Blog

  • آرمی چیف کی والدہ انتقال پر صدر، وزیراعظم اور اہم شخصیات کا اظہار تعزیت

    آرمی چیف کی والدہ انتقال پر صدر، وزیراعظم اور اہم شخصیات کا اظہار تعزیت

    راولپنڈی (کنزیومرواچ نیوز)آرمی چیف کی والدہ گزشتہ شب قضائے الہٰی سے انتقال کر گئیں، صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سمیت اہم شخصیات نے سربراہ پاک فوج سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی والدہ کےانتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ سوگوار خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، وزیراعظم نے مرحومہ کے لیے بلند درجات کی دعا بھی کی۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر ریلوے حنیف عباسی، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی پاک فوج کے سربراہ سے اظہار تعزیت کیا۔

  • کوئٹہ سے اندرون ملک کے لیے ٹرین سروس 14 ویں روز بھی معطل

    کوئٹہ سے اندرون ملک کے لیے ٹرین سروس 14 ویں روز بھی معطل

    کوئٹہ (کنزیومرواچ نیوز)جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد کوئٹہ سے اندرون ملک کے لیے ٹرین سروس 14 ویں روز بھی معطل رہی ، حکام نے ٹرین سروس کی بحالی کیلئے اجلاس طلب کر لیا۔ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ سے پشاور کیلئے جعفر ایکسپریس اور کراچی کے لیے بولان میل تاحال بحال نہیں ہو سکی۔ ٹرین سروس کی معطلی کے باعث مسافروں کو مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے۔ترجمان پاکستان ریلوے کے مطابق بلوچستان میں ٹرین سروس بحالی کے لیے کل بدھ کو اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں ٹرین سروس کی بحالی کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔حکام کے مطابق اندرونِ ملک کے لیے ٹرین سروس سکیورٹی کلیئرنس کے بعد بحال کی جائے گی۔

  • کراچی میں خونی واٹر ٹینکر نے پورا خاندان ہی اُجاڑ دیا

    کراچی میں خونی واٹر ٹینکر نے پورا خاندان ہی اُجاڑ دیا

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)کراچی میں خونی واٹر ٹینکر نے پورے کا پورا خاندان ہی اجاڑ دیا۔ملیر ہالٹ بس اسٹاپ کے قریب واٹر ٹینکر نے موٹرسائیکل پر سوار میاں بیوی کو کچل دیا۔ خاتون حاملہ تھی، حادثے کے بعد کچھ سانسیں چل رہی تھیں۔ حوا کی بیٹی نے معصوم زندگی کو جنم دیا اور چل بسی۔نومولود کی بچانے کیلئے لوگ لپکے معصوم کو ہاتھوں میں اٹھایا۔ اسپتال بھاگے مگر وہ بھی سانسیں نہ لے سکا۔عبدالقیوم اور زینب کی شادی کو ایک سال ہوا تھا ۔ شوہر اہلیہ کو چیک اپ کیلئے اسپتال لے جارہا تھا۔ ڈرائیورکو گرفتارکرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔واقعے کے بعد عوام مشتعل ہوئے ٹینکر میں توڑپھوڑ کی۔ آگ لگانے کی بھی کوشش کی تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر ٹینکر تحویل میں لیا، اور ڈرائیور اور کلینر کو گرفتار کرلیا۔پولیس کا بتانا ہے کہ حادثہ مبینہ طور پر بریک فیل ہوجانے کے باعث پیش آیا ہے، مزید تفتیش جاری ہے۔

  • معمول سے کم بارشیں، 3 صوبوں میں خشک سالی کا الرٹ جاری

    معمول سے کم بارشیں، 3 صوبوں میں خشک سالی کا الرٹ جاری

    کراچی(کنزیومرواچ نیوز)محکمہ موسمیات نے سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں خشک سالی کا الرٹ جاری کردیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیر کو جاری کیے گئے الرٹ کے مطابق سندھ، بلوچستان کے جنوبی حصوں اور پنجاب کے نچلے مشرقی میدانی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال برقرار رہے گی۔یہ الرٹ حالیہ بارشوں کے باوجود جاری کیا گیا ہے، جس نے ملک کے وسطی اور بالائی حصوں میں خشک سالی کی صورتحال کو بہتر بنایا تھا۔مارچ 2025 کے دوران ملک کے نچلے نصف حصے میں اوسط درجہ حرارت معمول سے 2 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔جنوبی خطے کے کچھ علاقوں میں لگاتار خشک موسم کو 200 دن سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا۔موجودہ موسمی اور آب و ہوا کے نقطہ نظر سے متاثرہ علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال میں مزید اضافہ اور شدت آنے کا امکان ہے۔

  • ڈیوڈ وارنر کراچی کنگز کے نئے “کپتان” بن گئے

    ڈیوڈ وارنر کراچی کنگز کے نئے “کپتان” بن گئے

    کراچی(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی معروف فرنچائز کراچی کنگز نے 10ویں ایڈیشن کیلئے کپتان تبدیل کرلیا۔قومی ٹیم کے ٹیسٹ کپتان شان مسعود کراچی کنگز میں اب بطور عام کھلاڑی کے طور پر پلئینگ الیون کا حصہ ہوں گے، پی ایس ایل کے گزشتہ ایڈیشن میں کپتانی کی ذمہ داری انہی کے سپرد تھی۔ورلڈکپ جیتنے والے تجربہ کار اوپنر ٹی20 کرکٹ میں جارحانہ بیٹنگ کیلئے مشہور ہیں، وہ کراچی کنگز کی قیادت کرتے ہوئے ٹیم کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پْرعزم ہیں، وارنر بگ بیش سمیت دنیا کی مختلف لیگز میں قیادت کرچکے ہیں۔کراچی کنگز نے 13 جنوری کو حضوری باغ لاہور میں منعقدہ پلیئرز ڈرافٹ 2025 میں کراچی کنگز نے اپنی پہلی ترجیح کے طور پر انھیں منتخب کیا تھا۔

  • پاکستان 13 ہزار گلیشیئرز والا دنیا کا اکلوتا ملک

    پاکستان 13 ہزار گلیشیئرز والا دنیا کا اکلوتا ملک

    لاہور(کنزیومرواچ نیوز)وطن عزیز آرکٹک اور انٹارکٹکا کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ گلیشیئرز رکھنے کا اعزاز رکھتا ہے جو اس کی ’’سافٹ پاور‘‘ بھی بن رہے ہیں۔چند ماہ قبل اطالوی ماہرین نے تحقیق میں دریافت کیا کہ پاکستانی پہاڑی سلسلوں میں 13 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں۔یہ پاکستان اور بھارت کے ’’30 کروڑ‘‘ باشندوں کو زرعی و گھریلو مقاصد کے لیے ’’75 فیصد‘‘ پانی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستانی زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں اور سالانہ لاکھوں سیاح انھیں دیکھنے آ سکتے ہیں۔بْری خبر یہ کہ گلوبل وارمنگ سے یہ تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں۔ مشہور پاسو گلیشیئر پچھلے تیس برس سے ’’10 فیصد‘‘ پگھل چکا ہے۔انھیں ختم ہونے سے بچانے کے لیے حکومت فوراً ٹھوس اقدامات کرے تاکہ پاکستان میں پانی اور کمیِ خوراک کا سنگین بحران جنم نہ لے۔

  • امریکا میں رمضان اور پاکستانیوں کے معمولات…..- حمیرا گل تشؔنہ

    امریکا میں رمضان اور پاکستانیوں کے معمولات…..- حمیرا گل تشؔنہ

    رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے نہایت مقدس اور روحانی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ مہینہ صرف روزے رکھنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں عبادت، توبہ، اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ بھی شامل ہوتا ہے۔ پاکستانی نژاد امریکی مسلمان بھی اس مقدس مہینے کو بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ امریکہ میں رہتے ہوئے، وہ اپنی ثقافتی روایات کو برقرار رکھتے ہیں اور ساتھ ہی امریکی معاشرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم پاکستانی امریکیوں کے رمضان کے مہینے کو منانے کے طریقوں، ان کے چیلنجز، اور اس مقدس وقت کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔

    رمضان کی تیاریاں
    رمضان کی آمد سے پہلے ہی پاکستانی امریکی گھرانوں میں تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ خواتین گھر کی صفائی، کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری، اور افطار و سحری کے لیے خصوصی پکوانوں کی تیاری میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ پاکستانی کھانوں جیسے پکوڑے، سموسے، کچوری، فروٹ چاٹ، اور حلوہ پوری کا رمضان میں خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی یہ لوگ اپنے روایتی کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ یہاں پر انہیں کچھ اجزاء کی کمی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے پاکستانی امریکی اپنے قریبی ایشین اسٹورز سے ضروری سامان خریدتے ہیں یا پھر آن لائن شاپنگ کا سہارا لیتے ہیں۔

    مساجد اور اجتماعات
    امریکہ میں پاکستانی امریکی مسلمان اپنے علاقے کی مساجد میں جمع ہو کر تراویح کی نماز ادا کرتے ہیں۔ بڑے شہروں جیسے نیویارک، شکاگو، ہیوسٹن، اور لاس اینجلس میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے، جہاں پر مساجد میں رمضان کے خصوصی پروگرامز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان پروگرامز میں قرآن پاک کی تلاوت، درس و تدریس، اور افطار کے اجتماعات شامل ہوتے ہیں۔ یہ اجتماعات نہ صرف روحانی فوائد فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ پاکستانی امریکیوں کو اپنی ثقافت اور روایات سے جوڑے رکھنے کا بھی ایک ذریعہ ہیں۔

    مساجد میں افطار کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے جاتے ہیں۔ بہت سے پاکستانی امریکی خاندان مساجد میں افطار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ یہاں پر وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مساجد میں نوجوانوں کے لیے خصوصی پروگرامز بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں پر انہیں اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

    افطار اور سحری کا اہتمام
    رمضان کے دوران افطار اور سحری کا اہتمام پاکستانی امریکی گھرانوں میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ افطار کے وقت گھر کے تمام افراد اکٹھے ہو کر روزہ کھولتے ہیں۔ پاکستانی کھانوں کے علاوہ، امریکی کھانے جیسے پیزا، برگر، اور سلاد بھی افطار میں شامل ہو سکتے ہیں۔ سحری کے وقت گھر کے افراد جلدی اٹھتے ہیں اور ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ یہ وقت خاندان کے افراد کے درمیان قربت بڑھانے کا بھی ایک موقع ہوتا ہے۔

    بہت سے پاکستانی امریکی خاندان افطار کے لیے اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کو بھی مدعو کرتے ہیں۔ یہ روایت نہ صرف ان کے تعلقات کو مضبوط بناتی ہے بلکہ یہ امریکی معاشرے میں اسلام کی مثبت تصویر پیش کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ افطار کے دوران لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تجربات اور خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں، جو کہ ایک مثبت ماحول پیدا کرتا ہے۔

    چیلنجز اور مشکلات
    امریکہ میں رمضان منانے کے دوران پاکستانی امریکیوں کو کئی چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج روزے کے اوقات کار کا ہوتا ہے۔ گرمیوں کے مہینوں میں دن لمبے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے روزے کا وقت بھی طویل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، کام کے اوقات اور اسکول کے شیڈول میں تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنا اور عبادات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    ایک اور چیلنج ثقافتی فرق کا ہوتا ہے۔ امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے، پاکستانی امریکیوں کو اپنے مذہبی تہواروں کو منانے میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر، رمضان کے دوران کام کی جگہ پر روزہ رکھنے والے افراد کو کھانے پینے کے معاملات میں احتیاط برتنی پڑتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے ساتھیوں کو رمضان کے بارے میں بتاتے ہیں تاکہ وہ ان کی مدد کر سکیں۔

    نوجوان نسل اور رمضان
    پاکستانی امریکی نوجوان نسل کے لیے رمضان کا مہینہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ نوجوان اپنے والدین کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکی معاشرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت سے نوجوان مساجد میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور رمضان کے دوران اپنے ایمان کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ رمضان کے پیغامات کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔

    نوجوان نسل کے لیے رمضان کا مہینہ ایک موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو تلاش کریں۔ وہ اپنے دوستوں کو رمضان کے بارے میں بتاتے ہیں اور اس مہینے کی اہمیت کو سمجھاتے ہیں۔ یہ نوجوان نسل نہ صرف اپنی روایات کو برقرار رکھتی ہے بلکہ وہ امریکی معاشرے میں اسلام کی مثبت تصویر پیش کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    خیرات اور خدمت خلق
    رمضان کا مہینہ خیرات اور خدمت خلق کا بھی ہوتا ہے۔ پاکستانی امریکی اس مہینے میں غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ زکوٰۃ اور فطرہ ادا کرتے ہیں اور مقامی خیراتی اداروں کو عطیات دیتے ہیں۔ مساجد میں اور مقامی تنظیموں کے طفیل بڑے پیمانے پر چندہ جمع کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ اپنے علاقے میں افطار کے پروگرامز کا اہتمام کرتے ہیں، جہاں پر ہر مذہب اور ثقافت کے لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف ان کے ایمان کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ وہ امریکی معاشرے میں مثبت تاثر بھی قائم کرتے ہیں۔

    عید الفطر کی تیاریاں
    رمضان کے اختتام پر عید الفطر کا تہوار منایا جاتا ہے۔ پاکستانی امریکی اس تہوار کو بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ اس سلسلے میں رمضان کے آخری عشرے میں مختلف مقامات پر عید کے میلے سجائے جاتے ہیں۔ جہاں سے لوگ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے عید پر زیب تن کیے جانے والے لباس، جوتے اور دیگر چیزوں کی خریداری کرتے ہیں۔ لڑکیاں چاند رات کو خصوصی مہندی لگوا کر اپنی تیاری مکمل کرتے ہیں۔ عید پر سب نئے کپڑے پہنتے ہیں، عید کی نماز ادا کرتے ہیں، اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملتے ہیں۔ عید کے موقع پر خصوصی کھانے تیار کیے جاتے ہیں، اور بچوں کو عیدی دی جاتی ہے۔ یہ تہوار نہ صرف خوشیوں کا پیغام دیتا ہے بلکہ یہ پاکستانی امریکیوں کو اپنی ثقافت اور روایات سے جوڑے رکھنے کا بھی ایک ذریعہ ہوتا ہے۔

    اختتامیہ
    رمضان المبارک کا مہینہ پاکستانی امریکیوں کے لیے نہ صرف روحانی بلکہ ثقافتی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ یہ مہینہ انہیں اپنے ایمان کو مضبوط بنانے، اپنی ثقافت کو برقرار رکھنے، اور امریکی معاشرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ انہیں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اس مقدس مہینے کو بڑی عقیدت اور جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ رمضان کا یہ پیغام کہ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہیں اور دوسروں کی مدد کریں، پاکستانی امریکیوں کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ یہ مہینہ انہیں اپنے خاندان، دوستوں، اور معاشرے کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

  • چین میں رمضان خاموش،پاکستان کی رونقیں یادآتی ہیں…ارم زہرا چین

    چین میں رمضان خاموش،پاکستان کی رونقیں یادآتی ہیں…ارم زہرا چین

    ‎رمضان کا آخری عشرہ چل رہا ہے۔ وہ عشرہ جب وقت کی رفتار جیسے تھم سی جاتی ہے، دن کی تپتی ہوئی ساعتیں دھیرے دھیرے گھلتی ہیں، اور دل میں ایک عجیب سی اداسی اترتی ہے۔ کراچی، لاہور یا کسی بھی مسلم شہر میں ہوتی تو شاید یہ اداسی کم ہوتی۔ وہاں ہر طرف رمضان کی رونقیں ہوتیں—سحری کی آوازیں، افطاری کی چہل پہل، مسجدوں میں تراویح کے لیے اُمڈتی ہوئی بھیڑ، اور وہ سڑکیں جو رات دیر تک عبادت گزاروں، دعا مانگنے والوں اور چائے کے کپ تھامے لوگوں سے آباد رہتی ہیں۔
    ‎مگر یہاں چین میں، رمضان کسی پرانی کتاب کے بوسیدہ صفحے کی طرح خاموش ہے۔ نہ کوئی خاص تبدیلی، نہ بازاروں میں کوئی ہلچل، نہ افطار کی رونقیں۔ زندگی کی رفتار وہی ہے جو ہر روز ہوتی ہے—دفاتر وقت پر کھلتے ہیں، ٹریفک اپنی دھن میں بہتا ہے، لوگ صبح سے شام تک اسی معمول میں جیتے ہیں جیسے کسی کو احساس ہی نہ ہو کہ ایک مقدس مہینہ اپنی تمام تر برکتوں کے ساتھ گزر رہا ہے۔ اور شاید یہی خاموشی مجھے اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر رہی ہے۔
    اور آج، اسی خاموشی میں، میرے ذہن کے دریچے میں ایک یاد شدت سے ابھری ، دیوارِ چین کا وہ دن، جب میں نے تاریخ کے اس عظیم شاہکار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ میرے ساتھ کے لوگ، جو اس گروپ کا حصہ تھے، اسے سکون کی تلاش کا سفر کہہ رہے تھے۔ ان کے لیے یہ ایک روحانی تجربہ تھا، ایک ایسا لمحہ جہاں وہ تاریخ، فطرت اور خاموشی میں اپنے اندر کا سکون ڈھونڈ رہے تھے۔
    لیکن میرے لیے سکون کی تلاش کسی طویل مسافت، کسی قدیم دیوار، یا کسی روحانی مقام کی محتاج نہیں تھی۔ میرے لیے تو سکون وہ تھا جو اللہ نے مجھے عطا کیا—عبادت میں، رمضان کی برکتوں میں، سجدوں کی گہرائی میں۔ جو راحت یہ لوگ پہاڑوں اور پرانی اینٹوں میں ڈھونڈ رہے تھے، وہ میرے دل کو مسجد کی خاموشی میں ملتی ہے، سحری کی پہلی روشنی میں، افطار کی پہلی دعا میں۔
    تو آئیے، آپ کو لیے چلتی ہوں چینیوں کے سکون کی اُس وادی میں ، جہاں ہر راہ مسافر کے دل کے مطابق اپنا مفہوم بدل لیتی ہے۔
    چین ایک ایسی سرزمین جہاں وقت کی گردش نے ایک عظیم تہذیب کو جنم دیا تھا، جہاں دیوارِ چین کے پتھروں میں تاریخ دفن تھی، جہاں بیجنگ کے شاہی محل کی سرخ دیواروں پر گزرے وقت کی بازگشت سنائی دیتی تھی، جہاں شاولن مندر میں مارشل آرٹس کے رموز سیکھے جاتے تھے، اور جہاں تبت کے مندر سکون کی گواہی دیتے تھے۔
    میں نے ہمیشہ کتابوں میں پڑھا تھا کہ یہ دنیا کے عجائبات میں سے ایک ہے، لیکن جب میں خود وہاں کھڑی ہوئی، تو یہ کسی خواب سے کم نہ تھا۔ پہاڑوں پر بل کھاتی، صدیوں پرانی اینٹوں سے بنی یہ دیوار، وقت کے تھپیڑے سہتے سہتے اب بھی اپنی عظمت کا اعلان کر رہی تھی۔
    ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی، جیسے تاریخ کی سرگوشیاں میرے کانوں میں رس گھول رہی ہوں۔ کہ “یہ دیوار چین نہیں، یہ دیوارِ حقیقت ہے، جہاں تک پہنچنا تو دور کی بات، سمجھنا بھی بہت مشکل ہے!
    دیوار چین، جو اتنی مشہور ہے کہ اگر آپ چین میں ہوتے ہوئے اس کو نہ دیکھیں، تو گویا آپ چین گئے ہی نہیں۔ لیکن اس دیوار کا تاریخ سے رشتہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جیسے کسی محلے میں کھڑی ہوئی ایک پرانی عمارت جس کی کوئی نہ کوئی کہانی ضرور چھپی ہوتی ہے۔
    ‎دیوار چین کوئی معمولی دیوار
    نہیں ہے۔ اس کی تاریخ کا آغاز تقریباً 211
    ‎قبل مسیح میں ہوا، جب چین کے پہلے شہنشاہ شیہوانگ دی نے سوچاکیوں نہ کچھ ایسا کیا جائے کہ چین کے شمالی خانہ بدوشوں کو سلیمانی ٹوپی والے چینیوں کی چھاؤں میں آنا محال ہو جائے؟ اور اس نے شروع کر دی ایک دیوار کی تعمیر۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے اور سر پر ان گنت مزدوروں کی تکلیفیں، کیونکہ یہ دیوار نہ صرف چین کی حفاظت کے لیے تھی بلکہ اس میں اتنی محنت بھی تھی کہ اگر آج کے دور میں یہ بن رہی ہوتی تو شاید اس کے گرد و نواح میں ایک “دیوار چین” نامی فائیو اسٹار ہوٹل بھی ہوتا۔
    ‎پھر آتا ہے ہان سلطنت کا دور۔ وہ دیوار کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں، لیکن کچھ اس انداز میں کہ زیادہ کچھ نہیں بدلتا، بس تھوڑا سا “سٹائل” بدل جاتا ہے۔ ہاں اور پھر مینگ سلطنت کے دور میں دیوارِ چین کا نقشہ ہی بدل گیا، جیسے آج کے فیشن کی دنیا میں محنت اور لگن کی جگہ صرف ظاہری چمک دمک نے لے لی ہو۔ دیوار میں پتھر اور اینٹیں لگا دی جاتی ہیں، قلعے بنائے جاتے ہیں، اب یہ دیوار صرف چین کی سرحد نہیں، بلکہ ایک “ٹورسٹ اٹریکشن” بن چکی ہے۔
    ‎آخرکار، چنگ سلطنت آتی ہے، اور وہ دیوار چین کی تو زیادہ فکر نہیں کرتے، کیونکہ ان کے خیال میں “اب یہ دیوار بس ایک خوبصورت یادگار بن گئی ہے، کسی اور کے لیے تو شاید خطرے کی علامت ہو، لیکن ہم تو اس سے زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔”
    ‎تو یوں، دیوار چین ایک نہ ختم ہونے والی کہانی بن گئی، جہاں ہر دور نے اسے مختلف انداز میں اپنایا، کبھی اسے حفاظت کا نشان بنایا، کبھی اس کے گرد سیاحوں کا ہجوم لگایا، اور کبھی صرف ایک گہرا تاثر چھوڑا۔
    ‎آج، دیوار چین صرف پتھروں کا ایک ڈھیر نہیں، بلکہ ایک ایسی ثقافت کی علامت بن چکی ہے، جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دفاع کے لیے صرف دیواریں نہیں، بلکہ عزم، محنت اور ترقی بھی ضروری ہیں۔
    دیوارِ چین سے اترنے کے بعد میرا اگلا پڑاؤ *بیجنگ کا شاہی محل* تھا۔ وسیع و عریض دروازے، سنہری چھتیں، اور وہ راہداری جس میں بادشاہوں کے قدموں کی چاپ کبھی گونجا کرتی تھی۔ میں ان کمروں میں گھومتی رہی جہاں کبھی شہنشاہ فیصلے سنایا کرتے تھے۔ مجھے لگا جیسے یہ دیواریں اب بھی ان کے راز چھپائے بیٹھی ہیں۔
    ‎بیجنگ کا شاہی محل، جسے ممنوعہ شہر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، چین کی تاریخ کا ایک ایسا جوہر ہے جس کی چمک ہر زاویے سے نظر آتی ہے۔ جیسے ہی میں نے اس عظیم و شان دروازے کی طرف قدم بڑھایا، مجھے محسوس ہوا کہ میں نہ صرف ایک عمارت کے اندر داخل ہو رہی ہوں، بلکہ ایک ایسی دنیا میں قدم رکھ رہی ہوں جہاں تاریخ کی ہر گلی، ہر کمرہ، ہر دروازہ اپنی کہانی سناتا ہے۔
    ‎محل کا دورہ کرتے ہوئے، میں نے سب سے پہلے ان سنہری چھتوں کو دیکھا، جو اتنی چمکدار تھیں کہ مجھے لگا شاید یہ کسی شہنشاہ کا غرور ہے، جو اپنی زندگی میں اتنا چمکدار تھا کہ آج بھی ان کی چھتیں اُسے فالو کر رہی ہیں۔ اور پھر وہ سرخ دروازے، جنہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے دروازے بھی آپ کو اپنے اندر کھینچنے کے لیے کہتے ہوں، “آ جاؤ، اندر آ جاؤ! دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا راز تمہارے سامنے ہے!”۔
    ‎لیکن جب میں اندر گئی تو وہ حقیقت سامنے آئی جو شاہی محل کی دیواروں نے چھپائی ہوئی تھی۔ محل میں موجود ہر کمرہ اتنا بڑا تھا کہ آپ اس میں گم ہو جائیں اور پچھلے کمرے میں جانے کی کوشش کرتے ہوئے نئے کمرے میں آ جائیں۔ میں سوچنے لگی، “یہ محل نہیں، یہ تو ایک ایسا چیلنج ہے جس کا مقصد ہی انسان کو یہ سکھانا ہے کہ آپ کے قدم کہاں جا رہے ہیں؟”
    ‎ممنوعہ شہر کی تعمیر کا آغاز 1406 میں ہوا تھا۔ یہاں ایک شہنشاہ نے اپنی سلطنت کا مرکز بنایا تھا، جہاں صرف شہنشاہ، اس کے خاندان اور درباریوں کو قدم رکھنے کی اجازت تھی۔ اس شہر کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ یہ محض ایک شاہی محل نہیں بلکہ ایک ریاست کی علامت بن چکا تھا، جہاں ہر کمرہ، ہر دروازہ ایک مخصوص مفہوم رکھتا تھا۔ جب میں محل کے اندر گھوم رہی تھی، تو ہر قدم پر مجھے یہ محسوس ہوتا تھا کہ ان چمکدار دروازوں، سنہری چھتوں اور شاندار راہداریوں میں جیسے ایک پوری سلطنت کی داستان چھپی ہوئی ہو۔
    ‎جب میں شاہی محل کے دروازے سے گزر رہی تھی، تو میرے ذہن میں یہ سوال اٹھا، “یہ محل آخر اتنا عظیم کیوں تھا؟” کیا یہ محل صرف ایک جاہ و جلال کی علامت تھا؟ یا پھر یہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اقتدار کبھی بھی مستقل نہیں ہوتا؟ جب میں نے اس محل کی عمارتوں کو غور سے دیکھا، تو میں نے محسوس کیا کہ ان میں سے ہر ایک دروازہ، ہر ایک کمرہ، اور ہر ایک ستون اس بات کا غماز تھا کہ انسان چاہے جتنا بھی عظیم ہو جائے، اسے کبھی نہ کبھی تاریخ کے صفحات میں ہی گم ہو جانا ہوتا ہے۔
    ‎یہ محل، جو ایک وقت میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا مرکز تھا، آج ویران پڑا ہے۔ اس کے اندر چھپے ہوئے تمام راز، وہ فیصلے جو اس کے کمروں میں کیے گئے، وہ ملاقاتیں جو ان دروازوں میں ہوئیں، آج سب کچھ ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ مگر جب میں ان راہداریوں میں چلتی ہوں، تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک وہ گمشدہ آوازیں ان کی دیواروں میں گونج رہی ہیں، جیسے ان کی طاقت اور شان و شوکت ابھی تک ان دروازوں کے پیچھے چھپے ہوں۔
    بیجنگ سے نکل کر میں *شاولن مندر* پہنچی، جو مارشل آرٹس کا مرکز تھا۔ وہاں ننھے راہب اپنے اساتذہ سے قدیم فن سیکھ رہے تھے۔ ہر حرکت میں مہارت، ہر وار میں توازن۔ میں نے ایک بزرگ استاد سے پوچھا، “یہ سب سیکھنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟”
    وہ مسکرا کر بولے، “اصل طاقت وہ ہوتی ہے جو صبر سے حاصل ہو۔”
    شاولن مندر، چین کا وہ مقام جہاں طاقت اور صبر کا ایک نہ ختم ہونے والا رقص جاری ہے۔ جب میں نے وہاں قدم رکھا، تو ایسا لگا جیسے میں کسی اور دنیا میں آ گئی ہوں۔ یہاں کے درخت، پتھر، اور وہ پرانی دیواریں، سب کچھ کسی راز کی طرح مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھیں ۔ ایک ایسی دنیا، جہاں دکھاوا نہیں تھا، جہاں ہر چیز اپنی اصل حقیقت میں تھی.
    پہلے تو میں نے سوچا کہ یہاں آ کر شاید مجھے مارشل آرٹس کے کچھ کرتب دیکھنے کو ملیں گے۔
    لیکن جب میں نے ان شیر دل جنگجوؤں کو دیکھا، جو دن رات سخت تربیت میں مصروف تھے، تو مجھے احساس ہوا کہ یہ لوگ صرف طاقت کے نشان نہیں، بلکہ ان کی اصل طاقت ان کے صبر میں چھپی تھی۔ جو لوگ یہاں آ کر دن رات اپنے جسم کو تھکاتے ہیں، وہ بس ایک مقصد کے لیے، اپنی داخلی قوت کو دریافت کرتے ہیں۔
    میں نے یہاں ایک نوجوان پہلوان کو دیکھا، جو پتھروں پر تیز تیز پنکھے جیسے ہاتھ مار رہا تھا، میں نے حیرانی سے اس سے سوال کیا ، “یہ اتنی طاقت کہاں سے آتی ہے؟” اُس نے مسکرا کر جواب دیا، “یہ صرف طاقت نہیں، یہ صبر ہے۔ تم اپنے جسم سے زیادہ اپنے دماغ پر قابو پاؤ، اور پھر دیکھو تمہیں کیا نہیں ملتا۔”
    یہ بات میرے دل میں گونجتی رہی، اور میں نے محسوس کیا کہ یہاں طاقت کا کوئی دکھاوا نہیں تھا۔ یہاں کے ہر حصے میں ایک خاموش گواہی تھی کہ اصل قوت صرف جسمانی نہیں، بلکہ ذہنی سکون میں ہے۔ جب تک آپ کا دماغ پُرامن نہیں، آپ کا جسم کبھی پوری قوت سے نہیں چل سکتا۔ شاولن مندر میں آپ کو سکھایا جاتا ہے کہ صرف جسمانی طاقت ہی نہیں، اندر کا سکون اور صبر بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
    میں نے مندر کے ایک کمرے میں ایک اور فولادی انسان کو مراقبے کی حالت میں بیٹھے دیکھا۔ میں نے پوچھا، “آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟” اس نے بتایا ، ” میں اپنی طاقت کو ڈھونڈ رہا ہوں، لیکن اس کا راز تمہاری بے چینی میں نہیں، تمہاری سکون کی حالت میں چھپا ہے۔” میں سوچنے لگی کہ وہ شاید مذاق کر رہا ہے، لیکن پھر مجھے اس کی آنکھوں میں وہ سکون نظر آیا جو میں نے کبھی کسی میں نہیں دیکھا تھا۔
    اور جب میں نے شاولن کی راہداریوں میں چلتے ہوئے وہاں کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر اپنی آنکھیں بند کیں، تو اچانک مجھے یہ احساس ہوا کہ جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے، وہ طاقت نہیں بلکہ صبر ہے۔ یہ وہ طاقت تھی جو آپ کو مشکلات کا سامنا کرتے وقت بھی بے خوف رکھتی ہے، یہ وہ طاقت تھی جو آپ کو اپنے اندر کی دنیا کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔
    شاولن مندر نے مجھے یہ سکھایا کہ زندگی میں اگر آپ واقعی طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو جسم سے زیادہ اپنے دماغ کی قوت پر کام کریں، کیونکہ جب آپ کا دماغ پُرامن ہوتا ہے، تو آپ کا جسم بھی آپ کی ہر بات پر عمل کرتا ہے۔ اور یہی سچائی تھی جو میں نے وہاں کے مونسٹرز سے سیکھی: طاقت اور صبر کا کھیل کبھی بھی جسمانی نہیں ہوتا، یہ صرف دل اور دماغ کا کھیل ہوتا ہے۔
    میری آخری منزل تھی *تبت*، جہاں بدھ مت کے مندر اور برف سے ڈھکی وادیاں مجھے کسی اور ہی دنیا میں لے گئے۔ پوتالا پیلس کے سامنے میں نے اس خاموشی کو محسوس کیا جو روح کے اندر تک اترتی تھی۔ یہاں میں نے ایک بھکشو سے پوچھا، ” لوگ یہاں کیا تلاش کرنے آتے ہیں؟”
    اس نے کہا، “سکون۔”
    میں نے ہمیشہ سنا تھا کہ تبت کوئی عام جگہ نہیں، بلکہ ایک خواب ہے، ایک ایسا خواب جو جاگتی آنکھوں سے دیکھا جائے تو بھی حقیقت کم اور جادو زیادہ لگتا ہے۔ وہ سنہری چھتوں والے مندر، برف میں لپٹے پہاڑ، اور وہ خانقاہیں جہاں وقت جیسے سانس لینا بھول جاتا ہے۔ مگر تبت کا یہ سحر مجھے کب اپنی طرف کھینچ رہا تھا، یہ اندازہ تب ہوا جب میں نے واقعی اس کی طرف سفر کا آغاز کیا مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی اور سیارے کی طرف جا رہی ہوں۔ جہاز نے جیسے ہی تبت کی حدود میں داخل ہونا شروع کیا، میں نے کھڑکی سے نیچے دیکھا تو پہاڑوں کی وہ قطار نظر آئی جو بادلوں کو چیر کر کھڑی تھی۔ ماؤنٹ ایورسٹ کی جھلک دور سے نظر آئی، اور میرے دل نے خوشی سے ایک دھڑکن مس کر دی۔ میں نے خود سے کہا، “تو یہ ہے وہ دنیا کی چھت، جہاں ہوائیں بھی شاید عام جگہوں سے زیادہ مقدس ہیں۔”
    ‎لہاسا ایئرپورٹ ایک چھوٹا مگر انتہائی خوبصورت ایئرپورٹ ہے جو دنیا کے سب سے بلند ترین ایئرپورٹس میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا انوکھا مقام اور فضا یہاں کے منفرد قدرتی ماحول کو محسوس کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔
    لہاسا ایئرپورٹ پر اترتے ہی ایک عجیب سی خاموشی نے استقبال کیا۔ کراچی میں تو ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی سو رنگوں، سو آوازوں کا سیلاب آ جاتا ہے، لیکن یہاں ایسا لگا جیسے دنیا نے خود کو ایک لمحے کے لیے روک لیا ہو۔ آسمان نیلا تھا، ایسا نیلا جو میں نے کبھی کسی تصویر میں بھی نہیں دیکھا تھا، اور ہوا میں ہلکی سی یخ ٹھنڈک جیسے کوئی قدیم راز میرے کان میں سرگوشی کر رہا ہو۔
    میری پہلی منزل تھی *پوتالا پیلس*، وہی جگہ جہاں کبھی دلائی لاما رہا کرتے تھے۔ سرخ اور سفید دیواروں والا یہ محل پہاڑ کی چوٹی پر ایسے کھڑا تھا جیسے کسی راہب کی دعا میں بلند ہوتے ہاتھ۔ اندر داخل ہوئی تو لگتا تھا جیسے ماضی کی سانسیں آج بھی ان راہداریوں میں قید ہوں۔ سنہری چھتوں کے نیچے جلتی ہوئی مکھن کی خوشبو میں لپٹی ہوئی موم بتیاں، لکڑی کے پرانے فرش، اور بدھ مت کے راہب جو آج بھی وہی دعائیں پڑھ رہے تھے جو صدیوں سے یہاں گونج رہی تھیں۔
    ایک راہب مجھے دیکھ کر مسکرایا، میں نے پوچھا، “یہاں کے لوگ اتنے پُرسکون کیوں ہیں؟”
    اس نے ہلکے سے سر جھکایا اور کہا، “کیونکہ ہم وقت کو قابو میں نہیں کرتے، اسے گزرنے دیتے ہیں۔”
    یہ جملہ میرے دل پر ایسے آ کر گرا جیسے پہاڑ سے گرتی برف کی ایک نرم تہہ۔ ہم ہر لمحہ وقت کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک میٹنگ سے دوسری، ایک سگنل سے اگلے سگنل، ایک خواب سے دوسرے خواب کی دوڑ میں۔۔۔۔۔
    اس کے بعد میں *جوکھانگ مندر* گئی۔ تبتی ثقافت کا یہ قدیم اور روحانی مقام میرے سامنے تھا، اور میں نے دیکھا کہ سرخ لباس پہنے بدھ راہب گہری خاموشی میں مراقبے میں مصروف تھے۔ ان کے چہرے پر ایک عجب سکون تھا، جیسے وہ دنیا کی ہلچل سے بالکل آزاد ہوں۔
    میں بھی ان کے قریب جا کر بیٹھ گئی، کہ ان سے کوئ سوال کروں لیکن وہ آنکھیں بند کیے اپنی دنیا میں گم تھے ۔
    میں نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ خاموشی میں بھی ایک زبان ہوتی ہے، ایک ایسی زبان جو لفظوں سے زیادہ گہری بات کرتی ہے۔ ایسا لگا جیسے وقت تھم گیا ہو، جیسے کائنات اپنی مخصوص دھڑکن میں مجھ سے کوئی راز کہہ رہی ہو۔
    اس خاموشی میں مجھے اپنے دل کی دھڑکنیں سنائی دینے لگیں —وہ دھڑکن جو مجھے میرے اپنے رب کی یاد دلاتی ہے۔ میں نے سوچا، *الحمدللہ، میں ایک مسلمان ہوں، اور اللہ نے مجھے سکون کے لیے اپنی عبادت عطا کی ہے۔ مجھے کسی اور راہ کی تلاش نہیں، کیونکہ میرے سکون کا سفر تو نماز کے سجدوں میں اور رمضان کی برکتوں میں مکمل ہوتا ہے۔
    مجھے احساس ہوا کہ دنیا کے ہر مذہب اور ہر روحانی مقام کی اپنی خوبصورتی اور سکون ہوتا ہے، لیکن میرا دل جس سکون کا متلاشی تھا، وہ پہلے ہی میرے پاس تھا—میرے دین کی روشنی میں، میرے رب کی قربت میں۔ میں نے آنکھیں کھولیں، ایک گہری سانس لی، اور اپنے دل میں شکرگزاری کے جذبات کے ساتھ وہاں سے نکل آئی۔
    میں نے سوچا، شاید یہ وہی سکون ہے جو رمضان کی آخری راتوں میں ہمیں ملتا ہے، جب دل ہلکا ہو جاتا ہے، جب آنکھیں خود بخود بھیگ جاتی ہیں، جب ہر دعا سچ لگنے لگتی ہے۔
    ‎رمضان اپنے آخری دنوں میں ہے۔ وہی آخری دن جب گھروں میں سحری اور افطار کی رونقیں مزید بڑھ جاتی ہیں، بازار روشنیوں سے جگمگانے لگتے ہیں، اور دل ایک عجیب سی خوشی اور اداسی کے امتزاج میں ڈوبنے لگتا ہے—خوشی اس بات کی کہ عید قریب ہے، اور اداسی اس بات کی کہ رمضان، اپنے تمام تر سکون، برکتوں اور روحانی خوشبو کے ساتھ، رخصت ہونے کو ہے۔
    ‎مگر یہاں، چین میں، کوئی ایسی فضا نہیں۔ نہ گلیوں میں کھلتے رنگ برنگے کپڑوں کی دکانیں، نہ چاند رات کی حوصلہ افزا گہما گہمی، نہ مسجدوں کے باہر زکوٰۃ کے منتظر چہروں کی قطاریں۔ یہاں زندگی آج بھی ویسی ہی ہے جیسے رمضان کے پہلے دن تھی، اور شاید عید کے دن بھی یہی رہے گی۔
    ‎یہاں، سب کچھ ایک ہی رفتار سے چل رہا ہے—کوئی خاص تیاری نہیں، کوئی خوشی کی واضح آہٹ نہیں۔ شاید چاند رات کو آسمان کی طرف دیکھ کر میں خود ہی اپنے دل کو تسلی دوں گی کہ ہاں، چاند نکلا ہوگا، کہیں نہ کہیں کسی بام پر کسی نے تکبیر پڑھی ہوگی، کسی بچے نے خوشی سے اپنے نئے جوتے تکیے کے پاس رکھ کر سونا ہوگا۔
    ‎یہاں نہ وہ ہلچل ہے، نہ وہ جوش جسے دیکھ کر دل خودبخود عید کی خوشیوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ بس وہی روزمرہ کے معمولات، وہی سڑکیں، وہی دفتری اوقات، اور وہی لوگ جو کل جیسے تھے، آج بھی ویسے ہی ہیں۔
    ‎تو یہاں عید کیسی گزرے گی؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ بظاہر تو کوئی آثار نہیں، لیکن شاید خوشی محض بازاروں، چہل پہل اور ہلچل میں نہیں ہوتی۔ شاید خوشی ان یادوں میں بھی بسی ہوتی ہے جو ہم اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اور شاید، جب میں عید کی نماز کے بعد اپنی کھڑکی سے باہر دیکھوں گی، تو مجھے احساس ہوگا کہ اصل خوشی ہمیشہ ہمارے دل کے اندر ہی ہوتی ہے، بس ہمیں
    اسے محسوس کرنا آنا چاہیے۔

  • شاہ رُخ سلمان اور عامر خان کے بعد کوئی سُپر اسٹار ہوگا یا نہیں؟ عامر نے بتا دیا

    شاہ رُخ سلمان اور عامر خان کے بعد کوئی سُپر اسٹار ہوگا یا نہیں؟ عامر نے بتا دیا

    ممبئی(کنزیومرواچ نیوز)بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کا کہنا ہے کہ لوگ انہیں، شاہ رخ خان اور سلمان خان کے بارے میں بھول جائیں گے۔اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ عامر خان، سلمان خان اور شاہ رخ خان ’انڈسٹری کے آخری سُپر اسٹارز‘ ہیں اور نئے زمانے کے اداکاروں کو ان کے جیسی کامیابی کو دہرانا مشکل ہوگا۔تاہم عامر خان اس خیال پر یقین نہیں رکھتے ان کے مطابق ہر چیز تخلیق اور تباہی کے عمل میں ہے اور اسی طرح ایک دن لوگ بالی ووڈ کے تینوں ’خانز‘ کو بھول جائیں گے۔عامر خان نے ایک بھارتی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے بعد کوئی سُپر اسٹار نہیں ہوگا۔ ہمارے بعد بہت آئیں گے، ہم لوگ گنتی میں بھی نہیں رہیں گے۔ آپ بھول جاؤ گے ہم تینوں کو‘۔انہوں نے مزید کہا، ’یہ تو دنیا کی ریت ہے کہ ہر عروج کا زوال ہے اور پھر لوگ بھول جاتے ہیں ہر چیز کو۔

  • مصری بلے کا اسرائیلی فوجیوں پر حملہ، متعدد زخمی

    مصری بلے کا اسرائیلی فوجیوں پر حملہ، متعدد زخمی

    قاہرہ(کنزیومرواچ نیوز)مصری جنگلی بلے نے اسرائیلی سرحد پر تعیناتی صہیونی فوجیوں پر حملہ کردیا، متعدد فوجی زخمی ہوگئے۔دو روز قبل اسرائیلی میڈیا نے ایک خبر دی تھی کہ شکاری مصری لینکس (جنگلی بلّے ) نے مصر سے ملحقہ سرحد پر اسرائیلی فوج کے متعدد سپاہیوں پر حملہ کرکے انہیں مختلف نوعیت کے زخم لگائے۔اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مصری سرحدی علاقے خاص طور پر جبل حریف کے علاقے میں فوجیوں کو جانوروں کے مشتبہ کاٹنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک نایاب شکاری جانور لینکس کو نیچر اینڈ ریزرو اتھارٹی کے ایک انسپکٹر نے پکڑ لیا، انسپکٹر اطلاع ملنے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچا تھا۔ اسرائیلی میڈیا نے مزید کہا کہ ریزرو انسپکٹر نے جانور کو پکڑا اور یہ مصری لنکس نکلا اسے جانچ کیلئے خصوصی اسپتال منتقل کردیا گیا۔