چین۔ سورج کے دیس میں…..ارم زہرا

میں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ سورج محض روشنی دیتا ہے، مگر چین آ کر جانا کہ یہ روشنی زندگی بھی بْنتی ہے۔ آج صبح جب میں نے یونان کے پہاڑوں کی سمت سفر شروع کیا تو گاڑی کی کھڑکی سے باہر پھیلا ہوا سبز منظر دل میں ایک عجیب سی طمانیت بھر رہا تھا۔ راستے کے دونوں طرف چائے کے باغات تھے، پہاڑی ڈھلانوں پر بادلوں کی لکیریں رینگتی تھیں، اور کبھی کبھار چھوٹی ندیاں راستہ کاٹتی ہوئی درختوں کے سائے میں کھو جاتیں۔ مجھے یوں لگا جیسے فطرت اور انسان کے درمیان کوئی پرانی صلح دوبارہ قائم ہو رہی ہو۔
چار برس ہونے کو آئے کہ میں بیجنگ میں مقیم ہوں۔ ابتدا میں یہ شہر میرے لیے صرف ایک جدید اور مصروف دارالحکومت تھا لوہے، شیشے اور روشنیوں کا جنگل۔ مگر وقت کے ساتھ ایک نیا شعور جاگا یہ زمین صرف ہمارا مسکن نہیں، ایک زندہ وجود ہے، اور ہم سب اس کی سانسوں کا حصہ ہیں۔ ایک روز میں نے پڑھا کہ چین دنیا کے ساٹھ فیصد شمسی پینل تیار کرتا ہے، تو یقین نہیں آیا۔ حیرت ہوئی کہ اتنی تیز رفتار ترقی کے باوجود یہ قوم قدرت کے ساتھ اپنا رشتہ کیسے نبھا رہی ہے؟
یونان کی راجدھانی کْنمنگ پہنچتے ہی احساس ہوا کہ یہاں ہوا مختلف ہے۔ صاف، نمی بھری، اور ہلکی سی خوشبو لیے ہوئے۔ لوگ مسکراتے ہوئے ملتے ہیں، درخت اتنے گھنے ہیں کہ سڑک پر دھوپ چھن کر آتی ہے۔ میں ایک مقامی سائنسدان، ڈاکٹر لین کے ساتھ شمسی توانائی کے فارم کی طرف روانہ ہوئی۔ راستے میں وہ بتا رہے تھے کہ یہ پہاڑی علاقہ قدرتی روشنی سے مالامال ہے، اور یہاں کے لوگ صدیوں سے سورج کو زندگی کی علامت مانتے آئے ہیں۔ اب وہی سورج بجلی بن رہا ہے، گھروں کو روشن کر رہا ہے، اور دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کی جگہ لے رہا ہے۔
جب ہم ایک بلندی پر پہنچے تو منظر میرے لیے کسی خواب سے کم نہ تھا۔ نیچے پوری وادی میں قطار در قطار شمسی پینل لگے تھے، چمکتے ہوئے، منظم، جیسے کسی آرٹسٹ نے زمین پر آئینوں کی پینٹنگ بنا دی ہو۔ ہر پینل سورج کی سمت جھکا ہوا تھا، جیسے دعا کر رہا ہو کہ روشنی کبھی کم نہ ہو۔ میں نے لمحہ بھر کے لیے آنکھیں بند کیں، اور یوں محسوس ہوا جیسے زمین اپنے زخم بھر رہی ہو۔
میرے ذہن میں پاکستان کے وہ دیہات گھومنے لگے جہاں اب بھی شام ڈھلتے ہی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔ کاش میرے وطن کے پہاڑ بھی سورج سے یوں رشتہ جوڑ لیں۔ ہم نے ہمیشہ روشنی مانگی ہے، کبھی سورج کو اپنا ساتھی کیوں نہ بنایا؟
ڈاکٹر لین مسکرا کر بولے، ‘‘ہم سورج کو قابو نہیں کرتے، ہم بس اس کی روشنی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔’’ ان کی بات نے میرے اندر ایک نیا خیال جگا دیا۔ علم کا اصل مقصد شاید یہی ہے۔ فطرت پر غلبہ نہیں، بلکہ اس سے ہم آہنگی۔
اس شام یونان کی فضا میں جب سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپنے لگا تو شمسی پینلوں پر آخری سنہری کرنیں پڑ رہی تھیں۔ ایسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ روشنی ماند نہیں ہو رہی تھی، بلکہ لگتا تھا کہ زمین نے سورج کو اپنے دل میں سمیٹ لیا ہے۔
اگلی صبح ہوا میں ہلکی سی نمی اور چائے کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ میں ہوٹل کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ سامنے پہاڑوں کی ڈھلان پر بادل
ٹھہرے تھے، اور سورج ان کے پیچھے سے جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یونان کا موسم مجھے مری کی صبحوں کی یاد دلاتا ہے، مگر یہاں کے لوگ دن کا آغاز ایک خاص نظم سے کرتے ہیں، جیسے ہر کام سورج کی گردش کے تابع ہو۔
چین آج صرف ایک ملک نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں مستقبل کے خواب تراشے جا رہے ہیں۔ یہاں علم کا ہر دائرہ چاہے وہ توانائی ہو، جینیات، فلسفہ یا مصنوعی ذہانت اپنے اندر انسانیت کی کسی نئی جہت کو کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سبز توانائی کے میدان میں چین نے دنیا کی قیادت سنبھال لی ہے۔ 2025 تک دنیا کے تقریباً پینسٹھ فی صد شمسی پینل چین کی زمینوں سے نکل رہے ہیں۔ سات سو گیگاواٹ سے زیادہ شمسی طاقت پیدا کی جا رہی ہے، اور ہوا سے بجلی بنانے کے منصوبے چار سو ساٹھ گیگاواٹ تک پہنچ چکے ہیں۔ شمسی پینل اب پہاڑوں، صحراؤں اور چھتوں پر چمکتے ہیں جیسے زمین نے خود روشنی اوڑھ لی ہو
ڈاکٹر لین نے مجھے ایک مقامی گاؤں میں لے جانے کا وعدہ کیا تھا جہاں کسان اپنی زمینوں میں شمسی پینل لگا کر بجلی پیدا کرتے ہیں۔ گاڑی کچی سڑکوں سے گزرتی ہوئی ایک چھوٹی بستی میں پہنچی۔ گھروں کی چھتوں پر چمکتے ہوئے پینل ایسے لگ رہے تھے جیسے نیلی ٹائلوں کا کوئی خوبصورت گنبد بن گیا ہو۔ وہاں ایک عمر رسیدہ کسان، ‘‘چن لی’’، ہماری منتظر تھی۔ اس کے ہاتھوں میں مٹی کی خوشبو رچی تھی اور چہرے پر وہ اعتماد جو محنت سے جنم لیتا ہے۔
چن لی نے بتایا کہ چند سال پہلے تک ان کے گاؤں میں بجلی نہیں تھی۔ شام ہوتے ہی اندھیرا چھا جاتا، بچے موم بتیوں کے سائے میں پڑھتے اور عورتیں لکڑی کے دھوئیں میں کھانا پکاتیں۔ پھر حکومت کے تعاون سے شمسی پینل لگے، اور اب نہ صرف گھروں میں روشنی ہے بلکہ وہ اضافی بجلی بیچ کر آمدنی بھی حاصل کرتے ہیں۔ وہ مسکرا کر بولی
‘‘ہم نے سورج سے دوستی کر لی ہے، اب رات بھی اجالے میں گزرتی ہے۔’’
میں نے سوچا، شاید یہی سبز توانائی کا اصل مفہوم ہے۔ صرف ماحول نہیں بچانا، بلکہ انسان کی زندگی میں امید جگانا۔
میں نے چن لی کے بیٹے کو دیکھا جو سکول سے لوٹ کر موبائل پر کچھ سیکھ رہا تھا۔ یہ وہ نسل ہے جو شمسی روشنی میں پیدا ہوئی ہے، جسے اندھیرے کا مطلب شاید کبھی سمجھ نہ آئے۔
ڈاکٹر لین نے بتایا کہ یونان میں اب ہزاروں دیہات خود کفیل ہو چکے ہیں۔ حکومت نے شمسی توانائی کو صرف بجلی کا ذریعہ نہیں بلکہ ‘‘ماحولیاتی تہذیب’’ کا حصہ بنا دیا ہے۔
میں نے پوچھا، ‘‘ماحولیاتی تہذیب؟’’
انہوں نے بتایا ‘‘ہاں، ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی تبھی ممکن ہے جب انسان، فطرت، اور ٹیکنالوجی ایک ہی دائرے میں چلیں۔ اگر ان میں توازن بگڑ جائے تو زمین اپنی خوبصورتی کھو دیتی ہے۔’’
ان کی بات سنتے ہوئے مجھے اپنے وطن کے وہ دریائی علاقے یاد آئے جہاں سورج کی روشنی بے دریغ پڑتی ہے مگر بجلی کا نام نہیں۔ میں نے دل ہی دل میں خواہش کی کہ کبھی ہمارے نوجوان بھی فطرت کو دشمن نہیں، دوست سمجھیں۔ شاید تب ہمارے دیہاتوں میں بھی وہی روشنی اترے جو یونان کے ان پہاڑوں پر چھائی ہوئی ہے۔
گاؤں سے واپسی پر میں نے ایک چھوٹی لڑکی کو دیکھا جو سورج کی کرنوں سے کھیل رہی تھی۔ وہ ہاتھوں سے سایہ بناتی اور پھر قہقہہ لگاتی۔ میں مسکرا دی۔ یہی روشنی کی اصل طاقت ہے، کہ یہ خوشی پیدا کرتی ہے، زندگی میں رقص بھر دیتی ہے۔
واپسی پر
بیجنگ کی خنک ہوا میں اترتے ہوئے مجھے یونان کے سورج کی حرارت یاد آئی۔ مگر یہاں روشنی کسی اور روپ میں تھی۔ شیشے کی عمارتوں، کمپیوٹر اسکرینوں اور سفید لیبارٹری کوٹوں میں لپٹی ہوئی۔ میں آج بیجنگ جینوم انسٹیٹیوٹ آئی تھی، جہاں انسان کے جینز، یعنی زندگی کے خفیہ کوڈ، پڑھے اور سمجھے جاتے ہیں۔
یہاں ہر چیز خاموش تھی، مگر اس خاموشی میں ایک عجیب سی روانی تھی، جیسے خود زندگی کسی پوشیدہ زبان میں بات کر رہی ہو۔
استقبالیہ پر میرا خیر مقدم ایک چینی خاتون سائنسدان نے کیا، جس کا نام ‘‘ڈاکٹر ژاؤ’’ تھا۔ ان کی آنکھوں میں وہی شوق جھلک رہا تھا جو کسی مصور کے ہاتھوں میں رنگ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے۔ ہم ایک بڑے ہال میں داخل ہوئے جہاں سینکڑوں مشینیں دھیمی آواز میں چل رہی تھیں۔ اسکرینوں پر انسانی ڈی این اے کے طویل دھاگے لہروں کی طرح دوڑ رہے تھے۔ رنگوں کی ایک نظم، جو کہیں موت، کہیں زندگی، اور کہیں امید کے اشارے دے رہی تھی۔
میں نے ڈاکٹرژاؤ سے پوچھا، ‘‘آپ روزانہ ان لکیروں کو دیکھتی ہیں، کیسا لگتا ہے؟’’
وہ مسکرا کر بولیں، ‘‘یوں لگتا ہے جیسے خدا نے اپنی صناعی کا مسودہ ہمارے سامنے رکھ دیا ہو، اور ہم اس کے حروف پہچاننے کی کوشش کر رہے ہوں۔’’
ان کی بات سنتے ہی میرے دل میں ایک عجب سکون اتر گیا۔ میں نے سوچا، شاید علم کا سب سے مقدس لمحہ وہی ہے جب انسان خالق کے رازوں کو جاننے کی جستجو میں عاجز ہو جاتا ہے۔
ایک نوجوان ریسرچر نے مجھے بتایا کہ یہاں کینسر اور الزائمر پر نئی دوائیں تیار ہو رہی ہیں، اور بعض مریضوں کے جینز کو درست کر کے انہیں نئی زندگی دی جا رہی ہے۔ اس نے کہا، ‘‘ہم بیماری کو مٹانے نہیں، بلکہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب سمجھ آ جائے تو علاج خود بخود جنم لیتا ہے۔’’
یہ الفاظ میرے ذہن میں دیر تک گونجتے رہے۔ سمجھ علاج بن جاتی ہے۔
لیبارٹری کے ایک کونے میں ایک شیشے کے پیچھے چند جین انجینئرز کسی نایاب بیماری پر تجربہ کر رہے تھے۔ میں نے سکرین پر ایک خلیے کو تقسیم ہوتے دیکھا۔ جیسے کوئی ننھا چراغ جل رہا ہو۔ لمحہ بھر کو یوں لگا جیسے میں کائنات کے اندر جھانک رہی ہوں، جہاں خدا نے زندگی کا پہلا نقشہ کھینچا تھا۔
میں نے سوچا

یونان کے پہاڑوں میں سورج روشنی دیتا تھا، یہاں علم خود روشنی بن گیا ہے۔
حیاتیاتی سائنس میں بھی چین نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ بیجنگ جینوم انسٹیٹیوٹ (BGI) آج دنیا کے بڑے جینیاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں کینسر، الزائمر اور نایاب بیماریوں کے علاج کے لیے جین تھراپی کے درجنوں تجربے جاری ہیں۔ یہی نہیں، زرعی جینیات میں ‘‘Hybrid Rice 3.0’’ کے منصوبے نے اناج کی پیداوار میں تیس فی صد اضافہ ممکن بنا دیا ہے
مجھے شدت سے احساس ہوا کہ شمسی پینل ہوں یا ڈی این اے کی زنجیریں دونوں ایک ہی حقیقت کی علامت ہیں: توانائی۔ ایک بیرونی روشنی ہے، دوسری اندرونی۔
انسان کی اصل تلاش شاید یہی ہے کہ وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کر دے تاکہ جسم اور روح دونوں روشن رہیں۔
ڈاکٹرژاؤ نے جاتے جاتے کہا، ‘‘علم جتنا گہرا ہوتا ہے، انسان اتنا ہی نرم ہو جاتا ہے۔’’میں نے ان کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہاں کوئی غرور نہیں تھا، بس شکر گزاری۔ اور یہی لمحہ میرے لیے علم کی سب سے بڑی تعریف بن گیا۔
چین میں رہتے ہوئے اب چار برس ہو گئے ہیں۔ وقت کا احساس تب ہوتا ہے جب کسی جگہ کا موسم آپ کے اندر اترنے لگے۔ بیجنگ کی خزاں اب میرے دل کی دیواروں پر بھی سنہری پتے چپکا گئی ہے۔ میں اکثر باورچی خانے کی کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوں۔ سامنے آسمان پر کبھی دھوپ، کبھی دھند، اور نیچے چلتی ہوئی زندگی۔ اسی منظر کے بیچ میں میں نے سیکھا ہے کہ دنیا کتنی بدل رہی ہے، اور ہم عورتیں بھی اس تبدیلی کا خاموش حصہ ہیں۔میں اکثر سوچتی ہوں کہ
یہاں کے لوگ اپنے کام میں ایسے مگن رہتے ہیں جیسے وقت ان کے ہاتھوں میں پگھلتا جا رہا ہو۔ مجھے اکثر حیرت ہوتی ہے کہ یہ قوم اتنی خاموشی سے ترقی کر رہی ہے، اور ہم نے ہمیشہ شور میں خواب دیکھے۔
دو دن پہلے میں نے ایک ڈاکومنٹری دیکھی جس میں بیجنگ کے جینوم انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں کو دکھایا جا رہا تھا۔ وہ انسانی ڈی این اے پر تحقیق کر رہے تھے۔ وہی نازک زنجیریں جو زندگی کے تمام راز اپنے اندر چھپائے بیٹھی ہیں۔ اسکرین پر جب وہ رنگین خاکہ ابھرا تو میں ٹھٹک گئی۔ لگا جیسے کسی نے کائنات کے اندر جھانکنے کا دروازہ کھول دیا ہو۔میں نے خود سے کہا، ‘‘انسان کہاں تک پہنچ گیا ہے۔’’اور پھر دل کے کسی کونے سے ایک نرم سی آواز آئی، ‘‘ہاں، مگر کیا وہ خود تک پہنچ پایا ہے؟
بیجنگ کی خزاں آہستہ آہستہ اپنے رنگ گہرا کر رہی تھی۔ درختوں کے پتے زرد ہو کر زمین پر ایسے بکھرے تھے جیسے کسی نے وقت کے صفحے پر یادیں چھڑک دی ہوں۔ میں نے چائے کا کپ کھڑکی کے پاس رکھا اور باہر دیکھا روشنی کی نرم لکیریں آسمان سے اتر کر شہر کے چہروں پر پھیل رہی تھیں، مگر میرے دل میں ایک ہلکی سی اداسی تھی۔ شاید علم کا سفر جتنا باہر جاتا ہے، اتنا ہی اندر لوٹ آتا ہے۔
گزشتہ ہفتے میں پیکنگ یونیورسٹی کے فلسفہ ڈیپارٹمنٹ گئی تھی۔ وہاں طلبہ اور محققین مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اثرات پر گفتگو کر رہے تھے۔ ایک چینی نوجوان نے کہا

‘‘ہم اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا روبوٹ بھی اخلاق سیکھ سکتے ہیں؟’’
یہ جملہ میرے ذہن میں ٹھہر گیا۔ میں نے سوچا، انسان نے مشین کو سوچنا سکھا دیا، مگر کیا وہ خود احساس کا ہنر سنبھال سکا؟ ہم جتنا عقل میں بڑھتے گئے، اتنا ہی دل کی سرگوشی مدھم پڑتی گئی۔
‘‘ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا روبوٹ بھی اخلاق سیکھ سکتے ہیں۔’’
یہ سوال محض سائنسی نہیں، انسانی ہے اور شاید یہی علم کی اگلی منزل ہے۔
فطرت کے تحفظ میں بھی چین دنیا کو نیا سبق دے رہا ہے۔ ‘‘گرین سٹی 2035’’ پروگرام کے تحت نوّے شہروں میں اربن فاریسٹ بن رہے ہیں، اور بیجنگ و شنگھائی کی نصف سے زیادہ بجلی اب قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں چین پہلے ہی دنیا کا نمبر ایک ملک بن چکا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ چین علم اور فطرت کے درمیان وہ توازن قائم کر رہا ہے جو باقی دنیا کہیں کھو بیٹھی ہے۔
یہاں مشینیں انسان کے تابع ہیں، انسان مشینوں کے نہیں۔
اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں علم، اخلاق اور روشنی ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں جہاں ترقی صرف طاقت نہیں، بلکہ شعور کی علامت بن جاتی ہے‘‘شاید علم کی اگلی منزل وہ نہیں جہاں ہم روبوٹ کو انسان بنائیں،
بلکہ وہ جہاں انسان خود کو دوبارہ انسان ثابت کرے۔’’
اور اس لمحے بیجنگ کی فضا میں ایک ہلکی ہوا چلی جیسے کسی نے سرگوشی میں کہا ہو، روشنی ہمیشہ اندر سے شروع ہوتی ہے۔’’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں