ہیلووین: امریکا میں ایک قدیم تہوار کا جدید روپ…..حمیرا گل تشنہ

ہیلووین امریکا کا وہ منفرد تہوار ہے جس میں پراسراریت، تخیل اور تفریح کا انوکھا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہر سال 31 اکتوبر کی شام کو امریکہ بھر کے شہر و دیہات چمکتے ہوئے کدو کے قندیلوں، بھوتوں کے بھیس میں ملبوس بچوں اور عجیب و غریب سجاوٹ سے جگمگا اٹھتے ہیں ( جس کے نشانات نومبر کے آخر تک دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں )۔ یہ تہوار اپنی موجودہ شکل میں تو مکمل طور پر امریکی ہے، لیکن اس کی جڑیں یورپ کی قدیم تاریخ میں پیوست ہیں۔ ہیلووین کی کہانی درحقیقت وقت کے ساتھ ساتھ ایک تہوار کے سفر کی دلچسپ داستان ہے جو قدیم مذہبی عقائد سے نکل کر آج کی ثقافتی دنیا کا حصہ بن گیا ہے۔
ہیلووین کی تاریخ دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اس کی ابتدا موجودہ آئرلینڈ، برطانیہ اور شمالی فرانس میں آباد سیلٹک قوم کے قدیم تہوار “ساوین” (Samhain) سے ہوئی۔ سیلٹک لوگ یکم نومبر کو نئے سال کا آغاز مانتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ پرانے سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز کی درمیانی شب، یعنی 31 اکتوبر کی شام، دنیا اور عالم ارواح کے درمیان کی حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اس رات مرے ہوئے لوگوں کی روحیں زمین پر واپس آ سکتی ہیں۔ سیلٹک لوگ اس رات آگ جلاتے، جانوروں کی قربانیاں دیتے اور ان جانوروں کی کھالیں سر پر پہن کر ان روحوں کو خوش کرنے یا ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں
جب عیسائی مذہب یورپ میں پھیلا، تو کلیسیا نے مقامی تہذیبوں کے تہواروں کو عیسائی رنگ دے کر انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ ساتویں صدی عیسوی میں پوپ بونیفاس چہارم نے یکم نومبر کو “تمام مقدسین کا دن” (All Saints’ Day) قرار دیا، جسے “آل ہالوز ایو” (All Hallows’ Eve) بھی کہا جاتا تھا۔ یہی لفظ وقت گزرنے کے ساتھ مختصر ہو کر “ہیلووین” (Halloween) بن گیا۔ اس طرح ایک قدیم سیلٹک تہوار عیسائی جامہ پہن کر یورپ میں منایا جانے لگا۔
ہیلووین کو امریکا لانے کا سہرا یورپ سے آنے والے تارکین وطن کو جاتا ہے۔ انیسویں صدی میں آئرلینڈ میں آنے والے قحط (آئرش پوٹیٹو فیمین) کے دوران لاکھوں آئرش لوگ امریکا ہجرت کر گئے۔ اپنے ساتھ وہ اپنی ثقافت، روایات اور تہوار بھی لے کر آئے، جن میں ہیلووین بھی شامل تھا۔ ابتدائی دور میں امریکا میں ہیلووین کی تقریبات محدود تھیں اور زیادہ تر آئرش آبادی تک ہی مرتکز تھیں۔
بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ہیلووین نے امریکا میں ایک قومی تہوار کی شکل اختیار کرنا شروع کر دی۔ امریکی معاشرے نے ہیلووین کو اپنے طور پر ڈھال لیا اور اس میں کئی نئی روایات کا اضافہ کیا۔ اس کی مقبولیت میں اضافے کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
پہلا شہری کاری: جیسے جیسے لوگ دیہات سے شہروں کی طرف منتقل ہوئے، ہیلووین نے برادری کے جذبے کو فروغ دینے میں مدد کی۔ پڑوسی ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے، بچے ایک دوسرے کے ساتھ “ٹِرک یا ٹِریٹ” کے لیے نکلتے، جس سے سماجی تعلقات استوار ہوتے۔

دوسرا کاروباری مفاد: بیسویں صدی کے وسط تک کاروباری اداروں نے ہیلووین کی تجارتی صلاحیت کو پہچان لیا۔ کینڈی بنانے والی کمپنیوں، کاسٹیوم کے کاروباریوں اور سجاوٹ کے سامان بنانے والوں نے ہیلووین کو ایک بڑے کاروباری موقع کے طور پر دیکھا اور اسے فروغ دینا شروع کیا۔
تیسرا میڈیا کا کردار: فلموں، ٹیلی ویڑن اور بعد میں انٹرنیٹ نے ہیلووین کو پورے امریکا میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہیلووین کے موضوع پر بننے والی فلموں، ٹی وی شوز اور کارٹونز نے اس تہوار کو امریکی ثقافت کا ایک لازمی حصہ بنا دیا۔
آج امریکا میں ہیلووین منانے کے مقاصد کافی وسیع اور متنوع ہیں۔ یہ تہوار اب صرف بھوت پریت تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے کئی سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی پہلو ہیں۔
تفریح اور تخلیقی اظہار: ہیلووین امریکیوں کے لیے تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بہترین موقع ہے۔ لوگ نہ صرف اپنے لیے منفرد اور تخلیقی کاسٹیوم تیار کرتے ہیں، بلکہ اپنے گھروں کو بھی دیدہ زیب طریقے سے سجاتے ہیں۔ یہ تہوار بڑوں اور بچوں دونوں کے لیے اپنی تخیلاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
برادری اور سماجی رابطے: “ٹِرک یا ٹِریٹ” کی رسم درحقیقت پڑوسیوں کے درمیان میل جول اور سماجی رابطوں کو مضبوط بناتی ہے۔ بچے جب اپنے علاقے کے گھروں پر جاتے ہیں، تو نہ صرف انہیں مٹھائیاں ملتی ہیں، بلکہ وہ اپنی برادری سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ بڑے بھی ہیلووین پارٹیوں کے ذریعے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور سماجی تعلقات استوار کرتے ہیں۔
خوف پر قابو پانے کا ذریعہ: نفسیاتی نقطہ نظر سے ہیلووین لوگوں کو ایک محفوظ اور کنٹرولڈ ماحول میں خوف کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ڈراؤنی فلمیں دیکھنا، ہنستے کھیلتے ہوئے خوفناک کاسٹیوم پہننا، اور خوفناک کہانیاں سنانا درحقیقت ایک طرح سے خوف پر قابو پانے کی مشق ہے۔ یہ لوگوں کو ان چیزوں کا سامنا کرنا سکھاتا ہے جو عام زندگی میں انہیں ڈراتی ہیں۔
تجارتی اہمیت: ہیلووین امریکا میں ایک بڑا کاروباری تہوار بن چکا ہے۔ ہر سال امریکی کینڈی، کاسٹیوم، سجاوٹ کے سامان، ہیلووین کارڈز اور دیگر مصنوعات پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ یہ تہوار ریٹیل اور تفریحی صنعتوں کے لیے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔
ثقافتی یکجہتی: ہیلووین ایک ایسا تہوار ہے جسے امریکا کے تمام نسلی اور مذہبی گروہ مناتے ہیں۔ اگرچہ کچھ مذہبی گروہوں کی جانب سے اس پر اعتراضات ہوتے ہیں، لیکن زیادہ تر امریکی اسے ایک سیکولر ثقافتی تقریب کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ تہوار امریکی معاشرے کے مختلف گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا کام کرتا ہے۔
وقت کے ساتھ ہیلووین میں کئی نئی روایات کا اضافہ ہوا ہے۔ اب صرف “ٹِرک یا ٹِریٹ” تک محدود نہیں رہا۔ اسکول اور کمیونٹی سینٹرز ہیلووین پارٹیوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں ہیلووین پریڈ منعقد ہوتے ہیں۔ ہاؤسٹڈ اٹریکشنز (خوفناک تفریح گاہیں) لوگوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہیلووین کے کاسٹیوم اور سجاوٹ کی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں، جس سے اس تہوار کی مقبولیت میں اور اضافہ ہوتا ہے۔
ہیلووین کو لے کر امریکی معاشرے میں کچھ تنازعات بھی موجود ہیں۔ کچھ مذہبی گروہ اسے شیطانی قرار دیتے ہیں اور اس میں حصہ لینے سے گریز کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی زیادہ تجارتی ہونے پر تنقید کرتے ہیں۔ حفاظتی خدشات بھی ایک اہم مسئلہ ہیں، جس کی وجہ سے اب بہت سے بچے شاپنگ مالز یا منظم اجتماعات میں “ٹِرک یا ٹِریٹ” کرتے ہیں۔
ہیلووین درحقیقت ثقافتی ارتقا کی ایک زندہ مثال ہے۔ یہ تہوار اپنی پرانی جڑوں سے جڑا ہوا ہے، لیکن اس نے وقت کے ساتھ خود کو ڈھال لیا ہے۔ آج ہیلووین امریکی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے جو تفریح، تخلیق، سماجی رابطے اور کاروبار کا ایک انوکھا مرکب پیش کرتا ہے۔ یہ تہوار امریکی معاشرے کی انفرادیت، لچک اور ثقافتی تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔ ہیلووین کی کہانی درحقیقت امریکا کی ہی کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں پرانی روایات نے نئے ماحول میں اپنی جگہ بنائی اور ایک نئی شناخت تشکیل دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں