Blog

  • اداکارہ تمنا بھاٹیا کا ’اپنے تھوک‘ سے کیل مہاسوں کا علاج کرنے کا انکشاف

    اداکارہ تمنا بھاٹیا کا ’اپنے تھوک‘ سے کیل مہاسوں کا علاج کرنے کا انکشاف

    ممبی (کنزیومر واچ نیوز)بھارتی اداکارہ تمنا بھاٹیہ نے انکشاف کیا ہےکہ وہ کیل مہاسوں کے علاج کے طور پر صبح سویرے اپنا ہی تھوک استعمال کرتی ہیں۔بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو کےدوران تمنا بھاٹیہ نے اپنے فینز کو غیر روایتی بیوٹی ٹپ دیتے ہوئے حیران کردیا۔
    ایکنی کے علاج کیلئے اداکارہ کا بیان
    دوران انٹرویو میزبان کی جانب سے جب اداکارہ تمنا بھاٹیہ سے skin break out کا سوال کیا گیا تو انہوں نے بے تکلفانہ اندازمیں جوابا کہا ’ تھوک‘، تھوک لگائیں۔
    اپنے جواب کی وضاحت کرتے ہوئے تمنا بھاٹیہ کا کہنا تھا کہ ’ دانوں کے علاج کیلئے آپ کا صبح کا تھوک ( برش سے بھی پہلے منہ میں آنے والا لعاب ) کام کرتا ہے اور یہ بات سائنس بھی تسلیم کرتی ہے۔
    تمنا بھاٹیا کا کوہلی اور عبدالرزاق کیساتھ تعلقات کی افواہوں پر پہلی بار ردعمل سامنے آگیا
    اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں لیکن یہ میرا ذاتی طور پر کیا گیا تجربہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کے پیچھے کوئی سائنس ضرور ہے کیونکہ جب آپ صبح اٹھتے ہیں تو آپ کاجسم رات بھر کے دوران منہ میں کافی اینٹی بیکٹیریل عناصر پیدا کرچکا ہوتا ہے۔
    تمنا نے مزید کہا کہ آپ کا جسم بیکٹیریا کے خلاف راتوں رات دفاع کرتا ہے، نتیجتاً صبح سویرے ہماری آنکھوں میں لیس دار سیال موجود ہوتا ہے، ہماری ناک بھری ہوئی ہوتی ہے، حتیٰ کہ ہمارے منہ میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات موجود ہوتی ہیں، اگر آپ صبح کے وقت اس تھوک کو استعمال کرتے ہیں تو یہ فوری طور پر آپ کے پمپلوں کو خشک کر دے گا۔
    اینٹی ایجنگ اسکن روٹین کیلئے اداکارہ کا مشورہ
    دوسری جانب اداکارہ نے اپنی اینٹی ایجنگ اسکن روٹین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ25 سال کے بعد ہمیں اپنی روزمرہ کی روٹین میں اینٹی ایجنگ پراڈکٹس شامل کرنا چاہئیں، ہم چونکہ مسلسل کیمروں کے سامنے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں نے 24 یا 25 کی عمر میں اچھی اسکن کیئر کاانتخاب کیا، اگر آپ بڑھاپے کے اثرات کو کم کرنا چاہتے ہیں تو جان لیں کہ آپ کی خوراک اہم ہے لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کی ڈائٹ کیلئے کیا اچھا ہے کیا نہیں ؟
    دانوں کیلئے تھوک بطور علاج ، سائنس کیا کہتی ہے؟
    دلچسپ امر یہ ہے کہ تمنا بھا کے اس دعوے کے پیچھے سائنسی حمایت بھی موجود ہے۔
    جرنل آف کاسمیٹک ڈرماٹولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انسانی لعاب میں جراثیم کش مرکبات موجود ہوتے ہیں جو مہاسے پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو مارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

  • مکیش امبانی کا گھرانہ  کتنا مہنگا دودھ استعمال کرتا ہے؟

    مکیش امبانی کا گھرانہ کتنا مہنگا دودھ استعمال کرتا ہے؟

    ممبی (کنزیومر واچ نیوز)دودھ ہر گھر میں استعمال ہونیوالی شے ہے اور جب بات ہو بھارت کے ارب پتی بزنس مین مکیش امبانی کے گھرانے کی تو پہلا تاثر یہی آتا ہے اس گھرانے کی دیگر ضروری اشیاءکی طرح ان کا استعمال کیا جانے والا دودھ بھی انتہائی مہنگا ہوگا۔ لیکن یقیناً آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی مکیش امبانی کا گھرانہ 152 روپے فی کلو کا دودھ پیتا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کے امیر ترین بزنس مین مکیش امبانی حتیٰ کہ ان کی اہلیہ نیتا امبانی، بیٹے آکاش امبانی، اننت امبانی، بہوئیں شلوکا اور رادھیکا مرچنٹ سب سے زیادہ دودھ دینے والی گائے کی نسل ہولسٹین فریزین سے حاصل کیا گیا دودھ استعمال کرتے ہیں جب کہ یہ دودھ بھارت کے شہر پونے سے منگوایا جاتا ہے۔
    اتنی کم قیمت میں دودھ منگوایا کہاں سے جاتا ہے؟
    بھارتی میڈیا کے مطابق مکیش امبانی کا پورا گھرانہ اسی گائے سے حاصل کیا گیا دودھ پیتا ہے، اس نسل کی گائے پونے میں پالی جاتی ہیں اس ڈیری میں 3000 سے زیادہ گائیں موجود ہیں اور جو بات حیران کن ہے وہ یہ کہ اس ڈیری میں ایک لیٹر دودھ کی قیمت تقریباً بھارتی 152 روپے فی کلو ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہولسٹین فریزین نسل کی گائیو ں کو ایک پرتعیش ماحول میں پالا جاتا ہے، ان گائیوں کی پر تعیش زندگی کی بات کریں تو انہیں ربڑ سے بنے خصوصی گدوں پر آرام کروایا جاتا ہے جب کہ انہیں پینے کیلئے آر او پانی دیا جاتا ہے۔رپورٹ میں اس نسل کی گائے کی خاصیت پر بات کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پیدائش کے وقت ایک صحت مند بچھڑے کا وزن 40 سے 50 کلو گرام یا پھر اس سے زائد ہوتا ہے جب کہ ایک ہولسٹین گائے کا وزن 680 سے 770 کلوگرام تک ہوتا ہے۔ اس نسل کی گائے میں روزانہ 25 سے 30 لیٹر دودھ دینے کی صلاحیت ہوتی ہے، سالانہ پیداوار 8,000 سے 12,000 لیٹر تک ہو سکتی ہے جبکہ کچھ بہترین دیکھ بھال میں یہ 15,000 لیٹر سے زیادہ بھی دودھ دے سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نسل کی گائے سے حاصل کیا گیا دودھ نہ صرف A1 اور A2 بیٹا کیسین (پروٹین) سے بھرپور ہوتا ہے بلکہ پروٹین، میکرونیوٹرینٹس، مائیکرو نیوٹرینٹس، ضروری چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس جیسے غذائی اجزا سے بھی مالا مال ہوتا ہے۔

  • پھوپھیاں نکل آئیں، بیگم نکل آئی، اب بچے آگئے تو کیا کرلیں گے، طلال چوہدری

    پھوپھیاں نکل آئیں، بیگم نکل آئی، اب بچے آگئے تو کیا کرلیں گے، طلال چوہدری

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے عمران خان کی رہائی سے متعلق کہا ہےکہ پھوپھیاں نکل آئیں، بیگم نکل آئی اور اب بچے آگئے تو کیا کرلیں گے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کےخلاف کسی دشمن ملک نے اتنی لابنگ نہیں کی جتنی پی ٹی آئی نے کی، کنفیوژن اور تقسیم پی ٹی آئی کےاندرہے، احتجاج کریں ، سو بارکریں، ہم گرفتارنہیں کریں گے تاہم آنٹی ریحانہ ہوں یا کوئی اور، قانون 80 سال کا توڑے یا 18 سال کا، یہ ایک جیسی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ اپنے احتجاج کے پروگرام سے انتظامیہ کو آگاہ کیوں نہیں کرتے، آپ آگاہ کریں تو ہم سکیورٹی دیں گے، ڈپٹی کمشنر کو ڈاک کے ذریعے تین روز قبل آج کے احتجاج کا خط ملا، اس خط پر لکھے نمبروں پر کسی سے رابطہ نہ ہوا۔ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کل یوم استحصال کشمیر اور پی ٹی آئی کے احتجاج پر میٹنگ کی، میٹنگ میں سب کوکہا کہ ان سے رابطہ کریں اور پوچھیں کہاں احتجاج کرنا چاہ رہے ہیں لیکن کسی نے رابطہ نہیں کیا، میڈیا سے رات 10 بجے خبر ملتی ہےکہ کے پی ہاؤس میں اکھٹے ہوں گے اور اڈیا لا جائیں گے۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ مجمع اکٹھا ہو اور یہاں سے اڈیالا جیل یا کسی جگہ پر حملہ کرے، یہ اپنے پروگرام سے متعلق ہمیں اطلاع کیوں نہیں دیتے، انتظامیہ کو آن بورڈ کیوں نہیں لیتے، یہ ہر اس دن اور موقع پر احتجاج کرتے ہیں جس دن سے پاکستان کا کوئی قومی مفاد وابستہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ پھوپھیاں نکل آئیں، بیگم نکل آئی اب بچے آگئے تو کیا کرلیں گے، مجھے آج کے دن تک عمران خان کے بچوں کے نائیکوپ یا ویزے کا ٹریکنگ نمبر نہیں دیا گیا۔

  • پرتگال کا وینس ۔ اویورو ….ارم زہرا

    پرتگال کا وینس ۔ اویورو ….ارم زہرا

    ‎چین کے بارانی آسمانوں کے نیچے سے اُٹھ کر پرتگال کی نیلے آسمانوں والی سرزمین تک پہنچنے کا سفر، گویا ایک رنگین خواب کی سی تعبیر ہے۔ میں اور میرے ہمسفر جو پیشے کے تقاضے سے چین میں اپنے روز و شب بسر کرتے ہیں، اپنے دل کا اک گوشہ ہمیشہ پرتگال میں چھوڑ آتے ہیں۔اویورو، جہاں ہمارا گھر ہے ۔ جہاں ہوا میں نمکین سمندر کی مہک ہے، اور گلیوں میں وقت ٹھہرا رہتا ہے۔ اس بار جب ہم چین سے روانہ ہوئے تو دل میں بےچینی تھی اور ایک عجیب سی اپنائیت کی پیاس، جو صرف اویورو کی شامیں ہی بجھا سکتی ہیں۔
    ‎جہاز کی کھڑکی سے دیکھتے دیکھتے جب پہاڑوں کی زنجیریں پیچھے رہ گئیں، اور بحرِ اطلس کی وسعتیں نظر آنے لگیں، تو دل میں ایک مانوس سا نغمہ گونجا۔ اپنے گھر جانے کی خوشی جیسا۔۔۔
    ‎لیسبن میں قدم رکھتے ہی ہم نے ٹرین لی اویورو کے لیے۔ ٹرین کا سفر میرے لیے ہمیشہ ایک ادبی تجربہ رہا ہے، جیسے وقت کے ساتھ ساتھ لمحے بھی دوڑ رہے ہوں۔ اویورو کا ٹرین اسٹیشن ایک قدیم مگر شائستہ خوبصورتی لیے ہوئے ہے۔ سفید دیواروں پر نیلے
    azulejos
    ‎ روایتی پرتگالی ٹائلز
    ‎کا کام، جیسے کوئی شاعر اپنی نظم کو بند ٹائلوں میں قید کر کے بھول گیا ہو۔ ان ٹائلوں پر اویورو کی پرانی جھلکیاں ماہی گیروں کی کشتیاں، خواتین کی رنگین چادریں، اور بازاروں کی زندگی نقش کی گئی ہیں۔
    ‎میں نے پہلی بار وہ ٹائلز چھو کر محسوس کیا کہ یہ صرف آرٹ نہیں، یہ یادیں ہیں۔ اویورو کا ریلوے اسٹیشن گویا کسی قدیم کتاب کا ورق ہو جیسے ایک ٹھہری ہوئی زندگی ہو جو سانس بھی لیتی ہے۔ “یہ اسٹیشن صرف منزل نہیں، ماضی کا دریچہ ہے۔”
    ‎ہم جب پلیٹ فارم سے اترے تو ہوا میں سمندر کی نمی، کچھ پرانی خوشبوؤں اور گلیوں کی آوازوں کے ساتھ لپٹ گئی۔ ہر قدم پر ایک احساس تھا کہ ہم صرف واپس نہیں آئے، بلکہ شہر نے ہمیں پہچان لیا ہے
    اویورو میں گھومتے ہوئے بارہا ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے ۔جیسے یہ شہر صرف “آج” میں نہیں بستا، بلکہ “کل” کو بھی اپنے دامن میں سنبھالے بیٹھا ہے۔ ہر عمارت، ہر پل، اور ہر گلی کے نیچے مٹی کی تہوں میں صدیوں کی گرد چھپی ہے اور اگر آپ رُک کر سنیں، تو وہ گرد کچھ کہتی ہے۔
    ایک دن، میں اپنے شوہر کے ساتھ Museu de Aveiro سے نکل رہی تھی کہ سامنے ایک پرانی عمارت کی چھت سے پرندے اڑے۔ ہوا میں پر پھڑپھڑائے، اور ایک سناٹا چھا گیا۔ میں نے بےاختیار کہا،
    “یہ شہر خاموش نہیں… یہ بس آہستہ بولتا ہے۔”
    ہم وہیں ایک بینچ پر بیٹھ گئے، اور میرے شوہر نے ہلکے لہجے میں پوچھا،
    “تمہیں پتہ ہے، اویورو کی تاریخ کہاں سے شروع ہوتی ہے؟”
    میں نے مسکرا کر کہا، نہیں آپ بتائیں ۔۔۔۔
    اویورو کی نہریں، گلیاں، اور سفید و نیلے ٹائلوں سے سجی عمارتیں بظاہر صرف پرتگالی تہذیب کی کہانیاں سناتی ہیں۔ مگر اگر آپ خاموشی سے ان گلیوں سے گزریں، وقت کی سانسوں کو سنیں، تو کہیں نہ کہیں اندلس کی سرگوشی سنائی دیتی ہے۔
    تاریخی لحاظ سے، پرتگال کا بیشتر جنوبی و وسطی علاقہ (جسے اسلامی دور میں “غرب الأندلس” کہا جاتا تھا) آٹھویں صدی سے پندرہویں صدی کے درمیان مسلمانوں کے زیرِ اثر رہا۔ اویورو براہِ راست کسی بڑے اسلامی مرکز کا درجہ نہیں رکھتا تھا، مگر یہ شہر اندلس کی شمالی سرحد کے قریب واقع تھا ۔ جہاں تجارتی راستوں سے اسلامی اثرات پہنچے ۔ یہاں آرکیٹیکچر اور ٹائل سازی (Azulejos) میں عرب-اسلامی اثرات واضح ہیں
    اویورو کی کئی عمارتوں میں استعمال ہونے والے نیلے ٹائل اصل میں عرب-مسلم روایت سے ماخوذ ہیں۔ لفظ Azulejo بھی عربی کے “الزلیج” سے آیا ہے، جس کا مطلب ہے “چمکتا پتھر” یا “ٹائل”۔
    یہ فن مسلمانوں نے اسپین اور پرتگال میں متعارف کرایا تھا، اور آج بھی یہ پورے پرتگال خاص طور پر اویورو کی شناخت بن چکا ہے۔
    اویورو میں کوئی قدیم مسجد یا واضح مسلم آبادی کے آثار محفوظ نہیں رہے، کیونکہ 1249ء کے بعد پرتگال نے زیادہ تر مسلم علاقے واپس لے لیے ۔ Reconquista کے دوران مسلمانوں کو نکالا یا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں جیسے اویورو میں اسلامی موجودگی مٹ گئی مگر…
    آثار باقی ہیں در و دیوار میں، زبان کے الفاظ میں، اور ذوق میں۔
    یہ شہر شاید اسلامی تاریخ کا نمایاں باب نہ ہو، مگر یہ اُن صفحوں کا کنارہ ضرور ہے، جن پر تہذیب نے اپنے خواب تحریر کیے تھے۔
    کہا جاتا ہے کہ اویورو کی باقاعدہ بنیادیں رومی سلطنت کے زمانے میں پڑیں، جب یہ ایک چھوٹا سا ماہی گیروں کا گاؤں تھا۔ یہاں کے لوگ سمندر سے رزق نکالتے، نمک بناتے، اور نرم ہواؤں کے ساتھ خواب بُنتے تھے۔لیکن وقت بدلتا ہے، اور سمندر بھی…
    چودھویں صدی میں اویورو ایک اہم بندرگاہ بن گیا۔ یہاں سے نمک، مچھلی، اور اون پورے یورپ میں جاتا تھا۔ گلیوں میں عرب تاجروں کی آوازیں گونجتی تھیں، اور ہواؤں میں نیوٹرلز اور پرتگیزی بولیوں کی آمیزش سنائی دیتی تھی۔
    پھر آیا وہ وقت جو کئی ساحلی شہروں پر آیا ۔سترہویں صدی میں شدید طوفان نے شہر کے سامنے کا سمندر بند کر دیا۔ نہر جو شہر کو کھلے سمندر سے جوڑتی تھی، وہ ریت سے بھر گئی، اور اویورو، جو کبھی ایک مصروف بندرگاہ تھا، تنہائی کا شکار ہو گیا۔شہر کی سانس جیسے رک گئی۔
    مگر اویورو نے ہار نہیں مانی ۔ مقامی لوگوں نے، انجینیئرز نے، اور یہاں کی عورتوں نے مل کر شہر کو بچانے کی مہم شروع کی۔ نہریں دوبارہ بنائی گئیں، بندرگاہ کا راستہ کھولا گیا، اور شہر نے خود کو ایک نئے رنگ میں رنگ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج اویورو کو “پرتگال کا وینس” کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے پانی سے تعلق ٹوٹنے کے بعد، پانی کو اپنی پہچان بنا لیا۔
    اویورو کی تاریخ صرف عمارتوں اور سمندر کی نہیں، ایک عورت کی بھی ہے ۔ شہزادی جوآنا۔ پندرھویں صدی کی یہ پرتگالی شہزادی، بادشاہ الفونسو پنجم کی بیٹی تھی۔ اسے تخت و تاج، محل اور اقتدار دیا گیا، مگر اس نے سب چھوڑ کر اویورو کے
    ‏ Convento de Jesus (جو اب Museu de Aveiro ہے) میں راہبہ بننے کا فیصلہ کیا۔
    کہتے ہیں کہ وہ نہایت نیک، نرم دل اور خدمت گزار خاتون تھی۔ وہ غرباء کو کھانا دیتی، بیماروں کی دیکھ بھال کرتی، اور شہر کے لیے دُعائیں کرتی۔ اس کی قبر آج بھی اس میوزیم میں ہے ۔ ایک خاموش گواہ اس عورت کی، جس نے دنیا کو چھوڑا، مگر اویورو کو امر کر دیا۔
    اویورو نے پرتگال کے سیاسی اتار چڑھاؤ بھی دیکھے۔ 1834 کی لبرل جنگوں کے بعد جب خانقاہیں بند ہوئیں، شہر نے خود کو نئے انداز میں ڈھالا۔ پھر 1910 میں جب پرتگال ایک جمہوریہ بنا، تو اویورو نے تعلیم، فن، اور زراعت میں اہم کردار ادا کیا۔
    آج یہاں کی یونیورسٹی Universidade de Aveiro ملک کی بہترین جامعات میں شمار ہوتی ہے، جو سائنس، ماحولیات اور فنون میں تحقیق کا مرکز ہے۔اور ہاں، یہی یونیورسٹی اس نہر کے قریب واقع ہے جہاں میں نے پہلی بار اپنی آواز کو پانی میں گونجتے سنا تھا۔ ہسبینڈ جی نے جذباتی انداز میں کہا۔
    “اچھا اب تو یہ شہر کچھ کچھ میرا بھی ہے “ میں نے شوخی سے کہا ۔ پرتگال خود بھی ایک پرانی نظم ہے ۔ فاطمہ کی تقدیس، لیسبن کی بلندیاں، پورٹو کی شراب، اور اویورو کی نہریں… ہر شہر ایک مصرع، ہر گاؤں ایک تشبیہ۔ اویورو کا کمال یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا شہر ہوتے ہوئے بھی، ایک بڑی تاریخ اپنے سینے میں رکھتا ہے۔
    یہاں کی ٹائلیں (Azulejos) صرف رنگ نہیں، داستانیں ہیں۔
    یہاں کی فیری صرف سواری نہیں، وقت کی کشتی ہے۔
    اور یہاں کے ربن بندھے پل صرف تصویریں نہیں، انسانوں کے دل کی گرہیں ہیں۔
    اویورو کا ذائقہ اس کی فضا میں گھُلا ہوا ہے، لیکن اگر اس شہر کی روح کو چکھنا ہو، تو اویورو کی فِش کا ذائقہ چکھنا لازم ہے۔ ہم سیدھے شہر کے مرکزی حصے میں واقع ایک چھوٹے سے، مگر قدیم ریستوران میں گئے، جہاں لکڑی کی میزیں اور دیواروں پر ماہی گیری کے مناظر ٹنگے ہوئے تھے۔یہ شہر کی سب سے مشہور گلی، Rua dos Combatentes da Grande Guerra تھی ۔ اس گلی میں وہ ریستوران واقع ہے جس کا نام ہے “Fado na Praça” ایک چھوٹی سی جگہ، جہاں چکنے فرش، پرانی لکڑی کی کرسیاں اور زیتون کی خوشبو کے ساتھ پرتگالی موسیقی کی دُھنیں گونجتی رہتی ہیں۔
    ہم نے “Bacalhau à Brás” منگوایا ۔ نمکین مچھلی، انڈہ، آلو کے باریک چپس اور زیتون۔ ہر نوالے میں ایک کہانی چھپی ہوئی تھی۔ سلاد، جو لیموں، زیتون اور ہرے دھنیے کے ساتھ آیا، وہ جیسے سمندر کے سینے سے نکلی کوئی پرانی دعا ہو۔
    “باکالہاؤ” پرتگال کی معروف مچھلی، جو نمکین کر کے محفوظ کی جاتی ہے ۔ اس کو جب پیاز، زیتون، اور آلو کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، تو وہ کسی افسانے کا ذائقہ بن جاتی ہے۔ میں نے پہلی بار اس ڈش کو محسوس نہیں کیا، سُنا۔ جی ہاں، ذائقے کی وہ شدت کہ جیسے کسی نے میر کا شعر زبان پر رکھ دیا ہو۔ ہر نوالہ ایک داستان، ہر ذائقہ ایک یاد۔
    اور وہ سلاد ٹونا فش پیاز ، ٹماٹر اور پنیر زیتون کے تیل میں ڈوبا ہوا، ہلکے مصالحے، اور تازگی کا وہ عالم کہ مجھے یوں لگا، جیسے میں سمندر کی کسی لہر کو چکھ رہی ہوں۔
    میری نظر ساتھ والی میز پر ایک معمر جوڑے پر پڑی۔ وہ خاموشی سے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے کھا رہے تھے۔ مجھے لگا جیسے وقت ان کے لیے تھم گیا ہو۔ جیسے اویورو ان کی محبت کا گواہ ہو ۔
    ‎اگلے دن ہم سمندر کی طرف نکلے۔
    ساحل پر پہنچتے ہی سامنے وہ رنگ برنگے لکڑی کے گھر نظر آئے جنہیں دیکھ کر آنکھیں پلکیں جھپکنا بھول جائیں۔ سرخ و سفید، نیلا و پیلا، سبز و نارنجی ہر گھر جیسے بچوں کے کسی خواب سے نکلا ہو۔
    یہ وہی Costa Nova ہے، جو پرتگال کے مشہور ترین ساحلی علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں کے یہ رنگین مکانات دراصل پرانے مچھیروں کے گھر تھے، جو سمندر سے واپس آتے ہوئے دور سے پہچانے جا سکیں اب یہ علاقہ سیاحت کی پہچان ہے۔
    ہوا میں سمندر کی نمکین خوشبو تھی، اور دور دور تک پھیلا ہوا Atlantic Ocean کا نیلا بدن جیسے کسی دیو قامت پرانی داستان کا مرکزی کردار۔
    میں نے جوتے اتارے، اور ننگے پاؤں ریت پر چلنے لگی۔ ریت سنہری نہیں تھی، بلکہ ایک ہلکی سی خاکستری، جیسے کسی بہت پُرانی کتاب کا پہلا صفحہ۔ یہاں سے ہم Praia da Barra گئے، جو اویورو کا دوسرا مشہور ساحل ہے۔
    یہاں پرتگال کا سب سے اونچا لائٹ ہاؤس واقع ہے Farol da Barra جو 62 میٹر بلند ہے، اور 19ویں صدی میں بنایا گیا تھا۔
    یہ روشنی کا مینار صدیوں سے بحری جہازوں کو راستہ دکھاتا آیا ہے۔
    میں نے اُسے دیکھ کر دل میں سوچا، “کاش ہر مسافر کی زندگی میں بھی کوئی ایسا مینار ہو، جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا رہے…”
    ساحل پر بچے ریت سے قلعے بنا رہے تھے، نوجوان سرفنگ کر رہے تھے، اور بزرگ جوڑے دھوپ میں ہاتھ تھامے چہل قدمی کر رہے تھے۔
    وہاں سب کچھ مکمل تھا سوائے وقت کے۔ کیونکہ وقت وہاں رک گیا تھا۔
    میں دیر تک ساحل پر بیٹھی، سمندر کی لہروں کی آواز سنتی رہی۔
    وہ شور نہیں تھا وہ ذکر تھا۔جیسے صدیوں سے کوئی گمشدہ دعا ان لہروں میں بہتی آ رہی ہو۔مگر میرا دل سمندر میں ہچکولے کھاتا کراچی کے ساحل پر پہنچ گیا اور مسکراہٹ میرے لبوں پر آگئ میں نے آنکھیں بند کرکے دعا مانگی جلد اپنے وطن پاکستان لوٹنے کی ۔
    ‎اویورو میں شام وقت سے پہلے اترتی ہے۔ نیلے آسمان پر نارنجی چادر لپیٹتی ہے، اور پانی اپنے عکس میں آسمان کو قید کر لیتا ہے۔ ہم ساحل کے کنارے بیٹھے تھے، میں ریت پر انگلی سے کچھ بےمعنی لکیریں کھینچ رہی تھی، اور میرے شوہر کنارے سے پتھر پانی میں پھینک رہے تھے اور ہمارے طویل سفر کی تھکن غروب ہوتا سورج سمندر میں اتار رہا تھا ۔
    ‎اویورو کو “پرتگال کا وینس” کہا جاتا ہے، اور یہ مبالغہ نہیں۔ یہاں کی نہریں، جن پر رنگین گوندولاز (جسے مقامی طور پر
    moliceiros
    ‎ کہا جاتا ہے) دوڑتی ہیں، ایک نرمی سے آپ کو کسی اور دنیا میں لے جاتی ہیں۔
    ‎ہم دونوں ایک فیری پر سوار ہوئے، جو پرانے شہر کی نہروں سے گزرتی ہوئی، ہمیں ماضی کی گلیوں میں لے جا رہی تھی۔ ہر طرف پانی میں رنگوں کا عکس پیلا، نیلا، نارنجی جیسے سورج نے اپنی کینوس کو یہاں چھوڑ دیا ہو۔ گوندولا کے ملاح نے ہمیں تاریخی جگہوں کے بارے میں بتایا، مگر میری نظر اس پانی پر ٹکی رہی، جہاں عمارتوں کا عکس، کشتی کا سایہ، اور ہمارے چہرے ایک دوسرے میں گھل مل گئے تھے۔
    ‎یہ رنگ برنگی کشتیاں، جن پر عورتوں، مرغیوں، اور شاعرانہ فقروں کی تصویریں بنی ہوتی ہیں، نہ صرف سیاحوں کی سواری بلکہ مقامی تاریخ کا آئینہ بھی ہیں۔
    ‎فیری جب پانی میں ہلکی سی جھولتی ہے، تو لگتا ہے جیسے آپ کسی خواب میں داخل ہو گئے ہوں۔ نہریں شہر کی گلیوں کی طرح ہیں کچھ تنگ، کچھ کشادہ، مگر سب کی اپنی اپنی خوشبو۔ ہمارا ملاح ایک بزرگ عورت تھی ، جس کے ہاتھوں میں دراڑیں تھیں، مگر آنکھوں میں چمک۔ اس نے بتایا کہ اس کا شوہر بھی کبھی ماہی گیر تھا۔ اب وہ پانیوں سے نہیں، یادوں سے مچھلیاں پکڑتی ہے۔
    ‎“یہ نہریں بس پانی نہیں، دعائیں بھی لے جاتی ہیں،” اس نے کہا۔ میں نے پانی کو غور سے دیکھا ۔ کیا واقعی ان میں کسی کا خواب بہہ رہا ہے ؟
    اویورو کی کشش اس کے بازاروں میں بھی ہیں ۔
    ‎ہم بازار کی طرف چلے جہاں چھوٹی چھوٹی دکانوں میں ، ہاتھ سے بنی اشیاء، کپڑوں پر روایتی کڑھائیاں، اور مٹی کے برتنوں پر نقش و نگار نظر آئے۔ ایک چھوٹے سے سٹال پر ایک بڑھیا بیٹھی تھی، جو ہاتھ سے بنے azulejos
    ‎ٹائلز بیچ رہی تھی۔
    ‎میں نے ایک نیلا ٹائل خریدا جس پر ایک ماہی گیر اور عورت کی تصویر بنی تھی ماہی گیر شاید سمندر میں کھو گیا ہو، اور وہ عورت برسوں سے اسے یاد کر رہی ہو۔
    “Museu de Aveiro” ہم نے
    ‎کا بھی دورہ کیا، جو کبھی ایک کانوینٹ (راہباؤں کا مسکن) تھا۔ اس میں موجود سینٹ جوآنا کی قبر جو خود اویورو کی شہزادی تھیں ۔سادگی اور تقدس کا مرقع تھی۔ وہاں خاموشی تھی، مگر دیواروں سے صدیوں کی سانسوں کی آہٹ آ رہی تھی۔
    ‎قریبی چرچ،
    Igreja de Jesus،
    ‎میں داخل ہوتے ہی وہی احساس ہوا جو کسی فارسی غزل کے مطلع کو پڑھ کر ہوتا ہے ۔حسن اور تقدس کا امتزاج۔ سونے کا کام، سنگ مرمر کی ستونیں، اور شیشوں کی تصویریں، جیسے کسی ماضی کے خواب میں قدم رکھ دیا ہو۔ مرمریں فرش، لکڑی کی چھتیں، اور دیواروں پر صدیوں پرانے نقوش ۔۔۔یہاں کلیسا میں داخل ہوئے تو اندھیرے میں شمعیں جل رہی تھیں۔ گرجے کی دیواروں پر سونے کا کام، محرابیں، اور شیشے کی تصویریں سب کچھ ایسا تھا کہ آپ خود کو کسی مقدس فلم کے منظر میں پاتے ہیں یا یہ سب کسی ناول کی طرح تھے جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
    ‎میرے قدم بےاختیار آہستہ ہو گئے۔ میں دیر تک وہیں کھڑی رہی جیسے تاریخ کی کوئی بھولی بسری یاد واپس لوٹ رہی ہو۔لوگ یہاں آنکھیں بند کئے ہاتھ جوڑے اپنی دعائیں مانگ رہے تھے اور میں کلیسا کے نہیں کائنات کے رب کو یاد کرہی تھی ۔
    ‎شام کو ہم نے ساحل پر کھانا کھایا۔ نمکین ہوا، قریب آتی لہریں، اور ٹھنڈی روشنی میں رکھے ہوئے زیتون، پنیر، اور مقامی کافی گلاؤ کا امتزاج ۔ اویورو کی شاموں میں وقت رک جاتا ہے۔ ہم بولتے نہیں، صرف دیکھتے ہیں، سنتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں۔
    ہم اکثر سفرناموں میں تاریخ اور جغرافیے کو تو یاد رکھتے ہیں، مگر جو چیزیں ہماری یادداشت میں مٹھاس بن کر گھل جاتی ہیں وہ اکثر چھوٹے دکانوں کی کھڑکیوں میں رکھی ہوتی ہیں۔ اویورو کی ایک گلی جو بظاہر روزمرہ کی طرح عام سی لگتی ہے وہاں ایک مخصوص خوشبو چھپی ہے۔ ایک ایسی خوشبو جو بچپن کی خوشبو سے مشابہ ہے۔ گرم دودھ، شہد، اور نرم مکھن جیسی۔
    اُسی گلی کے کنارے ایک چھوٹی سی بیکری ہے جس کا نام مجھے یاد نہیں، مگر اس کی کھڑکی میں سجے ہوئے مٹھائیوں کے ڈھیر آج بھی میری آنکھوں میں نقش ہیں۔ کھڑکی کے اندر، گنے ہوئے خواب جیسے رکھے تھے: بادام سے بھرے پیسٹری، انڈے کی زردی سے چمکتے ہوئے ٹارٹس، اور سب سے نمایاں اووس مولیش۔
    یہ پرتگال کی خاص مٹھائی ہے، جو انڈے کی زردی اور چینی سے تیار کی جاتی ہے، اور ایویورو اس کے لیے مشہور ترین شہر ہے۔ لیکن یہاں یہ صرف مٹھائی نہیں، ایک ثقافتی علامت ہے۔ یہاں کے لوگ اووس مولیش کو محض کھانے کی چیز نہیں سمجھتے، بلکہ محبت، اپنائیت اور مہمان نوازی کا پیغام مانتے ہیں۔
    میں نے شیشے کے شو کیس میں ایک چھوٹا سا ڈبہ دیکھا ۔ جس پر نرم ریشمی ربن بندھا ہوا تھا۔ ربن گلابی، نیلا، اور زرد تھا جیسے کسی خوش خط ہاتھ نے بچپن کو سجا کر پیش کیا ہو۔ اُس ربن کے نیچے چھوٹے چھوٹے سیپیوں کی شکل کے مٹھائی رکھے تھے۔ وہ سیپ جیسے کسی ماہی گیر کی یاد، کسی لڑکی کی پہلی دعا، یا کسی بزرگ کی آخری میٹھی بات کو اپنے اندر چھپائے ہوئے ہوں۔
    دکان دار خاتون، جو عمر رسیدہ تھیں اور جن کے چہرے پر دھوپ کے نرم سائے تھے، نے ہمیں ایک چھوٹا سا ڈبہ دیا۔ “یہ شہر کی روح ہے،” انہوں نے پرتگالی میں کہا، “دل کے ساتھ کھائیے گا۔
    یہ بات مجھے ہمیشہ سے دلچسپ لگتی ہے کہ اویورو شہر میں زندگی کی نبض عورتوں کے ہاتھ میں ہے۔ نہر کے کنارے بیٹھے میں نے اردگرد نظریں دوڑائیں، تو جہاں بھی دیکھا، کسی عورت کی موجودگی نے شہر کو سنوار رکھا تھا۔
    ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ کاؤنٹر پر کھڑی ایک ادھیڑ عمر خاتون، جو ہر مسافر سے یوں بات کرتی جیسے وہ برسوں کی شناسا ہو۔
    پھر وہ کیفے، جہاں ایک جوان لڑکی نہ صرف کیشیئر تھی، بلکہ بارش میں باہر نکل کر میزیں سمیٹ رہی تھی، اور مسکرا کر “بوم دیا!” کہہ رہی تھی۔
    بازار میں وہ بڑھیا، جو ovos moles کو ربنوں میں باندھ رہی تھی، جیسے وقت کو گفٹ پیک کر رہی ہو۔
    ایک دکان میں داخل ہوئے تو دیکھا ۔مالک بھی عورت، اکاؤنٹس بھی، گاہک سے بحث بھی، اور آخر میں “obrigada” کہہ کر وہی عورت شاپنگ بیگ بھی تھما رہی تھی۔
    دفاتر کی کھڑکیوں میں، بینک کے استقبالیے پر، حتیٰ کہ فیری کی ٹکٹ بکنگ پر بھی ہر جگہ عورتیں ہی تھیں۔
    مجھے لگا، یہ شہر صرف عورتوں سے آباد نہیں، ان کے ہاتھوں سے سنوارا گیا ہے۔ جیسے انہوں نے نہر کے پانی، گلیوں کی خوشبو، اور بازاروں کی روشنی کو اپنے نرم مگر مضبوط ہاتھوں سے ترتیب دیا ہو۔
    اور میں نے دل میں سوچا،
    “یہ اویورو ہے… یہاں عورتیں صرف زندہ نہیں، زندگی چلاتی ہیں۔”
    اویورو کی گلیوں میں دیواریں خاموش نہیں، رنگین ہیں ہر موڑ پر کوئی پینٹنگ، کوئی شکل، کوئی خیال سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے فن نے اینٹوں کو چھو کر انہیں یادداشتوں کی کتاب بنا دیا ہو۔
    اسٹریٹ آرٹ یہاں صرف تصویریں نہیں، احساس ہیں بعض دیواروں پر چہروں کی وہ جھلکیاں نظر آتی ہیں، جو شاید کبھی ان گلیوں میں جیا کرتے تھے… یا اب بھی کسی رنگ میں زندہ ہیں۔
    اویورو کی گلیوں میں جب سورج شام کے کنارے پر چلنے لگے، تو روشنی بھی کچھ اور ہو جاتی ہے۔ ہم اُس دن کچھ بے مقصد، کچھ بے پرواہ گھومتے گھومتے ایک چھوٹے سے پل تک آ نکلے، جو نہر کے پار دو کناروں کو ملاتا ہے ایک طرف جدید کیفے، دوسری طرف پرانی عمارات۔ مگر پل خود… جیسے کسی کہانی کی درمیان کی سطر ہو۔
    یہ کوئی عام پل نہیں تھا۔ اس کی ریلنگ پر رنگین ربن بندھے تھے سرخ، نیلے، سبز، گلابی، پیلے، نارنجی جیسے کسی بچی کے خوابوں کی گٹھری کھل گئی ہو۔
    اس پل کا نام Ponte Laços de Amor ہے محبت کے رشتوں کا پل۔ یہ روایت ہے کہ لوگ یہاں آ کر ایک رنگین ربن باندھتے ہیں، اس پر کسی کی یاد، کسی کی خواہش، یا کسی کا خواب لکھتے ہیں، اور پھر اسے پانی کے اوپر، ہوا کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے دعا کو بند باندھ کر آسمان کی طرف روانہ کیا گیا ہو۔
    میں نے وہاں کھڑے ہو کر ریلنگ کے قریب ایک ربن کو چھوا وہ نارنجی تھا، اور اس پر پُرتگیزی میں لکھا تھا
    “Volta logo, pai.”
    (جلدی لوٹ آنا، ابو۔)
    میری آنکھوں میں نمی آ گئی۔ میں نے ربن کو چھوا۔ جیسے وہ صرف کسی اور کی یاد نہ ہو، بلکہ ہم سب کی مشترک خواہش ہو کہ ہم سب کے بچھڑے ایک دن واپس لوٹ آئیں۔
    ہوا نے وہ ربن ہلایا شاید کسی ان دیکھی دُعا کی تائید میں۔
    اس پل کے نیچے بہتی نہر، اُس دن جیسے صرف پانی نہ تھی، بلکہ جذبات کی ایک لمبی داستان تھی۔ مجھے لگا، اگر میں دیر تک کھڑی رہی، تو ان ربنوں کی سرسراہٹ سے کئی چپ کہانیاں سنائی دیں گی۔
    شاید کسی نے وعدہ باندھا تھا۔
    شاید کسی نے معافی مانگی تھی۔
    شاید کسی نے خواب لکھا تھا، جسے پورا ہونا ابھی باقی تھا۔
    پل پر کھڑے ہو کر میں نے شہر کو نئی آنکھ سے دیکھا نہر میں عکس، عمارتوں پر سایہ، اور ریلنگ پر بندھے وہ ربن یہ سب صرف منظر نہیں تھے، بلکہ زندگی کی گرہ دار حقیقتیں تھیں۔
    جب ہم واپس پل سے اتر رہے تھے، تو میں نے آخری بار مُڑ کر ربنوں کی اُس قطار کو دیکھا ۔ جیسے آسمان سے رنگین بارش لٹک رہی ہو۔ ان ربنوں میں ہزاروں خواہشیں جھول رہی تھیں ۔ میں نے دل سے دعا مانگی اللہ سب کی خؤاہشوں کو پورا کرے ۔
    جب ہم اُس شام واپس اپنے گھر کی طرف چل رہے تھے، تو میں نے محسوس کیا اویورو کی تاریخ، میرے اندر گھل چکی ہے۔ اب جب میں کسی پرانی کھڑکی، کسی خاموش گلی یا کسی چھوٹے کیفے کو دیکھتی ہوں، تو یوں لگتا ہے جیسے وقت میرے ساتھ چل رہا ہے۔
    میں نے ہسبینڈ جی کا ہاتھ تھاما، اور کہا
    یہ صرف شہر نہیں… یہ ایک پرانا خواب ہے، جو ہر رات میری نیند کے کنارے آ بیٹھتا ہے، اور خاموشی سے وقت کے پردے پر ایک اور کہانی لکھ جاتا ہے۔

  • گیارہ مخروطی جھیلیں …حمیرا گل تشؔنہ

    گیارہ مخروطی جھیلیں …حمیرا گل تشؔنہ

    اس بات کا تو ہم کو یقین ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمارے ہاتھ میں سفر کی لکیر کھینچی ہے۔ اس بار میموریل ویک اینڈ پر ہمارے میاں جی کو لاڈ آیا اور پیکنگ کا حکم صادر کیا۔ اب اندھا کیا چاہے؟ دو انکھیں! ہم نے بھی فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے رخت سفر باندھا اور نکل پڑے خدا کی قدرت کے کچھ اور جلوے دیکھنے کو جیسے اونگھتے کو ٹہلنے کا بہانہ مل گیا ہو۔
    لیکن اس بار سفر کے لیے جو نکلے تو طے کیا کہ باہر کا کھانا کم سے کم کھایا جائے گا۔ اب کیا کریں ہماری موئی زبان کو بازار کے کھانے ذرا نہیں بھاتے۔ بس اسی لیے ہم اپنے ہاتھوں سے گھر پہ بیگل bagal بنائے اور ناشتے کے سامان کے طور پر پیک کیے۔ اس کے علاوہ حلیم، شامی کباب و پلاؤ بنا کر شب کی ضیافت کا اہتمام کیا اور گنگناتے ہوئے نکلے
    “میں نگری نگری گھوموں۔۔۔میں عشق میں تیرے جھوموں”
    اس بار گاڑی کا رخ “فنگر لیک finger lakes” نیویارک کی جانب تھا جو کہ تقریبا کنیکٹ ٹی کٹ سے پانچ گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ اسے آپ پتلی لمبی گیارہ جھیلوں کا گروپ کہہ لیں ۔ یہاں 1720 میں نیٹو امریکن native American قبیلے آباد ہوا کرتے تھے۔ یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس جگہ کا نام فنگر لیکز کیسے پڑا؟ البتہ united states geological survey by Thomas Chamberlin نے 1883 میں اس علاقے کی رپورٹ شائع کی جس میں اس جگہ کے لیے فنگر لیکز کا لفظ استعمال ہوا بعد میں 1893 میں قانونی طور پر اس جگہ کو فنگر لیکز کا نام دیا گیا۔ ویسے اگر سیٹلائٹ کی مدد سے یا بلندی سے اس جگہ کو دیکھا جائے تو یہ مخروطی جھیلیں اپنے نام کی عکاسی کرتی ہوئی ملتی ہیں۔
    خیر، ہم پانچ گھنٹے کے اس طویل سفر میں صرف ایک ریسٹ ایریا پر زرا سی دیر سستانے کو رکے اور پھر گاڑی کاٹج (ہوٹل) کے دروازے پر ہی جا کر رکی۔ کیونکہ یہ کاٹج کی طرز پہ بنا ہوٹل تھا جس کا ویلکم روم بند تھا۔ اب نہ آدم نہ آدم زاد، سفر کی تھکان الگ، بندہ بےزار ہو ہی جاتا ہے (ہم بھی ہوگئے)۔ ہم نے اپنے میاں کو آنکھیں دکھائیں (جو انھوں نے جان بوجھ کر نہیں دیکھیں) اور کہنا چاہتے تھے کہ کیا یہی جگہ ملی تھی؟ لیکن اس سے پہلےکہ ہم کچھ کہتے ہوٹل کے مالک صاحب اپنی والدہ کے ہمراہ ٹہلتے ہوئے سامنے سے آتے دکھائی دیئے۔
    کاٹج میں داخل ہوتے ہی سمجھو تھکان دور ہوگئی۔ ہلکے سبز رنگ کا کمرہ اور سفید و گلابی رنگ کے کمفرٹر نے ذہن پر خوشگوار اثرات مرتب کیے۔ بس پھر کیا تھا گاڑی سے سامان کمرے میں منتقل کیا اور پھر نکل گئے آوارہ گردی کرنے لیے۔ اور پہنچے لوکل آئس کریم کی دکان پر وہاں سے ایس کریم لی اور جھیل کنارے بیٹھ کر سکوں کھاتے ہوئے غروب آفتاب کا منظر دیکھا۔
    دوسرے دن صبح تقرینا دس بجے تک ہم پہنچے کورننگ میوزیم آف گلاس (corning museum of glass) اور وہاں پہنچ کر وقت کا اندازہ کرنا واقعی بہت مشکل کام ہے۔ ان کی آرٹ گیلری میں ہر شے شیشے سے بنی ہوئی اور عام ایگزیبیشن سے بہت ہی مختلف ہے۔
    ایک طرف شیشے کی ساڑھی پہنے عورت کا مجسمہ تھا تو دوسری طرف پیرامڈ بنے ہوئے تھے۔ ایک جانب شیشے کا ٹوٹا ہوا سرخ رنگ کا فانوس تو دوسری طرف گلاسوں سے سجا چھت کو چھوتا ریک۔ ابھی ہم ایگزیبیشن دیکھنے میں مگن تھے کہ ایک انڈین خاتون نے مسکراتے ہوئے مخاطب کیا اور پوچھا، “آپ حمیرا گل تشؔنہ ہیں ناں؟” ہم جو سکون سے شیشے کی دنیا میں گم تھے واپس زمینی دنیا میں آئے اور غائب دماغی سے بولے، جی ہاں، اور آپ؟ وہ خاتون مسکرا کر کہنے لگیں میں گیتا ہوں نیوجرسی سے آئی ہوں یہاں۔ آپ کو مشاعرے میں سنا تھا آپ کی شاعری بہت اچھی ہے۔ ہم نے مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی فیملی سے بڑھ کر ہیلو ہائے کی اور ان کی خواہش کے مطابق ایل سیفی بھی کھینچوائی اور ان سے رخصت لی۔ ہمارے میاں جی ساری کاروائی سکون سے دیکھتے رہے پھر بولے، “لگتا ہے مشہور ہو گئی ہو۔”

    گلاس ایگزیبیشن کے حصے سے جیسے ہی نکلے سامنے بڑا سا دروازہ دکھائی دیا۔ ہم بھی شتر مرغ کی طرح منہ سیدھے دروازے سے داخل ہوئے تو سامنے ہی کانچ کی بوتلوں کا چھت کو چھوتا شیلف دکھا جہاں کانچ سے شراب کی پہلی بنائی گئی بوتل بھی ڈیمو کے طور پر رکھی تھی۔ بائیں جانب کانچ کی بے شمار پلیٹوں کا شیلف تھا۔ آگے بڑھے تو کاریگر کانچ سے بنائی گئی مختلف چیزوں کے بارے میں آگاہی دے رہے تھے۔ ہم بھی موقع ملتے ہی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ کاریگر نے کانچ کو پگھلا کر چھوٹی سی پرفیوم کی بوتل تیار کی۔ آگ کی حدت کا اندازہ کرنا شیشے کو ایک مخصوص شکل دینا اور بوتل کی شکل دینے کے لیے شیشے کے دوسرے رخ سے خاص تناسب سے پھونک مارنا واقعی حیران کن عمل تھا۔ کیونکہ شام کو ہم کو واپس گلاس میوزیم آنا تھا اس لیے ہم وہاں سے نکل کر سیدھا پارکنگ کی جانب بڑھے۔
    اب ہمارا رخ فنگر لیک کے علاقے میں موجود واٹکنز جین اسٹیٹ پارک (Watkins genn state park) کی جانب تھا۔ وہاں پہنچ کر دس ڈالر داخلے کی فیس دی اور پارک کا نقشہ حاصل کیا۔ تقریبا پندرہ سے بیس منٹ تو اس نقشے کا بغور جائزہ لیا تاکہ راستے کا تعین کیا جا سکے کہ کون سا راستی منزل تک پہنچنے کے لئے لینا بہتر ہوگا اور جی پھر شروع ہوئی ہماری ہائیکنگ۔ اور سچ پوچھیں تو وہاں پہنچ کر ہماری اور میاں جی کی شروع ہوئی ریس۔ کبھی وہ آگے بڑھ جاتے تو کبھی ہم۔ یونہی ہنسے کھیلتے اونچے نیچے رستوں پر سے گزرتے ہوئے تقریبا ایک گھنٹہ چلنے کے بعد ہم ایک غار میں داخل ہوئے۔
    اس غار میں پہنچ کر اندازہ ہوا اک ہم نہیں دنیا میں، دیوانے ہزاروں ہیں۔ بے شمار لوگ خدا کی قدرت کے جلوے دیکھنے کے لیے بیتاب تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت رش تھا۔ دوسری وجہ رش کی ہمیں آگے پہنچے کر سمجھ آئی۔ غار سے نکلتے ہی جو راہداری ہے اس کے عین اوپر سے آبشار گر رہی ہے۔ تو بے شمار لوگ وہاں رک کر پس منظر میں گرتے ہوئے پانی کے ساتھ تصاویر لے رہے ہیں جس کی وجہ سے آمد و رفت کا سلسلہ متاثر ہو رہا تھا۔ خیر ہم نے تصویر تو نہیں لی لیکن ہاتھوں کے پیالے بنا کر آبشار کا پانی ضرور پیا اور جیسے پانی پیتے ہی ساری تھکن دور ہوگئی۔ آگے رک کر تھوڑی دیر اس منظر سے لطف اندوز ہوتے رہے اور واپسی کی راہ لی کیونکہ ابھی ایک گھنٹہ واپس گاڑی تک پہنچنے کے لیے چلنا بھی تھا اور پانچ بجے تک گلاس میوزیم بھی واپس پہنچنا تھا۔
    وہاں سے نکلے تو تقریبا ساڑھے تین بج رہے تھے اور شدید بھوک کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ اب ہم واپس میوزیم کے راستے میں تھے کہ تندوری پیزے (wood fire pizza) کی چھوٹی سی دکان دکھی۔ بس نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ فورا گاڑی روکی. آپ کو کیا لگا یہ کوئی تندوری مصالحہ پیزا ہوگا، جی نہیں یہ پیزا چھوٹی سی بھٹی میں لکڑی جلا کر بنایا جاتا ہے اور اسی لیے اس کا ذائقہ بہت عمدہ ہوتا ہے۔ خیر، یہاں سے کھانا کھا کر واپس کورننگ میوزیم آف گلاس پہنچے اور گفٹ شاپ سے یادگار کے طور پر ایک دو چیزیں لیں۔ اور پانچ بجے ساتھ ہی بنی دوسری بلڈنگ شیشے کے کارخانے میں گئے۔
    عجیب شوق ہیں ہمارے ہر چیز ہر کام کا تجربہ کرنا۔ اس کو محسوس کرنا، دیکھنا، پرکھنا۔ تو اس کارخانے میں بھی تجربہ کرنے پہنچ گئے۔ اور اس بار یہ طے کیا کہ شیشے سے لاکٹ بناؤں گی وہ بھی اپنے ہاتھوں سے۔
    یہ تجربہ کرنے کی فیس الگ سے پینتالیس ڈالر تھی۔ وہاں پہنچے تو اس کے دو کاریگر ہمارے ساتھ تھے ہمیں فورا ایپرن، آستینیں، اور کالا چشمہ پہننے کو کہا۔ اس کے بعد شروع ہوا ہمارے لاکٹ بنانے کا عمل جس کے لیے ہم نے کالا، سفید، اور نیلا ان تین رنگوں کا انتخاب کیا۔ آگ پہ شیشے کو پگھلانا، اس پگلے ہوئے شیشے میں دوسرے رنگوں کو ملانا۔ شیشے کو ایک خاص حدت پہ رکھنا اور اس کو اپنی مرضی کی شکل دینے کے لیے بڑے تحمل سے گزرنا پڑا۔ یہ نہ ہو کہ تپش زیادہ ہوجائے اور یہ بھی نہ ہو کہ لاکٹ کی شکل ہی بگڑ جائے۔ خیر ہماری مدد کرنے والے کاریگر کی مدد سے جب لاکٹ تیار ہوگیا تو اس کو ایک خاص کیمیکل میں ڈالا تاکہ وہ وقت کے ساتھ ٹھنڈا ہو سکے۔ اس کاروائی کے بعد ہمیں ایسا لگا جیسے پیسے وصول ہوگئے۔ زندگی میں بے شمار تجربے کیے لیکن یہ کافی الگ تھا۔
    وہاں سے واپس ہوٹل آتے ہوئے سینیکا لیک ( seneca lake) پر رکے اور واک کرتے ہوئے غروب آفتاب کا منظر دیکھا اور فنگر لیکز finger lakes کی شام کو پھر آنے کا کہہ کر خدا حافظ کہا۔

  • تین دوست اور اسرائیلی جارحیت  تحریر سرور غزالی

    تین دوست اور اسرائیلی جارحیت تحریر سرور غزالی

    ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں اور کسی حد تک خوش مزاج اور متعلون مزاج بھی ہیں کہ ان کی گفتگو سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ وہ جو بات کہہ رہے ہیں وہ مذاق ہے یا وہ پوری سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں۔ وہ درحقیقت ایک مکمل سیاست دان ہیں جو اپنے دل کی بات زبان پر نہیں لاتے اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر ان کے عمل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ عمومی تاثر ان کا یہی ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے سیاست دان ہیں جو اپنی سیاست کو درحقیقت اپنی تجارت کے فروخ کے لیے ہی استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ بلا شبہ وہ ایک کامیاب بزنس مین ہیں اور ان کی امریکی صدارت کے عہدے تک کامیابی سے پہنچنا، دراصل ان کی ذاتی دولت اور تجارتی تعلقات کی ہی مرون منت ہے۔
    ویسے تو ساری دنیا کے سیاستدانوں کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے، اور سیاستدانوں کی تعریف میں وہ تمام حکمران، ارب اقتدار اور وہ تمام لوگ شامل ہیں جن کے پاس کسی طرح کی طاقت، اثرورسوخ یا حکومت ہو، خواہ سویلن ہوں یافوجی طاقت کے حامل۔۔۔ تو بات ہو رہی تھی سیاستدانوں کی، سیاستداں جب جھوٹ بولیں تو یہ مصلحت، اگر وہ غلط فیصلے کریں تو یہ ان کے مشیروں کا قصور، کرپشن کریں تو تجارت وغیرہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر ٹرمپ صاحب کا مقام سیاستدانوں میں سب سے اعلی ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو اپنے مخالفین کے خلاف بطور یتھیار نہایت کامیابی سے استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مداحوں اور چاہنے والوں سے یہ وعدہ لیا ہے کہ وہ اپنے عہد میں امریکہ کو کسی نئی جنگ میں نہیں ملوث ہونے دیں گے یہاں پر یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں اپنی رہائش کو ایک سفید فارم صدر کا حق کے مانتے ہیں اور ان کا وعدہ کسی جنگ میں ملوث نے کا بھی کچھ ایسا ہے کہ وہ ایسا صرف لیے چاہتے ہیں یا یہ وعدہ انہوں نے صرف اس لیے کیا ہے کہ وہ امن کا نوبل پرائز حاصل کرنے کے شدید خواہش مند ہیں۔ مزےکی بات یہ ہے کہ ان کے اس مشن میں ساتھ دینے والے بھی سیاست دان ہی ہیں۔ کوئی پوچھے کہ کپیٹول پر حملے، کسی خاتون پر جنسی حملے وغیرہ کے الزامات میں ملوث افراد بھی کیا ایسے کسی انعام کے حقدار ٹہرائے جاسکتے ہیں۔
    ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی دوست جن کا خود اپنا ہی دعوی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان کے بہت اچھے اور قریبی دوست ہیں نیتنیاہو ہیں۔ نیتنیاہو اسرائیل کے وہ موجودہ وزیراعظم ہے جنہوں نے انسانیت جمہوریت اور اخلاق کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ اسرائیلی جاہریت جو کہ اج بھی غزا اور اس کے گرد نواح میں جاری ہے پر ساری دنیا میں مذمتی بیان اور قراردادیں پیش اور منظور کی جا رہی ہیں لیکن نتنیاہو اور ان کے دوست ٹرمپ اپنی بات پر ہی اڑے ہوئے ہیں کہ حماس کی دہشت گردی کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے وہ جن علاقوں میں حماس کی تلاش اور تلاش کے بہانے سے فلسطینی نہتے کمزور اور مجبور عورتوں بچوں اور بوڑھے افراد پر بمباری کر رہے ہیں وہ علاقہ تقریبا 80 فیصد تباہ ہو چکا ہے۔ تمام مطالبات اور قرارداد کے باوجود دنیا تماشائی بنی سب کچھ دیکھ رہی ہے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ ایسے میں ذہن میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا دنیا میں ہونے والے اس سے پہلے کے تمام جنوسائیڈ پر دنیا یوں ہی خاموش تماشہ دیکھا کرتی رہی ہے۔ ویتنام کی جنگ ہو، کشمیر میں قتل و غارت گری ہو بوزنیا میں یا سابقہ مشرقی پاکستان میں، دنیا نے کبھی بھی ایسے جنگی اور انسانیت سوز جرائم کے سلسلے میں کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا۔ انسانوں کا خون بہتا رہا اور کچھ عرصے بعد لوگ اسے بھول بھال گئے۔ لیکن اس بربریت اور ناانصافی کا کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی دن حل تو نکلے گا اور یہ سارے خوبصورت لوگ جو خوش لباس اور خوش اخلاق کہلائے جاتے ہیں، دنیا کی عنان حکومت ان کے ہاتھوں میں ہے ایک نہ ایک دن ضرور انصاف کے کٹہرے میں کھڑے نظر ائیں گے اور دنیا کو یہ معلوم ہو چکا ہوگا کہ ظلم اور بربریت عرصے تک قائم نہیں رہ سکتی۔
    یورپین یونین میں بھی اس سلسلے میں پھوٹ پڑ چکی ہے اور ایک کے بعد ایک ملک فلسطین کے حق میں بول رہے ہیں اور اب فرانس نے فلسطین کو بحیثیت ملک کے تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اج یورپین یونین کی طرف سے اسرائیل کی جاریہ کے جواب میں، اسرائیل پر کچھ معاشی پابندی لگانے کی باتیں ہوئی ہیں لیکن قسمتی سے اوپر دونوں متذکرہ دوستوں کے ایک اور دوست جرمنی کے چانسلر مسٹر میرز ہیں، جنہوں نے اقوام عالم کے تقریبا 128 ممالک کی قرارداد میں، جس میں جاریت کی مذمت کی گئی ہے، شمولیت سے انکار کر دیا ہے اور انہوں نے اس پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا اسرائیل کی رویے پر تنبیہ کرنا ہی کافی ہے۔ جب کہ ساری دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ اسرائیل کی دہشت گردی تمام مطالبات سے مبرا اج بھی جاری ہے۔

  • ٹیکن چیمپیئن ارسلان نے گیمنگ کی دنیا میں پاکستان کا پر چم سر بلند کردیا

    ٹیکن چیمپیئن ارسلان نے گیمنگ کی دنیا میں پاکستان کا پر چم سر بلند کردیا

    لاس ویگاس (کنزیومر واچ نیوز)پاکستان کے ٹیکن چیمپیئن ارسلان ایش نے ایک اور شاندار کامیابی حاصل کرلی، لاس ویگاس میں چھٹا ایوو ٹائٹل اپنے نام کرلیالاس ویگاس – پاکستان کے مایہ ناز ٹیکن پلیئر ارسلان ایش نے ایک بار پھر دنیا کو اپنی صلاحیتوں کا قائل کرلیا، جب انہوں نے پیر کے روز ایوو (Evolution Championship Series) 2025 کا ٹائٹل بغیر کوئی میچ ہارے جیت کر اپنی برتری ثابت کردی۔یہ ارسلان ایش کا چھٹا ایوو ٹائٹل ہے، جس کے ساتھ ہی وہ دنیا کے کامیاب ترین فائٹنگ گیم پلیئرز میں شمار ہونے لگے ہیں۔ ان کی یہ جیت نہ صرف پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ گیمنگ کی عالمی دنیا میں بھی ایک نئی تاریخ رقم کر گئی ہے۔
    ارسلان نے اپنے مخصوص انداز، بے مثال مہارت اور ٹھنڈے مزاج سے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ فائٹنگ گیمز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ ٹورنامنٹ کے دوران انہوں نے عالمی سطح کے کھلاڑیوں کو پے در پے شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
    پاکستان میں گیمنگ کمیونٹی نے ارسلان کی اس کامیابی کو بھرپور انداز میں سراہا اور سوشل میڈیا پر انہیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ارسلان ایش نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ وہ یہ جیت اپنے ملک اور مداحوں کے نام کرتے ہیں۔یہ جیت نہ صرف پاکستان میں ای اسپورٹس کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ نوجوانوں کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ محنت اور لگن سے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    Tools

  • پی ٹی آئی 5 اگست احتجاج پر واضح حکمت عملی بنانے میں ناکام، قیادت تقسیم

    پی ٹی آئی 5 اگست احتجاج پر واضح حکمت عملی بنانے میں ناکام، قیادت تقسیم

    لاہور:(کنزیومر واچ نیوز)تحریک انصاف کی جانب سے 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کی کال تو دے دی گئی، تاہم پارٹی قیادت اب تک اس حوالے سے واضح حکمت عملی مرتب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے پنجاب بھر کے تمام حلقوں میں احتجاج کرنے کی ہدایت تو جاری کر دی ہے، لیکن لاہور میں احتجاج کی نوعیت اور مقام کے حوالے سے قیادت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض سینئر رہنماؤں نے لاہور میں تمام حلقوں کے کارکنان کو یکجا کر کے ایک بڑی مشترکہ ریلی نکالنے کی تجویز دی ہے، جب کہ چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ سمیت دیگر رہنما اس مؤقف کے حامی ہیں کہ قیادت اور کارکنان اپنے اپنے حلقوں میں الگ الگ احتجاج کریں تاکہ گرفتاریوں اور ممکنہ مقدمات سے بچا جا سکے۔ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ لاہور میں احتجاج کس جگہ کیا جائے گا، کیونکہ رہنماؤں کی مختلف آرا کے باعث حتمی حکمت عملی تشکیل نہیں دی جا سکی۔ قیادت اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ کارکنوں کی گرفتاریوں سے بچاؤ کے لیے تمام ارکان اسمبلی اور پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کو اپنے اپنے حلقوں میں احتجاج کی قیادت کرنی چاہیے۔صورتحال کے پیش نظر پی ٹی آئی کے کارکن اور سپورٹرز اب پارٹی کی حتمی حکمت عملی کے منتظر ہیں، جو واضح کرے گی کہ 5 اگست کا احتجاج لاہور سمیت پنجاب بھر میں کس انداز میں منعقد کیا جائے گا۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پاک، امریکا تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں: برطانوی جریدہ

    فیلڈ مارشل عاصم منیر پاک، امریکا تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں: برطانوی جریدہ

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)برطانوی جریدے میں شائع مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی تعلقات کو نئی جہت دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں شائع مضمون کے مطابق آرمی چیف عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات خطے میں سفارتی تبدیلی کا آغاز تھی۔ مضمون میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کو سود مند قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں نئی گرم جوشی اور امریکا کی بھارت سے متعلق پالیسی میں تبدیلی اس کامیابی کی مثالیں ہیں جب کہ فیلڈ مارشل کا کشمیر سے متعلق ٹھوس موقف اور ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف کا نفاذ بھی اسی کامیابی کی کڑیاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا اور پاکستان تجارتی، انسدادِ دہشتگردی اور مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی پر مشاورت کی بنیاد پر باہمی تعلقات استوار کرنا بھارت کے لیے پریشان کن ہے۔دی اکانومسٹ نے لکھا کہ فیلڈ مارشل کی کوششوں کے باعث ہی امریکا اب پاکستان کو انسدادِ دہشتگردی کے لیے بکتر بند گاڑیاں اور نائٹ وژن چشمے فروخت کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی رکاوٹ بن رہے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج نے فلسطینی لڑکے کی آنکھ میں گولی مار دی

    اسرائیلی فوج نے فلسطینی لڑکے کی آنکھ میں گولی مار دی

    غزہ (کنزیومر واچ نیوز)اسرائیلی فوج نے غزہ میں جبری بھوک سے بلکتی آبادی میں امدادی مقام پر ایک فلسطینی لڑکے کی آنکھ پر گولی مار دی۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ واقعہ غزہ میں ایک امریکی و اسرائیل کے حمایت یافتہ GHF امدادی مقام پر اس وقت پیش آیا جب لڑکا اپنے خاندان کے لیے خوراک کی تلاش میں گیا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے 15 سال کے عبد الرحمن ابو جزر کی بائیں آنکھ میں گولی ماری اور گولی لگنے کے بعد بینائی بحال ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ عبد الرحمن ابو جزر نے عرب میڈیا کو بتایا کہ جب اسے گولی لگی تو اسرائیلی فوجی اس پر مزید گولیاں برساتے رہے جس سے اسے لگا کہ موت قریب ہے۔
    غزہ میں پانی کا بحران
    دوسری جانب غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ غزہ کے شہریوں کے لیے اسرائیلی فوج کے وحشیانہ فضائی حملوں، نکل مقانی اور بھوک کے بعد اب پانی کا شدید بحران بھی جنم لے رہا ہے جس سے غزہ کے لوگوں کی مصیبتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔خبر ایجنسی نے بتایا کہ بعض اوقات پانی کے ٹینکر غزہ کے رہائشیوں تک پہنچ جاتے ہیں اور این جی اوز چند خوش نصیبوں کو وہ پانی تقسیم کرتی ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنگ کے شروع میں غزہ میں پانی کی سپلائی منقطع کرنے کے بعد شمالی غزہ میں پانی کی کچھ سپلائی لائنز کو اسرائیلی پانی کی کمپنی میکروٹ سے جوڑ دیا تھا تاہم رہائشیوں نے بتایا کہ پانی اب بھی نہیں آرہا۔