Blog

  • کراچی: رواں سال ٹریفک حادثات میں کتنی اموات ہو چکیں؟ اعداد و شمار جاری

    کراچی: رواں سال ٹریفک حادثات میں کتنی اموات ہو چکیں؟ اعداد و شمار جاری

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) رواں سال مختلف ٹریفک حادثات میں اب تک 555 افراد جاں بحق ہو چکے۔پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق کراچی میں رواں سال ہیوی گاڑیوں کی ٹکر سے 169 افراد جاں بحق ہوئے، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں میں 429 مرد، 53 خواتین اور 73 بچے شامل ہیں۔ حکام کا بتانا ہے کہ مختلف حادثات میں ڈمپرکی ٹکر سے 34 اور ٹرالر کی ٹکر سے 63 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ واٹر ٹینکرکی ٹکرسے 37 اور بسوں کی ٹکر سے 35 افراد جاں بحق ہوئے۔پولیس کے مطابق کراچی میں رواں برس اب تک مختلف حادثات میں 8 ہزار 338 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں مردوں کی تعداد 6 ہزار 528، خواتین کی تعداد 1267 اور بچوں کی تعداد 543 ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی ٹرالر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق ہوا جبکہ چند روز قبل راشد منہاس روڈ پر ڈمپر کی ٹکر سے بہن بھائی جاں بحق جبکہ ان کے والد زخمی ہو گئے تھے۔

  • سندھ حکومت نے کراچی والوں کو سستی بجلی دینے کا اعلان کردیا

    سندھ حکومت نے کراچی والوں کو سستی بجلی دینے کا اعلان کردیا

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) وزیر توانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے اعلان کیا ہے کہ کراچی والوں کو اب سستی بجلی ملے گی۔ایک بیان میں ناصر حسین شاہ نے اعلان کیا کہ سندھ اسمبلی سے سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( سیپرا ) کوآئینی طور پرمنظور کروا لیا ہے،سیپرا میں لوگوں کو بھرتی کرلیاگیاہے جس کا نوٹیفکیشن بھی رواں ماہ جاری ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب کراچی کے شہری بھی سستی بجلی حاصل کر سکیں گے، بجلی کے نرخ بھی اب ہم خود طے کر سکیں گے اور سستی بجلی کے نرخ کےالیکٹرک کی نسبت بہت کم ہوں گے۔وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ ایس ٹی ڈی سی کی ترسیل شدہ بجلی کا نیپرا کےنرخوں سے تعلق نہیں ہوگا، بجلی ہم خود بنائیں گے اور ایس ٹی ڈی سی کے تحت خود ترسیل کریں گے، یہی وجہ ہے کہ ایس ٹی ڈی سی سےترسیل کی گئی بجلی کا نرخ نیپرا سے بہت کم ہوگا۔ناصر شاہ نے مزید کہا کہ کراچی کی صنعت اور رہائشیوں کو سیپرا کےتحت سستی بجلی فراہم کی جائےگی، کوشش ہےکہ سیپرا کے تحت بجلی کی پہلی ترسیل کے فور گرڈ کو فراہم کی جائے۔

  • حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے امکانات روشن

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے امکانات روشن

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے امکانات پس پردہ رابطوں کے نتیجے میں روشن ہوگئے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکانِ پارلیمنٹ کی اکثریت، جن میں بعض حال ہی میں سزا یافتہ ارکان بھی شامل ہیں، باضابطہ مذاکرات کے آغاز کے حق میں ہیں۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں فریقین سے رابطے میں ہیں۔ نون لیگ کے رانا ثناء اللہ سمیت حکومت کے بعض رہنما بھی پی ٹی آئی سے بات چیت کیلئے تیار ہیں، باوجود اس کے کہ پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان اس وقت حکومتی نمائندوں سے بات کرنے کیلئے آمادہ نہیں۔وزیراعظم شہباز شریف بھی کئی مرتبہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اب پی ٹی آئی کے زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بامعنی بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ تاہم، خدشہ ہے کہ عمران خان ایک مرتبہ پھر اس عمل کو روک سکتے ہیں۔اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے پی ٹی آئی ارکان یہ سوچ رہے ہیں کہ جیل میں قید اپنے رہنما بانی چیئرمین عمران خان سے گروپ کی صورت میں ملاقاتیں کریں تاکہ انہیں اپنے مؤقف پر نظرثانی پر آمادہ کیا جا سکے۔پی ٹی آئی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ بعض غیر منتخب افراد، جنہیں عمران خان تک براہِ راست یا بالواسطہ رسائی حاصل ہے، انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ یہ غیر منتخب افراد عمران خان کو قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کی پالیسی اپنانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ایک ذریعے نے کہا کہ ایسی صورتحال کو روکنا ہوگا۔ عمران خان کے اس فیصلے پر بھی پارٹی کے اندر اختلافات ہیں کہ وہ ان نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے جو پی ٹی آئی کے ارکان کی سزا یا نااہلی کے باعث خالی ہوئی ہیں۔کچھ ارکان، جن کے خاندان کئی دہائیوں سے انتخابات لڑتے آئے ہیں، کہتے ہیں کہ بائیکاٹ کا مطلب اپنے حلقے سیاسی حریفوں کے حوالے کرنا ہوگا۔ مذاکرات کے حامی گروپ کو امید ہے کہ سینئر رہنما شاہ محمود قریشی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جو 9 مئی سے متعلق تین مقدمات میں بری ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ چند ماہ میں دیگر مقدمات میں بھی انہیں ضمانت مل جائے گی۔انہیں ایک ایسے تجربہ کار سیاستدان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو پارٹی کو بات چیت کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسپیکر ایاز صادق کی تازہ پیشکش، دونوں فریقین کے درمیان کئی دن کے خاموش رابطوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی بڑھتی تعداد کا خیال ہے کہ محاذ آرائی اور احتجاج کی پالیسی نے ان کے سیاسی مسائل حل کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیے ہیں۔

  • شرح سود میں کمی اور بجلی  سستی کی جائیگی: وزیر خزانہ

    شرح سود میں کمی اور بجلی سستی کی جائیگی: وزیر خزانہ

    اسلام آ باد (کنزیومرواچ نیوز)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب شرح سود میں مزید کمی اور بجلی سستی ہونے کا اشارہ دیا ہے۔اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا اقتصادی میدان میں پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف عالمی مالیاتی ادارے بھی کر رہے ہیں، ایک تیسری عالمی ریٹنگ بھی پاکستان کی معاشی کامیابیوں کا اعلان کرے گی۔سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا گزشتہ ڈیڑھ سال میں معیشت مستحکم ہوئی ہے، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی لائی گئی ہے اور اس میں مزید کمی کی گنجائش بھی ہے، شرح سود میں جلد مزید کمی کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ان کہنا تھا مانتا ہوں ایس ایم ای سیکٹر کو جاری قرضوں میں 41 فیصد اضافہ ہوا، قرضوں میں 41 فیصد اضافہ ایک بڑا اضافہ ہے لیکن جیسے جیسے قرضوں کی ادائیگی ہو گی یہ صورتحال بہتر ہوگی، ریاستی ملکی اداروں کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری رہے گا جبکہ حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار زرعی آمدنی کو بھی ٹیکس نظام کا حصہ بنایا گیا ہے، ٹیکس کے نظام کو ہم نے ٹھیک کرنا ہے، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے، جتنی مالیاتی اسپیس میسر تھی اس کے مطابق تنخواہ داروں کو ریلیف دے چکے، تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس نہیں ڈال سکتے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے انڈیکیٹرز واضح بہتری کے اشارے دے رہے ہیں، آئی ایم ایف سے معاہدوں کا ہدف معاشی ترقی ہے، اس سال کے آخر میں پانڈا بانڈ جاری کر رہے ہیں، چین سے بھی ہم معاہدے کر رہے ہیں، دو دن پہلے گیلپ کے سروے میں کاروباری برادری کا اعتماد بڑھ رہا ہے، آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی امید ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا ہماری کوشش ہے کاروباری لوگوں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی ہو، پرائیویٹ سیکٹر نے اس ملک کی معیشت کو لیڈ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کام کاروباری طبقے کو بہتر ماحول فراہم کرنا ہے، وزیراعظم کی قیادت میں ملک کے تمام چیمبرز سے ہم رابطے میں ہیں، ایس آئی ایف سی کھلے دل کے ساتھ سب کو اعتماد میں لینے کے عمل پر کاربند ہے، جہاں جہاں کاروبار میں جائز تشویش ہے اس کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا بجلی کے نرخوں میں کمی ہوئی ہے، بجلی کی قیمت میں مزید بہتری کی امید ہے۔

  • بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا امکان، الرٹ جاری

    بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا امکان، الرٹ جاری

    لاہور:(کنزیومر واچ نیوز)بھارت کی جانب سے آئندہ 2 روز کے دوران دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے۔ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بھاکڑا ڈیم ،61 پونگ ڈیم 76 اور تھین ڈیم 64 فیصد تک بھر چکے ہیں۔دوسری جانب، بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب، ارسا اور محکمہ آبپاشی 24 گھنٹے دریاؤں و ڈیمز کی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر سیلاب نچلے درجے سے معمول پر آ گیا ہے اور دریائے ستلج کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔دریائے چناب میں مرالہ خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور ہنگامی انخلاء کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔عوام الناس سے التماس ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں نہروں ندی نالوں اور تالابوں میں ہر گز مت نہائیں جبکہ سیلابی صورتحال میں دریاؤں کے اطراف پکنک اور غیر ضروری کراسنگ سے گریز کریں۔ایمرجنسی کی صورتحال میں پی ڈی ایم اے پنجاب کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کی بارش کا سلسلہ جاری ہے، لاہور میں صبح سویرے کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا۔لاہور میں ہونے والی بارش سے گرمی اور حبس کی شدت میں کمی اگئی، شہر میں کم سے کم درجہ 28 ڈگری ریکارڈ ہوا جبکہ زیادہ سے زیادہ 31 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارش کا امکان ہے۔

  • پاکستان اور ٹرمپ کی بڑھتی قربت نے بھارت کو پریشان کردیا، فنانشل ٹائمز

    پاکستان اور ٹرمپ کی بڑھتی قربت نے بھارت کو پریشان کردیا، فنانشل ٹائمز

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) عالمی شہرت یافتہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں غیر متوقع بہتری آئی ہے، جس نے بھارت کو سخت پریشان کر دیا ہے۔یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اور پاکستان کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے اس سال موسم گرما میں دو بار امریکا کے اعلیٰ سطحی دورے کیے۔ سب سے حالیہ دورہ فلوریڈا کا تھا، جہاں انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا کی ریٹائرمنٹ تقریب میں شرکت کی۔ اس سے قبل جون میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ دو گھنٹے کا نجی دوپہر کا کھانا کھایا، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں میں سب سے خونریز جھڑپ کے صرف ایک ماہ بعد ہوا تھا۔یہ ملاقات اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر کھلے عام تنقید کی تھی۔ تاہم، اب منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے۔ ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن کے سینیئر تجزیہ کار مائیکل کوگل مین نے فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا: “امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں یہ پیشرفت حیران کن ہے۔ میں اسے ایک غیر متوقع دوبارہ آغاز بلکہ ایک نیا دور کہوں گا۔ پاکستان نے اس غیر روایتی صدر سے تعلقات بڑھانے کا فن خوب سمجھ لیا ہے۔”رپورٹ کے مطابق پاکستان نے یہ کامیابی ایک جامع حکمتِ عملی کے ذریعے حاصل کی ہے، جس میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، صدر ٹرمپ کے بزنس نیٹ ورک میں موجود اہم شخصیات تک رسائی، توانائی، معدنی وسائل اور کرپٹو کرنسی سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے لیے مثبت پیغام رسانی پر بھی زور دیا گیا۔فنانشل ٹائمز نے ایک بڑی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مارچ میں پاکستان نے داعش-خراسان کے ایک اہم ملزم کو گرفتار کر کے امریکی حکام کے حوالے کیا، جو 2021 کے کابل ایئرپورٹ دھماکے کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس گرفتاری کو اپنے “اسٹیٹ آف دی یونین” خطاب میں پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے سراہا۔مزید برآں، اپریل میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ کرپٹو کرنسی منصوبہ ورلڈ لبرٹی فنانشل اور پاکستان کے کرپٹو کونسل کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس منصوبے کے بانیوں میں سے ایک نے پاکستان کے دورے کے دوران ملک کے وسیع معدنی وسائل کی تعریف کی۔رپورٹ کے مطابق بھارت اس تیزی سے بدلتے تعلقات پر سخت برہم ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکا نے بھارت پر درآمدی ٹیرف 50 فیصد کر دیا جبکہ پاکستان کے لیے یہ شرح صرف 19 فیصد رکھی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کے اس بیان کی بھی تردید کی کہ امریکا نے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر میں ثالثی کی تھی۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی افواج نے براہ راست بات چیت کے ذریعے طے کیا۔

    facebook

  • بزرگ خاتون کے کانوں سے بالیاں نوچنے والاملزم پولیس مقابلے ہلاک

    بزرگ خاتون کے کانوں سے بالیاں نوچنے والاملزم پولیس مقابلے ہلاک

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز) غازی آباد میں بزرگ خاتون کے کانوں سے بالیاں نوچنے والا ملزم ساتھی سمیت پولیس مقابلےمیں مارا گیا۔چند روز قبل لاہورکے علاقےغازی آباد میں ایک شخص 90 سالہ بزرگ خاتون پروین اختر کے کانوں سے سونے کی بالیاں نوچ کر فرار ہو گیا تھا جس کی سی سی ٹی وی بھی سامنے آئی تھی۔سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھاگیا تھا کہ کہ سبز ٹوپی پہنےاور ماسک لگائے پینٹ شرٹ میں ملبوس شخص نے سبزی کی دکان پر بیٹھی بزرگ خاتون کے کانوں سے سونے کی بالیاں نوچی تھیں۔پولیس کا کہنا ہےکہ غازی آباد میں بزرگ خاتون کے کانوں سے بالیاں نوچنے والا ملزم ساتھی سمیت مقابلےمیں ہلاک ہوگیا ہے۔پولیس کے مطابق سی سی ڈی اشتہاری کی گرفتاری کیلئے تھانہ مناواں جا رہی تھی، جہاں 2 موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس پارٹی پرفائرنگ کردی، اس دوران جوابی فائرنگ میں دو ملزمان مارے گئے جن میں کانوں سےبالیاں نوچنے والا ملزم بھی شامل ہے۔

  • ناخلف بیٹے نے ریٹائرڈ انسپکٹر باپ اور 2 بہنوں کو ذبح کردیا

    ناخلف بیٹے نے ریٹائرڈ انسپکٹر باپ اور 2 بہنوں کو ذبح کردیا

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) وفاقی دارالحکومت میں جائیداد کے تنازع پر نا خلف بیٹے نے باپ اور 2 بہنوں کو ذبح کر دیا۔پولیس کے مطابق اسلام آباد میں پیر کی صبح 30سالہ محمدعلی نے اپنےو الد انسپکٹر (ر) محمود حسین اور ہمشیرہ شبنم ز ہرہ کو اپنے گھر میں چھری سے ذبح کیا جس کے بعد اس نے سہ پہر کو پنڈی میں کانسٹیبل 35 سالہ انجم ز ہرہ کو بھی موت کے گھاٹ اتارا۔پولیس کاکہناہے کہ ملزم ہمشیرہ کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اس کے شوہر کاانتظار کرتارہاکہ وہ آئے تواس کے خون سے بھی اپنے ہاتھ رنگے۔پولیس کے مطابق ملزم نے 3 ماہ کے بھانجے سالار حمزہ کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا، نوزائیدہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پرپہنچی اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔

  • سزا پانیوالے پی ٹی آئی رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کرنے اور شاہ محمود کو رہا کرنے کا حکم

    سزا پانیوالے پی ٹی آئی رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کرنے اور شاہ محمود کو رہا کرنے کا حکم

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی مقدمات میں سزا پانے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ جیو نیوز کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے تھانہ شادمان کو آگ لگانے سمیت دو مقدمات میں گزشتہ روز سنائے گئے فیصلے کی تفصیل جاری کی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عدالت نے تمام مجرموں کو قید بامشقت کی سزا سنائی اور حکم دیا کہ مجرموں کو تمام سزائیں ایک ساتھ کاٹنی ہوں گی۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری، محمودالرشید، عمر سرفراز اور یاسمین راشد کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔ دوسری جانب عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے 2 کیسز میں رہا کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔واضح رہے کہ اے ٹی سی نے گزشتہ روز فیصلہ سناتے ہوئے دونوں مقدمات شاہ محمود قریشی کو بری جب کہ سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ، سابق صوبائی وزیرڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔عدالت نے عالیہ حمزہ اور ضم جاوید کو پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کے مقدمے 5،5 برس جب کہ عائشہ بھٹہ کو پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے 10 برس قید کی سزا سنا ئی تھی۔

  • پاور پلس بیٹری سیل اپنے اعلی معیار کے باعث  مارکیٹ لیڈر بن گیا،فیاض احمد ابڑو

    پاور پلس بیٹری سیل اپنے اعلی معیار کے باعث مارکیٹ لیڈر بن گیا،فیاض احمد ابڑو

    پروگریسو گروپ آف کمپنیز کے بانی اور چئیرمین صدیق شیخ نے 1954 میں جوڑیا بازار سے کاروبار کا آغاز کیااور جلدکامیاب کاروباری شخصیت بن گئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..
    ہما رے ایم ڈی ادریس شیخ مرحوم نے بھی کمپنی کی ترقی میں نمایاں کردار اد اکیا پاور پلس بیٹری سیل 1999میں متعارف کرایا گیااور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
    ہماری ہر پروڈکٹ اپنے اعلی معیار کے باعث صارفین کی پسندیدہ پروڈکٹ بن گئی،کوالٹی کنڑول کے لئے ہماری کمپنی بین الاقوامی اصولوں پر عمل کرتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
    ہماری فوڈ کمپنی پاک غذا چئیرمین صدیق شیخ کا وژن ہے،بیکری انڈسڑی کو اعلی کوالٹی کا را مٹیریل فراہم کرنے میں پاک غذا پیش پیش ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
    برانڈ ایوارڈ آپ کے برانڈ کومقبول بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، پروگریسو گروپ آف کمپنیز کے کنٹری کمرشل ہیڈ فیاض احمد ابڑو کی گفتگو
    .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..
    رپورٹ:نشید آفاقی،رمشا یاور بیگ
    فوٹو گرافی:حسنین احمد
    فیاض احمد ابڑو سیلز اینڈ مارکیٹنگ ایکسپرٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین استاد بھی ہیں
    فیاض احمد ابڑو پروگریسو گروپ آف کمپنیز کے کنٹری کمرشل ہیڈ ہیں وہ سیلز اینڈ مارکیٹنگ ایکسپرٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک استاد بھی ہیں اور استاد بھی ایسے جن کو پڑھانے کا جنون ہے جتنی خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں اس سے کہیں زیادہ با اخلاق اور ملنسار ہیں بہت محنت اور لگن سے اس مقام تک پہنچے فیاض احمد ابڑو نے ایم بی اے کرنے کے بعد ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں مارکیٹنگ کے شعبے سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا کولگیٹ پامولیو میں مختلف برانڈز پر کام کیا ،اسٹیل مل ،ریڈ ایپل،شیل،ڈابر،ڈیوڈریٹ کیٹیگری کو دیکھا،ایف ایم سی جی اور نان ایف ایم سی جی میں کام کیا انھوں نے بتایا کہ میں نے پروگریسیو گروپ 2021میں بطور سیلز اینڈمارکیٹنگ منیجر جوائن کیا،پچھلے سال کمپنی نے مجھے کنٹری کمرشل ہیڈبنایا پہلے میں ایف ایم سی جی کو دیکھتا تھا اب فوڈ کو بھی دیکھ رہا ہوں ظاہر ہے زندگی کا ایک سفر ہے اس میں آپ کی محنت ،فیملی اور دوستوں کا رول ہے۔آپ کے اساتذہ اور کولیگز کابہت بڑا رول ہے مجھے یہ سب کچھ ورثے میں تو نہیں ملا پہلے میں بھی آفس کے ہال میں بیٹھتا تھا اب یہاں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں ظاہر ہے ترقی میں آپ کا ڈسپلن،محنت اور دیانت کا بہت بڑا رول ہے۔آپ کی لگن بھی بہت اہمیت کی حامل ہے آپ کی صلاحیت اچھے کردار کے بغیر بے معنی ہے آپ کی کامیابی اچھے کردار کی وجہ سے ہی ملے گی آپ بہت محنتی ہوں گے مگر آپ زندگی کے کسی موڑ پر تھک جائیں گے اس موڑ پر کیریکٹر آپ کو جتا دیتا ہے۔ کیریکٹر سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپ اچھی گفتگو کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اندر اپنے کام کی کتنی سمجھ ہے۔ لگن ہے تو کچھ دوا کام کرتی ہے کچھ دعائیں کام کرتی ہیں اور آپ اپنا مقصد اور منزل حاصل کر لیتے ہیں
    ……………………………………………………………..
    برانڈ ایوارڈ ایک اچھا مارکیٹنگ ٹول ہے،فیاض احمد ابڑو
    برانڈ فاسٹسٹ ایوارڈ کے لئے نامزدگی پر احساسات بہت اچھے تھے،برانڈ ایوارڈ ایک اچھا مارکیٹنگ ٹول ہے،آپ کو Recognised کیا گیا ایوارڈ دیا گیا آپ کی کوششوں کو تسلیم کیا گیا اور اس کے نتیجے میں آپ کو یہ اعزاز حاصل ہوا اس طرح آپ کو نیٹ ورکنگ کا ایک اچھا پلیٹ فارم ملتا ہے آپ کے برانڈ کو مائلیج ملتا ہے مارکیٹنگ ایکسر سائز ہے بنیادی طور پر برانڈ ایوارڈ آپ کے برانڈ کو اوپر لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے البتہ ہر کام میں مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے اس پر ڈبیٹ کی جاسکتی ہے۔مختلف پلیٹ فارم سے ایوارڈزدئیے جاتے ہیں یہ ایک Healthy Exercise ہے جب لوگوں کو پتا چلتا ہے کہ وہ ایوارڈ ونر پروڈکٹ لے رہے ہیں تو پروڈکٹ پر ان کا اعتماد بڑھ جاتا ہے
    ……………………………………………………………..
    سوال :پروگریسو گروپ آف کمپنیزکا قیام 1954 میں عمل میں آیا اس کے بانی کون تھے اور پروگریسو گروپ کی ترقی میں کن کن شخصیات نے اہم کردار ادا کیا؟
    جواب:پروگریسو گروپ آف کمپنیزکے بانی اور چئیرمین صدیق شیخ ہیں، انھوں نے 1954 میں جوڑیا بازار سے کاروبار کا آغاز کیا،اس وقت کمپنی صرف ٹریڈنگ کرتی تھی، ٹریڈنگ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے کوئی چیز بیرون ملک سے منگوائی اپنا منافع رکھا اورآگے فروخت کردیا تو اس طرح ٹریڈنگ سے کمپنی کا آغاز ہوا تھا پھر یہ سلسلہ کامیابی سے چلتا رہا،
    سوال :اپنے طویل سفر کے دوران کمپنی کوکن چیلنجز کا سامنا رہا ؟
    جواب:جب بھی آپ کوئی نیا کام شروع کرتے ہیں تو آپ کو چیلنجز کاسامنا ضرور کرنا پڑتا ہے،ابتدائی طور پر ہماری کمپنی نے لکڑی کی ٹریڈنگ کی سب کے گھروں میں دروازے لگے ہوتے ہیں ہماری دلچسپی دروازوں سے ہوتی ہے دروازوں میں لگی دوسری چیزوں میں ہماری دلچسپی نہیں ہوتی دروازوں میں ایم ڈی ایف اور لاثانی کی لکڑی لگی ہوتی ہے،ہماری کمپنی ایم ڈی ایف اور لاثانی کی لکڑی بیرون ملک سے منگواتی تھی اور بڑی بڑی و اونچی عمارتیں تعمیر کرنے والوں کو فراہم کرتی تھی پھر وہ اس لکڑی کو دروازے،کھڑکیاں اور دیگر کاموں میں استعمال کرتے تھے کافی عرصے اس کام سے منسلک رہنے کے بعد ہماری کمپنی کیمیکل کے شعبے سے وابستہ ہوگئی بلک میں کیمیکل امپورٹ کی جاتی تھی جو ہماری کمپنی کپڑے دھونے کے پاوڈر اوردیگر اشیاء تیار کرنے والوں ،ہولسیلرز اور ٹریڈرزکو فروخت کرتی تھی،اس کے بعد ہم نے ٹائر کا کام شروع کردیا پھر ہماری کمپنی فارما سیو ٹیکل کے شعبے سے وابستہ ہوگئی،فارما سیو ٹیکل میں جو بھی وٹامنز،پروٹینز اورمنزلز استعمال ہوتے ہیں وہ ہماری کمپنی چین،تھائی لینڈ اور دیگر ممالک سے امپورٹ کرکے فارما سیو ٹیکل کمپنیوں کو فروخت کرتی تھی،
    یہ کام انڈینٹنگ کا ہوتا ہے انڈینٹر مینو فیکچرر،ڈسڑی بیوٹر اور امپورٹر کے درمیان برج کا کردار ادا کرتا ہے،وہ اپنا کمیشن رکھتا ہے اورمال کو آگے پارٹی کو فراہم کر دیتا ہے اس طرح کاروبار کے پہیے کو رواں دواں رکھنے میں انڈینٹر کا بھی اہم رول ہوتا ہے پھر تھوڑا سا آگے چلیں تو ماچس کے شعبے میں آگئے اس کے بعد ہماری کمپنی فوٹوگرافی کے حوالے سے مشہور کمپنی کوڈک کی پاکستان میں ڈسڑی بیوٹر بن گئی اس طرح ٹریڈنگ والا تصور ختم ہوگیا،کوڈک کے ساتھ یہ لوگ دس، پندرہ تک جڑے رہے پھر جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے آنے والی تبدیلی سے کوڈک کا ڈاون فال شروع ہوا تو ہماری کمپنی نے بھی اپنا بزنس تبدیل کیا اور ہم بیٹری سیل کی فیلڈ میں آگئے،1999میں پروگریسو ٹریڈرز گروپ نے پاور پلس بیٹری سیل متعارف کروایا،اس زمانے میں بیٹری سیل کی مارکیٹ آرگنائزڈ نہیں تھی اب آرگنائزڈ ہوگئی ہے اس وقت سو فیصد ٹریڈنگ پر کام ہوتا تھا،ٹریڈرز اور ہولسیلرز جاپان،چائنا،تھائی لینڈ ،تائیوان اور دیگر ممالک سے کنٹینرز میں بیٹری سیل منگواتے تھے اور مارکیٹ میں سپلائی کردیتے تھے۔ملک میں یہ کام آرگنائزڈ طریقے سے نہیں ہوتا تھا،ہماری کمپنی کو اس شعبے میں ترقی کے مواقع نظر آئے تو انھوں نے بیٹری سیل کے شعبے میں قدم رکھا، کھلونوں،گھڑیوں،ریمورٹس ودیگر میں استعمال ہونے والے بیڑی سیل سے لے کر فارما سیو ٹیکل ایکوپمنٹس میں استعمال ہونے والے بیٹری سیل تک سب میں ہم کام کر رہے ہیں ہمارے بچپن میں ریڈیو میں بڑے بیٹری سیل استعمال ہوتے تھے ان کو نام کی بجائے رنگوں سے شناخت کیا جاتا تھا برانڈنگ کا کوئی تصور نہیں تھا،پروگریسو ٹریڈرز گروپ پہلی کمپنی ہے جس نے ملک میں پاور پلس برانڈ کے بیٹری سیل کو متعارف کرکے اس کو ایک پہچان دی،بیٹری سیل کی کٹیگری تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہے، سب سے پہلے الکلائن ،اس کیٹگری کے بیٹری سیل مہنگے ہوتے ہیں اس کے بعد نان الکلائن کا نمبر آتا ہے ایک سروے کے مطابق ملک میں نو لاکھ ستر ہزار دکانیں ہیں اس میں سے چار لاکھ دکانوں میں پاور پلس برانڈ کا نان الکلائن بیٹری سیل دستیاب ہے۔ڈبل اے،ٹرپل اے،چھوٹا، بڑا،پینسل سیل(ریموٹ والا یا گھڑی والا) ہرقسم کا سیل پاور پلس برانڈ میں دستیاب ہے اور ہمیں صارفین کا اعتماد حاصل ہے اور ہم بیٹری سیل کے شعبے میں مارکیٹ لیڈر ہیں کمپنی کی مجموعی سیل میں 38فیصد حصہ بیڑی سیل کا ہے۔

    سوال:پروگریسو گروپ آف کمپنیزکی ترقی بنیادی طور پر کس کے وژن کی مرہون منت ہے؟
    جواب: کسی بھی کمپنی کی ترقی میں متعددد ماغ کام کرتے ہیں کوئی پروڈکٹ تخلیق کرتا ہے،کوئی بناتاہے،کوئی مینجمنٹ دیکھتا ہے تو کوئی سیلز مارکیٹنگ کا شعبہ سنبھالتا ہے سب مل کر کمپنی کو ترقی کی منزل تک پہنچاتے ہیں،پروگریسو گروپ آف کمپنیز کی بات کریں تو ہمارے چئیرمین
    صدیق شیخ صاحب کے بھائی اور ہمارے ایم ڈی ادریس شیخ مرحوم کی یہ کیٹگری تھی ان کا انتقال 2019 میں ہوا یہ جو اسٹرکچر آپ دیکھ رہے ہیں اس میں ادریس شیخ صاحب کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔فوڈ کے بزنس میں صدیق شیخ صاحب کا بہت بڑا کردار ہے بیڑی سیل کے حوالے سے ادریس شیخ کی اہم خدمات ہیں کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ہی وژن کے تحت پاور پلس بیٹری سیل ایک بڑا برانڈ بن گیا ۔ادریس شیخ مرحوم نے بنیادی اسٹرکچر بنا یا پھر ان کے ساتھ مختلف لوگ جڑتے چلے گئے اور یوں پاور پلس بیٹری سیل کو یہ نمایاں مقام حاصل ہوا کہ پاور پلس بیٹری سیل آج اس شعبے کا مارکیٹ لیڈر بن گیا ہے۔میں کنٹری کمرشل ہیڈہوں میں پورے پاکستان میں سیلز اور مارکیٹنگ کے معاملات کو دیکھتا ہوں میرے ساتھ پوری ٹیم ہے، کوئی ایریا مینجر ہے کوئی زونل تو کوئی ریجنل مینجر ہے، کوئی حیدر آباد میں بیٹھا ہے تو کوئی کسی اور شہر میں،ظاہر ہے ڈیٹا تو ہمیں وہاں سے بھی آتا ہے، ان پٹ وہاں سے بھی آتا ہے، فیڈبیک بھی آتا ہے، ہم ڈیٹا سے اپنی مطلب کی چیزیں نکالتے ہیں اس طرح اپنی اپنی efforts ڈالتے ہیں تو کمپنی آگے بڑھتی ہے۔ بہت سارے لوگوں کی محنت ہے، مگر ظاہر ہے جو مالکان ہیں جن کا پیسہ لگا ہوا ہے، تو اصل آئیڈیا وہیں سے آتا ہے، وژن بھی وہیں سے آتا ہے کہ ہم نے تین چار سال میں یہاں سے کتنا آگے جانا ہے، ہم نے یہ کٹیگری لانچ کر دی ہے، ہم نے اس برانڈ پر کام کرنا ہے، ہم اپنے برانڈ کی پوزیشن اگلے دو تین سالوں میں اس پوزیشن پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
    سوال:ُپاور پلس بیٹری سیل پاکستان میں ہی بنائے جاتے ہیں؟
    جواب :پاکستان میں کسی بھی بیٹری سیل کی مینو فیکچرنگ نہیں ہوتی۔ سب چائنا، جاپان، تائیوان اور دیگر ملکوں سے آتے ہیں۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں پاکستان میں بیٹری سیل کا را مٹیریل دستیاب نہیں ہے مل جائے تو اس کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی پھر پلانٹ کو چلانے کے لئے آپ کو اسکلڈورکر زبھی چاہیے پلانٹ میں مسئلہ آگیا تواس کی خرابیاں دور کرنا بھی ایک مسئلہ ہوگا بیٹری سیل بہت ہی حساس آئیٹم ہے چیز چھوٹی ہے مگر دھماکہ بڑا ہے تیس روپے کا بیٹری سیل نہیں ہے تو صبح آپ کا الارم نہیں بجے گا آپ تو سوئے رہیں گے دفتر نہیں پہنچ سکیں گے اگر گھڑی بند ہے تو کیا کریں گے آپ کا ٹائم رک گیا آپ کی زندگی رک گئی ،اے سی ایک لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کا ہوتا ہے لیکن اس کے ریموٹ میں اسی روپے کے بیٹری سیل نہیں ہوں گے تو آپ اس سہولت سے محروم ہو جائیں گے ایک لاکھ روپے کی مشین اسی روپے کے بیڑی سیل کی محتاج ہے آپ نے کہا گرمی لگ رہی ہے میں نے 16پرکر دیا۔ آپ کہیں کہ سردی لگ رہی ہے تو میں نے بند کر دیا اگر ریموٹ میں بیٹری نا ہو تو میں یہ سارے کام کس طرح انجام دونگا بیٹری سیل ہے تو سستا مگر بڑی اہمیت کا حامل ہے ہم اپنے بیٹری سیل میں کوالٹی کا خیال رکھتے ہیں اس لئے پاور پلس بیٹری سیل پورے ملک میں بے حد مقبول ہیں،کوالٹی کا جانچنے کے لئے ہمارے کچھ بیرو میٹرز ہیں اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں جہاں سے ہم بیٹر ی سیل امپورٹ کر تے ہیں وہ بھی کوالٹی کا خیال کرتے ہیں اور ہمارے پاس ان ہاؤس بھی سہولت موجود ہے اس کا ایک دیسی طریقہ کار بھی ہے ٹارچ میں آپ بیٹری سیل لگا کر چھوڑ دیں سو منٹ،ستانوے۔اٹھانوے منٹ کے بعد لیک ہوجائے گا یہ سیل کی کوالٹی چیک کرنے کا بیرو میٹر ہے اسی طرح جو انٹر نیشنلی کوالٹی چیک کرنے کا طریقہ کار ہے اس سے گزار کر ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ہمارے بیٹری سیل کی لائف اتنی ہے۔ اسی طرح اس کی قیمت اور صارفین کی ڈیمانڈ کے مطابق بھی اس کی کو الٹی کا تعین کیا جاتا ہے کبھی کبھی سیل جلد لیک کر جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے جہاں ہیوی ڈیوٹی سیل کی ضرورت ہوتی ہے آپ وہاں سستا والا بیٹری سیل استعمال کر لیتے ہیں۔ہمارے پاس مختلف قیمت اور کوالٹی کے بیٹری سیل دستیاب ہیں جو ہم مارکیٹ کرتے ہیں اور صارفین کی ڈیمانڈ کا خٰیال رکھتے ہیں
    سوال: کوالٹی چیک کرنے کے لئے کسی سر ٹیفیکیشن کی ضرورت ہوتی ہے ؟
    جواب:کوالٹی کنٹرول کے حوالے جتنے بھی متعلقہ ادارے ہیں ہمارے پاس ان کی سر ٹیفیکیشن موجود ہے اس کے بغیر کام کرنا ممکن نہیں ہے

    سوال : پروگریسیو گروپ آف کمپنیز130سے زائد پروڈکٹ مارکیٹ کر رہی ہے اتنے بڑے کام کو کس طرح مینج کرتے ہیں؟
    جواب:130اسٹاک کیپنگ یونٹس ہیںپہلے بیٹری لاونچ کی 2007میں انسیکٹی سائیڈ لاونچ کئے پہلے یہ امپورٹ ہوتے تھے اب سب یہاں بن رہے ہیںپہلے انڈونیشیا،تا ئیوان،ترکی ودیگر ممالک سے آتے تھے اب سب یہاں بن رہے ہیں اسی طرح سال بہ سال مختلف پروڈکٹس لاونچ کے جاتی رہیں اور ہمیں مارکیٹ کا کنٹرول حاصل ہوگیا 26 سال کے دوران پانچ کیٹگریز اور 130 اسٹاک کیپنگ یونٹس لاونچ کئے اس کو مینج کرنے کے لئے 150 افراد پر مشتمل سیلز کی ٹیم ہے 50 ڈائرکٹ ڈسٹری بیو ٹرز ہیں 200ان ڈائریکٹ ڈسٹری بیو ٹرز ہیں 250 کا ڈسٹری بیو شن نیٹ ورک ہے آفس میں الگ اسٹاف ہے اور ڈسٹری بیو شن نیٹ ورک میں الگ لوگ کام کر رہے ہیں
    سوال : ابتدا میں ملازمین کی تعداد کتنی تھی اور اب کتنی ہے؟
    جواب:پہلے دس افراد کمپنی چلاتے تھے اب ملازمین کی تعداد 1000 سے زائد ہوچکی ہے،دس میں سے پانچ مالکان تھے سب کام مالکان خود کرتے تھے پہلے دو کمروں کا سیٹ اپ تھا اب ماشاء اللہ پوری وسیع عمارت ہے۔
    سوال : آپ کون کون سی پروڈکٹس خود بنا رہے ہیں،کون سی امپورٹ کر رہے ہیں اور کون سی ایکسپورٹ؟
    جواب:ہم صرف بیٹری سیل امپورٹ کر رہے ہیں جو سب ہی کر رہے ہیں،ہماری زیادہ تر پروڈکٹس ملک بھر میں سپلائی ہوتی ہیں،یہ بات میں پاور پلس کے حوالے سے کر رہا ہوں ہماری فوڈ کمپنی کے معاملات کچھ الگ ہیں،ایک کمپنی ہے پروگریسو ٹریڈرز پرائیویٹ لمیٹڈ،دوسری پاور پلس پرائیویٹ لمیٹڈ اور تیسری پاک غذا پرائیویٹ لمیٹڈ ہے ان تینوں کمپنیوں کو ملا کر پروگریسوز گروپ آف کمپنیز بنتا ہے
    سوال :پاک غذا پرائیویٹ لمیٹڈ کے حوالے سے کچھ تفصیلات بتائیں؟
    جواب:پاک غذا کی سب سے بڑی شناخت یہ ہے کہ ہم ایک ایسا انزائم مارکیٹ کو فراہم کر رہے ہیں جس کے بغیر ڈبل روٹی بن ہی نہیں سکتی اس انزائم کا نام ہے SUPER EKA 300 اس کے استعمال کے بغیر ڈبل روٹی میں سوفٹنیس نہیں آسکتی نا اس کی کوالٹی بہتر ہوسکتی ہے۔ڈبل روٹی تیار کرنے والی کمپنیاں یہ انزائم ہم سے لیتی ہیں،پاکستان میں اس وقت ہم یہ انزائم پروڈکٹ ترکی کے اشتراک سے تیار کر رہے ہیں
    اس کے علاوہ ہم کوکو پاوڈر ،بیکنگ پاوڈر، سو یافلورپر کام کرتے ہیں اس کے علاوہ ابھی حال ہی میں ہم نے بیکری انڈسڑی کی سپورٹ کے لئے چاکلیٹ سلیب اور دیگر آئٹم تیار کئے ہیں جن کی بہت زیادہ ڈیمانڈآرہی ہے۔پاک غذا خالصتا ہمارے چئیرمین صدیق شیخ صاحب کا وژن ہے اوریہ کمپنی دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ میں چھا گئی اور ہماری تمام پروڈکٹس مقبول ہو رہی ہیں۔آپ کسی بھی بیکری میں چلے جائیں وہاں موجود کسی نا کسی پروڈکٹ میں ہمارا ر مٹیریل ضرور ہوگا۔

    سوال:ہمارے ملک میں اشیاء کی امپورٹ اور سپلائی آرگنائزڈ وے میں ہورہی ہے یا سب اللے تللے چل رہا ہے؟
    جواب:پاور پلس سمیت چند کمپنیاں ہیں جو آرگنائزڈ طریقے سے کام کر رہی ہیں زیادہ تر چند ہولسیلز مل کر کنٹینر منگوالیتے ہیں اور مارکیٹ میں پھیلادیتے ہیں ان پروڈکٹس کے معیار اور قیمت کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کرتا جبکہ پاور پلس تمام کام آرگنائزڈ طریقے سے کرتی ہے ہم معیار کابھی خیال کرتے ہیں اور قیمتوں کا بھی،اسی لئے پاور پلس کا نام معیار کی ضمانت بن چکا ہے۔

    سوال:آپ کی انڈسڑی کو اوربزنس کمیو نٹی کو کچھ مسائل ہیں تو آپ اپنے اس انٹرویو کے ذریعے سامنے لائیں؟
    جواب:ہماری انڈسڑی کو دو بنیادی مسائل کا سامنا ہے ابھی حال ہی میں حکومت نے ہم پر دو فیصد ایڈوانس ٹیکس لگا دیا ہم سے مراد ان رجسٹرڈ کسٹمرز پر لگایا ہے پاکستان میں اس وقت 85فیصد ان رجسٹرڈ کسٹمرز ہیں ہم انوائس میں دو فیصد شامل کرتے ہیں اس طرح پرائس زیادہ ہو جاتی ہے صارف پرائس دے نہیں رہا اور کہہ رہا ہے کہ ڈسکاونٹ دے دیں اگر میں ڈسکاونٹ دیتاہوں تو مجھے ایک اور پریشانی کا سامنا رہے گا،میں جمع کرکے حکومت کو دے رہا ہوں یہ ہمارا کام نہیں ہے اس صورتحال سے ہمارا بزنس متا ثر ہو رہا ہے،آپ اس سیکٹر کو آرگنائزڈ کریں اس پر کام کریں اس کے لئے ایکشن کی ضرورت ہوگی اس پر کوئی بات نہیں کر رہا ایک اچھا کریانہ اسٹور دس لاکھ تک کا بزنس کر رہا ہے مگر وہ کیا ٹیکس دیتا ہے سیلری پرسن تو ٹیکس دیتا ہے۔ آپ کسی ریسٹورنٹ میں چلے جائیں وہ آپ کے بل میں ٹیکس شامل کردیتے ہیں حکومت توجہ نہیں دے گی تو بزنس مین ملک سے چلا جائے گا فیکٹریاں بند ہو جائیں گی تو بے روزگاری بڑھے گی گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران چھ فیصد ٹیکس بڑھا ہے امپورٹ ایکسپورٹ میں بھی ڈیوٹیز کے حوالے سے صورتحال خراب ہے لو گ کچا پکا کرکے بغیر ڈیوٹی کے کنٹینرنکال رہے ہیں اس ماحول میں قانونی کام کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہورہا ہے آپ کی سیل کم ہوگی نفع کم ہوگا تو آپ ری انویسٹ نہیں کر پائیں گے۔انڈسٹری پھلے پھولے گی نہیں تو بے روزگاری بڑھے گی تو لوگ کہاں جائیں گے موبائل چھینیں گے بس،دیکھیں مارکیٹ میں پیسہ کیسے آئے گا پیسہ کمائیں گے توری انوسٹ ہوگا۔نئی فیکٹریاں لگیں گی تو لوگوں کو روزگار ملے گا،بجلی کے بل دیکھیں کہاں تک پہنچ چکے ہیں ملک میں بجلی چوری ہو رہی ہے حالات ایسے پیدا کر دئیے جاتے ہیں لوگ مجبور اور بے بس ہوجاتے ہیں ہمارے ملک میں بہت سارے چیلنجز ہیں لیڈر شپ کو اس پر توجہ دینا چاہیے۔ توجہ ہوگی تو ملک ترقی کرے گا اور لوگوں کے مسائل حل ہوں گے۔