Blog

  • بھارت معرکۂ حق میں شکست کھا چکا  اب  ہائبرڈ وار کا سہارا لے رہا ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    بھارت معرکۂ حق میں شکست کھا چکا اب ہائبرڈ وار کا سہارا لے رہا ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    راولپنڈی (کنزیو مر واچ نیوز)چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت معرکۂ حق میں شکست کھا چکا ہے اور اب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند جیسے پروکسیز کے ذریعے ہائبرڈ وار کا سہارا لے رہا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے 16ویں اجلاس کے شرکاء سے ملاقات اور خطاب کیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ ‘‘بلوچستان کی ترقی، قومی یکجہتی کی ضمانت ہے۔‘‘اس ورکشاپ میں اراکین پارلیمنٹ، سول سوسائٹی کے نمائندے، سرکاری افسران، دانشور، صحافی اور نوجوانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ ’’یہ تمام فتنہ باز عناصر بھی ان شاء اللہ اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو انہیں معرکۂ حق میں ملا تھا۔‘‘آرمی چیف نے بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو پاکستان کی قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاک فوج دہشتگردی کی لعنت کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کی کھلی سرپرستی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے محبِ وطن عوام، خاص طور پر بلوچ عوام کی حب الوطنی کو کمزور کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب، فرقہ یا نسل نہیں ہوتی، اس لیے اس کے خلاف پوری قوم کو متحد ہو کر ایک آواز بننا ہوگا۔ فیلڈ مارشل، اجتماعی قومی عزم کے بغیر دہشتگردی جیسے خطرے سے نمٹنا ممکن نہیں۔فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں سے تعاون کو مزید بہتر بنانے اور صوبے کی ترقی کے لیے مشترکہ قومی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔انہوں نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کو بھی دہرایا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ مادرِ وطن کو درپیش کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، قومی وقار اور عوام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق نشست کا اختتام آرمی چیف اور شرکاء کے درمیان آزادانہ اور بھرپور سوال و جواب کی نشست پر ہوا۔

  • نازیبا ویڈیوز:رجب بٹ پر ایک اور ’’شرمناک الزام‘‘ لگ گیا

    نازیبا ویڈیوز:رجب بٹ پر ایک اور ’’شرمناک الزام‘‘ لگ گیا

    اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز)پاکستانی ٹک ٹاکر اور تنازعات کا شکار رہنے والے رجب بٹ کے انتہائی قریبی دوستوں کی نازیبا ویڈیوز لیک ہوگئی ہیں۔سوشل میڈیا صارفین خاتون ٹک ٹاکرز کے بعد اب مرد ٹک ٹاکرز کی قابل اعتراض ویڈیوز سامنے آنے پر ششدر ہیں۔ حال ہی میں رجب بٹ کے قریبی ساتھیوں حیدر شاہ، مان ڈوگر اور شہزی کی مکمل برہنہ ویڈیوز سامنے آئی ہیں جو ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈنگ میں ہیں۔نازیبا لیک ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اعتراض کیا ہے کہ ویسے یہ لوگ بڑے مذہبی بنتے ہیں تو پھر مکمل برہنہ ویڈیوز کیوں بنائی گئیں؟رجب بٹ اور ان کے دوستوں کا موقف ہے کہ ہمارا ڈیٹا ہیک ہوا ہے، کسی نے ہمارے موبائل سے یہ ویڈیوز ہیک کرکے وائرل کی ہیں۔سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ ان ٹک ٹاکرز نے آخر یہ ویڈیوز بنائی ہی کیوں؟ یہ قابل اعتراض ویڈیوز بنائی تو ان کے موبائل سے ہی گئی ہیں، جسے بعد میں ان کے ہی ساتھیوں یا کسی اور نے وائرل کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ٹوئٹس میں یہ تذکرہ بھی کیا جارہا ہے کہ رجب بٹ کے انتہائی قریبی ساتھی حیدر شاہ ویڈیو کال پر جسے اپنا جسم دکھا رہے ہیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود رجب بٹ ہی ہیں۔دوسری جانب رجب بٹ کا ٹک ٹاکر زارا ملک کے ساتھ تعلقات کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ رجب بٹ دبئی میں زارا بٹ کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔صارفین نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ رجب بٹ اپنی حاملہ بیوی ایمان کو دھوکا دے رہے ہیں۔ رجب دبئی میں زارا ملک کے ساتھ دیکھے بھی گئے ہیں اور ان کی کچھ ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس سے دونوں کے درمیان انتہائی قربت کا شک گہرا ہوجاتا ہے۔ قوالی نائٹ میں بھی دونوں ساتھ تھے۔ جب کہ دونوں کی ایک جیسی ڈریسنگ بھی زیر بحث ہے۔ رجب بٹ جس رنگ کی شرٹ پہنے ہوتے ہیں زارا بھی اسی کلر کی شرٹ میں نظر آتی ہیں۔

  • 50 کلو وزن کیسے کم کیا؟ ارجن کپور نے راز بتا دیا

    50 کلو وزن کیسے کم کیا؟ ارجن کپور نے راز بتا دیا

    ممبئی (کنز یو مر واچ نیوز)بالی ووڈ اداکار ارجن کپور نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے کس طرح 50 کلو وزن کم کیا۔ارجن کپور نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے سے پہلے ان کا وزن 140 کلوگرام تک پہنچ چکا تھا اور وہ نوعمری میں وہ ضرورت سے زیادہ موٹاپے کا شکار تھے اور انہیں لگتا تھا کہ صرف چہل قدمی ہی بہترین ورزش ہے۔اداکار کے مطابق وزن کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ جسمانی طور پر متحرک رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان اگر کھانے کے فوراً بعد بیٹھا رہے تو پھر وزن بڑھنے کی شکایت کا حق نہیں رکھتا۔ارجن نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ کھانے کے شوقین رہے ہیں، تاہم وزن کم کرنے کے لیے انہوں نے فاسٹ فوڈ، چینی اور کاربوہائیڈریٹس سے پرہیز کیا جس سے ان کا وزن تیزی سے کم ہوا۔ ارجن کپور نے اپنے وزن میں اضافے کی ایک بڑی وجہ تھائیرائیڈ گلینڈ کی بیماری کو قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس بیماری کا شکار رہ چکے ہیں، جس کا اثر ان کی والدہ اور بہن پر بھی پڑا تھا اور اسی بیماری نے ان کے وزن میں نمایاں اضافہ کیا۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف کا طاقتور شوگر مافیا سے ٹکرانے کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا طاقتور شوگر مافیا سے ٹکرانے کا فیصلہ

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی مافیا کیخلاف ٹیکس کے سخت نفاذ کے ذریعے پہلا بڑا وار کیا ہے، لیکن مافیا نے بھی جوابی حملہ کرتے ہوئے ملکی مارکیٹس کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال نئی معاشی بے چینی کو جنم دے رہی ہے اور حکومت کے عزم کو کڑی آزمائش میں ڈال رہی ہے۔ وزیراعظم، جن کے اپنے خاندان کی چینی کی صنعت سے پرانی وابستگی رہی ہے، انہوں نے سیاسی اور مالی لحاظ سے مضبوط سمجھے جانے والے اس شعبے سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چینی مافیا کے خلاف وزیراعظم کا عوامی مؤقف حیران کن ہونے کے ساتھ باعث امید بھی معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ ایف بی آر نے شوگر ملز کی جانب سے چینی کی فروخت کو دستاویزی شکل دینے اور ان سے ٹیکس وصولی میں ریکارڈ کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن صارفین کی سطح پر اس کے اثرات برعکس ہیں۔ ریٹیل مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جس سے ریونیو ریکوری مہم سے حاصل ہونے والا کوئی بھی سیاسی نیک نیتی کے اثرات زائل ہوگئے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ محض اتفاق نہیں۔ شہباز شریف کی سابق حکومت کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، جو اس وقت حکومت اور نون لیگ سے اختلاف رکھتے ہیں، نے اس بارے میں ایک دلچسپ بیان دیا ہے۔ اگرچہ وہ اِس وقت حکومت کی چینی پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے شہباز شریف کے ساتھ کام کے دوران اپنے تجربے سے یہ انکشاف کیا کہ وزیراعظم نے چینی مافیا کے دباؤ کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ بلکہ انہوں نے مفتاح سے نجی طور پر کہا تھا کہ چینی برآمد نہ ہونے دیں۔ دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے مفتاح کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگا کہ وزیراعظم پیسے کے لالچی تھے، بلکہ انہوں نے مجھے کہا کہ چینی کی صنعت پر سپر ٹیکس لگا دوں، میں سپر ٹیکس کیخلاف تھا، لیکن ظاہر ہے وزیراعظم کا فیصلہ غالب رہا۔ چینی کے حوالے سے موجودہ صورتحال اور وزیراعظم یہ جنگ جیتیں گے یا ہاریں گے، اس حوالے سے اپنے تحریری بیان میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ جب میں شہباز شریف کے دور حکومت میں وزیر خزانہ تھا، تب بھی چینی کی برآمد کی اجازت دینے کا سوال آیا تھا۔ اور اس وقت ہمیں واقعی زرمبادلہ کی ضرورت تھی لیکن اگرچہ وزیراعظم نے ان تمام افراد سے ملاقات کی جو برآمدات کے خواہاں تھے، انہوں نے نجی طور پر مجھے کہا کہ برآمدات کی اجازت نہ دی جائے۔ پھر طارق بشیر چیمہ کو چینی برآمد کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا، اور انہوں نے بھی چینی انڈسٹری کے دیے گئے اعدادوشمار کو چیلنج کیا اور کمشنرز سے تصدیق کرانے کی بات کی۔ مختصراً، چیمہ صاحب کوئی کٹھ پتلی تھے اور نہ دباؤ میں آ کر برآمدات کی اجازت دینے والے۔ مجھے نہیں لگا کہ وزیراعظم پیسے کے لالچی تھے، بلکہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ چینی کی صنعت پر سپر ٹیکس عائد کروں۔ میں اس کیخلاف تھا، لیکن ظاہر ہے وزیراعظم کا فیصلہ غالب رہا۔ موجودہ صورتحال پر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس مرتبہ مصدق ملک کی جگہ اسحاق ڈار کو چینی برآمد کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا۔ شاید ایک لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دینا ٹھیک تھا، لیکن جب قیمتیں تیزی سے بڑھنا شروع ہوئیں تو برآمدات کی اجازت ختم ہونا چاہیے تھی۔ لیکن اس مرتبہ لگتا ہے کہ قیمتیں بڑھانے کا ارادہ تھا اور برآمدات کی اجازت قیمتیں بڑھنے کے باوجود دی جاتی رہی۔ دوسری طرف، رابطہ کرنے پر حکومت کی جانب سے دی نیوز کو بتایا گیا ہے کہ چینی اور دیگر صنعتوں کیخلاف حکومت کی ٹیکس نفاذ مہم نے غیرمعمولی نتائج دیے ہیں۔ جب ایف بی آر نے پیداواری مقامات پر فزیکل مانیٹرنگ ٹیمیں، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹمز اور ویڈیو نگرانی تعینات کی تو چینی کے شعبے میں دستاویزی فروخت (ڈاکومنٹڈ سیلز) ایک سال میں 107 ارب سے بڑھ کر 152 ارب روپے ہو گئی، یعنی 41 فیصد اضافہ ہوا۔ ان کوششوں کے ذریعے اندازاً 57 ارب روپے کا ٹیکس خلا ختم کیا گیا۔
    ذرائع کے مطابق، اسی طرح کی کارروائیاں دیگر صنعتوں (سیمنٹ، تمباکو، مشروبات، اور ہیچری) میں بھی کی گئیں، جس سے ظاہر شدہ آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا۔تمباکو کے شعبے میں 103؍ فیصد اضافہ دیکھا گیا، سیمنٹ سے آمدنی دوگنا ہو گئی، اور مشروبات میں 23 فیصد اضافہ ہوا۔ حتیٰ کہ پولٹری ہیچریز نے صرف ایک ماہ میں 50 فیصد اضافہ دکھایا۔حکومتی ذرائع نے بتایا کہ مجموعی طور پر، ان کامیابیوں نے پاکستان کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو صرف ایک مالی سال میں 8.8 فیصد سے بڑھا کر 10 اعشاریہ 3 فیصد کر دیا۔ ایف بی آر کے مطابق، رواں سال کے ٹیکس ریونیو میں 15؍ فیصد اضافہ صرف نفاذ کے ذریعے حاصل ہوا، جبکہ صرف 7 فیصد اضافہ حقیقی معاشی ترقی یا مہنگائی سے متعلق تھا۔ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی کارٹیل کا قیمتوں میں ہیراپھیری سے کیا گیا ردعمل ایک گہری جنگ کو بے نقاب کرتا ہے جو صرف ٹیکس وصولی کی نہیں، بلکہ ریاستی عملداری اور مارکیٹ کی مضبوط قوتوں کے درمیان ہے۔ انفورسمنٹ کے نتیجے میں حاصل کامیابیوں کے باوجود، حکومت چینی کی قیمتوں کو قابو میں لانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جو عام پاکستانیوں کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ یہ ایک کلاسیکی جوابی وار ہے، [شوگر انڈسٹری کو] ٹیکس دینے پر مجبور کیا گیا، تو اب وہی رقم مارکیٹ کے ذریعے عوام سے واپس لے رہے ہیں۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ وزیراعظم اس وقت ایک سیاسی اور معاشی مخمصے کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر حکومت دباؤ میں آ کر پسپائی اختیار کرتی ہے تو پیغام واضح ہو گا: اعداد و شمار چاہے کچھ بھی ہوں، مارکیٹ پر کارٹیل کی گرفت برقرار ہے۔
    لیکن اگر ریاست اپنا دباؤ برقرار اور قیمتوں کو قابو میں لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو طاقتور شوگر انڈسٹری کیخلاف یہ ایک نادر کامیابی ہو گی۔ ایک ذریعے کے مطابق، ملک میں سب سے بڑا شوگر پروڈیوسر جے کے ٹی (جہانگیر ترین) گروپ ہے، جس کا مارکیٹ شیئر تقریباً 15 فیصد ہے۔ اس کے بعد اومنی گروپ ہے، ملکی سطح پر مجموعی پیداوار میں اس گروپ کا حصہ 12 فیصد ہے۔ وزیر صنعت ہارون اختر ایک بڑی شوگر مل کے مالک ہیں، شہباز شریف کے خاندان کی دو ملیں ہیں، نواز شریف کے خاندان کی ایک مل ہے، اور تینوں بڑی جماعتوں کے بااثر افراد کی بھی شوگر ملیں ہیں۔ یہ پاکستان کی سب سے طاقتور لابی ہے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کا شوگر انڈسٹری میں حصہ چھوٹا ہے۔ ایف بی آر کے ایک سینئر افسر نے دی نیوز کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی کے حوالے سے اس صورتحال کی نگرانی ہفتہ وار اجلاسوں کے ذریعے کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے ہی ان کا اصرار اس بات پر تھا کہ اس شعبے میں کسی طرح کی ٹیکس چوری برداشت نہیں کی جائے گی، پھر چاہے ان کے اپنے خاندان کا کوئی فرد ہی کیوں نہ ملوث ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال ایف بی آر کی جانب سے چینی کے ذخائر، پیداوار اور فروخت کی نگرانی نہ صرف وزیراعظم نے خود مسلسل کی، بلکہ انہوں نے آئی بی، ایف آئی اے اور دیگر ایجنسیوں کو بھی چینی کے کاروبار اور ایف بی آر کے اہلکاروں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی ہدایات دیں

  • لیجنڈز لیگ: بھارت کو سیمی فائنل میں پھر پاکستان کا سامنا

    لیجنڈز لیگ: بھارت کو سیمی فائنل میں پھر پاکستان کا سامنا

    لندن (کنزیومر واچ نیوز)ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز 2025 کے پہلے مرحلے میں گرین شرٹس کے خلاف کھیلنے سے انکار کرنے والی بھارتی لیجنڈز کی ٹیم کا اب ایونٹ کے سیمی فائنل میں پاکستان سے ٹاکرا ہوگا۔منگل کو انگلینڈ میں جاری ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے اہم میچ میں بھارتی چیمپئنز نے ویسٹ انڈیز چیمپئنز کو شکست دے کر ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیلتے ہوئے بھارتی لیجنڈز کو مقررہ 20 اوورز میں 145 رنز کا ہدف دیا۔اہم بات یہ تھی کہ بھارت کو یہ ہدف 14.1 اوورز کے اندر مکمل کرنا ضروری تھا تاکہ بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر وہ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکے۔تاہم بھارت نے اسٹورٹ بنی کی شاندار نصف سنچری کی بدولت ہدف 13.2 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا اور ساتھ ہی سیمی فائنل میں پہنچنے والی چوتھی اور آخری ٹیم بن گئی۔اس سے قبل منگل کے روز ہی پاکستان چیمپئنز نے آسٹریلیا چیمپئنز کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔آسٹریلیا اور جنوبی افریقا پہلے ہی سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرچکے تھے۔بھارت کی جیت کے بعد سیمی فائنل کی لائن اپ مکمل ہوگئی۔ اب ایونٹ کے پہلے سیمی فائنل میں پوائنٹس ٹیبل کی ٹاپ ٹیم پاکستان اور ٹیبل پر چوتھے نمبر پر موجود بھارت 31 جولائی کو آمنے سامنے آئیں گے۔

  • وزیر صنعت و تجارت سندھ جام اکرام اللہ خان دھاریجو سے برانڈز فاونڈیشن کے سی ای او شیخ راشدعالم کی  ملاقات،تحقیقی اشاعت پیش کی

    وزیر صنعت و تجارت سندھ جام اکرام اللہ خان دھاریجو سے برانڈز فاونڈیشن کے سی ای او شیخ راشدعالم کی ملاقات،تحقیقی اشاعت پیش کی

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) وزیر صنعت و تجارت سندھ جام اکرام اللہ خان دھاریجو سے برانڈز فاونڈیشن کے سی ای او شیخ راشدعالم نے ان کے دفتر میں خصوصی ملاقات کی اس موقع پرملک بھر بلخصوص کراچی میں برانڈ کلچر کو فروغ دینے کے حوالے سے گفتگو ہوئی ،برانڈز فاونڈیشن کے سی ای او شیخ راشدعالم نے “برانڈ آف دی ایئر ایوارڈز 2025” کی سالانہ تحقیقی اشاعت کی پریزنٹیشن کے دوران فاونڈیشن کی سرپرست ڈاکٹر ہما بخاری کے ہمراہ یہ اشاعت جام اکرام اللہ خان دھاریجو کو پیش کی۔وزیر صنعت و تجارت جام اکرام اللہ خان دھاریجو نے برانڈز فاونڈیشن کی پاکستان میں برانڈ ایکسیلنس اور انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کو آگے بڑھانے کی کوششوں کو سراہا۔

  • بھارت:ے ہوش خاتون سے ایمبولینس میں اجتماعی زیادتی

    بھارت:ے ہوش خاتون سے ایمبولینس میں اجتماعی زیادتی

    ممبی (کنزیومر واچ نیوز)بھارت میں اسپتال جاتے ہوئے بےہوش خاتون کو ایمبولینس میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست بہار کے گاؤں بودھ گیا میں پولیس میں بھرتی کیلئے ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا جہاں ٹیسٹ کیلئے دوڑ میں شریک ہونے والی 26 سالہ خاتون امید وار بےہوش ہوگئی جسے طبی امداد کیلئے اسپتال روانہ کیا گیا۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسپتال جاتے ہوئے خاتون امیدوار کو ڈرائیور اور ٹیکنیشن نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔خاتون کے اہل خانہ نے پولیس کو شکایت درج کروائی کہ بھرتی کے لیے صرف خواتین امیدواروں کے آنے کے باوجود ایمبولینس میں کوئی خاتون عملہ نہیں تھا۔پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزمان کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کرلیا جب کہ خاتون کا بیان قلم بند کرنے کے بعد طبی معائنہ بھی کروایا گیا ہے۔

  • دہشتگردوں کے پاس  سےپاکستانی چاکلیٹ ملی : بھارتی وزیرداخلہ

    دہشتگردوں کے پاس سےپاکستانی چاکلیٹ ملی : بھارتی وزیرداخلہ

    ممبی ( کنزیو مر وا چ نیوز)بھارت کے وزیرداخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ چدم برم کے بیان پر برہمی کا اظہار کیا۔مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے جس کا الزام بھارت نے بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر عائد کر دیا تھا۔ایک انٹرویو میں بھارت کے سابق وزیر داخلہ پی کے چدمبرم نے کہا کہ آخر بھارتی حکومت یہ کیوں سمجھتی ہے کہ پہلگام واقعے میں ملوث دہشت گرد پاکستان سے آئے، کیا مودی سرکار نے ان دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے کی تصدیق کی، کیا ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ پہلگام واقعام میں ملوث دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے۔انہوں نے کہا حملہ کرنے والے بھارتی بھی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے بھارت میں ہی دہشت گردی کی تربیت حاصل کی ہو۔سابق وزیرداخلہ کے بیان پر امیت شاہ نے لوک سبھا میں خطاب کے دوران برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ چدم برم پاکستان کو کلین چٹ کیوں دی؟ پاکستان کو بچا کر آپ کو کیا ملےگا؟بھارتی وزیر داخلہ نے کہاکہ ہمارے پاس ثبوت ہے دہشتگردوں کے پاس پاکستان کی بنائی ہوئی چاکلیٹ ملی ہے۔خیال رہے کہ بھارت نے آپریشن سندورکی ناکامی چھپانے کیلئے آپریشن مہادیو کے نام پر دوبارہ جعلی مقابلے شروع کر دیے اور گزشتہ روز سرینگر کے نواحی علاقے داچھی گام میں ایک جعلی مقابلہ میں 3 نوجوانوں کو شہید کردیا۔حکومت پاکستان نے پہلگام واقعے کی ناصرف مذمت کی تھی بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے ہر ممکن تعاون بھی پیشکش بھی کی تھی لیکن اس کے باوجود بھارت اب تک پہلگام واقعے کے حوالے سے پاکستان کے خلاف الزامات سے آگے نہیں جا سکا اور نا ہی اب تک معاملے کی تحقیقات مکمل ہو سکیں۔

  • اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، پاکستان

    اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، پاکستان

    نیویارک (کنزیومر واچ نیوز)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے یہ بات نیویارک میں پریس کانفرنس کے موقع پر کہی اور بتایا کہ دورہ امریکا ہر لحاظ سے کامیاب رہا ہے۔امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو سے ملاقات اور پیر کو ہوئی ٹیلی فون کال کا حوالہ دیتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ یہ ملاقات بہت مفید رہی۔ ہم نے باور کرایا کہ مذاکرات کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں۔ ساتھ ہی تجارت اور ٹیرف سے متعلق بھی بات کی گئی۔ اگلے دو تین دنوں میں ٹیرف پر معاہدے طے پائے گا۔پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، اسحاق ڈار
    دو ریاستی حل سے متعلق کانفرنس میں شرکت کے بارے میں ایک سوال پر اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے یو این کانفرنس میں پاکستان کے جانب سےبھرپور بیان دیا ہے۔ پاکستان دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور فلسطینی سر زمین پر اسرائیلی قبضہ فوری ختم ہونا چاہیے۔پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک سوال پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران ہر موقع پر فلسطین کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا۔اسحاق ڈار نے باور کیا کہ بھارت کےساتھ ڈائیلاگ ہوگا تو جامع ڈائیلاگ ہوگا۔بھارت جب بھی کمپوزٹ ڈائیلاگ کرنا چاہے، پاکستان تیار ہے تاہم دوٹوک انداز میں کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طورپرختم نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ تین دریاؤں پر ہمارا حق ہے۔پانی کا رخ موڑ دیا گیا تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ہم پانی کی ایک بوند بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ پانی کے معاملے پر ثالثی عدالت میں پاکستان کی پوزیشن بہتر ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج امن کے لیے کوشاں ہے تاہم بھارت کی جانب سے متنازع بیانات کی وجہ سے پاکستان الرٹ ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق ایک سوال پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ جب آپ ہتھیار اٹھاتےہیں تو قانون اپنا راستہ بناتا ہے۔بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیسز عدالتی معاملہ ہے۔
    دوطرفہ ملاقاتوں کے بارے میں نائب وزیراعظم نے بتایا کہ ان کی سعودی عرب،برطانیہ، بنگلادیش، کویت اور فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ میٹنگز ہوئیں۔اس طرح یو این اجلاس کی سائیڈ لائنز پر 8 دو طرفہ ملاقاتیں ہوئیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے برادارنہ تعلقات ہیں،امریکا کے ساتھ بھی دیرینہ تعلق ہے۔معدنیات کا معاملہ باضابطہ طریقہ کار کے تحت طے کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ معدنیات میں 50 فیصدحصہ صوبے اور 50 فیصد وفاقی حکومت کا ہے،معدنیات پر کام ہوگا تو اس سے مقامی آبادی کو روزگار کے مواقعے ملیں گے، یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی اربوں ڈالر لگا کر معدنیات نکالے اور آپ کو مفت میں دے۔ایران سے متعلق سوال پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ یہ اعزاز کی بات ہے کہ ایران کی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے لگے۔
    پاک افغانستان صورتحال پر ردعمل میں نائب وزیراعظم نے کہا کہ وہ 19 اپریل کو افغانستان گئے تھے،افغان نگراں وزرا سے بات چیت ہوئی۔جو فیصلے ہوئے ان پر 20 اپریل کو عمل درآمد ہوچکا۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کےساتھ ریلوے لائن بچھی تو ہم پوری دنیا سے جُڑجائیں گے۔

  • چینی بحران: شوگر ملز مالکان کے نام طلب

    چینی بحران: شوگر ملز مالکان کے نام طلب

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چینی کی امپورٹ اور قیمتوں میں اضافے پرایف بی آر حکام سے ملز مالکان کے نام مانگ لیے۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت ہوا جہاں چینی بحران پر بحث ہوئی جب کہ سیکرٹری صنعت و پیداوار نے چینی بحران پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ریاض فتیانہ نے کہا کہ چینی کی قیمت کی مد میں قوم کے ساتھ 287 ارب روپے کا دھوکا کیا گیا ہے، اس کی نشاندہی کرنے والے پنجاب کےکین کمشنر زمان وٹوکو ہٹاکرکھڈے لائن لگا دیا گیا، کبھی کہتے ہیں کہ چینی سرپلس ہے اور کبھی شارٹ فال کا بتایا جاتا ہے۔ سیکرٹری صنعت نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شوگر انڈسٹری کو صوبائی حکومتیں ریگولیٹ کرتی ہیں، شوگرایڈوائزری بورڈمیں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں، بورڈ میں شوگر انڈسٹری کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں اور بورڈ چینی کے موجودہ اسٹاک اور ضروریات کا جائزہ لیتا ہے۔سیکرٹری صنعت نے بتایا کہ کرشنگ سیزن 15 نومبر سے 15 مارچ تک ہوتا ہے، چینی کے موجودہ اسٹاک اور متوقع پیداوار کا ڈیٹا صوبائی حکومتیں فراہم کرتی ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین پی اے سی جنید اکبر نے کہا کہ شوگر ملز مالکان کو برآمد کے لیے سبسڈی کیوں دی گئی؟ ریاض فتیانہ نے پوچھا کیا وجہ تھی کہ راتوں رات ایس آراو جاری کر کے ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی؟ اجلاس کے دوران کمیٹی ممبر معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ شوگر مافیا حکومتوں کا حصہ ہے، چیئرمین پی اے سی نے سیکرٹری صنعت سے کہا ہم نے آپ سے شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کی تھیں؟کہاں ہیں تفصیلات؟ اس پر سیکرٹری نے جواب دیا ہمارے پاس شوگر ملز کی فہرست ہے، جنید اکبر نے کہا شوگر ملز نہیں مالکان اور ڈائریکٹرز کی تفصیلات بھی دیں۔ حکام وزارت صنعت و پیداوار نے بتایا کہ اس سال 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ چینی سرپلس رہی، 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی اگلے سال کیلئے ریزرو رکھی گئی، وفاقی کابینہ اور ای سی سی نے 3 مراحل میں7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کرنےکی اجازت دی، چینی برآمد کرکے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ کمایا گیا۔حکام نے مزید بتایا کہ جب چینی ایکسپورٹ کی گئی تو مقامی مارکیٹ میں قیمت 143 روپے کلو تھی اور اب قیمت 173 روپے فی کلو ہے، مارکیٹ میں قیمت بڑھنے پر وزیراعظم نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈارکی سربراہی میں کمیٹی قائم کی۔ پی اے سی اجلاس میں چینی کی امپورٹ سے متعلق ایف بی آر کا ایس آراو بھی زیربحث آیا اور رکن کمیٹی ثناء اللہ مستی خیل نے پوچھا کن کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایف بی آر نے ایس آر او جاری کیا، چینی کی ایک روپیہ قیمت بڑھانے سے 44 ارب کمائے جاتے ہیں، برسوں سےچوہے بلی کا کھیل جاری ہے،خدارا ہمیں معاف کر دیں، مل مالکان ساری ملز پاکستانیوں کے حوالے کردیں ہم چلا لیں گے۔ رکن کمیٹی معین عامر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستانیوں کو لوٹ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں، شوگر ایڈوائزری بورڈ سارے فساد کی جڑ ہے اس میں عوامی نمائندے ہونے چاہئیں، بتایا جائے کہ چینی کی امپورٹ سے ہمارے کتنے ڈالرز ضائع ہونگے۔ رکن کمیٹی خواجہ شیراز نے کہا کہ یہ بھی بتایا جائے چینی ایکسپورٹ کرنے والی ملز کے مالکان کون کون ہیں۔ایف بی آر حکام نے جواب دیا آپ جب حکم کریں گے ہم مالکان کے ناموں کی تفصیلات دے دیں گے، اس پر کمیٹی چیئرمین جنید اکبر نے کہا کہ میں نے حکم دیا تھا لیکن آپ مالکان کے نام نہیں لائے۔ بعد ازاں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف بی آر سے ملز مالکان کے نام طلب کر لیے۔