Blog

  • اسلام آباد میں بونیر جیسے سیلاب کے خطرہ ہے،ماہر ماحولیات

    اسلام آباد میں بونیر جیسے سیلاب کے خطرہ ہے،ماہر ماحولیات

    اسلام آ باد (کنزیومر واچ نیوز)ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے اسلام آباد میں بونیر جیسے خطرناک سیلاب کی وارننگ دے دی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر زینب نعیم نے کہا کہ پہاڑوں پر کرشنگ ہورہی ہے اور کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں جگہ پہاڑوں کو توڑا جارہا ہے، جس کے باعث پتھر سیلابی پانی کے ساتھ پہاڑوں سے نیچے گرتے ہیں اور انسانی آبادیوں کو تباہ کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے نالوں کی صفائی اور محکموں میں درست لوگوں کی تعیناتی ہونی چاہیے اورکلائمٹ چینج پر وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سطح کا مکالمہ ہونا چاہیے۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے وزیر ناصر شاہ نے کہا ہےکہ کراچی کے نالوں کی ڈرینج گنجائش 40 ملی میٹر ہے، اس لیے شہر میں 200 ملی میٹر کی بارش کنٹرول نہیں ہوسکتی۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ بارشوں کا رواں سلسلہ 10ستمبر تک رہے گا۔ مصدق ملک نے خبردار کیا کہ اگلا مون سون زیادہ شدت والا ہوگا، 15 دن پہلے شروع ہوگا، اگلے مون سون کی تیاری آج سے ہونی چاہیے۔

    مزید خبریں :

  • منتخب نمائندوں نے کراچی کو گوٹھ بنا دیا تحریر :شیخ راشد عالم

    منتخب نمائندوں نے کراچی کو گوٹھ بنا دیا تحریر :شیخ راشد عالم

    روزنامہ نوائے وقت
    Aug 15, 2020
    پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث کچرا کنڈی بن چکا ہے۔ سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے مابین اختیارات کی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اس شہر کا ہوا ہے۔تقریباً3 کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی والے شہر میں صفائی کی صورتحال ابتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اس تمام ترصورتحال کے ذمہ دار سندھ حکومت اور کراچی کے منتخب بلدیاتی نمائندے ہیں۔ میئر کراچی وسیم اختر کے مطابق انہیں کراچی کی صفائی کی ناقص صورتحال پر کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم اس کی اصل ذمہ دار سندھ حکومت ہے جس کے پاس شہر کے اصل اختیارات ہیں۔وسیم اختر کہتے ہیں کہ کراچی میں تھوڑا بہت جتنا بھی کام ہورہا ہے وہ محدود وسائل اور انتہائی کم فنڈز سے صرف بلدیہ عظمیٰ کراچی ہی کررہی ہے۔ سندھ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ذمہ داری نہ ہونے کے باوجود شہر کی بہتری کے عارضے میں مبتلا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جو کام کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے کرنے کے ہیں وہ سندھ حکومت کر رہی ہے۔ایک دوسرے پر الزام تراشی کی سیاست نے اس شہر کو تباہ و برباد کردیا ہے۔زمانہ گزر گیا کہ اس شہر میں ترقیاتی کاموں کا نام و نشان تک نہیں ملتا ہے۔کچھ منصوبے اگر شروع بھی کیئے جاتے ہیں تو وہ کرپشن، اختیارات کی رسہ کشی اور نا اہلی کی وجہ سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے دردِ سر بن جاتے ہیں۔اس کی واضح مثال ’’گرین لائن‘‘ کا منصوبہ ہے۔یہ منصوبہ کبھی کراچی والوں کو ریلیف فراہم کر پائے گا یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس منصوبے کی وجہ سے شہر کی حالت مزید ابتر ہوگئی ہے۔اس شہر کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔گزشتہ دنوں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کراچی کے دکھ کو محسوس کرتے ہوئے جب اس شہر کو تباہ کرنے کے ذمہ داروں کی گوشمالی کی تو عوام کے دل سے دعا نکلی کہ کوئی تو ہے جو اس شہر کی بربادی کا درد محسوس کررہا ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی بات کر رہا ہے۔چیف جسٹس صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ میں حکومت ہے نہ قانون، سندھ حکومت اور میئر کراچی کے شہریوں سے دشمنی کر رہے ہیں۔ سندھ میں صوبائی اور بلدیاتی حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے منتخب نمائندوں نے کراچی کو گوٹھ بنادیا ہے۔ یہاں مافیاز حکومتوں کو پالتی ہیں، حکومتیں ان کا کیا بگاڑیں گی؟۔ حکومتیں مافیاز کے خلاف اس لیے ایکشن نہیں لیتی ہیں کہ اگر انہوں نے کچھ کیا تو ان کا اپنا دانہ پانی بند ہو جائیگا۔ وزیراعلیٰ سندھ ہیلی کاپٹر پر دورہ کرکے آجاتے ہیں ہوتا کچھ نہیں ہے۔سندھ میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔ اگر کسی کے پاس پیسے ہیں تو وہ سب کر لیتا ہے۔صرف اور صرف لاقانونیت ہے، حکومتی رٹ کہاں ہے؟ آئین پڑھیں آئین سب کو تحفظ دیتا ہے مگر حکومت کیا کررہی ہے؟ پورے شہر میں گند ہے غلاظت ہے تعفن اٹھ رہا ہے۔ کون ٹھیک کرے گا یہ؟ بچے گٹر کے پانی میں روز ڈوب رہے ہیں۔ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے میئر وسیم اختر کے حوالے سے چیف جسٹس کا منگل کے روز کہنا تھا کہ میئر کراچی کہتے ہیں میرے پاس اختیارات نہیں، اگر اختیارات نہیں تو گھر جائو، کراچی کی جان چھوڑو، کیوں میئر بنے بیٹھے ہو۔ پورے شہر میں کچرا اور گندگی پھیلی ہوئی ہے ہر طرف تعفن کی صورتحال ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا کوئی اس شہر کیلئے کچھ کرنے والابھی ہے۔ کیا یہاں کے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کی دشمنی نکالی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے لوکل باڈی اور صوبائی حکومت کی اس شہر سے دشمنی ہے۔ میئرکراچی بھی شہر سے دشمنی نکال رہے ہیں۔ لوگوں نے ان کو ووٹ دیا تھا کہ کراچی کیلئے کچھ کریں گے۔ لگتا ہے یہاں کے لوگوں سے ان کی کسی قسم کی دشمنی ہے۔ ان کو خدمت کیلئے منتخب کیا تھا اور یہ کہتے ہیں میرے پاس کچھ نہیں ہے انہوں نے صرف تباہی کی ہے۔ اگر یہ کچھ نہیں کرسکتے تو جان چھوڑیں لوگوں پر کب تک مسلط رہیں گے؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کب جارہے ہیں آپ؟ میئر کراچی نے کہا کہ30 اگست کو مدت ختم ہورہی ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جان چھوٹے گی لوگوں کی جائیں آپ اللہ حافظ۔ کسی نے شہر کو نہیں بنایا صرف تباہ کیا ہے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ کراچی میں بجلی بحران بدترین ہوچکا، روز لوگ مر رہے ہیں نیپرا کچھ نہیں کر رہی۔ چیف جسٹس نے کے الیکٹرک کیخلاف فوری کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کے ڈائریکٹرز کو گرفتار کرکے جیل بھیجا جائے اور کے الیکٹرک کی پوری انتظامیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کو بنانے والا کوئی نہیں ہے، لوگ آتے ہیں جیب بھر کر چلے جاتے ہیں، کے الیکٹرک والے بھی یہاں مزے کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکم دیا کہ کے الیکٹرک کی پوری انتظامیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے، ہم حکم نامہ بھی جاری کریں گے۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ لوگ کرنٹ لگنے سے مر جاتے ہیں لیکن نیپرا کچھ نہیں کررہی چوڑیاں پہنی ہیں سب نے کیوں کہ ان کا پیسہ کھاتے ہیں۔ہر فرد جو جاں بحق ہوتا ہے اس کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیئے اور کے الیکٹرک کے ڈائریکٹرز کو گرفتار کیا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے۔کراچی کا المیہ ہے کہ اس شہر میں جس کا اختیار ملا اس نے دل بھر کر اس شہر کو لوٹا اور تاراج کیا۔ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے عوامی نمائندے بھی ہیں اور بیورو کریسی کے اعلیٰ افسران بھی۔ اس شہر کی بحالی اور خوشحالی کے لیے بلاشبہ اب تک کسی نے کچھ نہیں کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے جس انداز میں کراچی کو تباہ کرنے والوں کے خلاف برہمی کا اظہار کیا ہے اس سے امید بندھ چلی ہے کہ شاید اس شہر کے زخموں پر مرہم رکھا جائے گا۔جس طرح چیف جسٹس صاحب نے کے الیکٹرک کے تفصیلی آڈٹ کا حکم دیا ہے اور انتظامیہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایت کی ہے بالکل اسی طرز پر کراچی میونسپل کارپوریشن کے میئر اور تمام ڈسٹرکٹ مونسپل کارپوریشنز کے چیئرمینوں اور میونسپل کمشنرز کے نام ای سی ایل میں ڈال کر کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کا تفصیلی آڈٹ کرایا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کراچی کی تباہی کی وجہ وسائل کی عدم دستیابی تھا؟اختیارات کا فقدان تھا؟یا مسئلہ کردار کا تھا؟عوام کے سامنے سچ آنا چاہیئے۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ملک کو لوٹنے والوں کو روکنے کے لیے ہمارے قانون میں گنجائش موجود ہی نہیں ہے۔یہاں لوگ اقتدار میں آتے ہیں عیش و عشرت کے ساتھ اپنی مدت پوری کرتے ہیں تنہا خود ہی نہیں بلکہ پورا خاندان ہر قسم کی مراعات کا حق دار قرار پاتا ہے۔ ملکی وسائل کا بے دریغ استعمال ہی نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں شیر مادر سمجھ کر پی لیا جاتا ہے اور ملکی وسائل کسی دوسرے ملک میں ان کی جائیداد اور اثاثوں کی شکل میں ظاہر ہو جاتے ہیں۔ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کے گرد قانون کا گھیرا ذرا سا تنگ ہوا تھا تو ملک میں سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا تھا۔متعدد میڈیکل بورڈ تشکیل دیئے گئے۔ ملک میں دستیاب تمام تر طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی گئیں لیکن اس کے باوجود ان کے وائٹ بلڈ سیل ہر روز ایسے نیچے گر رہے تھے جیسے پاکستانی روپیہ نیچے گر رہا ہو۔ ملک میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کی گئی اور ایئر ایمبولینس میں بیرون ملک جانے والے نواز شریف بغیر کسی اسپتال میں داخل ہوئے اور بغیر کسی طبی امداد کے چنگے بھلے لندن کی شاہراہوں پر گھوم رہے ہیں اور لندن کے ریستورانوں کی مزیدار ڈشیں چکھ رہے ہیں۔ کسی کو اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ ایک سزایافتہ شخص جو محض علاج کے لیے باہر بھیجا گیا تھا واپس کیوں نہیں آرہا ہے؟ہمارا قانون حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار جیسے لوگوں کو لانے میں ناکام رہتا ہے۔کراچی میں بھی ایسی شخصیات کی طویل فہرست ہے جو اس شہر میں اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور جیسے ہی اقتدار سے الگ ہوئے ملک سے باہر چلے گئے۔وہ لوگ دبئی اور دیگر ممالک میں بھر پور زندگی گزار رہے ہیں۔ اس شہر کولولٹ کر جانے والے واپس آنے کا نام تک نہیں لیتے۔ سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے
    سندھ کے سب سے طویل مدت تک گورنر رہنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن اقتدار سے الگ ہوتے ہی وہ ایسے غائب ہوئے کہ کوئی ان کی گرد کو بھی نہیں پا سکا وہ آج کل دبئی میں ایک پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں اوران کی واپسی کو کوئی امکان نہیں پایا جاتا۔ اسی طرح سابق وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ بابر غوری اربوں روپے بناکر اقتدار سے الگ ہوتے ہی کینیڈا میں ایک رئیس زادے کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔ان کی پارٹیوں میں ڈانس کے دوران ڈالر لٹاتے ہوئے کی تصاویر اور ویڈیوز تو آتی ہیں وہ خود واپس پاکستان آنے کو تیار نہیں ہیں۔ اسی طرح سابق صوبائی وزیر عادل صدیقی،اویس مظفر ٹپی اور ان جیسے بے شمار لوگ ہیں جو کراچی سے بن کر باہر گئے اب قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ پا رہا ہے۔ملک میں ایسا قانون ہونا چاہیئے کہ عوامی عہدوں پر تعینات افراداور سیکریٹریز لیول کے سرکاری افسران اپنے عہدوں سے فارغ ہونے کے بعد کم از کم دوسال تک بیرونِ ملک نہ جا سکیں۔اس دوران ان کے اثاثوںکی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ تحقیقات کے بعد جو لوگ صاف ستھرے ثابت ہوں انہیں باقاعدہ ایورڈ اور سند سے نواز اجائے اور جو لوگ کرپشن میں ملوث پائے جائیں انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ کل تک جو شہر دنیا بھر میں عروس البلاد کہلاتا تھا آج وہ ایک قدیم تباہ حال گوٹھ کی شکل اختیار کر چکا ہے وقت آگیا ہے کہ کراچی کو بچایا جائے اور اس کی تباہی کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

  • کراچی میں موسلادھار بارش سے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ، گھروں میں پانی داخل، بجلی غائب

    کراچی میں موسلادھار بارش سے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ، گھروں میں پانی داخل، بجلی غائب

    کراچی:(کنزیومر واچ نیوز)مون سون کے طاقتور سسٹم کے زیر اثر کراچی میں موسلادھار بارش کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا، جس کے سبب مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔شہر میں دوپہر کے وقت دوبارہ کالی گھٹائیں چھا گئیں جس سے بیشتر علاقوں سرجانی ٹاؤن، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، قیوم آباد، گلستان جوہر، ملیر، شارع فیصل، ناظم آباد، نیو کراچی میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی۔موسلادھار بارش کے سبب شہر کی مرکزی سڑکوں کے ساتھ اندرونی گلیوں میں پانی جمع ہوگیا۔ گلشن حدید میں ایک گھنٹے سے موسلادھار بارش سے گلیاں زیر آب آگئیں اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا، لوگ اپنا قیمتی سامان محفوظ جگہ ٹھکانے لگانے لگے۔حسن اسکوائر، نیپا چورنگی، ضیاء کالونی، گلشن شمیم، لیاقت آباد 10 نمبر، جیل چورنگی، کارساز، کورنگی اور ایکسپریس وے سمیت متعدد مقامات پر بارش کا پانی جمع ہوگیا، جس کے سبب ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوگئی۔شہر کے مختلف علاقوں میں 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی بھی بند ہوگئی۔ بارش کے بعد کے الیکٹرک کا ڈسٹری بیوشن نظام تاحال غیر مستحکم ہے۔بلدیہ میں 68، بن قاسم میں 52، ڈیفنس میں 50، گلشن اقبال میں 46، گلستان جوہر میں 62، کورنگی میں 59، اورنگی میں 82، سوسائٹی میں 68، سرجانی میں 57، لیاقت آباد، ناظم آباد اور اوتھل بلوچستان میں 17 فیڈرز اور پی ایم ٹی ٹرپ کر گئے۔فیڈرز کی بحالی کا کام شروع نہ ہو سکا، کے الیکٹرک کی ٹیکنیکل ٹیموں کو گراوٴنڈ کلیئرنس نہ ملنے پر بحالی میں تاخیر ہو رہی۔ مختلف علاقوں میں انڈر گراونڈ کیبل فالٹس اور سب اسٹیشن میں پانی بھرنے سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کا شکار ہے۔نیو کراچی، نارتھ کراچی، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، گلستان جوہر، پی آئی بی کالونی، جمشید روڈ، اولڈ سٹی ایریا، محمود آباد، کورنگی، لانڈھی اور شاہ فیصل سمیت متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔سندھ سیکریٹریٹ کی بیرک نمبر 84 کی چھت بارش کے باعث گر گئی تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ بیرک 84 میں رورل ڈویلپمنٹ کا دفتر موجود ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مون سون بارشوں کے دوران متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے شدید بارشوں کے پیش نظر ریسکیو اور انتظامیہ کو متحرک رہنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے میئر کراچی کو ہدایت کی کہ بارش کے پانی کے فوری اخراج کے لیے مشینری اور عملہ متحرک رکھا جائے، شدید بارشوں کے دوران عوام کو غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اربن فلڈ سے بچاؤ کے لیے نالوں اور ڈرینج سسٹم کی سخت نگرانی کی جائے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور بلدیاتی ادارے کوآرڈینیشن میں رہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے ٹریفک پولیس کو نشیبی اور مصروف مقامات پر الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔انہوں نے ہدایت کہ بارش کے دوران ٹریفک پولیس عوام کی بھرپور رہنمائی کرے، بجلی کے کھمبوں اور کمزور انفرا اسٹرکچر سے دور رہیں۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں آئندہ تین روز طوفانی بارش کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر علاقوں میں طاقتور مون سون ہوائیں اثر انداز ہو رہی ہیں جس کے تحت منگل سے جمعرات کے درمیان کراچی میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر درمیانی اور کہیں کہیں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

  • اسلام آباد، پشاور اور سوات سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد، پشاور اور سوات سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد(کنزیو مر واچ نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔تفصیلات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے جڑواں شہروں اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، سوات، ایبٹ آباد اور چترال محسوس کیے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.2 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش پہاڑی سلسلے میں تھا۔زلزلہ صبح 10 بج کر 20 منٹ پر آیا جس کی ریکٹر اسکیل پر گہرائی 190 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگ گھروں، دفاتر اور دکانوں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

  • چوری کے بعد چوروں کا انوکھا کام، متاثرہ فیملی خوف میں مبتلا

    چوری کے بعد چوروں کا انوکھا کام، متاثرہ فیملی خوف میں مبتلا

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)گلشن حدید میں نامعلوم ملزمان گھر سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان چوری کرکے لے گئے۔پولیس کے مطابق گلشن حدید فیز ٹو میں ایک انوکھی چوری کی واردات سامنے آئی۔ملزمان نے گھر کی دیواروں اور ڈریسنگ ٹیبل پر کارٹون اور نقش و نگار بھی بنائے، ملزمان نے خواتین اور بچوں کی تصویروں پر سرخ نشان بھی لگائے جس سے متاثرہ فیملی میں خوف و حراس پھیل گیا۔پولیس کا بتانا ہے کہ چور لاکھوں روپے مالیت کے کپڑے، آرٹیفیشل جیولری، موبائل فون اور اسمارٹ واچ لے اڑے۔ واقعے کے بعد متاثرہ فیملی شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہے جب کہ فیملی نے واقعہ کے خلاف اسٹیل ٹاؤن تھانے میں درخواست جمع کرائی ہے۔

  • سینیٹ اجلاس کے دوران ایوان سے چوہا نکل آیا

    سینیٹ اجلاس کے دوران ایوان سے چوہا نکل آیا

    اسلام آباد :(کنزیومر واچ نیوز) سینیٹ اجلاس کے دوران ا یوان میں چوہا نکل آیا۔ذرائع کے مطابق ایوان بالا میں اجلاس کے دوران چوہا نکل آنے پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پوائنٹ آؤٹ کیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ توجہ دلانا چاہتا کہ ایوان میں چوہا گھوم رہا ہے۔اس موقع پر پریزائیڈنگ افسر دنیش کمار نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ یہ چوہا ہے یا چوہیا ہےجس پر خوب قہقہہ لگ گئے۔ بعد ازا ں سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ ایوان کا ماحول کتنا خوشگوار ہے۔

  • سینٹرل کانٹریکٹ کا اعلان: بابر اور رضوان کی بھی تنزلی

    سینٹرل کانٹریکٹ کا اعلان: بابر اور رضوان کی بھی تنزلی

    لاہور(کنزیو مر واچ نیوز) پی سی بی نے 2025-26 کے لیے قومی کرکٹرز کے سینٹرل کانٹریکٹ کا اعلان کردیا۔قومی کرکٹ ٹیم کا کوئی کرکٹر اے کیٹیگری کا اہل قرار نہیں پایا جس کے باعث بورڈ نے سینٹرل کانٹریکٹس سے اے کیٹیگری کو ختم کردیا۔پی سی بی نے 30 کھلاڑیوں کو کانٹریکٹس دیے جن میں پرفارمنس کی بنیاد پر کیٹیگری بی، سی اور ڈی میں 10،10 کھلاڑی رکھے گئے ہیں جب کہ کانٹریکٹس یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک لاگو ہوں گےگزشتہ سال 27 کھلاڑیوں کو کانٹریکٹ دیے گئے تھے اور اس سال تعداد بڑھ کر 30 ہوگئی ہے، جب کہ رواں برس 12 نئے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹس کو حتمی شکل دینےکے احکامات جاری نئے کھلاڑیوں میں احمد دانیال، فہیم اشرف، حسن علی، حسن نواز، حسین طلعت، خوشدل شاہ، محمد عباس، محمد حارث، محمد نواز، صاحبزادہ فرحان، سلمان مرزا اور صوفیان مقیم کو نئے کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا ہے۔9 کھلاڑی اپنی سابقہ کیٹیگری برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں جب کہ 8 کھلاڑی کانٹریکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
    اے کیٹیگری ختم:
    رواں برس اے کیٹیگری میں کسی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا اسی لیے یہ کیٹیگری فی الحال ختم کردی گئی، گزشتہ برس اے کیٹیگری میں بابر اعظم اور محمد رضوان کو شامل کیا گیا تھا۔اس سال نسیم شاہ بی سے سی کیٹیگری میں آگئے، بی کیٹیگری میں شامل ٹیسٹ کپتان شان مسعود بی سے ڈی کیٹیگری میں آگئے۔

  • راولاکوٹ میں گاڑی نالے میں بہنے اور دریائے نیلم میں گاڑی گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    راولاکوٹ میں گاڑی نالے میں بہنے اور دریائے نیلم میں گاڑی گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    مظفرآباد(کنزیومر واچ نیوز)راولا کوٹ اور دریائے نیلم میں گاڑیوں کے حادثات میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق راولا کوٹ میں پونچھ یونیورسٹی کے تراڑ کیمپس کے قریب کار نالے میں بہہ گئی جس کے نتیجے میں پونچھ یونیورسٹی کی خاتون لیکچرار جاں بحق ہوگئیں۔پولیس کا کہنا ہےکہ لیکچرار کی گاڑی تراڑ کیمپس کے قریب نالے سے گزر رہی تھی کہ گاڑی بند ہوگئی، اس دوران نالے میں زیادہ پانی آنے کی وجہ سے گاڑی بہہ گئی، حادثے میں جاں بحق خاتون گل لالہ کا تعلق راولاکوٹ کے نواحی علاقے کھڑک سے تھا۔پولیس کا بتانا ہے کہ نالہ تراڑ میں بہہ جانے والی گاڑی میں ڈاکٹر گل لالہ بھی موجود تھیں جن کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔دوسری جانب پولیس کا بتانا ہے کہ گریس ویلی میں گاڑی دریائے نیلم میں گرگئی جس سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

  • صوابی میں کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، کئی گھر ڈوب گئے، 15 افراد جاں بحق

    صوابی میں کلاؤڈ برسٹ سے تباہی، کئی گھر ڈوب گئے، 15 افراد جاں بحق

    صوابی(کنزیومر واچ نیوز) کلاؤڈ برسٹ اور لینڈسلائیڈنگ نے ہر طرف تباہی مچا دی، سیلابی ریلوں کے باعث کئی گھر ڈوب گئے جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد مکان کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر ودیگر حادثات 11 افراد جاں بحق ہو گئے۔
    ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دالوڑی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ سے کئی گھر ڈوب گئے ہیں، کلاؤڈ برسٹ سے سیلابی ریلے کا بہاؤ بہت تیز ہے، پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے مختلف مقامات پر لینڈسلائیڈنگ بھی ہوئی ہے۔
    ڈی سی صوابی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ، ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، ہری پور اور مردان سے بھی ریسکیو ٹیموں کو بلا لیا گیا ہے۔
    اسپتال ذرائع کے مطابق صوابی کے علاقے سرکوئی پایاں میں مکان کی چھت گرنے سے دو خواتین اور دو بچے جاں بحق اور 7 افراد زخمی ہوئے۔
    سیلاب میں پھنسی خواتین اور 50 بچوں کو ریسکیو کیا گیا، چیف سیکرٹری کے پی
    چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے بتایا کہ صوابی میں سیلاب میں پھنسے پانچ خاندانوں کی خواتین اور 50 بچوں کو ریسکیو کیا گیا، پھنسے افراد نے گدون انڈسٹریل اسٹیٹ کی چھتوں پر پناہ لی ہوئی تھی۔
    شہاب علی شاہ نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو لائف جیکٹس، رسیوں اور کشتیوں کے ذریعے نکالا گیا، دوبرئی گاؤں میں کلاوڈ برسٹ سے چار افراد جاں بحق ہوئے، سیلاب میں پھنسے 25 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 سمیت دیگر ادارے صوابی میں امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
    سوات میں بارشوں سے 400 مکانات اور 124 تعلیمی ادارے متاثر ہوئے: انتظامیہ
    دوسری جانب شدید بارش کے باعث سوات کے علاقے ظاہر آباد، شہید آباد، مکان باغ، ملا بابا، محلہ بنگلادیش، رحیم آباد، کوکورائی، منگلور، بشنبڑ اور شگئی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
    شہریوں کا کہنا ہے کہ مکان باغ، سیدو شریف روڈ اور ملا بابا سمیت کئی علاقوں میں 4 روز سے بجلی بند ہے، 4 روز بعد بھی ملا بابا روڈ ٹریفک کے لیے بحال نہ ہو سکی، پینے کا صاف پانی نایاب ہو چکا ہے جبکہ نکاسی نہ ہونے سے معمولات زندگی شدید متاثر ہیں۔
    ضلعی انتظامیہ کا بتانا ہے کہ سوات میں بارش سے 400 مکانات متاثر ہوئے، کئی گھر مکمل طور یر تباہ ہو گئے، 124 تعلیمی ادارے متاثر ہوئے جبکہ 3 مکمل تباہ ہوئے۔
    مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 15 اگست کو کلاوڈ برسٹ کے بعد طوفانی بارش سے 22 افراد جاں بحق ہوئے، متاثرہ علاقوں تک رسائی اورمدد کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ملک بھر میں اب تک 660 اموات رپورٹ ہو چکیں: این ڈی ایم اے
    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ مون سون بارشوں میں اب تک 660 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں سے 392 اموات خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں 164، سندھ میں 29، بلوچستان میں 20، گلگت بلتستان میں 32، آزاد کشمیر میں 15 اور اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔

  • برلن  کانفرنس،یورپ کا واضح پیغام،یوکرین کی سرحدوں پر کوئی سمجھوتا نہیں، تحریر سرور غزالی

    برلن کانفرنس،یورپ کا واضح پیغام،یوکرین کی سرحدوں پر کوئی سمجھوتا نہیں، تحریر سرور غزالی

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر پوٹین کے مابین الاسکا میں جمعہ 15 اگست کو ایک ملاقات کا اہتمام کیا گیا ہے اور اس ملاقات سے پہلے ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین کی جنگ بندی کا فیصلہ اس ملاقات میں صدر پوٹین سے مل کر طے کروا دیں گے۔
    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخابی سرگرمی کے دوران ہی یہ کہا تھا کہ وہ صدر منتخب ہوتے ہی پوٹین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے یوکرین کی جنگ بندی کا لائحہ عمل پیش کریں گے۔
    یوں بھی جب سے صدر ٹرمپ کو نوبل امن کے انعام کی لالچ دی گئی ہے وہ گاہے بگاہے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس سے انہیں امن کا داعی قرار دے کر نوبل پرائز کا حقدار قرار دیا جائے۔
    حالانکہ انہوں نے اسرائیل کے بار بار اصرار پر ایران پر بمباری بھی کروائی جو کہ ان کے امن مشن کے بالکل برخلاف بات تھی اور اس وجہ سے ان کا ایمیج کافی خراب بھی ہوا۔ ڈونل ٹرمپ کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی افق پر بہت متنازع شخصیت اور اپنی بات سے پھر جانے والے شخص کے طور پر ابھر کر سامنےآئے ہیں۔ اس سے پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ مغربی ممالک کا کوئی ایسا اہم سربراہ اپنی بات سے اتنی جلدی پھر جاتا ہو یا اپنی بات کو خود ہی رد کر دیتا ہو۔
    یوکرین کی جنگ بندی کے سلسلے میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے مختلف رویے سامنے آئے ہیں کبھی وہ پوٹین کو اپنا دوست کہتے ہیں اور کبھی وہ ایک ایسا بیان داغ دیتے ہیں جیسے روس ان کا سب سے بڑا دشمن ہو۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے ایسے فوجی اقدامات بھی کروائے جن سے محسوس ہوتا تھا کہ شاید عنقریب کوئی جنگ امریکہ اور روس کے مابین چھڑ جائے گی۔ مگر اب وہ ایک بار پھر روس سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں اور پہلے کی طرح ایک بار پھر وہ یوکرین کو اس لا ئحہ عمل کا حصہ بنائے بغیر بالا بالا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر پوٹین کے ساتھ ملاقات اور اس کا ایجنڈا طے ہونے کے بعد، جب یوکرائین کی صدر نے اپنے اعتراضات داخل کیے، اور یہ کہا کہ وہ کسی ایسی جنگ بندی کو نہیں قبول کریں گے، جس میں انہیں اپنے ملک کے کچھ حصے سے روس کے حق میں دستبردار ہونا پڑے۔ تو جوابا” صدرٹرمپ نے یہ اعلان کیا کہ وہ اس میٹنگ میں یورپ اور یوکرین کو شامل کیے بغیر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی اس بیان سے نہ صرف یوکرائن بلکہ پورے مغربی یورپ میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ یورپ کا یوکرین کی جنگ بندی کے سلسلے میں اپنا ایک موقف ہے اور وہ یہ کے یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک روس یوکرین کے ان سارے علاقوں کو خالی نہ کر دے جس پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ جبکہ روس ان علاقوں کو جہاں کی زبان بھی روسی ہے اپنا اٹوٹ حصہ مانتا ہے اور ان علاقوں کو کسی طور بھی خالی کرنے پر آمادہ نہیں۔
    صدر ٹرمپ کے اس اعلان کی مخالفت میں یورپ کے مختلف ممالک کے صدور نے نہ صرف اپنے اپنے بیانات دیے بلکہ پہلے، یورپین یونین کی ایک یوکرینی معاملات پر گفتگو کے لیے کانفرنس بلائی گئی۔ جس میں تمام ممالک اس بات پہ متفق ہوئے کہ روس سے کوئی معاہدہ اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوگا جب تک وہ یوکرین کے علاقے خالی نہیں کر دیتا۔ ما سوائے ہنگری کے صدر کے تمام ممالک کا یہی فیصلہ تھا جبکہ ہنگری نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔
    یہی نہیں اس موقف کے سب سے بڑے داعی جرمنی کے چانسلر میرز نے یہ کیا کہ ایک فوری طور پر برلن میں کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں پولینڈ اٹلی فرانس یوکرین اور جرمنی کے صدور شامل ہوئے اور انہوں نے باضابطہ طور پر یوکرین کی مزید مالی امداد کے اعلان کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ ایسی کسی بھی شرط کو یورپ ماننے سے انکار کرتا ہے جس میں یوکرین کو اپنے علاقے سے دستبردار ہونا پڑے۔ اسی کانفرنس کے دوران مسٹر میرز نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک ان لائن میٹنگ میں جس میں یوکرین کہ صدر زیلنسکی بھی شامل تھے صدر ٹرمپ سے یہ وعدہ لیا کہ وہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے جس میں یوکرائن کو اپنے علاقے سے دستبردار ہونا پڑے۔ اپنے ان رویوں، کانفرنس اور اعلانیہ سے یورپ نے یہ مطالبہ امریکہ اور روس کے سامنے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں رکھ دیا ہے کہ یوکرین سمیت یورپ کو ایسا کوئی بھی معاہدہ جو ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادی میر پوٹین کے مابین طے پائے اور جس کے تحت یوکرین کو اپنے علاقوں سے دستبردار ہونا پڑے قبول نہیں ہے۔
    تجزیہ نگاروں کا کہنا یہ بھی ہے کہ یورپ کے اس غیر لچکدار رویے کے نتیجے میں یورپ ایک دفعہ پھر سے جنگ عظیم دوئم کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جس میں دنیا کی کئی بڑی طاقتیں یورپ کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کر رہی تھیں۔ ان تمام یورپین سرگرمیوں کہ نتائج سے ایک بات واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور پروٹین کے مابین نہ تو کوئی حتمی فیصلہ ہو پائے گا اور نہ ہی یوکرین اور روس کی جنگ جو کہ عرصہ تین سال سے جاری ہے بند ہو سکے گی۔ اور اس صورتحال کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبل پرائز کا ملنا بھی مشکوک ہو جائے گا۔