(کنزیومر واچ نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی دسمبر 2024 کی مانیٹری پالیسی کے اجلاس میں بنیادی پالیسی ریٹ میں 200 بیسس پوائنٹس کمی کرتے ہوئے اسے 13 فیصد پر مقرر کر دیا ہے، جو مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے۔ یہ رواں سال کے دوران شرح سود میں مسلسل پانچویں کمی ہے، جس کے بعد اپریل 2022 کے بعد سے قرض لینے کی لاگت اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
یہ فیصلہ مہنگائی اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ کو متوازن رکھنے کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ نومبر 2024 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد پر آ گئی، جو اپریل 2018 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ یہ کمی خوراک کی قیمتوں میں مسلسل کمی اور نومبر 2023 میں گیس کے نرخوں میں اضافے کے اثرات کے کم ہونے کی وجہ سے ہوئی۔
تاہم، بنیادی مہنگائی 9.7 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رہی۔ پالیسی سازوں نے ملکی اقتصادی ترقی کے امکانات میں معمولی بہتری کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور مستحکم ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔