Blog

  • نظام میں لڑائی ہی حرام کھانے کی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی

    نظام میں لڑائی ہی حرام کھانے کی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ میں زمین کے معاوضے کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو متعلقہ دستاویزات کی جانچ کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیے اور کہا کہ سی ڈی ے اپنا کام نہیں کرسکتا تو ایف آئی اے کو بھیج دیں، اداروں میں بد عنوانی ہوتی ہے ویری فیکیشن کا تو کوئی طریقہ ہونا چاہیے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بد قسمتی سے یہ نظام میں لڑائی ہی حرام کھانے کی ہی ہے، سرکاری دفاتر میں بیٹھے افسر تنخواہ بھی لیتے ہیں اور رشوت بھی لیتے ہیں۔2021 مین آپ نے حق میں فیصلہ دے کر آگئے پروسیس نہیں کیا، ریکارڈ نہیں ہے تو تصور کر لیں سب کچھ جعلی ہے؟۔درخواست گزار روسٹرم پر آگئے اور مؤقف اپنایا کہ میں نے امانت داری سے نوکری کی ہے، اب کیا رشوت دوں؟تیسری نسل چل رہی ہے لیکن یہ فیصلہ نہیں ہورہا، میرے والد کیس لڑتے لڑتے مر گئے۔عدالت نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو متعلقہ دستاویزات کی جانچ کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے سماعت 10 دسمبر تک ملتوی کردی۔

  • نورا فتیحی سمیت متعدد بالی ووڈ ستاروں کی داؤد ابراہیم کی پارٹیز میں شرکت کا انکشاف

    نورا فتیحی سمیت متعدد بالی ووڈ ستاروں کی داؤد ابراہیم کی پارٹیز میں شرکت کا انکشاف

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)نورا فتیحی، شردھا کپور سمیت متعدد بالی ووڈ شخصیات پر انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی مبینہ ڈرگ پارٹیوں میں شرکت کا الزام لگ گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی پولیس کے اینٹی نارکوٹکس سیل نے داؤد ابراہیم سے منسلک ایک مبینہ بین الاقوامی ڈرگ نیٹ ورک کی تحقیقات کے دوران کئی بالی وڈ اداکاروں کے نام سامنے آنے کا دعویٰ کیا ہے۔بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق یہ نیٹ ورک سلیم ڈولا نامی شخص چلا رہا تھا جبکہ اس کے بیٹے طاہر ڈولا کے بیانات نے معاملے کو مزید وسعت دے دی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ سلیم ڈولا ملک اور بیرونِ ملک ایسی پارٹیاں منعقد کرتا تھا جن میں داؤد ابراہیم کی بھانجی علیشاہ پارکر کے علاوہ فیشن اور فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شریک ہوتی تھیں۔طاہر ڈولا کو بیرون ملک سے گرفتار کرکے اگست میں بھارت واپس لایا گیا تھا جہاں اس نے مبینہ طور پر بتایا کہ ان پارٹیوں میں اداکار، ماڈلز، ریپرز اور فلم ساز بھی موجود ہوتے تھے۔تحقیقات میں شردھا کپور، نورا فتحی اور سدھارتھ کپور سمیت متعدد ناموں کا ذکر سامنے آیا ہے۔نورا فتحی نے اس حوالے سے انسٹاگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ پارٹیوں میں شرکت نہیں کرتیں اور مسلسل کام اور سفر میں رہتی ہیں۔ نورا نے میڈیا رپورٹس کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا نام بلا وجہ اسکینڈلز میں شامل کیا جا رہا ہے، میرا ان افراد یا سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔نورا فتحی کے مطابق یہ پہلی بار نہیں کہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم وہ اس مرتبہ خاموش نہیں رہیں گی۔

  • پاکستانی طلبا کیلئے خوشخبری! امریکی یونیورسٹیز میں اسکالرشپ حاصل کرنیکا سنہری موقع

    پاکستانی طلبا کیلئے خوشخبری! امریکی یونیورسٹیز میں اسکالرشپ حاصل کرنیکا سنہری موقع

    کرا چی (کنزیومرواچ نیوز)ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے امریکا کی 100 اعلیٰ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی اسکالرشپ کی درخواستیں جمع کرانے کا آغاز ہوگیا۔ایچ ای سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ کے مطابق اسکالرشپ پروگرام یو ایس-پاکستان نالج کوریڈور پروجیکٹ کے تحت شروع کیا گیا ہے۔اسکالرشپس کو دو کیٹگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی کیٹگری میں ٹاپ 50 جامعات کو رکھا گیا ہے جس میں اسکالرشپ پانے والوں کو ٹیوشن فیس، اسٹائپنڈ اور ہیلتھ انشورنس فراہم کیا جائے گا۔دوسری کیٹگری میں 51-100 نمبر کی یونیورسٹیز شامل ہیں اور اس میں اسکالرشپ حاصل کرنے والوں کو سالانہ 12 ہزار ڈالر کی ٹیوشن بمع اسٹائپنڈ اور ہیلتھ انشورنس دی جائے گی۔اسکالرشپ کے لیے درخواستیں 30 اپریل 2026 تک ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر جمع کرائی جا سکیں گی۔

  • چیلنج اسکریبل ٹورنامنٹ؛ پاکستان کے وسیم کھتری نے بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا

    چیلنج اسکریبل ٹورنامنٹ؛ پاکستان کے وسیم کھتری نے بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا

    کراچی:(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان کے وسیم کھتری نے ایک اور کارنامہ انجام دیتے ہوئے گھانا میں ہونے والا چیلنج اسکریبل ٹورنامنٹ جیت لیا۔معمولی فرق سے ورلڈ چیمپیئن شپ کے فائنل سے محروم رہنے کے بعد وسیم کھتری نے اس ایونٹ میں بھرپور انداز میں واپسی کی، وہ 7 فتوحات اور ایک شکست کے ساتھ فاتح رہے۔آخری میچ میں وسیم کھتری نے انگلینڈ کے جان ایشمور کو بڑے مارجن سے ہرایا، نائجیریا کے چِنیدو تھورپ نے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ ایشمور تیسرے نمبر پر رہے۔وسیم کھتری نے ورلڈ چیمپیئن شپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی جبکہ پاکستان ٹیم ایونٹ میں چوتھے نمبر پر رہی تھی۔

  • اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے، دنیا بھر میں امریکہ فساد پھیلا رہا ہے ‘، مولانا فضل الرحمان

    اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے، دنیا بھر میں امریکہ فساد پھیلا رہا ہے ‘، مولانا فضل الرحمان

    ڈھاکہ (کنزیومرواچ نیوز):پاکستان جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ بنگلہ دیش کی خوشحالی، ترقی، استحکام اور فلاح کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش کو بھائی کی طرح دیکھتا ہے اور ماضی کی تلخ یادیں بھول چکا ہے۔یہ بات انہوں نے بنگلہ دیش-چین میتری کانفرنس سینٹر کے ہارمونی ہال میں جمعیت علماء اسلام بنگلہ دیش کے اراکین کے اجتماع میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس کی صدارت جمعیت علماء اسلام بنگلہ دیش کے صدر مولانا عبیداللہ فاروق نے کی جبکہ مرکزی سیکریٹری مولانا منجور الاسلام افندی نے انتظامی نگرانی کی۔ خیرمقدم کے کلمات سینئر نائب صدر مولانا عبدالرّب یوسفی نے پیش کیے۔خطاب میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری اور جمعیت علماء نیپال کے نائب صدر مولانا شفیق الرحمان قاسمی بھی شریک ہوئے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے، لیکن دنیا بھر میں امریکہ فساد پھیلا رہا ہے۔ مسلمانوں کے اندر اختلافات دشمنوں کے حملوں کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان ہمیشہ فرقہ اور مسلک سے بالاتر ہو کر مسلم و غیر مسلم سب کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہی ہے۔اس موقع پر بی این پی، اے بی پارٹی، اسلامی تحریک بنگلہ دیش، این سی پی، لیبر پارٹی، جاگپار، عوامی پارٹی، خلافت تحریک، بنگلہ دیش خلافت مجلس اور نظام اسلام پارٹی کے نمایاں سیاسی و سماجی رہنما بھی موجود تھے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان خیرسگالی کے جذبات دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بنیں گے۔ امت مسلمہ کی روحانی دنیا تقسیم نہیں ہو سکتی اور دنیا کی کوئی طاقت ان تعلقات کو توڑ نہیں سکتی۔

  • چین۔ سورج کے دیس میں…..ارم زہرا

    چین۔ سورج کے دیس میں…..ارم زہرا

    میں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ سورج محض روشنی دیتا ہے، مگر چین آ کر جانا کہ یہ روشنی زندگی بھی بْنتی ہے۔ آج صبح جب میں نے یونان کے پہاڑوں کی سمت سفر شروع کیا تو گاڑی کی کھڑکی سے باہر پھیلا ہوا سبز منظر دل میں ایک عجیب سی طمانیت بھر رہا تھا۔ راستے کے دونوں طرف چائے کے باغات تھے، پہاڑی ڈھلانوں پر بادلوں کی لکیریں رینگتی تھیں، اور کبھی کبھار چھوٹی ندیاں راستہ کاٹتی ہوئی درختوں کے سائے میں کھو جاتیں۔ مجھے یوں لگا جیسے فطرت اور انسان کے درمیان کوئی پرانی صلح دوبارہ قائم ہو رہی ہو۔
    چار برس ہونے کو آئے کہ میں بیجنگ میں مقیم ہوں۔ ابتدا میں یہ شہر میرے لیے صرف ایک جدید اور مصروف دارالحکومت تھا لوہے، شیشے اور روشنیوں کا جنگل۔ مگر وقت کے ساتھ ایک نیا شعور جاگا یہ زمین صرف ہمارا مسکن نہیں، ایک زندہ وجود ہے، اور ہم سب اس کی سانسوں کا حصہ ہیں۔ ایک روز میں نے پڑھا کہ چین دنیا کے ساٹھ فیصد شمسی پینل تیار کرتا ہے، تو یقین نہیں آیا۔ حیرت ہوئی کہ اتنی تیز رفتار ترقی کے باوجود یہ قوم قدرت کے ساتھ اپنا رشتہ کیسے نبھا رہی ہے؟
    یونان کی راجدھانی کْنمنگ پہنچتے ہی احساس ہوا کہ یہاں ہوا مختلف ہے۔ صاف، نمی بھری، اور ہلکی سی خوشبو لیے ہوئے۔ لوگ مسکراتے ہوئے ملتے ہیں، درخت اتنے گھنے ہیں کہ سڑک پر دھوپ چھن کر آتی ہے۔ میں ایک مقامی سائنسدان، ڈاکٹر لین کے ساتھ شمسی توانائی کے فارم کی طرف روانہ ہوئی۔ راستے میں وہ بتا رہے تھے کہ یہ پہاڑی علاقہ قدرتی روشنی سے مالامال ہے، اور یہاں کے لوگ صدیوں سے سورج کو زندگی کی علامت مانتے آئے ہیں۔ اب وہی سورج بجلی بن رہا ہے، گھروں کو روشن کر رہا ہے، اور دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کی جگہ لے رہا ہے۔
    جب ہم ایک بلندی پر پہنچے تو منظر میرے لیے کسی خواب سے کم نہ تھا۔ نیچے پوری وادی میں قطار در قطار شمسی پینل لگے تھے، چمکتے ہوئے، منظم، جیسے کسی آرٹسٹ نے زمین پر آئینوں کی پینٹنگ بنا دی ہو۔ ہر پینل سورج کی سمت جھکا ہوا تھا، جیسے دعا کر رہا ہو کہ روشنی کبھی کم نہ ہو۔ میں نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں بند کیں، اور یوں محسوس ہوا جیسے زمین اپنے زخم بھر رہی ہو۔
    میرے ذہن میں پاکستان کے وہ دیہات گھومنے لگے جہاں اب بھی شام ڈھلتے ہی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔ کاش میرے وطن کے پہاڑ بھی سورج سے یوں رشتہ جوڑ لیں۔ ہم نے ہمیشہ روشنی مانگی ہے، کبھی سورج کو اپنا ساتھی کیوں نہ بنایا؟
    ڈاکٹر لین مسکرا کر بولے، ‘‘ہم سورج کو قابو نہیں کرتے، ہم بس اس کی روشنی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔’’ ان کی بات نے میرے اندر ایک نیا خیال جگا دیا۔ علم کا اصل مقصد شاید یہی ہے۔ فطرت پر غلبہ نہیں، بلکہ اس سے ہم آہنگی۔
    اس شام یونان کی فضا میں جب سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپنے لگا تو شمسی پینلوں پر آخری سنہری کرنیں پڑ رہی تھیں۔ ایسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ روشنی ماند نہیں ہو رہی تھی، بلکہ لگتا تھا کہ زمین نے سورج کو اپنے دل میں سمیٹ لیا ہے۔
    اگلی صبح ہوا میں ہلکی سی نمی اور چائے کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ میں ہوٹل کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ سامنے پہاڑوں کی ڈھلان پر بادل
    ٹھہرے تھے، اور سورج ان کے پیچھے سے جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یونان کا موسم مجھے مری کی صبحوں کی یاد دلاتا ہے، مگر یہاں کے لوگ دن کا آغاز ایک خاص نظم سے کرتے ہیں، جیسے ہر کام سورج کی گردش کے تابع ہو۔
    چین آج صرف ایک ملک نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں مستقبل کے خواب تراشے جا رہے ہیں۔ یہاں علم کا ہر دائرہ چاہے وہ توانائی ہو، جینیات، فلسفہ یا مصنوعی ذہانت اپنے اندر انسانیت کی کسی نئی جہت کو کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔
    سبز توانائی کے میدان میں چین نے دنیا کی قیادت سنبھال لی ہے۔ 2025 تک دنیا کے تقریباً پینسٹھ فی صد شمسی پینل چین کی زمینوں سے نکل رہے ہیں۔ سات سو گیگاواٹ سے زیادہ شمسی طاقت پیدا کی جا رہی ہے، اور ہوا سے بجلی بنانے کے منصوبے چار سو ساٹھ گیگاواٹ تک پہنچ چکے ہیں۔ شمسی پینل اب پہاڑوں، صحراؤں اور چھتوں پر چمکتے ہیں جیسے زمین نے خود روشنی اوڑھ لی ہو
    ڈاکٹر لین نے مجھے ایک مقامی گاؤں میں لے جانے کا وعدہ کیا تھا جہاں کسان اپنی زمینوں میں شمسی پینل لگا کر بجلی پیدا کرتے ہیں۔ گاڑی کچی سڑکوں سے گزرتی ہوئی ایک چھوٹی بستی میں پہنچی۔ گھروں کی چھتوں پر چمکتے ہوئے پینل ایسے لگ رہے تھے جیسے نیلی ٹائلوں کا کوئی خوبصورت گنبد بن گیا ہو۔ وہاں ایک عمر رسیدہ کسان، ‘‘چن لی’’، ہماری منتظر تھی۔ اس کے ہاتھوں میں مٹی کی خوشبو رچی تھی اور چہرے پر وہ اعتماد جو محنت سے جنم لیتا ہے۔
    چن لی نے بتایا کہ چند سال پہلے تک ان کے گاؤں میں بجلی نہیں تھی۔ شام ہوتے ہی اندھیرا چھا جاتا، بچے موم بتیوں کے سائے میں پڑھتے اور عورتیں لکڑی کے دھوئیں میں کھانا پکاتیں۔ پھر حکومت کے تعاون سے شمسی پینل لگے، اور اب نہ صرف گھروں میں روشنی ہے بلکہ وہ اضافی بجلی بیچ کر آمدنی بھی حاصل کرتے ہیں۔ وہ مسکرا کر بولی
    ‘‘ہم نے سورج سے دوستی کر لی ہے، اب رات بھی اجالے میں گزرتی ہے۔’’
    میں نے سوچا، شاید یہی سبز توانائی کا اصل مفہوم ہے۔ صرف ماحول نہیں بچانا، بلکہ انسان کی زندگی میں امید جگانا۔
    میں نے چن لی کے بیٹے کو دیکھا جو سکول سے لوٹ کر موبائل پر کچھ سیکھ رہا تھا۔ یہ وہ نسل ہے جو شمسی روشنی میں پیدا ہوئی ہے، جسے اندھیرے کا مطلب شاید کبھی سمجھ نہ آئے۔
    ڈاکٹر لین نے بتایا کہ یونان میں اب ہزاروں دیہات خود کفیل ہو چکے ہیں۔ حکومت نے شمسی توانائی کو صرف بجلی کا ذریعہ نہیں بلکہ ‘‘ماحولیاتی تہذیب’’ کا حصہ بنا دیا ہے۔
    میں نے پوچھا، ‘‘ماحولیاتی تہذیب؟’’
    انہوں نے بتایا ‘‘ہاں، ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی تبھی ممکن ہے جب انسان، فطرت، اور ٹیکنالوجی ایک ہی دائرے میں چلیں۔ اگر ان میں توازن بگڑ جائے تو زمین اپنی خوبصورتی کھو دیتی ہے۔’’
    ان کی بات سنتے ہوئے مجھے اپنے وطن کے وہ دریائی علاقے یاد آئے جہاں سورج کی روشنی بے دریغ پڑتی ہے مگر بجلی کا نام نہیں۔ میں نے دل ہی دل میں خواہش کی کہ کبھی ہمارے نوجوان بھی فطرت کو دشمن نہیں، دوست سمجھیں۔ شاید تب ہمارے دیہاتوں میں بھی وہی روشنی اترے جو یونان کے ان پہاڑوں پر چھائی ہوئی ہے۔
    گاؤں سے واپسی پر میں نے ایک چھوٹی لڑکی کو دیکھا جو سورج کی کرنوں سے کھیل رہی تھی۔ وہ ہاتھوں سے سایہ بناتی اور پھر قہقہہ لگاتی۔ میں مسکرا دی۔ یہی روشنی کی اصل طاقت ہے، کہ یہ خوشی پیدا کرتی ہے، زندگی میں رقص بھر دیتی ہے۔
    واپسی پر
    بیجنگ کی خنک ہوا میں اترتے ہوئے مجھے یونان کے سورج کی حرارت یاد آئی۔ مگر یہاں روشنی کسی اور روپ میں تھی۔ شیشے کی عمارتوں، کمپیوٹر اسکرینوں اور سفید لیبارٹری کوٹوں میں لپٹی ہوئی۔ میں آج بیجنگ جینوم انسٹیٹیوٹ آئی تھی، جہاں انسان کے جینز، یعنی زندگی کے خفیہ کوڈ، پڑھے اور سمجھے جاتے ہیں۔
    یہاں ہر چیز خاموش تھی، مگر اس خاموشی میں ایک عجیب سی روانی تھی، جیسے خود زندگی کسی پوشیدہ زبان میں بات کر رہی ہو۔
    استقبالیہ پر میرا خیر مقدم ایک چینی خاتون سائنسدان نے کیا، جس کا نام ‘‘ڈاکٹر ژاؤ’’ تھا۔ ان کی آنکھوں میں وہی شوق جھلک رہا تھا جو کسی مصور کے ہاتھوں میں رنگ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے۔ ہم ایک بڑے ہال میں داخل ہوئے جہاں سینکڑوں مشینیں دھیمی آواز میں چل رہی تھیں۔ اسکرینوں پر انسانی ڈی این اے کے طویل دھاگے لہروں کی طرح دوڑ رہے تھے۔ رنگوں کی ایک نظم، جو کہیں موت، کہیں زندگی، اور کہیں امید کے اشارے دے رہی تھی۔
    میں نے ڈاکٹرژاؤ سے پوچھا، ‘‘آپ روزانہ ان لکیروں کو دیکھتی ہیں، کیسا لگتا ہے؟’’
    وہ مسکرا کر بولیں، ‘‘یوں لگتا ہے جیسے خدا نے اپنی صناعی کا مسودہ ہمارے سامنے رکھ دیا ہو، اور ہم اس کے حروف پہچاننے کی کوشش کر رہے ہوں۔’’
    ان کی بات سنتے ہی میرے دل میں ایک عجب سکون اتر گیا۔ میں نے سوچا، شاید علم کا سب سے مقدس لمحہ وہی ہے جب انسان خالق کے رازوں کو جاننے کی جستجو میں عاجز ہو جاتا ہے۔
    ایک نوجوان ریسرچر نے مجھے بتایا کہ یہاں کینسر اور الزائمر پر نئی دوائیں تیار ہو رہی ہیں، اور بعض مریضوں کے جینز کو درست کر کے انہیں نئی زندگی دی جا رہی ہے۔ اس نے کہا، ‘‘ہم بیماری کو مٹانے نہیں، بلکہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب سمجھ آ جائے تو علاج خود بخود جنم لیتا ہے۔’’
    یہ الفاظ میرے ذہن میں دیر تک گونجتے رہے۔ سمجھ علاج بن جاتی ہے۔
    لیبارٹری کے ایک کونے میں ایک شیشے کے پیچھے چند جین انجینئرز کسی نایاب بیماری پر تجربہ کر رہے تھے۔ میں نے سکرین پر ایک خلیے کو تقسیم ہوتے دیکھا۔ جیسے کوئی ننھا چراغ جل رہا ہو۔ لمحہ بھر کو یوں لگا جیسے میں کائنات کے اندر جھانک رہی ہوں، جہاں خدا نے زندگی کا پہلا نقشہ کھینچا تھا۔
    میں نے سوچا

    یونان کے پہاڑوں میں سورج روشنی دیتا تھا، یہاں علم خود روشنی بن گیا ہے۔
    حیاتیاتی سائنس میں بھی چین نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ بیجنگ جینوم انسٹیٹیوٹ (BGI) آج دنیا کے بڑے جینیاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں کینسر، الزائمر اور نایاب بیماریوں کے علاج کے لیے جین تھراپی کے درجنوں تجربے جاری ہیں۔ یہی نہیں، زرعی جینیات میں ‘‘Hybrid Rice 3.0’’ کے منصوبے نے اناج کی پیداوار میں تیس فی صد اضافہ ممکن بنا دیا ہے
    مجھے شدت سے احساس ہوا کہ شمسی پینل ہوں یا ڈی این اے کی زنجیریں دونوں ایک ہی حقیقت کی علامت ہیں: توانائی۔ ایک بیرونی روشنی ہے، دوسری اندرونی۔
    انسان کی اصل تلاش شاید یہی ہے کہ وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کر دے تاکہ جسم اور روح دونوں روشن رہیں۔
    ڈاکٹرژاؤ نے جاتے جاتے کہا، ‘‘علم جتنا گہرا ہوتا ہے، انسان اتنا ہی نرم ہو جاتا ہے۔’’میں نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہاں کوئی غرور نہیں تھا، بس شکر گزاری۔ اور یہی لمحہ میرے لیے علم کی سب سے بڑی تعریف بن گیا۔
    چین میں رہتے ہوئے اب چار برس ہو گئے ہیں۔ وقت کا احساس تب ہوتا ہے جب کسی جگہ کا موسم آپ کے اندر اترنے لگے۔ بیجنگ کی خزاں اب میرے دل کی دیواروں پر بھی سنہری پتے چپکا گئی ہے۔ میں اکثر باورچی خانے کی کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوں۔ سامنے آسمان پر کبھی دھوپ، کبھی دھند، اور نیچے چلتی ہوئی زندگی۔ اسی منظر کے بیچ میں میں نے سیکھا ہے کہ دنیا کتنی بدل رہی ہے، اور ہم عورتیں بھی اس تبدیلی کا خاموش حصہ ہیں۔میں اکثر سوچتی ہوں کہ
    یہاں کے لوگ اپنے کام میں ایسے مگن رہتے ہیں جیسے وقت ان کے ہاتھوں میں پگھلتا جا رہا ہو۔ مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے کہ یہ قوم اتنی خاموشی سے ترقی کر رہی ہے، اور ہم نے ہمیشہ شور میں خواب دیکھے۔
    دو دن پہلے میں نے ایک ڈاکومنٹری دیکھی جس میں بیجنگ کے جینوم انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں کو دکھایا جا رہا تھا۔ وہ انسانی ڈی این اے پر تحقیق کر رہے تھے۔ وہی نازک زنجیریں جو زندگی کے تمام راز اپنے اندر چھپائے بیٹھی ہیں۔ اسکرین پر جب وہ رنگین خاکہ ابھرا تو میں ٹھٹک گئی۔ لگا جیسے کسی نے کائنات کے اندر جھانکنے کا دروازہ کھول دیا ہو۔میں نے خود سے کہا، ‘‘انسان کہاں تک پہنچ گیا ہے۔’’اور پھر دل کے کسی کونے سے ایک نرم سی آواز آئی، ‘‘ہاں، مگر کیا وہ خود تک پہنچ پایا ہے؟
    بیجنگ کی خزاں آہستہ آہستہ اپنے رنگ گہرا کر رہی تھی۔ درختوں کے پتے زرد ہو کر زمین پر ایسے بکھرے تھے جیسے کسی نے وقت کے صفحے پر یادیں چھڑک دی ہوں۔ میں نے چائے کا کپ کھڑکی کے پاس رکھا اور باہر دیکھا روشنی کی نرم لکیریں آسمان سے اتر کر شہر کے چہروں پر پھیل رہی تھیں، مگر میرے دل میں ایک ہلکی سی اداسی تھی۔ شاید علم کا سفر جتنا باہر جاتا ہے، اتنا ہی اندر لوٹ آتا ہے۔
    گزشتہ ہفتے میں پیکنگ یونیورسٹی کے فلسفہ ڈیپارٹمنٹ گئی تھی۔ وہاں طلبہ اور محققین مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اثرات پر گفتگو کر رہے تھے۔ ایک چینی نوجوان نے کہا

    ‘‘ہم اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا روبوٹ بھی اخلاق سیکھ سکتے ہیں؟’’
    یہ جملہ میرے ذہن میں ٹھہر گیا۔ میں نے سوچا، انسان نے مشین کو سوچنا سکھا دیا، مگر کیا وہ خود احساس کا ہنر سنبھال سکا؟ ہم جتنا عقل میں بڑھتے گئے، اتنا ہی دل کی سرگوشی مدھم پڑتی گئی۔
    ‘‘ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا روبوٹ بھی اخلاق سیکھ سکتے ہیں۔’’
    یہ سوال محض سائنسی نہیں، انسانی ہے اور شاید یہی علم کی اگلی منزل ہے۔
    فطرت کے تحفظ میں بھی چین دنیا کو نیا سبق دے رہا ہے۔ ‘‘گرین سٹی 2035’’ پروگرام کے تحت نوّے شہروں میں اربن فاریسٹ بن رہے ہیں، اور بیجنگ و شنگھائی کی نصف سے زیادہ بجلی اب قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں چین پہلے ہی دنیا کا نمبر ایک ملک بن چکا ہے۔
    یوں محسوس ہوتا ہے کہ چین علم اور فطرت کے درمیان وہ توازن قائم کر رہا ہے جو باقی دنیا کہیں کھو بیٹھی ہے۔
    یہاں مشینیں انسان کے تابع ہیں، انسان مشینوں کے نہیں۔
    اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں علم، اخلاق اور روشنی ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں جہاں ترقی صرف طاقت نہیں، بلکہ شعور کی علامت بن جاتی ہے‘‘شاید علم کی اگلی منزل وہ نہیں جہاں ہم روبوٹ کو انسان بنائیں،
    بلکہ وہ جہاں انسان خود کو دوبارہ انسان ثابت کرے۔’’
    اور اس لمحے بیجنگ کی فضا میں ایک ہلکی ہوا چلی جیسے کسی نے سرگوشی میں کہا ہو، روشنی ہمیشہ اندر سے شروع ہوتی ہے۔’’

  • پاکستان افریقہ اکنامک کونسل: امکانات سے عمل تک کا سفر……شیخ راشد عالم

    پاکستان افریقہ اکنامک کونسل: امکانات سے عمل تک کا سفر……شیخ راشد عالم

    دنیا تیزی سے اقتصادی تعلقات کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اب طاقت صرف عسکری یا سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ معاشی تعاون اور تجارتی تعلقات پر استوار ہوتی ہے۔ ایسے میں پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کا قیام ایک خوش آئند اور بصیرت افروز قدم ہے۔ یہ محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک سوچ ہے، ایک وژن ہے جو پاکستان کو افریقہ کی ابھرتی ہوئی منڈیوں سے جوڑنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ میں اس اقدام کو پاکستان کی اقتصادی سمت میں ایک نئے باب کے طور پر دیکھتا ہوں ایک ایسا باب جو اگر درست حکمتِ عملی سے آگے بڑھایا جائے تو آنے والے برسوں میں ملک کی معیشت کو ایک نئی شناخت دے سکتا ہے۔
    پاکستان اور افریقہ کے درمیان تعلقات کی تاریخ پرانی ضرور ہے مگر اس کی معاشی جہت ابھی پوری طرح اجاگر نہیں ہوئی۔ افریقہ کے پاس قدرتی وسائل کی فراوانی ہے، نوجوان آبادی کی اکثریت ہے، اور ترقی کی بے پناہ گنجائش ہے۔ دوسری جانب پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس صنعتی ڈھانچہ، افرادی مہارت اور کاروباری ذہانت موجود ہے۔ اگر یہ دونوں خطے ایک منظم حکمتِ عملی کے ساتھ تعاون بڑھائیں تو نتائج صرف تجارتی سطح پر نہیں بلکہ سماجی و اقتصادی تبدیلی کی صورت میں بھی سامنے آئیں گے۔
    پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ دونوں خطوں کے درمیان تعلقات کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم رسمی ملاقاتوں یا وقتی معاہدوں سے آگے بڑھ کر ایسے مستقل میکنزم تیار کریں جو تجارتی تعلقات کو دیرپا بنا سکیں۔ یہ کونسل نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گی بلکہ کاروباری معلومات، قانونی فریم ورک، اور اعتماد سازی کے عمل کو بھی مضبوط بنائے گی۔
    افریقہ کے بارے میں ایک غلط فہمی عام ہے کہ وہ محض امداد یا بیرونی سرمایہ پر انحصار کرنے والا براعظم ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ افریقہ اس وقت دنیا کے سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطوں میں شامل ہے۔ نائجیریا، کینیا، جنوبی افریقہ، ایتھوپیا اور گھانا جیسے ممالک اپنی مضبوط داخلی منڈیوں، توانائی کے ذخائر اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے سبب بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے مرکزِ توجہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اگر درست وقت پر قدم اٹھاتا ہے تو یہ ایک تاریخی موقع ہوگا۔
    بدقسمتی سے پاکستان کی تجارتی پالیسی ماضی میں محدود دائرے میں رہی۔ ہم نے زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ، چین اور یورپی منڈیوں تک اپنے روابط محدود رکھے، جبکہ افریقہ جیسے براعظم کو نظرانداز کیا گیا۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اور ابھرتی ہوئی معیشتیں افریقہ میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہی ہیں۔ چین کا “بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبہ ہو یا خلیجی ممالک کی زراعت و توانائی میں سرمایہ کاری، سب افریقہ کی طرف متوجہ ہیں۔ ایسے میں پاکستان اگر پیچھے رہا تو یہ ایک بڑی حکمتِ عملی کی غلطی ہوگی۔
    پاکستان افریقہ اکنامک کونسل اس خلا کو پْر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس فورم کے ذریعے پاکستانی تاجر، صنعتکار، اور سرمایہ کار افریقہ کی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو منظم انداز میں قائم کر سکیں گے۔ اسی طرح افریقی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے محفوظ مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ یہ دوطرفہ تعاون نہ صرف تجارت بڑھائے گا بلکہ دونوں خطوں کے درمیان سیاسی اور ثقافتی تعلقات کو بھی مستحکم کرے گا۔
    اس کونسل کے قیام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ پاکستان کے نجی شعبے کو عالمی سطح پر متحرک کرے گا۔ ہمیں اب سرکاری معاہدوں یا امداد کے ماڈل سے نکل کر پرائیویٹ سیکٹر کو مرکزی کردار دینا ہوگا۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو افریقہ کی زراعت، ٹیکسٹائل، تعمیرات، توانائی، تعلیم، اور صحت کے شعبوں میں شمولیت کے لیے تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے میدان میں بھی دونوں خطوں کے درمیان شراکت کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل مستقبل کے ایک بڑے وژن کی علامت ہے۔ یہ وژن محض تجارت کا نہیں بلکہ ترقی کے اشتراک کا ہے۔ افریقہ کے پاس وسائل ہیں، پاکستان کے پاس مہارت اور افرادی قوت۔ جب یہ دونوں قوتیں ملیں گی تو ایک نئی اقتصادی حقیقت جنم لے گی۔ لیکن یہ خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب پاکستان پالیسی کی سطح پر تسلسل، شفافیت اور عملی حمایت فراہم کرے۔
    میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس کونسل کو صرف کارپوریٹ سرگرمیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے تعلیمی اور تحقیقی سطح پر بھی وسعت دینی چاہیے۔ یونیورسٹیوں، تھنک ٹینکس، اور تجارتی اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔ ہمیں افریقہ کے سیاسی و اقتصادی ماحول کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے تحقیقی تعاون بڑھانا ہوگا۔ اس کے بغیر کاروباری منصوبے محض خواب ہی رہیں گے۔
    پاکستان کے سرمایہ کاروں کے لیے افریقہ میں سرمایہ کاری کے خطرات ضرور موجود ہیں مگر مواقع ان سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ مواقع صرف وہی حاصل کر سکتے ہیں جو طویل مدتی وژن رکھتے ہیں۔ افریقہ اب ماضی کا وہ خطہ نہیں رہا جہاں صرف مسائل کی بات کی جاتی تھی۔ آج وہاں امکانات، استحکام اور ترقی کے نئے دروازے کھل چکے ہیں۔
    آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان افریقہ اکنامک کونسل کا قیام محض ایک رسمی اقدام نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ اگر نیت اور نظم و ضبط کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو آنے والے وقت میں پاکستان کی معیشت کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ ہمیں اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ اپنی معیشت کو عالمی تناظر میں نئے خطوط پر استوار کرے اور افریقہ کے ساتھ تعلقات کو ایک پائیدار شراکت داری میں تبدیل کرے۔
    یہ کونسل ایک خواب ہے مگر وہ خواب جو حقیقت بن سکتا ہے اگر ہم اسے عزم، عقل اور عملی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ افریقہ ہمارا مستقبل کا شراکت دار ہے، اور پاکستان اس شراکت داری کا قدرتی مرکز یہی سوچ آج کے پاکستان کو ایک روشن اقتصادی کل کی طرف لے جا سکتی ہے۔

  • کنیکٹیکٹ میں شا ندار “فنڈ ریزنگ ڈنر و مشاعرہ” …..حمیرا گل تشنہ

    کنیکٹیکٹ میں شا ندار “فنڈ ریزنگ ڈنر و مشاعرہ” …..حمیرا گل تشنہ

    گزشتہ دنوں امریکا کے شہر کنیکٹیکٹ ہیلپنگ ہینڈ اور پیکٹ کے زیر اہتمام ایک شاندار “فنڈ ریزر ڈنر و مشاعرہ” کا اہتمام مقامی ریسٹورنٹ “لذیذ” میں کیا گیا۔ ہیلپنگ ہینڈ کے روح رواں، ہمایوں کبیر اور پیکٹ کے صدر ظہیر شرف اور ناصر چیمہ جو کہ سماجی اور کمیونٹی کی متحرک شخصیات ہیں، انہوں نے مہمانان کا استقبال کیا۔ پروگرام کے پہلے حصے میں فنڈ ریزنگ کے تعلق سے آگاہی دی گئی دوران وقفہ مہمانوں کے لیے طعام اور چائے کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔مسند نشین شعراء کو پھول اور مقامی شعراء کو تحائف پیش کیے گئے۔
    مشاعرہ میں کیلیفورنیا، امریکا کے ممتاز شاعر عرفان مرتضی کو اس کار خیر کے لیے بطور خاص مدعو کیا گیا۔ مشاعرے کی مسند صدارت پر ممتاز شاعر ن م دانش جلواہ افروز رہے، مہمانان خصوصی کی نشستوں پر ممتاز شاعر عرفان مرتضی کیلیفورنیا سے تشریف لائے اور ممتاز شاعر عامر بیگ نیو جرسی سے موجود رہے یاد رہے مشاعرے کے نظامتی فرائض کی ادائی راقم ناچیز یعنی حمیرا گل تشنہ نے انجام دئیے
    مشاعرہ میں جن شعرا و شاعرات نے شرکت فرمائی ان کے اسم گرامی یہ ہیں صدارت ن م دانش، مہمان خصوصی عرفان مرتضی، مہمان خصوصی عامر بیگ، حمیرا گل تشنہ ،زاہدہ پروین، شگفتہ قریشی، مائدہ سیٹھی، کاشف مختار، نرندر کمار، اور محمد صابر تمام شعرا نے شاندار کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ اس کے علاوہ فوزیہ صفوت نے مرحوم صفوت علی صفوت کا کلام پیش کر کے صفوت علی صفوت کی یاد کو تازہ کیا۔ اختتام پر شرکا نے شاندار تقریب کے انعقاد پر،منتظمین کو مبارک باد پیش کی، اس شاندار تقریب کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔
    ہیلپنگ ہینڈ اور پیکٹ سے وابستہ احباب نے آئندہ بھی ادبی تقریبات کے انعقاد کے تعلق سے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ہم آئندہ بھی تسلسل سے ایسے فنڈ ریزر اور شاعری کی شاندار تقریبات کا اہتمام کرتے رہیں۔
    اختتام مشاعرہ کے وقت منتظمین نے تمام شعرا کا شکریہ ادا کیا، اور مہمانان گرامی سے رخصت لی۔
    سامعین اپنی نشستوں پر شروع سے آخر تک مشاعرہ گاہ میں موجود رہے اور شعرا کو دل کھول کر داد دیتے رہے۔ ایسے مشاعرے کنیکٹیکٹ میں کم کم دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن ان کا اثر تا دیر لوگوں کے اذہان پر رہتا ہے۔

  • دبئی کی لگژری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں  ماریہ انور ،، اعتماد، وژن اور کامیابی کی علامت

    دبئی کی لگژری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں ماریہ انور ،، اعتماد، وژن اور کامیابی کی علامت

    اسٹیٹ میگزین دبئی
    ترجمہ: نشید آفاقی
    کنزیومرواچ کراچی
    دبئی ، چمکتی روشنیوں، جدید طرزِ زندگی اور شاندار عمارتوں سے مزین خوابوں کا شہر، لیکن اس شہر کے چمکتے افق کے پیچھے کچھ ایسی شخصیات بھی ہیں جنہوں نے اپنی محنت، وژن اور لگن سے اپنا الگ مقام بنایا ہے۔ انہی میں ایک نام ماریہ انور کا بھی ہے جو آج دبئی کی لگژری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں اعتماد، شفافیت اور کامیابی کی پہچان بن چکا ہے۔ماریہ کی والدہ عینی انور ایک بہترین رائٹر ہیں ان کو قلم پربھرپور گرفت حاصل ہے وہ معاشرے کے جیتے جاگتے کرداروں کو اپنی کہانیوں میں لڑی کی طرح پروتی ہیں ماریہ انور بھی عینی انور کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی فیلڈ میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں

    لگژری گھروں کی دنیا میں مہارت کا سفر
    ماریہ انور کا سفر آسان نہیں تھا۔ مگر اْن کی گہری سمجھ بوجھ، مارکیٹ پر مضبوط گرفت اور کلائنٹس کے لیے خلوص نے انہیں ایک ممتاز حیثیت دلائی۔ وہ جانتی ہیں کہ دبئی میں گھر خریدنا صرف سرمایہ کاری نہیں بلکہ خواب کی تکمیل ہے۔ اسی لیے وہ خریدار کے لیے ایسی پراپرٹی ڈھونڈتی ہیں جو نہ صرف وقار اور معیار کی علامت ہو بلکہ مستقبل میں بہترین منافع بھی دے۔

    خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی لگن
    ماریہ کے نزدیک ہر کلائنٹ ایک نیا خواب ہے۔ وہ ہر کلائنٹ کے ساتھ ایسابرتاؤ کرتی ہیں جیسے وہ اْن کے اپنے خواب کی تعبیر کر رہی ہوں۔ وہ ذاتی نوعیت کی حکمتِ عملی تیار کرتی ہیں، ہر مرحلے پر رہنمائی دیتی ہیں اور فیصلے کو آسان بنا دیتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اْن کے زیادہ تر کلائنٹ اْنہیں دوبارہ منتخب کرتے ہیں کیونکہ ماریہ صرف پراپرٹی نہیں خواب بیچتی ہیں

    اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری
    دبئی کا پراپرٹی مارکیٹ دنیا کے سب سے متحرک شعبوں میں سے ایک ہے، مگر اس میں کامیابی صرف اْنہی کو ملتی ہے جو سمجھداری سے قدم اٹھائیں۔ ماریہ انور اپنے گاہکوں کو مارکیٹ ٹرینڈز، کرایہ کی شرح، اور مستقبل کی ترقی کے امکانات کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ درست علم ہی بہترین سرمایہ کاری کی بنیاد ہے۔

    دبئی کے نمایاں مقامات پر گہری نظر

    پام جمیرا سے ڈاؤن ٹاؤن دبئی تک، ماریہ کو شہر کے ہر گوشے کی گہری معلومات ہیں، وہ جانتی ہیں کہ کون سا علاقہ صرف آج نہیں بلکہ آنے والے کل میں بھی اپنی قدر برقرار رکھے گا۔ اْن کی یہ بصیرت ہی اْنہیں دوسروں سے منفرد بناتی ہے کیونکہ وہ ہر خریدار کو اْس جگہ تک پہنچاتی ہیں جو اْس کے طرزِ زندگی اور خوابوں کے عین مطابق ہو۔

    رابطے نہیں، رشتے بنانا
    ماریہ انور کا ماننا ہے کہ رئیل اسٹیٹ کا اصل کام لوگوں سے جڑنا ہے، صرف سودے مکمل کرنا نہیں۔ وہ ہرکلائنٹ کی زندگی، خواہشات اور اہداف کو سمجھنے کے لیے وقت نکالتی ہیں۔ یہی خلوص اْن کے تعلقات کو دیرپا اور مضبوط بناتا ہے۔ اْن کے کلائنٹ صرف مطمئن نہیں وہ ماریہ کے سفیر بن جاتے ہیں۔
    خدمات میں جدت کا نیا باب
    وقت کے ساتھ ساتھ ماریہ نے اپنے کام کے طریقے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے۔ وہ ڈیجیٹل ٹولز، مارکیٹ اینالیٹکس اور ورچوئل پراپرٹی ٹورز کے ذریعے اپنے گاہکوں کو سہولت فراہم کرتی ہیں۔ اْن کا مقصد ہے کہ کلائنٹ کو ہر ممکن آسانی، شفافیت اور درست معلومات میسر آئیں چاہے وہ دبئی میں ہوں یا دنیا کے کسی بھی کونے میں۔
    ہر لین دین میں اعتماد کی علامت
    ماریہ انور کے بارے میں اْن کے گاہک کہتے ہیں کہ وہ پْر اعتماد، پیشہ ور اور صبر و سکون کی علامت ہیں۔ وہ پیچیدہ لین دین کو آسان بنا دیتی ہیں، ہر سوال کا تفصیلی جواب دیتی ہیں، اور گاہکوں کو فیصلہ کرنے کا حوصلہ بخشتی ہیں۔ اْن کی موجودگی خود میں ایک اعتماد ہے جو ہر کامیاب لین دین میں جھلکتا ہے۔
    مستقبل کی سمت ، وژن اور ترقی
    ماریہ کا خواب صرف آج کی کامیابی نہیں، بلکہ مستقبل کی تعمیر ہے۔ وہ دبئی کی لگژری مارکیٹ میں نئے امکانات کی تلاش میں ہیں، تاکہ خریداروں اور سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اْن کی توجہ ہمیشہ کلائنٹ کے اطمینان اور شفافیت پر مرکوز رہتی ہے یہی ان کے کامیاب مستقبل کی ضمانت ہے۔
    Positive Properties LLC ، مہارت اور دیانت کا سنگم
    ماریہ انور Positive Properties LLC سے وابستہ ہیں، ایک ایسا ادارہ جو دبئی میں اعتماد، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید سروسز کے لیے مشہور ہے۔ کمپنی کے ساتھ ان کا تعاون اْنہیں مزید مضبوط بناتا ہے، کیونکہ یہاں ہر قدم کلائنٹ کے مفاد اور دیانت پر استوار ہے۔ ماریہ کی رہنمائی اور Positive Properties کا وژن ، دبئی کے رئیل اسٹیٹ کے سنہری امتزاج کی بہترین مثال ہے۔

    کیوں منتخب کریں ماریہ انور کو؟
    اگر آپ دبئی میں اپنے خوابوں کا گھر یا بہترین سرمایہ کاری کی تلاش میں ہیں، تو ماریہ انور وہ نام ہے جس پر آپ آنکھ بند کر کے بھروسہ کر سکتے ہیں۔ ان کی مہارت، خلوص، اور جدید طرزِ کار اْنہیں نہ صرف ایک ماہر ایجنٹ بلکہ ایک رہنما بناتے ہیں جو آپ کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔(@thehousehunters_ instagram id)

  • بھارتی آرمی چیف کا ذہنی انتشار سے بھرا بیان، عسکری قیادت شدید ذہنی بوکلاہٹ کا شکار

    بھارتی آرمی چیف کا ذہنی انتشار سے بھرا بیان، عسکری قیادت شدید ذہنی بوکلاہٹ کا شکار

    کراچی (کنزیومرواچ ڈیسک )بھارتی آرمی چیف کا باہمی تضادات اور ذہنی انتشار سے بھرا بیان، عسکری قیادت شدید ذہنی بوکلاہٹ کا شکار ہے۔معرکۂ حق میں بدترین ناکامی اور عالمی سطح پر رسوائی نے بھارتی عسکری و سیاسی قیادت کو شدید دباؤ میں دھکیل دیا ہے، عسکری کمزوریوں، بدترین آپریشنل کارکردگی اور اتمانبھر بھارت کی ناکامیاں دفاعی ڈھانچے کو لاغر ثابت کر چکی ہیں۔
    مودی سرکار کی ہندوتوا زدہ سیاسی ذہنیت نے عسکری قیادت پر غیرمعمولی سیاسی دباؤ مسلط کر رکھا ہے، جہاں وہ فلمی طرز کے بیانیے پیش کر کے اپنے آپ کو مہاتما ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
    ایسی کشمکش میں کبھی تین مہینے بعد سات طیارے مار گرانے کا دعویٰ کر دیا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردوں کے ٹھکانے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
    اسی سلسلے میں بھارتی آرمی چیف نے ایک اور متضاد اور کنفیوژن بھرا بیان دے کر صورتحال کو مزید مضحکہ خیز بنا دیا۔
    ایک طرف دعویٰ ہے کہ “ہندوستان نے کچھ اسلحہ استعمال کر کے پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا”، دوسری طرف اعتراف یہ ہے کہ “ایسی جنگ جیتنے کے لیے مزید اسلحہ خریدنا پڑے گا”
    یہ تضاد بھارتی عسکری قیادت کی بوکلاہٹ، غیرسمجھی اور عدم تیاری کا ثبوت ہے *آپریشن سندور* میں جھوٹی فتح کے ڈھول پیٹنے والے بھارتی آرمی چیف دراصل اپنی خفت مٹانے اور اندرونی انتشار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    چانکیا ڈیفنس ڈائیلاگ میں جنرل اوپیندر دویدی کا دھمکی آمیز مگر کمزور بیانیہ بھی اسی پریشانی کا اظہار ہے، جس میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ؛ “آپریشن سندور میں تو صرف ٹریلر دکھایا گیا، فلم تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی”
    اور پھر بھارتی آرمی چیف اسی سانس میں اپنے دفاعی کمزوریاں کھول کر رکھ دیتے ہیں؛ “کیا ہمارے پاس طویل جنگ کے لیے کافی ساز و سامان اور ہتھیار ہیں ؟ اگر نہیں تو فوری تیاری کی ضرورت ہے”
    یہ اعترافات بھارتی فوج کی *کمزور پیشہ وارانہ صلاحیت، نااہل سیاسی قیادت، اور ناکام دفاعی منصوبہ بندی* کے زندہ ثبوت ہیں اور ساتھ ہی اس حقیقت کا اظہار کہ بھارتی عسکری قیادت اس وقت پالیسی، حکمتِ عملی اور تیاری، تینوں محاذوں پر شدید ذہنی انتشار سے گزر رہی ہے۔

    facebook