آئیے چلتے ہیں بنگال کی جادو نگری، بنگلہ دیش کی سیر کو جی ہاں بنگال کا جادو کالا جادو جو سر چڑھ کر بولتا ہے اور ایک حسین خطے کا جادو، حسن کا وہ جادو جہاں خلیج بنگال کی سرکش حسین سمندری لہروں کا جادو ہے دریائے میگنا کی مچلتی لہروں کا جادو، سندربن میں کھو جانے والے جوانی اور بڑھاپے میں بدل ڈالنے کا جادو، پدما ندی میں اچھلتی الہڑ مچھلیوں کی سحر انگیزی، شوخی کا جادو، رانگا ماٹی کی سرخ اور پیلی مٹی میں لپٹی حسینوں کی دھرتی کا جادو کہ جس کے سحر میں آپ ایسا ڈوب جائیں کہ اس سے پہلے ملاقات میں اسے آپ اپنا دل دے بیٹھیں۔ بنگال ٹائیگر جو کاکسسز بازار کے ساحل پر چہل قدمی کرتا ہے اس کی سرزمین۔۔۔بنگال کا جادو۔
چھ نومبر 2025 کو برلن سے دوحہ، قطر ایرویز کے ذریعے پہنچنے کے بعد ٹرانزٹ لاونج سے میں نے فیصل نواز کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی اسی ٹرانزٹ لاونج میں موجود ہیں اور پھر جلد ہی ہم ایک دوسرے کو نظر آگئے۔ ڈھاکہ آنے سے پہلے ہم دونوں نے اس طرح پروگرام طے کیا تھا کہ فیصل اوسلو سے اور میں برلن سے دوحہ پہنچ کر وہاں سے آگے ڈھاکہ جانے والی فلائٹ میں ایک ساتھ عازم سفر ہوں گے۔ صبح ساڑھے نو بجے کے قریب سات نومبر کو جب ہمارا طیارہ ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال ایئرپورٹ پہ اترا تو ہم دونوں کی خوشی دیدنی تھی ہم جذبات سے مغلوب ایئرپورٹ کی عمارت میں کشاں کشاں داخل ہو رہے تھے اور ایسے میں ہمیں ایئرپورٹ پہ ہونے والی جانچ پڑتال، پابندی ء ویزہ کسی چیز کا بھی کچھ خیال نہ رہا۔ نہ ہی ہم نے ٹھیک سے تمام کاغذات سمیٹے۔ بس وہاں کے افسران کو اپنا پاسپورٹ پیش کر دیا اور اس کوشش میں تھے کہ ہمیں جلد از جلد فارغ کر دیا جائے تاکہ ہم باہر جائیں مگر بنگلہ دیش کے امیگریشن کے افسران کی خندہ پیشانی کا میں یہاں ضرور ذکر کروں گا جنہوں نے ہمارے نامکمل کاغذات کو ہاتھ میں لے کر کہا کہ آپ مذید کاغذ دکھائیے۔ جب ہم کاغذات تلاش کررہے تھے تو افسر بولا۔ “دیکھیے آپ کے بیگ میں رکھا ہوگا۔ بیگ کسی جیب میں ڈھونڈئیے اور پھر ہم نے مطلوبہ کاغذات ان کو پیش کیے اور اس طریقے سے تمام مطلوبہ کاغذات مکمل جمع کروانے اور ویزہ اور مہر لگوانیکے بعد ہم لوگ ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر آئے۔ مسافروں سے زیادہ انہیں خوش آمدید کہنے والوں اور تماشبینوں کے بیچوں بیچ راستہ بناتے ہوئے ٹیکسی اسٹینڈ تک آئے۔ ارمان شمسی بھائی، ڈھاکہ شہر کے مشہور افسانہ نگار ہیں اور بنگلہ دیش کے شعر و ادب کے حلقے کی جانی پہچانی شخصیت ہیں انہوں نے کمال مہربانی سے اپنے نواسے اسامہ کو ایئرپورٹ بھیج دیا تھا اور ہمارا ان کے ساتھ واٹس ایپ پر رابطہ بھی ہو چکا تھا اور ان کی ہدایت کے مطابق ہم لوگ ان تک پہنچے اور پھر تھوڑی دیر بعد ہی ہم لوگ ارمان شمسی بھائی کے گھر کی طرف رواں دواں تھے۔ ڈھاکہ شہر کی نئی ہائی وے شہر کے مختلف علاقوں کو ملاتی صاف ستھری چوڑی شاہراہ ہے۔ جو شہر میں تیزی سے نقل و حمل کا بہترین ذریعہ ہے۔ 7 تاریخ کا پورا دن ہم لوگوں نے ارمان شمسی بھائی کے گھر کھاتے پیتے، گپے کرتے گزارا بھابھی بچوں سب کا یہی خیال تھا کہ ہمیں ہوٹل وغیرہ کی فضولیات میں پڑھنے کے بجائے یہی ان کے گھر قیام کرنا چاہیے اور ہمارے آرام کرنے کے لیے بستر لگا دیے گئے ہیں کمرے درست کر دیے گئے ہیں اور ہمیں یہاں کسی چیز کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ اتنی خلوص سے بھری دعوت کو ٹھکرانا گو ہمارے لیے کافی مشکل بات تھی لیکن ہمارا ہوٹل پہلے سے بک تھا ہم نے اس کے کرائے بھی ادا کر دیے تھے تو ایسی صورت میں ارمان بھائی کے ہاں قیام کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا۔ شام تک کھانے پینے کے دور چلنے کے بعد ہم لوگ اوبر ٹیکسی کے ذریعے ہوٹل پہنچ گئے۔
ہوٹل تک پہنچنے کا راستہ جتنا مشکل تھا ٹریفک کے اژدام میں پھنسی اوبر ٹیکسی میں جتنی کوفت ہوئی تھی۔ ہوٹل اتنا ہی خوبصورت اور آرام دہ تھا کہ راستے کی تمام تھکان یک دم رفو چکر ہو گئی۔ ڈھاکہ شہر میں دنیا کے تمام دیگر بڑے شہروں کی طرح ٹریفک کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور آپ کہیں بھی جائیں گوگل میپ کے ذریعے دکھائی جانے والے وقت کو دو سے ضرور ضرب دے لیں۔
دوسرے دن صبح ہیکل بھائی کے ساتھ یہ طے ہوا تھا کہ وہ ہمیں ہوٹل سے لے لیں گے اور پھر ہم لوگ ان کی آرام دہ ایئر کنڈیشن کار میں، گرمی کے درجہ حرارت اور گرد و آلودگی سے محفوظ ڈھاکہ شہر کے نئی سٹی ہائی وے پر دوڑتے پھر رہے تھے ہیکل بھائی ہمیں اپنے مخصوص لہجے میں بتا رہے تھے کہ ہم شہر کے کس حصے سے گزر رہے ہیں آس پاس کون سی اہم عمارتیں ہیں۔ اور پھر انہوں نے ڈرائیور سے یہ درخواست کی کہ وہ ہمیں شہر سے باہر لے چلے۔
ڈھاکہ کے گردنواح میں شہر کے بالکل برعکس نہایت خوبصورت سرسبز علاقے موجود ہیں جہاں شہر کی تام جام سے دور انسان نہایت سکون سے تازہ فضاؤں میں سانس لیتا لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے۔ پہلے ہم لوگ ڈھاکہ شہر کی ایک نئی خوبصورت بستی “پوربو چل” آئے۔ اور پھر ڈھاکہ سے تقریبا” 50 کلومیٹر دور ایسے ہی ایک مضافاتی علاقہ جس کا نام ‘ماوا’ کے ایک خوبصورت ریسٹورنٹ، بنام ‘لیو لاوئنج’ میں پہنچ کر آرام کیا۔ یہاں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا۔ مزیدار بنگلہ دیشی کھانے اور چائے کے دور کے بعد قلفی کا دور چلا۔ تصاویر لی گئیں اور پھر ہم لوگ چند کلومیٹر کی مذید مسافت کے بعد قریبی دریا کے کنارے آپہنچے۔ یہاں سامنے عظیم الشان دریائے پدما کا پانی ٹھاٹھیں ماررہاتھا۔ ایک کشتی والے سے مول تول ہوا اور اس شرط پر کہ وہ ہمیں دریا کی سیر کے دوران گرماگرم چائے بھی پلائے گا۔ معاملہ طے ہوگیا۔ کشتی پر سوار ہونا کچھ آسان کام نہیں تھا۔ چونکہ پہلے ڈھلان سے نیچے اتر کر ایک لکڑی کے تختے پر، جس کا ایک سرا زمین اور دوسرا کشتی سے جڑا تھا، پر چلتے ہوئے کشتی پر سوار ہوناتھا۔ فیصل نواز اور ہیکل بھائی کی ملاح اور میں نے مدد کی اور پھر میں بھی اس ڈگمگاتے پل کے ذریعے کشتی میں اتر گیا۔
کشتی میں لگے موٹر کو ملاح نے اس کی ڈوری کی مدد سے اسٹارٹ کیا اور گھر گھر کرتا انجن جاگ پڑا۔ ایک چھوٹا بچہ بھی ملاح کی مدد کو موجود تھا اور کمال مہارت سے کشتی کو آس پاس کھڑی کشتیوں کے بیچ سے نکلوا کر کھلے پانی میں آنے کے لیے مدد کرتا رہا۔ کشتی نے سامنے بنے کچھ فاصلے پر قائم پدما برج کا رخ لیا۔ طے یہ ہوا تھا کی کشتی دریائے پدما میں ایستادہ مختلف پلر جن پر برج کی بنیاد کھڑی تھی، میں سے پلر نمبر 2 تک جائے گی اور پھر واپسی کے لئے مڑ جائے گی۔ اور ٹھیک اسی پلان کے تحت کشتی کبھی تیزی سے اور کبھی سست رفتاری سے اپنا ہدف طے کرتی رہی۔ ہم لوگ چائے پیتے، مختلف مناظر کو کیمرے کی آنکھوں سے قید کرتے آگے بڑھتے رہے۔ سورج غروب ہونے جارہا تھا اور دور پانی میں، سطح آپ پر دوڑتی لکیریں بھلی لگ رہی تھیں۔۔۔پھر واپسی کاسفر طے ہونے لگا۔،۔کشتی سے اتر کر گاڑی میں سوار ہوئے اور پھر ہم لوگ شبانہ نوید کے گھر آگئے۔ ہیکل ہاشمی بھائی، شبانہ نوید اور رضوانہ ہاشمی تینوں بہن بھائی اپنے والد مرحوم نوشاد نوری ہی کی طرح بنگلہ دیش کی سب سے معتبر شخصیات ہیں۔ شعر و ادب کے شعبے میں تینوں ہی بہت فعال ہیں۔ شبانہ نوید نے نہ صرف پرتکلف عشائیہ کا انتظام کر رکھا تھا بلکہ بنگلہ دیش میں عصر حاضر کے اردو معروف شاعر شمیم زمانوی سے بھی میری ملاقات کو ممکن بنا دیا تھا۔ شمیم بھائی سے میری پہلی ملاقات سن 2020 میں رضوانہ ہاشمی کے گھر ہو چکی تھی۔ اس خوبصورت محفل کے اختتام پر ہم لوگوں کو ہیکل بھائی کے ڈرائیور نے ہوٹل پہنچادیا۔
اگلے دو دن ہمیں ڈھاکہ یونیورسٹی کے مختلف ہال میں اردو کانفرنس کے لیے گزارنے تھے۔
روداد اردو کانفرنس ڈھاکہ
دوسرے دن 9 نومبر 2025 کو ہم لوگ علی الصبح اٹھ گئے۔ ہوٹل میں ناشتے سے فارغ ہوکر ہم لوگ ڈھاکہ یونیورسٹی کو روانہ ہوگئے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ غلام مولا نے ہم لوگوں کے لیے اوبر ٹیکسی کا انتظام کر دیا تھا۔
کانفرنس ہال زیادہ دور نہ تھا۔ اس سے قبل 2020 میں میں ایسی ہی ایک کانفرنس میں شرکت کرچکا تھا۔ ڈھاکہ اور راجشاہی دونوں جامعات کے طلبہ سے میرا گہرا رابطہ تھا۔ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے میں ان کی مدد بھی کرتا رہتا ہوں۔ کانفرنس کے وسیع وعریض ہال میں تمام مندوبین جمع تھے۔” قومی بیداری میں اقبال اور نذرلاسلام کا کردار” کے عنوان سے منعقدہ ہونے والی اس کانفرنس میی کل 22 ممالک سے تشریف لانے والے تھے۔ جن میں پاکستان سے، فاطمہ حسن، طارق ہاشمی، شیما صدیقی، ہندوستان سے خواجہ محمد اکرام، ، جرمنی سے سرور غزالی، ناروے فیصل نواز، فن لینڈ سے ارشد فاروق، کینیڈا ولی عالم شاہین، نیپال ثاقب ہارونی، مصر عثمان عبدالناصر، تشریف لائے تھے۔ اس کے علاوہ کئی ایک ممالک سے مندوبین نے آن لائن شرکت کی، جیسے ریاست ہائے متحدہ امریکہ غوثیہ سلطانہ نوری، سوئیڈن سے حنا خراسانی، ہندوستان سے اسلم جمشید پوری
اقبال کی خودی اور نذرالاسلام کی بے خودی سے قومی بیداری کو جو جلا ملی اس پر تمام مندوبین نے اپنیاپنے مقالے پیش کیے کل 120 مقالے دو دن کے مختلف سیشن میں پیش ہوئے۔ اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد ہمہ وقت ان سیشن میں موجود رہی۔ کانفرنس کے دو دنوں کے تمام اجلاس میں اردو ادب کے طلباء کے علاوہ دیگر فیکلٹی کے طلباء رضاکارانہ طور پر ہمہ وقت چاک و چوبند مندوبین اور مہمانوں کی خدمت پر کمر بستہ نظر آئے۔ طلباء اور طالبات فرمائشیں کرکے دور دراز سے آئے اپنے ان ہیروز، اساتذہ کرام کے ساتھ تصاویر کھینچواتے رہے۔ اختتامی اجلاس کے بعد تقسیم اسناد اور نذرانہ پیش کرنے کی تقریب رکھی گئی۔
کانفرنس میں پڑھے گئے تمام مقالے ایک مجلہ کی صورت میں شائع بھی کیے جائیں گے۔ کھانے اور چائے کے وقفے کے دوران لذیذ بنگلہ دیشی کے علاوہ ہندوستانی پاکستانی کھانوں سے مہمانوں کی ضیافت کی جاتی رہی۔
پہلے دن یعنی 9 نومبر کے اجلاس کے اختتام پر سیالکوٹ سے تشریف لائیں پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ فردوس کی ضخیم کتاب بعنوان “ادب میں
رجائیت” جسے پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام نے بڑے احتمام سے شائع کیا ہے، کی تقریب رونمائی رکھی گئی تھی جس میں مصنفہ شگفتہ فردوس نے اپنی کتاب کو متعارف کروایا، اس کے علاوہ سرور غزالی، خواجہ محمد اکرام، فاطمہ حسن اور پروفیسر ڈاکٹر غلام ربانی نے کتاب کے مندرجات پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اسی شام چھ بجیایک مشاعرے کا اہتمام انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کے ممتاز شاعر شمیم زمانوی کو صدارت کی ذمہ داری سونپی گئی اور سید پور سے تشریف لائے شاعر ساگر بابو نینظامت کے فرائض انجام دیے۔ جن شعراء نے اپنے اپنے کلام سے مشاعرے کی تقریب کو فکر و سوچ کے در کھولتی، شعر وغزل کی رنگ باندھتی، محفل میں بدل دیا ان کے اسمائے گرامی ہیں۔ ہیکل ہاشمی، ساگر بابو، سلام اے حمید، طارق ہاشمی، فاطمہ حسن، شمیم زمانوی اور سرور غزالی،افضل منگلوری، ثاقب ہارونی، ماجد اقبال، سلام حمید، ولی عالم شاہین۔
بعد از مشاعرہ ایک موسیقی کا پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں غلام مولا اور دیگر گلو کاروں نے اپنی اپنی صداکاری کے جوہر دکھائے۔
راجشاہی کاسفر اور راجشاہی کے طلبہ سے خطاب
راجشاہی یونیورسٹی میں سیمینار
اردو کانفرنس کے اختتام کے دوسرے دن ڈھائی بجے ہماری ٹرین راجشاہی کے لیے روانہ ہونے والی تھی۔ ‘سلک سٹی’ نامی ٹرین ڈھاکہ کے کملا پور اسٹیشن سے تقریبا پانچ گھنٹے 20 منٹ میں راجشاہی پہنچ جاتی ہے۔ ڈھاکہ اور راجشاہی کے مابین چلنے والی ایک اور تیز رفتار ٹرین بھی ہے جس کا نام ‘دھوم کیتو ایکسپریس’ ہے۔ جو ساڑھے تین گھنٹے ہی منزل پہ پہنچا دیتی ہے۔ بنگلہ دیش کی سر زمین برہم پترا، میگنا اور دریا ئے گنگا کی آماجگاہ ہے اور یہاں دریاؤں اور ذیلی دریاؤں کے جال بچھے ہیں جس کی وجہ سے یہاں پر تیز رفتار ٹرین چلانے کے لیے ضروری تھا کہ ان دریاؤں پر ایسے پل بنائے جائیں جو ان دریاؤں کے اوپر سے گزرتے ہوئے ٹرین کو تیز رفتاری کے ساتھ ایک سے دوسرے مقام پر پہنچا سکیں۔ گزشتہ سالوں میں بنگلہ دیش کی حکومت ان پروجیکٹ پہ کام کرتی رہی ہے اور اس وقت بنگلہ دیش میں ایسے کئی بڑے اور طویل پل بنائے گئے ہیں جن پر ٹرینیں اور کاریں سفر کو برق رفتار اور آسان بناتی، اگے بڑھتی ہیں۔ ہماری ٹرین وقت مقرر پر کھلی اور کملا پور ریلوے اسٹیشن سے چل کر ایئرپورٹ اسٹیشن تک پہنچی اس کے علاوہ سفر کے دوران جن نمایاں اسٹیشنوں پر ہماری ٹرین نے توقف کیا، ان میں جوئے دیب پور، ٹنگائل، ابراہیم آباد، اْلّہاپاڑہ، چاٹمْوہَر، اور دوسرے اسٹیشن پر مختصر قیام کرتی ہوئی ایشورڈی بائی اسٹیشن رکتے ہوئے راجشاہی صرف 6 گھنٹے کی مسافت کے بعد پہنچ گئی دوران سفر، ٹرین کے دونوں طرف سرسبز و شاداب دھان لگے کھیت، مچھلی پکڑنے کے مخصوص جال والے تالاب ہماری نگاہوں کو خیرہ کرتے رہے۔ راجشاہی بنگلہ دیش کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ راجشاہی شہر نہ صرف ایک سرسبز و شاداب شہر ہے جس کی نسبت سے’گرین سٹی’ کہلاتا ہے بلکہ اپنے سلک کپڑے کی پیداوار کی وجہ سے سلک سٹی اور بے شمار یونیورسٹی اور فنی کالجز کی موجودگی کی وجہ سے ‘علم دوست’ یا ‘طلبہ کا شہر’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
شعبہ اردو کے اٹھ طالب علم جن کے نام مزمل حق المامن، تنزل رشید، فردوس عالم، عالم رحمان، خیر الاسلام، اور ایک پاکستانی طالب علم محمد
طاہر ہمارے ساتھ ڈھاکہ سے ہم سفر تھے یہ طلبہ ہمہ وقت اپنے استاد محترم سمیع الاسلام صاحب کے ساتھ ساتھ اپنے دونوں مہمانوں فیصل نواز اور سرور غزالی کی بھی خدمت پر کمر بستہ تھے۔ راستے میں چائے اور دیگر مشروبات اور ناشتے سے ضیافت کا انتظام بھی تھا ایک طالب علم، مزمل حق کے والد محترم ابراہیم آباد نامی اسٹیشن پر ہم سے ملنے آئے اور ناشتے کا سامان دے گئے یہ چاول کے لذیذ پیٹھے تھے جن کا شمار بنگلہ دیش کے خصوصی کھانوں میں ہوتا ہے۔
راجشاہی یونیورسٹی کا شعبہ اردو بہت فعال، طلبہ کے مسائل حل کرنے میں ہمہ وقت مصروف اور شعبہ اردو کو دنیا کے تمام دوسری جامعات کے شعبے اردو سے جوڑنے میں مصروف کار ہے۔ راج شاہی یونیورسٹی کے شعبے اردو کے صدر جناب پروفیسر ڈاکٹر شہید الاسلام صاحب اور پروفیسر ڈاکٹر سمیع الاسلام صاحب چند طلبہ کے ساتھ ڈھاکہ تشریف لائے تھے اور بنفس نفیس خود ٹھاکہ میں منعقدہ اردو کانفرنس میں شریک رہے تھے۔برلن سے ڈھاکہ کے لیے روانگی سے قبل ہی سمیع الاسلام صاحب نے راجشاہی یونیورسٹی میں ایک سیمینار منعقد کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کا عنوان تھا ” عالمی سطح پر اردو : نئی جست اور امکانات”۔ سیمینار کی صدارت کر رہے تھے شعبہ اردو راجشاہی کے صدر جناب شہید الاسلام مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک تھے شعبے اردو راجشاہی یونیورسٹی کے سینیئر پروفیسر شمیم خان، ناروے سے تشریف لائے جناب فیصل نواز چوہری سیمینار کے دوسرے شرکاء میں شامل تھے شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر نصیر الدین، پروفیسر ڈاکٹر ام کلثوم، نظامت کار کے فرائض انجام دے رہے تھے شعبہ اردو راجشاہی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سمیع الاسلام جبکہ اس سیمینار کی کلیدی لیکچر دینے والے تھے سرور غزالی۔ کانفرنس میں تمام اساتذہ کرام نے طلبہ کو علم کی اہمیت اور دیگر زبانوں کو سیکھنے کی ضرورت جیسے موضوعات پر لیکچر دیا۔ اپنے کلیدی خطبے میں سرور غزالی نے ادب شناسی، ادب کی تعلیم اور سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ زبان و ادب اور لسانی ترقی کی اہمیت کو واضح کیا اور شعبہ ادب کے طلباء کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل طے کرنے کے سلسلے میں مفید مشورے دیے۔ انہوں نے سوالات اور جوابات کے سلسلے کو بڑھاتے ہوئے طلبہ سے ان کے سوالات سنے اور انہیں سنجیدگی اور خندہ پیشانی سے تمام جوابات مہیا کیے اس طریقے سے اس سیمینار اپنے اختتام کو۔ پہنچا۔
اسی شام راجشاہی یونیورسٹی کے شعبہ فنون لطیفہ نے مہمان خصوصی سرور غزالی اور فیصل نواز چوہری کے اعزاز میں ایک موسیقی کا پروگرام بعنوان “شام غزل” ترتیب دیا اور شعبہ فنون لطیفہ کے پروفیسر عالمگیر پرویز شمن نے اپنی خوبصورت آواز میں میر تقی میر، غالب، ذوق اور احمد فراز کی غزلیں سنائیں ان کا ساتھ دے رہے تھے طبلے پر سنزئی کمار۔
ڈھاکہ کے اہم مقامات
آج 15 نومبر 2024 کو ڈھاکہ شہر کی سیر
آج ہم لوگ نے صبح ایک کار کرائے پر لی جو دن بھر کے لیے مختص کی گئی تھی اور پھر ہم لوگ نکلے اور سب سے پہلے نواب پور روڈ پر آئے اور وہاں سے بونوگرام روڈ سے ہوتے ہوئے واری ڈھاکہ میں جوگی نگر پہنچے۔ 89 جوگی نگر، پی او واری ڈھاکہ، میرے نانا اور بڑے ماموں کا
پتہ تھا۔ جہاں یہ گھر تھا یہ ایک قدیم پرانا محلہ ہے اور یہاں کئی ایک پرانی عمارتیں بھی ہیں یہاں پر ایک مندر بھی دیکھا جس کے بارے میں مجھے اتنا کچھ ایسا یاد نہیں ہے۔ ٹھیٹھری بازار میں نانا کی انگلی پکڑے اس بچے کو نگاہیں تلاش کرتی رہیں۔ گو کہ گلیاں ویسی ہی تھیں۔ مگر قدیم عمارتیں خاصی مخدوش ہو چکی ہیں۔
یہاں سے نکل کر دھان منڈی آئے اور وہاں سے ہیکل بھائی کو لیا۔ ہیکل بھائی ہمارے پہلے دن سے ہی ٹورسٹ گائیڈ بن چکے تھے ان کی کمال مہربانی شفقت اور محبت تھی کہ انہوں نے ہمیں ڈھاکہ شہر اور اس کے مضافات کو دکھانے کی ذمہ داری بغیر ہمارے کہے لے لی تھی۔ آج ہم نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ ہمارے ڈھاکہ شہر کے اندر کے چیدہ چیدہ مقامات دکھائیں گے اور انہوں نے اس کا آغاز ڈھاکہ کے پارلیمنٹ سے کیا۔ ہم لوگ سب سے پہلے پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے گئے وہاں کچھ تصاویریں بنائی گئی پھر انہوں نے ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ ہمیں پارلیمنٹ کی پیچھے اس سڑک پر لے جائے جو پارلیمنٹ بلڈنگ اور اس کے ساتھ بنی چھوٹی نہر کے درمیان دوڑتی ہے۔ ہیکل بھائی نے ہمیں بتایا کہ نہر ایک چاند کی صورت میں ہے اور پارلیمنٹ بلڈنگ اوپر سے بالکل ایک ستارے کی مانند نظر آتی ہے گویا یہ چاند تارا ہے۔ اس چھوٹی نہر کو عبور کرتے ہوئے آگے جا کر ہم لوگوں نے ضیاء الرحمن، سابق صدر بنگلہ دیش کا مزار دیکھا اور پھر وہاں سے ہم لوگ کار کے ذریعے چل پڑے اور شہید مینار جس میں خواجہ ناظم الدین، سہروردی اور شیر بنگال اے کے فضل حق تینوں کے مزارات ہیں پہنچے۔ ہم نے مزارات دیکھے۔ اس کے ٹھیک پیچھے ایک قدیم زمانے کی مسجد اور درگاہ بھی تھی اور میری خواہش پر، ہم نے اس قدیم زمانے کی بنی درگاہ اور مسجد کی بھی سیر کی مسجد انتہائی چھوٹی سی تین صفوں کی مسجد جس کا بڑا سا صحن تھا جمعہ کی نماز کی تیاری ہو رہی تھی مسجد اور درگاہ کی عمارت مینار اور گنبد اور اس کی تمام دیواریں قدیم تاریخی ورثہ(تعمیرسن1679) کے طور پر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھیں۔ شہید مینار سے نکل کر ہم لوگ پھر ڈھاکہ یونیورسٹی کے فیکلٹی آف سائنس میں آئے۔ یہ شعبہ برطانوی دور کی یاد کی عمارت کر زن ہال، ایک انتہائی نادر عمارت میں قائم ہے۔ یونیورسٹی کے احاطے میں لگے مختلف پھول پودے درخت انتہائی خوبصورتی سے قدیم اور جدید کا امتزاج پیش کر رہے تھے۔ فیکلٹی سے نکل کر ہم لوگ قریبی طلبہ طالبات کے ہاسٹل جن میں طالبات کا ہاسٹل اے کے فضل الحق ہاسٹل دیکھا۔ راجو میموریل پارک دیکھا اور پھر ہم لوگ اس پارک میں پہنچے جہاں مختلف مجسمے جن میں نذر الاسلام، فضل الحق کے اور ان سب کے درمیان میں بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کا مجسمہ نصب تھا اس پارک میں پتھروں سے بنے ہوئے مختلف مجسمے لگے ہوئے تھے۔
یہاں سے نکل کر ہم لوگ بیت المکرم پہنچے۔ گاڑی پارک کی گئی اور ہم لوگ بیت المکرم مسجد کے بڑے سے صحن میں آپہنچے۔ مسجد کے اندرونی حصے کو دیکھا یہاں بھی جمعہ کی نماز کی تیاری زور شور سے ہورہی تھی اور پھر ہیکل بھائی ہم لوگوں کو لیکر مسجد کے مین دروازے کی طرف آگئے اور وہاں سے جو کہ منظر میں نے دیکھا اس پر مجھے خود یقین نہ آیا، داخلے کے مین دروازہ کے سامنے عریض صحن میں کھڑے ہو کر اگر آپ مسجد پر نگاہ ڈالیں تو سفید رنگ کی ایک چوکور عمارت نظر آتی ہے، جو کہ خانہ کعبہ سے مشابہ ہے سفید رنگ کی یہ چوکور عمارت اپنی بناوٹ ہیت میں بالکل خانہ کعبہ کی نقل ہے اور اس کے اوپری حصے پر تین سفید کی بجائے سیاہ پٹی بھی ویسے ہی ہے جیسے خانہ کعبہ پر دکھائی دیتی ہے یہ مسجد، مسجد بیت المکرم اس لحاظ سے میرے لیے قطعی مختلف اور یونیک تھی کہ تمام دنیا کی مساجد جو گنبد مینار کے ساتھ نظر آتی ہیں تو ایک مخصوص طرز تعمیر
کا، یعنی اسلامی تعمیرات کا پتہ دیتی ہیں لیکن مسجد بیت المکرم کی یہ بات بہت خاص ہے اس پہ نگاہ پڑتے ہی خانہ کعبہ کی تصویر نگاہ کے سامنے پھر جاتی ہے۔ بڑے سے صحن میں کھڑے ہو کر ہم لوگوں نے یہاں بھی تصاویر بنائی اور پھر یہاں جمعہ پڑھ کر آگے چل پڑے۔






