Blog

  • بھارت افغانستان کے راستےدھشت گردی کررہا ہے،وزیر دفاع خواجہ آصف

    بھارت افغانستان کے راستےدھشت گردی کررہا ہے،وزیر دفاع خواجہ آصف

    اسلام آباد (کنزیومرواچ نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد افغانستان میں کارروائی کرسکتا ہےجیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حالیہ واقعات میں افغان مداخلت کے ثبوت ثالثوں کے سامنے رکھے جائیں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ہم جارحیت کا وار خالی نہیں جانے دیں گے، بھرپورجواب دیں گے۔انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی مذمت یا افسوس کا اظہار سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا، افغان طالبان کی پناہ میں رہنے والے لوگ بار بار ہم پر حملہ کررہےہیں۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ وانا کیڈٹ کالج میں اللہ کی مہربانی سے پاک فوج نے کیڈٹس کو بچایا ہے۔خواجہ آصف نے بھارت کے حوالے سےبات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سے متعلق ہم حالیہ جنگ سے ہی ہائی الرٹ پر ہیں۔خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا بھارت افغانستان کے راستے جارحیت کررہا ہے، کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے ہمسائے کا دشمنی والا رویہ سامنے آچکا ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں نہیں، دہشتگردی کے زیادہ تر واقعات میں اکثریت افغان دہشتگردوں کی ہے، افغان طالبان کا دشمنی والا رویہ سامنے آچکا ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دوست ممالک کوئی دوا کرنا چاہتے ہیں توضرور کریں، افغان طالبان کی زبانی باتوں پر افغانستان میں کوئی بھروسہ نہیں کرتا تو ہم کیسے کرلیں، ثالثوں کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں کہ اس کے پیچھے بھارت ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ سے دہشتگردوں کو پیسے ملتے ہیں، افغانستان سے متعلق دستیاب تمام سفارتی آپشنز استعمال کریں گے۔

  • کیڈٹ کالج وانا میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن، تمام 650 طلبا و اساتذہ کو بحفاظت نکال لیا گیا

    کیڈٹ کالج وانا میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن، تمام 650 طلبا و اساتذہ کو بحفاظت نکال لیا گیا

    پشاور(کنزیومرواچ نیوز) کیڈٹ کالج وانا کی صورتحال کے تازہ ترین ویڈیو مناظرسامنے آگئے اور سکیورٹی فورسز نے کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔سکیورٹی فورسز کی جانب سے بچوں کو ریسکیو کرتے ہوئےدیکھا جاسکتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔سکیورٹی نے بتایاکہ کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسزکا آپریشن نہایت احتیاط اورحکمتِ عملی سے جاری ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان خوارج کی کالج میں موجودگی اور کیڈٹس کی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر آپریشن احتیاط سے کیا جارہا تھا۔سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ اب آپریشن جامع طریقے سے حتمی انجام کو پہنچایا جائے گا، آخری خوارج کو ہلاک کرنے تک سکیورٹی آپریشن جاری رہے گا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام طلبہ اور اساتذہ کے حوصلے بلند ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان خوارج نےکالج کے مرکزی گیٹ سے بارود سےبھری گاڑی ٹکرا دی تھی، دھماکے سےکالج کا مرکزی گیٹ گرگیا اورقریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے بتایاگیا ہے اور حملہ آور ٹیلیفون پر وہیں سے ہدایات لے رہے ہیں، خوارج ایک عمارت میں چھپے ہیں جو کیڈٹس کی رہائش سے بہت دور ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے فوری کارروائی میں 2 خوارجیوں کو ہلاک کردیا تھا، سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فیصلہ کن کلیئرنس آپریشن شروع کر رکھا ہے، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا۔

  • اسلام آباد: جی الیون کچہری کے نزدیک خودکش دھماکا، 12 افراد شہید، متعدد زخمی

    اسلام آباد: جی الیون کچہری کے نزدیک خودکش دھماکا، 12 افراد شہید، متعدد زخمی

    اسلام آباد: (کنزیومرواچ نیوز)جاسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کچہری کے نزدیک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
    رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے جی الیون سیکٹر کی کچہری کے نزدیک زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔پولیس کا کہنا ہےکہ موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جب کہ خودکش حملہ آور کے اعضا اڑ کر کچہری کے اندر جاگرے۔پولیس کے مطابق دھماکے میں 3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا جن میں ایک گاڑی پولیس کی تھی اور 2 پرائیوٹ گاڑیاں ہیں۔
    پولیس کا بتانا ہےکہ دھماکا خودکش تھا اور جائے وقوعہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کا سر بھی مل گیا ہے، دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے، زخمیوں میں وکلا اور سائلین بھی شامل ہیں۔
    دھماکے کے زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کردیا ہے۔
    پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ کچہری کے باہر دھماکے میں ہندوستانی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج ملوث ہے۔
    وزیر داخلہ محسن نقوی کی میڈیا سے گفتگو
    دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ آج 12 بجکر 39 منٹ پر خودکش حملہ ہوا جس میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے، خود کش حملہ آور کچہری کے اندر جانے کی کوشش میں تھا، موقع نہ ملنے پر پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا، پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے، کچہری حملہ میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔
    انہوں نے کہا کہ کل وانا میں بھی گاڑی سوار خودکش حملہ آور انٹری پوائنٹ پر پھٹا، وانا میں بھی علاقے کی کلیئرنس جاری ہے، وانا حملے میں افغانستان ملوث ہے، وہاں افغانستان میں کمیونیکیشن ہوتی رہی۔

  • 40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حامی، 60 فیصد نے مخالفت کردی

    40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حامی، 60 فیصد نے مخالفت کردی

    اسلام آباد (کنزیومرواچ نیوز)حالیہ سروے میں 40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حق میں نظر آئے۔گیلپ پاکستان نے نیا سروے جاری کردیا جس کے مطابق 60 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے مخالف ہیں اور انہوں نے کسی صورت اجازت نہ دینے کا کہا جب کہ 40 فیصد پاکستانیوں نے دوسری شادی کی مشروط حمایت کی اور کہا کہ مالی استطاعت ہو تو دوسری شادی ضرور کرنی چاہیے۔سروے کے مطابق دوسری شادی کی حمایت کرنے والوں میں خواتین کے مقابلے میں مردوں کی شرح زیادہ رہی، 50 فیصد مرد اور 30 فیصد خواتین نے دوسری شادی کی حمایت کی جب کہ 72 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے درمیان منصفانہ سلوک کو مشکل یا ناممکن قراردیتے نظر آئے۔سروے کے مطابق 26 فیصد نے اسے ممکن کہا جب کہ دونوں بیویوں کے درمیان منصفانہ سلوک کو ناممکن قرار دینے والوں میں 59 فیصد مرد نظرآئے۔دوسری شادی کی اجازت کن حالات میں ملنی چاہیے؟ اس سوال پر 39فیصد نے کہا کہ اگر بچے نہ ہوں تو دوسری شادی کرنی چاہیے، 15 فیصد نے دونوں بیویوں میں انصاف کرنے کی قابلیت جب کہ 10فیصد نے پہلی بیوی کی اجازت کو دوسری شادی کےلیے ضروری قرار دیا۔

  • افغان حکومت ٹی ٹی پی کیخلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے: وزیراعظم

    افغان حکومت ٹی ٹی پی کیخلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے: وزیراعظم

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے افغان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔بین الاپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا امن و استحکام ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو۔ان کا کہنا تھا پاکستان نے بھی کئی بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا، ہم نے ہمیشہ استحکام اور دفاع وطن میں عزم کا مظاہرہ کیا، ہماری مسلح افواج نے بہترین پیشہ وارانہ کارکردگی سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس سال مئی میں مشرقی سرحد پر بلا اشتعال جارحیت کی گئی جبکہ گزشتہ ماہ افغان سرزمین سے پاکستانی چوکیوں پر حملے ہوئے جن کا پاکستان نے ٹھوس اور فیصلہ کن جواب دیا، دنیا بھر میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو سمجھنا ہو گا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت سے امن حاصل نہیں ہوگا، افغان حکومت ٹی ٹی پی و دیگر گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔خیال رہے کہ اسلام آباد میں جاری دو روزہ بین الاپارلیمانی کانفرنس میں آذربائیجان، ازبکستان، کینیا، فلسطین، مراکش، روانڈا، لائبیریا، بارباڈوس اور نیپال کے وفود کانفرنس میں شریک ہیں، کانفرنس کا مقصد عالمی امن، ترقی اور بین الاقوامی پارلیمانی روابط کے فروغ کو مضبوط بنانا ہے۔

  • گھریلو جھگڑے: بہو نے ’چور پولیس‘ کھیل کے دوران ساس کو زندہ جلا ڈالا

    گھریلو جھگڑے: بہو نے ’چور پولیس‘ کھیل کے دوران ساس کو زندہ جلا ڈالا

    ممبئی( کنزیومرواچ نیوز)بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں ایک سفاک بہو نے کھیل کھیل کے دوران اپنی ساس کو زندہ جلا ڈالا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 63 سالہ جیانتی کناکا اپنے بیٹے سبھرامنیم ، بہو للیتا دیوی، بھتیجے اور پوتے پوتی سمیت ٓآندھرا پردیش کے ایک گاؤں میں رہائش پذیر تھی۔سبھرامنیم اور للیتا کی شادی کو 12 سال سے زائد عرصہ گزرچکا تھا لیکن للیتا اور اس کی ساس کے درمیان شادی کے آغاز سے ہی حالات کشیدہ تھے، جھگڑوں سے تنگ آکر للیتا نے اپنی ساس کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔بھارتی میڈیا کے مطابق رواں ماہ 6 نومبر کے روز للیتا نے اپنے گھر کے قریبی پیٹرول پمپ سے پیٹرول خریدا اور اگلے ہی روز شوہر اور کزن کے گھر سے جانے کے بعد ساس کو قتل کرنے کافیصلہ بنایا۔ساس کو قتل کرنے کیلئے للیتا نے اپنے بچوں کو دادی کے ساتھ ’چور پولیس‘ کا کھیل کھیلنے پر آمادہ کیا اور اسی دوران بچوں کو دادی کے ہاتھ اور پیر باندھنے کی بھی ترغیب دی۔بھارتی میڈیا کا بتانا ہے کہ بہو کے منصوبے سے بے خبر ساس نے بچوں کے ساتھ موت کا یہ گھناؤنا کھیل کھیلنے پر رضامندی دے، کھیل کے دوران بچوں کے دادی کو باندھنے کے بعد للیتا نے ان پر پیٹرول چھڑک کر چراغ سے آگ لگادی، جیانتی کناکا کی چیخوں نےپڑوسیوں کو جمع ہونے پر مجبور کردیا، خاتون کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ابتدا میں للیتا نے پڑوسیوں اور پولیس کو یہ کہہ کر گمراہ کیا کہ جیانتی دیوی گھر میں ہونے والے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے جل کر ہلاک ہوئیں تاہم گھر میں پیٹرول کی بدبو اور للیتا کے موبائل کی سرچ ہسٹری سے ملنے والی معلومات کے بعد پولیس نے اسے کو گرفتار کرلیا۔بھارتی پولیس افسر نےبی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ’تحقیقات کے دوران بہو کی انٹرنیٹ سرچ کی ہسٹری سے پتا چلا کہ اس نے کئی مرتبہ ’بوڑھی خاتون کو کیسے مارا جائے‘ جیسے عنوانات کی ویڈیوز کو تلاش کی تھی جس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہوا۔ بعد ازاں پولیس تفتیش کے دوران للیتا نے بھی ساس کو زندہ جلانے کیلئے چور پولیس کا کھیل رچانے، بچوں کو دادی کے ہاتھ پیر باندھنے کی ترغیب دینے اور پھر اسے شارٹ سرکٹ کا رنگ دینے کا اعتراف کرلیا۔

  • بھارتی میڈیا پر بالی وڈ لیجنڈ اداکار دھرمیندر کے انتقال کی خبریں، بیٹی نے تردید کردی

    بھارتی میڈیا پر بالی وڈ لیجنڈ اداکار دھرمیندر کے انتقال کی خبریں، بیٹی نے تردید کردی

    ممبئی (کنزیومرواچ نیوز)بھارتی میڈیا پر بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار دھرمیندر کی موت کی خبریں زیر گردش ہیں تاہم ان کی بیٹی ایشا دیول نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اداکار کی ٹیم نے 11 نومبر بروز منگل کی صبح ان کی موت کی تصدیق کی، دھرمیندر کو گزشتہ روز ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ وینٹی لیٹر پر تھے اور اب وہ 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہےکہ دھرمیندرا کو گزشتہ ہفتے بھی سانس لینے میں دشواری کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا جب کہ رواں سال اپریل میں ان کی آنکھ کی سرجری بھی ہوئی تھی۔دھرمیندر کی موت کی تصدیق معروف بھارتی صحافی اور اینکر راجدیپ سردیسائی نے بھی کی، اس کے علاوہ جاوید اختر کی جانب سے بھی دھرمیندر کی موت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق دھرمیندر نے آخری بار اپنی اداکاری کے جوہر فلم ‘اکیس’ میں دکھائے جو 25 دسمبر کو ریلیز ہونے والی ہے۔دوسری جانب دھرمیندر کی بیٹی ایشا دیول کی جانب سے بھی انسٹاگرام پر پیغام جاری کیا گیا جس میں انہوں نے والد کے انتقال کی خبریں شائع کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور انتقال کی تردید کی۔انہوں نے کہا کہ سب سے گزارش ہے کہ ہماری فیملی کی پرائیویسی کو مدنظر رکھا جائے اور میرے والد کی مکمل صحتیابی کے لیے دعا کی جائے۔واضح رہے کہ دھرمیندر نے اپنے کیریئر کا آغاز 1960 میں فلم ‘دل بھی تیرا ہم بھی تیرے’ سے کیا تھا۔ انہیں 2012 میں حکومت ہند کی جانب سے ہندوستان کے تیسرے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازا گیا تھا۔ 6 دہائیوں پر محیط اپنے کیرئیر میں دھرمیندر نے ‘شعلے’، ‘یادوں کی بارات’، ‘میرا گاوں میرا دیش’، ‘نوکر بیوی کا’، ‘پھول اور پت’، ‘پھول اور پتلی’ جیسی ایوارڈ یافتہ فلمیں کیں۔ وہ پنجاب کے لدھیانہ کے ایک گاؤں میں دھرمیندر کیول کرشن دیول کے نام سے پیدا ہوئے، انہوں نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے سے پہلے 19 سال کی عمر میں 1954 میں پرکاش کور سے شادی کی۔ بعدازاں انہیں اداکارہ ہیما مالنی سے پیار ہو گیا جس سے انہوں نے شادی کر لی۔89 سال کی عمر میں بھی، دھرمیندر سوشل میڈیا پر سرگرم رہے، وہ اکثر ایسی ویڈیوز شیئر کرتے رہے جو صحت مند زندگی کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کی انسٹاگرام پوسٹس میں سے بہت سے انہیں ٹریکٹر چلاتے ہوئے، اپنے فارم کی دیکھ بھال کرتے ہوئے، اور اپنے مداحوں کو سادہ زندگی کے اسباق اور کاشتکاری کے مشورے دیتے ہوئے دکھایا گیا

  • چین- میرج مارکیٹ سے ون چائلڈ پالیسی تک ….ارم زہرا۔ چین

    چین- میرج مارکیٹ سے ون چائلڈ پالیسی تک ….ارم زہرا۔ چین

    صبح کی دھوپ پارک کی راہوں پر چھن رہی تھی اور ہوا میں خوشبو کے ساتھ امید کے لمس گھل رہے تھے۔ بیجنگ کی صبحیں اب اجنبی نہیں رہیں۔ درختوں پر لگے سرخ فانوس جیسے خوشی کے چھوٹے چھوٹے خواب ہوا میں جھولتے ہیں، اور راستوں پر چلتے لوگ اپنے دن کی تیز رفتار داستانوں میں گم۔ مگر ایک صبح میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے میری سوچ کے دھارے بدل دیے ‘‘میریج مارکیٹ’’۔
    یہ ایک عام پارک تھا، مگر اس دن وہاں انسان نہیں، جیسے ‘‘امیدیں’’ ٹہل رہی تھیں۔ درختوں کے نیچے سفید کاغذوں کی قطاریں لگی تھیں۔ ان پر نام نہیں، جیسے تعارف کے تراشے تھے۔عمر، قد، تعلیم، آمدنی، اور اپارٹمنٹ کی تفصیل۔ ہر صفحہ ایک خواہش کا اشتہار تھا۔ میں ایک گوشے میں کھڑی سب دیکھتی رہی۔
    چین کے بزرگ والدین، اپنے ہاتھوں میں رنگین فولڈر تھامے، ایک انجانی سنجیدگی کے ساتھ چل پھر رہے تھے۔ ان کی نظریں جیسے کاغذوں سے زیادہ خوابوں کو پڑھ رہی تھیں۔ کہیں ایک ماں کسی دوسرے باپ سے پوچھتی،
    ‘‘آپ کی بیٹی کا کام کہاں ہے؟’’
    اور جواب آتا،
    ‘‘بینک میں، مگر اب تک شادی نہیں ہوئی۔’’
    ان کے لہجوں میں نہ طنز تھا، نہ حسرت ، بس ایک ذمہ داری کا احساس۔ جیسے شادی صرف دو دلوں کا نہیں بلکہ دو نسلوں کی تسکین کا معاملہ ہو۔ میں نے ایک بزرگ خاتون کو دیکھا جو بار بار اپنے بیٹے کا پروفائل سیدھا کر رہی تھیں، جیسے کسی نایاب خزانے کی نمائش ہو۔ ان کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو ہماری ماؤں کے چہروں پر ‘‘رشتہ دیکھنے’’ کے موقع پر ہوتی ہے۔
    میں نے سوچا، رشتے تلاش کرنے کا انداز بدل جاتا ہے، مگر انسان کی تنہائی کا درد شاید ہر زبان میں ایک سا ہوتا ہے۔ بیجنگ کے اس پارک میں، جہاں ہر درخت پر ہوا بجتی تھی، میں نے محسوس کیا کہ محبت اب بھی ایک تلاش ہے۔بس طریقے بدل گئے ہیں۔
    ایک نوجوان لڑکی، شاید کسی والدین کی ‘‘پیش کش’’ بننے سے تنگ، ایک طرف بینچ پر بیٹھی موبائل پر مسکرا رہی تھی۔ شاید کسی دوست سے بات کر رہی تھی، یا کسی ایسے انسان سے جو ان فہرستوں سے آزاد ہو۔ میں نے دل میں کہا
    ‘‘محبت کاغذ پر نہیں لکھی جاتی، وہ تو نظر کے ایک لمحے میں جنم لیتی ہے۔’’
    شنگھائی یا بیجنگ ہو، لاہور یا کراچی ، دلوں کی زبان ایک ہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں رشتے پراپرٹی، آمدنی اور ڈگریوں کے درمیان تولے جاتے ہیں۔ میں نے دل میں سوچا
    ‘‘محبت اب بھی زندہ ہے، مگر شاید وہ بھی کسی فائل میں محفوظ ہو گئی ہے۔’’
    پارک کے درختوں کے نیچے کھڑے وہ لوگ، جن کے چہرے وقت اور خواہش کے درمیان کہیں ٹھہرے تھے، مجھے ایسے لگے جیسے کسی پرانی نظم کے مصرعے ہوں۔ ادھورے مگر خوبصورت۔
    مگر کیا ان پارکوں میں لگنے والی ‘‘میریج مارکیٹ’’ سے ہونے والی شادیاں کامیاب بھی ہوتی ہیں؟
    چینی تاریخ کے اوراق کھولیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت نئی نہیں۔ صدیوں پہلے، جب بادشاہوں کا زمانہ تھا، تب بھی رشتوں کا بندھن خاندانی وقار، دولت اور سماجی مرتبے کی بنیاد پر باندھا جاتا تھا۔ مگر جدید دور میں یہ ‘‘میریج مارکیٹ’’ تقریباً انیس سو نوّے کی دہائی میں دوبارہ اْبھر کر سامنے آئی۔جب شہروں کی زندگی تیز ہوئی، مگر تنہائی نے دلوں کو آہستہ آہستہ گھیر لیا۔
    آج بھی ہر ہفتے کے آخر میں سینکڑوں والدین اپنے بچوں کے تعارف کے پوسٹر لیے پارکوں میں آتے ہیں۔ میں نے کئی بار انہی میں بیٹھ کر دیکھا۔ کوئی ماں فخر سے بیٹی کی ماسٹرز ڈگری کا ذکر کرتی ہے، کوئی باپ بیٹے کی سالانہ آمدنی پر زور دیتا ہے۔ اور میں دل ہی دل میں سوچتی ہوں۔ محبت کب سے حساب کتاب بن گئی؟
    ایک بار میری ملاقات ایک چینی خاتون سے ہوئی۔ لی چن۔ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں ‘‘میری شادی بھی اسی مارکیٹ سے طے ہوئی تھی۔ پہلے تو اجنبی تھے، مگر اب وہ میرا بہترین دوست ہے۔’’
    میں نے حیرت سے پوچھا، ‘‘کیا تمہیں یہ رشتہ پسند تھا؟’’
    وہ مسکرا کر بولی: ‘‘پسند بعد میں آتی ہے، پہلے ذمہ داری آتی ہے۔’’
    یہ جملہ میرے دل میں اتر گیا۔ شاید ان الفاظ کی کامیابی اسی فلسفے میں چھپی ہے۔ یہاں محبت کو پیدا کیا جاتا ہے، تلاش نہیں کیا جاتا۔
    چینی معاشرے میں شادی صرف دو افراد نہیں بلکہ دو خاندانوں کا معاہدہ سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے ان رشتوں میں برداشت، صبر، اور سماجی ہم آہنگی زیادہ نظر آتی ہے۔
    لیکن پھر بھی، ہر شادی کہانی نہیں بنتی۔ کچھ جوڑے ایک دوسرے کے ‘‘پروفائل’’ کے حساب سے تو مل جاتے ہیں، مگر دل کے حساب سے نہیں۔ ایسے لوگ وقت کے ساتھ الگ راستے اختیار کر لیتے ہیں۔
    میں نے ایک چینی دوست سے پوچھا ‘‘کامیاب شادی کیا ہوتی ہے؟’’
    وہ ہنسی، ‘‘کامیاب شادی وہ ہے جو نبھ جائے، چاہے محبت بعد میں پیدا ہو۔’’
    میں سوچنے لگی۔ ہمارے ہاں بھی تو اکثر یہی ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم خواب سے رشتہ شروع کرتے ہیں، اور وہ رشتہ بنا کر خواب تلاش کرتے ہیں۔
    چین کی ‘‘میریج مارکیٹ’’ وقت کی دھول میں ڈھلتی ایک قدیم روایت ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں انسانی ضرورت اور تنہائی کا سچ چھپا ہے۔شاید اس پارک کے درختوں کے نیچے صرف رشتے نہیں بنتے، بلکہ کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ کہانیاں ان لوگوں کی جو محبت کو قسمت نہیں، فرض سمجھ کر نبھاتے ہیں۔
    بیجنگ کی خزاں اس برس کچھ اور ہی رنگ لے کر آئی ہے۔ درختوں سے گرتے پتے جیسے وقت کے پرانے فیصلے ہوں، جو ہر سال بدلتے نہیں، بس نئے موسم میں دوبارہ دہرائے جاتے ہیں۔ اسی موسم میں، ایک شام، میں اپنی چینی دوست می لی سے ملی۔ اس کی آنکھوں میں اداسی تھی، مگر لبوں پر ایک ہلکی سی خود اعتمادی کی مسکراہٹ۔
    چائے کے کپ کے ساتھ اس نے کہا، ‘‘میں اب تیس برس کی ہو گئی ہوں، اور میرے والدین فکر مند ہیں۔ وہ کہتے ہیں، اگر اب شادی نہ کی تو میں ‘Sheng Nü’ بن جاؤں گی یعنی ‘بچ جانے والی عورت’ ’’
    میں نے چونک کر پوچھا، ‘‘یہ اصطلاح اتنی عام ہے؟’’
    وہ ہنس دی، مگر وہ ہنسی خالی تھی۔ بولی، ‘‘ہاں، ٹی وی، اخبارات، حتیٰ کہ دفاتر میں بھی لوگ ایسے الفاظ بول دیتے ہیں، جیسے عورت کی زندگی کا مقصد صرف شادی ہو۔’’
    اس کے الفاظ میرے دل میں اتر گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ ‘‘Leftover Women’’ صرف ایک معاشرتی اصطلاح نہیں بلکہ ایک دباؤ، ایک احساسِ جرم ہے جو ان تعلیم یافتہ، خودمختار خواتین کے کندھوں پر رکھا گیا ہے۔
    میں نے کئی چینی خواتین کو دیکھا۔اعلیٰ تعلیم یافتہ، اچھی نوکریوں والی، مگر دل میں ایک انجانا خوف چھپا ہوا۔ خوف اس بات کا کہ معاشرہ ان کے فیصلے کو قبول نہیں کرے گا۔
    یہ وہی ملک ہے جہاں چند دہائیاں پہلے ایک بچے کی پالیسی نے لڑکیوں کے وجود کو کم کر دیا تھا، اور اب وہی معاشرہ کہتا ہے کہ عورتوں کو شادی کرنی چاہیے تاکہ آبادی کا توازن بحال ہو۔ وقت کے تضاد نے عورت کو ایک سماجی علامت بنا دیا ہے۔ کبھی ضرورت، کبھی ذمہ داری۔
    میں نے ‘‘می لی’’ سے پوچھا، ‘‘کیا تم شادی نہیں کرنا چاہتیں؟’’
    اس نے آہستہ سے کہا، ‘‘شادی چاہتی ہوں، مگر اپنی شرطوں پر۔ میں کسی کے لیے اپنی پہچان نہیں کھونا چاہتی۔’’
    اس کے لہجے میں وہی عزم تھا جو ہمارے ہاں کسی شاعرہ کے مصرعے میں چھلکتا ہے۔
    میں نے سوچا، شاید یہ خواتین ‘‘بچ’’ نہیں گئیں، بلکہ رک گئیں، سوچنے کے لیے، جینے کے لیے، خود کو پہچاننے کے لیے۔
    ہم اکثر انہیں تنہا سمجھتے ہیں، مگر دراصل وہی عورتیں سب سے مضبوط ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگی کی باگیں خود سنبھالی ہیں۔
    اس شام پارک کی روشنیوں میں چلتی می لی کے قدموں میں ایک نرمی تھی، مگر اس کے وجود میں پختگی کا وزن۔ میں نے دل میں سوچا
    ‘‘یہ عورتیں باقی نہیں رہ گئیں، یہ آگے بڑھ گئی ہیں۔ ان کے خواب اب کسی کے نام پر نہیں، اپنے وجود پر لکھے ہیں۔’’
    بیجنگ کی رات کے آسمان پر جھلملاتے فانوسوں کے بیچ میں، میں نے محسوس کیا کہ عورت کی آزادی کا سفر کہیں بھی آسان نہیں۔ مگر چین ہو یا پاکستان جب عورت خود کو مان لیتی ہے، تب ہی وہ دنیا سے سچ مچ جیت جاتی ہے۔
    مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ محبت یہاں اب ایک نئی زبان بولتی ہے۔وہ زبان جس کے الفاظ ڈیجیٹل ہیں، اور احساسات تھوڑے خاموش۔
    ایک دن میں اپنی چینی دوست ژو یانگ کے ساتھ چائے پی رہی تھی۔ وہ انجینئر ہے، مگر باتوں میں شاعرہ لگتی ہے۔

    کہنے لگی، ‘‘محبت اب یہاں آسان نہیں رہی۔ ہم سب اپنے خوابوں میں اتنے مصروف ہیں کہ کسی کے دل کی دستک سننے کا وقت ہی نہیں۔’’
    میں نے مسکرا کر کہا، ‘‘تو کیا محبت ختم ہو گئی؟’’
    وہ بولی، ‘‘نہیں، وہ بدل گئی ہے۔ پہلے لوگ کسی کے ساتھ جینا چاہتے تھے، اب کوئی ایسا چاہتے ہیں جو ان کے ساتھ چل سکے۔’’
    میں نے محسوس کیا کہ چینی معاشرہ، جو کبھی روایتوں کی دیواروں میں بند تھا، اب رفتہ رفتہ احساس کی نئی شکلیں تراش رہا ہے۔
    یہاں کے نوجوان اب شادی کو ‘‘ضرورت’’ نہیں بلکہ ‘‘انتخاب’’ سمجھنے لگے ہیں کچھ اب بھی والدین کی مرضی کے آگے سر جھکاتے ہیں، مگر کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں۔ ‘‘میں اس سے شادی نہیں کر سکتا جسے میں جانتا نہیں، چاہے وہ کتنا ہی مناسب کیوں نہ ہو۔’’
    چینی مردوں میں ایک نرمی ہے، مگر ساتھ ہی ایک عجیب سی الجھن بھی۔
    وہ جانتے ہیں کہ عورتیں اب خودمختار ہو چکی ہیں، مگر ان کے دل اب بھی روایتی تربیت کے قیدی ہیں۔
    میں نے ایک نوجوان سے پوچھا، ‘‘تم شادی کیوں نہیں کرتے؟’’
    وہ مسکرا کر بولا، ‘‘کیونکہ میں اب ایسی لڑکی چاہتا ہوں جو مجھ سے نہیں، میرے جیسی ہو۔’’
    یہ جملہ میرے دل میں دیر تک گونجتا رہا۔
    یہی فرق شاید آج کے چین اور کل کے چین میں ہے۔اب یہاں محبت ‘‘مکمل ہونے’’ کے لیے نہیں، بلکہ ‘‘ایک ساتھ بہتر بننے’’ کے لیے کی جاتی ہے۔
    میں اکثر سوچتی ہوں۔ ہم پاکستانی عورتیں محبت کو خواب سمجھ کر پوجتی ہیں، اور چینی عورتیں محبت کو حقیقت مان کر پرکھتی ہیں۔
    یہاں کے لوگ کم بولتے ہیں، مگر عمل میں محبت کا انداز رکھتے ہیں۔
    کسی کے لیے بارش میں چھتری تھام لینا، یا چپ چاپ کسی کے لیے گرم چائے رکھ دینا۔ یہ ان کی خاموش محبت کے طریقے ہیں۔
    رات کے وقت، جب میں اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوں،
    تو نیون لائٹس میں چلتے جوڑوں کو دیکھ کر محسوس کرتی ہوں کہ محبت اب بھی زندہ ہے، بس وہ پہلے جیسی شور مچانے والی نہیں رہی —
    اب وہ خاموش، سمجھدار، اور تھوڑی سی تنہا ہو گئی ہے۔
    محبت چین میں اب ایک سادہ فقرہ نہیں رہی۔ یہ اب ایک انتخاب ہے، ایک سمجھوتہ بھی، اور ایک سفر بھی۔ بالکل ویسا جیسے ہم سب کا اپنا سفر۔
    اب مجھے بیجنگ کی گلیاں اجنبی نہیں لگتیں، اور یہاں کے چہرے اب کتابوں کے کردار نہیں کہانیاں لگتے ہیں۔
    مگر ان کہانیوں میں ایک خاموشی ہے، جو میں ہر جگہ محسوس کرتی ہوں۔
    یہ وہی خاموشی ہے جو چین کی ‘‘One-Child Policy’’ نے نسلوں کے دلوں میں بو دی ہے۔
    میں نے پہلی بار اس پالیسی کے بارے میں سنا تو حیران ہوئی۔ ایک ایسا ملک جہاں ہزاروں سال سے خاندان، نسل اور وارثت کو سب سے
    بڑی نعمت سمجھا جاتا تھا، وہاں حکومت نے 1979 میں اعلان کیا کہ ہر جوڑے کو صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت ہوگی۔
    وجہ سادہ تھی۔ بڑھتی ہوئی آبادی، وسائل کی کمی، اور مستقبل کا خوف۔
    لیکن وقت کے ساتھ یہ فیصلہ زندگی کی ساخت بدل گیا۔
    یہاںایک چینی دوست، ‘‘چن یو’’، اکثر کہتا ہے کہ ‘‘میں اکلوتا ہوں۔ بچپن میں جب بھی بیمار ہوتا، ماں روتی تھی کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو وہ اکیلی رہ جائے گی۔’’
    اس کے لہجے میں دکھ نہیں، ایک تھکن تھی۔
    ایسا دکھ جو شاید صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو والدین کی واحد امید ہو۔
    میں نے دیکھا کہ یہاں کے بیشتر نوجوانوں پر ذمہ داری کا بوجھ ان کی عمر سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ اپنے والدین، دادا دادی سب کے واحد سہارا ہیں۔ان کے چہروں پر اعتماد ہے، مگر دل کے اندر ایک خوف کہ اگر وہ ناکام ہوئے، تو پورا خاندان ٹوٹ جائے گا۔
    اسی پالیسی نے معاشرتی توازن بھی بدل دیا۔
    بہت سے خاندانوں نے بیٹے کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں آج چین میں خواتین کی کمی نمایاں ہے۔
    یہی وہ سماجی دباؤ ہے جس نے ‘‘Marriage Market’’ اور ‘‘Leftover Women’’ جیسے تصورات کو جنم دیا۔
    یوں لگتا ہے جیسے ایک فیصلے نے محبت، شادی اور خاندانی زندگی کے سارے زاویے بدل ڈالے۔
    2015 میں حکومت نے یہ پالیسی ختم کر دی، اب دو بلکہ تین بچوں کی اجازت ہے مگر سوچ بدلنے میں نسلیں لگتی ہیں۔
    میں نے کئی چینی خواتین کو کہتے سنا ‘‘ہم آزاد ہیں، مگر اب بچے پیدا کرنا ذمے داری نہیں، انتخاب ہے۔’’ یہ جملہ بتاتا ہے کہ پابندی نے سوچ کو آزاد کر دیا۔
    ایک شام میں اپنے اپارٹمنٹ کی بالکنی سے شہر کو دیکھ رہی تھی۔
    سڑکوں پر ہلکی بارش، روشنیوں میں بھیگی ہوئی ہوا، اور کہیں دور ایک بچہ قہقہہ لگا رہا تھا۔ میں نے سوچا، شاید یہی وہ نئی نسل ہے جو ماضی کے بوجھ سے ہلکی ہے، جو محبت اور زندگی کو نئی تعریفوں میں ڈھالے گی۔
    میں نے اپنے سفرنامے کے نوٹس کا اختتام کرتے ہوئے سوچ رہی ہوں کہ انسان جب اپنی خواہشات کو نظم دیتا ہے، تو کبھی کبھی اپنے احساسات کو قید کر لیتا ہے۔
    ایک بچے کی پالیسی نے چین کو منظم تو کر دیا، مگر اس کی روح میں ایک اکیلے پن کا سناٹا چھوڑ دیا ایسا سناٹا جو شاید آنے والے برسوں تک گونجتا رہے گا۔اب یہ پالیسی ختم ہو چکی ہے، حکومت نے دو اور پھر تین بچوں کی اجازت دے دی ہے، مگر اس کے اثرات ابھی تک ذہنوں میں زندہ ہیں۔
    کچھ لوگوں کے لیے آزادی آ گئی ہے، مگر ان کے دل اب بھی اس خاموش نظم کے عادی ہو چکے ہیں۔لگتا ہے جیسے پالیسی ختم ہوئی نہیں بس
    شکل بدل گئی ہے، اور زندگی کے اندر کہیں دبی ہوئی اب بھی سانس لے رہی ہے۔’’
    میں جانتی ہوں کہ میرا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ہر نیا دن یہاں ایک نیا باب ہے۔کسی اجنبی کی مسکراہٹ، کسی دوست کی گفتگو، یا کسی پرانی عمارت کے سائے میں گزرا لمحہ۔ چین میرے لیے اب ایک ملک نہیں رہا،یہ ایک جیتی جاگتی داستان ہے جس میں میں خود ایک کردار ہوں،
    اور شاید کچھ کہانیاں ابھی لکھی جانی باقی ہیں۔

  • کنیکٹیکٹ کی خاموشی میں کراچی کی روح کا سْر، شکیل حیدر سے ایک ملاقات،حمیرا گل تشنہ

    کنیکٹیکٹ کی خاموشی میں کراچی کی روح کا سْر، شکیل حیدر سے ایک ملاقات،حمیرا گل تشنہ

    ہوا میں خنکی بڑھی ہوئی تھی جنگلی پھولوں اور گیلے پتوں کی بھیگی ہوئی خوشبو پھیلی ہوئی تھی یعنی، کنیکٹیکٹ کی وادی میں موسمِ خزاں کی صبح اپنے عروج کو تھی۔ پرانے بلوط کے درختوں کے جھنڈ تھے جن کے نیچے گھاس پر بکھرے ہوئے پیلے اور نارنجی پتے قالین کا کام دے رہے تھے۔ یہ وہ سکوت تھا جو کراچی کے رہنے والے کے لیے تھوڑی اجنبی شے ہے۔ کراچی، جو ہر لمحہ زندگی کے دھڑکنے کی آواز سے بھرپور ہوتا ہے۔ کبھی گاڑیوں کے ہارن، سائیکل پر بندھے خالی ڈبوں کی کھنک، اخبار فروشوں کی تو کبھی لوگوں کی للکارنے کی اور سمندر کی ہواؤں میں گھلے ہوئے نمکین پن کی آوازیں۔ اور یہاں … یہاں تو صرف خاموشی تھی۔ ایک گہری، بسیط، اور مقدس خاموشی۔

    میں کنیکٹ ٹی کٹ کے برج پورٹ کے سامنے گاڑی کے باہر کھڑی تھی۔ کہ سامنے سے آنے والا جہاز نیویارک سے مسافروں کو لے کر آیا تھا اور انھی مسافروں میں ہمارے مہمان “شکیل حیدر” بھی شامل تھے۔ تھوڑی دیر دیکھا مسافروں کی بھیڑ میں سے ایک شناسا چہرہ نمودار ہوا۔ گلابی رنگت، سفید بال، دراز قد پر سیاہ گرم کوٹ پہنے اردگرد کے ماحول سے لاپراہ دھیمی رفتار میں سامنے سے چلتے ہوئے آ رہے تھے۔ پھر بے فکر انداز میں جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر سگریٹ جلائی اور ہوا میں بکھرتے دھوئیں میں کھو گئے۔ نجانے کیا سوچ رہے تھے یا شاید فضا میں کچھ کھوج رہے تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر آواز دی تو چونک کر مڑے اور مسکراتے ہوئے بولے”ارے تشنہ، کیسی ہو؟” ہاتھوں میں سگریٹ دبائے شکیل حیدر کے چہرے پر کراچی کی دھوپ کی کہانیاں لکھی تھیں، مگر آنکھوں میں کنیکٹیکٹ کی پر سکون گہرائی سمائی ہوئی تھی۔ مسکراہٹ میں ایک عجب طرح کی نرمی تھی۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا، “چلیں؟ تو ہنس کر کہنے لگے، چلو۔۔۔ یہاں کی خاموشی پہلے دن تو بہت بھاری لگتی ہے، پھر اس کے اندر کی موسیقی سنائی دینے لگتی ہے،” انہوں نے کہا۔
    یہی وہ جملہ تھا جس نے ہماری بات چیت کا دھارا کھول دیا۔ میں نے پوچھا کہ ایک ایسا شخص جو کراچی کی ہلچل، یا کنکریٹ کے جنگل کہہ لو (جیسا کہ انہوں نے ٹیلی فونک گفتگو میں خود اسے کہا تھا) میں پلا بڑھا، وہ اس یکسانیت اور سکوت میں کیسے ڈھل جاتا اور سکون پاتا ل ہے؟
    وہ گاڑی کے شیشے کی دیوار کے پار کہر میں ڈوبے، بکھرتے مناظر دیکھتے ہوئے بولے، “یہ سوال تو میں روز اپنے آپ سے کرتا ہوں۔ دیکھیے، کراچی نے مجھے ‘ریڈیم’ سکھایا۔ وہاں ہر عمارت اپنی کہانی چلاتی ہے، ہر گلی ایک ڈرامہ ہے، ہر چہرہ ایک ناول۔ یہ سب میرے اندر کے آرٹسٹ کے لیے خام مال تھا۔ مگر جب آپ کے پاس بہت زیادہ خام مال ہو تو بعض اوقات ‘شکل’ ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں کی فضا نے مجھے ‘خلاء ‘ دیا۔ اور خلاء کے بغیر کوئی تعمیر، کوئی شاعری مکمل نہیں ہوتی۔”
    اتنی گہری بات سن کر میں حیران رہ گئی۔ یقیناً یہ بات ایک ظاہری نہیں بلکہ باطنی طور پر مکمل شاعر ہی کہہ سکتا ہے اور شاید یہی ایک عالمی فنکار کی پہچان بھی ہوتی ہے۔ اس گفتگو میں ہم “پنیرا بریڈ” ریستوران پہنچ گئے۔ آرڈر دے کر ہم اپنی نشست پر آکر بیٹھے تو بات شاعری کی طرف مڑی تو شکیل مزید جوش میں آ گئے۔ “آرکیٹیکچر اور شاعری دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں ‘خلاء ‘ اور ‘مادے’ کے درمیان کھیلتے ہیں۔ ایک عمارت اینٹوں اور سیمنٹ سے بنتی ہے، مگر اس کی روح میں وہ ‘خلاء ‘ ہے جس میں آپ رہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ایک نظم الفاظ سے بنتی ہے، مگر اس کا جادو ان الفاظ کے درمیان کی خاموشی میں ہوتا ہے۔ کراچی نے مجھے الفاظ دیے، اور کنیکٹیکٹ نے مجھے وہ خاموشی سکھائی جس میں وہ الفاظ جیتے ہیں۔”
    میں نے پوچھا، “تو کیا آپ خود کو ایک مسافر سمجھتے ہیں یا پھر باشندہ؟”
    وہ مسکرائے، “میں ایک ‘پرندہ’ ہوں، جس کے دو پر ہیں۔ ایک پر کراچی کی یادیں ہیں، دوسرا پر امریکا کا نظارہ۔ ایک پر سے میں اڑ نہیں سکتا۔ دونوں کی ضرورت ہے۔ ہاں، یہ سچ ہے کہ جب بہت برف پڑتی ہے اور درخت بالکل خاموش ہو جاتے ہیں، تو کراچی کے بھرے ہوئے بس اسٹاپوں کی یادیں ایک عجیب سی گرمی فراہم کرتی ہیں۔ اور جب کراچی کی گرمی اور ہجوم دم گھٹنے لگے، تو امریکہ کی وادی کی تصویر میرے دل کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔”
    شام کے آخری سورج کی کرنیں ہوٹل کی کھڑکیوں سے چھن کر ہماری نشست تک پھیل رہی تھیں، ہر شے پر سنہری رنگ ڈال رہی تھیں۔ یہ ملاقات محض دو لوگوں کی ملاقات نہیں تھی، بلکہ دو دنیاؤں، دو تخلیقی عملوں کا باہمی سنگم تھی۔ شکیل حیدر اپنے آپ میں ایک ایسی عمارت تھے جو دو مختلف ثقافتی زمینوں پر کھڑی تھی، مگر اس کی بنیادیں مضبوط تھیں۔
    رخصت ہوتے وقت، جب ہم وہیں کھڑے ایک پرانے درخت کے ساتھ تصویر لے رہے تھے میں درخت کی جڑوں کو دیکھنے لگی جو زمین کی تہوں میں اترتی چلی گئی تھیں، مجھے احساس ہوا کہ شکیل حیدر کی طاقت بھی یہی ہے۔ ان کی جڑیں کراچی کی گہرائیوں میں ہیں، مگر ان کی سوچ کی شاخیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور ان دونوں کے درمیان ہی ان کی تخلیقی توانائی کا بہاؤ ہے۔
    ان کو واپس کنیکٹیکٹ کے برج پورٹ پر میں چھوڑنے گئی۔ وہ بس مجھ سے ملنے آئے تھے۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی جس میں نہ تو اجنبیت کا کوئی احساس تھا اور نہ رسمی تعارف شامل رہا۔ شکیل حیدر کی شخصیت خود ایک شاعری تھی، ایک ایسی عمارت تھی جس میں رہنے والے خیالات پر سکون تھے، اور ایک ایسی نظم تھی جس کی لَے دل کے براعظم کی دھڑکن تھی۔ میں نے سوچا، شاید جدید دور کے صوفی ایسے ہی ہوتے ہیں جو خانقاہ میں نہیں، بلکہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں رہتے ہیں۔ جو اپنے اندر کی دنیا کو سنتا اور اپنے باہر کی دنیا کو سمجھتا ہے۔ اور ان دونوں کے ملن سے ایک نیا جہان تعمیر کرتا ہے۔

  • آغا سراج درانی  سرکار کے شدید دباو کے باوجود   زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہیں بنے’…آغا خالد

    آغا سراج درانی سرکار کے شدید دباو کے باوجود زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہیں بنے’…آغا خالد

    آصف زرداری کے دیرینہ دوست، پیپلز پارٹی کے وفادار رہنما، آخری برسوں میں سیاسی سرد مہری کا شکوہ کرتے رہے۔
    گڑھی یاسین کے بااثر درانی خاندان سے تعلق، اعلی تعلیم، شرافت اور عوام دوستی نے صوبے بھر میں مقبول بنایا۔
    امریکہ میں قیام کے دوران ماڈلنگ اور اداکاری میں شہرت پائی، وجیہہ شخصیت کے باعث مغربی میڈیا میں مقبول ہوئے۔
    بے نظیر بھٹو کے اصرار پر وطن واپس آئے، سندھ کی سیاست میں فعال کردار ادا کیا اور کئی سیاسی آزمائشیں برداشت کیں۔
    آغا سراج درانی بھی داغ مفارقت دے گئے
    اناللہ واناالیہ راجعون
    وہ سندھ کا ایک بھاری بھرکم نام تھے اور ان کے بڑوں نے قیام پاکستان میں قائد اعظم کی مدد کی تھی، گڑھی یاسین کے شاہی خانوادہ سے تعلق رکھنے والے آغا سراج سندھ کے چند کروڑ پتی خاندانوں میں سے تھے مگر سیاست میں آنے کے بعد مملکت کے طاقت ور اداروں نے ان کے ساتھ بھی ایک سے زائد بار وہی گھناؤنا سلوک کیا جس کا مقصد سیاستدانوں کی کردار کشی اور ان کی رسوائی ہوتا تھا کبھی ان کے گھر یا دفتر سے کروڑوں روپیہ برآمد کروایا جاتا کبھی گڑھی یاسین کے محل کے صحن سے خزانہ برآمد ہوتا مگر ان کے خلاف بنائے گئے بیسیوں مقدمات کے عدالتی چالان میں وہ خزانے کبھی ظاہر نہ کیے جا سکے تبھی کہتے ہیں ‘‘جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے’’
    آغا سراج درانی دوستوں کے دوست مشہور تھے جبکہ ان کی اصل وجہ شہرت صدر مملکت آصف زرداری سے ان کی بچپن کی دوستی تھی وہ ذولفقار مرزا کی طرح میٹرک سے زرداری کے کلاس فیلو بھی رہے اور بہت سے دوستوں کے بقول ان کی موت کی بڑی وجہ زرداری صاحب کا گزشتہ کئی برسوں سے ان کے ساتھ سرد رویہ بھی تھا جس کا انہیں صدمہ تھا اور وہ اپنے قریبی دوستوں سے ہلکے پھلکے انداز میں اس پر شکوہ بھی کرتے تھے کہا جاتا ہے کہ اسی رویہ کے سبب وہ گزشتہ 10 برس سے کابینہ سے باہر رہے جبکہ انہیں یہ بھی شبہ تھا کہ طاقت ور عہدوں سے محروم رکھنے کی خاطر ہی انہی پانچ سال سندھ اسمبلی کا اسپیکر رکھا گیا وہ بلا کے ذہین قابل شریف النفس اور پی پی کے وفادار رہنما تھے ان کے قریبی اعزہ کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے سیاست سے الرجک تھے اعلی تعلیم کے لیے امریکہ گئے تو پھر وہیں کے ہو رہے اور اپنے شوق کی تکمیل میں انہوں نے امریکہ میں ماڈلنگ بھی کی اور کچھ دیگر ڈراموں میں بھی چھوٹے موٹے رول کیے جس پر وہ گوریوں کے پسندیدہ اداکار مشہور ہوے وہ دراز قد کے ساتھ کسرتی جسم، پر کشش نقوش، گھنگریالے بال، بڑی آنکھیں، نکھری رنگت اور نوکیلی رعب دار موچھوں کے ساتھ مردانہ وجاہت کا شاندار شاہکار تھے اس لیے امریکہ کے گوروں میں تیزی سے مقبول ہورہے تھے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو 87/88 میں امریکہ گئیں تو انہوں نے اصرار کرکے انہیں واپس آنے اور سندھ کی سیاست میں کردار ادا کرنے پر آمادہ کرلیا کہا جاتا ہے کہ ایسا بھی محترمہ نے اپنے شوہر آصف زرداری کی سفارش پر کیا تھا وہ اکثر بڑے فخر سے بتاتے تھے کہ جس روز میری فلائٹ کراچی میں اتری اسی روز جنرل ضیا کا جہاز بہاول پور میں حادثہ کا شکار ہوا تھا ان کے والد آغا صدرالدین درانی سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے جبکہ چچا آغا بدرالدین قیام پاکستان کے وقت سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر تھے اور پاکستان سے الحاق کی سائیں جی ایم سید کی قرار داد میں پیش پیش تھے ان کا خاندان 3 صدیاں قبل افغانستان سے برصغیر آیا اور پھر محلہ آوروں کے ساتھ واپس جانے کی بجائے سندھ میں ہی ٹھر گیا اور شکار پور اور جیکب آباد کے درمیان ایک چھوٹے سے مگر ترقی یافتہ قصبے گڑھی یاسین کو اپنا مسکن بنا لیا ایک قلعہ نما چہار دیواری بناکر پورا کنبہ اس میں رہائش پذیر ہوا یہ اصلی پٹھان اور لڑاکا قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے اس مشکل علاقہ میں بھی جلد ہی ان کی دھاک بیٹھ گئی اور وہ علاقہ کے بڑے زمیندار گھرانہ کی حیثیت سے مشہور ہوگئے مشکل علاقہ اس لیے کہاکہ شکار پور سے جیکب آباد تک زیادہ تر جنگجو لڑاکا بلوچ قبائل آباد ہیں 20 ویں صدی تک سرداروں کی سطح پر ان میں رشتہ داریاں بن رہی ہوتی تھیں مگر عین اسی لمحے نچلی سطح پر خونریز جھگڑے چل رہے ہوتے تھے جس میں ہر ایک جھگڑے میں 8/10 بندوں کا مرجانا تو معمولی بات تھی ایسے علاقہ میں دھاک کے ساتھ رہنا بذات خود بڑا کارنامہ تھا پھر درانی قبیلہ جنگجو اور لڑاکا بھی مشہور ہوگئے اور غیر اعلانیہ (معاشی اور ذہنی) سلطنت بھی قائم کرلی ہوا یوں کہ پھر علاقہ کی بڑے زمینداری کے علاوہ ان کی نئی نسل اعلی تعلیم کی طرف راغب ہوگئی جبکہ اس علاقہ کے طاقت ور بلوچ قبائل کے صرف سرداروں کے سکا د حلکا بچے ہی تعلیم حاصل کرتے تھے اور قبیلہ جہالت میں ڈوبا رہتا تھا مگر درانی بحیثیت قبیلہ اعلی تعلیم حاصل کرکے حکومتوں میں اہم مناصب حاصل کرتے رہے جس سے یہ مہذب بھی ہوگئے اور علاقہ میں ان کا اثرو رسوخ بھی بڑھتا گیا اس درانی قبیلہ کی 21 ویں صدی کے فرزند آغا سراج درانی ہونہار ہونے کے ساتھ اثرو رسوخ اور صوبہ سندھ کی سیاست میں منفرد مقام حاصل کرگئے ان کی ملن سار فقیرانہ عادات نے انہیں شکار پور سے نکال کر پورے سندھ کی مقبول شخصیت بنادیا وہ جب بھی سندھ کابینہ میں وزیر بنتے ان کی کھلی کچہریاں عام اور مظلوم لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتیں ان کے دفتر میں کبھی پروٹوکول نہیں دیکھا ہر شخص ہر وقت ان سے مل سکتا تھا پھر وہ غریبوں کے مسائل حل کرنے میں نہ صرف دل چسپی لیتے تھے بلکہ اپنی جیب سے بھی ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے جس سے ان کی شہرت اور عزت میں اضافہ ہوا اور وہ صوبہ کی مقبول ترین شخصیات کی صف اول میں آگئے یہی وجہ تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بننے والی حکومت میں وہ سندھ کی وزارت اعلی کے لیے زرداری صاحب کے پسندیدہ امیدوار بن گئے تھے یہ بھی بڑا دل چسپ قصہ ہے چہ جائیکہ آصف زرداری پارٹی کی بظاہر کمان سنبھال چکے تھے مگر پارٹی کی سینیر قیادت انہیں قبول کرنے کو ذہنی طور پر تیار نہ تھی اور اندرون خانہ سنجیدہ چپقلش موجود تھی پھر بی بی کے سوئم میں دکھائے گئے جانشینی کے خط کی ایک جھلک پر بھی مخدوم امین فہیم اور خورشید شاہ جیسے سینیر رہنما بھی اعتبار کرنے کو تیار نہ تھے انہوں نے سوئم کے جذباتی ماحول میں اعتراض تو نہ کیا مگر ان کے چہرہ کے تاثرات اور بعد کے رویہ نے زرداری صاحب کو پریشان کردیا، جبکہ ان ہی سینیرز کو بی بی کی قربت کی وجہ سے معلوم تھا کہ محترمہ بے نظیر پرویز مشرف کے دور میں ملک بدری کے دوران اور وطن واپسی پر بھی ماضی کے تجربات کے باعث آصف زرداری کی پارٹی یا سیاست میں مداخلت کے خلاف تھیں اور اس مسلہ پر میاں بیوی کے تعلقات میں بی بی کی شہادت تک سرد مہری بھی پائی جاتی رہی جس کی وجہ سے آصف زرداری پارٹی کی کمان سنبھالنے کے باوجود اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کرہے تھے اور بعض سیاسی مبصرین کے بقول یہی وجہ تھی کہ ملکی طاقت ور اسٹبلشمنٹ کی ہمدردیاں سمیٹنے اور طاقت کے ایک بڑے مرکز کو اپنے ساتھ ملانے کو ذہین ترین آصف نے ترپ کا شاندار پتہ کھیلتے ہوے سوئم کے سوگ اور پاکستان مخالف غصہ سے بھرے جذباتی اجتماع میں بھی ‘‘پاکستان کھپے’’ کا نعرہ لگایا جو بعد میں ان کے بہت کام آیا، سینیر پارٹی قیادت جانتی ہے کہ سوئم کے فورن بعد آصف علی زرداری سکھر پہنچے اور انہوں نے سکھر ہائوس میں اسلام الدین شیخ کے ہاں دو روز قیام کرکے سید خورشید شاہ کو رام کیا اس کارنامے کا زیادہ سہرا اسلام الدین شیخ کو جاتا ہے جس کا ثمر پہلے وہ اور اب ان کے بیٹے سمیٹ رہے ہیں یہ معرکہ سر کرنے کے بعد زرداری صاحب نے مخدوم امین فہیم پر کام شروع کیا مگر وہ زرداری کی کمزوری سے کھیلتے ہوے وزارت عظمی سے کم پر بات کرنے کو تیار نہ تھے اور آصف انہیں نظر انداز یوں نہ کرسکتے تھے کہ ان کے ساتھ سندھ کے ارکان اسمبلی اور پارٹی کی اہم قیادت یک زبان تھی یہی وجہ تھی کہ بقول مخدوم جاوید ہاشمی کے نواز شریف کی قیادت میں محترمہ بے نظیر کی تعزیت کے لیے نوڈیرو لاڑکانہ جانے والے ن لیگ کے تین رکنی وفد سے زرداری صاحب نے درخواست کی کہ وہ مخدوم امین سے ان کی جان چھڑائیں بقول جاوید ہاشمی کے وہاں تعزیت کا سوگوار ماحول تھا ہی نہیں بلکہ اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے توڑ جوڑ زوروں پر تھا، بعد ازاں انتخابات کے بعد ہی زرداری صاحب کی فرمائش پر خواجہ آصف نے اسلام آباد پہنچ کر یہ بیان داغ دیاکہ اگر پی پی نے مخدوم امین فہیم کو وزارت عظمی کے لیے نام زد کیا تو ن لیگ ان کی حمایت نہیں کرے گی یوں زرداری صاحب نے ترپ کا ایک پتہ اور کھیل کر وزارت عظمی کے سب سے مضبوط امیدوار کو متنازعہ کرکے مخدوم امین کو پارٹی میں بے اثر کردیا، ملکی سیاست کا انتہائی نفیس اور شریف النفس سیاستداں سب سے بڑی کرسی کی بازی ہارگیا اور باقی زندگی آصف زرداری کی ناراض گی کا نشانہ بنتے ہوے گزار کر اس دنیا سے کوچ کرگیا (انا للہ وانا الیہ راجعون) اس خطرے سے نپٹ کر زرداری صاحب نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اسلام آباد پہنچے اور انہوں نے پارٹی کی اہم اور طاقت ور مشاورتی کمیٹی (سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی) کا اجلاس بلا لیا اب یہ نہیں معلوم کہ اجلاس کے دوران یا اس سے ہٹ کر انہوں نے آغا سراج درانی جو مشکل کی اس گھڑی میں مسلسل سائے کی طرح ان کے ساتھ تھے کو کہاکہ وہ تیاری کریں اگلے وزیر اعلی سندھ وہ ہوں گے کوئی شب کے 11 یا 12 بجے ہوں گے کہ مجھے آغا جاوید کا فون آیا کہ میں آغا سراج درانی کا پیغام لے کر آرہا ہوں آپ دفتر میں رکیں آغا جاوید (مرحوم) وہ جذباتی جیالا تھا جس نے محترمہ بے نظیر کی شہادت کے بعد ان پر تبرا کرنے والے اس وقت کے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم کو سندھ اسمبلی کی گیلری میں جوتا مارا تھا جس پر وہ جیل بھی گیا اور پولیس تشدد کا نشانہ بھی اور پارٹی میں اسے ہیرو کا درجہ ملا وہ آغا سراج درانی کی برادری سے اور ان کا قابل اعتماد کارکن تھا اس نے آتے ہی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ بتایا کہ زرداری صاحب نے آغا سراج کو سندھ کی وزارت اعلی کے لیے نامزد کردیا ہے اس کی خبر چلانی ہے مینے اس کی مخالفت کرتے ہوے آغا سراج سے جاوید کے نمبر سے ہی بات کی اور انہیں اس کے نقصان دہ مضمرات سے آگاہ کیا اور کہاکہ اس مرحلے پر خبر کی اشاعت نقصان دہ ہوگی سندھ میں طاقت ور سید لابی کے علاوہ سید قائم علی شاہ موجود تھے جو محترمہ بے نظیر کا بھی انتخاب رہے تھے پھر وہ حالیہ الیکشن میں پیر پاگارا کو ہرا کر بھاری اکثریت سے انتخاب جیتے تھے اس کے علاؤہ بھی کچھ دیگر خطرات میں محسوس کررہا تھا مگر آغا سراج خبر شائع کرنے پر بضد تھے وہ بہت پرجوش اور جذباتی ہورہے تھے مینے ان کے اصرار پر خبر شائع کردی جو روزنامہ آج کل میں صفحہ اول پر سنگل چھپی میں ان دنوں اس اخبار کا کراچی میں چیف رپورٹر تھا یہ اخبار نجم سیٹھی اور سلیمان تاثیر نے مل کر نکالا تھا یہ منفرد اسلوب اور خبروں کی ترسیل کے نئے انداز کی وجہ سے روز بروز مقبول ہورہا تھا دوسرے روز یہی خبر کئی چینلز میں نشر اور اخبارات میں چھپی جس پر سیاسی حلقوں میں عموما اور پی پی میں خصوصا ہلچل مچ گئی وزارت اعلی کے تین چار دیگر اْمیدواروں نے توڑ جوڑ شروع کردیا،