روسی ہاؤس کراچی میں “رشین پوئیٹری ڈے” کی ایک شاندار اور پُر جوش تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں 5 سال سے لے کر 50 سال تک کی عمر کے 25 سے زائد شرکاء نے بھرپور شرکت کی۔ یہ تقریب عظیم روسی شعرا کی ادبی وراثت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی , مقابلے میں اردو، انگریزی اور روسی زبانوں میں کلام پڑھنے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔شرکاء نے اپنے پُر اثر انداز میں شاعری پیش کی، اور حاضرین کی توجہ کو اپنی گرفت میں لیے رکھا ۔ تقریب کا ماحول بہت منظم رہا۔
تقریب کی میزبانی ربیعہ علی فریدی نے جناب آصف الیاس کے ساتھ مل کر نہایت خوبصورتی اور دلنشینی سے انجام دی، ان کی پرکشش میزبانی نے تقریب کو مزید دلکش بنا دیا۔
آصف الیاس جو کے ریڈیو اور تھیٹر کا مشہور نام ہیں ۔
اردو شاعری کی پڑھت میں اول آئیں شاہ لیزے جب کے انگلش نظم کو خوبصورتی سے پیش کرنے پر چھوٹے سے خضر ساجدی اول نمبر پر آئے، روسی میں شاعری پیش کرنے پر اول آئے وجاہت ، یہ ججز کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا ،
مقابلے کے اختتام پر تمام شرکاء کو اسناد، شیلڈز، اور تحائف سے نوازا گیا تاکہ ان کے شوق کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
معزز ججز میں شامل تھے جناب رسلان ایم۔ پروخوروف – چیئرمین جیوری، نائب قونصل اور روسی مرکز برائے سائنس و ثقافت پاکستان کے ڈائریکٹرجناب ندیم ظفر صدیقی – ڈپٹی چیئرمین جیوری، ادبی منتظم اور ثقافتی شخصیت ڈاکٹر حسین تھیبو – تجارتی امور کے ماہر، صحافی اور میڈیا ایکسپرٹ محترمہ نازیہ غوث – شاعرہ اور ماہر تعلیم محترمہ فریحہ عاقب – اسسٹنٹ ڈائریکٹر روسی ہاؤس کراچی، ادیبہ اور تھیٹر کوآرڈینیٹرمحترمہ ثنا ارسلان – ممتاز پاکستانی کاروباری شخصیت، جو کئی سال روس میں مقیم رہیں اور پاکستان کی سرکردہ کاروباری خواتین میں شامل رہی ہیں تقریب کے بعد مہمانوں اور شرکاء کی تواضع ایک پرتکلف ہائی ٹی سے کی گئی، جس نے، گفتگو اور ثقافتی ہم آہنگی کے لمحات کو مزید خوبصورت بنا دیا۔روسی ہاؤس ادب اور ثقافت کے فروغ اور پاکستان و روس کے عوام کے درمیان قریبی تعلقات کو مستحکم کرنے کے اپنے مشن پر کاربند ہے۔
—
Blog
-

روسی ہاؤس کراچی میں رشین پوئیٹری ڈے کا جشن
-

گیارہ مخروطی جھیلیں ….حمیرا گل تشؔنہ
اس بات کا تو ہم کو یقین ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمارے ہاتھ میں سفر کی لکیر کھینچی ہے۔ اس بار میموریل ویک اینڈ پر ہمارے میاں جی کو لاڈ آیا اور پیکنگ کا حکم صادر کیا۔ اب اندھا کیا چاہے؟ دو انکھیں! ہم نے بھی فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے رخت سفر باندھا اور نکل پڑے خدا کی قدرت کے کچھ اور جلوے دیکھنے کو جیسے اونگھتے کو ٹہلنے کا بہانہ مل گیا ہو۔
لیکن اس بار سفر کے لیے جو نکلے تو طے کیا کہ باہر کا کھانا کم سے کم کھایا جائے گا۔ اب کیا کریں ہماری موئی زبان کو بازار کے کھانے ذرا نہیں بھاتے۔ بس اسی لیے ہم اپنے ہاتھوں سے گھر پہ بیگل bagal بنائے اور ناشتے کے سامان کے طور پر پیک کیے۔ اس کے علاوہ حلیم، شامی کباب و پلاؤ بنا کر شب کی ضیافت کا اہتمام کیا اور گنگناتے ہوئے نکلے
“میں نگری نگری گھوموں۔۔۔میں عشق میں تیرے جھوموں”
اس بار گاڑی کا رخ “فنگر لیک finger lakes” نیویارک کی جانب تھا جو کہ تقریبا کنیکٹ ٹی کٹ سے پانچ گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ اسے آپ پتلی لمبی گیارہ جھیلوں کا گروپ کہہ لیں ۔ یہاں 1720 میں نیٹو امریکن native American قبیلے آباد ہوا کرتے تھے۔ یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس جگہ کا نام فنگر لیکز کیسے پڑا؟ البتہ united states geological survey by Thomas Chamberlin نے 1883 میں اس علاقے کی رپورٹ شائع کی جس میں اس جگہ کے لیے فنگر لیکز کا لفظ استعمال ہوا بعد میں 1893 میں قانونی طور پر اس جگہ کو فنگر لیکز کا نام دیا گیا۔ ویسے اگر سیٹلائٹ کی مدد سے یا بلندی سے اس جگہ کو دیکھا جائے تو یہ مخروطی جھیلیں اپنے نام کی عکاسی کرتی ہوئی ملتی ہیں۔
خیر، ہم پانچ گھنٹے کے اس طویل سفر میں صرف ایک ریسٹ ایریا پر زرا سی دیر سستانے کو رکے اور پھر گاڑی کاٹج (ہوٹل) کے دروازے پر ہی جا کر رکی۔ کیونکہ یہ کاٹج کی طرز پہ بنا ہوٹل تھا جس کا ویلکم روم بند تھا۔ اب نہ آدم نہ آدم زاد، سفر کی تھکان الگ، بندہ بےزار ہو ہی جاتا ہے (ہم بھی ہوگئے)۔ ہم نے اپنے میاں کو آنکھیں دکھائیں (جو انھوں نے جان بوجھ کر نہیں دیکھیں) اور کہنا چاہتے تھے کہ کیا یہی جگہ ملی تھی؟ لیکن اس سے پہلےکہ ہم کچھ کہتے ہوٹل کے مالک صاحب اپنی والدہ کے ہمراہ ٹہلتے ہوئے سامنے سے آتے دکھائی دیئے۔
کاٹج میں داخل ہوتے ہی سمجھو تھکان دور ہوگئی۔ ہلکے سبز رنگ کا کمرہ اور سفید و گلابی رنگ کے کمفرٹر نے ذہن پر خوشگوار اثرات مرتب کیے۔ بس پھر کیا تھا گاڑی سے سامان کمرے میں منتقل کیا اور پھر نکل گئے آوارہ گردی کرنے لیے۔ اور پہنچے لوکل آئس کریم کی دکان پر وہاں سے ایس کریم لی اور جھیل کنارے بیٹھ کر سکوں کھاتے ہوئے غروب آفتاب کا منظر دیکھا۔
دوسرے دن صبح تقرینا دس بجے تک ہم پہنچے کورننگ میوزیم آف گلاس (corning museum of glass) اور وہاں پہنچ کر وقت کا اندازہ کرنا واقعی بہت مشکل کام ہے۔ ان کی آرٹ گیلری میں ہر شے شیشے سے بنی ہوئی اور عام ایگزیبیشن سے بہت ہی مختلف ہے۔
ایک طرف شیشے کی ساڑھی پہنے عورت کا مجسمہ تھا تو دوسری طرف پیرامڈ بنے ہوئے تھے۔ ایک جانب شیشے کا ٹوٹا ہوا سرخ رنگ کا فانوس تو دوسری طرف گلاسوں سے سجا چھت کو چھوتا ریک۔ ابھی ہم ایگزیبیشن دیکھنے میں مگن تھے کہ ایک انڈین خاتون نے مسکراتے ہوئے مخاطب کیا اور پوچھا، “آپ حمیرا گل تشؔنہ ہیں ناں؟” ہم جو سکون سے شیشے کی دنیا میں گم تھے واپس زمینی دنیا میں آئے اور غائب دماغی سے بولے، جی ہاں، اور آپ؟ وہ خاتون مسکرا کر کہنے لگیں میں گیتا ہوں نیوجرسی سے آئی ہوں یہاں۔ آپ کو مشاعرے میں سنا تھا آپ کی شاعری بہت اچھی ہے۔ ہم نے مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی فیملی سے بڑھ کر ہیلو ہائے کی اور ان کی خواہش کے مطابق ایل سیفی بھی کھینچوائی اور ان سے رخصت لی۔ ہمارے میاں جی ساری کاروائی سکون سے دیکھتے رہے پھر بولے، “لگتا ہے مشہور ہو گئی ہو۔”گلاس ایگزیبیشن کے حصے سے جیسے ہی نکلے سامنے بڑا سا دروازہ دکھائی دیا۔ ہم بھی شتر مرغ کی طرح منہ سیدھے دروازے سے داخل ہوئے تو سامنے ہی کانچ کی بوتلوں کا چھت کو چھوتا شیلف دکھا جہاں کانچ سے شراب کی پہلی بنائی گئی بوتل بھی ڈیمو کے طور پر رکھی تھی۔ بائیں جانب کانچ کی بے شمار پلیٹوں کا شیلف تھا۔ آگے بڑھے تو کاریگر کانچ سے بنائی گئی مختلف چیزوں کے بارے میں آگاہی دے رہے تھے۔ ہم بھی موقع ملتے ہی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ کاریگر نے کانچ کو پگھلا کر چھوٹی سی پرفیوم کی بوتل تیار کی۔ آگ کی حدت کا اندازہ کرنا شیشے کو ایک مخصوص شکل دینا اور بوتل کی شکل دینے کے لیے شیشے کے دوسرے رخ سے خاص تناسب سے پھونک مارنا واقعی حیران کن عمل تھا۔ کیونکہ شام کو ہم کو واپس گلاس میوزیم آنا تھا اس لیے ہم وہاں سے نکل کر سیدھا پارکنگ کی جانب بڑھے۔
اب ہمارا رخ فنگر لیک کے علاقے میں موجود واٹکنز جین اسٹیٹ پارک (Watkins genn state park) کی جانب تھا۔ وہاں پہنچ کر دس ڈالر داخلے کی فیس دی اور پارک کا نقشہ حاصل کیا۔ تقریبا پندرہ سے بیس منٹ تو اس نقشے کا بغور جائزہ لیا تاکہ راستے کا تعین کیا جا سکے کہ کون سا راستی منزل تک پہنچنے کے لئے لینا بہتر ہوگا اور جی پھر شروع ہوئی ہماری ہائیکنگ۔ اور سچ پوچھیں تو وہاں پہنچ کر ہماری اور میاں جی کی شروع ہوئی ریس۔ کبھی وہ آگے بڑھ جاتے تو کبھی ہم۔ یونہی ہنسے کھیلتے اونچے نیچے رستوں پر سے گزرتے ہوئے تقریبا ایک گھنٹہ چلنے کے بعد ہم ایک غار میں داخل ہوئے۔
اس غار میں پہنچ کر اندازہ ہوا اک ہم نہیں دنیا میں، دیوانے ہزاروں ہیں۔ بے شمار لوگ خدا کی قدرت کے جلوے دیکھنے کے لیے بیتاب تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت رش تھا۔ دوسری وجہ رش کی ہمیں آگے پہنچے کر سمجھ آئی۔ غار سے نکلتے ہی جو راہداری ہے اس کے عین اوپر سے آبشار گر رہی ہے۔ تو بے شمار لوگ وہاں رک کر پس منظر میں گرتے ہوئے پانی کے ساتھ تصاویر لے رہے ہیں جس کی وجہ سے آمد و رفت کا سلسلہ متاثر ہو رہا تھا۔ خیر ہم نے تصویر تو نہیں لی لیکن ہاتھوں کے پیالے بنا کر آبشار کا پانی ضرور پیا اور جیسے پانی پیتے ہی ساری تھکن دور ہوگئی۔ آگے رک کر تھوڑی دیر اس منظر سے لطف اندوز ہوتے رہے اور واپسی کی راہ لی کیونکہ ابھی ایک گھنٹہ واپس گاڑی تک پہنچنے کے لیے چلنا بھی تھا اور پانچ بجے تک گلاس میوزیم بھی واپس پہنچنا تھا۔
وہاں سے نکلے تو تقریبا ساڑھے تین بج رہے تھے اور شدید بھوک کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ اب ہم واپس میوزیم کے راستے میں تھے کہ تندوری پیزے (wood fire pizza) کی چھوٹی سی دکان دکھی۔ بس نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ فورا گاڑی روکی. آپ کو کیا لگا یہ کوئی تندوری مصالحہ پیزا ہوگا، جی نہیں یہ پیزا چھوٹی سی بھٹی میں لکڑی جلا کر بنایا جاتا ہے اور اسی لیے اس کا ذائقہ بہت عمدہ ہوتا ہے۔ خیر، یہاں سے کھانا کھا کر واپس کورننگ میوزیم آف گلاس پہنچے اور گفٹ شاپ سے یادگار کے طور پر ایک دو چیزیں لیں۔ اور پانچ بجے ساتھ ہی بنی دوسری بلڈنگ شیشے کے کارخانے میں گئے۔
عجیب شوق ہیں ہمارے ہر چیز ہر کام کا تجربہ کرنا۔ اس کو محسوس کرنا، دیکھنا، پرکھنا۔ تو اس کارخانے میں بھی تجربہ کرنے پہنچ گئے۔ اور اس بار یہ طے کیا کہ شیشے سے لاکٹ بناؤں گی وہ بھی اپنے ہاتھوں سے۔
یہ تجربہ کرنے کی فیس الگ سے پینتالیس ڈالر تھی۔ وہاں پہنچے تو اس کے دو کاریگر ہمارے ساتھ تھے ہمیں فورا ایپرن، آستینیں، اور کالا چشمہ پہننے کو کہا۔ اس کے بعد شروع ہوا ہمارے لاکٹ بنانے کا عمل جس کے لیے ہم نے کالا، سفید، اور نیلا ان تین رنگوں کا انتخاب کیا۔ آگ پہ شیشے کو پگھلانا، اس پگلے ہوئے شیشے میں دوسرے رنگوں کو ملانا۔ شیشے کو ایک خاص حدت پہ رکھنا اور اس کو اپنی مرضی کی شکل دینے کے لیے بڑے تحمل سے گزرنا پڑا۔ یہ نہ ہو کہ تپش زیادہ ہوجائے اور یہ بھی نہ ہو کہ لاکٹ کی شکل ہی بگڑ جائے۔ خیر ہماری مدد کرنے والے کاریگر کی مدد سے جب لاکٹ تیار ہوگیا تو اس کو ایک خاص کیمیکل میں ڈالا تاکہ وہ وقت کے ساتھ ٹھنڈا ہو سکے۔ اس کاروائی کے بعد ہمیں ایسا لگا جیسے پیسے وصول ہوگئے۔ زندگی میں بے شمار تجربے کیے لیکن یہ کافی الگ تھا۔
وہاں سے واپس ہوٹل آتے ہوئے سینیکا لیک ( seneca lake) پر رکے اور واک کرتے ہوئے غروب آفتاب کا منظر دیکھا اور فنگر لیکز finger lakes کی شام کو پھر آنے کا کہہ کر خدا حافظ کہا۔ -

پورتو: پرتگال کا تاریخی شہر….ارم زہرا۔ چین
کبھی کبھی سفر صرف فاصلہ طے کرنے کا نام نہیں ہوتا بلکہ وقت، فطرت، اور اندر کے موسم سے بھی ایک گزر ہوتا ہے۔
اُس صبح جب ہم اویرو سے پورتو کے لیے روانہ ہوئے، تو ہوا میں ایک عجب سی بےچینی تھی۔سورج تو یورپ میں ویسے ہی کچھ زیادہ محبت جتاتا ہے، مگر ان دنوں پرتگال کی فضا میں صرف روشنی نہیں، گرمی کا غصہ بھی تھا۔
ٹرین وقت پر تھی، جیسا کہ یورپ میں عموماً ہوا کرتا ہے۔ مگر پلیٹ فارم پر کھڑے ہوتے ہوئے، میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ سورج یہاں مہربان نہیں، بلکہ کچھ برہم سا لگتا ہے۔ آس پاس کے مسافر چھاؤں ڈھونڈتے پھر رہے تھے، اور میں نے پانی کی بوتل ہاتھ میں مضبوطی سے تھام لی، جیسے کسی دعا کا سہارا ہو۔
راستے میں ہسبینڈ جی نے فون پر خبر دیکھی
“پرتگال کے جنوب میں کئی جنگلات میں آگ بھڑک اُٹھی ہے اور حکام نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔”
میں نے کھڑکی سے باہر نظر ڈالی ۔ جلتے ہوئے کھیت تو نہیں تھے، مگر پیلاہٹ میں ڈوبا منظر ضرور تھا جیسے کسی پینٹنگ کو تندور میں تپایا جا رہا ہو۔ دل میں ایک سوال سا ابھرا
“کیا ہم صرف زمین کو روند رہے ہیں، یا وقت کو بھی جلا رہے ہیں؟”
پرتگال میں گرمی معمول سے زیادہ ہو چکی ہے ان دنوں ۔ درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا جارہا ہے ۔ ہم ٹرین کی ٹھنڈی سیٹوں پر بیٹھے، مگر باہر کی فضا جیسے آنکھوں سے لپٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے سوچا “کیا پرتگال کے وہ دن کبھی لوٹیں گے جب ہوا سمندر کی خوشبو لاتی تھی، نہ کہ راکھ کی بو؟”
شوہر نے میرے خیالات بھانپتے ہوئے آہستہ سے کہا
“ہم صرف سیر کو نکلے ہیں، مگر فطرت جنگ لڑ رہی ہے ۔ اپنے لیے، ہمارے لیے، اور آنے والی نسلوں کے لیے۔”
اگر ہم پرتگال کی تاریخ کو مسلمانوں کی نظر سے دیکھیں، تو یہ صرف ایک ملک نہیں، اندلس کے پھیلتے ہوئے سورج کی آخری کرنوں میں ڈوبا ہوا خطہ دکھائی دیتا ہے۔ پرتگال کی سرزمین کبھی اندلس کا حصہ تھی وہی اندلس جہاں قرطبہ کے چراغ جلتے تھے، جہاں گلیلیو سے پہلے ستارے ناپے جاتے تھے اور جہاں فلسفہ اذان کی بازگشت میں گم ہو جاتا تھا۔
711ء میں جب طارق بن زیاد نے جبل الطارق عبور کیا، تو اندلس کا سورج طلوع ہوااور اس کی کرنیں پرتگال تک پہنچیں۔ عرب مور یہاں 8ویں صدی سے 13ویں صدی تک قابض رہے۔ لزبن، کوئمبرا، اویرو، اور پورتو یہ سب ان کے نقشِ قدم پر پروان چڑھے۔ انہوں نے نہ صرف زراعت، سائنس، فلسفہ اور فن تعمیر دیا، بلکہ اس سرزمین کو تہذیب کا ذائقہ بھی دیا
پورتو کی گلیاں چپ تھیں ۔ وہی خاموشی جو تاریخ کے دفن ابواب میں سانس لیتی ہے۔ میں نے شہر کی پرانی عمارتوں، خمیدہ گلیوں اور اینٹوں کی چھتوں پر نظر ڈالی ان میں کہیں نہ کہیں، کسی مسلمان معمار کے ہاتھ کی جنبش چھپی محسوس ہوتی تھی۔ جیسے کسی نے پتھر میں وقت کو لکھ دیا ہو۔ میرے دل میں ایک سوال نے سر اُبھارا ۔ کیا یہاں کبھی اذان کی آواز گونجی تھی؟ کیا ان گلیوں سے کوئی مسلمان قاضی یا فلسفی گزرا تھا؟
پورتو (جسے اُس وقت “Portus Cale” کہا جاتا تھا) مکمل طور پر مسلم زیرِ تسلط تو کبھی نہیں رہا، لیکن قریبی شہر کوئمبرا، اور لشبونہ (لزبن) میں مسلمانوں کی حکومت تھی اور ان کے اثرات فاصلوں سے سفر کرتے ہوئے اس شہر کی شناخت میں شامل ہوئے کہ تہذیبیں صرف فوج سے نہیں، ثقافت، علم، زبان اور طرزِ فکر سے بھی سفر کرتی ہیں۔ پورتو اگرچہ مسلم حکمرانی میں نہیں آیا، مگر آس پاس کے شہروں میں جو علمی، زرعی، اور فنی ترقی ہوئی، اس کی خوشبو پورتو تک پہنچ گئ۔
یہی وجہ ہے کہ پورتو کے چند پرانے قلعے، آبی نظام، اور کچھ گمنام گلیوں میں آج بھی وہی انداز نظر آتا ہے ۔خمیدہ محرابیں، سفید و نیلا ٹائل ورک، زیتون کے درختوں کی قطاریں اور گنبد اسٹائل کا انفرااسٹریکچر جو شاید کسی وقت وضو کے لیے پانی مہیا کرتے تھے۔
دریائے “دوُرو” کے کنارے پر جب ہم پہنچے، تو شام اپنا رنگ جما چکی تھی۔ پانی پر روشنیوں کے عکس تھے، اور ہوا میں خوشبو تھی پرانی اینٹوں کی، پرانے وقتوں کی۔ ہم نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، اور Dom Luís I Bridge پر پیدل چلنا شروع کیا۔ دریائے دُورو پرتگال کا ایک مشہور دریا ہے۔ یہ دریا اسپین سے نکلتا ہے اور پرتگال سے گزرتا ہوا بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) میں گرتا ہے۔ شہر پورتو (Porto) اسی دریا کے کنارے واقع ہے۔
پورتو کے رائبرا (Ribeira) علاقے میں ہم دیر تک گھومتے رہے۔ وہاں کی پتھریلی گلیوں میں ہر دروازہ جیسے ایک کہانی سناتا تھا۔ کچھ جگہوں پر پرانی مسجدوں کے آثار اب بھی موجود ہیں جیسے “Igreja da Misericórdia” کے پیچھے ایک چھوٹی سی محراب، جسے مقامی لوگ آج بھی “مشرق کی کھڑکی” کہتے ہیں۔
دریائے دوُرو کے کنارے، پورتو کا رائبرا جیسے کسی پرانی کہانی کا زندہ صفحہ ہو۔ ہم جیسے ہی پتھریلی گلیوں میں اترے، وقت کی رفتار سست ہو گئی۔ سامنے دریا خاموشی سے بہہ رہا تھا، اور اس کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا یہ محلہ رائبرا پرتگال کے ماضی، اس کے رنگ، اس کی گلیوں، اور اس کی روح کی مکمل تصویر بن گیا تھا۔
عمارتیں چھوٹے چھوٹے رنگین خانوں کی طرح ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی، بالکونیوں سے جھانکتے پھول، کچھ دیر بعد وہی فادو جسے ایک نوجوان لڑکی اپنی اداس آواز میں گا رہی تھی۔ اس کی آواز جیسے دریا کی لہروں پر تیرتی ہوئی میرے دل تک آ رہی تھی۔
رائبرا کے کنارے بیٹھ کر ہم نے چپ چاپ سورج کو دریائے دوُرو میں اترتے دیکھا۔ پانی سنہری ہو چلا تھا اور روشنی جیسے دیواروں پر رینگتی جا رہی تھی۔ مجھے لگا میں محض دیکھ نہیں رہی بلکہ سن رہی ہوں، محسوس کر رہی ہوں اس شہر کے گزرے ہوئے لمحے۔۔
پورتو میں اگرچہ مسلمانوں کی موجودگی لزبن یا الگاروے جتنی واضح نہیں، لیکن آرکیٹیکچر، واٹر چینلز، اور زراعتی نظام میں ان کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پورتو کے پرانے گلی کوچے اور پانی کی تقسیم کا نظام عرب انجینیئرنگ کی دین ہے۔
ہم نے اگلے دن مقامی میوزیم کا دورہ کیا جہاں ایک قدیم نقشہ نظر آیا۔ اس پر پورتو کو “Burth” کے نام سے دکھایا گیا تھا، جس کے نیچے عربی میں لکھا تھا:
“بلدٌ على نهرٍ واسع” (ایک بستی جو ایک بڑی ندی کے کنارے پر ہے )
پورتو کے ریستورانوں میں ہم نے مقامی کھانے چکھے۔ مگر ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں جب ویٹر نے “چکن تاجین” اور “کسکس” کی بات کی، تو میرے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔ “یہ تو مراکش کا کھانا ہے!”
ویٹر ہنس کر بولا “یہاں کے کچھ خاندان مسلمان بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں، ہم آج بھی وہی ذائقے سنبھالے ہوئے ہیں۔”
ہسبینڈ جی نے میری طرف دیکھا، اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا
“تاریخ صرف کتابوں میں نہیں ہوتی، ذائقوں میں بھی محفوظ رہتی ہے۔”
اگلے دن پورتو کی صبح کسی خوش الحان بانسری کی طرح تھی۔ ہمارے ہوٹل کی بالکونی سے نظر آنے والی پتھریلی چھتوں پر سورج کی پہلی کرنیں پڑی تھیں۔ ہوا ہلکی، نم آلود، اور پرانی خوشبو سے لبریز تھی۔ میں نے ہسبینڈ جی کے لیے کافی بنائی، اور ہم دونوں گھنٹہ بھر یونہی چپ چاپ بیٹھے شہر کو جاگتے دیکھتے رہے۔
“آج کہاں چلیں؟” انہوں نے پوچھا۔
“چلیں، کتابوں کے شہر چلتے ہیں… اور خوابوں کی سیڑھیاں چڑھتے ہیں۔”Livraria Lello وہ لائبریری جہاں لفظ جادو بن جاتے ہیں۔
ہم جب پورتو کی مشہور ترین جگہ، Livraria Lello، پہنچے، تو باہر لمبی قطار تھی۔ لال قالین جیسی سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں، اور دروازے پر سنہری نقوش چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کو مجھے لگا میں کسی فلم کے سیٹ پر آ گئی ہوں۔ اوہ واقعی، یہ وہی لائبریری ہے جس نے J.K. Rowling کو “ہیری پوٹر” لکھنے میں متاثر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ پورتو میں انگلش پڑھاتی تھیں، تو یہاں آ کر بیٹھا کرتی تھیں ۔ یہی مڑی تڑی سیڑھیاں، یہی لکڑی کی چھتیں، یہی قدیم کتابیں… شاید ہوگوارٹس کا خیال یہیں سے پیدا ہوا۔
جب ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک عجیب خاموشی چھا گئی۔ ہر شے بولتی تھی، پر آہستہ۔ جیسے ہم کتابوں میں گم ہو گئے ہوں۔۔۔
پورتو کا ایک اور شاندار مقام Torre dos Clérigos ہے، جو شہر کا بلند ترین ٹاور ہے۔ جہاں ہم نے 200 سے زائد سیڑھیاں چڑھیں، اور جب اوپر پہنچے تو پورا پورتو ہماری آنکھوں کے سامنے تھا ۔ گلابی چھتیں، دریا، پرانے پل، اور دور دور تک پھیلا ہوا یورپی خاموشی کا طلسم۔
“یہاں کھڑے ہو کر دل کرتا ہے وقت تھم جائے، میں نے خود کلامی کی ۔ ُپھر ہم گئے São Bento ریلوے اسٹیشن کی طرف، جو دنیا کے خوبصورت ترین اسٹیشنز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی دیواروں پر نیلی و سفید azulejos (پرتگالی ٹائلز) پر بنی کہانیاں تھیں جنگیں، محبتیں، بادشاہوں کی سواری، کسانوں کا جشن۔ میں نے سوچا
“کتنا عجیب ہے نا، ہم اپنی محبتوں کو انسٹاگرام پر محفوظ کرتے ہیں اور انہوں نے دیواروں پر بنا دیا!”
ہم نے یہاں شہر کا ایک اور نایاب عجوبہ دیکھاIgreja do Carmo۔ یہ دو چرچز ہیں جو ایک پتلی سی دیوار کے ذریعے الگ کیے گئے ہیں ۔ کبھی ایک چرچ کو مردوں کے لیے، اور دوسرے کو عورتوں کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔
اگلے دن ہم نے فیصلہ کیا کہ صرف ماضی نہیں، حال بھی دیکھنا ہے۔ چنانچہ ہم گئے Casa da Música جدید فن تعمیر کا شاہکار۔ شیشے، دھات اور زاویوں کی دنیا۔ ایک ایسا پرتگال جو روایت اور جدت کے بیچ کھڑا ہے۔میں نے دل میں سوچا
“مسلمانوں نے یہاں علم دیا، فن دیا، روشنی دی۔ آج بھی وہ روشنی زندہ ہے، بس روپ بدل گیا ہے۔”
آخری دن ہم پھر Ribeira گئے۔ وہی دریا، وہی پل، وہی ہوا، مگر دل میں کچھ زیادہ جوش تھا۔ ہم نے کنارے پر بیٹھ کر دو کپ کافی، اور وہ خاموشی پی جو محبت سے زیادہ پُراثر ہوتی ہے۔
“پورتو کی سب سے بڑی خاص بات کیا ہے؟” ہسبینڈ جی نے پوچھا۔
میں نے دریا کی طرف دیکھا اور کہا
“یہ شہر آپ کی طرح ہے… خاموش، مضبوط، اور اپنے اندر کہانیاں چھپائے ہوئے۔” وہ میری بات سن کر ہنستے رہے۔
ہم دن بھر گھوم کر ہوٹل واپس آئے تو میں نے سوچا تھا بس تھوڑا آرام کریں گے، پھر سو جائیں گے۔ مگر پورتو کا اصل چہرہ تو رات کو ظاہر ہوتا ہے۔
ہسبینڈ جی نے کہا، “چلو نکلتے ہیں، شہر کی سانسیں رات میں سننے کا الگ مزہ ہے۔” اور ہم نکل گئے ہاتھ میں ہاتھ، اور دل میں ایک چھوٹی سی بےچینی۔ سڑکیں روشن تھیں، مگر ہجوم نہیں تھا۔ یہاں کی نائٹ لائف میں شور نہیں، نرمی ہے۔ لوگ ہنس رہے تھے، مگر آہستگی سے۔ موسیقی بج رہی تھی، مگر دل کو چیرنے والی نہیں دل کو چھو لینے والی۔
ہم پہنچے Galerias de Paris، پورتو کی سب سے مشہور نائٹ اسٹریٹ۔ یہ کوئی عام بازار یا ڈانس فلور نہیں، بلکہ ایک گلی ہے جہاں ہر قدم پر ایک کیفے، ایک بار، یا ایک چھوٹا سا جاز کلب ہے۔
ہم ایک ریستورنٹ کے باہر بینچ پر بیٹھے۔ سامنے کچھ نوجوان گٹار بجا رہے تھے، اور ساتھ ہی کوئی پرتگالی لڑکی “فادو” گا رہی تھی ۔“فادو” پرتگال کا ایک روایتی اور جذباتی موسیقی کا انداز ہے، جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اداسی، جدائی، تنہائی، مایوسی، یا کھوئے ہوئے وقت کی جھلک ہوتی ہے۔ یہ ایک پرانی، درد بھری پرتگالی صنف ہے ، جس کی آواز میں صدیوں کی جدائی، محبت، اور انتظار ہوتا ہے ۔ میں نے دل میں سوچا “یہ آواز پرانی لگتی ہے ؟ جیسے کسی کھوئے ہوئے عشق کی پکار ہو…”
ہم نے ایک ریسٹورنٹ چنا جو دریا کے کنارے تھا “Taberna dos Mercadores”۔ چھوٹا سا ریسٹورنٹ، لکڑی کی میزیں، مدھم روشنی، اور ویٹر جو پرتگالی لہجے میں انگریزی بول رہا تھا۔ہم نے پوچھا، “کوئی مقامی ڈش تجویز کریں؟”Bacalhau à Brás کوڈ مچھلی، آلو، انڈہ، اورزیتون کا امتزاج اور دوسری Caldo Verde آلو اور پتوں کا سوپ، جس میں سادہ پن کی گہرائی ہے۔
آخر میں ہم نے Pastel de Nata کھایا ایک چھوٹا سا کسٹرڈ ٹارٹ، اوپر دارچینی چھڑکی ہوئی۔میں نے ہنستے ہوئے ہسبینڈ جی سے کہا
“یہ میٹھا آپ کی طرح ہے… باہر سے مضبوط، اندر سے نرم!”
کھانے کے بعد ہم پھر دریا کی طرف نکلے۔ Dom Luís I Bridge پر روشنی تھی، پانی میں عکس، اور ہوا میں رات کا وہ سکوت جس میں شہر سانس لیتا ہے۔لوگ بیٹھے تھے، کچھ گٹار بجا رہے تھے، کچھ ہاتھ میں وائن لیے خاموش نظارے میں گم تھے۔ہم ایک کنارے پر بیٹھ گئے اور اپنی اپنی سوچوں میں گم ہو گئے ۔
ہم نے نائٹ لائف میں شور نہیں دیکھا بلکہ خاموش موسیقی کا تجربہ کیا۔
یہاں لوگ چیختے نہیں، گفتگو کرتے ہیں۔یہاں روشنی آنکھیں چبھتی نہیں، دل روشن کرتی ہے۔یہاں رات ختم نہیں ہوتی، بلکہ دل میں ٹھہر جاتی ہے۔ میں اور میرے شوہر واپس آ چکے ہیں، لیکن پورتو ہم سے الگ نہیں ہوا۔ اس کی نائٹ لائف، جس میں لفظوں سے زیادہ نظر کی گفتگو تھی۔اس کے کھانے، جن میں ذائقہ نہیں، تاریخ تھی۔اور اس کی گلیاں، جہاں ہم دو سائے بن کر گھومتے رہےاور بیچ میں وہ شہر…جس نے ہمیں کچھ پل کے لیے خود میں جذب کر لیا۔
پورتو کا سحر دل میں اتر چکا تھا اور ہم نے اپنے سوٹ کیس بند کیے، تو میرے دل میں ایک ہلکی سی اداسی تھی وہی جو کسی پیاری کتاب کا آخری صفحہ پڑھتے ہوئے ہوتی ہے۔ لیکن ہسبینڈ جی نے کہا،
“سفر ابھی ختم نہیں ہوا، اگلا سفر لسبن کی جانب ہے ۔”
ہم نے پورتو کے Campanhã ریلوے اسٹیشن سے لزبن کے لیے ٹرین لی۔ اسٹیشن پر صبح کی روشنی کچھ تھکی تھکی سی تھی، جیسے شہر خود بھی ہمیں رخصت کر رہا ہو۔ ٹرین وقت کی مکمل پابندی سے روانہ ہوئی، اور کھڑکی کے اس پار وہی پرتگالی زمین، جو کہیں زیتون کے درختوں سے بھری ہوئی تھی، اور کہیں دور پہاڑوں کی اوٹ میں گم۔ یہ سفر تقریباً 2.5 سے 3 گھنٹے کا تھا اور ہم نے Alfa Pendular ٹرین چنی، جو نسبتاً تیز، آرام دہ اور جدید سہولتوں سے آراستہ ہے۔ ٹکٹ قیمت 20 سے 40 یورو کے درمیان تھی، مگر وقت، آرام اور منظر سب اس رقم کا نعم البدل تھے۔ اگرچہ Intercidades (Intercity) ٹرینز بھی اسی روٹ پر چلتی ہیں ۔ تھوڑی سست، مگر آرام دہ۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ رفتار اور منظر ایک ساتھ چُنا جائے لیکن اگر آپ بس کے ذریعے لزبن جانا چاہیں تو وہ سہولت بھی میسر ہے۔Rede Expressos اور دیگر کمپنیوں کی بسیں روزانہ پورتو سے لزبن کے لیے روانہ ہوتی ہیں۔
بس کا سفر تقریباً 3.5 سے 4.5 گھنٹے لیتا ہے، اور ٹکٹ عموماً 10 سے 20 یورو میں مل جاتی ہے۔ بسوں کے اندر ایک خاص قسم کی خاموشی ہوتی ہے ۔ نہ وہ شور جو شہروں کا ہوتا ہے، نہ وہ تنہائی جو پہاڑ دیتی ہیں۔
بس کی کھڑکی سے نظر آنے والے چھوٹے دیہی گاؤں، انگوروں کی بیلیں، اور دھوپ میں چمکتی چھتیں دل میں ایسا سکون اُتارتی ہیں جیسے کوئی پرانا گیت ہو جو یاد آ جائے۔ چاہے ٹرین ہو یا بس، پورتو سے لزبن تک کا یہ سفر صرف فاصلہ طے کرنا نہیں بلکہ پرتگال کی روح کو چھونا ہے ۔ ایک شمال سے دوسرے جنوب کی طرف جاتے ہوئے، جہاں زبان وہی ہے، مگر لہجہ، موسم اور وقت سب کچھ دھیرے دھیرے بدلتا ہے۔ -

ہیوسٹن میں اسکارف پہنی پاکستانی خاتون پر وحشیانہ حملہ، ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی
ہیوسٹن (کنزیومر واچ نیوز)امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستانی نژاد خاتون پر مبینہ مذہبی منافرت کے تحت حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ ساؤتھ ولکریسٹ ڈرائیو پر واقع شوگر پارک پلازہ کے سامنے پیش آیا، جب جمعہ کی شام تقریباً 5 بجے ایک نامعلوم شخص نے خاتون کو پیچھے سے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔خاتون کے منہ کے بل گرنے سے ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور چہرے پر شدید چوٹیں آئیں۔ واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور بآسانی سڑک کے دوسری جانب چلا گیا۔خاتون کے بیٹے محمد ظہیر نے بتایا کہ اس کی والدہ اسکارف پہنے ہوئے تھیں اور ممکنہ طور پر حملہ آور نے انہیں مسلمان سمجھ کر نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ نفرت پر مبنی جرم ہے اور ملزم کو فوری گرفتار کرکے سخت سزا دی جانی چاہیے۔
-

الجزیرہ کے معروف صحافی اپنے ساتھیوں سمیت اسرائیل کے ٹارگٹڈ حملے میں شہید
غزہ(کنزیومر واچ نیوز)اسرائیلی افواج کا ایک اور مہلک وار قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف اپنے 3 صحافتی ساتھیوں سمیت غزہ میں شہید ہو گئے۔غزہ کے الشفاء اسپتال کے مطابق 28 سالہ انس الشریف اور ان کے ساتھیوں کو اسپتال کے مرکزی دروازے کے قریب اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ صحافیوں کے لیے لگائے گئے ایک خیمے میں موجود تھے۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر ٹارگٹڈ اسٹرائیک تھا۔شہادت پانے والوں میں الجزیرہ کے رپورٹر محمد قریقیہ، کیمرا مین ابراہیم ظاہر اور میڈیا ورکر محمد نوفل شامل ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انس الشریف نے شمالی غزہ میں اسرائیلی بمباری، انسانی بحران اور جنگی جرائم کی وسیع کوریج کی تھی، جس کے بعد سے انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔اسرائیلی فوج نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انس الشریف پر الزام لگایا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حماس کے ایک سیل کی سربراہی کر رہے تھے تاہم اس دعوے کے شواہد تاحال منظرِ عام پر نہیں لائے گئے۔ذرائع کے مطابق انس الشریف ان صحافیوں میں شامل تھے جو غزہ میں جاری تباہی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے دن رات مصروف تھے۔واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے آغاز سے اب تک 200 سے زائد صحافی اور میڈیا کارکنان شہید ہو چکے ہیں، جن میں متعدد کا تعلق الجزیرہ نیٹ ورک سے تھا۔
-

یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر کی بارسلونا میں قیمتی گھڑی چھین لی گئی
بارسلونا(کنزیومر واچ نیوز)چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور ممبر قومی اسمبلی سید عبدالقادر گیلانی بارسلونا میں قیمتی گھڑی سے محروم ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق چور سید عبدالقادر گیلانی سے گھڑی چھین کر لے گئے۔اطلاعات کے مطابق گھڑی کی مالیت 56 ہزار یورو تھی جو پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ 85 لاکھ روپے بنتی ہے ۔سابق وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی بارسلونا میں سیروتفریح کے لیے گئے ہوئے ہیں۔
-

پاکستان کے کس صوبے میں کتنے گدھے ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آ باد(کنزیومر واچ نیوز) پاکستان کے کس صوبے میں کتنے گدھے ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں۔ حکومتی زراعت شماری رپورٹ کے مطابق گدھوں کی تعداد میں پنجاب تمام صوبوں سےآگے ہے، سندھ دوسرے اورخیبرپختونخواہ میں تیسرے نمبرپرگدھوں کی تعدادزیادہ ہےجبکہ صوبہ بلوچستان میں گدھوں کی تعداد باقی صوبوں کےمقابلے میں کم ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں گدھوں کی تعداد 24لاکھ3ہزار، سندھ میں گدھوں کی تعداد 10 لاکھ 81 ہزار، خیبرپختونخواہ میں 7 لاکھ82 ہزار اور بلوچستان میں گدھوں کی تعداد 6 لاکھ30 ہزار ہوچکی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گدھوں کی تعداد 4 ہزار ریکارڈ کی گئی۔ زراعت شماری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کےمقابلے پنجاب میں گدھوں کی تعداد 17 لاکھ73ہزار زیادہ بنتی ہے، پنجاب میں خیبر پختونخواہ کےمقابلے گدھوں کی تعداد 16 لاکھ 21 ہزار اور سندھ کے مقابلے پنجاب میں گدھوں کی تعداد 13لاکھ 22 ہزار زیادہ بنتی ہے۔ زراعت شماری رپورٹ2024کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی مجموعی تعداد49لاکھ ہو چکی ہے۔
-

گلگت کے دنیور نالے میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے تلے دب کر8 رضاکار جاں بحق
پشاور(کنزیومر واچ نیوز)گلگت کے دنیور نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 8 رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق مقامی رضاکار سیلاب سے متاثرہ واٹر چینل کی بحالی کا کام کر رہے تھے کہ ان پر مٹی کا تودہ آگرا۔ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ملبے تلے دب کر 8 رضاکار جاں بحق ہوگئے جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دب کر زخمی بھی ہوئے۔اسپتال ذرائع کے مطابق حادثے میں زخمی 3 افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ مقامی افراد کی جانب سے ریسکیو کا بھی عمل جاری ہے۔ دوسری جانب اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔اس حوالے سے ترجمان صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیاں عروج پر ہے اور گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے، شیشپر نالے سے پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد نالے میں سیلاب آگیا ہے، سیلاب سے متصل آبادیوں کی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ترجمان گلگت بلتستان حکومت نے بتایا کہ دنیور نالے میں مٹی کا تودہ گرنے سے 8 افراد جاں بحق اور 7 افراد زخمی ہوئے، دنیور نالے میں امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیلاب سے لوگوں کی زرعی زمینیں متاثر ہوئی ہیں اور درخت بہہ گئے ہیں، سیلاب سے قراقرم ہائی وے بھی متاثر ہوا ہے اور شاہراہ ہنزہ ایک بار پھر بند ہو گئی ہے۔ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق شاہراہ قراقرم کےکٹاؤ کی وجہ سے ہنزہ کیلئے ٹریفک کو نگر کے روڈ سے گزارا جا رہا ہے۔
-

اراکین سندھ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل منظور
کراچی(کنزیومر واچ نیوز) سندھ اسمبلی نے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت گزشتہ روز ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں 3 اہم بلوں کی منظوری دی گئی، یہ بل وزیر قانون اور پارلیمانی امور ضیا ءالحسن لنجار کی جانب سے ایوان میں پیش کیے گئے تھے ۔ ایوان کی کارروائی کے دوران وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیاءالحسن لنجار نے ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے سے متعلق بل ایوان میں پیش کیا جس کی ایوان نے مرحلہ وار منظوری دی، تمام ممبران نے بل کی حمایت کی اور اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔سندھ کابینہ نے 7 اگست کو اپنے اجلاس میں اس بل کے مسودے کی منظوری دی تھی اور کابینہ کی منظوری کے بعد اب اسے سندھ اسمبلی سے بھی منظور ی حاصل ہوگئی ہے ۔منظور شدہ قانون سے حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب کے ارکان اسمبلی یکساں طور پر مستفیض ہوں گے اور وہ بہت سی مراعات کے حقدار بھی تصور کیے جائیں گے جن میں مہمان داری الاؤنس، ہاؤس رینٹ الاؤنس، یوٹلیٹی الاؤنس، ڈیلی الاؤنس، کنوینس الاؤنس، اکاموڈیشن الاؤنس، ٹریولنگ الاؤنس، مائیلج الاؤنس، مفت سفری سہولت ، ٹیلی فون کی سہولت ،علاج معالجے کی سہولیات، آفس مینٹنس الاؤنس اور وہ تما م الاؤنسز بھی جن کی سفارش سندھ اسمبلی کی کوئی پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔
-

نانا نے زمین کے تنازع پر بیٹی اور تین نواسے نواسیوں کو قتل کردیا
ملتان(کنزیومر واچ نیوز) ظالم باپ نے بیٹی اور اس کے تین کمسن بچوں کو قتل کردیا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ ملتان کے علاقے ملوک بستی میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے بیٹی کو اس کے تین بچوں سمیت قتل کردیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ زمین اور رشتے کے تنازع پر باپ نے بیٹی اور نواسے نواسیوں کو قتل کیا۔پولیس کے مطابق مقتول بچوں کی عمریں 2 ماہ سے 3 سال کے درمیان ہیں، واقعے کے بعد مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔