کراچی، بین الاقوامی کتب میلے کی ریکارڈ توڑ کامیابی

کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ پانچ روزہ 19ویں بین الاقوامی کتب میلے نے ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی ایک محتاط اندازے کے مطابق چار لاکھ سے زائد شہریوں نے کتب میلے کا دورہ کیا،جن میں بچے ،بچیاں،بوڑھے،نوجوان اور خواتین سب شامل تھے،وزیراعلی،گورنر،وزراء سمیت شاعروں،ادیبوں،صحافیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھرپور شرکت کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر قائد میں علم کی آبیاری اسی آب وتاب کے ساتھ جاری ہے جو ہماری تاریخ کا حصہ ہے،حالانکہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ کتابی کلچر اب ہم سے روٹھ گیا ہے مگر کتب میلے کی کامیابی نے تمام پیشنگوئیوںکو غلط ثابت کیا۔قبل ازیںوزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے 19ویں کراچی بین الاقوامی کتب میلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسے علم ، ثقافت اور تخیل کا میلہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ کتب بینوں، لکھاریوں اور پبلشرز کو ایک ہی چھت تلے جمع کرنے والے اس پروگرام کا حصہ بننا اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے پبلشرز، کتاب فروشوں اور لائبریریز کی کوششوں اور ادبی حلقوں کے درمیان تعاون کو سراہا۔

فیتہ کاٹنے کے موقع پر وزیر تعلیم سید سردار شاہ، میئر کراچی مرتضی وہاب، صدر آرٹس کونسل پاکستان احمد شاہ ، آرگنائزر متین خان اور عزیز خالد وزیراعلی کے ہمراہ تھے۔میلے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ کتب میلے نے قومی اور بین الاقوامی پبلشرز کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا ہے جس سے خیالات کے تبادلے اور کتب کی فروخت میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کتب میلے میں مصنفین کو پبلشرز اور قارئین کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع ملتا ہے جس سے تخلیقی مکالمہ اور تنقیدی سوچ پروان چڑھتی ہے۔وزیراعلی نے میلے کی کامیابی کیلیے وقار متین کی قیادت میں آرگنائزر اور انتظامی کمیٹی کی محنت کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادب کے فروغ اور کتابوں سے پیار کا جذبہ قابل قدر ہے۔اس سال میلے میں 17 ممالک کے 40 ادارے شریک ہیں جو پاکستان کیلیے ادبی اور ثقافتی سنگ میل ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کراچی میں ملک کے سب سے بڑے کتب میلے کے انعقاد کو اعزاز قرار دیا اور کہا کہ یہ بھی ہمارے کراچی کا ہی اعزاز ہے کہ حال ہی میں 17ویں اردو کانفرنس ہوئی اور ہمارے کراچی میں ہی دنیا کا سب سے بڑا کلچرل فیسٹیول بھی ہوا۔کتب میلے میں لوگوں کے ہجوم پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ لوگوں کی دلچسپی دیکھ کر دل خوش ہوا ۔انہوں نے لوگوں کو پڑھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ہر کتاب میں ایک دنیا ہے جو دریافت کی منتظر ہے۔ ہر صفحہ ایک سفر اور ہر پڑھنے والا اپنی کہانی خود بناتا ہے۔کراچی بین الاقوامی کتب میلہ تخلیقی سوچ، فکری گفتگو اور ثقافتی پذیرائی کا اہم ذریعہ ہے اور ہر سال اس کے دائرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وزیرتعلیم سید سردار شاہ نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈیجیٹل دور میں بھی کتاب کی لافانی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کتابوں کی آج کی دنیا میں اپنی اہمیت ہے لیکن کتاب کو ہاتھ میں لینے اور ورق گردانی کا جو مزہ ہے وہ بے مثال ہے۔سردار شاہ نے علم اور تحقیق کے میدان میں مسلمانوں کے تاریخی کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں نے جدید تعلیم کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جامعہ القراوین 859 عیسوی میں مراکش میں قائم کی گئی اور بغداد کا بیت الحکمت نویں صدی میں علم کا مرکز تھا۔ اس کے مقابلے میں آکسفورڈ یونیورسٹی 12 ویں صدی میں قائم کی گئی۔سردار شاہ نے بتایا کہ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر فکری اور علمی زوال آگیا۔ ہمیں اپنے علمی اور تخلیقی ورثے کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔وزیرتعلیم نے زور دیا کہ تعلیم کو اہمیت دیں، نئی نسل میں پڑھنے اور سیکھنے کے کلچر کو عام کریں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے کہا کہ وادی سندھ نے دنیا کو علم دیا، ہمارا اساس ہمیں واپس کرنا ہے، کوشش کرینگے کہ سکھر حیدرآباد اور دیگر شہروں میں بھی اس کتب میلے کو لیکر جائیں گے آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ ہم نے اس شہر سے نفرت ختم کرنا ہے،ہم نے کتابوں، زبان اور تمام لوگوں کی ثقافت کو اجاگر کیا،اپنے شہر اپنے صوبے اپنے ملک کو بہتر کرنا ہے،ہمارا فوکس تعلیم اورکتاب پر ہوناچا ہیے ، پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد نے کہا آج خوشی کا دن ہے کہ بین الاقوامی کتب میلہ منعقد ہو رہا ہے ،پاکستان کا صاف امیج دنیاکو دیکھانا چاہتے ہیں ،بچوں کو اچھی کتابیں ایک چھت کے نیچے دینا چاہتے ہیں۔اس نمائش میں بین الاقومی پبلشر کو اکٹھا کیا ہے،یہاں ادب زبانوں اور کورسز کی کتابیں دستیاب ہیں۔

کراچی انٹر نیشنل بک فیئر کے کنوینئر وقار متین نے کہاکہ کراچی انٹر نیشنل بک فیئر کے منتظمین اور حکومت سندھ کے تعاون سے پبلک پارک میں لائبریری قائم کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری انیسویں کراچی بین الاقوامی کتب میلے کے پہلے روز صبح سے ہی طلبہ و طالبات اور شائقین کتب بڑی تعداد میں پہنچ گئے۔ طلبہ و طالبات نے نصابی اور درسی کتب کے علاوہ تاریخی اور کہانیوں کی کتب میں گہری دلچسپی لی۔ اسکول و مدرسہ کے ہزاروں طلبہ بسوں اور وین کے ذریعہ کتب میلے میں شریک ہوئے۔ شہریوں کی بڑی تعداد میں آمدسے پارکنگ کی جگہ تقریبا بھر چکی تھی۔ پبلشرز کی جانب سے کتب پر 30فیصد سے 70فیصد تک رعایت دی گئی۔ منتظمین کی جانب سے کیشن وین میں اے ٹی ایم کی سہولت مہیا کی گئی تھی پہلے دن ادیبہ و شاعرہ فاطمہ حسن، ادیب و شاعر سحر انصاری، روس کے کونصلیٹ جنرل اوررشین ہاوس کے ڈائریکٹر رسلان رکوف، چیئرمین فیڈریشن آف پرائیوٹ اسکولز محمد علیم قریشی، چیئرمین پاکستان پرائیوٹ اسکولز انور علی بھٹی، طارق پرائیوٹ اسکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن، ادیب قاضی اسد عابد، بانی رکن اور صدر پاکستان اکیڈمک کنسورشیم ناصر زیدی، منیجنگ ڈائریکٹر اکیڈمی سندھ سعد بن عزیز، لائٹری کنٹربیوشن اردو فراست رضوی بھی شریک ہوئے، کتب میلے میں عوام کی بڑی تعداد نے شریک ہو کر مختلف موضوعات پر کتابیں خرید یںکتب میلے میں سب سے زیادہ دلچسپی بچوں نے دکھائی جہاں انہیں پسندیدہ کتابیں میسرتھیں۔عالمی کتب میلے کے کنوینر وقار متین کے مطابق کتب میلے میں پاکستان بھر کے پبلشرز کے علاوہ 17دیگر ممالک کے پبلشرز نے بھی اسٹالز لگائے۔عالمی کتب میلے میں مصنفین کی کتابوں کی رونمائی سمیت بچوں کی بہتر تربیت کے لیے مختلف سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں۔

بک فیئر میں پاکستان سمیت،انڈیا، ترکی، سنگا پور، چین، ملائشیا، برطانیہ متحدہ عرب امارات کی کتابیں نمائش کا حصہ تھیں۔عالمی کتب میلے میں 330 سے زائد اسٹالز لگائے گئے ہیں جن پر بچوں اور بڑوں کا خاصہ رش نظرآیا ۔پانچ روزہ عالمی کتب میلے کے تیسرے دن بھی ہزاروں کی تعداد میں کراچی کے مختلف نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی، کتب میلہ کے کنوینر وقار متین کے مطابق اب تک لاکھوں کتابیں فروخت ہو چکی ہیں۔وقار متین کے مطابق ایکسپو میں گنجایش نہ ہونے کے سبب متعدد پبلشرز کو جگہ بھی فراہم نہیں کی جا سکی ہے، اس لیے آئندہ سال ہم تمام ہال بک کرنے کی کوشش کریں گے۔وقار متین نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ آئندہ سال سندھ حکومت کے اشتراک سے کتب میلے کا انعقاد کریں، کیوں کہ کتب ملیہ کلچر کو سندھ کے دیگر اضلاع میں شروع کرنے کی تجاویز بھی آئی ہیں۔.

کتب میلے میں ترکی کی جانب سے لگایا گیا اسٹال لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا، مفت کتب تقسیم کی گئیں، ایڈیشنل ڈائریکٹر انسپکیشن اینڈ رجسٹریشن انسٹیٹیوشن رافعہ جاوید نے دورے کے موقع پر کہا عالمی کتب میلہ کراچی کے شہریوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے، جناح ٹان چیئرمین رضوان عبدالسمیع نے کہا ہمارے علاقے کے تمام اسکولز اس کتب میلے میں شرکت کریں گے اور اس کے لیے فنڈز بھی مختص کریں گے۔ترکی اسٹال کے نمائندہ محمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارا بردار ملک ہے یہاں کے لوگ انتہائی پر خلوص ہیں مجھے پاکستان بہت پسند آیا اگلے سال پھر آنے کا ارادہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں محمد کا کہنا تھا کہ اس جدید دور میں کتب کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے یہ کتب میلہ ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا نوجوان اس وقت بھی کتب میں دلچسپی رکھتا ہے.

معاشرتی برائیوں کو کتاب کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے،گورنر سندھ کامران ٹیسوری
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ کتب میلے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچے سیاسی کتابیں نہ ہی پڑھیں تو بہتر ہے، نئی نسل کو کتاب دوست بننا پڑے گا۔گورنر سندھ نے کہا کہ کتاب سے محبت اور دوستی کے لیے گورنر ہاوس میں سیل قائم کریں گے، زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے کتاب پڑھنا بہت ضروری ہے۔کامران ٹیسوری نے کہا کہ معاشرتی برائیوں کو کتاب کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے، انتظامیہ نے کتابوں سے محبت کا سلسلہ 19 برس سے جاری رکھا ہے، کتب میلے میں بہت ساری کتابیں خرید کر مختلف جامعات میں رکھواوں گا۔گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے ایکسپو سینٹر میں 19ویں ’’کراچی انٹر نیشنل بک فیئر‘‘ کا دورہ کیا۔گورنرسندھ مختلف اسٹالز گئے جہاں پر انہیں مختلف کتابوں کے حوالہ سے آگاہی دی گئی۔بک اسٹالز پر بچوں نے گورنرسندھ کو اپنے درمیان دیکھ کر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا اور گورنر سندھ کے ہمراہ سیلفیاں بھی لیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے مزید کہا کہ کراچی انٹر نیشنل بک فیئر ایک شاندار اقدام ہے۔ معاشرہ سے کتب بینی ختم ہوتی جارہی ہے ایسے میں کتاب کی اہمیت اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستانی قوم آج بھی کتابوں کے عشق میں مبتلا ہے،وفاقی وزیر تعلیم و فنی تربیت خالد مقبول
وفاقی وزیر تعلیم و فنی تربیت ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم آج بھی کتابوں کے عشق میں مبتلا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس قوم کی کی کتاب سے دوستی ختم ہوگئی لیکن یہاں شائقین کتب کی بڑی تعداد میں شرکت نے اسکی نفی کر دی ہے۔کراچی شہر آج بھی ادب، ثقافت، معاشرتی اور معاشی ترقی کا محور ہے، مجھے ہر بارعالمی کتب میلے میں بلا یا جاتا ہے اور میں ہر سال یہاں آتا ہوں کیونکہ کراچی تہذیب کی ترقی کا محور اور انجن ہے۔یہ با ت انہوں نے کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ انیسویں کراچی عالمی کتب میلے کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر کراچی انٹر نیشنل بک فیئر کے کنوینئر وقار متین ، ، ڈپٹی کنوینر نا صر حسین، ندیم مظہر، ایم۔ اقبال غازیانی، اقبال صالح محمد، کامران نورانی، اور سلیم عبدالحسین،سعد بن عزیزاور اصغر زیدی بھی موجود تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اور تحقیق کی بڑی اہمیت ہے۔ کتب خانے طلباء ، محققین، شعبہ درس وتدریس کے افراد اور دیگر لوگوں کو اپنے تعلیمی اور تحقیقی کاموں کے لیے ضروری وسائل فراہم کرتے ہیں، جو معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔کتب خانے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے، بات چیت کرنے، اور خیالات کا اشتراک کرنے کے لیے بھی ایک جگہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ سماجی رابطے اور کمیونٹی کی تعمیر کے لیے ضروری ہے، جو صحت مند اور خوشحال معاشروں کے لیے ضروری ہے۔ کتب خانے ثقافتی تفہیم اور رواداری کو فروغ دینے میں مدد کر سکتے ہیں جو اس قسم کے معاشرے میں ضروری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

5 تبصرے ”کراچی، بین الاقوامی کتب میلے کی ریکارڈ توڑ کامیابی

  1. بلکل درست فیصلہ ہے۔ بلکہ بہت دیر سے اٹھایا گیا قدم ہے۔ دنیا اس وقت بہت آگے نکل چکی ہے اور ہمارا نظام تعلیم بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہمیں جلد از جلد اپنے تعلیمی اداروں میں اصلاحات کرنا ہونگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں