Blog

  • نسل نو کو فنون لطیفہ کی جانب راغب کیسے کیا جائے….ڈاکٹر شکیل حیدر

    نسل نو کو فنون لطیفہ کی جانب راغب کیسے کیا جائے….ڈاکٹر شکیل حیدر

    فنون لطیفہ انسانی تہذیب و ثقافت کا اہم ترین ورثہ ہیں جو معاشرے کی روحانی اور جمالیاتی ترقی کا ذریعہ ہے۔ تاہم موجودہ دور میں نئی نسل کا رجحان فنون لطیفہ سے دور ہوتا جا رہا ہے جس کی متعدد وجوہات ہیں۔ اس مضمون میں ہم نسل نو کو فنون لطیفہ کی جانب راغب کرنے کے مؤثر طریقوں پر روشنی ڈالیں گے۔
    تعلیمی نظام میں فنون لطیفہ کی اہمیت
    فنون لطیفہ کی طرف رغبت پیدا کرنے کا پہلا زینہ تعلیمی ادارے ہیں۔ ہمارے موجودہ تعلیمی نظام میں فنون لطیفہ کو ثانوی حیثیت حاصل ہے جبکہ اسے مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اسکولوں میں مصوری، موسیقی، نقالی اور دیگر فنون کے لیے باقاعدہ ورکشاپس کا انعقاد، ماہرین فن کی آمد، اور عملی سرگرمیوں کو نصاب کا حصہ بنانا نہایت ضروری ہے۔ طلباء میں فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے ہاؤس آف کَلچر کا قیام ایک مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
    ٹیکنالوجی اور فنون لطیفہ کا ہم آہنگ استعمال
    آج کی نسل ٹیکنالوجی سے گہرا لگاؤ رکھتی ہے۔ فنون لطیفہ کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کر کے نئی نسل کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، مصوری کو ڈیجیٹل آرٹ میں تبدیل کرنا، موسیقی کو جدید سافٹ ویئر کے ذریعے سیکھنا، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے فن پاروں کی نمائش جیسے اقدامات نوجوانوں کو فنون لطیفہ کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے آرٹ گیلریز کا دورہ، آن لائن فن کے کورسز، اور سوشل میڈیا پر فنکارانہ سرگرمیوں کی تشہیر اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
    خاندانی ماحول کا کردار
    فنون لطیفہ کی طرف رغبت پیدا کرنے میں خاندانی ماحول بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر گھر کا ماحول فنون لطیفہ سے متعلق سرگرمیوں کا حامل ہو گا تو بچوں میں فطری طور پر اس طرف میلان پیدا ہو گا۔ والدین اپنے بچوں کو مصوری کے آلات، ساز، اور ادبی کتابیں فراہم کر کے ان میں فنون لطیفہ کے لیے دلچسپی پیدا کر سکتے ہیں۔ خاندانی سطح پر فنون لطیفہ کی محفلوں کا انعقاد، فنکاروں سے ملاقاتیں، اور آرٹ گیلریوں کے دورے بچوں کے ذوق کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
    معاشرتی رویوں میں تبدیلی
    معاشرے میں فنون لطیفہ کو غیر عملی اور غیر مفید سمجھنے کا رجحان عام ہے۔ اس رویے میں تبدیلی لانا نہایت ضروری ہے۔ معاشرے کو یہ باور کرانا ہو گا کہ فنون لطیفہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی ذہنی اور روحانی تربیت کا اہم ترین وسیلہ ہیں۔ فنون لطیفہ کے ذریعے انسان میں حساسیت، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ پیدا ہوتی ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
    فنکاروں کی سرپرستی اور معاشی تحفظ
    نئی نسل کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فنکاروں کی مناسب سرپرستی کی جائے اور انہیں معاشی تحفظ فراہم کیا جائے۔ جب نوجوان دیکھیں گے کہ فنون لطیفہ سے وابستہ افراد معاشی طور پر مستحکم ہیں تو وہ اس طرف راغب ہوں گے۔ حکومتی اور نجی سطح پر فنکاروں کے لیے اسکالرشپس، گرانٹس، اور مالی امداد کے پروگراموں کا انعقاد اس سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
    میڈیا کا کردار
    میڈیا عوامی رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا کے ذریعے فنون لطیفہ کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنا نئی نسل میں اس کے لیے دلچسپی پیدا کر سکتا ہے۔ فنون لطیفہ سے متعلق ڈاکیومنٹریز، پروگرامز، اور انٹرویوز کا اجرا، فنکاروں کی کامیابیوں کی تشہیر، اور فنون لطیفہ کے مقابلوں کا انعقاد اس سلسلے میں میڈیا کے اہم فرائض میں شامل ہیں۔
    ثقافتی مراکز کا قیام
    ہر شہر میں ثقافتی مراکز کا قیام نئی نسل کو فنون لطیفہ سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہو سکتا ہے۔ یہ مراکز مختلف فنون کی تربیت، نمائشوں، لیکچرز اور ثقافتی تقریبات کا مرکز بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک لائبریریوں میں فنون لطیفہ سے متعلق کتابوں کے شعبے قائم کیے جا سکتے ہیں۔
    نوجوانوں کی نفسیات کو سمجھنا
    نسل نو کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی نفسیات کو سمجھا جائے۔ آج کے نوجوان روایتی طریقوں سے زیادہ جدید اور تخلیقی طریقوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہیں فنون لطیفہ سے جوڑنے کے لیے ایسے طریقے اپنانے ہوں گے جو ان کی دلچسپیوں کے مطابق ہوں۔ مثال کے طور پر، سٹریٹ آرٹ، ڈیجیٹل میوزک، اور جدید رقص جیسی شکلیں نوجوانوں کو زیادہ متوجہ کر سکتی ہیں۔
    بین الشعباتی ربط
    فنون لطیفہ کو دیگر شعبوں کے ساتھ مربوط کر کے بھی نئی نسل کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، سائنس اور آرٹ کے ملاپ سے پیدا ہونے والی نئی شکلیں، کاروبار اور فنون لطیفہ کے باہمی تعلق، اور ٹیکنالوجی اور آرٹ کے امتزاج سے بننے والی نئی جہتیں نوجوانوں کے لیے دلچسپی کا باعث بن سکتی ہیں۔
    عملی اقدامات
    نسل نو کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنے کے لیے درج ذیل عملی اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:
    1. اسکولوں اور کالجوں میں فنون لطیفہ کے کلابز قائم کرنا
    2. فنون لطیفہ کے مقابلوں کا انعقاد اور انعامات کا اہتمام
    3. مقامی فنکاروں کے ساتھ نوجوانوں کے تعامل کے مواقع پیدا کرنا
    4. فنون لطیفہ کی ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد
    5. فنون لطیفہ سے متعلق آن لائن پلیٹ فارمز کا قیام
    6. فنون لطیفہ کو روزگار سے جوڑنے کے مواقع پیدا کرنا

    نسل نو کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نوجوانوں کی نفسیات، ان کے رجحانات اور جدید تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب حکمت عملی تیار کریں۔ فنون لطیفہ انسان کی بنیادی ضرورت ہیں جو اسے مکمل انسان بناتی ہیں۔ انہیں نظر انداز کر کے ہم نہ صرف اپنی تہذیبی روایات سے دور ہو رہے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو ان کی روحانی غذا سے محروم کر رہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر کوشش کریں کہ نئی نسل کو فنون لطیفہ کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ہماری تہذیب و ثقافت کی شاندار روایات آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکیں۔

  • ہیلووین: امریکا میں ایک قدیم تہوار کا جدید روپ…..حمیرا گل تشنہ

    ہیلووین: امریکا میں ایک قدیم تہوار کا جدید روپ…..حمیرا گل تشنہ

    ہیلووین امریکا کا وہ منفرد تہوار ہے جس میں پراسراریت، تخیل اور تفریح کا انوکھا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہر سال 31 اکتوبر کی شام کو امریکہ بھر کے شہر و دیہات چمکتے ہوئے کدو کے قندیلوں، بھوتوں کے بھیس میں ملبوس بچوں اور عجیب و غریب سجاوٹ سے جگمگا اٹھتے ہیں ( جس کے نشانات نومبر کے آخر تک دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں )۔ یہ تہوار اپنی موجودہ شکل میں تو مکمل طور پر امریکی ہے، لیکن اس کی جڑیں یورپ کی قدیم تاریخ میں پیوست ہیں۔ ہیلووین کی کہانی درحقیقت وقت کے ساتھ ساتھ ایک تہوار کے سفر کی دلچسپ داستان ہے جو قدیم مذہبی عقائد سے نکل کر آج کی ثقافتی دنیا کا حصہ بن گیا ہے۔
    ہیلووین کی تاریخ دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اس کی ابتدا موجودہ آئرلینڈ، برطانیہ اور شمالی فرانس میں آباد سیلٹک قوم کے قدیم تہوار “ساوین” (Samhain) سے ہوئی۔ سیلٹک لوگ یکم نومبر کو نئے سال کا آغاز مانتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ پرانے سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز کی درمیانی شب، یعنی 31 اکتوبر کی شام، دنیا اور عالم ارواح کے درمیان کی حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اس رات مرے ہوئے لوگوں کی روحیں زمین پر واپس آ سکتی ہیں۔ سیلٹک لوگ اس رات آگ جلاتے، جانوروں کی قربانیاں دیتے اور ان جانوروں کی کھالیں سر پر پہن کر ان روحوں کو خوش کرنے یا ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں
    جب عیسائی مذہب یورپ میں پھیلا، تو کلیسیا نے مقامی تہذیبوں کے تہواروں کو عیسائی رنگ دے کر انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ساتویں صدی عیسوی میں پوپ بونیفاس چہارم نے یکم نومبر کو “تمام مقدسین کا دن” (All Saints’ Day) قرار دیا، جسے “آل ہالوز ایو” (All Hallows’ Eve) بھی کہا جاتا تھا۔ یہی لفظ وقت گزرنے کے ساتھ مختصر ہو کر “ہیلووین” (Halloween) بن گیا۔ اس طرح ایک قدیم سیلٹک تہوار عیسائی جامہ پہن کر یورپ میں منایا جانے لگا۔
    ہیلووین کو امریکا لانے کا سہرا یورپ سے آنے والے تارکین وطن کو جاتا ہے۔ انیسویں صدی میں آئرلینڈ میں آنے والے قحط (آئرش پوٹیٹو فیمین) کے دوران لاکھوں آئرش لوگ امریکا ہجرت کر گئے۔ اپنے ساتھ وہ اپنی ثقافت، روایات اور تہوار بھی لے کر آئے، جن میں ہیلووین بھی شامل تھا۔ ابتدائی دور میں امریکا میں ہیلووین کی تقریبات محدود تھیں اور زیادہ تر آئرش آبادی تک ہی مرتکز تھیں۔
    بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ہیلووین نے امریکا میں ایک قومی تہوار کی شکل اختیار کرنا شروع کر دی۔ امریکی معاشرے نے ہیلووین کو اپنے طور پر ڈھال لیا اور اس میں کئی نئی روایات کا اضافہ کیا۔ اس کی مقبولیت میں اضافے کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
    پہلا شہری کاری: جیسے جیسے لوگ دیہات سے شہروں کی طرف منتقل ہوئے، ہیلووین نے برادری کے جذبے کو فروغ دینے میں مدد کی۔ پڑوسی ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے، بچے ایک دوسرے کے ساتھ “ٹِرک یا ٹِریٹ” کے لیے نکلتے، جس سے سماجی تعلقات استوار ہوتے۔

    دوسرا کاروباری مفاد: بیسویں صدی کے وسط تک کاروباری اداروں نے ہیلووین کی تجارتی صلاحیت کو پہچان لیا۔ کینڈی بنانے والی کمپنیوں، کاسٹیوم کے کاروباریوں اور سجاوٹ کے سامان بنانے والوں نے ہیلووین کو ایک بڑے کاروباری موقع کے طور پر دیکھا اور اسے فروغ دینا شروع کیا۔
    تیسرا میڈیا کا کردار: فلموں، ٹیلی ویڑن اور بعد میں انٹرنیٹ نے ہیلووین کو پورے امریکا میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہیلووین کے موضوع پر بننے والی فلموں، ٹی وی شوز اور کارٹونز نے اس تہوار کو امریکی ثقافت کا ایک لازمی حصہ بنا دیا۔
    آج امریکا میں ہیلووین منانے کے مقاصد کافی وسیع اور متنوع ہیں۔ یہ تہوار اب صرف بھوت پریت تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے کئی سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی پہلو ہیں۔
    تفریح اور تخلیقی اظہار: ہیلووین امریکیوں کے لیے تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بہترین موقع ہے۔ لوگ نہ صرف اپنے لیے منفرد اور تخلیقی کاسٹیوم تیار کرتے ہیں، بلکہ اپنے گھروں کو بھی دیدہ زیب طریقے سے سجاتے ہیں۔ یہ تہوار بڑوں اور بچوں دونوں کے لیے اپنی تخیلاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
    برادری اور سماجی رابطے: “ٹِرک یا ٹِریٹ” کی رسم درحقیقت پڑوسیوں کے درمیان میل جول اور سماجی رابطوں کو مضبوط بناتی ہے۔ بچے جب اپنے علاقے کے گھروں پر جاتے ہیں، تو نہ صرف انہیں مٹھائیاں ملتی ہیں، بلکہ وہ اپنی برادری سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ بڑے بھی ہیلووین پارٹیوں کے ذریعے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور سماجی تعلقات استوار کرتے ہیں۔
    خوف پر قابو پانے کا ذریعہ: نفسیاتی نقطہ نظر سے ہیلووین لوگوں کو ایک محفوظ اور کنٹرولڈ ماحول میں خوف کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ڈراؤنی فلمیں دیکھنا، ہنستے کھیلتے ہوئے خوفناک کاسٹیوم پہننا، اور خوفناک کہانیاں سنانا درحقیقت ایک طرح سے خوف پر قابو پانے کی مشق ہے۔ یہ لوگوں کو ان چیزوں کا سامنا کرنا سکھاتا ہے جو عام زندگی میں انہیں ڈراتی ہیں۔
    تجارتی اہمیت: ہیلووین امریکا میں ایک بڑا کاروباری تہوار بن چکا ہے۔ ہر سال امریکی کینڈی، کاسٹیوم، سجاوٹ کے سامان، ہیلووین کارڈز اور دیگر مصنوعات پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ یہ تہوار ریٹیل اور تفریحی صنعتوں کے لیے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔
    ثقافتی یکجہتی: ہیلووین ایک ایسا تہوار ہے جسے امریکا کے تمام نسلی اور مذہبی گروہ مناتے ہیں۔ اگرچہ کچھ مذہبی گروہوں کی جانب سے اس پر اعتراضات ہوتے ہیں، لیکن زیادہ تر امریکی اسے ایک سیکولر ثقافتی تقریب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ تہوار امریکی معاشرے کے مختلف گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا کام کرتا ہے۔
    وقت کے ساتھ ہیلووین میں کئی نئی روایات کا اضافہ ہوا ہے۔ اب صرف “ٹِرک یا ٹِریٹ” تک محدود نہیں رہا۔ اسکول اور کمیونٹی سینٹرز ہیلووین پارٹیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں ہیلووین پریڈ منعقد ہوتے ہیں۔ ہاؤسٹڈ اٹریکشنز (خوفناک تفریح گاہیں) لوگوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہیلووین کے کاسٹیوم اور سجاوٹ کی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں، جس سے اس تہوار کی مقبولیت میں اور اضافہ ہوتا ہے۔
    ہیلووین کو لے کر امریکی معاشرے میں کچھ تنازعات بھی موجود ہیں۔ کچھ مذہبی گروہ اسے شیطانی قرار دیتے ہیں اور اس میں حصہ لینے سے گریز کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی زیادہ تجارتی ہونے پر تنقید کرتے ہیں۔ حفاظتی خدشات بھی ایک اہم مسئلہ ہیں، جس کی وجہ سے اب بہت سے بچے شاپنگ مالز یا منظم اجتماعات میں “ٹِرک یا ٹِریٹ” کرتے ہیں۔
    ہیلووین درحقیقت ثقافتی ارتقا کی ایک زندہ مثال ہے۔ یہ تہوار اپنی پرانی جڑوں سے جڑا ہوا ہے، لیکن اس نے وقت کے ساتھ خود کو ڈھال لیا ہے۔ آج ہیلووین امریکی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے جو تفریح، تخلیق، سماجی رابطے اور کاروبار کا ایک انوکھا مرکب پیش کرتا ہے۔ یہ تہوار امریکی معاشرے کی انفرادیت، لچک اور ثقافتی تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔ ہیلووین کی کہانی درحقیقت امریکا کی ہی کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں پرانی روایات نے نئے ماحول میں اپنی جگہ بنائی اور ایک نئی شناخت تشکیل دی۔

  • چین کی پہلی مسجد: Huaisheng Mosque کی تاریخ ….ارم زہرا

    چین کی پہلی مسجد: Huaisheng Mosque کی تاریخ ….ارم زہرا

    چین کے شہر گوانگڑو کی فضائیں ہمیشہ سے مجھے کسی پرانی داستان کی طرح مہمیز دیتی رہی ہیں۔ اس شہر میں نمی بھری ہوا کا ایک مستقل لمس ہے، جیسے سمندر نے شہر کے گال پر نم چوم رکھے ہوں۔ جب میں نے سب وے اسٹیشن سے نکل کر باہر قدم رکھا تو دھوپ دھیمی سی تھی، مگر ہوا میں ایک عجیب سی سرگوشی تھی۔ یوں جیسے صدیوں کے واقعات مجھے اپنی طرف بلا رہے ہوں۔ میں جانتی تھی کہ آج میں اْس مقام کی طرف جا رہی ہوں جس کے بارے میں پڑھتے ہوئے ہمیشہ دل دھڑکا تھا۔ Huaisheng Mosque وہی مسجد جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسلام کی پہلی خوشبو چین میں یہاں بسی تھی۔
    راستہ پھولوں سے بھری گلیوں میں سے گزرتا تھا۔ لوگوں کے چہروں پر وہ خوش دلی تھی جو مصروف شہروں میں اب کم دکھائی دیتی ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ یہاں سے 1300 سال پہلے جب عرب تاجر اور داعیانِ اسلام آئے ہوں گے تو کیا شہر بھی یوں ہی رنگین و مصروف ہوگا، یا یہ گلیاں تب سمندر کے کنارے کسی خاموش معبد کا سا سکوت رکھتی ہوں گی؟
    مسجد کا سفید مینار دور ہی سے نظر آنے لگا۔ بلند، باریک، روشن، جیسے آسمان کے ساتھ کسی خاموش معاہدے میں بندھا ہوا ہو۔ میں نے قدم تیز کر لیے۔ جوں جوں میں نزدیک پہنچتی گئی، ماحول کا شور پیچھے رہتا گیا۔ مسجد کے دروازے کے سامنے کھڑی ہو کر یوں لگا جیسے میں کسی صدیوں پرانی کتاب کے پہلے صفحے پر پہنچ گئی ہوں۔
    Huaisheng Mosque، جسے Guangta Mosque یا Lighthouse Mosque بھی کہا جاتا ہے، چینی تاریخ کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ روایات کے مطابق اس کی بنیاد 7ویں صدی (Tang Dynasty) میں رکھی گئی۔وہ زمانہ جب دنیا کے نقشے بدل رہے تھے اور تجارت کے راستے قوموں کو قریب لا رہے تھے۔
    کہا جاتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص? جو رسولِ اکرم ? کے قریبی صحابی تھے۔ چین میں اسلام کا پیغام لانے والوں میں شامل تھے۔ اگرچہ تاریخ دان اس بارے میں مختلف آراء￿ رکھتے ہیں، مگر گوانگڑو کے مسلمانوں کی روایتی تاریخ انہیں پہلی تبلیغ کا مرکز مانتی ہے۔ اسی نسبت سے اس مسجد کو ‘‘چراغِ یاد’’ کے مفہوم میں Huaisheng کہا جاتا ہے—یعنی ’He Who Remembers the Sage‘۔
    مسجد کو صدیوں میں کئی بار تعمیر کیا گیا۔ کچھ حصے جنگوں میں متاثر ہوئے، کچھ وقت کے ہاتھوں ماند پڑے، مگر مینار—جسے Lighthouse Tower کہا جاتا ہے ہمیشہ اپنی جگہ قائم رہا۔ قدیم بحری جہازوں کے ملاح اسے سمندری راستوں کے تعین کے لیے بھی دیکھتے تھے۔ آج بھی یہ 36 میٹر بلند مینار شہر کے دل میں اپنی خاموش شہادت پیش کرتا ہے کہ روشنی کبھی بجھتی نہیں۔
    آج اس مسجد کی دیکھ بھال Guangzhou Islamic Association کے زیر انتظام ہے۔ یہاں کا عملہ مقامی چینی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو اس ورثے کو یوں سنبھالتے ہیں جیسے اپنے بزرگوں کے قیمتی خطوط۔
    دروازہ پار کرتے ہی مجھے ایک پرسکون صحن ملا۔ ٹھنڈی ہوا نے میرا اسکارف چھوا، جیسے مسجد نے مجھے خوش آمدید کہا ہو۔ درختوں کی پتیوں پر بارش کی نمی ابھی تک ٹھہری ہوئی تھی، اور دھوپ کے نقرئی ذرات ان پر رقص کر رہے تھے۔
    میں نے محسوس کیا کہ یہاں کی خاموشی شور کو نگل لیتی ہے۔ مسجد کے اندر کا ماحول کسی صوفی درویش کی سی گہرائی لیے ہوئے تھا۔ مجھے لگا جیسے ہر دیوار میں وقت کی سانسیں محفوظ ہوں۔
    میں آہستہ قدموں سے مینار کے نیچے پہنچی۔ اس کے سنگی بدن پر ہاتھ رکھا تو وہ ٹھنڈا تھا، مگر اس کے اندر وقت کا اک گرم دھڑکن تھی۔ میں نے سوچا ‘‘کتنی نسلوں نے اس مینار کو دیکھا ہوگا؟ کتنے دل یہاں آکر بدل گئے ہوں گے؟’’
    ایک چینی مسلمان خاتون، سفید اسکارف میں، میرے قریب آئی۔ وہ نرمی سے بولی:
    ‘‘You are from Pakistan’
    میں نے سر ہلایا۔ وہ مسکرائی:
    ‘‘Many people from your country visit here. Mosque is… like bridge of hearts.’’
    ?bridge of hearts…
    مجھے لگا جیسے اس نے صدیوں پر محیط کہانی ایک جملے میں کہہ دی۔
    مسجد کا ہال سادگی سے آراستہ تھا۔ لکڑی کے ستون، سبز قالین، اور کھڑکیوں سے چھن کر آتی روشنی۔ یہاں کسی مغرب کے بڑے تعمیراتی عجائب جیسی تجمل پسندی نہیں تھی، مگر روحانیت کی ایک ایسی خوشبو تھی جو دل کو بہت آہستگی سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
    میں نے ایک کونے میں بیٹھ کر اپنے جوتے برابر رکھے اور آنکھیں بند کر لیں۔ جب اذان کی آواز بلند ہوئی تو ایسا لگا جیسے صدیوں کا سفر میرے گرد ایک دائرے کی صورت مکمل ہو رہا ہو۔ چینی لہجے میں دی گئی اذان نے دل کو عجیب طرح چھوا۔ اس میں اسلام کی عالمگیر وسعت بھی تھی اور ایک ذاتی سا پیار بھی۔
    نماز کے بعد جب میں صحن میں ٹہل رہی تھی، تو میں نے دیکھا۔ کچھ عرب خاندان تصویریں بنا رہے تھے۔ چند ملائیشین سیاح دعا مانگ رہے تھے۔ دو افریقی طالب علم مسجد کے نوٹس بورڈ پڑھ رہے تھیاور کچھ یورپی ٹورسٹ صرف اس کی قدامت دیکھنے آئے تھے
    میں نے ایک معمر چینی امام کو کہتے سنا
    ‘‘This mosque is not only for Muslims… it is a world heritage of peace.’’
    واقعی، یہ مسجد صرف عبادت کی جگہ نہیں، ایک زندہ تاریخ ہیاسلام اور چین کی مشترکہ داستان۔
    میں نے مسجد سے نکلتے ہوئے پلٹ کر دوبارہ مینار کو دیکھا۔ وہ شام کی نرم روشنی میں اور بھی شان دار لگ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہاں آنے والا ہر مسافر اپنے اندر کوئی نہ کوئی بے نام سا سوال لے کر آتا ہے، اور مسجد اسے ایک بے آواز، مگر گہرا جواب دیتی ہے۔
    ‘‘گوانگڑو کی اس مسجد میں نہ عربیت کی رنگینیاں ہیں نہ ایشیائی شان و شوکت؛ یہاں بس ایک ایسا سکوت ہے جو دل کے دروازے کھول دیتا ہے۔ Huaisheng مسجد ایک عمارت نہیں یہ چراغ ہے۔ وہ چراغ جس کی لو نے صدیوں سے دلوں کو منور رکھا ہوا ہے۔ اور میں… میں بھی اس روشنی کا ایک ذرہ اپنے اندر لے کر جا رہی ہوں۔’’
    گوانگڑو کی مسجد سے نکل کر جب میں نے شہر کی پرانی گلیوں کا رخ کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔جیسے اس کا دوسرا باب خود میرے قدموں کے ساتھ چلنے لگا ہو۔ گلیوں کے موڑ پر ہوا میں سمندر کی نمی کم اور تاریخ کی خوشبو زیادہ محسوس ہونے لگی۔ شاید اسی خوشبو نے مجھے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اسلام کا سفر چین تک پہنچا ہی اتنا سیدھا نہیں تھا یہ تین بڑی راہوں سے گزرا تھا۔ اور ہر راستے کے ساتھ ایک نیا عہد، ایک نیا رنگ جڑا ہوا تھا۔
    چین کی طرف آنے والی پہلی راہ Silk Road تھی، وہی عظیم راستہ جو شہروں کو نہیں دلوں کو جوڑتا تھا۔ انہی ریشمی راستوں پر کبھی عرب قافلے چلتے تھے۔ ان کے اونٹوں کی گرد میں تجارت کے ساتھ ساتھ محبت، امن اور دین کی روشنی بھی سفر کرتی تھی۔ میں نے سوچا، شاید انہی قافلوں کی آہٹ آج بھی شیان کے پتھروں میں محفوظ ہے۔
    دوسرا راستہ Maritime Silk Route تھا، سمندر کے نیلگوں تن پر چلنے والی وہ لہریں جو عرب تاجروں کو گوانگڑو، چوانڑو اور ہانگڑو تک لاتی تھیں۔ انہی تاجروں نے یہاں کی بندرگاہوں کو عبادت کے نور سے روشن کیا، اور انہی کے قدموں کے نشانات پر بعد میں کئی مساجد نے جنم لیا۔
    تیسرا راستہ سفارتی روابط کے ذریعے کھلا، جب ابتدائی مسلم سفیر چین کے دربار میں پہنچے۔ Tang اور Song خاندانوں کے دور میں مسلمانوں کو رہائش، تجارت اور عبادت کی آزادی ملی۔ انہی ادوار میں Hui مسلمان وجود میں آئے۔ وہ چینی نسل اور عرب ورثے کے خوبصورت ملاپ کا نام ہیں۔
    میں نے اپنے ذہن میں ایک تصویر دیکھی Hui لڑکیاں سفید دوپٹوں میں، حلال بازاروں کی رونقیں، عربی آیات جو چینی خطاطی میں ڈھل کر کسی بادل کی لکیر کی طرح نرم ہو جاتی ہیں۔ رمضان کی راتوں میں ان کے گھروں سے اٹھتی ہلکی سی روشنی، اور عید کے دن ان کے صحنوں میں بچوں کی ہنسی… یہ سب کچھ اسلام کی وہ شکل ہے جو صدیوں سے چینی دلوں میں رچی بسی ہے۔
    اور یہی ورثہ آج چین کی مساجد میں سانس لیتا ہے۔
    بیجنگ کی Niujie Mosque جسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے چین اور اسلام نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کر عبادت کی کوئی نئی زبان بنا لی ہو۔ اس کی لکڑی پر بنے نقوش صدیوں کے ذکر کی گواہی دیتے ہیں۔
    شیان کی Great Mosque جہاں دروازے پر ‘‘اللّٰہ النور’’ لکھا ہے مگر تحریر ایسی جیسے کسی چینی مصور نے اپنا دل روشنائی میں ڈبو کر لکھا ہو۔ وہاں نماز ہال سے زیادہ باغات دل کو چھوتے ہیں، جیسے عبادت ہوا میں گھلی ہوئی ہو۔
    چوانڑو کی Qingjing مسجد جسے لوگ کبھی Arabian Temple کہا کرتے تھے۔ اس کے یمنی طرز کے محراب مجھے سمندر کی نمکین ہوا میں ڈولتی عرب کشتیوں کی یاد دلاتے ہیں۔

    کاشغر کی Idkah Mosque جس کے بلند دروازے پر زمانہ رکا سا محسوس ہوتا ہے۔ اگر گوانگڑو کا مینار سمندر کے سفر کی یاد ہے تو کاشغر کی یہ مسجد ریشم کے قافلوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔
    ہانگڑو کی Phoenix Mosque جو زلزلوں کے بعد بھی بار بار بنی، بالکل ایسے جیسے ایمان کی جڑیں زمین میں بہت گہری ہوں۔
    اور اس سارے سفر میں میں نے ایک حقیقت محسوس کی چین کا مسلمان صرف عبادت گزار نہیں، ایک زندہ تاریخ ہے۔ Salar، Hui، Uyghur، Dongxiang یہ سب اپنے اپنے رنگوں کے ساتھ اسلام کی وہ قندیل ہیں جو صدیوں سے یہاں جل رہی ہے۔
    اور یوں مجھے لگا کہ میرا گوانگڑو کا سفر، دراصل، چین میں اسلام کی پوری داستان کا دروازہ تھا۔ ایک ایسا دروازہ جو آج کھلا تو مجھے پوری دنیا کی روشنی دکھا گیا۔
    یہاں میرے اندر ایک عجیب سی بے چینی نے سر اٹھایا۔ ایسی بے چینی جو مسافر کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ میں گوانگڑو کی پرانی گلیوں میں قدم رکھے آگے بڑھ رہی تھی، مگر محسوس یوں ہوتا تھا جیسے میں صرف شہر میں نہیں، تاریخ کے اندر چل رہی ہوں۔ ہر چہرہ، ہر دروازہ، ہر پتھر مجھے کسی نئے باب کی طرف کھینچتا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ چین کی یہ داستان صرف مساجد کی نہیں، ان لوگوں کی ہے جنہوں نے صدیوں تک اس روشنی کو اپنے دلوں میں محفوظ رکھا۔
    میری ملاقات ایک Hui خاندان سے ہوئی۔ ان کی چھوٹی سی دکان کے باہر گرما گرم نان پک رہے تھے۔ وہی خستہ نان جن کی خوشبو کہیں نہ کہیں بخارا، سمرقند اور عرب ریگزاروں تک جا پہنچی تھی۔ دکان کی مالکن نے جب مسکراتے ہوئے مجھ سے پوچھا: ‘‘Muslim?’’ تو اس کے لہجے میں وہ بے تکلف محبت تھی جو ساری دنیا کے مسلمانوں میں مشترک ہے۔ میں نے سر ہلایا۔ اس نے فوراً چائے سامنے رکھ دی۔ مجھے لگا جیسے میں کسی پرائے دیس میں نہیں، اپنی نانی کے گھر آگئی ہوں۔
    ?Hui لوگوں کی یہ سادگی مجھے صدیوں پیچھے لے گئی۔ وہ اپنی زبان میں چینی بولتے ہیں مگر گھر کی دیواروں پر عربی خطاطی سجی ہوتی ہے۔ دسترخوان چینی خوراک سے بھرا ہوتا ہے مگر ذائقہ اسلامی روایت کا ہوتا ہے۔ وہ رمضان میں مساجد کے باہر لالٹینیں جلاتے ہیں اور عید کے دن سفید پوش میں ایسے سجتے ہیں جیسے کوئی پھول نرم روشنی اوڑھ لے۔
    میں گلیوں میں آگے بڑھی تو مجھے Uyghur نوجوانوں کا ایک گروہ ملا۔ ان کی موسیقی، جس میں رباب اور دف کی دھڑکن شامل تھی، ہوا میں تیرتی ہوئی دل کے اندر کسی نرم تار کو چھیڑ گئی۔ ان کے چہروں پر صدیوں کی مسافت، ریشم کی خوشبو، اور ترکستانی موسموں کی دھوپ سمٹی ہوئی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ کاشغر کی Idkah مسجد انہی کی دعاؤں سے آباد ہے۔
    ?Dongxiang لڑکے مسجد کے باہر وضو کر رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کے انداز میں ایک خاص سا وقار ہے۔ زندگی کے سخت موسموں کے باوجود ایمان کا نرم پھول ان کے چہروں پر کھلتا ہے۔ Salar قوم کے چند بزرگ مسجد کے دروازے پر بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے۔ میں نے ان کی آنکھوں میں وہی خاموشی دیکھی جو پہاڑوں پر جمع برف میں ہوتی ہے۔ سفید، گہری، اور کبھی نہ پگھلنے والی۔

    چین میں عورتوں کی مساجد کا وجود میرے لیے ایک حیرت انگیز انکشاف تھا۔ جہاں دنیا کے کئی حصوں میں عورتوں کو عبادت کی جگہ صرف ایک گوشہ ملتا ہے، وہاں چین کی Hui خواتین نے صدیوں پہلے اپنی الگ عبادت گاہیں بنا لی تھیں۔ ‘‘Nüsi’’ یعنی Women’s Mosque۔ یہاں خواتین قرآن پڑھاتی ہیں، اجتماعات کرتی ہیں، اور کبھی کبھی امامت بھی۔ میں نے سوچا شاید یہی وہ روشنی ہے جو صدیوں کے سفر کے باوجود کم نہیں ہوئی۔
    اس سارے منظر میں ایک بات واضح تھی اسلام یہاں کسی تلوار کے ساتھ نہیں آیا تھا، بلکہ سکون، تجارت، محبت، اور مسافروں کے دلوں سے بہتا ہوا پھیلا تھا۔ اور چینی مسلمانوں نے اسے اپنے موسموں، تہذیبوں اور دلوں میں یوں جذب کیا کہ اب یہ روشنی ان کی اپنی روشنی بن چکی ہے۔
    میرا سفر گوانگڑو سے شروع ہوا تھا، مگر اب لگتا تھا کہ یہ راستہ مجھے پورے چین کے روحانی نقشے پر گھما رہا ہیاور ہر موڑ پر ایک نئی اذان، ایک نیا چہرہ، اور ایمان کی ایک نئی خوشبو میرا استقبال کر رہی ہے۔
    سفر جب اپنے آخری سرے پر پہنچنے لگتا ہے تو قدموں میں عجیب سی مٹھاس اور دل میں ہلکا سا بوجھ اتر آتا ہے۔ گوانگڑو کی گلیوں میں میرا قیام بھی انہی کیفیتوں سے بھر گیا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس شہر نے مجھے اپنے دامن میں کچھ لمحوں کے لیے نہیں، صدیوں کے لیے بسا لیا ہو۔ ہوا میں وہی مانوس نمی تھی، مگر اب اس نمی کے اندر تاریخ، چراغ اور اذان کی بازگشت ملی ہوئی تھی۔
    اس دن میں دوبارہ Huaisheng Mosque کی طرف نکلی۔ آسمان پر شام کے خنک سائے پھیل رہے تھے۔ مسجد کا مینار دور سے ایسے چمک رہا تھا جیسے کسی نے فضا میں ایک سفید قلم سے روشنی کی لکیر کھینچ دی ہو۔ میں صحن کے بیچ کھڑی تھی اور محسوس کر رہی تھی کہ میری کہانی یہاں سے شروع بھی ہوئی تھی اور شاید یہیں مکمل بھی ہونا تھی۔
    میں نے مسجد کی زمین پر بیٹھ کر ہاتھ دوبٹے کے نیچے رکھے اور آس پاس پھیلی خاموشی کو سمیٹ لیا۔ اب میں جان چکی تھی کہ چین کے مسلمان صرف تاریخ نہیں، ایک زندہ روشنی ہیں وہ روشنی جسے نہ کسی حکمران نے بجھایا، نہ زمانے کی آندھی اسے ہلا سکی۔ وہ اپنے دلوں، گھروں، مساجد اور بازاروں میں اسی طرح روشن ہے جیسے کسی قدیم چراغ کا ارمان۔
    میرے ذہن میں Niujie Mosque کی لکڑی کے نقش تھے، شیان کی مسجد کے باغات تھے، کاشغر کے نیلے آسمان کے نیچے کھڑی Idkah کی محرابیں تھیں۔ مجھے لگا جیسے یہ سب مساجد ایک دوسرے سے ہاتھ پکڑے کھڑی ہیں، اور ان کے درمیان میں ایک مسافر ، میں نے وقت کی ان پتلی راہوں پر چلتی ہوئی، ان سب کو ایک ہی داستان کے دھاگے میں پرو رہی ہوں۔
    اسی لمحے ایک بچی مسجد کے گیٹ سے اندر آئی۔ اس کی ماں نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا، اور وہ ایک چھوٹا سا سفید اسکارف پہنے تھی۔ بچی نے مینار کی طرف دیکھا، پھر مجھے دیکھ کر مسکرا دی۔ اس چھوٹی سی مسکراہٹ میں مجھے پورے چین کے مسلمانوں کا مستقبل دکھائی دیا۔ایک ایسا مستقبل جو خاموش، روشن، نرم اور مضبوط ہے۔

    میں نے آہستگی سے اپنی ڈائری نکالی۔ قلم ہاتھ میں لیتے ہوئے یوں لگا جیسے لفظ خود بخود میرے اندر سے نکل کر صفحے پر بیٹھ جائیں گے۔ میں نے لکھا۔ سفر ہمیشہ منزل تک نہیں لے جاتا… کبھی کبھی سفر ہمیں خود تک لے آتا ہے۔
    گوانگڑو کی اس مسجد نے مجھے بتایا کہ ایمان کا سفر راستوں سے نہیں، دلوں سے گزرتا ہے۔
    اور اسلام کی روشنی جہاں بھی جاتی ہے، وہاں کے رنگوں، زبانوں، لوگوں کو یوں اپنے اندر سمو لیتی ہے جیسے کوئی خوشبو صبح کی ہوا کے ساتھ گھل جائے۔’’
    میں نے مینار کی طرف آخری بار نگاہ اٹھائی۔ شام کی ہوا میں اذان کی ہلکی سی گونج ابھری۔ نہ بہت بلند، نہ بہت مدھم۔ بس اتنی کہ دل کے اندر ایک صاف جگہ بناتی چلی جائے۔
    میں نے اس روشنی کو اپنے اندر سمیٹا، اور مسجد کے دروازے سے باہر آ گئی۔راستہ اب بھی وہی تھا، ہوا بھی وہی، مگر میں وہ نہیں رہی تھی۔
    سفر ختم ہو گیا تھا۔مگر جو روشنی میں اپنے ساتھ لے جا رہی تھی وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ یہ تھا میرا گوانگڑو… اور اسلام کی اْس قدیم روشنی سے ملاقات کا بند ہوتا ہوا ورق۔

  • حسین منصور ابھرتا ہوا دانشور  (آغاخالد)

    حسین منصور ابھرتا ہوا دانشور (آغاخالد)

    لاکھوں دیگر لوگوں کی مانند، یہ عام سا نوجوان بھی اپنے دل میں حسیں خوابوں کا ہار سجائے، اندرون سندھ کے پس ماندہ ضلع دادو سے کراچی پہنچا۔ اس مادی دور میں نہ اسے دولت کی ہوس تھی، نہ جاہ و جلال کی تمنا۔ وہ بس ایک فقیر منش مزاج کے ساتھ انسانیت کی معراج، فلسفہ کی ماہیت، اسباب و علل کی کھوج میں کھو گیا، تقدیر نے اسے سندھ کے سینیر وزیر شرجیل میمن کا پی آر او بنا دیا، مگر سچ یہ ہے کہ یہ اس کی منزل نہیں۔ اس کے کھوجی مزاج کی معراج کہیں اور لکھی گئی ہے۔ نوکری کے فراغت کے لمحوں میں وہ کبھی قدرت کے کمالات پر غور و بحث میں مصروف نظر آتا، کبھی اس کی عطائوں پر شکر گزار، کبھی گورکھ دھندوں پر شکوہ کرتا، اور ٹالسٹائی جیسے دانش وروں کے علوم میں جھانکتا، جبکہ افلاس میں لتھڑا معاشرہ کے لیے خیر کے راستے ڈھونڈتا نظر آتا ہے ، چالیس کی دہائی کے اوائل میں، حسین منصور کی دو تصانیف بازار میں دسترس پا چکی ہیں،
    ۱۔ آزادی کا ضدی عاشق (سندھی ایڈیشن)
    ۲۔ کاری-دی بلیک ل، جبکہ اس کی مزید تین کتابیں زیر طباعت ہیں، میں منٹو اور دوستوئیفسکی(نثر)، دل کہ جیسے ریت مٹھی میں (شاعری)، اور شعور ہستی (وجودیت کے فلسفے کا تجزیہ)، جو فلسفہ کے طالب علموں کے لیے سبق آموز ہوں گی اپنے ناول کاری دی بلیک میں حسین منصور نے جو منظر پیش کئے ہیں، وہ حیرت انگیز ہیں، جو کہ قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں، “علی نواز کی مدد سے شیرْو نے بچی کو آہستگی سے جیسے ہی گڑھے میں اتارا تب اس نے دیکھا کہ لڑکی کی قمیص کے نیچے نیفے میں کچھ چھپا ہوا ہے۔ اس نے ٹٹولہ ایک دیکھا تو وہ ایک گڑیا تھی، شیرو پر جیسے آسمان گر پڑا ہو۔ شیرو، جس نے بے شمار عورتوں اور لڑکیوں کو گڑھے کھود کر دفن کیا تھا، کی بے اولادی کی روح تک لرز اٹھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر بولا، “کیا مجھے اب بھی ماننا چاہئے کہ تْو واقعی موجود ہے؟” اس طرح ناول میں عاشی کی کہانی بھی بہت بھیانک ہے، آپ کو ایک بار یہ ناول ضرور پڑھنا چاہئے، منصور کے دوست اور ممتاز دانشور اور پبلشر سجاد سومرو لکھتے ہیں کہ “حسین منصور ایک خاموش چیخ، ایک اجنبی شناخت ہے، اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ حسین منصور کون ہے، تو میں شاید خاموش ہو جاؤں، کیونکہ اسے سمجھنا الفاظ میں ممکن نہیں۔ اْسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، جیسے کوئی سناٹا جو چیختا نہیں، مگر دل کے اندر شور مچاتا ہے۔” منصور کے لیے ضروری ہے کہ آپ زندگی کی اْس پرت میں جھانکیں جہاں احساسات کا شور ہے مگر آواز نہیں، جہاں سوچ کی گہرائی ہے مگر سمت نہیں، اور جہاں لفظوں کا سمندر ہے مگر کوئی کنارے دستیاب نہیں، اس کا کرب ذاتی دکھ نہیں، بلکہ ایک پورے دور کی اذیت ہے وہ ان سوالوں کا نمائندہ ہے جنہیں آج کا نوجوان پوچھنے سے ڈرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کوئی جواب موجود نہیں۔ جب وہ کہتا ہے، “میں دوستوئیفسکی نہیں
    ہوں، مگر میں ہوں”, تو یہ محض انکار نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ شناخت کا اعلان ہے۔ دوستوئیفسکی انسان کے اندر کے اندھیرے کو بے خوف دیکھتا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کے ذریعے روشنی کا راستہ نکال دیتا ہے، جبکہ منصور انہی اندھیروں میں گم رہتا ہے اس کے نزدیک دوستوئیفسکی ایک آئینہ ہے جو اسے خود سے ملاتا ہے، مگر ملاقات کے بعد بھی اس کی شناخت دھندلی رہتی ہے۔ اس کا المیہ یہ نہیں کہ وہ دوسروں سے الگ ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود اپنے لیے ایک پہیلی ہے۔ منصور کی سب سے بڑی اذیت یہ ہے کہ وہ بظاہر آزاد ہے، مگر اندر سے قید میں ہے۔ وہ زنجیریں جن کی بات کرتا ہے، عام لوگ دیکھ نہیں سکتے، مگر اْن کی چبھن ہر لمحہ محسوس ہوتی ہے، اس کی گفتگو میں شریک ہونا اکثر دشوار ہوتا ہے، کیونکہ الفاظ اکثر احساسات کے ساتھ انصاف نہیں کرتے، جب وہ بولتا ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے الفاظ اْس کے نہیں بلکہ کسی اور کے ہوں۔ یہ کیفیت صرف ادبی یا تخلیقی نہیں، بلکہ ایک گہری وجودی الجھن ہے: زندہ ہونا، مگر زندگی کا کوئی مطلب نہ ہونا منصور کی اردو کی پہلی کتاب میں منٹو اور دوستوئیفسکی ایک علامتی انتخاب نہیں، بلکہ اس کے اندر کی تقسیم کی سچّی تصویر ہے۔ منٹو معاشرے کے بدنما چہرے کو بے نقاب کرتا ہے، دوستوئیفسکی انسان کے اندر کی وحشت کو، اور منصور ان دونوں دھاروں کے درمیان کھڑا وہ مسافر ہے جو کسی کا نہیں بنتا، اس کی تحریروں میں منٹو کا طنز موجود ہے، مگر وہ باہر کی دنیا کے لیے نہیں، اندر کی دنیا کے لیے ہے دوستوئیفسکی کا کرب بھی قاری کے لیے نہیں، بلکہ خود منصور کے لیے ہے، کتاب کے عنوانات، منٹو کا آخری افسانہ، منٹو کا کفن، منٹو کی واپسی، سب منصور کی اپنی واپسی کے استعارے ہیں، میں نے کئی بار حسین کو خاموش گھنٹوں بیٹھا دیکھا، سب کے درمیان مگر سب سے الگ۔ اس کی آنکھوں میں مستقل تھکن تھی، جیسے نیند نہ آنے کی نہیں، جینے کی تھکن ہو۔ اس کی بظاہر معمولی باتوں میں ایک خالی پن کی گہرائی جھلکتی۔ وہ اکثر کہتا، “کاش میں بھی کوئی واضح شخص ہوتا، جیسے سب ہوتے ہیں، خوش یا دکھی، جیتنے والے یا ہارنے والے، مگر میں بس… ہوں” منصور دو وجودوں کی جنگ میں مبتلا ہے، ایک جو محسوس کرتا ہے، اور ایک جو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، میں گواہ ہوں کہ وہ دونوں وجود روز لڑتے، تھکتے، اور اسے تھوڑا سا اور توڑ دیتے ہیں، اس دور میں جہاں ہر کوئی آواز بننے کی دوڑ میں ہے، حسین منصور ایک سناٹا ہے، مگر وہ سناٹا جس کی گونج بہت دور تک جاتی ہے، وہ کوئی حل پیش نہیں کرتا، کوئی امید نہیں بیچتا، مگر اس کی سچائی، خواہ وہ اذیت ناک ہو، وہی حقیقت ہے جو ہمیں اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔ حسین منصور کو پڑھنا آسان نہیں، سمجھنا دشوار ہے، مگر ایک بار اگر سمجھ لیا، تو شاید آپ خود کو بھی تھوڑا سا سمجھنے لگیں، وہ آئینہ ہے جو بگاڑ چھپاتا نہیں، دکھاتا ہے، وہ زخم ہے جو ٹھیک نہیں ہوتا، مگر آپ کو یہ بتاتا ہے کہ آپ زندہ ہیں، منصور شاید کبھی دوستوئیفسکی نہ بنے، مگر اس نے اپنا لہجہ ڈھونڈ لیا، اور یہی اس کی سب سے بڑی فتح ہے۔ اور میں، اْس کا دوست، خوش ہوں کہ میں اْس لمحے کا گواہ ہوں جب ایک گمنام لکھاری نے خاموشی میں چیخنے کا فن سیکھا۔

  • احترامِ اظہار رائے کیوں ضروری ہے؟تحریر،صائمہ خان

    احترامِ اظہار رائے کیوں ضروری ہے؟تحریر،صائمہ خان

    انسانی معاشرہ ایک ایسے پیچیدہ اور خوبصورت موزیک کی مانند ہے جس کے ہر ایک ٹکڑے کا اپنا ایک منفرد رنگ اور شکل ہے۔ یہ رنگ اور شکلیں درحقیقت ہماری انفرادی آوازیں، ہمارے خیالات اور ہماری رائیں ہیں۔ انہی مختلف رنگوں کے امتزاج سے معاشرے کی مکمل تصویر بنتی ہے۔ احترامِ اظہار رائے وہ بنیادی اصول ہے جو اس موزیک کے ہر ٹکڑے کو اس کی اہمیت اور وقار عطا کرتا ہے۔ یہ صرف ایک اخلاقی خوبی ہی نہیں، بلکہ کسی بھی صحت مند، زندہ دل اور ترقی پذیر معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ وہ پائیدار بنیاد ہے جس پر جمہوریت، انسانی حقوق اور فکری ارتقا کے عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں۔ اس کے بغیر نہ تو کوئی قوم حقیقی معنوں میں مہذب کہلانے کی مستحق ہے اور نہ ہی وہ مستحکم اور پرامن انداز میں ترقی کے مراحل طے کر سکتی ہے۔
    جمہوریت کی بنیاد
    احترامِ اظہار رائے جمہوری نظام حکومت کا اولین اور اہم ترین تقاضا ہے۔ جمہوریت کی عمارت “عوام کی، عوام کے لیے، عوام کی حکومت” کے نعرے پر کھڑی ہے، اور اس نعرے کی روح عوام کی اجتماعی رائے ہی تو ہے۔ اگر عوام کی رائے کو ہی اہمیت نہ دی جائے، اس کا احترام نہ کیا جائے، تو پھر جمہوریت ایک بے روح ڈھانچے سے زیادہ کچھ نہیں رہ جاتی۔ انتخابات کا مقصد ہی یہ ہے کہ عوام اپنی رائے کے ذریعے اپنے حکمران چن سکیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے پالیسیاں بنوا سکیں۔ اگر اظہار رائے کی آزادی نہ ہو تو عوام خوف اور دباؤ کا شکار ہو کر ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں جو درحقیقت ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوں۔ اس طرح جمہوریت کا پورا عمل بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔
    معاشرتی صحت اور ہم آہنگی کا ضامن
    ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں تنوع میں یکجہتی پائی جاتی ہے۔ ہر انسان کا پس منظر، تجربہ اور نقطہ نظر مختلف ہوتا ہے۔ جب ہم دوسروں کی رائے کا احترام کرتے ہیں، چاہے وہ ہم سے متفق نہ بھی ہوں، تو درحقیقت ہم ان کے وجود، ان کے تجربات اور ان کی انفرادیت کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ احترام باہمی افہام و تفہیم کو جنم دیتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر رائے کے اختلاف کو ذاتی اختلاف سمجھ لیا جائے اور دوسرے کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے تو یہ معاشرے میں تلخی، عناد اور تقسیم پیدا کرتا ہے۔ احترام کا یہ جذبہ اختلاف رائے کو معاشرے کے لیے مفید بحث میں تبدیل کر دیتا ہے جبکہ اس کا فقدان اسے تباہ کن تصادم میں بدل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرامن بقائے باہمی کے لیے احترامِ اظہار رائے ناگزیر ہے۔
    علم و حکمت کے ارتقا کا ذریعہ
    انسانی تاریخ گواہ ہے کہ علم اور حکمت کا ارتقا مختلف آرا کے ملاپ اور تصادم سے ہوا ہے۔ اگر ہر دور میں روایت پرست طاقتیں نئے اور انقلابی خیالات کو دبانے میں کامیاب ہو جاتیں تو آج ہم تاریکی کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہوتے۔ گلیلیو نے جب یہ رائے دی کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو اس وقت کے مذہبی اور سماجی اداروں نے اس کی رائے کا احترام نہیں کیا، لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ اس کی رائے ہی درست تھی۔ علم کی دنیا میں ہر نئی رائے پرانی رائے کو للکارتی ہے، اس میں اضافہ کرتی ہے یا اسے بہتر بناتی ہے۔ اگر ہم صرف انہی خیالات کا احترام کریں جو ہمیں پسند ہیں یا جو روایت کا حصہ ہیں، تو ہم فکری جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ احترامِ اظہار رائے ہی وہ راستہ ہے جس سے نئے خیالات کو پروان چڑھنے کا موقع ملتا ہے اور معاشرہ علمی اور فکری اعتبار سے ترقی کرتا ہے۔
    انسانی حقوق کا بنیادی تقاضا
    اظہار رائے کی آزادی کو بین الاقوامی سطح پر ایک بنیادی انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے “اعلانِ عالمی برائے انسانی حقوق” کے آرٹیکل 19 میں کہا گیا ہے کہ “ہر شخص کے پاس رائے رکھنے اور اظہار کی آزادی کا حق ہے۔” یہ حق اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ رائے کا اظہار انسان کی شخصیت، اس کے شعور اور اس کی انفرادیت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ کسی انسان کی آواز دبانا درحقیقت اس کی انفرادیت اور اس کے وجود کو نظر انداز کرنا ہے۔ لہٰذا، دوسروں کی رائے کا احترام محض ایک اخلاقی فعل نہیں، بلکہ ان کے بنیادی انسانی حق کی پاسداری ہے۔ یہ احترام ہر انسان کی عزت نفس اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
    غلطیوں کے اصلاح کا موقع
    کوئی بھی فرد یا ادارہ معصوم عن الخطا نہیں ہے۔ حکمران، ادارے اور اجتماعی نظام بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہیں۔ احترامِ اظہار رائے کا ماحول ان غلطیوں کو سامنے لانے اور ان کی نشاندہی کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ جب عوام یا ماہرین بلا خوف و خطر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں تو حکومتی پالیسیوں، معاشی نظام اور سماجی مسائل کی خامیاں واضح ہوتی ہیں اور انہیں دور کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر تنقید کو دبا دیا جائے تو غلطیاں اور خامیاں معاشرے کے اندر ہی گہرائی میں سرایت کر جاتی ہیں، جو بالآخر نظام کی ناکامی اور معاشرے کے بگاڑ کا باعث بنتی ہیں۔ احترامِ اظہار رائے ایک ایسا “سیفٹی والو” کا کام کرتا ہے جو معاشرتی دباؤ کو باہر نکال کر کسی بڑے دھماکے یا انقلاب کو روکتا ہے۔
    احترام کی حدود
    یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ احترامِ اظہار رائے کا مطلب ہر قسم کے اظہار کو بلا امتیاز قبول کرنا ہرگز نہیں ہے۔ ہر حق کی طرح اظہار رائے کی آزادی کی بھی کچھ ذمہ داریاں اور حدود ہیں۔ ایسا اظہار رائے جو کسی دوسرے فرد یا گروہ کی توہین، بدنامی، نفرت انگیزی یا تشدد پر ابھارنے کا باعث بنے، وہ احترام کے دائرے سے خارج ہے۔ حقیقی احترام کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلاف کو تو برداشت کریں، لیکن اسے تباہ کن اور نقصان دہ رویوں کے لیے جواز نہ بننے دیں۔ ایک مہذب معاشرہ ان حدود کو قوانین اور اخلاقی اقدار دونوں کے ذریعے متعین کرتا ہے۔

    آج کے باہم مربوط اور میڈیا سے بھرپور دور میں احترامِ اظہار رائے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر عام آدمی کو ایک طاقتور آواز دے دی ہے۔ ایسے میں اگر ہم دوسروں کی آوازوں کا احترام کرنا نہیں سیکھیں گے تو معاشرہ انتشار اور خانہ جنگی کا
    شکار ہو سکتا ہے۔ احترامِ اظہار رائے درحقیقت ایک ایسی عظیم انسانی قدر ہے جو ہمیں جانوروں کی دنیا سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ ہمارے اندر کی انسانی ہمدردی، برداشت اور عقل سلیم کا امتحان ہے۔ یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک عظیم طاقت ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو معاشرے کے تاریک گوشوں کو روشن کرتا ہے، غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ لہٰذا، ہر فرد، خاندان، تعلیمی ادارے اور حکومت کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ احترامِ اظہار رائے کے جذبے کو فروغ دیں تاکہ ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں پرامن، خوشحال اور روشن خیال معاشرہ بن سکے۔

  • اسرائیل کا بیروت پر حملہ، حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا بیروت پر حملہ، حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی حملے میں حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کو شہید کردیا ہے۔
    غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فوج نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مضافات میں مہینوں بعد حملہ کیا گیا اور حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف علی طباطبائی کو نشانہ بنایا گیا۔
    حزب اللہ کی جانب سے فوری طور پر علی طباطبائی کی شہادت کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم حزب اللہ کے سینئرعہدیدار محمود قماتی نے مرکزی کمانڈر کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کردی ہے۔
    محمود قماتی نے حارت حریک مضافات میں بم باری سے نشانہ بنائی گئی عمارت کے قریب بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے حملے میں ریڈ لائن کراس کی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کی قیادت فیصلہ کرے گی کہ کہاں اور کیسے اس کا جواب دیا جائے گا۔
    لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی حملے میں 5 افراد شہید اور دیگر 28 زخمی ہوگئے ہیں اور نشانہ بننے والی کثیرالمنزلہ عمارت کا ملبہ مرکزی سڑک پر کھڑی کاروں پر گرا۔
    رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملے کے بعد شہری دوسرے حملے کے خوف سے متاثرہ عمارت سے باہر نکلے اور وہاں سے بھاگ نکلے۔
    واضح رہے کہ علی طباطبائی پر امریکا نے 2016 میں پابندیاں عائد کی تھی اور انہیں حزب اللہ کا مرکزی رہنما قرار دیا تھا اور ان کی اطلاع دینے پر 5 ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا۔
    اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ علی طباطبائی حزب اللہ کے اہم یونٹس کے کمانڈر تھے اور حزب اللہ کو اسرائیل کے ساتھ جنگ کے لیے دوبارہ تیار کرنے کے لیے سخت محنت کی۔
    اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کو اپنی طاقت بحال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور لبنان کی حکومت سے توقع ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کا وعدہ پورا کرے گی۔
    دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حملے روکنے کے لیے مداخلت کرے۔

  • کابل پر پاکستانی حملوں سے افغان طالبان میں خوف، سرحد پار دہشت گردی میں قابل ذکر کمی

    کابل پر پاکستانی حملوں سے افغان طالبان میں خوف، سرحد پار دہشت گردی میں قابل ذکر کمی

    اسلام آباد:گزشتہ ماہ کالعدم ٹی ٹی پی کی سینئرکمانڈروں کو نشانہ بنانے کیلیے پاکستان کے جوابی کابل حملوں نے افغان طالبان قیادت میں دھاک پیدا کی جس کے نتیجہ میں سرحد پار دہشت گرد حملوں میں قابل ذکر کمی دیکھنے میں آئی۔
    ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ کابل کے وسط میں سرحد پار آپریشن کا مقصد طالبان حکومت کو غیر واضح پیغام دینا تھا کہ پاکستان دہشت گروں کے خلاف کارروائیاں اپنی سرزمین تک محدود نہیں رکھے گا۔

    ایک سینئر افسر نے کہاکہ کابل آپریشن کا افغان طالبان قیادت اور ان کی سیکیورٹی مشینری پر واضح نفسیاتی اثر ہوا، کابل حملوں نے طالبان قیادت میں خوف اور احتیاط کا واضح عنصر پیدا کیا ، وہ سمجھ گئے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپوں کا پاکستان کابل سمیت ہر جگہ پیچھا کرے گا۔
    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے حالیہ دہشت گرد حملے کے فوری بعد افغان طالبان کے ترجمانوں نے نجی طور پر پاکستانی حکام سے رابطہ کرکے کشیدگی میں کمی کی درخواستیں کیں اور کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر خودکش حملے میں وہ ملوث نہیں۔
    انہوں نے کہا کہ یہ غیر معمولی پیش رفت ہے، اس سے قبل دہشت گردی کے واقعات پر پاکستانی خدشات مسترد یا الزام ٹی ٹی پی پر عائد کرتے تھے۔
    اس مرتبہ انہوں نے پس پردہ استدعا اور زور دیاکہ اسلام آباد دہشت گردی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کی وجہ افغان طالبان کا پاکستان سے انتقامی کارروائی کا خوف ہے ، وہ سمجھ گئے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کی رسائی اور صلاحیت رکھتا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ کابل حملوں کے بعد پاکستان پر سرحد پاردہشت گردی کی تعداد میں کمی دیکھی گئی، تاہم خطرہ ختم نہیں ہوا، حملوں میں کمی دھاک کے نتیجے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے کہ افغانستان کے اندر ہائی ویلیو اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے پاکستان تیار ہے، طالبان قیادت کو دہشت گردی کی قیمت معلوم ہو چکی ہے۔

  • گریٹر کراچی پلان 2047ء؛ شہرِ قائد پر بڑھتا آبادی کا دباؤ بڑا چیلنج بن گیا

    گریٹر کراچی پلان 2047ء؛ شہرِ قائد پر بڑھتا آبادی کا دباؤ بڑا چیلنج بن گیا

    کراچی:گریٹر کراچی پلان 2047ء کے حوالے سے شہرِ قائد پر بڑھتا ہوا آبادی کا دباؤ بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
    حکومت سندھ کراچی کے لیے ایک نئے ماسٹر پلان پر کام کر رہی ہے، جسے گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047ء کا نام دیا گیا ہے۔ اس پلان کے اہم نکات تو ابھی سامنے نہیں آئے تاہم ماہرین کی نظر میں شہر پر بڑھتا ہوا آبادی کا دباؤ شہر کی منصوبہ بندی کے لیے بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
    سرکاری اعدادو شمار کے مطابق کراچی ملک کا واحد شہر ہے جس کی آبادی میں قیام پاکستان سے لے کر اب تک44 گنا اضافہ ہوا ہے۔ قیام پاکستان تک کراچی کی آبادی ساڑھے 4 لاکھ تھی اور اب یہ شہر 2 کروڑ سے زیادہ آبادی کا شہر بن چکا ہے۔
    2023ء کی مردم شماری کے مطابق 2017ء سے 2023ء تک صرف 5 سال میں کراچی کی آبادی میں 40 لاکھ نفوس کا اضافہ ہوا ہے۔ 2017ء میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ48 لاکھ تھی جو 2023ء میں بڑھ کر ایک کروڑ 88 لاکھ ہوگئی۔ ان 5 برس میں ملک کے دیگر بڑے شہروں کی آبادی میں اس تیزی سے اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، بلکہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی آبادی بڑھنے کے بجائے 19 لاکھ کم ہوئی کیونکہ وہاں سے کراچی آنے والوں کی تعداد ملک کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت زیادہ رہی ہے۔
    ورلڈ بینک سے منسلک ایک عالمی ادارے کوریا گرین گروتھ ٹرسٹ فنڈ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح1.5 فیصد (ایک اعشایہ پانچ فی صد) ہے جب کہ کراچی میں یہ شرح 6 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2030ء تک کراچی کی آبادی 28 ملین (2 کروڑ 80 لاکھ) تک بڑھ جائے گی۔
    رپورٹ کے مطابق کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ء کے مطابق شہر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا سبب ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں کا روزگار کی خاطر کراچی آنا ہے جب کہ شہر میں بڑی تعداد میں افغانستان، بنگلادیش اور دیگر ایشیائی ممالک کے لوگ بھی آباد ہیں۔
    معروف اربن پلانر عارف حسن کے ادارے اربن ریسورس سینٹر سے وابستہ شہری منصوبہ بندی کے ماہر زاہد فاروق کے مطابق پائیدار شہری منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے کہ کراچی پر بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کو کم کیا جائے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں سے آنے والے لوگوں کو اپنے صوبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے۔
    ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا بڑا سبب خیبر پختونخوا سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے روزگار کے لیے لوگوں کا کراچی آنا ہے کیونکہ کراچی میں دیگر شہروں کے مقابلے میں روزگار کے ذرائع اور مواقع زیادہ ہیں۔
    زاہد فاروق نے مزید بتایا کہ کراچی کے لیے مختلف ادوار میں ماسٹر پلان بنتے آئے ہیں لیکن سیاسی وجوہات کی بنا پر ابھی تک ایک بھی ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی بات ہے کہ حکومت سندھ گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047ء پر کام کر رہی ہے لیکن یہ پلان ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر نہیں بنانا چاہیے۔
    انہوں نے کہا کہ ایک بہتر ماسٹر پلان بنانے کے ضروری ہے کہ اس کے نکات کو عام کیا جائے اور اس پر عام لوگوں کی رائے لی جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مذکورہ پلان کو سندھ اسمبلی اور سٹی کونسل سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک زیر بحث لایا جائے اور اس پر ڈاکٹروں، وکلا، بزنس مین کمیونٹی سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں سے رائے لی جائے۔
    پیپلز پارٹی کراچی کے رہنما سینیٹر وقار مہدی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ گریٹر کراچی ریجنل پلان 2047ء عالمی اداروں کے ماہرین کی نگرانی میں بنایا جا رہا ہے، جس میں آئندہ 50 سال کی ضروریات کو مد نظر رکھا جا رہا ہے، تاکہ شہر کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جاسکے۔
    ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کراچی میں جس تیزی سے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس مناسبت سے ایک جامع ماسٹر پلان کی ضرورت ہے، نئے ماسٹر پلان کی تیاری میں پرانے ماسٹر پلانز کو بھی سامنے رکھا جائے گا۔
    واضح رہے کہ پاکستان بننے سے آج تک مختلف ادوار میں کراچی کے لیے ماسٹر پلان بنائے گئے لیکن آج تک ایک بھی پلان پر عمل نہیں ہوسکا ہے، ملک بننے کے بعد گریٹر کراچی پلان 1952ء بنایا گیا، جس پر عمل نہیں ہوا، جس کے بعد کراچی ڈیولپمنٹ پلان 1974-1985ء بنایا گیا لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد 2007ء میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ء بنایا گیا لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہ ہوسکا۔
    کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ء کے مطابق کراچی شہر انتظامی لحاظ سے 20 وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں میں تقسیم ہے اور شہر کا صرف 31 فیصد کنٹرول کے ایم سی کے پاس ہے۔
    مذکورہ پلان کے مطابق حکومت سندھ کے علاوہ اس شہر کا انتظامی کنٹرول مختلف وفاقی اداروں کے پاس ہے جن میں 6 کنٹونمنٹ، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، پورٹ قاسم، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز، ایکسپورٹ پروسیسنگ زون وغیرہ شامل ہیں۔

  • 13 حلقوں کے ضمنی انتخابات، پی ایم ایل ن نے 6 قومی اور 6 صوبائی نشستیں حاصل کر کے میدان مار لیا

    13 حلقوں کے ضمنی انتخابات، پی ایم ایل ن نے 6 قومی اور 6 صوبائی نشستیں حاصل کر کے میدان مار لیا

    لاہور (کنزیومرواچ نیوز)پاکستان میں گزشتہ روز ہونے والے 13 حلقوں کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن نے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق غیر معمولی برتری حاصل کی ہے، اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کی خالی ہونے والی تمام نشستیں جیت لی ہیں۔
    ان میں قومی اسمبلی کی 6 میں سے 6 اور صوبائی اسمبلی کی 7 میں سے 6 نشستوں پر پی ایم ایل ن کے امیدواروں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔
    پیپلز پارٹی صرف مظفر گڑھ کے حلقہ پی پی 269 میں کامیاب ہوئی، جبکہ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو غیر معمولی طور پر کم ووٹ پڑے۔
    قومی اور صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج
    قومی اسمبلی
    این اے 18 ہری پور: غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق ضمنی انتخابات میں سب سے بڑا اپ سیٹ اس نشست پر ہوا، مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان نے آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب کو 1,63,996 ووٹ سے شکست دی۔ یہ نشست سابق قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔
    این اے 129 لاہور: یہ نشست پی ٹی آئی کے میاں اظہر کی وفات کی وجہ سے خالی ہوئی تھی، جس پر موجودہ ضمنی انتخابات میں پی ایم ایل ن کے حافظ میاں محمد نعمان نے 63,441 ووٹ لے کر سب پر سبقت حاصل کی، جبکہ آزاد امیدوار ارسلان احمد 29,099 ووٹ لے سکے۔
    این اے 185 ڈیرہ غازی خان 2: پی ٹی آئی کی زرتاج گل کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہونے والی اس نشست پر پاکستان مسلم لیگ ن کے محمود قادر خان 82,416 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ 49,262 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
    این اے 143 ساہیوال 3: ن لیگ کے محمد طفیل جٹ نے 1,36,223 ووٹ حاصل کیے، جب کہ آزاد امیدوار ضرار اکبر چوہدری 13,220 ووٹ لے سکے۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے حسن نواز کی نااہلی پر ختم کی گئی تھی۔
    این اے 104 فیصل آباد 10: پاکستان مسلم لیگ ن کے دانیال احمد 52,791 ووٹ لے کر فاتح قرار پائے، آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید 19,262 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
    این اے 96 فیصل آباد: پی ایم ایل ن کے بلال بدر چوہدری 93,909 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے، بلال بدر وزیر مملکت طلال چوہدری کے بھائی ہیں۔
    صوبائی اسمبلی
    پی پی 87 میانوالی: پنجاب اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف ملک احمد خان بھچر کی نشست پر پاکستان مسلم لیگ ن کے علی حیدر نور خان نیازی نے 67,986 ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی جبکہ آزاد امیدوار محمد ایاز خان نیازی 3,310 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
    پی پی 98 فیصل آباد 1: پی ایم ایل ن کے آزاد علی تبسم 44,388 ووٹ لے کر میدان مار لیا جبکہ ان کے مخالف امیدوار محمد اجمل 35,245 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
    پی پی 115 فیصل آباد 18: اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے محمد طاہر پرویز 49,049 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے، مخالف محمد اصغر 18,098 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
    پی پی 116 فیصل آباد 19: اس نشست سے وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے داماد اور پی ایم ایل ن کے امیدوار احمد شہریار 48,824 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار ملک اصغر علی قیصر 11,429 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ یہ نشست بھی پی ٹی آئی کے اسمعیل سیلا کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔
    پی پی 203 ساہیوال 6: پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار محمد حنیف 46,900 ووٹ لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ آزاد امیدوار فلک شیر 10,895 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
    پی پی 73 سرگودھا: اس حلقے میں پی ایم ایل ن کے سلطان علی رانجھا نے 71,770 ووٹ لے کر میدان مار لیا، مخالف امیدوار مہر محسن رضا 12,970 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
    پی پی 269 مظفر گڑھ 2: 13 ضمنی انتخابات میں یہ واحد حلقہ تھا جہاں سے پیپلز پارٹی کے میاں علمدار عباس قریشی نے 55,611 ووٹ لے کر ن لیگ کے امیدوار کو شکست دی۔
    پولنگ کا عمل:
    قبل ازیں پولنگ کل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ اس دوران ووٹرز نے اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں ووٹ کاسٹ کیا۔
    انتظامیہ کے مطابق مجموعی طور پر 2 ہزار 792 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں 408 کو انتہائی حساس اور 1,032 کو حساس قرار دیا گیا تھا، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 20 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

  • پشاور: ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ، 3 دہشتگرد ہلاک، 3 ایف سی اہلکار شہید

    پشاور: ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ، 3 دہشتگرد ہلاک، 3 ایف سی اہلکار شہید

    پشاور (کنزیو مر واچ نیوز)پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا، 3 خودکش حملہ آور ہلاک ہوئے جبکہ 3 ایف سی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔
    سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ صبح 8 بج کر 10 منٹ پر ہوا، حملے کے بعد سنہری مسجد روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا اور ٹریفک کو صدر روڈ کی جانب موڑ دیا گیا۔
    سی سی پی او پشاور نے بتایا کہ 3 خودکش حملہ آوروں نے فیڈرل کانسٹیبلری پر حملہ کیا، ایک خودکش حملہ آور نے خود کو مرکزی گیٹ پر اڑایا جبکہ دو خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر کے اندر داخل ہوئے۔
    میاں سعید نے بتایا کہ فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے دونوں حملہ آوروں پر فائرنگ کی، تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں، فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے خودکش حملے کو ناکام بنایا۔
    جوانوں نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، خودکش حملے میں 3 اہلکار شہید ہوئے: ڈپٹی کمانڈنٹ ایف سی
    ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری جاوید اقبال نے بتایا کہ تینوں خودکش حملہ آور مارے گئے ہیں، فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 3 اہلکار شہید ہوئے۔
    اسپتال ذرائع کے مطابق حملے میں 9 افراد زخمی ہوئے جنہیں لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، حملے میں 3 ایف سی اہلکار اور 6 شہری ہیں، تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔
    فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے کا ایک زخمی خیبرٹیچنگ اسپتال لایاگیا، دھماکے کے بعد خیبر ٹیچنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اسٹاف کو الرٹ رہنےکی ہدایت کی گئی ہے۔
    ڈپٹی کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
    بی آر ٹی سروس عارضی طور پر معطل
    ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد ٹرانس پشاور نے سکیورٹی خدشات کے باعث بی آر ٹی سروس عارضی معطل کر دی ہے، بی آر ٹی کی مرکزی راہداری پر بسوں کی سروس معطل کی گئی جبکہ فیڈر روٹس پر بس سروس معمول کے مطابق جاری ہے۔
    پاکستان کی سالمیت پرحملہ کرنے والے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کوخاک میں ملا دیں گے: وزیراعظم
    وزیراعظم شہبازشریف نے پشاورمیں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت بڑے نقصان سے بچ گئے۔وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد ازجلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا واقعے کے ذمہ داران کی جلد ازجلد شناخت کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ان کا کہنا تھا پاکستان کی سالمیت پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کوخاک میں ملا دیں گے، حکومت پاکستان ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔