اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بھارت کیخلاف جنگ میں غیبی مدد آئی جب کہ ایران سیز اور ایران کی نظر آنے والی کامیابی کے پیچھے بھی وردی ہے۔اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت علمائے کرام کے ساتھ محرم الحرام میں امن و امان سے متعلق اہم اجلاس ہوا۔اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مولانا عبدالخبیر آزاد سمیت دیگر اہم مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ قیام امن میں علماء کرام نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا، چیئرمین رویت ہلال کمیٹی تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں، اپنا مسلک چھوڑو نہ، اور کسی کا مسلک چھیڑو نہ، کی تھیم رکھنی چاہئے۔محسن نقوی نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے دوران غیبی مدد آئی، دونوں ملکوں میں کشیدگی میں نہیں چاہتے، اس کوشش تھی کہ کوئی بھارتی شہری مارا جائے، پاکستان نے میزائل فائر کیے، کچھ نمبر آگے پیچھے ہوگئے، ڈر تھا کہ شہری آبادی کو نقصان نہ ہو لیکن پاکستانی میزائل بھارت کے سب سے بڑے آئل ڈپو میں لگے۔اس کے علاوہ بھارت نے ایک پاکستانی بیس پر تقریباً 11 میزائل فائر کیے، اس بیس پر ہمارے جہاز اور لوگ بھی موجود تھے، خدشہ تھا کہ بھارتی میزائلوں سے بہت نقصان ہوگا، ہمیں اطلاع ملی کہ بھارتی میزائلوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔انہوں نےکہا یہ صرف دو قصے ہیں جو میں نے بتائے کہ کس طرح سے غیبی مدد آئی۔وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کسی ایک بھارتی میزائل سے پاکستان کے جہاز اور لوگوں کو نقصان نہیں پہنچا، آرمی چیف نے واضح کردیا تھا کہ حملہ کرنے پر بھارت اس سے زیادہ بھگتے گا۔محسن نقوی نے کہا کہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت اور جنگ بندی میں وزیر اعظم کا اہم کردار ہے اور اس کے پیچھے اور ایران کی نظر آنے والی کامیابی کے پیچھے بھی وردی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ میں آگے ڈیٹیل میں نہیں جانا چاہتا، جس طرح سے انہوں نے بات کی، جس طرح سے عالمی رہنماؤں کو قائل کیا ہے، اس پر ہم سب کو فخر کرنا چاہئے۔
Blog
-

شینزن کا کنزیومر سفر۔۔۔جہاں صارف سوچتا شہر بولتا ہے

میں نے شینزن Shenzhen پہنچنے سے ذرا پہلے ہی تیز رفتار ریل کی کھڑکی کے پار اْفق پر ابھرتی نیون لکیریں دیکھ لیں لگتا تھا کسی نے رات کے مخملی پردے میں مستقبل کے چراغ ٹانک دیے ہوں۔ میں میٹرو کی چمکتی سیڑھیاں اْترتے ہوئے اپنے ہی دل کی دھڑکن سن رہی تھی۔ شہر کی ہلکی سی نمی، نمکین سمندر اور دھاتی ٹاوروں کی ملی جلی بْو نے میرا خیرمقدم کیا۔
پہلا منظر گویا ڈیجیٹل مصوروں کی نمائش تھا۔ خودکار دروازوں کے شفاف پینلوں پر اڑتے چینی حروف روشنی کے ننھے پرندوں کی طرح پھڑپھڑا رہے تھے۔ ای-سی این وائی کا ہولوگرام میرے سامنے نمودار ہوا، اور کلائی پر بندھی ایپل واچ نے قدم گنے، سانس کا درجہ حرارت ناپا اور خفیف سی تھپکی دے کر آگے بڑھایا۔ محسوس ہوا کہ یہاں ہر چیز، صارف کے لمس سے پہلے ہی اس کے ارادے کو پڑھ لیتی ہے۔
شینزن کا ماضی کبھی مچھلی پکڑنے والا چھوٹا سا گاؤں، آج کنزیومر سلطنت کا مرکز بن چکا ہے اور فلک بوس عمارتیں پوری کی پوری اسکرینوں کے پنجرے میں قید اشتہاروں کی طرح ہیں ہر کھڑکی سے کوئی نیا برانڈ جھانکتا ہے۔ بارش کی نمی اور تیزاب جیسے نیون کے امتزاج نے فضا میں انوکھا عطر گھول رکھا تھا۔ سڑک کنارے روبوٹ ٹرالیوں میں رکھی چائے، گاہکوں کو اپنی جانب پکارتی تھی۔ ادائیگی کے لیے میں نے صرف کلائی کو ہوا میں دائرہ بنا کر گھمایا لیزر نے مجھے پہچانا اور سکہ بے صدا ادا ہو گیا۔
یہاں طاقت صَرف میں نہیں، انتخاب میں ہے۔ فٹ پاتھ پر نصب اسٹالز شفاف شبنم کی بوندوں میں جیسے لپٹے تھے ان کے اندر 3-ڈی پرنٹ جوتے، بائیو سینسر لگی جیکٹیں اور ہولوگرافک لپ اسٹک باری باری چمکتے بجھتے تھے۔ ایک جیکٹ کو چھوا تو نرم کپڑے نے جلد سے پوچھا ’’سردی کم کر دوں یا فیشن کی گرمی بڑھاؤں؟‘‘ اور لمحہ بھر میں میرے گرد حرارت کا نادیدنی ہالہ بن گیا۔
شہر کے اندرونی حلقے میں ایک خودکار سپرمارکیٹ ہے جہاں کسی کیشیئر کی ضرورت نہیں۔ اندر داخل ہوتے ہی میری آنکھ کا آئرس اسکین ہوا اور مخملی نسوانی آواز نے پوچھا: ‘‘آج تازہ یادیں خریدیں گی یا تسکینی ذائقے؟’’ میں نے مسکرا کر ہولوگرافک آڑو اٹھایا یہ مصنوعی تھا مگر اس کی خوشبو میں فطرت کی پوری ہریالی بند تھی۔ ریمپ پر چلتی ہوئی اشیا میرے تعاقب میں تھیں گویا دکان مجھے خریدنا چاہتی ہو۔ چن تْو نامی مقامی ڈیزائنر کے سرامک کپ، جن پر ذہنی سکون کے لیے واٹر کلر لہریں بنی تھیں، پلک جھپکتے میں میرے کارٹ میں کود گئے۔ ادائیگی کے لیے ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہوا دروازے سے باہر قدم رکھتے ہی اکاؤنٹ خودبخود تازہ ہوا اور واچ نے خوشی کی رنگ برنگی تھپکی بھیجی۔
دن ڈھلے میں ساحلِ نان شا جا نکلی۔ برقی بسیں اور سرخ اسٹریٹ لیمپ، سمندر کے کنارے آنکھ مچولی کھیلتے تھے۔ سورج نے پانی پر نارنجی کمخواب بچھایا، اور میں نے پرس سے ڈائری نکالی۔ ایئربڈز میں لو فائی کی مدھم لے بج رہی تھی۔ میں نے لکھا ’’یہ شہر ایک جادو ہے جو تصور سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے۔ ہر کنزیومر شے آئینہ ہے کبھی حیرت، کبھی حریص تمنّا، کبھی نوزائیدہ اْمید دکھاتا آئینہ۔‘‘
رات تک نیون کنجیاں آسمان پر بے شمار حرف جگمگا رہی تھیں۔ میں نے ان پر نظریں جما کر سوچا آج ذہن تھک رہا ہے کبھی کبھی لگتا ہے ڈیجیٹل دنیا میں سوچیں بھی مشینی ہوگئی ہیں نظریں اسکین کرتی ہیں اور قلم کی جگہ انگلیوں کی پوریں جن کے اشارے پر لیپ ٹاپ پر حروف جگمگانے لگتے ہیں مگر آج کی باقی کہانی کل کے سورج کی امانت رہی۔
اگلی صبح جب میں نے شہر کی نبض دوبارہ تھامی، تو اگلا پڑاؤ ایک عظیم الشان ‘‘اسمارٹ زون’’ تھا ایسا مال جہاں ہر صارف، وقت اور ٹیکنالوجی کا ہمسفر بن جاتا ہے۔ وہاں مجھے ایک لڑکی ملی، شاید میری ہی طرح اس نے کہا، ‘‘اس شہر میں ہم اپنے ہاتھوں سے محض خریداری نہیں کرتے، ہم اپنی پہچان چنتے ہیں۔’’ اور اس کے بعد ہم دونوں اس روشنیوں کی سرنگ میں اتر گئیں، جہاں ہر قدم ایک نئی ایجاد سے ملاقات تھی۔ پہلا کمرہ اسمارٹ فونز کا تھا۔
شیشے کی الماریوں میں رکھے Pro 15 iPhone ، 60 Mate Huawei ، Ultra 14 Xiaomi ، اورX7 Find Oppo ایسے لگتے جیسے چھوٹے چھوٹے جادوئی دروازے ہوں۔ ہر فون ایک دنیا، ہر اسکرین ایک کہانی۔ ہْواوے نے اپنے HarmonyOS سے ثابت کیا کہ چین اب کسی پر انحصار نہیں کرتا، اور Xiaomi نے کیمرہ لینز میں ایسا کمال کر دکھایا کہ ہر تصویر گویا ایک مکمل منظرنامہ بن گئی۔
آگے بڑھیں تو لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز کا کمرہ تھا —
Lenovo کے تھنک پیڈ، Asus کے گیمنگ لیپ ٹاپ، XPS Dellؑؑ کی چمکتی دھات میں علم اور طاقت کا امتزاج تھا۔ نوجوان لڑکے VR ہیڈسیٹ لگائے کوڈنگ، ڈیزائننگ، اور گیمنگ کی دنیا میں محو تھے۔ مجھے لگا یہ صرف مشینیں نہیں، خوابوں کے کینوس ہیں۔
پھر ہم اسمارٹ واچز کی گیلری میں داخل ہوئیں۔
Huawei Watch 4 Proمیرے ہاتھ کی گھڑی سے کچھ زیادہ ہی ذہین نکلی، وہ مجھ سے میرے دل کی دھڑکنوں کے راز جاننا چاہتی تھی۔ Amazfit نے نیند کے خفیہ نقوش دکھائے، اور Watch Apple نے مجھے یاد دلایا کہ وقت اب صرف وقت نہیں، صحت، احساس اور پیش بینی کا آلہ بھی ہے۔
کچھ ہی فاصلے پر ہیڈفونز اور ایئربڈز کا مقام تھا۔
AirPods Pro نے شہر کی آوازوں کو سائلنس میں بدلا، اور Huawei Free Buds نے روایتی چینی سازوں کی لے کو میری سانس کے ساتھ جوڑ دیا۔ JBL کے رنگین اسٹال پر بیس کی گونج نے دل کو چمکا دیا ہر آڈیو ڈیوائس یہاں صرف آواز نہیں، ایک کیفیت تھا۔
مال کی بالائی منزل پر ٹی وی اور سنیما کی نمائش تھی۔
Skyworth, TCL, Mi TV, اور Hisense کے OLED پینل گویا دیواروں پر زندہ مناظر تھے۔ ان میں چین کے پہاڑ، ڈریگن فیسٹیول، اور مستقبل کے شہر دکھائی دے رہے تھے۔ 8K ریزولوشن میں خواب اتنے واضح تھے کہ میری پلکیں لرز گئیں۔
ایک خاموش گوشے میں پرنٹرز کی ایک دیوار تھی
Canon, HP, اور Epson ہر پرنٹر اپنی زبان میں عکس، خط، یا تصور کو کاغذ پر اتارنے کے لیے تیار تھا۔ ایک لڑکا وہاں اپنے ہاتھ سے بنائی تصویر کو پرنٹ کر رہا تھا اور اس کے چہرے پر وہی خوشی تھی جو کسی مصور کو تخلیق کے لمحے میں ہوتی ہے۔
پھر آئی گیمنگ کی دنیا میری پسندیدہ دنیا جو آج بھی مجھے ایک چھوٹے نٹ کھٹ بچے کی طرح کھیچتی ہوئی یمنگ زون میں لے جاتی ہے۔
nintendo Switch xbox,play station,اور چند جدید چینی consoles۔ handheld یہاں روشنی کم تھی، مگر آنکھوں میں بجلی تھی۔ لڑکے اور لڑکیاں ورچوئل میدانوں میں دشمنوں سے لڑتے، سلطنتیں بناتے، کہانیاں جیتتے دکھائی دیے۔ میں نے ایک لمحے کو کنٹرولر تھاما، اور اچانک خود کو ایک شہزادی کی طرح محسوس کیا، جو اپنی تقدیر خود لکھتی ہے۔
آخر میں ہم کیمرہ سیکشن میں پہنچے
Canon, Sony, اور سب سے خاص، DJI کے ڈرون کیمرے۔
وہاں فضا میں اڑتے ڈرونز نے منظر کشی کو آسمان کی پرواز دے دی۔ میں نے سوچا ’’یہ شہر نہ صرف خود کو دیکھتا ہے، بلکہ ہمیں خود ہم سے بہتر دکھاتا ہے۔‘‘
شام کے سائے پھر دھیرے دھیرے پھیلنے لگے تھے، مگر میرے اندر ایک نیا اجالا جاگ رہا تھا۔ چین صرف ایک مینوفیکچرنگ پاور نہیں، بلکہ ایک تخلیقی، بصیرتی کنزیومر سلطنت بن چکا ہے۔ جہاں چیزیں صرف خریدی نہیں جاتیں، وہ پہنی، برتی، سنی اور جانی بھی جاتی ہیں۔
’’یہ سفر صرف شہر کے چکر کا نہیں، اپنی سوچ کے دائرے کا بھی ہے۔ میں کل ایک نئے زاویے سے اس شہر کو دیکھوں گی جہاں شاید ٹیکنالوجی اور ثقافت کی کہانی ایک ساتھ سنائی دیں خوش تھی کہ انسانوں کے نہیں، مشینوں کے شہر میں قدم رکھنے جا رہی ہو۔‘‘
شینزن کی اگلی صبح، میں’’ Dream AI Hub‘‘ نامی ایک جدید تجرباتی سینٹر کی طرف روانہ ہوئی۔ راستے میں خودکار برقی بس آئی، چہرہ اسکین کیا، اور نرم آواز میں بولا ’’خوش آمدید، محترمہ۔ آپ کی پسندیدہ موسیقی آن کر دی گئی ہے۔‘‘
واچ نے وقت بتایا، فٹنس لیول اپڈیٹ کیا، اور بس کی کھڑکیوں نے میری سکرولنگ کے ساتھ ساتھ خبریں دکھانا شروع کر دیں جیسے وقت اور حقیقت ایک ساتھ میرا تعارف لے رہے ہوں۔
Dream Hubکے اندر داخل ہوتے ہی گویا میں کسی سائنسی داستان کا مرکزی کردار بن گئی۔ یہاں چین کی AI ٹیکنالوجی ایک جیتی جاگتی شخصیت کی مانند موجود تھی۔ دیوار پر نصب ایک شفاف ا سکرین پر لکھا تھا۔
“Artificial Intelligence: Designing the Consumer of Tomorrow”
پہلا ہال AI Personal Assistantsکا تھا
چینی برانڈز نے اپنی ورچوئل اسسٹنٹس کو نہ صرف بولنے، بلکہ سوچنے، جذبہ سمجھنے، اور سیکھنے کے قابل بنا دیا ہے۔
Baidu کا Bot Ernie ،s smart iFlyTek’ speaker, اور Tmall Genie میرے سوالوں کے جواب صرف الفاظ میں نہیں، احساس میں بھی دے رہے تھے۔
میں نے پوچھا ‘‘تمہیں کیسا لگتا ہے جب انسان تم سے بات کرتا ہے؟’’
اور ایک روبوٹ نے پلک جھپک کر کہا
‘‘مجھے خوشی ہوتی ہے جب تم مجھے صرف مشین نہیں، ساتھی سمجھتی ہو۔’’
آگے بڑھتے ہی Room AI Beauty تھا
جہاں مصنوعی ذہانت آپ کے چہرے کو اسکین کر کے میک اپ، سکن کیئر، اور اسٹائلنگ کے مشورے دیتی ہے۔ ایک اسمارٹ آئینے نے مجھ سے پوچھا ‘‘آج خود کو پر اعتماد دیکھنا چاہو گی یا نرم مزاج؟’’
اور لمحہ بھر میں میرا عکس بدل گیا۔ایک ورچوئل شیڈو جو میرے اندر کے جذبات کی تصویر بن گیا تھا۔
پھر آیا AI powered smart rental store
یہاں کوئی ملازم نہیں تھا، صرف روبوٹز کچھ درازوں کے پیچھے، کچھ زمین پر چلتے ہوئے۔ ایک چھوٹا روبوٹ میرے پاس آیا، اور بولا
‘‘مجھے معلوم ہے آپ کو سفید جوتے پسند ہیں۔ یہ دیکھیں، ایک نیا ڈیزائن، جو آپ کی خریداری کی تاریخ سے مماثلت رکھتا ہے۔’’
میں مسکرا دی، اور دل میں سوچا ‘‘اب خواہشات مشینیں بھی پڑھنے لگی ہیں؟’’
سب سے حیرت انگیز تجربہ AI Chef کے ساتھ ہوا
ایک روبوٹک شیف جو نہ صرف کھانا بناتا تھا بلکہ ذائقے، مزاج، موسم، اور صحت کی ضروریات کے مطابق ریسیپی تخلیق کرتا تھا۔
میں نے کہا ‘‘میری طبیعت کچھ بوجھل ہے، اور دل اداس۔’’
تو اْس نے کہا ‘‘تو لیجیے، ہلکی سبزیوں کا سوپ جس میں زعفران اور تلسی کی خوشبو ہے اداسی کی دوا۔’’
میں نے پہلا چمچ لیا، اور دل کی پرتوں پر امید کے ذائقے نے دستک دی۔ Gallery AI Robotics میں، بچے AI اسسٹنٹ روبوٹز سے گیمز کھیل رہے تھے، بزرگ حضرات کی صحبت میں بولنے والے روبوٹ بیٹھے تھے جو ادویات، یاددہانی، اور قرآن کی تلاوت سنا سکتے تھے۔
ایک ننھی لڑکی نے کہا ‘‘یہ روبوٹ میرے دوست ہے، یہ کہانیاں بھی سناتی ہے اور خوابوں کی نگرانی بھی کرتی ہے۔’’
Robotics Zone DJI میں ڈرون کیمروں نے مجھے اپنی اڑان میں شامل کیا۔ میں نے سیکھا کہ یہ صرف ویڈیو بنانے کے آلے نہیں، بلکہ زراعت، سیلاب کی نگرانی، اور ریسکیو مشن میں کام آنے والے ساتھی ہیں۔ ایک ڈرون نے آسمان سے تصویریں بنائیں، اور میرے موبائل پر پیغام بھیجا ‘‘یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔’’
واپسی پر میں نے خود سے پوچھا ‘‘کیا مشینیں صرف سہولت ہیں، یا یہ آئندہ نسل کی زبان بننے جا رہی ہیں؟’’
شاید ہم اب محض صارف نہیں، ایک نئی تہذیب کے معمار بھی ہیں
جہاں کنزیومرزم صرف ‘‘خریدنا’’ نہیں، ‘‘سیکھنا، محسوس کرنا، اور بدلنا’’ بھی ہے۔‘‘یہ سفر اب محض جسم کا نہیں، ذہن اور روح کا بھی ہے۔
چین کی مصنوعی ذہانت، جب انسانیت کے نرمی سے جْڑتی ہے، تب وہ ٹیکنالوجی سے زیادہ ایک زبان بن جاتی ہے۔’’
اور اگلے دن میں ، کسی قدیم گلی کی طرف روانہ ہونے کا سوچ رہی تھی
جہاں شاید کوئی بوڑھا کاتب بیٹھا ہو، جو اب بھی قلم سے حروف لکھتا ہے اور شاید کسی AI روبوٹ کو یہ سکھا رہا ہو کہ جذبات کس طرح لکھے جاتے ہیں۔
صبحِ صادق نے ابھی زردی کی ہلکی انگڑائی لی تھی کہ میں، ہاتھ میں کافی کا کپ اور دل میں رات بھر کی کہانی لیے، نان شا ساحل پر آن کھڑی ہوئی۔ سمندر کی سطح پر اْگتا سورج، ایسا تھا جیسے پگھلا ہوا سونا آہستہ آہستہ پانی میں گھل رہا ہو۔ دور پرے فلک بوس ٹاوروں کے شیشے ہر پہلی کرن کو پکڑ کر اسے ہزار زاویوں سے واپس آسمان پر اچھال رہے تھے، گویا شہر دعا کی صورت روشنی لوٹا رہا ہو۔
میں نے نگاہ گھمائی تو دیکھا ساحل کے کنارے خودکار صفائی روبوٹ نرم ریت پر لکیریں بناتے ہوئے گزر رہے تھے۔ ان کی حرکت میں ایک عارفانہ سْکون تھا، جیسے کسی صوفی نے تسبیح کے دانے چْپ چاپ گن لیے ہوں۔ قریب ہی چند نوجوان لڑکے لڑکیاں پچھلی رات AI ڈرون سے کھنچی تصویریں اپنے اسمارٹ فونز پر دیکھتے مسکرا رہے تھے۔ اْن کی ہنسی میں مستقبل کی قطار باندھے امکانات جھلملاتے تھے۔
میں نے دل ہی دل میں سوچا شینزن تم شہر نہیں، خوابوں کا ساز ہو جہاں ٹیکنالوجی کی ہر دْھن پر امید کا نیا مصرع چَھلکتا ہے۔
اسی لمحے ایک معمر خاتون اپنے ہاتھ میں بانسری لیے آہستہ آہستہ ساحل کے ریتلے فرش پر چلتی آئی۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا روبوٹ تھیلا اٹھائے، دھیرے قدم سے ساتھ نبھا رہا تھا۔ خاتون نے بانسری لبوں تک رکھی؛ پہلی لَے میں دور کہیں پہاڑیوں کی خاموش گھنٹیوں کی صدا اتری، دوسری لَے میں شہر کے دل دھڑکے، تیسری میں سمندر کی لہروں نے تال پکڑی۔ روبوٹ نے نقرئی آواز میں تان پورہ چھیڑا، اور یوں انسان و مشین کی سنگت نے ایک ایسا راگ باندھا جس میں ماضی اور مستقبل ایک ساتھ گونج اٹھے۔
کچھ قدم دور، چھوٹی سی کتابوں کی موبائل لائبریری ایک خودرَو وین اپنے ہولوگرافک شیلف کھولے کھڑی تھی۔ میں نے اندر جھانکا قدیم کلاسیکی قصے OS Harmony کے ورق پر جھلک رہے تھے ساتھ ہی نئے سائنسی ناول پَلٹ رہے تھے، گویا قلم اور کوڈ نے ایک ہی روشنائی میں قسمت لکھی ہو۔ میں نے ‘‘لوٹس کی چٹان’’ نامی شاعرہ کی نظم چْن لی ڈاؤن لوڈ کے بجائے کاغذ پر چھپی، اور واچ نے سرگوشی کی
‘‘کبھی کبھی لمس بھی ضروری ہے۔’’
میں نے آخری گھونٹ کافی کا لیا، اور دفتر نما آسمانی بلندیوں کو دیکھا جہاں کھڑکیوں سے جھانکتی روایتی سرخ لالٹینیں آج بھی محفل روشن کرتی ہیں۔ تب مجھے احساس ہوا اس عظیم کنزیومر سلطنت کی اصل خوبی خرید و فروخت نہیں، ربط ہے۔ ربط انسان اور مشین کا، ماضی اور مستقبل کا، خواب اور حقیقت کا۔ یہاں ہر ایجاد ایک چراغ ہے مگر اْس چراغ کی لو تب تک سلامت رہتی ہے جب تک اس کے نیچے انسان کے لمس اور جذبے کی حرارت جلتی ہے۔
‘‘اے شہرِ نیون! تْم نے مجھے بتایا کہ ترقی کا بلند ترین ٹاور بھی تبھی معتبر ہے جب اس کی بنیاد محبت کی ریت پر رکھی جائے۔’’
سمندر کی لہریں میرے قدم چْوم کر پلٹ گئیں، جیسے کہہ رہی ہوں واپس آنا، کہ یہاں اْمید ہمیشہ نیون کی طرح روشن رہے گی۔ میں نے مسکرا کر سر ہلایا اور ریت پر اپنے نقوشِ قدم چھوڑتی ہوئی آگے بڑھ گئی اس یقین کے ساتھ کہ کل کہیں بھی جاؤں، میرے اندر شین ژن کی کرنیں رہنمائی کرتی رہیں گی۔ -

واٹس ایپ نے بڑی تبدیلی کا اعلان کردیا، اشتہارات دکھائے جائیں گے
نیو یارک (کنزیومر واچ نیوز)انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایپلی کیشن پر اشتہارات دکھائے جائیں گے۔واٹس ایپ اب تک کی سب سے مقبول ترین انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن ہے، جسے صارفین اشتہارات سے پاک ہونے کی وجہ سے پسند کرتے ہیں لیکن اب وہاں بھی صارفین کو اشتہارات دیکھنے کو ملیں گے۔نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق واٹس ایپ کی مالک کمپنی ’میٹا‘ نے اعلان کیا ہے کہ جلد ہی میسیجنگ ایپلی کیشن میں اشتہارات دکھائے جائیں گے۔کمپنی کے مطابق اشتہارات دکھائے جانے کے باوجود صارفین کی پرائیویسی برقرار رہے گی، ان کے پیغامات کے انباکس کی سیکیورٹی یا فیچرز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔واٹس ایپ پر اسٹیٹس یا اسٹوری شیئر کرنے والے سیکشن میں اشتہارات دکھائے جائیں گے، جس سے صارفین کی اینڈ ٹو اینڈ میسیجنگ سیکیورٹی بھی برقرار ہے گی۔واٹس ایپ پر اشتہارات کو دکھائے جانے کے بعد ایپلی کیشن میں یہ اس کی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی ہوگی، کیوں کہ اپنے متعارف ہونے سے اب تک گزشتہ 15 سال میں واٹس ایپ اشتہارات سے پاک تھا۔واٹس ایپ کو 2009 میں متعارف کرایا گیا تھا اور میٹا نے اسے 2014 میں خریدا تھا اور اس وقت بھی کمپنی نے ایپلی کیشن میں اشتہارات نہ دکھانے کے عزم کو ظاہر کیا تھا لیکن اب کمپی نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اس میں اشتہارات دکھانے کا اعلان کردیا۔کمپنی کی جانب سے اعلان کیے جانے کے بعد جلد ہی واٹس ایپ صارفین اپنے اسٹیٹس یا اسٹوری سیکشن میں اپنے کسی دوست کی اسٹوری دیکھنے کے دوران اشتہارات دیکھ سکیں گے۔ممکنہ طور پر اسٹیٹس یا اسٹوری کو دیکھنے کے وقت یوٹیوب اور فیس بک ویڈیوز میں چلائے جانے والے اشتہارات کی طرح واٹس ایپ کے اشتہارات بھی چلنے لگیں گے۔واٹس ایپ پر مذکورہ تبدیلی کے بعد واٹس ایپ چینلز اور اکاو?نٹس کو بھی مونیٹائزیشن کا حصہ بنایا جائے گا، یعنی صارفین کو بھی اشتہارات سے کمائی ہوگی۔جس طرح یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کی مونیٹائزیشن سے صارف کو بھی پیسے کمانے کا موقع ملتا ہے، اسی طرح واٹس اکاونٹ ہولڈر کو بھی پیسے کمانے کا موقع ملے گا۔واٹس ایپ کے دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب صارفین ہیں جو کہ یومیہ بنیادوں پر ایپلی کیشن کا استعمال کرتے ہیں۔
-

ایمازون کے بانی ارب پتی جیف بیزوس کی پر تعیش اور مہنگی شادی
لندن(کنزیومر واچ ڈیسک ) امریکن ای کامرس کمپنی ایمازون کے بانی ارب پتی جیف بیزوس اور صحافی لورین سانچیز کی پْرتعیش اور مہنگی ترین شادی کی 3 روزہ تقریبات کا آغاز اٹلی میں ہوچکا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹر ز کی ایک رپورٹ میں اس پرتعیش اور مہنگی ترین شادی سے متعلق کئی معلومات منظر عام پر لائی گئی ہیں۔
شادی کا مقام
رپورٹس کے مطابق جیف اور لورین کی شادی کی تقریب اٹلی کے شہر وینس ہوگی لیکن تاحال شادی کی تاریخ اور شادی کی تقریب کا مقام خفیہ رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جیف اور لورین ان تقریبات سے قبل ہی امریکا میں ایک انتہائی نجی تقریب میں رشتہ ازدواج بندھ چکے ہیں جب کہ یہ ان کی شادی کی دوسری سیلیبریشن ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شادی کی تقریب وینس کے تاریخی مقام آرسنل میں مشہور سینٹ مارکس اسکوائر کے سامنے ، 99 میٹر اونچے بیل ٹاور کے ساتھ ہفتے کے روز منعقد کی جائے گی۔اس تقریب میں ہالی وڈ اسٹارز ، دنیا کی مشہور اور مقبول 200 سے 250 شخصیات بھی شرکت کریں گے۔
شادی کا بجٹ
رپورٹس میں اس شادی کے بجٹ کا تخمینہ 56 ملین ڈالر یعنی 15 ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس شادی کو دنیا کی اور صدی کی مہنگی ترین شادی میں شمار کیا جارہا ہے۔
مہمانوں کی آمد کا انتظام
رائٹرز کے مطابق منتظمین کی جانب سے مہمانوں کے استقبال کیلئے وینس کی مختلف کمپنیوں سے کم از کم 30 واٹر ٹیکسیاں بک کروائی گئی ہیں۔اس کے علاوہ 90 پرائیوٹ جیٹس کے ذریعے خاص مہمانوں کو وینس لایا جائے گا جب کہ شرکت کے لیے صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سمیت دنیا بھر سے ا?نے والے وی وی ا?ئی پی مہمانوں کی ا?مد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔بتایا گیا ہے کہ شادی میں شرکت کرنیوالے 250 متوقع مہمانوں کو وینس شہر کے 5 پرتعیش ہوٹلز میں ٹھہرایا جائے گا۔
شادی کی خاص ڈش
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق صدی کی سب سے مقبول شادی کیلئے اٹلی کے مقامی دکانداروں کو وینیشین روایت کا ذائقہ شادی میں شامل کرنے کیلئے بک کیا گیا ہے، ان دکانداروں کو اس شادی کیلئے اٹلی کی ’ معروف روزا سلوا پیسٹری ‘ کے 200 سے زائد گڈی بیگز تیار کرنے کا آرڈر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 61 سالہ جیف بیزوس نے اپنی گرل فرینڈ 55 سالہ امریکی صحافی و اینکر لورین وینڈی سانچیز سے 2023 میں منگنی کی تھی۔
ایمازون کے بانی اور امریکی صحافی نے جنوری 2019 میں اپنے تعلقات کی تصدیق اس وقت کی تھی جب بیزوس نے اپنی بیوی میکنزی اسکاٹ سے طلاق کا اعلان کیا تھا، بیزوس اور میکنزی کی شادی 26 سال رہی اور ان کے 4 بچے ہیں۔اسی طرح لورین سانچیز کی بھی 4 سال قبل شوہر پیٹرک وائٹسیل سے طلاق ہوگئی تھی، 13 سال کی شادی میں ان کے 2 بچے ہیں۔
شادی کی تقریبات کے خلاف احتجاج
شادی کی تقریبات کے خلاف احتجاج کرنے والے نو سپیس فور بیزوس نامی گروپ سے منسلک ایک شخص کہتے ہیں کہ ’ہمیں اس پر فخر ہے۔ ہم کچھ بھی نہیں اور نہ ہمارے پاس پیسہ ہے۔‘’ہم صرف عام شہری ہیں جنھوں نے احتجاج منعقد کیا اور دنیا کے طاقتور لوگوں (ارب پتی افراد) کو شہر سے باہر بھیجنے میں کامیاب ہوئے۔‘تاہم شہری انتظامیہ کے حکام کی جانب سے احتجاجی مظاہرین پر شدید تنقید کی اور کہا کہ مال دار مہمان وینس کے لیے کمائی کا بڑا ذریعہ ہیں۔سٹی کونسل میں اکنامک ڈویلپمنٹ کونسلر سیمون وینچرونی کہتے ہیں کہ ’یہ احتجاجی مظاہرین ایسے برتاؤ کر رہے ہیں جیسے یہ وینس کے مالک ہوں۔‘’کسی کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں کہ کس کی یہاں شادی ہو گی اور کس کی نہیں۔‘
اس شادی کی تقریبات کے خلاف متعدد گروپس احتجاج کر رہے ہیں۔ ان میں وہ گروپس بھی شامل ہیں جو وینس میں سیاحت کی زیادتی، ماحولیاتی آلودگی اور جیف بیزوس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے حمایت کے خلاف ہیں۔وینس میں سماجی اور سیاسی کارکنان جیف بیزوس کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور انھیں شادی کی تقریبات کے سبب شہر کے حصوں کے بند ہونے پر اعتراض ہے۔کچھ مقامی افراد شادی کی تقریبات کو وینس کے ساتھ سیاحت کی زیادتی کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ وینس کی آبادی اس وقت کْل آبادی 49 ہزار ہے جو کہ سنہ 1950 تک 1 لاکھ 75 ہزار تھی۔ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کام کرنے والے گروپ گرین پیس جیف بیزوس کو ’مراعات اور آلودگی‘ کی علامت سمجھتے ہیں جو کہ ’امیر اور عام لوگوں کے درمیان عدم توازن کو بڑھا رہے ہیں۔‘پیر کو گرین پیس کے کارکنان اور ایوری ون ہیٹس ایلون نامی گروپ نے جیف بیزوس کی ایک بڑی سی تصویر کے ساتھ احتجاج کیا تھا اور احتجاجی مظاہرین امیر افراد کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے نظر آَئے تھے: ’اگر آپ شادی کے لیے وینس کرایے پر لے سکتے ہیں تو مزید ٹیکس بھی دے سکتے ہیں۔‘
مکنزی ا سکاٹ
بیزوس اور ان کی پہلی اہلیہ کی طلاق کی صورت میں 35 ارب ڈالر کی سب سے بڑی سیٹلمنٹ سامنے آئی تھی۔ مکنزی ا سکاٹ ایمازون میں چار فیصد حصص کی مالک ہیں۔شادی میں کون کون شرکت کر رہا ہے؟
اس شادی میں 200 افراد کو مدعو کیا گیا ہے اور ان میں سے کچھ لوگ بشمول فیشن ڈیزائنر ڈان وون فورستنبرگ، ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور داماد جیرڈ کشنر وینس پہنچ بھی چکے ہیں۔رواں برس لورین سانشیز کی بیچلریٹ پارٹی میں کم کارڈیشین، کرس جینر، کیٹی پیری، ایوا لنگوریا اور نتاشہ پوناوالا سمیت متعدد مشہور شخصیات نے شرکت کی تھی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ شخصیات وینس میں شادی کی تقریبات میں بھی شریک ہوں گی۔افواہیں یہ بھی گردش کر رہی ہیں کہ مشہور ٹی وی پریزینٹر اوپرا ونفرے، گلوکار مِک جیگر اور اداکار لیونارڈو ڈیکیپریو بھی اس شادی میں شرکت کرنے کے لیے اٹلی پہنچیں گے۔وینس کے ایئرپورٹ پر پرائیویٹ جیٹ طیاروں کی آمد متوقع ہے جبکہ پرائیویٹ بحری جہاز بندرگاہ پر لنگر انداز ہوں گے۔پانچ ہوٹل مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ سابق امریکی میرینز سکیورٹی فراہم کریں گے جیف بیزوس کی شادی وینس میں ہونے والی پہلی پر تعیش شادی نہیں۔سنہ 2014 میں اداکار جارج کلونی کی انسانی حقوق کی وکیل امل علماؤ الدین سے شادی بھی یہاں ہی ہوئی تھی تاہم بیزوس کی شادی کے برعکس اس وقت جارج کلونی کی تقریب کے خلاف کوئی ہنگامہ نہیں ہوا تھا۔ -

کراچی کی شاندار مالی کارکردگی،ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ
کراچی (کنزیومر واچ نیوز)مالی سال 25-2024 کے دوران کراچی نے شاندار مالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹیکس وصولیوں میں 29 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کرایا۔ مالی سال 25-2024 میں شاندار مالی کارکردگی کے ساتھ کراچی نے محصولات جمع کرنے کے میدان میں سبقت حاصل کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی ٹیکس وصولیوں میں غیر معمولی اضافہ درج کیا ہے، حالانکہ معیشت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔کراچی میں وفاقی ٹیکس وصولی میں سال بہ سال 29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) کی جانب سے خدمات پر سیلز ٹیکس میں 29.5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، کراچی نے قومی اور صوبائی محصولات میں سب سے بڑا حصہ دار ہونے کا اعزاز برقرار رکھا۔ایس آر بی، خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) جمع کرتا ہے، جب کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پانچ دفاتر، آر ٹی او 1، آر ٹی او 2، میڈیم ٹیکس پیئرز آفس (ایم ٹی او)، کارپوریٹ ٹیکس آفس (سی ٹی او) اور لارج ٹیکس پیئرز آفس (ایل ٹی او) کراچی میں آمدنی ٹیکس، اشیا پر سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی وصولی کا انتظام سنبھالتے ہیں۔تخمینے کے مطابق، ایس آر بی کے جی ایس ٹی کی 80 فیصد وصولی کراچی سے ہوتی ہے، جب کہ باقی 20 فیصد اندرونِ سندھ سے حاصل کی جاتی ہے، تاہم اگر کسی ادارے کی سرگرمیاں کراچی سے باہر بھی ہوں، تب بھی کراچی میں قائم کمپنی کے ہیڈ آفس کے ذریعے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
-

بھارتی نیوز شو میں ہانیہ عامر کا نام بگاڑ دیا گیا
ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)بھارتی میڈیا ایک بار پھر پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کی مقبولیت کو برداشت نہ کرسکا۔ فلم ’سردار جی 3‘ کی کامیابی کے بعد ایک بھارتی نیوز شو میں مہمان نے طنزیہ انداز میں ہانیہ کو ’ہانیہ پنیر‘ کہہ کر پکارا، جس پر اینکر بھی ہنسی نہ روک سکا۔ہانیہ عامر کو بھارتی پنجابی فلم ’سردار جی تھری‘ میں اداکاری کی وجہ سے بھارت میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔27 جون کو ہانیہ عامر کی بھارتی پنجابی فلم ’سردار جی تھری‘ ریلیز ہوئی، جسے بھارت کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔22 اپریل کو پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی کے باعث یہ فلم بھارت میں ریلیز نہ ہو سکی۔فلم کو بھارتی فلم سازوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور فلم کے پروڈیوسرز اور اداکار دلجیت دوسانجھ کے آئندہ تمام پروجیکٹس کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔بھارت کی تمام تر کوششوں کے باوجود فلم دنیا بھر میں ریلیز ہوئی اور یہ اب تک باکس آفس پر 18 کروڑ روپے کا بزنس کر چکی ہے۔خاص طور پر پاکستان میں فلم کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی، جہاں اس نے ریلیز کے پہلے ہی 3 کروڑ 50 لاکھ روپے (تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار امریکی ڈالر) کا بزنس کیا، جو پاکستان میں کسی بھی بھارتی فلم کی پہلے دن کی سب سے بڑی کمائی ہے۔تاہم، فلم بھارت میں خاصی زیر بحث ہے، جس کی ایک بڑی وجہ اس کی بین الاقوامی ریلیز ہے۔’سردار جی تھری‘ پر بھارت کے نیوز چینلز پر باقاعدہ بحث و مباحثے بھی جاری ہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر بھارتی نیوز چینل ’نیوز 18‘ کی ایک کلپ وائرل ہو رہی ہے، جس میں پروگرام کے دوران ایک مہمان نے عجیب انداز میں ہانیہ عامر کو نہ پہچاننے کا ڈراما کیا، حالانکہ ہانیہ عامر بھارت میں خاصی مقبول ہیں۔مہمان نے مذاق اڑاتے ہوئے ہانیہ کو ’ہانیہ پنیر‘ کہہ کر پکارا، جس پر اینکر اپنی ہنسی نہ روک سکا، کیونکہ یہ بات مذاق سے زیادہ بے وقوفی لگ رہی تھی۔مہمان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ ہانیہ پنیر یا میر کون ہے؟ میں تو پہلی بار اس کا نام سن رہا ہوں!
-

باجوڑ میں بم دھماکا ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4 افراد شہید اور 11 زخمی
پشاور(کنزیومر واچ نیوز)باجوڑ میں صدیق آباد پھاٹک میلہ گراونڈ کے قریب بم دھماکا ہوا ہے جس میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4 افراد شہید اور 11 زخمی ہوگئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکاپھاٹک میلہ گراونڈ کے قریب ہوا ، حملے میں اسسٹنٹ کمشنر ناواگئی فیصل اسمعیل، تحصیلدار ناواگئی اور 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔دھماکے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کر کے ڈسٹرکٹ اسپتال خار منتقل کردیا، دھماکے کے نتیجے میں ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
-

مودی کا ’’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘‘ کا جھوٹا نعرہ
ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)بھارت میں بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم نریندر مودی کا بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ جھوٹا ثابت ہو رہا ہے اور کولکتہ لا کالج ریپ کیس ریاستی ناکامی کی زندہ مثال بن گیا ہے۔مودی راج میں خاتون ہونا جرم بن چکا ہے اور بھارت میں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتیوں کے واقعات مستقل طور پر بڑھ رہے ہیں۔ مودی سرکار میں خواتین کی جان، عزت اور آزادی غیر محفوظ جب کہ تعلیمی ادارے جنسی درندگی کے مراکز بن چکے ہیں۔بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ صرف سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور حقیقت میں مودی حکومت خواتین کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔این ڈی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کولکتہ لا کالج میں 24 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔ ملزمان میں 2 سینئر طالبعلم اور ایک سابق طالبعلم شامل ہیں، جنہوں نے طالبہ کو زبردستی گارڈ روم میں بند کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا۔بعد ازاں ملزمان طالبہ کو بلیک میل بھی کرتے رہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق زیادتی کا مرکزی ملزم منوجیت مشرا، سابق طالبعلم اور استاد، کالج میں بااثر سیاسی رابطوں کی بدولت آزاد ہیں۔ ملزم منوجیت مشرا ’’ترنمول کانگریس طلبہ تنظیم‘‘ سے وابستہ ہے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق واقعے کی اطلاع کالج انتظامیہ کو پولیس یا طلبہ کے بجائے میڈیا کے ذریعے ملی، جس سے انتظامیہ کی بے خبری اور سکیورٹی کی سنگین ناکامی بے نقاب ہو گئی۔متاثرہ لڑکی نے بیان دیا کہ 25 جون کی رات جنوبی کولکتہ لا کالج میں ملزمان نے گارڈ کو ڈرا کر گارڈ روم میں اس کے ساتھ زیادتی کی اور گارڈز خاموش تماشائی بنے رہے۔ متاثرہ لڑکی نے ملزمان کی شناخت حروف J، M اور P کے ذریعے کی جب کہ این ڈی ٹی وی کے مطابق سی سی ٹی وی اور میڈیکل رپورٹ نے دعوے کی تصدیق کر دی ہے۔بھارت کے تعلیمی ادارے اندرونی سکیورٹی کے بحران کا شکار ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق وائس پرنسپل کی سنگین غفلت نے کالج کے سکیورٹی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔وائس پرنسپل نے لڑکی کی جان کو خطرے میں ڈال کر ذمے داری سے فرار اختیار کر لیا ہے۔ بھارت خواتین کے لیے ایک جیل بن چکا ہے، جہاں قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ہر سال 30,000 سے زائد ریپ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ بھارت میں ہر گھنٹے تقریباً 43 خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ حال ہی میں امریکا کی جاری کردہ نئی ٹریول ایڈوائزری نے بھی مودی سرکار کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی ہے۔
-

آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے دہشتگردی کو شکست دیں گے، بلاول بھٹو زرداری
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ طالبان حکومت کی وعدہ خلافیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں، سرنڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں شامل نہیں، آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے دہشتگردی کو شکست دیں گے۔چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تحت “دنیا کے لئے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے عنوان سے ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نےکہا کہ طالبان حکومت کی وعدہ خلافیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں لہٰذا افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے۔ان کا کہنا تھا کہ سرنڈر کرنا پاکستان کی ڈکشنری میں شامل نہیں، آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے دہشتگردی کو شکست دیں گے۔اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہو اور دیرپا امن کے لیے کام کرے۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پانی کی بطور ہتھیار استعمال کا خاتمہ ہونا چاہیے۔بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی نمایاں کامیابیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ملک نے اس جنگ میں انسانی جانوں اور معاشی نقصانات دونوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تجربات اور کامیابیوں سے سیکھے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردوں کی کوئی قومیت، مذہب، ذات یا عقیدہ نہیں ہے اور یہ خطرہ کسی قانون کا احترام نہیں کرتا۔انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اجتماعی عالمی کوششوں پر زور دیا۔
-

پاکستان میں شدید ترین تباہ کن موسمی صورتحال کا امکان.
موسمی ماڈل کے مطابق مون سون سیزن معمول سے 4–5 دن قبل شروع ہوگیا ہے—26–27 جون کو”—جس سے یکم جولائی سے 15 جولائی کے دوران ملک کے تقریباً 80٪ علاقوں میں معمول سے زیادہ بارش کا امکان ہے
این ڈی ایم اے/این ای او سی نے 29 جون سے 5 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارش، فلڈ الرٹ اور لینڈ سلائیڈنگ و شہری قلیل سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے
2. حالیہ صورتِ حال
جون کے آخر میں شمالی خیبر پختونخوا (خاص طور پر سوات)، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے اضلاع میں موسلادھار بارشوں نے 46 سے زائد افراد کی جان لے لی ہے – 22 خیبرپختونخوا، 13 پنجاب، 7 سندھ، 4 بلوچستان میں ۔
32 افراد بشمول 16 بچے سوات و دیگر شمالی علاقوں میں Flash Floods میں جاں بحق ہوئے
مزید 8 افراد گزشتہ دنوں سوات سمیت شمال مغربی اضلاع میں پیش آنے والے Flash Floods میں ہلاک ہوئے ۔
3. شمالی سیاحت اور انفراسٹرکچر کا خطرہ
80٪ علاقوں میں باقاعدہ بارشیں ہونے کی صورت میں صوبائی علاقوں خصوصاً شمال (گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، شمالی خیبرپختونخوا) میں شدید سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور Glacier Lake Outburst Floods (GLOFs) کا خطرہ بڑھے گا
سڑکیں، پل، رابطہ اور بجلی کی سہولیات بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔
شمالی علاقوں کی سیاحت 1–15 جولائی کے دوران تقریباً معطل رہنے کا امکان ہے۔
عوام و حکومت کو فوری اقدامات کی ہدایت: سیاحوں کو ان تاریخوں میں شمال کا سفر نہ کرنے، ضلعی انتظامیہ کو ایمرجنسی اقدامات لینے کا مشورہ پیش کیا گیا ہے۔سفارشات:
حکومت/NDMA/PDMA: تمام علاقوں میں فوری الرٹس جاری کریں، سیاحتی راستوں کو بند کریں، اور انسداد سیلابی نظام کو فعال کریں۔
عوام: شمالی علاقوں کا سفر 15 جولائی تک مؤخر کریں، دریا ندی نالوں سے دور رہیں، اور فلڈ بریگز/ایمرجنسی کٹس کی تیاریاں کریں۔
متعلقہ ادارے: پلوں، سڑکوں، لیڈرز اور ندی نالوں کے حفاظتی انتظامات پر توجہ دیں۔
نتیجہ:
اگر یکم تا 15 جولائی کے دوران موسمی ماڈل کے مطابق بارشیں آئیں تو 2022 کے سیلاب جیسی تباہی کا ممکنہ خطرہ ہے۔ شمالی علاقوں کی سیاحت بری طرح متاثر ہوگی، انفراسٹرکچر شدید نقصان میں آسکتا ہے، اور عوام کو زندگی و جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وقت ابھی ہے۔ خطرہ کی شدت سے آگاہ رہیں و احتیاط کریں۔
