کراچی:
کامن ویلتھ پیپلز فرینڈرز شپ ایسوسی ایشن پاکستان (سی پی ایف اے) کے زیر اہتمام چئیرمین وائس فار ہیومنیٹی انٹرنیشنل اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہم اور آپ کے ہوسٹ احتشام ارشد نظامی کے اعزاز میں ایک پروقار عصرانے کا اہتمام کیا گیا جس میں ملکی دانشوروں ،ادیبوں ،شعرا،شاعرات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات سمیت بیرون ملک مقیم ادیبوں،شاعروں اوردانشوروں نے بھی شرکت کی ،نظامت کے فرائض شاہد محی الدین نے انجام دئیے، ابتدائی خطاب میں وائس فار ہیومنیٹی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر کے چئیرمین حامد اسلام نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم لوگ بنیادی طور پر فلاح وبہبود کے کام کرتے ہیں،خاص طور پر ان مجبور لوگوں کے لئے جوبنگلہ دیش کے کیمپوں میں جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں،ان مجبور لوگوں کا حال بتانے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں انھوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے ہمیں غلط تاریخ پڑھائی جارہی ہے، لاکھوں محب وطن لوگ موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے اس قتل عام کا کسی نے نوٹس نہیں لیا نا ہی کسی کے پاس ان اموات کی درست تعداد موجود ہے۔
میں سانحہ مشرقی پاکستان کا عینی شاہد ہوں میرے الفاظ بہت اہمیت کے حامل ہیں،میں سمجھتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں پانچ سے چھ لاکھ اردو اسپیکنگ افراد کو شہید کیا گیا حامد اسلام نے کہا کہ ان بد قسمت لوگوں کو نا پاکستان قبول کر رہا ہے ناہی بنگلہ دیش،نواز شریف نے محصورین کو پنجاب میں آباد کرنے کی کوشش کی تھی مگر ان کو شدید دباو کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ کچھ مکانات بھی تعمیر ہوئے تھے اور چند خاندانوں کو آباد بھی کیا گیا تھا بعد ازاں یہ منصوبہ سرد خانے کی نذر ہوگیا۔جنرل سکریٹری اظفر شکیل نے کہا کہ میرا گلا خراب ہے مگر زباں بندی نہیں ہے،ہم لوگ امریکا،کینیڈا اور دیگر ممالک میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں،ہماری آواز سنی جارہی ہے اس لئے آج ہم یہاں موجود ہیں،ہم احتشام ارشد نظامی کی قیادت میں بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم محب وطن لوگوں کے لئے کام کر رہے ہیں، چئیرمین وائس فار ہیومنیٹی انٹرنیشنل احتشام ارشد نظامی نے کہا کہ میں آپ سب حاضرین کا بے حد شکر گزار ہوں کہ ٓاپ نے مجھے اظہار خیال کا موقع دیا اور مجھے سننے کے لیے یہاں موجود ہیں ہم نا صرف بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم محب وطن لوگوںکے لیے کام کر رہے ہیں بلکہ ہم نے برما کے روہنگیا مسلمانوں کے لیے بھی کام کیا امریکہ ،کینیڈا پاکستان اور دیگر ممالک میں ہم خدمات انجام دے رہے ہیں میں اکثر بنگلہ دیش کے کیمپوں میں جاتا ہوں وہاں کے اسکولوں کا دورہ کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ جس حد تک ممکن ہو ان محب وطن لوگو ںکی خدمت کر وں انہوں نے کہا کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے دوران کتنے اردوا سپیکنگ لوگوں کو شہید کیا گیا ان کی تعداد کا صحیح اندازہ موجود نہیں ہے جس وقت سانحہ مشرقی پاکستان ہوا اس وقت ہم پاکستان میں تھے اور ان کے لیے تحریک چلا رہے تھے کہ کسی طرح ان لوگوں کے ساتھ انصاف ہو سکے انہوں نے کہا کہ میری لائبریری میں مشرقی پاکستان سے متعلق بے شمار کتابیں موجود ہیں یہ میرا پسندیدہ موضوع ہے اسی لیے میں اس موضوع پر ایک کتاب تحریر کر رہا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ حسین شہید سہروردی کے ساتھ بہت ناانصافیاں ہوئی ہیں وہ بہت بڑے لیڈر تھے مگر ان کو تسلیم نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ بنگالیوں کا بھی قتل ہوا مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ قتل کس نے کیا مختلف حوالوں سے پاکستانی فوج پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ 30 لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا گیا اس حوالے سے کمیشن بھی بنایا گیا تھا مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں عورتوں کو برہنہ کر کے جلوس نکالا گیا ان کی بے حرمتی کی گئی مگر کوئی پوچھنے والا نہیں تھا-
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصدیہ ہے کہ حقائق کو سامنے لایا جائے انہوں نے کہا کہ جو لوگ کیمپوں میں پڑے ہیں ان کی حالت بہت خراب ہے ایک تخت پر ایک فیملی اور اس کے نیچے دوسری فیملی گزارا کر رہی ہے واش روم کے لیے لمبی لمبی لائنیں لگائی جاتی ہیں محصورین پاکستان کی وجہ سے اس حال کو پہنچے اور ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو وہیں رہنے دیا جائے انہوں نے کہا کہ میں جب تک زندہ ہوں انسانیت کے لیے کام کرتا رہوں گا انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی جدوجہد کا کیا نتیجہ نکلا تو میں کہتا ہوں کہ اذان دیتے ہوئے موذن کبھی یہ نہیں سوچتا کہ کتنے لوگ نماز پڑھنے آئیں گے اسی طرح میں بھی جدوجہد کر رہا ہوں جدوجہد خلوص کے ساتھ کر رہا ہوں اس لیے توقع ہے کہ نتائج نکلیں گے اور نتائج نکلیں یا نہ نکلیں میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہوں گاانہوں نے شاعروں اور ادیبوں سے کہا کہ وہ اپنی شاعری اور کہانیوں میں بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم ان محب وطن پاکستانیوں کو ضرور یاد رکھیں ہوسکتا کہ آپ کے قلم اٹھانے سے ان مظلوموں کی کچھ داد رسی ہوسکے۔تقریب کے اختتام پر مختلف شخصیات میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔