اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہےکہ بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا لہٰذا وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔اسلام آبادمیں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز کے یوم تاسیس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر جارحیت مسلط کی اور ہم نے بھارتی جارحیت کا فوری اور موثر جواب دیا، بھارت نے پہلگام واقعہ پر جھوٹا ڈراما رچایا ، بھارت اپنی پالیسیوں پر ایک بار نظر ثانی کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے، بھارت آبی دہشت گردی کرکے 24 کروڑ پاکستانیوں کو یرغمال بنانا چاہتا ہے، بھارت اپنی مرضی پاکستان پر مسلط نہیں کرسکتا، بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا ، بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے اس مسئلے کے پرامن حل سے خطے میں امن ہوگا، بھارت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے اور پاکستان پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل پیرا ہے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران اسرائیل جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، پاکستان ایران کے قانونی مؤقف کی ہمیشہ تائید کرتا رہا ہے، ایران کے جوہری مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے جب کہ غزہ میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں ، پاکستان کو مشرق وسطی کی حالیہ صورتحال پر تشویش ہے۔
Blog
-

’ کانٹا لگا گرل ‘ سشیفالی کو سدا جوان رہنے کی خواہش لے ڈوبی
ممبئی(کنزیومر واچ نیوز)’ کانٹا لگا گرل ‘ سے مشہور شیفالی جریوالا گزشتہ ہفتے اچانک 42 برس کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں ۔بھارتی میڈیا کے مطابق 27 جون کو شیفالی کو ممبئی میں ان کی رہائش گاہ سے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں مردہ قرار دیا۔اسپتال کےعملے نے تصدیق کی کہ شیفالی اسپتال لائے جانے سے پہلے ہی انتقال کر چکی تھیں، اگرچہ ابتدائی رپورٹس میں شیفالی کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی تھی تاہم حکام موت کی حتمی وجہ تاحال تلاش کررہے ہیں۔
شیفالی دل کے علاج کی کوئی دوائی نہیں لیتی تھی: ذاتی معالج
بھارتی میڈیا سے گفتگو کے دوران طویل عرصے تک شیفالی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ شیفالی کو حالیہ چند سالوں کے دوران کسی سنگین طبی حالت کا سامنا نہیں رہا، اس کے برعکس وہ تقریباً 5 سے6 سال سے اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ کروارہی تھیں۔
شیفالی کے ڈاکٹر کے مطابق انہیں دل کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا اور نہ ہی شیفالی نے کبھی دل کے علاج سے متعلق کوئی دوا لی تھی، وہ فٹ اور کم عمر دکھنے کیلئے ٹریٹمنٹ اور میڈیسن لے رہی تھیں۔
مرنے سے قبل شیفالی نے کون سا انجیکشن لگایا تھا؟
پولیس کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق شیفالی باقاعدگی سے خالی پیٹ اینٹی ایجنگ انجیکشن لیتی تھیں، مرنے سے قبل دوپہر کے وقت بھی شیفالی نے اپنا اینٹی ایجنگ انجیکشن لیا تھا جس کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری ہوگئی اور وہ بے ہوش گئیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق بے ہوش ہوجانے کے بعد شیفالی کواسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی، پولیس حکام نے شیفالی کے گھر سے تمام دوائیں ضبط کر لی ہیں۔ -

بزم ادب برلن ۔۔۔۔۔۔ عاطف توقیر سے ایک ملاقات تحریر سرور غزالی
برلن کے ایک مقامی ریسٹور!ں، خان بابا میں، گزشتہ روز شام چار بجے ایک ادبی نشست رکھی گئی۔ یہ ادبی نشست دراصل ایک شام تھی جو مشہور و معروف شاعر و صحافی عاطف توقیر کے اعزاز میں منائی گئی۔ خان بابا کے خوبصورت ریسٹورنٹ کے وسیع ہال میں عاطف توقیر کے اعزاز میں رکھی گئی اس شام میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں ان کے مداح جمع تھے۔ عاطف توقیر گزشتہ دو ہفتوں سے برلن میں مقیم رہے اور بزم ادب برلن کی درخواست قبول کرتے ہوئے کسی شام ملاقات کا وعدہ کیا اور پھر وہ اس شام یعنی 15مئی کو تشریف بھی لائے۔ ادبی حلقے سے اس تقریب کے روح رواں حنیف تمنا بھی تھے جبکہ تقریب کو منعقد کرنے مہمانوں کو مدعو کرنے میں سرور غزالی، منظور اعوان اور خان بابا ریستوراں کے مالک سعید صاحب پیش پیش تھے۔ شرکا میں شامل رہے
مشہور و معروف شاعر حنیف تمنا،
مشہور شاعر اور صحافی عاطف توقیر، برلن کے ایک اور مشہور شاعر اور افسانہ نگار رشی خان، علم و ادب کے دلدادہ عروج حیدر اور ان کی بیگم مشہور شاعرہ ما یا حیدر، پاکستان پریس کلب برلن کے صدر اور پاکبان رسالے کے مدیر اعلی ظہور احمد، مشہور سماجی رہنما اور تاجر منظور احمد اعوان اور ان کی بیگم آسیہ اعوان، نوجوان اور ابھرتے ہوئے شاعر اشتر اعوان عباس اور ان کی بیگم زہرہ بتول، برلن کی سماجی اور سیاسی معروف شخصیت میاں اکمل لطیف، برلن میں کچھ ہی عرصہ قبل یہاں کے ادبی حلقوں میں شامل ہوئی، ندائے زہرا جو خود بھی ایک اچھی شاعرہ ہیں اور برلن کے ہی شاعر و ادیب پروفیسر سرور غزالی۔
تقریب کے آغاز میں تمام شرکاء نے عاطف توقیر سے اپنا تعارف کروایا اور سرور غزالی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے تمام شرکاء کو عاطف توقیر کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا اور عاطف توقیر نے زباں اور مکاں، کائنات اور گردش لیل و نہر کے بارے میں ایک پر مغز لیکچر دیا جس کے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہوا اور ادبی مباحٹہ شروع ہوا۔ اس گفتگو کے اختتام پر ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت برلن کے مشہور شاعر جناب رشی خان کے سپرد کی گئی۔ مشاعرے کے آغاز پہ نظامت کار سرور غزالی نے اپنی ایک نظم “مٹی کے مادھو پیش” کی اور اس کے بعد معروف شاعرہ مایا حیدر نے اپنی ایک خوبصورت نظم اور ایک غزل پیش کی جس کے بعد برلن کے مشہور شاعر جناب حنیف تمنا نے اپنی چند ایک غزلیں اور ایک خوبصورت طویل نظم سنائی اس مشاعرے میں اشتر عباس نے خوبصورت غزل سنائ جس کے بعد عاطف توقیر سے کئی ایک خوبصورت نظم اور غزل سننے کو ملی۔ عاطف توقیر نے اپنی مشہور نظم “اضافیت اور لا ” سنائی۔
سب سے آخر میں صدر مشاعرہ جناب رشی خان ہے اپنی خوبصورت غزل اور قطعے سنائے۔ تقریب کے اختتام پر ایک پرلطف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا اور تمام مہمانوں کی خان بابا کے سعید صاحب نے تواضع کی ۔عشائیہ میں نہایت لذیذ بریانی، مرغ مسلم اور نان سے مہمانوں کی تواضع کی گئی جس کے بعد میٹھے اور چائے کا بھی دور چلا۔
مشاعرے کے دوران پیش کیے گئے چند خوبصورت اشعار
یہ کس گھڑی لب و لہجہ بدل لیا تو نے
میں جس گھڑی ترے لہجے میں ڈھلنے والا تھا
خواجہ حنیف احمد تمنا
خود کو ہم بھول گئے، تیرے حوالے کرکے ۔ اور تجھے یاد نہیں، ہم کو کہاں رکھا تھا
(رشی خان) -

کراچی میں مطالعہ کتب کی اہمیت پر سیمینار
حال ہی میں پاکستان میں مطالعہ کتب کے فروغ اور لائبریریوں کی ترقی وبہبود کے لئے کچھ لائبریرینز نے مل کر ایک تنظیم،سوسائٹی فار دی پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریری (سپریل)کی بنیاد رکھی ہے۔ اس تنظیم کا افتتاحی سمینار،مطالعہ کتب کی اہمیت،کراچی انسٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ ٹیکنالوجی (کیٹ)کے تعاون واشتراک سے کیٹ کے سٹی کمپس میں بروز22جون 2025انعقاد پذیرکیاگیا۔ سمینار میں کراچی کی نمایاں علمی،ادبی اور لائبریری سائنس سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔تلاوت قرآن پاک کی سعادت صمیم کاردارنے حاصل کی۔ان کے بعد خرم پرویز نے پریزینٹیشن کے ذریعے سپریل کا تعارف اور اغراض ومقاصدبتائے۔ سمینار کی نظامت کی ذمہ دار ی مس ربیعہ علی فریدی نے سرانجام دیں۔ ڈاکٹر رفعت پروین صدیقی، چیئر پرسن شعبہ لائبریری سائنس جامعہ کراچی نے بطور خاص اس میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ کتابیں نہ صرف علم کے حصول کا ذریعہ ہیں بلکہ انسان کی شخصیت اور سوچ کو بھی نکھارتی ہیں اور آج کے ڈیجیٹل دورمیں کتابوں کی اہمیت پہلے سے زیاد ہ ہوچکی ہیں۔انہوں نے کیٹ انتظامیہ اور سپریل کی ٹیم (ربیعہ علی فریدی، جواہرعلیم، محمدصمیم کاردار،خرم پرویز اور اکرام الحق)کے کام کو سراہا۔ محترم ناصر مصطفے، ڈان نیوز کے سابق لائبریرین جو اِن دنوں تدریس سے وابستہ ہیں، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مطالعہ کتب طلبہ کی تخلیقی و تجریدی صلاحیتوں کو جلا بخشتاہے اور انہیں بہتر انسان بننے میں مدد دیتاہے۔ کیٹ کے سابق طالب علم محمدکاظم لیلانی نے کہا کہ کتابیں اِن کی زندگی کی بہترین ساتھی ہیں انہوں نے مزیدکہا کہ ہمارامعاشرہ مطالعہ کتب سے دور ضرورہے لیکن ابھی بھی صاحب ذوق لوگ اس شوق کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ سعودی عرب میں موجود پاکستانی لائبریرین اکرام الحق نے سمینار میں آئن لائن شرکت کی اور مطالعہ کتب کے حوالے ہونے والے جائزوں پر روشنی ڈالی اور معاشرے میں عوامی کتب خانوں کے فروغ اور ان کی بہتری کے لئے اپنی سفارشات پیش کیں۔معروف شاعرہ، ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر، تمغہ حسن کارکردگی،نے مطالعہ کتب کے تاریخی، ثقافتی اور معاشرتی عوامل پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ فنون لطیفہ کی اصناف کے ذریعے معاشرے میں مطالعہ کو پروان چڑھایا جاسکتاہے۔ معاشرے کی ترقی علم کے مرہون منت ہے اور کتابیں علم کا خزینہ ہیں۔ محتر م امجد حسین شاہ، ڈی جی پاکستان ٹیلی ویژن کراچی،ممبر گورننگ باڈی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے اپنی صدراتی خطبے میں سمینار کے انعقاد کو سراہا اور بتایا یہ بچوں اور نوجوانوں کو کتاب کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کتب بینی کے فروغ کے لئے میڈیا کے کردار پرروشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن گاہ بہ گاہ ایسے پروگرام ترتیب دیتا رہا ہے جس سے معاشرے میں کتاب پروری فروغ پا سکے۔ آرٹس کونسل آف کراچی کے محترم ندیم ظفر صدیقی نے سمینار کو معلوماتی اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔مہمان اعزازی ڈاکٹر رفعت پروین صدیقی، مہمان خصوصی جناب کرنل (ر) رضا کمال نے مقریرین اوراور منتظمین میں شیلڈز تقسیم کی۔سمینار کا اختتام پر تکلف ظہرانہ کے ساتھ ہوا۔
………………………………….
ربیعه علی فریدی، افلا میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون لائبریرین
ربیعہ علی فریدی پیشے کے اعتبار سے لائبریرین ہیں سن 2009ء میں جامعہ کراچی کے شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرتے ہی جامعہ کراچی کی سینٹرل لائبریری ڈاکٹر محمود حسین میں کچھ ماہ کی انٹرن شپ کی ، ایک مشہور نجی اسکول میں مختصر مدت کے لیے لائبریرین رہیں ، اور اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز جامعہ کراچی کے شعبہ کامرس سے بحیثیت لا تبریرین شروع کیا 2010ء سے 2013 ء تک شعبہ کامرس سے وابستہ رہیں ، اپریل 2013ء میں کراچی میں موجود ٹیچر ایجو کیشن کے مشہور ادارے نوٹرے ڈیم انسٹیٹیوٹ آف ایجو کیشن میں ھیڈ لائبریرین کی حیثیت سے ایک نئے سفر کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے، اپنے پیشہ ورانہ سفر میں ربیعہ نے لائبریریز کے لیے متعدد ورکشاپس، سیمینارز، ٹریننگز کروائیں ساتھ ہی 2010ء میں لائبریرینز کی ایک ذیلی تنظیم میں شمولیت اختیار کی، تنظیم کے باقی ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستان لائبریری سائنس کے پیشہ کو پورے پاکستان میں متعارف کروایا ، اس تنظیم کے ڈائر یکٹر کی کاوشوں سے 2018 میں پاکستانی وفد نے جرمن لائبریریز کا کامیاب تعلیمی اور تحقیقی دورہ کیا 2018 ء میں لائبریری سائنس سے وابستہ لوگوں کو کراچی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا ہی اور باقی منتظمین کے ساتھ مل کر اسکا نفرنس کو ایک یاد گار کانفرنس بنایا، اس کا نفرنس کے اشتراک میں افلا سمیت ایس ایل اے (اسپیشل لائبریری ایسوسی ایشن) کے علاوہ پاکستان کی کئی فعال تنظیمیں شامل تھیں۔ حال ہی میں دوسری بین الااقوامی کا نفرنس ، شعبہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس جامعہ کراچی کے اشتراک سے اور اپنے ساتھی لائبریرینز کی مدد سے کامیابی سے منعقد کروائی، ربیعہ نے نوٹرے ڈیم انسٹیٹیوٹ آف ایجو کیشن میں بحیثیت لائبریرین لا تعداد تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا، جن میں ، ڈیجیٹل لائبریرین شپ، تحریر اور پڑھنے کی عادات کے ساتھ ساتھ وقت کی مناسبت سے ورکشاپس کروائیں۔ ربیعہ نا صرف مخلص لائبریرین ہیں بلکہ انہوں نے تحقیق اور تحریر میں بھی اپنا آپ منوایا ہے ، لاتعداد تحقیقی مقالات قومی اور بین الا قوامی سطح پر پیش کیے اور پاکستان کی نمائندگی کی، بین الاقوامی کتب میں ابواب لکھے ، ساتھ ہی لائبریری پروموشن بیورو اور بزم اکرم سے چھنے والے مشہور رسالے، پاکستان لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس جرنل اور ادب و کتب خانہ میں سفر نامے اور آرٹیکلز لکھے ، کئیں آن لائن میگزینز اور نیوز لیٹرز کے ایڈیٹوریل بورڈ کا حصہ ہیں، پاکستان کے ~معروف~ رسالہ اطراف میں مضامین لکھے ، لکھنے پڑھنے کا شوق ورثہ میں ملا ہے ، ان کی والدہ کے پھوپھا جو کے ماضی کے مشہور اسٹنٹ ڈائر یکٹر لائبریریز ( نیشنل لائبریری آف پاکستان ) سید ولایت حسین شاہ جنہوں نے برٹش کونسل کی لائبریری ، لیاقت نیشنل لائبریری میں خدمات انجام دیں اور مختلف پیشہ ورانہ انجمنوں کے سر گرم کارکن رہے، ربیعہ کے تایا مشہور شاعر امداد نظامی (س-۱) جو کے کوئٹہ سے لکھتے تھے، چاچا انوار فریدی، بھائی جنید فریدی، فرحان فریدی اور نعمان فریدی بھی لکھنے سے وابستہ ہیں چاچا اظہار فریدی جو ماضی میں مشرق اخبار سے وابستہ رہےمیں مطالعہ کتب کی اہمیت پر
-

ملک میں بارشوں کے باعث ممکنہ سیلاب کے حوالے سے الرٹ
کراچی(کنزیومر واچ نیوز) بارشوں کے باعث ممکنہ سیلاب کے حوالے سے الرٹ جاری این ڈی ایم اے نے اگلے 48 گھنٹوں میں ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے اور اس حوالے سے الرٹ بھی جاری کیے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں ملک کے مختلف شہروں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے ممکنہ سیلاب کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا ہے این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے پنجاب کے کئی شہروں میں سیلابی صورت حال کا خدشہ ہے، سندھ کے کئی شہروں میں بھی شدید بارشوں کا امکان جبکہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں طوفانی بارشیں متوقع ہیں۔ این ڈی ایم اے حکام کا بتانا ہے کہ گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلابی صورتحال کا خطر ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقوں میں بھی شدید بارشوں اور اربن فلڈنگ کا امکان ہے۔
-

کراچی ؛ کئی علاقوں میں ہلکی و تیز بارش شروع، موسم خوشگوار
کراچی (کنزیومر واچ نیوز)شہر قائد پر آج بھی بادلوں کا راج ہے اور مختلف علاقوں میں ہلکی و تیز بارش شروع ہوتے ہی موسم ایک بار پھر خوشگوار ہوگیا۔ہفتے کے روز کراچی میں علی الصبح مختلف علاقوں میں ہلکی بوندا باندی شروع ہوئی، جو بعد ازاں تیز بارش میں بدل گئی۔ آئی آئی چندریگر روڈ، اولڈ سٹی ایریا، ملیر، شاہراہ فیصل، صفورہ گوٹھ، قیوم آباد، گلشن اقبال، سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی سمیت مختلف علاقوں میں بادل برستے رہے۔جمعرات کی شب ہونے والی بارش سے کراچی کا موسم بدلتے ہی گزشتہ دن (جمعہ کو) بھر شہر کا موسم خوشگوار رہا، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج بھی کراچی کا مطلع ابر آلود رہے گا، شہر پر بادل چھائے رہیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ہواؤں کے زیر اثر کراچی میں 29 جون تک بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔آج وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ شہر کا درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ہے ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم گرمی کی شدت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی جارہی ہے۔
-

نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ؛ فیلڈ مارشل عاصم منیر مہمان خصوصی
کراچی (کنز یومر واچ نیوز)پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نیوی کے چاق و چوبند دستے نے سلامی دی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 123 ویں مڈشپ مین، 31 ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کمیشننگ پریڈ کا معائنہ کیا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا، جس کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاس آؤٹ ہونے والے پوزیشن ہولڈرز کیڈٹس کو انعامات دیے۔پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب میں پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹ عبدالرحمن نے سورڈ آف آنر کا اعزاز حاصل کیا۔تقریب میں اہم شخصیات کے علاوہ غیر ملکی سفارت کار بھی شریک ہوئے جب کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں فارغ التحصیل کیڈٹس سے ذمے داریوں کا حلف لیا گیا۔
-

سانحہ سوات: جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوگئی
پشاور (کنزیومر واچ نیوز)چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے دورہ سوات کا دورہ کیا اور مینگورہ بائی پاس کے قریب سانحہ دریائے سوات سے متعلق ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔اس موقع پر جاں بحق افراد کے لواحقین کے لئے 15 لاکھ روپے فی کس کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے سوات میں 85 پھنسنے افراد میں سے 58 کو زندہ بچالیا گیا، غفلت برتنے پر انتظامیہ کی افسران اور ریسکیو کے ضلعی آفیسر کو معطل کیا۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی واقعے کا جائزہ لیکر غفلت برتنے والوں کو سزا دی جائے، موسم کی خرابی اور وقت کی کمی ہے باعث ہیلی کاپٹر نہ پہنچ سکا، دریائے سوات میں ہر قسم کی کھدائی پر پابندی لگانے جارہے ہیں، تجاوزات کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ سیاحوں کے لئے ہر قسم کی ایس او پیز جاری کئے گئے ہیں، 11 افراد کی لاشیں ملیں جبکہ مزید سرچ آپریشن جاری ہے، افسوسناک واقعے پر خیبر پختونخوا حکومت غم۔زدہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔
facebook
-

دبئی مال میں ولی عہد نے تمام افراد کے کھانے کا بل ادا کر دیا
دبئی (کنزیومر واچ نیوز)دبئی میں دنیا کے سب سے بڑے مال ‘ دبئی مال ‘ اور اس کے مہنگے ترین ریسٹورینٹ میں آپ کھانا کھائیں اور آپ کا بل دبئی اور ابوظبی کے حکمران ادا کر دیں تو یقیناً آپ حیران ہو جائیں گے۔دبئی میں چند دن پہلے بہت سے افراد کے ساتھ ایسا ہی ہوا جب ان کے کھانے کا بل دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم اور ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان نے تمام موجود مہمانوں کا کھانے کا بل اپنی جانب سے ادا کر دیا۔دونوں شاہی شخصیات بغیر کسی پروٹوکول کے دبئی مال کے فرانسیسی ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے دیگر مہمانوں کو سلام کیا اور پرسکون ماحول میں اپنا کھانا کھایا البتہ بل ریسٹورنٹ میں موجود تمام مہمانوں کا ادا کر دیا۔
-

‘غزہ میں آئندہ ہفتے تک جنگ بندی ہو جائےگی’: ٹرمپ
واشنگٹن(کنزیومر واچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےغزہ میں جنگ بندی اگلے ہفتے تک ممکن ہونے کی امید کا اظہار کر دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے قریب ہیں، میرا خیال ہے آئندہ ہفتے تک جنگ بندی ہو جائےگی۔ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کی صورتحال بہت خراب ہے۔ امریکا رقم اور غذا فراہم کررہا ہے جس میں کوئی اور ملک امریکا کی مدد نہیں کر رہا۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر مستقبل میں انٹیلی جنس رپورٹس میں ایران کی جانب سے یورینئیم کی افزودگی سے متعلق تشویش ناک نتائج آئے تو کیا وہ ایران پر بمباری کرنے پر غور کریں گے؟
صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر دوبارہ حملےسے بالکل گریز نہیں کروں گا، اگر ایران نے اس سطح پر یورینئم افزودہ کی جس پر امریکا کو تشویش ہوئی تو وہ بمباری پر بالکل غورکریں گے۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کار یا کسی دیگر قابل احترام ادارے کے اہلکار ایران کی ان نیوکلیئر تنصیبات کا معائنہ کریں جن پر پچھلے ہفتے امریکا نے بمباری کی تھی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اس بیان پر جلد ردعمل دیں گے جس میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ قطر میں امریکی فوج کے اڈے پر حملہ کرکے ایران نے امریکا کے چہرے پر تھپڑ مارا ہے ۔
وائٹ ہاؤس میں اسی تقریب سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا بھی ایک بار پھر کریڈٹ لیا اور جنگ بندی پر دونوں ملکوں کی قیادت کی تعریف کی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے بھارت اور پاکستان کا معاملہ حل کرنے پر بہت خوشی ہے، پاکستان اور بھارت کے پاس اعلیٰ سطح کے ایٹمی ہتھیار ہیں، ہم نے پاکستان اور بھارت کا معاملہ تجارت کے ذریعے حل کیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ صدارت انتہائی خطرناک عہدہ ہے، پنسلوینیا میں کان پر گولی لگنے کی بعض اوقات یاددہانی ہوتی ہے، لگتا ہےدل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ منہ زوربیل پر سواری اور کار ریس کے ڈرائیورز کے مرنے کا خطرہ ایک فیصد ہوتا ہے، لیکن آپ صدر ہوں تو مرنے کا خطرہ پانچ فیصد ہوتا ہے، اگر کسی نے یہ مجھے پہلے بتایا ہوتا تو شاید صدارت کی دوڑ میں حصہ نہ لیتا۔اس کے علاوہ صدرٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ وہ شمالی کوریاکے لیڈرکم جانگ اُن سے تنازعہ بھی جلد ختم کرلیں گے۔ امریکی صدر نے کینیڈا سے تجارتی مذاکرات فوری ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ کینیڈا سے ڈیل کرنا مشکل کام ہے۔
