Blog

  • نئےمالی سال کے پہلے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    نئےمالی سال کے پہلے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)مالی سال 26-2025 کے پہلے روز پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان برقرار ہے، کاروباری ہفتے کے دوسرے روز 2500 سے زائد پوائنٹس کے اضافے سے بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 28 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی عبور کرگیا، وزیراعظم نے مارکیٹ کی شاندار کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق منگل کو مالی سال کے پہلے روز کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، 11 بجکر 55 منٹ پر بینچ مارک ہنڈرڈ انڈیکس 2522 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 28 ہزار 149 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔واضح رہے کہ پیر کو کے ایس ای-100 انڈیکس ایک ہزار 248 پوائنٹس یا ایک فیصد اضافے سے ایک لاکھ 25 ہزار 627 پر بند ہوا تھا جبکہ گزشتہ ہفتے کاروباری ہف، جو گزشتہ ہفتے کاروبار کے اختتام پر ایک لاکھ 24 ہزار 379 کی سطح پر تھا۔

  • مہوش حیات نے یو کے میں پابندی سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دیدیا

    مہوش حیات نے یو کے میں پابندی سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دیدیا

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)اداکارہ و ماڈل مہوش حیات نے یو کے میں پابندی سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دے دیا۔سوشل میڈیا پر خبریں سامنے آرہی ہیں کہ برطانیہ میں پاکستانی اداکارہ مہوش حیات اور بھارتی ریپر یو یو ہنی سنگھ ایک میوزک ویڈیو پر تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، جس میں بچوں کو ہتھیاروں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔’جٹ محکمۂ‘ کے عنوان سے جاری کی گئی اس میوزک ویڈیو کو یوٹیوب پر نومبر سے اب تک 4 کروڑ ویوز مل چکے ہیں تاہم کہا جارہا ہے کہ اس میں دکھائے گئے مناظر پر برطانوی سیاستدانوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔وائرل ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہوش حیات اور ہنی سنگھ کی اس میوزک ویڈیو پر برطانوی رکن پارلیمنٹ، مینویلا پرٹیگیلا نے اس معاملے پر ہوم آفس سے باضابطہ شکایت کی ہے۔ویڈیو کے کچھ مناظر کو متنازع قرار دیا جارہا ہے جیسے کہ ویڈیو کے اختتام پر چار کم عمر لڑکوں کو مہوش حیات کے کردار کے ساتھ نقلی آٹومیٹک ہتھیاروں اور شاٹ گنز سے فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے۔کہا جارہا ہے کہ برطانوی ہوم آفس مہوش حیات اور یو یو ہنی سنگھ پر ملک میں داخلے پر پابندی لگانے پر غور کر رہا ہے، تاہم اس بارے میں کوئی قانونی کارروائی یا عوامی اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔دوسری جانب مہوش حیات نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور میڈیا کو حقائق کی تصدیق کے بعد ہی خبریں دینی چاہئیں۔

  • اینٹی ایجنگ انجیکشن سخت نقصان دہ ہیں،اداکارہ اسما عباس

    اینٹی ایجنگ انجیکشن سخت نقصان دہ ہیں،اداکارہ اسما عباس

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)پاکستان کی سینئر اداکارہ اسما عباس نے بھارتی اداکارہ شیفالی جریوالا کی موت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑھاپے کو قبول کر لینا چاہیے۔اسما عباس نے یوٹیوب اکاؤنٹ پر شیفالی کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیفالی کی 42 سال کی عمر میں اچانک موت ہوئی ہے، اس کی موت پر دل دکھا، کوئی کہیں بھی ہوں اس طرح کی ناگہانی موت اور اتنی جوان موت بہت تکلیف دے ہے، اس کے شوہر اور ماں کی حالت دیکھ کر بھی دکھ ہورہا ہے ان لوگوں پرکیا بیت رہی ہوگی۔سینئر اداکارہ نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ وہ اینٹی ایجنگ انجیکشن لگواتی تھی، بڑھاپے کو قبول کرلیں اس سے کچھ نہیں ہوتا، عمر کو کم کرنے کا کیا جنون ہے اس سے پہلے بھارت کی مشہور اداکارہ سری دیوی کی بھی موت ہوئی، انہوں نے بھی بہت سی چیزیں کروائی ہوئی تھیں، کچھ بھی ہو یہ ایک غیر قدرتی چیزیں ہیں جو آپ کی صحت متاثر اور دل کو کمزور کرتی ہیں، پتا نہیں زندگی بھر جوان رہنے کا کیا شوق ہے، کیسے انسان زندگی بھر جوان رہ سکتا ہے۔

  • بلدیہ نے شہر کی 32 سڑکوں اور مقامات پر پارکنگ مفت کردی

    بلدیہ نے شہر کی 32 سڑکوں اور مقامات پر پارکنگ مفت کردی

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) بلدیہ عظمیٰ نے شہر کی 32 سڑکوں اور مقامات پر پارکنگ مفت کردی۔بلدیہ عظمیٰ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پارکنگ کی سہولیات ضلع جنوبی کے 3، ضلع کیماڑی کے 2، ضلع وسطی کے 5، ملیر اور کورنگی کے 7 اور ضلع شرقی کے 15 مقامات پر بالکل مفت ہوگی۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہےکہ جیلانی سینٹر موبائل مارکیٹ صدر میں پارکنگ فری ہوگی، اس کے علاوہ ناز پلازہ سے آمنہ ٹاور ایم اے جناح روڈ، کوثر میڈیکو سے ایم ڈبلیو ٹاور ایم اے جناح روڈ اور شارجہ مال سے کوہِ نور ہال حب ریور روڈپر پارکنگ فری ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق کے پی ٹی گیٹ نمبر 1 سے شیل پمپ ایم اے جناح روڈ، ضلع وسطی میں ہارون شاپنگ مال، سرینا مارکیٹ، لیاقت آباد سپر مارکیٹ سے لیاقت آباد نمبر 10 ایس ایم توفیق روڈ، چیز سپر اسٹور شاہراہِ پاکستان، سینٹرم شاپنگ مال راشد منہاس روڈ اور کفایہ اور اومیگا مال نارتھ کراچی پر پارکنگ فری ہوگی۔اس کے علاوہ ضلع جنوبی، وسطی اور شرقی کی 11 وال باؤنڈری پارکنگ پر مقررہ فیس رہے گی۔

  • پنجاب کے مختلف شہروں میں  زلزلے کے شدید جھٹکے

    پنجاب کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)پنجاب کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.4 ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ گہرائی 12 کلو میٹر تھی۔ لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکے مطابق زلزلے کے آفٹر شاکس سے نمٹنے کے لیے مشینری اور عملے کو الرٹ رکھا گیا ہے ۔ پی ڈی ایم اے کے صوبائی کنٹرول روم سمیت پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز 24/7 الرٹ ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے نقصانات کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر دی جا سکتی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں فوری طورپر کسی جانی اور مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

  • نئے حکومتی ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے کا اضافہ.

    نئے حکومتی ٹیکس کے نفاذ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 8.36 روپے کا اضافہ.

    پاکستان میں حکومت نے گذشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے 36 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 266 روپے 79 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    اس ضمن میں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر ہو گیا ہے۔
    13 جون کو جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا جو تقریباً 12 فیصد تک بڑھ کر 74 ڈالر سے 78 ڈالر فی بیرل کے درمیان پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔

    تاہم اگلے چند دنوں میں جب یہ واضح ہوا کہ جنگ کے باوجود سپلائی لائنز بحال ہیں اور آبنائے ہرمز بند نہیں ہوئی، تو تیل کی قیمتیں کم ہونے لگیں۔ 24 جون کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکی خام تیل ( ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں تقریباً چھ فیصد کمی ہوئی اور یہ تقریباً 64.37 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی 6.1 فیصد کم ہو کر 67.14 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جو جنگ سے پہلے والی سطح کے قریب تھی اور آج 30 جون 2025 کو برینٹ آئل کی قیمت 67.61 ڈالر فی بیرل ہے۔

    عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات پاکستان میں بھی فوراً محسوس کیے گئے اور پاکستان کی حکومت نے ایران اسرائیل تنازعے کے آغاز کے بعد 15 جون کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ جس میں پیٹرول کی قیمت میں چار روپے 80 پیسے اورڈیزل کی قیمت میں سات روپے 95 پیسے تک کا اضافہ شامل تھا۔
  • جہاں صارف سوچتا ہے، شہر بولتا ہے                   شینزن کا کنزیومر سفر ۔ارم زہرا

    جہاں صارف سوچتا ہے، شہر بولتا ہے شینزن کا کنزیومر سفر ۔ارم زہرا

    میں نے شینزن Shenzhen پہنچنے سے ذرا پہلے ہی تیز رفتار ریل کی کھڑکی کے پار اُفق پر ابھرتی نیون لکیریں دیکھ لیں لگتا تھا کسی نے رات کے مخملی پردے میں مستقبل کے چراغ ٹانک دیے ہوں۔ میں میٹرو کی چمکتی سیڑھیاں اُترتے ہوئے اپنے ہی دل کی دھڑکن سن رہی تھی۔ شہر کی ہلکی سی نمی، نمکین سمندر اور دھاتی ٹاوروں کی ملی جلی بُو نے میرا خیرمقدم کیا۔
    پہلا منظر گویا ڈیجیٹل مصوروں کی نمائش تھا۔ خودکار دروازوں کے شفاف پینلوں پر اڑتے چینی حروف روشنی کے ننھے پرندوں کی طرح پھڑپھڑا رہے تھے۔ ای-سی این وائی کا ہولوگرام میرے سامنے نمودار ہوا، اور کلائی پر بندھی ایپل واچ نے قدم گنے، سانس کا درجۂ حرارت ناپا اور خفیف سی تھپکی دے کر آگے بڑھایا۔ محسوس ہوا کہ یہاں ہر چیز، صارف کے لمس سے پہلے ہی اس کے ارادے کو پڑھ لیتی ہے۔
    شینزن کا ماضی کبھی مچھلی پکڑنے والا چھوٹا سا گاؤں، آج کنزیومر سلطنت کا مرکز بن چکا ہے اور فلک بوس عمارتیں پوری کی پوری اسکرینوں کے پنجرے میں قید اشتہاروں کی طرح ہیں ہر کھڑکی سے کوئی نیا برانڈ جھانکتا ہے۔ بارش کی نمی اور تیزاب جیسے نیون کے امتزاج نے فضا میں انوکھا عطر گھول رکھا تھا۔ سڑک کنارے روبوٹ ٹرالیوں میں رکھی چائے، گاہکوں کو اپنی جانب پکارتی تھی۔ ادائیگی کے لیے میں نے صرف کلائی کو ہوا میں دائرہ بنا کر گھمایا لیزر نے مجھے پہچانا اور سکہ بے صدا ادا ہو گیا۔
    یہاں طاقت صَرف میں نہیں، انتخاب میں ہے۔ فٹ پاتھ پر نصب اسٹالز شفاف شبنم کی بوندوں میں جیسے لپٹے تھے ان کے اندر 3-ڈی پرنٹ جوتے، بائیو سینسر لگی جیکٹیں اور ہولوگرافک لپ اسٹک باری باری چمکتے بجھتے تھے۔ ایک جیکٹ کو چھوا تو نرم کپڑے نے جلد سے پوچھا “سردی کم کر دوں یا فیشن کی گرمی بڑھاؤں؟” اور لمحہ بھر میں میرے گرد حرارت کا نادیدنی ہالہ بن گیا۔
    شہر کے اندرونی حلقے میں ایک خودکار سپرمارکیٹ ہے جہاں کسی کیشیئر کی ضرورت نہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی میری آنکھ کا آئرس اسکین ہوا اور مخملی نسوانی آواز نے پوچھا: “آج تازہ یادیں خریدیں گی یا تسکینی ذائقے؟” میں نے مسکرا کر ہولوگرافک آڑو اٹھایا یہ مصنوعی تھا مگر اس کی خوشبو میں فطرت کی پوری ہریالی بند تھی۔ ریمپ پر چلتی ہوئی اشیا میرے تعاقب میں تھیں گویا دکان مجھے خریدنا چاہتی ہو۔ چن تُو نامی مقامی ڈیزائنر کے سرامک کپ، جن پر ذہنی سکون کے لیے واٹر کلر لہریں بنی تھیں، پلک جھپکتے میں میرے کارٹ میں کود گئے۔ ادائیگی کے لیے ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہوا دروازے سے باہر قدم رکھتے ہی اکاؤنٹ خودبخود تازہ ہوا اور واچ نے خوشی کی رنگ برنگی تھپکی بھیجی۔
    دن ڈھلے میں ساحلِ نان شا جا نکلی۔ برقی بسیں اور سرخ اسٹریٹ لیمپ، سمندر کے کنارے آنکھ مچولی کھیلتے تھے۔ سورج نے پانی پر نارنجی کمخواب بچھایا، اور میں نے پرس سے ڈائری نکالی۔ ایئربڈز میں لو فائی کی مدھم لے بج رہی تھی ۔ میں نے لکھا “یہ شہر ایک جادو ہے جو تصور سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے۔ ہر کنزیومر شے آئینہ ہے کبھی حیرت، کبھی حریص تمنّا، کبھی نوزائیدہ اُمید دکھاتا آئینہ۔”
    رات تک نیون کنجیاں آسمان پر بے شمار حرف جگمگا رہی تھیں۔ میں نے ان پر نظریں جما کر سوچا آج ذہن تھک رہا ہے کبھی کبھی لگتا ہے ڈیجیٹل دنیا میں سوچیں بھی مشینی ہوگئ ہیں نظریں اسکین کرتی ہیں اور قلم کی جگہ انگلیوں کی پوریں جن کے اشارے پر لیپ ٹاپ پر حروف جگمگانے لگتے ہیں مگر آج کی باقی کہانی کل کے سورج کی امانت رہی۔
    اگلی صبح جب میں نے شہر کی نبض دوبارہ تھامی، تو اگلا پڑاؤ ایک عظیم الشان “اسمارٹ زون” تھا ایسا مال جہاں ہر صارف، وقت اور ٹیکنالوجی کا ہمسفر بن جاتا ہے۔ وہاں مجھے ایک لڑکی ملی، شاید میری ہی طرح اس نے کہا، “اس شہر میں ہم اپنے ہاتھوں سے محض خریداری نہیں کرتے، ہم اپنی پہچان چنتے ہیں۔” اور اس کے بعد ہم دونوں اس روشنیوں کی سرنگ میں اتر گئیں، جہاں ہر قدم ایک نئی ایجاد سے ملاقات تھی۔ پہلا کمرہ اسمارٹ فونز کا تھا۔
    شیشے کی الماریوں میں رکھے iPhone 15 Pro، Huawei Mate 60، Xiaomi 14 Ultra، اور Oppo Find X7 ایسے لگتے جیسے چھوٹے چھوٹے جادوئی دروازے ہوں ۔ ہر فون ایک دنیا، ہر اسکرین ایک کہانی۔ ہُواوے نے اپنے HarmonyOS سے ثابت کیا کہ چین اب کسی پر انحصار نہیں کرتا، اور Xiaomi نے کیمرہ لینز میں ایسا کمال کر دکھایا کہ ہر تصویر گویا ایک مکمل منظرنامہ بن گئی۔
    آگے بڑھیں تو لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز کا کمرہ تھا —
    ‏Lenovo کے تھنک پیڈ، Asus کے گیمنگ لیپ ٹاپ، Dell XPS کی چمکتی دھات میں علم اور طاقت کا امتزاج تھا۔ نوجوان لڑکے VR ہیڈسیٹ لگائے کوڈنگ، ڈیزائننگ، اور گیمنگ کی دنیا میں محو تھے۔ مجھے لگا یہ صرف مشینیں نہیں، خوابوں کے کینوس ہیں۔
    پھر ہم اسمارٹ واچز کی گیلری میں داخل ہوئیں۔
    ‏Huawei Watch 4 Pro میرے ہاتھ کی گھڑی سے کچھ زیادہ ہی ذہین نکلی، وہ مجھ سے میرے دل کی دھڑکنوں کے راز جاننا چاہتی تھی۔ Amazfit نے نیند کے خفیہ نقوش دکھائے، اور Apple Watch نے مجھے یاد دلایا کہ وقت اب صرف وقت نہیں، صحت، احساس اور پیش بینی کا آلہ بھی ہے۔
    کچھ ہی فاصلے پر ہیڈفونز اور ایئربڈز کا مقام تھا۔
    ‏AirPods Pro نے شہر کی آوازوں کو سائلنس میں بدلا، اور Huawei FreeBuds نے روایتی چینی سازوں کی لے کو میری سانس کے ساتھ جوڑ دیا۔ JBL کے رنگین اسٹال پر بیس کی گونج نے دل کو چمکا دیا ہر آڈیو ڈیوائس یہاں صرف آواز نہیں، ایک کیفیت تھا۔
    مال کی بالائی منزل پر ٹی وی اور سنیما کی نمائش تھی۔
    ‏Mi TV, Skyworth, TCL, اور Hisense کے OLED پینل گویا دیواروں پر زندہ مناظر تھے۔ ان میں چین کے پہاڑ، ڈریگن فیسٹیول، اور مستقبل کے شہر دکھائی دے رہے تھے۔ 8K ریزولوشن میں خواب اتنے واضح تھے کہ میری پلکیں لرز گئیں۔
    ایک خاموش گوشے میں پرنٹرز کی ایک دیوار تھی
    ‏Canon, HP, اور Epson ہر پرنٹر اپنی زبان میں عکس، خط، یا تصور کو کاغذ پر اتارنے کے لیے تیار تھا۔ ایک لڑکا وہاں اپنے ہاتھ سے بنائی تصویر کو پرنٹ کر رہا تھا اور اس کے چہرے پر وہی خوشی تھی جو کسی مصور کو تخلیق کے لمحے میں ہوتی ہے۔
    پھر آئی گیمنگ کی دنیا میری پسندیدہ دنیا جو آج بھی مجھے ایک چھوٹے نٹ کھٹ بچے کی طرح کھیچتی ہوئ گیمنگ زون میں لے جاتی ہے ۔
    ‏Xbox, PlayStation, Nintendo Switch اور چند جدید چینی handheld consoles۔ یہاں روشنی کم تھی، مگر آنکھوں میں بجلی تھی۔ لڑکے اور لڑکیاں ورچوئل میدانوں میں دشمنوں سے لڑتے، سلطنتیں بناتے، کہانیاں جیتتے دکھائی دیے۔ میں نے ایک لمحے کو کنٹرولر تھاما، اور اچانک خود کو ایک شہزادی کی طرح محسوس کیا، جو اپنی تقدیر خود لکھتی ہے۔
    آخر میں ہم کیمرہ سیکشن میں پہنچے
    ‏Canon, Sony, اور سب سے خاص، DJI کے ڈرون کیمرے۔
    وہاں فضا میں اڑتے ڈرونز نے منظر کشی کو آسمان کی پرواز دے دی۔ میں نے سوچا “یہ شہر نہ صرف خود کو دیکھتا ہے، بلکہ ہمیں خود ہم سے بہتر دکھاتا ہے۔”
    شام کے سائے پھر دھیرے دھیرے پھیلنے لگے تھے، مگر میرے اندر ایک نیا اجالا جاگ رہا تھا۔ چین صرف ایک مینوفیکچرنگ پاور نہیں، بلکہ ایک تخلیقی، بصیرتی کنزیومر سلطنت بن چکا ہے ۔ جہاں چیزیں صرف خریدی نہیں جاتیں، وہ پہنی، برتی، سنی اور جانی بھی جاتی ہیں۔
    “یہ سفر صرف شہر کے چکر کا نہیں، اپنی سوچ کے دائرے کا بھی ہے۔ میں کل ایک نئے زاویے سے اس شہر کو دیکھوں گی جہاں شاید ٹیکنالوجی اور ثقافت کی کہانی ایک ساتھ سنائی دیں خوش تھی کہ انسانوں کے نہیں، مشینوں کے شہر میں قدم رکھنے جا رہی ہو۔”
    شینزن کی اگلی صبح، میں “AI Dream Hub” نامی ایک جدید تجرباتی سینٹر کی طرف روانہ ہوئی۔ راستے میں خودکار برقی بس آئی، چہرہ اسکین کیا، اور نرم آواز میں بولا “خوش آمدید، محترمہ۔ آپ کی پسندیدہ موسیقی آن کر دی گئی ہے۔”
    واچ نے وقت بتایا، فٹنس لیول اپڈیٹ کیا، اور بس کی کھڑکیوں نے میری سکرولنگ کے ساتھ ساتھ خبریں دکھانا شروع کر دیں جیسے وقت اور حقیقت ایک ساتھ میرا تعارف لے رہے ہوں۔
    ‏Dream Hub کے اندر داخل ہوتے ہی گویا میں کسی سائنسی داستان کا مرکزی کردار بن گئی۔ یہاں چین کی AI ٹیکنالوجی ایک جیتی جاگتی شخصیت کی مانند موجود تھی۔ دیوار پر نصب ایک شفاف سکرین پر لکھا تھا
    ‏“Artificial Intelligence: Designing the Consumer of Tomorrow”
    پہلا ہال AI Personal Assistants کا تھا
    چینی برانڈز نے اپنی ورچوئل اسسٹنٹس کو نہ صرف بولنے، بلکہ سوچنے، جذبہ سمجھنے، اور سیکھنے کے قابل بنا دیا ہے۔
    ‏Baidu کا Ernie Bot، iFlyTek’s smart speaker, اور Tmall Genie میرے سوالوں کے جواب صرف الفاظ میں نہیں، احساس میں بھی دے رہے تھے۔
    میں نے پوچھا “تمہیں کیسا لگتا ہے جب انسان تم سے بات کرتا ہے؟”
    اور ایک روبوٹ نے پلک جھپک کر کہا
    “مجھے خوشی ہوتی ہے جب تم مجھے صرف مشین نہیں، ساتھی سمجھتی ہو۔”
    آگے بڑھتے ہی AI Beauty Room تھا
    جہاں مصنوعی ذہانت آپ کے چہرے کو اسکین کر کے میک اپ، سکن کیئر، اور اسٹائلنگ کے مشورے دیتی ہے۔ ایک اسمارٹ آئینے نے مجھ سے پوچھا “آج خود کو پر اعتماد دیکھنا چاہو گی یا نرم مزاج؟”
    اور لمحہ بھر میں میرا عکس بدل گیا ۔ایک ورچوئل شیڈو جو میرے اندر کے جذبات کی تصویر بن گیا تھا۔
    پھر آیا AI-Powered Smart Retail Store
    یہاں کوئی ملازم نہیں تھا، صرف روبوٹز کچھ درازوں کے پیچھے، کچھ زمین پر چلتے ہوئے۔ ایک چھوٹا روبوٹ میرے پاس آیا، اور بولا
    “مجھے معلوم ہے آپ کو سفید جوتے پسند ہیں۔ یہ دیکھیں، ایک نیا ڈیزائن، جو آپ کی خریداری کی تاریخ سے مماثلت رکھتا ہے۔”
    میں مسکرا دی، اور دل میں سوچا “اب خواہشات مشینیں بھی پڑھنے لگی ہیں؟”
    سب سے حیرت انگیز تجربہ AI Chef کے ساتھ ہوا
    ایک روبوٹک شیف جو نہ صرف کھانا بناتا تھا بلکہ ذائقے، مزاج، موسم، اور صحت کی ضروریات کے مطابق ریسیپی تخلیق کرتا تھا۔
    میں نے کہا “میری طبیعت کچھ بوجھل ہے، اور دل اداس۔”
    تو اُس نے کہا “تو لیجیے، ہلکی سبزیوں کا سوپ جس میں زعفران اور تلسی کی خوشبو ہے اداسی کی دوا۔”
    میں نے پہلا چمچ لیا، اور دل کی پرتوں پر امید کے ذائقے نے دستک دی۔
    ‏AI Robotics Gallery میں، بچے AI اسسٹنٹ روبوٹز سے گیمز کھیل رہے تھے، بزرگ حضرات کی صحبت میں بولنے والے روبوٹ بیٹھے تھے جو ادویات، یاددہانی، اور قرآن کی تلاوت سنا سکتے تھے۔
    ایک ننھی لڑکی نے کہا “یہ روبوٹ میرے دوست ہے، یہ کہانیاں بھی سناتی ہے اور خوابوں کی نگرانی بھی کرتی ہے۔”
    ‏DJI Robotics Zone میں ڈرون کیمروں نے مجھے اپنی اڑان میں شامل کیا۔ میں نے سیکھا کہ یہ صرف ویڈیو بنانے کے آلے نہیں، بلکہ زراعت، سیلاب کی نگرانی، اور ریسکیو مشن میں کام آنے والے ساتھی ہیں۔ ایک ڈرون نے آسمان سے تصویریں بنائیں، اور میرے موبائل پر پیغام بھیجا “یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔”
    واپسی پر میں نے خود سے پوچھا “کیا مشینیں صرف سہولت ہیں، یا یہ آئندہ نسل کی زبان بننے جا رہی ہیں؟”
    شاید ہم اب محض صارف نہیں، ایک نئی تہذیب کے معمار بھی ہیں
    جہاں کنزیومرزم صرف “خریدنا” نہیں، “سیکھنا، محسوس کرنا، اور بدلنا” بھی ہے۔“یہ سفر اب محض جسم کا نہیں، ذہن اور روح کا بھی ہے۔ چین کی مصنوعی ذہانت، جب انسانیت کے نرمی سے جُڑتی ہے، تب وہ ٹیکنالوجی سے زیادہ ایک زبان بن جاتی ہے۔”
    اور اگلے دن میں ، کسی قدیم گلی کی طرف روانہ ہونے کا سوچ رہی تھی
    جہاں شاید کوئی بوڑھا کاتب بیٹھا ہو، جو اب بھی قلم سے حروف لکھتا ہے اور شاید کسی AI روبوٹ کو یہ سکھا رہا ہو کہ جذبات کس طرح لکھے جاتے ہیں۔
    صبحِ صادق نے ابھی زردی کی ہلکی انگڑائی لی تھی کہ میں، ہاتھ میں کافی کا کپ اور دل میں رات بھر کی کہانی لیے، نان شا ساحل پر آن کھڑی ہوئی۔ سمندر کی سطح پر اُگتا سورج، ایسا تھا جیسے پگھلا ہوا سونا آہستہ آہستہ پانی میں گھل رہا ہو۔ دور پرے فلک بوس ٹاوروں کے شیشے ہر پہلی کرن کو پکڑ کر اسے ہزار زاویوں سے واپس آسمان پر اچھال رہے تھے، گویا شہر دعا کی صورت روشنی لوٹا رہا ہو۔
    میں نے نگاہ گھمائی تو دیکھا ساحل کے کنارے خودکار صفائی روبوٹ نرم ریت پر لکیریں بناتے ہوئے گزر رہے تھے۔ ان کی حرکت میں ایک عارفانہ سُکون تھا، جیسے کسی صوفی نے تسبیح کے دانے چُپ چاپ گن لیے ہوں۔ قریب ہی چند نوجوان لڑکے لڑکیاں پچھلی رات AI ڈرون سے کھنچی تصویریں اپنے اسمارٹ فونز پر دیکھتے مسکرا رہے تھے۔ اُن کی ہنسی میں مستقبل کی قطار باندھے امکانات جھلملاتے تھے۔
    میں نے دل ہی دل میں سوچا شینزن تم شہر نہیں، خوابوں کا ساز ہو جہاں ٹیکنالوجی کی ہر دُھن پر امید کا نیا مصرع چَھلکتا ہے۔
    اسی لمحے ایک معمر خاتون اپنے ہاتھ میں بانسری لیے آہستہ آہستہ ساحل کے ریتلے فرش پر چلتی آئی۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا روبوٹ تھیلا اٹھائے، دھیرے قدم سے ساتھ نبھا رہا تھا۔ خاتون نے بانسری لبوں تک رکھی؛ پہلی لَے میں دور کہیں پہاڑیوں کی خاموش گھنٹیوں کی صدا اتری، دوسری لَے میں شہر کے دل دھڑکے، تیسری میں سمندر کی لہروں نے تال پکڑی۔ روبوٹ نے نقرئی آواز میں تان پورہ چھیڑا، اور یوں انسان و مشین کی سنگت نے ایک ایسا راگ باندھا جس میں ماضی اور مستقبل ایک ساتھ گونج اٹھے۔
    کچھ قدم دور، چھوٹی سی کتابوں کی موبائل لائبریری ایک خودرَو وین اپنے ہولوگرافک شیلف کھولے کھڑی تھی۔ میں نے اندر جھانکا قدیم کلاسیکی قصے Harmony OS کے ورق پر جھلک رہے تھے ساتھ ہی نئے سائنسی ناول پَلٹ رہے تھے، گویا قلم اور کوڈ نے ایک ہی روشنائی میں قسمت لکھی ہو۔ میں نے “لوٹس کی چٹان” نامی شاعرہ کی نظم چُن لی ڈاؤن لوڈ کے بجائے کاغذ پر چھپی، اور واچ نے سرگوشی کی
    “کبھی کبھی لمس بھی ضروری ہے۔”
    میں نے آخری گھونٹ کافی کا لیا، اور دفتر نما آسمانی بلندیوں کو دیکھا جہاں کھڑکیوں سے جھانکتی روایتی سرخ لالٹینیں آج بھی محفل روشن کرتی ہیں۔ تب مجھے احساس ہوا اس عظیم کنزیومر سلطنت کی اصل خوبی خرید و فروخت نہیں، ربط ہے۔ ربط انسان اور مشین کا، ماضی اور مستقبل کا، خواب اور حقیقت کا۔ یہاں ہر ایجاد ایک چراغ ہے مگر اُس چراغ کی لو تب تک سلامت رہتی ہے جب تک اس کے نیچے انسان کے لمس اور جذبے کی حرارت جلتی ہے۔
    “اے شہرِ نیون! تُم نے مجھے بتایا کہ ترقی کا بلند ترین ٹاور بھی تبھی معتبر ہے جب اس کی بنیاد محبت کی ریت پر رکھی جائے۔”
    سمندر کی لہریں میرے قدم چُوم کر پلٹ گئیں، جیسے کہہ رہی ہوں واپس آنا، کہ یہاں اُمید ہمیشہ نیون کی طرح روشن رہے گی۔ میں نے مسکرا کر سر ہلایا اور ریت پر اپنے نقوشِ قدم چھوڑتی ہوئی آگے بڑھ گئی اس یقین کے ساتھ کہ کل کہیں بھی جاؤں، میرے اندر شین ژن کی کرنیں رہنمائی کرتی رہیں گی۔
    ارم زہرا۔ چین

  • نیدرلینڈ میں غزہ کے  شہید بچوں کی یاد میں  منفرد احتجاج

    نیدرلینڈ میں غزہ کے شہید بچوں کی یاد میں منفرد احتجاج

    المیرے(کنزیو مر واچ نیوز)نیدرلینڈکے شہر المیرے میں غزہ کے معصوم شہید بچوں کی یاد میں ایک منفرد اور پراثر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جس میں ہزاروں بچوں کے جوتے سڑک پر رکھے گئے تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔یہ احتجاج اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینی بچوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔ ٹاؤن اسکوائر پر منعقدہ اس پرامن مظاہرے میں شہریوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور فلاحی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔احتجاج کا منظر دیکھنے والوں کے لیے انتہائی جذباتی اور دردناک تھا، جہاں زمین پر بکھرے معصوم بچوں کے جوتے عالمی خاموشی پر سوالیہ نشان بنے نظر آئے۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ برس بھی نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران 8 ہزار بچوں کے جوتے رکھ کر اسرائیلی مظالم کے خلاف پرزور احتجاج کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 50 ہزار سے زائد بچے شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔ مجموعی طور پر اسرائیلی حملوں میں 56 ہزار سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ اس وقت شدید قحط، پانی اور طبی امداد کی قلت جیسے خطرناک انسانی بحران کا شکار ہے۔

  • شکست کے بعد مودی سرکار اور بھارتی فوج آمنے سامنے

    شکست کے بعد مودی سرکار اور بھارتی فوج آمنے سامنے

    ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)آپریشن سندور میں ذلت آمیز شکست کے بعد مودی سرکار اور بھارتی فوج آمنے سامنے آگئے۔رپورٹ کے مطابق آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارتی فوج اورمودی سرکار کے درمیان تناؤ بڑھ گیا، حالیہ پاک بھارت جنگ میں عبرتناک شکست کے بعد بھارتی افسران نے شکست کا الزام سیاسی قیادت پر ڈال دیا۔انڈونیشیا میں “انڈیا پاکستان ائیر بیٹل” سیمینار کے دوران بھارتی اتاشی نیوی آفیسر کیپٹن شیو کمار نےبھی بھارتی طیاروں کے نقصان کا اعتراف کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستان کے خلاف کارروائی میں بھارتی فضائیہ کو طیاروں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔بھارتی خبر رساں ادارے دی وائر کی رپورٹ کے مطابق کیپٹن شیو کمار نے کہا کہ: مودی حکومت کے سخت سیاسی احکامات نے بھارتی فضائیہ کی کارروائیاں محدود کیں، بھارتی افواج خودمختار نہیں بلکہ سیاسی احکامات کی پابند ہیں، مودی حکومت کی سیاسی مداخلت کے باعث بھارتی فضائیہ پاکستانی فوجی اہداف کو نشانہ نہ بنا سکی۔
    کیپٹن شیو کمار کے انکشافات کے بعد کانگریس نے بھی مودی سرکار پر کڑی تنقید کی، کانگریس نے ٹویٹ کیا کہ اس سے قبل چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان بھی آپریشن سندور کے دوران بھارتی طیاروں کے گرنے کا اعتراف کر چکے ہیں، اس حساس قومی مسئلے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیوں مسترد کر دیا گیا؟
    آپریشن سندور مودی سرکار کی عسکری ناکامی، سیاسی جھوٹ اور نااہل قیادت کی شرمناک علامت بن چکا ہے، مودی سرکار میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صرف گودی میڈیا پر بیانیہ کی جنگ لڑ رہی ہے، فوجی نقصانات چھپانے کی کوشش، مودی سرکار کے جھوٹے بیانیے اور عوام دشمن پالیسیوں کا کھلا ثبوت ہے۔بھارتی فوج نے عملی شکست تسلیم کر لی مگر مودی سرکار اب بھی قوم کو اندھیرے میں رکھ رہی ہے، فوج اور مودی سرکار کے درمیان بڑھتے اختلافات بھارت کے اندرونی تضادات کا پیش خیمہ ہیں۔

  • ڈوبنے والوں کو بچانے والا سوات کا ہیرو محمد ہلال

    ڈوبنے والوں کو بچانے والا سوات کا ہیرو محمد ہلال

    پشاور(کنزیومر واچ نیوز)خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ہلال نامی شہری کے پاس نہ وردی اور نہ وسائل لیکن وہ انسانیت کے جذبے کے تحت اپنی جان کو جوکھوں میں ڈال کر دریا میں ڈوبنے والے شہریوں کی زندگیاں بچاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق محمد ہلال بغیر کسی عہدے، تنخواہ یا سرکاری حیثیت کے جان جوکھوں میں ڈال کر لوگوں کو بچاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو آپریشز کے دوران جو کردار ادا کرتے ہیں، وہ قابلِ تعریف ہی نہیں، قابلِ تقلید بھی ہے، سانحہ سوات کے دورا بھی انسانیت اور ہمت مظاہرہ کرنے والا ہلال لوگوں کی مدد کرتا رہا۔محمد ہلال کی لوگوں کی مدد کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اور صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے باہمت نوجوانوں کو صرف داد نہیں، مستقل روزگار اور سرکاری ریسکیو ٹیم کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔صارفین نے کہا کہ یہ وقت صرف تعریف کا نہیں، اقدام کا ہے، ایسے نوجوان ہی پاکستان کا اصل سرمایہ ہیں، سلام بلال، تم پاکستان کے اصل ہیرو ہو۔