اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز) پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سابق کپتان مصباح الحق کو اہم ذمہ داری دیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی نےچند دن قبل ڈائریکٹرکرکٹ آپریشنز انٹرنیشنل کے لیے اشتہار دیا تھا اور اب بورڈ کی جانب سے مصباح الحق کی اس عہدے پر تقرری کا امکان ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ اشتہار میں اہلیت کیلئے پہلی مرتبہ سابق ٹیسٹ کرکٹر یا ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹرکی شرط رکھی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پی سی بی نے ایشیا کپ میں پاک بھارت تنازع میں صورتحال سے صحیح طریقے سے نہ نمٹنے پر ڈائریکٹرکرکٹ آپریشنز انٹرنیشنل عثمان واہلہ کو معطل کیا تھا تاہم بعد میں انہیں بحال کردیا گیا تھا۔
Blog
-

ہتھیار ڈالنے والوں کو روزگار دیا جائیگا، کچے کے ڈاکوؤں کیلئے سرینڈر پالیسی جاری
حیدرآباد (کنزیومرواچ نیوز)حکومت سندھ نے کچے کے علاقوں کے ڈاکوؤں کیلئے سرینڈر پالیسی جاری کر دی۔محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پالیسی کا اطلاق سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے کچے کے علاقوں میں ہو گا، سرینڈر کرنے والوں کو قانون کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ سرینڈر پالیسی عام معافی کا اعلان نہیں، ہتھیار ڈالنے اور گرفتاری دینے والے ڈاکوؤں کو مقدمات کا سامنا کرنا ہو گا، بذریعہ میڈیا واضح کیا جائے گا کہ یہ پالیسی امن کے لیے ہے، معافی کے لیے نہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں سے اسلحہ اور بارود برآمد کیا جائے گا، سرینڈر کرنے والوں کے اہلخانہ کو قطعی طور پر ہراساں نہیں کیا جائے گا۔کچے میں بچوں اور خواتین کیلئے تعلیمی، صحت اور فلاحی سہولیات فراہم کی جائیں گی، بند اسکول اور ڈسپنسریاں مرحلہ وار بحال کی جائیں گی، اسلحہ ڈالنے والے ڈاکوؤں کو فنی تربیت اور روزگار فراہم کیے جائیں گے۔محکمہ داخلہ سندھ نے سرینڈر پالیسی پر عملدرآمد کیلئے مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کر دیں، محکمہ داخلہ سندھ میں ریڈریسل سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے۔صوبائی محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ سوشل اور اکنامک ڈیولپمنٹ کے منصوبے کچے کے علاقوں میں شروع کیے جائیں گے، ہر ماہ پالیسی کا جائزہ لے کر زمینی حقائق کے مطابق ترامیم ہوں گی، پولیس کے ساتھ ساتھ ضلعی اور ڈویژنل کمیٹیاں بھی نگرانی کریں گی۔
-

حکومت نے سونے کی درآمد و برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)حکومت نے سونے کی درآمد و برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیامیڈیا رپورٹس کے مطابق سونے کی تجارت پر سے پابندی ہٹانے کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو سمری ارسال کی جائے گی۔ واضح رہے کہ رواں سال مئی میں سونے کی ایکسپورٹ اور امپورٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔یہ پابندی سونے کی اسمگلنگ سے متعلق شکایات کے پیش نظر لگائی گئی تھی تاہم حالیہ مہینوں میں ایسی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
-

اسپرل کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمینار
سوسائٹی فار دی پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریریز (اسپرل)کے زیر اہتمام اور انجمن ترقی ِاردو پاکستان کے اشتراک سے ایک روزہ سیمینار وشہر قائد کراچی میں منعقد ہوا،جس کا موضوع، ”اردو ادبیات ولسانیات کے مطالعہ اور فروغ میں کتب خانوں کا کردار“ تھا۔
سیمینار کے مہمان خصوصی جناب ریٹائرڈ بریگیڈیئر کرار حسین عابدی تھے،جبکہ صدرات کے فرائض جناب واجد جواد (صدر، انجمن ترقی اردو)نے انجام دیے۔
شرکاء گفتگو میں علم و ادب کی نامور شخصیات شامل تھیں،جنہوں نے اپنی فکر انگیز اور بصیرت افروز گفتگو سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مقررین میں جاوید صباء،سید عابد رضوی، ڈاکٹر یاسمین فاروقی، ڈاکٹر رفعت پروین صدیقی، محمود خان، پروفیسر شاداب احسانی اور بریگیڈیئر(ر) کرار حسین عابدی شامل تھے۔
سیمینار میں شہر قائد کے معروف اداروں کے لائبریرینز، اساتذہ، محققین اور علمی و ادبی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اسپرل کے صدر اکرام الحق نے ریاض (سعودی عرب) سے اپنا ویڈیو پیغام ارسال کیا،جس میں انہوں نے تمام مہمانوں اور شرکا ء کا شکریہ ادا کیا۔
پروگرام کے کا میاب انعقاد میں ندیم ظفر،صمیم کاردار، جواہر علیم، اکرام الحق اور ربیعہ علی فریدی نے کلیدی کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر آمنہ خاتون (لائبریری پروموشن بیورو) نے شرکاء کو بیورو کی مطبوعات بطورتحفہ پیش کیں۔
استقبالیہ کلمات صمیم کاردار نے پیش کیے، اختتامی کلمات جواہر علیم نے ادا کیے، جبکہ نظامت کے فرائض ربیعہ علی فریدی نے بخوبی انجام دے۔
پروگرام کا بنیادی مقصد موجود ہ دور میں اردو زبان کی اہمیت اور ادب کی بقاء میں کتب خانوں کے کردار کو اُجاگر کرنا تھا۔
شرکاء نے اسپرل کی اس کاوش کو سراہا اور آئندہ بھی ایسے علمی و ادبی پروگرام منعقد کرنے کی تجویز دی۔
ڈاکٹر یاسمین فاروقی نے کتاب کی اہمیت، کتب خانوں کی افادیت اور علم کے اس تحفے پر روشنی ڈالی جو بحیثیت مسلمان ہمیں عطا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتب خانے آج بھی فعال کردار ادا کررہے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی زبان پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ہمیں افسوس ہے کہ ہم اردو بولنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے اردو کے زوال کے اسباب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے علمی کتب خانے تباہ کئے گئے تاکہ انہیں علمی و ادبی لحاظ سے محروم کیا جا سکے۔کتب خانے صدیوں کے علمی ورثے کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہیں۔انہوں نے اسپر ل کے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا اوران کی حوصلہ افزائی کی۔
محمود خان،جو شہر قائد کے ایک سرگرم سماجی کارکن، منتظم ساکنا ن شہر قائداور علم و ادب کے شیدائی ہیں، نے اسپرل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نوجوانوں میں تعلیم اور مطالعے کے فروغ پر زوردیا، اور اسپرل کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی ترغیب دی۔
پروفیسر شاداب احسانی (سابق صدر، شعبہ اردو جامعہ کراچی) نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ اردو زبان کا وجود کس طرح عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ جب اردو تعلیمی نصاب کی زبان تھی تو انگریزوں نے سیاسی مقاصد کے تحت اسے نصاب سے نکال دیااور ذہنی غلامی کو فروغ دیا۔ان کے مطابق جب تک ہم اپنا تعلیمی نظام قومی زبان میں نہیں لائیں گے، ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے اردو سے دوری کوزوال کی بڑی وجہ قرار دیا۔
مشہور شاعر و صداکار جاوید صبا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتب خانوں کو جدیدیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالعے کے ماحول کی اہمیت پر خوبصورت انداز میں روشنی ڈالی اورکہا کہ ٹیکنالوجی سہولت کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتوں کو بھی محدود کررہی ہے، مگر سیکھنے کا عمل کبھی رُکنا نہیں چاہے۔
ڈاکٹر رفعت پروین صدیقی(صدر، شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس، جامعہ کراچی) نے اپنی گفتگو میں زبانوں کی ارتقاء، قومی زبان کی اہمیت، اور دیگر زبانوں کے باہمی تعلق پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج انسان سوچتا ایک زبان میں ہے، لکھتا دوسری زبان میں اور چھپتاکسی تیسری زبان میں ہے، جس سے مفہوم بگڑ جاتا ہے۔انہوں نے اسپرل کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتنے اہم موضوع پر اتنے اعلی مقررین کو مدعو کرنا قابل تحسین عمل ہے۔
سید عابدرضوی(مشیر مالیات، انجمن ترقی اردو) نے کتب خانوں کی اہمیت اور زبان کے زوال پرمفصل گفتگو کی۔انہوں نے انجمن کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی نیا کتب خانہ قائم کرنا چاہے توانجمن ترقی اردو پاکستان بلامعاوضہ کتابوں کی فراہمی میں تعاون کرے گا۔
آخر میں مہمان خصوصی، کالم نگار،مصنف اور دفاعی تجزیہ نگار، بریگیڈیئر (ر) کرارحسین عابدی نے کہا کہ اردو کی افادیت کو دانستہ کم کیا جا رہا ہے تاکہ قوم علمی زوال کا شکار ہو، انہوں نے کہا، ”کتاب اور اردو زبان زندہ ہے، زندہ تھی اور زندہ رہے گی۔“انہوں نے اسپرل کی علمی وادبی کاوشوں کو سراہا اوراتنے خوبصورت پروگرام میں مدعو کیے جانے پر شکریہ ادا کیا۔
اس سیمینار کانتیجہ یہ نکلا کہ شرکائے محفل نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں کتب خانوں کے کردار کو نہایت اہم قراردیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ دور میں لائبریریزصرف علم کے ذخیرے نہیں بلکہ فکری وثقافتی تربیت کے مراکز ہیں۔مقررین کی گفتگو سے یہ پیغام ابھراکہ اگر قوم کو علمی زوال سے بچانا ہے تو قومی زبان اورکتب بینی کی عادت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ سیمینار نے اس امر کو اجاگر کیاکہ کتب خانے نہ صرف ماضی کے علمی ورثے کو محفوظ رکھتے ہیں بلکہ نئی نسل کو مطالعے، تحقیق اور زبان کی خدمت کے لیے بھی تیار کرتے ہیں۔ شرکاء نے اسپر ل کی اس علمی کاوش کو سراہتے ہوئے اس نوع کے پروگراموں کے تسلسل کی خواہش ظاہر کی۔
سیمینار کے اختتام پر مہمان خصوصی، صدر اورتمام مقررین کو ٹیم اسپرل کی جانب سے سند سپاس اور پھولو ں کے گلدستے پیش کئے گئے۔ پروگرام کا اختتام ایک پر تکلف چائے کے ساتھ ہوا۔ -

چین کا مصنوعی سورج …..ارم زہرا ۔ چین
بیجنگ کی ایک سرد مگر سنہری صبح تھی۔ آسمان پر سورج اپنے معمول کے مطابق چمک رہا تھا، مگر آج میں اُس سورج کو دیکھنے جا رہی تھی جو انسان نے خود بنایا ہے ۔ چین کا مصنوعی سورج۔
ریل کی کھڑکی سے باہر دھند میں لپٹے دیہات گزرتے جا رہے تھے۔ چینی روزنامہ پیپلز ڈیلی کا ایک صفحہ میرے ہاتھ میں تھا۔ اُس پر لکھا تھا: “EAST Fusion Reactor انسان کا بنایا سورج، 70 ملین
ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی کے ساتھ۔” میں نے سر اٹھایا، سوچا یہ کیسا زمانہ ہے جب انسان سورج کو آسمان سے زمین پر اتارنے کے خواب سچ کر رہا ہے۔
یہ منصوبہ 2006 میں چین کے شہر ہیفی (Hefei) میں انستٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (ASIPP) نے شروع کیا تھا۔ اس کا نام رکھا گیا: EAST – Experimental Advanced Superconducting Tokamak۔ خیال دراصل 1950 کی دہائی میں روسی سائنسدانوں نے پیش کیا تھا کہ اگر سورج کی طرح ہائیڈروجن ایٹموں کو فیوژن میں لایا جائے، تو لامحدود توانائی پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر چین نے اس خیال کو حقیقت کی شکل دی، اور دہائیوں کی تحقیق کے بعد 2021 میں اُس نے وہ کارنامہ انجام دیا جب EAST نے 70 ملین ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کو ۱۷ منٹ تک برقرار رکھا ایک ایسا لمحہ جس نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو چونکا دیا۔
جب ہم ری ایکٹر کے کمپلیکس پہنچے تو فضا میں ایک انجانی سنجیدگی تھی
سیکیورٹی چیک سے گزر کر اندر داخل ہوئی تو سفید دیواروں، مشینوں کی سرگوشیوں اور تیز روشنیوں نے ایک الگ دنیا کا منظر بنا رکھا تھا۔ میرے ساتھ ایک چینی انجینئر، لیو ژیاؤ، تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب فخر جھلک رہا تھا۔ اُس نے کہا “یہ ہمارا سورج ہے، مگر یہ زمین کو جلا نہیں، روشن کرے گا۔” میں نے مسکرا کر کہا: “کیا انسان واقعی روشنی کو قابو کر سکتا ہے؟” وہ ہنس پڑی، “روشنی کو نہیں، مگر امید کو ہم ضرور تھام سکتے ہیں۔”
جب میں نے اُس عظیم گول چیمبر کو دیکھا جہاں پلازما کی نیلی لہر گردش کر رہی تھی، تو یوں لگا جیسے زمین کے سینے میں ایک نیا سورج دھڑک رہا ہو۔ اندر کوئی آگ نظر نہیں آ رہی تھی، مگر فضا میں اس کی تپش محسوس ہوتی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا ۔ یہ آگ انسان نے نہیں، خوابوں نے جلائی ہے
واپسی پر ریل کے پہیے شور کر رہے تھے مگر میرے اندر ایک خاموش دعا جنم لے رہی تھی کہ یہ مصنوعی سورج انسان کے لیے روشنی کا پیغام بنے، غرور کا نہیں کہ یہ آگ، زمین کو جلائے نہیں، بلکہ امید کی صبح کو روشن کرے۔
یہ چین کی زمین تھی، مگر اُس دن مجھے لگا جیسے سورج، سائنس اور دعا تینوں ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔
ہیفی سے واپسی کے چند روز بعد میں نے اپنا اگلا سفر شروع کیا ۔ اس بار روشنی کی نہیں، ذہانت کی دنیا میں میرا رخ تھا چین کے جنوبی شہر شینژن کی جانب، جسے دنیا “سمارٹ سٹی” کہتی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسان اور مشین کے درمیان فاصلہ محض ایک لمس جتنا رہ گیا ہے۔
ریل سے اترتے ہی پہلا تاثر حیرت کا تھا۔ اسٹیشن کے دروازے پر کوئی سیکیورٹی گارڈ نہیں کھڑا تھا، بس کیمرے تھے، جو چپ چاپ ہر چہرے کو پہچان رہے تھے۔ فیس ریکگنیشن کی یہ دنیا بظاہر خاموش تھی مگر ہر حرکت ریکارڈ ہو رہی تھی۔ میں نے سوچا “یہ شہر انسانوں سے زیادہ ڈیٹا کو جانتا ہے۔”
شینژن کی سڑکیں بالکل سیدھی، صاف اور حیران کن طور پر بے شور تھیں۔ ٹریفک لائٹس خودکار تھیں۔ گاڑیاں ایک دوسرے سے ایسے ہم آہنگ چلتی تھیں جیسے کسی نازک راگ کی دھن۔ ہر بس برقی تھی، ہر موٹر سائیکل خاموش۔ فضا میں کوئی دھواں نہیں، صرف نمی اور ٹیکنالوجی کی خوشبو۔
میرے ساتھ ایک چینی طالب علم، ژاؤ مینگ، تھا جسے میں نے یونیورسٹی میں جانا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا “یہاں انسان نہیں رکشے ہارن بجاتے ہیں ، بلکہ سینسر بات کرتے ہیں۔” میں نے ہنس کر کہا: “یعنی شور کم، نظم و ضبط زیادہ۔” اس نے جواب دیا “ہاں، یہی ہے سمارٹ سٹی کی پہچان جہاں ٹریفک، لائٹس، بجلی، اور حتیٰ کہ کوڑے دان بھی AI
سے چلتے ہیں ۔
ہم ایک کیفے میں داخل ہوئے۔ آرڈر دینے کے لیے کوئی ویٹر نہیں تھا ایک روبوٹ میز کے پاس آیا، سر جھکا کر بولا “نی ہاؤ، آپ کی کافی تیار ہے۔” میں نے کپ لیا تو دل میں سوچا یہ بھی اک عہد ہے، جہاں مسکراہٹیں کوڈ بن گئی ہیں۔”
اگلے دن میں ہانگزو گئی وہ شہر جہاں چین کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی، علی بابا، نے “City Brain” کے نام سے پورے شہر کا نظام خودکار کر دیا ہے۔ وہاں کی سڑکیں کیمروں سے بھری ہیں، جو ٹریفک کا تجزیہ کرتے ہیں، حادثے سے پہلے خطرے کا سگنل دیتے ہیں، اور ایمبولینس کو ترجیحی راستہ فراہم کرتے ہیں۔ میں نے ایک چوراہے پر کھڑے ہو کر دیکھا کہ جب ٹریفک بڑھا، تو سگنل خود بخود بدلا، فاصلہ ناپا، اور بہاؤ بہتر کر دیا۔ کوئی سپاہی، کوئی حکم نہیں سب کچھ نظام کے ہاتھوں میں۔
ایک بزرگ خاتون مجھ سے بولیں، “پہلے ہمیں لائٹ کے انتظار میں جھنجھلاہٹ ہوتی تھی، اب شہر خود سوچتا ہے۔” میں نے دل میں سوچا واقعی، یہاں شہر انسانوں کے لیے نہیں، انسان شہر کے لیے سانس لیتے ہیں۔
رات کو ہوٹل کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو عمارتوں کی روشنیوں میں ایک نظم تھی، جیسے ہر بلب، ہر اسکرین کسی مرکزی دماغ کے اشارے پر جھلمل کر رہا ہو۔ مگر اسی منظر کے پیچھے ایک ہلکی سی خلش بھی تھی کیا اتنی خودکاری میں انسان کی آزادی باقی رہ جائے گی؟
شینژن اور ہانگزو واقعی مستقبل کے شہر ہیں ایسے شہر جہاں صفائی، رفتار اور نظم ایک نیا تمدن تشکیل دے رہے ہیں۔ لیکن دل کے کسی گوشے میں ایک سوال ٹھہر گیا۔ کیا اسمارٹ سٹیز کے یہ چمکتے بلب، انسان کے احساس کی جگہ لے سکیں گے؟
سائنس نے روشنی اور ذہانت دونوں بنا لی ہیں مگر شاید محبت اور خلوص اب بھی دستی طور پر ہی بنتے ہیں۔
شینژن کے اسمارٹ راستوں، خودکار سگنلز اور خاموش برقی گاڑیوں سے گزرتی میں اب ایک نئے سفر پر تھی ۔اس بار آسمان کی طرف۔ چین کے ایک اور شہر چانگشا (Changsha) میں، جہاں زمین اور بادلوں کے درمیان فاصلہ محض چند دنوں میں کم کر دیا گیا تھا۔
ٹرین کی کھڑکی سے گزرتا منظر دیکھتے ہوئے میں سوچتی رہی کچھ سال پہلے تک بلڈنگ بنانا مہینوں کا کام ہوتا تھا۔ مگر اب خبریں کہتی ہیں کہ یہاں ایک کمپنی نے صرف ۱۰ دن میں ۵۷ منزلہ عمارت تعمیر کر دی۔ میں نے یہ جملہ کئی بار پڑھا، پھر خود سے کہا “یہ محض عمارت نہیں، رفتار کی نئی تعریف ہے۔”
چانگشا پہنچتے ہی میں نے دیکھا ۔ وہ عمارت، جسے مقامی لوگ “اسکائی سٹی” کہتے ہیں، بادلوں میں اٹھی کھڑی تھی۔ نیچے لوگ چھوٹے دکھائی دیتے تھے، جیسے وقت کے بہاؤ کے آگے جھک گئے ہوں۔ میں نے گردن اٹھا کر اوپر دیکھا تو یوں لگا جیسے عمارت نہیں، خواب کھڑا ہو۔
میری ملاقات بروڈ گروپ
(Broad Group)
کے ایک انجینئر، وانگ ژی چیانگ، سے ہوئی۔ اس نے فخر سے بتایا
ہم نے پری فیب ٹیکنالوجی (Prefabrication)
سے یہ ممکن بنایا۔
ہر منزل پہلے فیکٹری میں تیار کی جاتی ہے، پھر یہاں آ کر جوڑ دی جاتی ہے جیسے کوئی عمارت نہیں، بلکہ مشین اسمبل ہو رہی ہو۔”
میں حیرت میں ڈوبی سن رہی تھی۔ اس نے مزید کہا۔ ہم روزانہ پانچ منزلیں کھڑی کر لیتے تھے۔ اور یہ سب مکمل اسٹیل کے ڈھانچے سے ہے، زلزلہ برداشت، توانائی بچانے والا، اور ماحول دوست۔”
میں نے سوچا یہ قوم وقت کو پیچھے چھوڑنے نکلی ہے۔ جہاں باقی دنیا “کل” کے خواب دیکھتی ہے، وہاں چین “اگلے ہفتے” حقیقت بنا دیتا ہے۔
عمارت کے اندر داخل ہوئی تو فرش سے چھت تک شفاف شیشے، ہوا کے بہاؤ کے لیے خاص راستے، اور توانائی بچانے والے خودکار دروازے۔ سب کچھ اتنا ترتیب سے جڑا ہوا جیسے کسی ذہین آرٹسٹ نے آسمان کو چھونے کے لیے برش چلایا ہو۔
چھت پر جا کر جب میں نے شہر کا منظر دیکھا، تو نیچے پورا چانگشا ایک معماری نظم کی طرح پھیلا ہوا تھا۔ کرینیں حرکت میں تھیں، مزدوروں کے چہروں پر مسکراہٹ، اور ہر طرف “کل کی امید” کی خوشبو۔ میں نے دل میں سوچا کہ “یہ ہاتھ مٹی سے کیا کچھ بنا لیتے ہیں، مگر کبھی کبھی دل مٹی سے پیچھے رہ جاتا ہے۔”
میرے ساتھ ایک نوجوان چینی لڑکی، لی نینگ، کھڑی تھی۔ اس نے کہا “ہم چاہتے ہیں کہ ہر انسان کو گھر ملے، جلدی، محفوظ اور صاف۔ یہ ٹیکنالوجی وقت بچاتی ہے، مگر ہم کوشش کرتے ہیں کہ احساس باقی رہے۔”
میں نے مسکرا کر کہا: “تمہارے شہر آسمان چھو رہے ہیں، بس دل زمین پر رہنے دو۔”
واپسی پر میں سوچتی رہی مصنوعی سورج سے لے کر اسمارٹ شہروں اور اب فلک بوس عمارتوں تک، چین نے ہر سمت میں یہ ثابت کیا ہے کہ جب قوم خواب دیکھے اور محنت جاگے تو دنوں میں صدیوں کا سفر طے ہو جاتا ہے۔
ریل کی کھڑکی سے باہر شام اتر رہی تھی۔ بادلوں کے پیچھے ڈوبتا سورج اور سامنے آسمان کو چھوتی عمارت دونوں ایک ہی کہانی سنا رہے تھے کہ انسان کا سفر رکنے والا نہیں، اور شاید اگلی منزل، زمین سے نہیں، بادلوں سے اوپر ہوگی۔
چانگشا کی فلک بوس عمارتوں سے نکل کر جب میں نے اپنا اگلا سفر شروع کیا، تو اس بار منزل زمین کے قریب تھی مگر معنی میں آسمان سے بلند۔ میں جا رہی تھی شمالی چین، جہاں ریت کے سمندر کے کنارے ایک سبز دیوار اگ رہی ہے “گرین گریٹ وال”۔ یہ وہ دیوار نہیں جو پتھروں سے بنی ہو، بلکہ زندہ شاخوں اور پتیوں سے تراشی گئی ہے۔
ریل کی کھڑکی کے پار، جوں جوں ہم بیابان علاقے کی طرف بڑھتے گئے، منظر بدلتا گیا۔ کبھی سنہری ریت، کبھی مٹی کے ٹیلے، اور پھر اچانک کہیں سے سبز پودوں کی قطاریں اُبھرتی دکھائی دیتیں۔ میرے دل میں ایک عجیب سا سکون اتر رہا تھا — جیسے یہ سبزہ، زمین کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہو۔
یہ منصوبہ 1978 میں شروع ہوا، جب چین کو احساس ہوا کہ شمال سے بڑھتا ہوا گوبی ریگستان اس کی زمینوں کو نگل رہا ہے۔ تب حکومت نے عزم کیا کہ وہ ایک ایسی سبز دیوار بنائے گی جو ریت کو روکے گی اور آنے والی نسلوں کو سانس لینے کے لیے صاف ہوا دے گی۔ تب سے آج تک اربوں درخت لگائے جا چکے ہیں۔ اس عظیم ماحولیاتی منصوبے کو اب دنیا “گرین گریٹ وال آف چائنا” کے نام سے جانتی ہے۔
میری ملاقات ایک ماحولیاتی انجینئر، ژاؤ لی فینگ، سے ہوئی جو گزشتہ دس برسوں سے اسی منصوبے پر کام کر رہی تھیں۔ وہ دھوپ میں جھلستی زمین پر درختوں کی قطار دکھاتے ہوئے بولیں “یہ ہماری سب سے لمبی دیوار ہے مگر اس میں پتھر نہیں، امید جڑی ہے۔”
میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا “کیا یہ واقعی ریت کو روک لیتی ہے؟” انہوں نے مٹی میں جھک کر ایک ننھے پودے کو سیدھا کیا اور کہا “ہاں، آہستہ آہستہ۔ درخت دیوار نہیں بنتے، مگر سایہ بناتے ہیں اور وہ سایہ صدیوں کو بدل دیتا ہے۔”
ہوا میں ہلکی سی ریت اُڑ رہی تھی، مگر اس کے درمیان وہ سبز قطاریں ایسے دکھائی دے رہی تھیں جیسے زمین نے خود کو ازسرِ نو لکھنا شروع کر دیا ہو۔ ہر طرف مشینیں اور مزدور تھے جو زمین میں نئے پودے گاڑ رہے تھے، کچھ مقامی دیہاتی اپنے بچوں کے ساتھ شاخیں لگا رہے تھے۔ وہ ہنستے، گاتے، مٹی میں ہاتھ بھرتے جیسے یہ محنت عبادت ہو۔
میں نے محسوس کیا، چین کی ترقی صرف لوہے اور شیشے کی عمارتوں میں نہیں، بلکہ ان جڑوں میں بھی ہے جو وہ مٹی میں گاڑ رہا ہے۔ یہی تو اصل تمدن ہے ۔جو درخت لگانے والے ہاتھوں میں سانس لیتا ہے۔
رات کو میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں قیام پذیر ہوئی۔ کھڑکی سے باہر چاندنی میں درختوں کی قطاریں چمک رہی تھیں۔ “یہ درخت، جیسے دعا کے ہاتھ ہوں جو زمین کے لیے اُٹھے اور آسمان کو چھو لیں۔”
میں نے سوچا مصنوعی سورج، سمارٹ شہر، فلک بوس عمارتیں، سب اپنی جگہ، مگر اصل عظمت شاید وہی ہے جو زمین کو بچانے کے لیے جھکنے میں ہے۔ یہ گرین گریٹ وال صرف چین کی نہیں، پوری انسانیت کی دیوار ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر انسان چاہے، تو وہ ریت کو بھی سبز کر سکتا ہے۔
ریل کی پٹریوں کے ساتھ ساتھ سبز لہریں دور تک پھیل رہی تھیں۔ میں نے دل میں دعا کی کہ یہ دیوار کبھی نہ ٹوٹے، اور انسان ہمیشہ زمین کے قریب رہے۔
شمالی چین کی سبز دیواروں سے واپسی پر، جب میں نے اپنا بیگ دوبارہ باندھا تو احساس ہوا کہ میرا یہ سفر اب زمین سے آسمان، ٹیکنالوجی سے فطرت، اور اب انسانوں کے درمیان تعلقات کی دنیا تک پہنچ گیا ہے۔ ریل اسٹیشن کے شور میں ایک نیا لفظ بار بار سنائی دے رہا تھا
K ویزہ یہ وہ نیا دروازہ ہے جو چین نے دنیا کے لیے کھول دیا ہے، اور جس سے گزر کر نہ صرف علم بلکہ روزگار کی نئی راہیں سامنے آ رہی ہیں۔
چین، جو کبھی بند دروازوں کی سرزمین سمجھا جاتا تھا، اب اپنے دروازے کھول چکا ہے خاص طور پر اُن کے لیے جو سیکھنا، کام کرنا، یا خوابوں کو حقیقت میں بدلنا چاہتے ہیں۔ K
ویزہ پروگرام دراصل غیر ملکی ماہرین، طلبہ، محققین اور کاروباری افراد کے لیے ایک نیا نظام ہے۔ اس کے تحت اب پاکستانی طلبہ اور ماہرین کے لیے چین میں تعلیم اور ملازمت دونوں کو آسان بنایا جا رہا ہے۔
بیجنگ کی ایک یونیورسٹی میں منعقدہ سیمینار میں میں نے پہلی بار اس منصوبے کے بارے میں تفصیل سنی۔ ایک پروفیسر، ڈاکٹر ژاؤ ہاؤ لیانگ، سلائیڈ پر نمودار ہوتے اعداد و شمار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے: “ہم چاہتے ہیں کہ دنیا چین میں آ کر نہ صرف علم حاصل کرے بلکہ اپنے علم سے چین کو بھی سنوارے۔” پھر وہ مسکرائے اور بولے: “
K
ویزہ اس خواب کی کنجی ہے۔”
ڈاکٹر ژاؤ ہاؤ لیانگ کے الفاظ نے جیسے میرے اندر ایک نیا اُجالا سا بھر دیا۔ یونیورسٹی کے ہال میں بیٹھے درجنوں طلبہ کے چہروں پر ایک ہی تجسس تھا کیا واقعی اب ہم چین میں رہ کر سیکھ بھی سکتے ہیں، اور کام بھی؟
پچھلے چار برسوں میں میں نے چین کو بدلتے دیکھا ہے۔ سڑکوں پر خودکار گاڑیاں، لائبریریوں میں روبوٹک لائبریرین، اور چھوٹے شہروں میں بھی جدید تحقیقی لیبارٹریاں۔ مگر اب یہ سب کچھ صرف چین کے لیے نہیں، دنیا کے لیے ہے۔ اور اس “دنیا کے لیے چین” کا دروازہ K ویزہ کے نام سے کھل چکا ہے۔
یہ ویزہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک دعوت ہے۔ دعوت اُن ذہنوں کے لیے جو خواب دیکھنے اور تعبیر ڈھونڈنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اب کسی پاکستانی طالب علم کو یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے لمبی کاغذی راہوں سے نہیں گزرنا پڑے گا، اور کسی نوجوان انجینئر کو اپنی مہارت کے اظہار کے لیے دعوت نامے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
14 اگست 2025 کو جب بیجنگ میں وزارتِ انصاف نے اس ویزہ کے اجرا کا اعلان کیا تو دنیا بھر کے علمی حلقوں میں ایک نئی سرگوشی گونج اٹھی “چین علم بانٹنے جا رہا ہے۔” پھر یہ اعلان ہوا کہ 1 اکتوبر 2025 سے K ویزہ باقاعدہ طور پر جاری کیا جائے گا۔ یعنی یہ وہ دن ہو گا جب علم کی ایک نئی سرحد مٹ جائے گی۔
کلاس کے وقفے میں جب میں چینی دوست لِی وین کے ساتھ کیفے کی چھت پر بیٹھی تھی، تو اُس نے مسکراتے ہوئے کہا “اب ہمارے یونیورسٹیوں میں صرف چینی طلبہ نہیں ہوں گے، بلکہ دنیا کے ہر رنگ کے خواب ہوں گے۔” میں نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا۔ جہاں سورج ڈھل رہا تھا مگر فضا میں روشنی باقی تھی۔ شاید یہ روشنی اسی امید کی تھی جو K ویزہ کے ذریعے پھیلنے والی تھی۔
یہ پروگرام اُن نوجوانوں کے لیے ہے جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، یا ریسرچ کے میدانوں میں کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ ایک تحقیقی مقالہ ہو یا کوئی اسٹارٹ اَپ منصوبہ، چین اب ان کے لیے ایک پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ یہ ویزہ انہیں بار بار داخلے کی اجازت دیتا ہے، لمبے قیام کی سہولت فراہم کرتا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ ان سے کسی اسپانسر کی قید نہیں چاہتا۔
میں نے جب پہلی بار اس پالیسی کی تفصیل پڑھی، تو سوچا “یہ تو علم کی بیلٹ اینڈ روڈ ہے۔” جہاں کبھی قافلے ریشم لاتے تھے، اب علم، تحقیق اور دوستی کے قافلے آئیں گے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات کے اس نئے دور میں، K ویزہ محض ایک پروگرام نہیں بلکہ اعتماد کی نئی لکیر ہے۔ ایک ایسی لکیر جو سرحدوں کو نہیں، دلوں کو جوڑتی ہے۔
یہاں جب میں نے شینژن کے ایک ٹیکنالوجی پارک کا دورہ کیا جہاں مختلف ممالک کے نوجوان ماہرین کام کر رہے تھے۔ ان میں پاکستانی، ایرانی، افریقی اور یورپی چہرے بھی شامل تھے۔ سب اپنے اپنے علم سے چین کے مستقبل میں رنگ بھر رہے تھے۔ ایک روبوٹکس انجینئر، عائشہ تنویر، جو فیصل آباد سے آئی تھیں، اس نے بتایا “چین میں تحقیق کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ یہاں محنت کو جلدی پہچان ملتی ہے۔”
شام کو یونیورسٹی کی راہداری میں چلتے ہوئے میں نے سوچا مصنوعی سورج، سمارٹ شہر، فلک بوس عمارتیں، اور سبز دیواریں سب ترقی کی علامتیں ہیں۔ مگر اصل طاقت شاید ان نوجوانوں میں ہے جو دنیا کے مختلف گوشوں سے آ کر ایک خواب میں شریک ہیں۔
کھڑکی سے باہر شام کی نرم روشنی پھیل رہی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے چین نے صرف اپنے ملک کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے ایک راستہ روشن کیا ہے ایک راستہ جو علم، محنت اور تعاون سے گزرتا ہے۔ “زمین پر اگر روشنی ہے، تو وہ ان ہاتھوں سے ہے جو فاصلے مٹا دیتے ہیں۔”
ریل کی سیٹی بجی میرا سفر ختم ہو رہا تھا، مگر ایک نیا سفر شاید ابھی شروع ہوا تھا۔ وہ سفر جس میں انسان، علم، اور دوستی ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔
ریل کی کھڑکی کے پار سورج ڈوب رہا تھا، اور میں اپنے سفر کے آخری باب میں داخل ہو رہی تھی۔ مصنوعی سورج سے لے کر اسمارٹ شہروں، فلک بوس عمارتوں، سبز دیواروں اور چین کہ “کے ویزہ” نئے مواقع تک
چین کے چہرے کے ہر رنگ کو میں نے قریب سے دیکھا تھا۔ مگر اب میں اُس خواب کی دہلیز پر تھی جس نے ان سب خوابوں کو جنم دیا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI)۔
بیجنگ کی خزاں بھری شام میں جب میں نے “بیلٹ اینڈ روڈ ایکزیبیشن سینٹر” کا دورہ کیا، تو یوں لگا جیسے دنیا کے تمام راستے ایک ہی نقشے میں سمیٹ دیے گئے ہوں۔ دیواروں پر چمکتی لکیریں، نقشے پر جڑے ملکوں کے جھنڈے اور ان کے بیچ ایک مضبوط سنہری لکیر جو چین سے نکل کر ایشیا، افریقہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ تک پھیل رہی تھی۔ یہ وہی راستہ تھا جو صدیوں پہلے ریشم کی تجارت کے لیے کاروانوں نے طے کیا تھا، مگر اب وہی راستہ اسٹیل، ریل اور ڈیجیٹل نیٹ ورک میں بدل چکا ہے۔
ایک نوجوان چینی ماہر، لیو جیان، نے مجھے بتایا یہ محض تجارت نہیں، یہ رابطے کی نئی دنیا ہے۔ ہم 150 سے زائد ممالک کے ساتھ سڑکوں، بندرگاہوں اور ریل کے ذریعے ترقی بانٹنا چاہتے ہیں۔” میں نے مسکرا کر پوچھا: “اور پاکستان؟” وہ فخر سے بولا:
CPEC چین پاکستان اقتصادی راہداری ہماری دوستی کا دل ہے۔
گوادر سے کاشغر تک جو رستہ کھل رہا ہے، وہ صرف مال کا نہیں، خوابوں کا راستہ ہے۔”
میں نے لمحہ بھر کو آنکھیں بند کیں اور تصور میں وہ راستہ دیکھا۔ ریگستانوں سے گزرتی ریل، سمندروں پر دوڑتی بحری جہاز، اور ان کے ساتھ چمکتے چہرے جنہیں روزگار اور امید ملی۔ یہ محض ایک معاشی منصوبہ نہیں تھا، بلکہ دنیا کو ایک دھاگے میں پرونے کی کوشش تھی۔
اسی دوران میں نے ایک پاکستانی طالب علم، زویا احسان، سے ملاقات کی جو چین میں اکنامکس پڑھ رہی تھی۔ اس نے کہ چین
BRI نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ترقی صرف دولت کا نام نہیں، بلکہ اشتراک کا عمل ہے۔ جب راستے ملتے ہیں، تو قومیں قریب آتی ہیں۔” اس کے الفاظ دل میں اتر گئے۔
شام ڈھلنے لگی تھی، سینٹر کی کھڑکیوں سے باہر بیجنگ کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔ میں نے سوچا مصنوعی سورج نے توانائی دی، اسمارٹ شہروں نے نظم، سبز دیواروں نے سانس، اور اب بیلٹ اینڈ روڈ نے رشتے۔ چین نے ترقی کو صرف اپنے لیے نہیں، دنیا کے لیے بُن دیا ہے۔
واپسی کی رات ریل میں میں نے اپنا ڈائری کھولی۔ صفحہ در صفحہ میرا یہ سفر ایک نقشے میں ڈھلتا جا رہا تھا ہیفی کا مصنوعی سورج، شینژن کے خودکار شہر، چانگشا کی بلندی، شمال کی سبز دیوار، بیجنگ کے تعلیمی دروازے، اور اب یہ عالمی رستہ جو زمین کو ایک شہر میں بدل رہا ہے۔
کھڑکی سے باہر جھانکا تو اندھیری رات میں دور کسی اسٹیشن کی روشنی لمحہ بھر کو چمکی۔ “یہ روشنی سفر کی نہیں، یقین کی ہے جو ایک ملک سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔”
ریل کی سیٹی بجی، اور مجھے لگا جیسے میرا سفر ختم نہیں ہوا، بلکہ اب ایک نئے سفر کا آغاز ہے وہ سفر جس میں قومیں ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھیں گی، جہاں علم، تعاون اور انسانیت کی لکیر بیلٹ اینڈ روڈ کی طرح زمین کے نقشے پر ہمیشہ کے لیے کھنچ جائے گی۔
یوں چین کا یہ سفر اختتام کو پہنچا مگر کہانی ابھی باقی ہے، کیونکہ خواب
ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں۔ -

3 قد آور صحافیوں کی سالگرہ کراچی پریس کلب کی یادگار تقریب بن گئی (آغاخالد)
کراچی پریس کلب میں پی ایف یو جے کے مرکزی رہنمائوں لالہ اسد پٹھان اور خورشید عباسی کے اعزاز میں عشائیہ ترتیب دیاگیا جس کے میزبان کچھ مشترکہ دوست تھے کے پی سی کے نجیبی ٹیرس کی نو تعمیر شدہ چھت پر 15 اکتوبر 2025 کی شب منعقدہ یہ تقریب ایک یادگار اور عمدہ بیٹھک میں تبدیل ہوگئی تقریب کی صدارت کا اعزاز سماجی اور صحافتی میدان کی ہر دلعزیز شخصیت چئیرمین چینل 5 اور میٹرو ٹی وی اور کیبل آپریٹر ز ایسوسی ایشن خالد آرائیں کے حصہ میں آیا، تقریب میں خالد آرائیں، خورشید عباسی اور جنگ کے سابق معروف کامرس رپورٹر رفیق بشیر کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا یہ تقریب یکم اکتوبر کو ان تینوں محترم شخصیات کی سالگرہ کے دن منعقد ہونا تھی مگر کراچی کے ایک ممتاز صحافی اور ٹی وی میزبان کے اندوہناک قتل کی وجہ سے اسے منسوخ کرکے تاریخ آگے بڑھا دی گئی تھی تقریب کا آغاز ممتاز صحافی رہنما اور پریس کلب کی مقبول شخصیت امتیاز خان فاران نے کیا تعارفی کلمات کے بعد انہوں نے سینیر صحافی علامہ عارف ہاشمی کو تلاوت کلام پاک کی دعوت دی بعد ازاں انہوں نے بتایا کہ تقریب میں بطور خاص گورنر سندھ کامران ٹیسوری، سندھ کے سینیر وزیر شرجیل انعام میمن اور وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے شرکت کرنا تھی مگر ملکی حالات کے پیش نظر اس وقت تینوں شخصیات اسلام آباد میں ہیں، انہوں نے بقیہ تقریب کی نظامت کے لیے ہم سب کے پیارے خالد فرشوری کو دعوت دی اور اسٹیج ان کے حوالہ کردیا، انہوں نے معروف تاجر جنید کلیم کو دعوت دی کہ وہ اسٹیج پر آکر خالد آرائیں کو گلدستہ پیش کریں جس کے بعد تو گل دستے پیش کرنے والوں کی لائن لگ گئی جبکہ ڈاکٹر سلوت نے خورشید عباسی کو ہمیشہ کی طرح ان کی سالگرہ کے حوالے سے تحائف پیش کیے جبکہ انہوں نے خالد آرائیں اور رفیق بشیر کو بھی تحفہ دیا اس موقع پر کے پی سی کے مقبول صحافی شمس کیریو نے رفیق بشیر کی مدد سے خورشید عباسی کے گلے میں اجرک اوڑھائی اور سالگرہ کی مبارکباد پیش کی ، بعد ازاں فرشوری نے خصوصی مہمانان گرامی کو ترتیبا خطاب کی دعوت دی جس پر خالد آرائیں نے اپنی تقریر میں صحافی برادری کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں یہ اعزاز بخشا اور ان کی دیگر دوستوں کے ساتھ سالگرہ کا اہتمام کیا انہوں نے برسوں قبل سکھر پریس کلب کی جانب سے ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے ان کے خطاب کا حوالہ دیا اور کہاکہ اس تقریر سے ٹی وی مالکان ناراض ہوگئے اور برسوں یہ کشیدگی برقرار رہی کیونکہ انہوں نے صحافی رہنما اور سکھر پریس کلب کے روح رواں لالہ اسد کے توجہ دلانے پر یہ اعلان کیا تھا کہ کوئی بھی یو جے یا پی ایف یو جے لکھ کر نشان دہی کرے کہ فلاں چینل بروقت تنخواہیں ادا نہیں کرہا تو ہم ان کی کیبل سروس بند کردیں گے جس پر بڑا شور مچا اور اکثر چینل مالکان ہم سے ناراض ہوگئے مگر افسوس ہے کہ ایک صحافتی تنظیم نے لالہ اسد سے شکایت کے بہانے ہماری اس تقریب کا بائکاٹ کیا اور سننے میں آرہا ہے کہ کئی روز سے تقریب کی مخالفت بھی کی جارہی تھی اس موقع پر لالہ اسد پٹھان نے بھی اپنی تقریر میں خالد آرائیں کے دعوی کی تصدیق کی اور کہاکہ ان کا یہ انقلابی اعلان ایسا زوردار دھماکہ تھا کہ کئی چینلز کی انتظامیہ نے مہینوں سے روکی ہوئی اپنے عملہ کی تنخواہیں فورن ادا کردیں تقریب سے پی ایف یو جے کے سابق سیکریٹری جنرل خورشید عباسی جرمنی سے آئے صحافی شمس الحق، امریکہ سے آئے ہوئے معروف پروگرام آرگنائزر ناصر شیخ نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب کے میزبانوں کی فہرست میں معتبر صحافی اور سماجی شخصیت شیخ راشد عالم نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوے مہمانوں اور کراچی پریس کلب کی انتظامیہ کا بطور خاص شکریہ ادا کیا اور تقریب کے شاندار انعقاد پر میزبانوں کو خراج تحسین پیش کیا، تقریب میں معززین شہر اور مختلف طبقات کی اہم شخصیات سمیت مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں کراچی کلب کے جنرل سیکریٹری جاوید کریم(عرف راجہ بھائی) میٹرو ٹی وی کے ڈائرکٹر امیر علی چانڈیو، قومی اخبار گروپ کے سی ای او فہد شاکر ، اسد شاکر الوفاء ٹور اینڈ ٹریول کے سی ای او غیاث صدیقی ( پپو بھائی ) آبرار بختیار، شمس کیریو، لیاقت مغل، راشد لطیف، شہزاد چغتائی، کامران زہری، شجاعت قریشی، سہیل شبیر، سجاد بھٹی، نوید علی راجپوت، قریشی برادری کے صدر اعجاز قریشی، نور محمد جونیجو، زاہد آرائیں، احمد آرائیں، چاند نواب، آصف جیے جا، رانا ظاہر، ناصر، شعیب، سہیل رفیق، شاہ زماں، گڈو، خبریں گروپ کے رانا فیصل، ارباب چانڈیو، ثروت جبیں چانڈیو، عاصمہ اعوان، نوشابہ صدیقی، ڈاکٹر سلوت نے بطور خاص شرکت کی، تقریب میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض ادا کرتے ہوے کراچی کی صحافت کے نمایاں نام ذہین ہنس مکھ اور موقع محل کی مناسبت سے چٹکلے چھوڑنے اور جملوں کو شگوفوں میں بدلنے کے ہنرمند خالد فرشوری نے حاضرین محفل کو ہنسا ہنساکر شاداں و فرحان کردیا جبکہ تنویر آفریدی نے کیک کٹائی کے موقع پر ترنم سے سالگرہ کی مناسبت سے گیت گاکر حاضرین کو خوب محظوظ کیا اختتام تقریب بریانی اور زردہ سے مہمانوں کی تواضع کی گئی جبکہ تقریب کے انعقاد میں شیخ راشد عالم، امتیاز خان فاران، صابر مغل، اسد شاکر، فہد شاکر، راؤ عمران اشفاق، سجاد بھٹی، کامران زہری، وجاہت علی عابدی اور آغا خالد نے اہم کردار ادا کیا۔
-

سوشل میڈیا پر شاہانہ زندگی کی نمائش، 20 سے زائد ٹیکس چوروں کی نشاندہی ہوگئی
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے 20 سے زیادہ ایسے کیسز کا پتا لگایا ہے جو کروڑوں روپے کے اثاثوں، گاڑیوں اور کثرت سے بیرون ملک سفر کرنے اور سوشل میڈیا پر پرتعیش طرز زندگی کی نمائش کررہے ہیں لیکن اپنے جمع کرائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں میں نہ ہونے کے برابر آمدنی یا اثاثے ظاہر کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، (ان کیسز میں) ایک ڈیجیٹل مواد بنانے والا اور ٹریول وِلاگر شامل ہے، اور ایف بی آر کو عوامی سطح پر دستیاب انسٹاگرام مواد کے ذریعے پتا چلا کہ یہ وِلاگر 2020 سے 2025 کے مالی سالوں کے دوران کثرت سے پرتعیش بین الاقوامی سفر میں مصروف رہا۔2020 میں، اس نے سیشلز (ایک استوائی جزیرے کی چھٹیوں کے لیے مشہور مقام) کا سفر کیا، لیکن 2021 میں کوئی بین الاقوامی سفر ریکارڈ نہیں کیا گیا (جس کی وجہ غالباً کووڈ19 کی پابندیاں تھیں۔)۔ 2022 میں، اس شخص نے متعدد سفر کیے تھے، جن میں متحدہ عرب امارات (دبئی)، فلپائن، اسپین، اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔
مالی سال 2023 میں، اس شخص نے ترکیہ، برطانیہ، مالدیپ اور جارجیا کا سفر کیا۔ 2024 میں، اس شخص نے یورپ اور مشرق وسطیٰ کے وسیع دورے کیے، جن میں سعودی عرب (متعدد دورے، جو غالباً حج/عمرہ یا کسی تقریب کے لیے تھے)، کروشیا، اٹلی، پرتگال، ہنگری، فرانس، بیلجیئم (جہاں ٹومارو لینڈ میوزک فیسٹیول میں شرکت کی) اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔ 2025 کے اس حصے میں، اس شخص نے اپنے کثرت سے سفر کو جاری رکھا اور سویڈن، ڈنمارک، یونان، سعودی عرب، فرانس، آسٹریا، اور چیک ریپبلک کے دورے کیے۔
جب ایف بی آر نے اس کے جمع کرائے گئے گوشواروں کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ اس نے سیشلز کے پرتعیش تعطیلات پر خرچ کرنے کے ثبوت کے باوجود صرف 4 لاکھ 90 ہزار 800 روپے کی آمدنی، 3 لاکھ 90 ہزار روپے کے اخراجات، اور 10 لاکھ 90 ہزار 800 روپے کے خالص اثاثے ظاہر کیے تھے۔
مالی سال 2021 میں، 5 لاکھ 41 ہزار 880 روپے کی ظاہر کردہ آمدنی، 3 لاکھ 85 ہزار روپے کے ظاہر کردہ اخراجات اور سال کے اختتام پر 12 لاکھ 32 ہزار 680 روپے کے خالص اثاثے ظاہر کئے گئے تھے تاہم کووڈ کی پابندیوں کی وجہ سے سفر کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
2022 میں، ظاہر کردہ آمدنی 5 لاکھ 64 ہزار 40 روپے تھی اور ظاہر کردہ اخراجات 3 لاکھ 96 ہزار روپے تھے، جبکہ خالص اثاثے تقریباً 13 لاکھ 87 ہزار 720 روپے کے لگ بھگ تھے۔ 2023 میں، ظاہر کردہ آمدنی 7 لاکھ 84 ہزار 600 روپے تھی، لیکن اخراجات 4 لاکھ 80 ہزار روپے دکھائے گئے، اور سال کے اختتام تک خالص اثاثے 16 لاکھ 72 ہزار 320 روپے ظاہر کیے گئے۔
مالی سال 2024 کے جمع کرائے گئے گوشوارے میں ظاہر کردہ آمدنی 8 لاکھ 16 ہزار 800 روپے دکھائی گئی ہے، جبکہ اخراجات 5 لاکھ 4 ہزار روپے تک ہوئے، اور سال کے اختتام پر خالص اثاثے 19 لاکھ 29 ہزار 120 روپے رہے۔ یہ سب متعدد غیر ملکی دوروں کے ثبوت کے باوجود ہے۔ یہ صورتحال آمدنی کو بڑی حد تک چھپانے کی نشاندہی کرتی ہے۔
دوسری نمایاں مثال میں، ایف بی آر کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے 180.5 ملین روپے کے چھپائے گئے اثاثوں کا پتا لگایا ہے۔ یہ شخص جنوبی پنجاب کے ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے، اور عوامی سطح پر دستیاب شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی ملکیت اور استعمال میں چار قیمتی گاڑیاں پائی گئیں، لیکن انہیں نہ تو اس کے اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا گیا اور نہ ہی اس کے والد کے گوشواروں میں ان کا اعلان کیا گیا۔
ان اثاثوں میں لیکسس ایل ایکس 570 فلیگ شپ لگژری ایس یو وی ماڈل 2019 شامل ہے، جس کی تخمینہ شدہ مارکیٹ ویلیو 8 کروڑ روپے ہے۔ اس کے علاوہ ٹویوٹا فارچیونر لیجنڈر ایس یو وی جس کی قیمت 1کروڑ 50لاکھ روپے ہے، سوزوکی ہایابوسا (2021) اعلیٰ کارکردگی والی سُپر بائیک ہے جس کی قیمت 55 لاکھ روپے ہے، اور بی ایم ڈبلیو آئی 7 الیکٹرک لگژری سیڈان شامل ہے جس کی مارکیٹ قیمت 8 کروڑ روپے ہے۔
جب ایف بی آر نے جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال کی تو پتا چلا کہ ٹیکس دہندہ 12-01-23 کو رجسٹرڈ ہوا تھا۔ مالی سال 2023 کے گوشواروں میں، صرف دو موٹر سائیکلیں ظاہر کی گئیں، جن میں بی ایم ڈبلیو ایم 1000 آر آر جس کی قیمت 14.2 ملین روپے تھی، اور ایک بی ایم ڈبلیو آر 1250 جی ایس شامل تھی جس کی قیمت 9.8 ملین روپے تھی۔
کل ظاہر کردہ مالیت 31.28 ملین روپے بنتی ہے۔ مالی سال 2024 کے گوشواروں میں، صرف ایک ہی موٹر سائیکل یعنی وہی بی ایم ڈبلیو ایم 1000 آر آر ظاہر کی گئی تھی۔ جبکہ بی ایم ڈبلیو 1250 جی ایس اب فہرست میں شامل نہیں تھی۔ ایف بی آر کی تحقیقات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ٹیکس دہندہ نے اپنی دولت صرف اس کے اصل نظر آنے والے اثاثوں کے ایک معمولی حصے کے برابر ہی ظاہر کی ہے۔
اس شخص نے چھپائی گئی گاڑیوں کی خریداری میں استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کو ظاہر نہیں کیا۔ یہ طرزعمل واضح طور پر ٹیکس چوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ تیسری مثال میں، چھپائے گئے اثاثوں کی مالیت کا اندازہ 624 ملین روپے لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ اس ٹیکس دہندہ کی ملکیت اور استعمال میں 19 گاڑیاں تھیں، جن میں اسپورٹس کاریں، پرتعیش ایس یو ویز ، آف روڈ ٹرکس، موٹر سائیکلیں، اور ایک اے ٹی وی شامل ہیں۔
ایف بی آر کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے پایا ہے کہ ٹیکس دہندہ کی ملکیت اور استعمال میں شیورلیٹ کورویٹ سی 8 (سٹرنگرے) ماڈل 2020 گاڑی تھی، جس کی مارکیٹ قیمت 80 ملین روپے بنتی ہے، یاماہا ریپٹر 700 آر اے ٹی وی، جو کہ اعلیٰ کارکردگی کی حامل، تمام زمینوں پر چلنے والی کواڈ بائیک(700 سی سی)ہے اور مارکیٹ قیمت 6.5 ملین روپے بنتی ہے، ہارلے ڈیوڈسن پین امریکہ پرتعیش ایڈونچر ٹورنگ موٹر سائیکل (1250 سی سی) جس کی قیمت 15 ملین روپے بنتی ہے۔
ہونڈا سی ڈی 200 روڈ ماسٹر موٹر سائیکل جس کی قیمت 5 لاکھ روپے بنتی ہے، شیورلیٹ سِلوراڈوجس کی قیمت 4 کروڑ روپے بنتی ہے، ٹویوٹا ہائی لکس ریوو کی دو یونٹس(2.4 لیٹر ڈیزل) ڈبل کیبن والی، جن کی مجموعی قیمت 40 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا ایف جے کروزر جس کی قیمت 15 ملین روپے بنتی ہے، فورڈ ایف-150 ریپٹر جس کی قیمت 70 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا لینڈ کروزر 70 سیریز جس کی قیمت 5 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا لینڈ کروزر 70 سیریز پک اپ جس کی قیمت 40 لاکھ روپے بنتی ہے۔ٹویوٹا 4 رنر (4X4 ایس یو وی) جس کی قیمت 60 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا لینڈ کروزر 300 سیریز جس کی قیمت 90 ملین روپے بنتی ہے، رینج روور جس کی قیمت 80 ملین روپے بنتی ہے، آڈی کیو 7 جس کی قیمت 30 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا ٹنڈرا جس کی قیمت 25ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا ٹاکوما جس کی قیمت 15ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا لینڈ کروزر 200 سیریز جس کی قیمت 40 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا لینڈ کروزر 100سیریز جس کی قیمت 25 ملین روپے بنتی ہے، اور مرسڈیز بینز (سیڈان) جس کی قیمت 9 ملین روپے ہے۔ایف بی آر نے پایا ہے کہ ان پرتعیش گاڑیوں میں سے کوئی بھی ٹیکس دہندہ کے اثاثوں کے گوشوارے میں ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ رابطہ کرنے پر ایف بی آر کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل کے انچارج نے بتایا کہ ٹیکس چوری کے ممکنہ مرتکب افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، لیکن انکم ٹیکس کے قوانین کے تحت وہ ان کی شناخت ظاہر نہیں کر سکتے۔ -

علیمہ خان کے تیسری بار ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنیکا حکم
راولپنڈی (کنزیومرواچ نیوز)انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے مسلسل عدم پیشی پر عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمات کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے کی۔علیمہ خان کے علاوہ مقدمے میں نامزد 10 ملزمان عدالت پیش ہوئے جبکہ استغاثہ کے پانچ گواہان بھی مال مقدمہ سمیت عدالت پیش ہوئے۔عدالت نے علیمہ خان کی عدم حاضری پر تیسری مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے، علیمہ خان کے ضامن عمر شریف کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے 22 اکتوبر کو پیش کریں۔انسداد دہشتگردی عدالت نے علیمہ خان کے ضامن کی جائیداد کی دستاویزات کی تصدیق کیلئے ڈی سی راولپنڈی کو ہدایات جاری کر دیں۔
-

گرین لائن منصوبہ جامع کلاتھ کے قریب ختم ہوگا: ترجمان وفاقی حکومت
کراچی(کنزیومرواچ نیوز)ترجمان وفاقی حکومت برائے سندھ راجہ خلیق انصاری نے کہا ہے کہ عوام کے لیے خوشخبری ہے کہ گرین لائن کا کام جلد شروع ہونے والا ہے۔ راجہ خلیق انصاری نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں میٹنگ میں گرین لائن سے متعلق تمام چیزوں پر بات ہوئی ہے اور بلدیاتی حکومت نے جن ادھورے کاموں کی نشاندہی کی ہے وہ مکمل کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا عوام کے لیے خوشخبری ہے کہ گرین لائن کا کام جلد شروع ہونے والا ہے، ایک ماہ کی تاخیر ہونے کی وجہ سے منصوبہ اب ستمبر 2026 تک مکمل ہوگا، منصوبے میں کیپری سنیما، پلازہ اور جامع کلاتھ کے قریب ایک اسٹیشن بنے گا جب کہ گرین لائن منصوبہ جامع کلاتھ کے قریب ہی ختم ہوگا۔ ترجمان وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ میئر صاحب کا خیال تھا این او سی نہیں لیا گیا، این او سی 2017 کی تھی، اس وقت میئر نہیں تھے، این او سی پرکوئی تاریخ مقرر نہیں تھی اس لیے ہم سمجھتے تھے کہ این او سی یہی چلے گا۔ راجہ خلیق الزماں نے مزید کہا کہ 31 اکتوبر کو کراچی کینٹ میں اسٹیٹ آف دی آرٹ اسٹیشن کا افتتاح کیا جارہا ہے، کینٹ اسٹیشن آکر ایسا محسوس ہوگا جیسے ائیرپورٹ آگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے زیرتعمیر منصوبوں میں مدد کے لیے تیار ہیں، لیاری ایکسپریس وے پر صرف مینٹی نننس کا کام ہورہا ہے اور لیاری ایکسپریس وے جیسے چل رہا ہے ویسے ہی چلے گا۔
-

پاکستان کے اشعب عرفان نے کیریئر کا پہلا پی ایس اے ورلڈ ٹور ٹائٹل جیت لیا
وینکوور (کنزیو مر واچ نیوز)پاکستان کے اشعب عرفان نے وینکوور اوپن اسکواش کے فائنل میں کامیابی حاصل کر کے کیریئر کا پہلا پی ایس اے ورلڈ ٹور ٹائٹل جیت لیا۔پاکستانی اسکواش پلیئر اشعب عرفان نے وینکوور مینز اوپن اسکواش کے فائنل میں انگلینڈ کے سیم ٹوڈ کے خلاف تین ۔ صفر سے کامیابی حاصل کی۔پاکستانی پلیئر نے 43 منٹ جاری میچ 11۔9، 11۔1 اور 11۔5 سے کامیابی حاصل کی۔وینکوور اوپن اسکواش کی مجموعی انعامی رقم 31,250 ڈالرز ہے۔
