آج کے جدید دور میں بھی لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم

آج کا دور جدید ٹیکنالوجی، سائنسی ترقی، اور ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے، جہاں دنیا تیزی سے ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ اس کے باوجود، افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں بچے بنیادی تعلیم جیسی بنیادی انسانی ضرورت سے محروم ہیں۔

تعلیم کا بنیادی حق
تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، ترقی پذیر ممالک میں غربت، وسائل کی کمی، اور تعلیمی نظام میں خرابی کی وجہ سے بچوں کی بڑی تعداد اسکول جانے سے محروم رہتی ہے۔

بچوں کی تعلیم میں رکاوٹیں
غربت:
بہت سے خاندان اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے ان سے محنت مزدوری کروانے پر مجبور ہیں تاکہ وہ گھر کے اخراجات پورے کر سکیں۔
تعلیمی سہولیات کی کمی:
دور دراز علاقوں میں اسکولوں کی عدم موجودگی یا ناقص تعلیمی نظام بچوں کو تعلیم کے مواقع سے محروم کر دیتا ہے۔
صنفی تفاوت:
خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کم ملتے ہیں، جس کی وجہ سماجی رکاوٹیں اور رسم و رواج ہیں۔
حکومتی اور غیر سرکاری اقدامات
بچوں کی تعلیم کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کئی حکومتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ اسکولوں کی تعمیر، مفت تعلیمی منصوبے، اور عوامی شعور کی مہمات ان اقدامات کا حصہ ہیں۔ تاہم، ان اقدامات کی کامیابی اب بھی محدود ہے اور لاکھوں بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں۔

تعلیم سے محرومی کے اثرات
تعلیم سے محروم بچے اپنی زندگی میں مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں اور غربت کا دائرہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ مسئلہ سماجی و اقتصادی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور معاشرے میں عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے۔

آگے کا راستہ
یہ وقت کی ضرورت ہے کہ حکومتیں، تعلیمی ادارے، اور عوام مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ تعلیم کے فروغ کے لیے زیادہ وسائل مختص کیے جائیں، تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جائے، اور صنفی برابری کو یقینی بنایا جائے۔

تعلیم ہی وہ روشنی ہے جو نہ صرف بچوں کی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ معاشرتی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ہمیں اس مقصد کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا تاکہ ہر بچے کو تعلیم کا حق مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے ”آج کے جدید دور میں بھی لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم

اپنا تبصرہ بھیجیں