سلمان عبداللہ مراد کراچی کے نوجوان ڈپٹی مئیر ہیں،کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی نوجوان ہیں توقع ہے کہ یہ نوجوان شہر قائد کو پھر سے چمکتا دمکتا بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے،سلمان عبداللہ مراد نظریاتی طور پر نہایت پختہ ذھن رکھتے ہیں،متحرک ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں،وہ مئیر کراچی کے شانہ بشانہ شہر کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں،سلمان مراد کے والدشہید عبداللہ مراد ایک نڈر اور بے باک سیاستدان تھے وہ کراچی کے عوام کا درد رکھتے تھے،محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری ان کو بہت عزیز رکھتے تھے ،امید ہے کہ کام کرنے کی جو تڑپ ان کو ورثے میں ملی ہے وہ اس کا اظہار عملی طور پر کریں گے،یہ بات بہت اچھی ہے کہ دُپٹی مئیر نے اپنے دروازے عام شہریوں کے لئے کھول دئیے ہیں وہ لوگوں کے مسائل سننے اور اس کو حل کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں،انھوں نے تمام اسٹیک ہولڈروں سے کہا کہ وہ کراچی کو اون کریں اورہمارے شانہ بشانہ شہر کی ترقی کے لئے کام کریں ،نمائندہ کنزیومر واچ نے ان سے شہرکے مسائل کے حوالے سے گفتگو کی جس کو نذر قارئین کیا جارہا ہے۔
انٹرویو۔نشید آفاقی
فوٹو گرافی:حسنین احمد
س: ٹوٹی سڑکیں اڑتی دھول، ڈپٹی مئیر صاحب !کراچی والوں کا مستقبل کب سنورے گا ؟
ج: ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ کراچی ملک کی آن، بان اور شان ہے سب سے بڑا شہر ہونے کے ناطے اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کاوژن ہے کہ اس شہر کو بھرپور ترقی دے کر اس کو دنیا کے دیگر بڑے شہروں کے ہم پلہ بنایا جائے چنانچہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کی سربراہی میں ہماری پوری ٹیم بھرپور محنت کر رہی ہے ٓاپ نے دیکھا ہوگا جگہ جگہ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ میئر کراچی کی سربراہی میں ہماری پوری ٹیم آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق اس شہر کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ کراچی کے عوام نے ہم پر جو اعتماد کیا ہے اس پر پورا اتریں جمہوریت کا اصول ہے کہ ٓاپ کو عوام کا جواب دہ ہونا پڑتا ہے ہم انشا اللہ اچھا کام کر کے سرخرو ہوں گے پیپلز پارٹی میں ورکر کی تربیت بہترین انداز میں ہوتی ہے مجھے فخر ہے کہ میں پیپلز پارٹی کا ورکر ہوں اور ہمارے قائدین ذوالفقار علی بھٹو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو شہید آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے ہم نے خدمت کا جو فلسفہ سیکھا ہے اس پر عمل کر رہے ہیں میں کراچی والوں کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ شہر میں جلد خوشگوار تبدیلی دیکھیں گے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ہم لوگ دن رات محنت کر رہے ہیں ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں یہاں منتخب نمائندے بھی آ سکتے ہیں اور عام شہری بھی، سب کے مسائل سنے جاتے ہیں اور ان کا حل بھی نکالا جاتا ہے ہم نے کونسلرز کو بھی بجٹ دے دیا ہے تاکہ وہ گلی محلوں میں کام کرا سکیں ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں جہاں ہمارا کوئی منتخب نمائندہ نہیں ہے وہاں بھی ہم نے میگا پروجیکٹس دیے ہیں ہم نے بلدیہ کو اپنے پاوں پر کھڑا کیا ہے۔
س: آج کل کثرت سے ٹوٹی سڑکوں کی استرکاری کی جا رہی ہے جو چند ماہ بعد پھر ٹوٹ جاتی ہیں اس حوالے سے ٓاپ کیا کہیںگے کیونکہ اگر مکمل سڑک بنادی جائے تو یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوگانیز سیوریج لائنوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے شہر کی سڑکیں بھی خراب ہو رہی ہیں؟
ج: ڈی جی واٹر بورڈ سے ہماری بات ہوئی ہے اور انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ سے بھی کہا گیا ہے کہ کوالٹی اور کوانٹٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اگر غیر ذمہ داری کا کوئی کیس سامنے ٓایا تو ہم نے ذمہ دار کو معطل بھی کیا اور انکوائری بھی کی مٹیریل کا لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہو رہا ہے ہم نے ٹھیکے داروں کو بلیک لسٹ بھی کیا ہے افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوئی میئر کراچی مرتضی وہاب کی ہدایت ہے کہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اسی لیے سخت ترین کوالٹی کنٹرول کا نظام رائج ہے دیکھیں کراچی ہم سب کا شہر ہے ہمیں مل کر اس کو بہتر کرنا ہے کراچی روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے ہم اس کی روشنیاں بحال کریں گے اس کا وقار بلند کریں گے ہم عوام کو مایوس نہیں کریں گے چمکتا دمکتا کراچی ہمارے قائدین کا وژن ہے ہم ہر صورت اس کو پورا کریں گے ۔
س: ہمارے شہر میں ایسا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا جس پر ہم فخر کر سکیں اگر مستقبل میں کوئی منصوبہ ہے تو عوام کو بتائیں ؟
ج: کراچی میں جا بجا ایسے منصوبے ہیں جس پر فخر کیا جا سکتا ہے جیسے ابھی کچھ عرصے پہلے سفاری پارک کی تزین و آرائش کی گئی سفاری پارک میں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بہت سی ایسی ڈیویلپمنٹ کی گئی ہیںجس کو بہت پسند کیا گیا اس کے علاوہ شہر میں کئی چھوٹے بڑے پارک بنائے گئے جس سے شہریوں کو صحت مند تفریح کے مواقع میسر آ رہے ہیں مزید اور منصوبے زیر غور ہیں جو وقتا فوقتا عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
س: ساحلی تفریح گاہوں کی صورتحال ابتر ہے کراچی کا سمندر انتہائی آلودہ ہے شہر کی آلودگی سمندر میں گرائی جا رہی ہے جو سمندری حیات کے لیے نقصان دہ ہے دنیا بھر میں سمندر کی حیثیت ایک اثاثے کی ہوتی ہے مگر ہم نے اس قدرتی اثاثے کی حفاظت نہیں کی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو نْقصان پہنچایامستقبل میں کیا قوم کوئی اچھی امید رکھے ؟
ج: ہم نے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا ہے جس کا وزیراعلی سندھ نے دورہ بھی کیا تھا جب وہ مکمل ہوگا تو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اس کا افتتاح کروائیں گے اس کے ذریعے سمندر کے پانی کو صاف کریں گے اور یہ صاف شدہ پانی فیکٹریوں وغیرہ کو سپلائی کیا جائے گا ٹی پی تھری پہلے بھی تھا مگر ہم سے پہلے کسی نے توجہ نہیں دی جس طرح دبئی میں سمندر کے پانی کو ری سائیکل کیا جاتا ہے اسی طرز پر کراچی میں بھی ہورہا ہے جنوری فروری میں اس کا افتتاح ہوگا اس کے بعد کراچی کا سمندر صاف ہو جائے گا اور شہری ساحلی تفریح گاہوں سے زیادہ بہتر انداز میں لطف اٹھائیں گے ایک خوشخبری اور ہے کہ ایسا ہی ایک پلانٹ ملیر میں بھی لگایا جارہا ہے جس سے صورتحال بہت بہتر ہو جائے گی میری طرف سے عوام کو یہ پیغام دے دیں کہ عنقریب ان کو صاف و شفاف سمندر ملے گا جہاں وہ بہترین پکنک منا سکیں گے یہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے اور ہماری ذمہ داری ہے،جس کے لئے ہم دن رات کام کرہے ہیں۔
س: بجلی کے بل میں بلدیہ کا جو ٹیکس لگایا گیا ہے اس حوالے سے بتائیں کہ عوام کس طرح سمجھے کہ بہتری آ رہی ہے اور ٹیکس دینے کا کوئی فائدہ ہو رہا ہے کیونکہ ٹیکس دینے والے کا حق ہے کہ وہ سوال کرے کہ ٹیکس کی مد میں ان سے وصول کی جانے والی رقم کہاں خرچ کی جارہی ہے؟
ج: یہ ٹیکس نیا نہیں ہے اس سے پہلے بھی لیا جاتا تھا پہلے چھ سات ہزار لیے جاتے تھے مگر وہ پیسے کے ایم سی کے اکاونٹ میں نہیں جاتے تھے اب ہم نے جو کام کیا ہے اس سے یہ پیسے کے ایم سی کے اکاونٹ میں ا ٓرہے ہیں یہ پیسے شہریوں پر خرچ ہوں گے شہری حلقوں پر خرچ ہوں گے جو پیسے ٓائیں گے ہم بتائیں گے کہ کہاں خرچ ہوئے اس کی تفصیل کیا ہے اس سے پہلے سالانہ 15 کروڑ جمع ہوتے تھے اب ہم ماہانہ بنیادوں پر جمع کر رہے ہیں
س: ابھی تک کچرہ اٹھانے کے لیے باہر کے لوگ آرہے ہیں تو اس ٹیکس دینے کا کیا فائدہ ہے؟
ج :سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے تحت کچرا اٹھانے کا انتظام کیا گیا ہے یہ لوگ گھر گھر کچرا اٹھاتے ہی جھاڑو دی جاتی ہے صفائی اچھی ہو رہی ہے کام تو ہو رہے ہیں۔
س :ڈپٹی میر صاحب ہمارے علاقے نارتھ کراچی میں کچرا اب بھی باہر کے لوگ اٹھا رہے ہیں.
ج: اب آپ نے مجھے بتایا ہے تو میں اس کو چیک کرتا ہوں سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کو آن بورڈ لے کر بات کرتا ہوں اگر کسی شہری کو کوئی شکایت ہے تو اس شکایت کو دور ہونا چاہیے ِ۔
س: کراچی کے جزائر کی صورتحال بھی ابتر ہے اس حوالے سے کیا کہیں گے جبکہ وہاں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک بھی ہے؟
ج: میرے خیال میں آپ کافی دنوں سے وہاں نہیں گئے اب صورتحال کافی بہتر ہے بیرون ملک کی طرح ریزورٹ بنائے گئے ہیں ڈیپ سی میں جا کر لوگ لطف اٹھاتے ہیں اس پر مزید کام کر رہے ہیں تاکہ سیاح ہمارے ساحلوں کا رخ کریں ہماری ذمہ داری ہے ہم کام کریںگے اللہ کے بعد میں اپنی قیادت کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ ناچیز کو کراچی کا ڈپٹی میئر بنایا۔
س:آپ کے والد عبداللہ مراد ایک دلیر اور بڑے سیاستدان تھے آپ نے ان سے کیا سیکھا؟
ج: میں ان کے دور میں پی ایس ایف میں شامل تھا میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد بزنس کو ٹائم دیتا تھا جیسے ہی والد کی شہادت ہوئی مجھ پر بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی اس وقت کراچی میں سیاست کرنا مشکل تھا مگر محترمہ بے نظیر بھٹو اور ٓاصف علی زرداری نے ہمیں حوصلہ دیا ہم سب ان ہستیوں کے بے حد مشکور ہیں اس شہر میں پیپلز پارٹی کا نام لینا مشکل تھا اور گھر سے کفن ساتھ لے کر نکلنا ہوتا تھا پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ نے اس ملک اور جمہوریت کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں بلاول بھٹو صاحب کی کوششوں سے 26 ویں ترمیم آئی ہے اور جس طرح 50 سال بعد شہید بھٹو کو انصاف ملا ہے تو ہم بھی توقع کرتے ہیں کہ عبداللہ مراد شہید کے لواحقین کو بھی انصاف ملے گا۔
س: کراچی اور لاہورکاموازنہ کیسے کریں گے؟
ج: کراچی اور لاہور کا کوئی موازنہ نہیں کراچی بہت بڑا شہر ہے یہاں کا انفراسٹرکچر لاہور سے بہت بہتر ہے مگر بدقسمتی سے کراچی کو کوئی اون نہیں کرتا ہم اس شہر کو اون کرتے ہیں اور تمام اسٹیک ہولڈروں کو کہتے ہیں کہ آئیں ہمارے ساتھ اس شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کریں لاہور والے اپنے شہر کو اون کرتے ہیں لاکھ اختلافات کے باوجود وہ مل کر شہر کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں کراچی میں بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے۔