران کے 15 طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو تباہ کیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ان حملوں میں رن ویز، زیرِ زمین بنکرز، ایک ایندھن بھرنے والا طیارہ اور ایرانی حکومت کے زیرِ استعمال ایف-14، ایف-5 اور اے ایچ ون طیاروں کو نقصان پہنچا ہے‘۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ’فضائیہ نے ان ہوائی اڈوں سے پرواز کی صلاحیت اور ایرانی فوج کی فضائی طاقت کے آپریشن کو متاثر کیا ہے‘۔تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اتوار کو ایران کے صوبہ یزد پر اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے کم از کم 10 اہلکار شہید ہو گئے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملوں میں پاسداران انقلاب کے متعدد دیگر اہلکار زخمی بھی ہوئے، تاہم ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ 13 جون کو شروع کیے گئے اچانک حملوں کے بعد سے اب تک ایرانی فوج کے دو درجن کمانڈرز اور جوہری سائنس دان شہید کیے جاچکے ہیں۔دوسری جانب، ایرانی میڈیا نے آج صبح ایرانی فوج کی جانب سے مار گرائے جانے والے اسرائیل کے جدید ہرمس 900 ڈرون کی فوٹیج نشر کی ہے۔لورستان نیوز نے ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ ڈرون پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے صوبہ لورستان کے شہر خرمآباد میں ایک کارروائی کے دوران مار گرایا۔
